
Chapter 19 of 26
Tale 18: The Son of Three Fathers
اٹھارھویں کہانی
اٹھارھویں کہانی
بیتال بولا اے راجا! کبل پور نام ایک نگر ہے۔ وہاں کے راجا کا نام سدکشی، اور اس نگر میں دھنا کشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا، اس کی پتری کا نام دھن وتی تھا۔ چھوٹی عمر میں اس کی شادی ایک گوری دت نام بنیے سے کر دی۔ کتنے دنوں کے پیچھے ایک لڑکی اس کے ہوئی، نام اس کا موہنی رکھا۔ جب وہ کئی ایک برس کی ہوئی تب اس کا باپ مر گیا، اور اس بنیے کے بھائی بندوں نے اس کا سربس کھوس لیا۔ وہ ناچار ہو، اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ، اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل، اپنے ماں باپ کے گھر کو چلی۔ تھوڑی ایک دور جا کر راہ بھول ایک مرگھٹ میں جا نکلی۔ وہاں ایک چور سولی پر ٹنگا ہوا تھا، اچانک اس کا ہاتھ اس کے پاؤں میں لگا۔ وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا؟ تب یہ بولی میں نے جان کر تجھے دکھ نہیں دیا، میری تقصیر معاف کر۔ اس نے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسو کو نہیں دیتا، جیسا بدھاتا کرم میں لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتتا ہے۔ اور جو منش کہتے ہیں، یہ کام ہم نے کیا، سو نپٹ نربدھی ہیں، کیونکہ منش کرم کے تاگے میں بندھے ہوئے ہیں، وہ جہاں جہاں چاہتا ہے تہاں تہاں کھینچ لے جاتا ہے۔ بدھاتا کی بات کچھ سمجھی نہیں جاتی، کیونکہ منش اپنے من میں کچھ بچارتے ہیں اور وہ کچھ اور کر دیتا ہے۔
یہ سن دھن وتی بولی اے پرش تو کون ہے؟ اس نے کہا میں چور ہوں۔ تیسرا دن سولی پر مجھ کو ہوا ہے، اور جان نہیں نکلتی۔ یہ بولی، کس کارن؟ اس نے کہا کہ بن بیاہ ہوں، اگر تو اپنی کنیا مجھے بیاہ دے تو کروڑ اشرفی دوں۔ مشہور ہے کہ، پاپ کا مول لوبھ، اور بیادھ کا مول رس، اور دکھ کا مول نیہ، جو ان تینوں کو چھوڑے سو سکھ سے رہے، پر یہ ہر کسو سے چھوٹ نہیں سکتے۔ انت کال لالچ کے مارے دھن وتی نے کنیا دینے کی اچھا کی، اور پوچھا میں یہ چاہتی ہوں کہ تیرے پتر ہو، پر کس طرح سے ہوگا؟ اس نے کہا کہ یہ جس سمے جوان ہوگی، اس ایام میں ایک سندر براہمن کو بلا کر پانچ سو مہر دے اس کے پاس رکھیو اس طرح سے اس کے بیٹا ہوگا۔
یہ سن کے دھن وتی نے لڑکی کو سولی کے گرد چار پھیرے دے شادی کر دی، تب چور نے اسے کہا کہ پورب طرف اندارے کنوئیں کے پاس ایک بڑ کا درخت ہے، اس کے نیچے وے اشرفیاں گڑی ہوئی ہیں، تو جا کے لے۔ یہ کہہ کر اس کی جان نکل گئی۔ یہ ادھر کو چلی اور وہاں پہنچ کر اس میں سے تھوڑی اشرفیاں لے اپنے ماں باپ کے گھر آئی۔ ان سے یہ برتانت کہہ ان کو اپنے ساتھ سوامی کے دیس میں لائی۔ پھر ایک بڑی سی حویلی بنا اس میں رہنے لگی، اور وہ لڑکی دن بدن بڑھنے لگی۔ جب وہ جوبن وتی ہوئی، ایک دن سکھی کو ساتھ لے کوٹھے پر کھڑی باٹ نہار رہی تھی، کہ اس میں ایک جوان براہمن اس گیل میں آ نکلا، اور یہ اسے دیکھ کام کے بس ہو سکھی سے بولی، کہ اے آلی! اس پرش کو تو میری ماں کے پاس لے آ۔ یہ سن براہمن کو اس کی ماں کے پاس لے آئی۔ وہ اسے دیکھ کر بولی، کہ ہے براہمن! میری بیٹی جوان ہے، جو تو اس کے پاس رہے گا تو میں پتر کے نمت سو اشرفی تجھے دوں گی۔ یہ سن کے اس نے کہا میں رہوں گا۔ یہ باتیں کرتے تھے، کہ اتنے میں سانجھ ہوئی، اسے اچھا بھوجن دیا، اور اس نے بیالو کیا۔ مثل مشہور ہے کہ بھوگ آٹھ پرکار کا ہے، ایک سگندھ، دوسرے بنتا، تیسرے بستر، چوتھے گیت، پانچویں پان، چھٹے بھوجن، ساتویں سیج، آٹھویں آبھوشن، یہ سب وہاں موجود تھے۔ غرض جب پہر رات آئی، اس نے رنگ محل میں جا اس کے ساتھ ساری رین آنند سے کاٹی۔ جب بھور ہوئی، وہ اپنے گھر گیا، اور یہ اٹھ کے اپنی سکھیوں کے پاس آئی۔ تب ان میں سے ایک نے پوچھا کہ کہو رات کو دوست کے ساتھ کیا کیا خوشیاں کیں؟ اس نے کہا، جس وقت کہ میں اس کے پاس جا بیٹھی تھی، میرے جی میں ایک دھڑکا سا معلوم ہوا تھا۔ جب کہ اس نے مسکرا کے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں اس کے بس ہو گئی، اور مجھے کچھ خبر نہ رہی کہ کیا ہوا۔ اور ایسے کہا ہے کہ ایک نامی، دوسرے سورما، تیسرے چتر، چوتھے سردار، پانچویں سخی، چھٹے گن وان، ساتویں ستری رکشک ہو، ایسے پرش کو ناری، اس جنم میں تو کیا اس جنم میں بھی نہیں بھولتی۔
حاصل یہ ہے کہ اسی رات اسے گربھ رہا۔ جب کہ دن پورے ہوئے، ایک لڑکا پیدا ہوا۔ چھٹی کی رات کو اس کی ماں نے سوپنے میں دیکھا کہ ایک جوگی جس کے سر پر جٹا، ماتھے پر چاند، اجل بھبھوت ملے دھولا جنیو پہنے، سیت کنول کے آسن پر بیٹھا، سفید سانپوں کی سیلی پہنے، منڈ مال گلے میں ڈالے، ایک ہاتھ میں کھپر، دوسرے میں ترسول لیے ہوئے، مہا بھیاونی صورت بنائے اس کے سونہیں آ کہنے لگا، کہ کل آدھی رات کے سمے ایک پٹارے میں ہزار مہر کا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دوار پر رکھ آ۔ یہ دیکھتے ہی اس کی آنکھ کھل گئی، اور فجر ہوئے اپنی ماں کے آگے اس نے سب برتانت کہا۔ یہ سن کے دوسرے دن اس کی ماں اسی طرح پٹارے میں اس لڑکے کو بند کر راجا کے دروازے پر رکھ آئی۔
اور ادھر راجا نے خواب دیکھا، کہ دس بھوجا، پانچ سر، ہر ایک سر میں تین تین آنکھیں، اور ہر ایک سر پر ایک ایک چاند، دانت بڑے بڑے، ترسول ہاتھ میں لیے، اتی ڈراؤنی صورت اس کے سامنے آن کے بولا، کہ اے راجا! تیرے دوار پر ایک پٹارا رکھا ہے اس میں جو لڑکا ہے اسے تو لے آ، وہی تیرا راج رکھے گا۔
یہ سنتے ہی راجا کی آنکھ کھل گئی، تب رانی سے سب احوال کہا، پھر وہاں سے اٹھ، دروازے پر آ، دیکھا، کہ پٹارا دھرا ہے۔ جونہی پٹارے کو کھول کر دیکھا تو اس میں ایک لڑکا، اور ہزار اشرفی کا توڑا ہے۔ اس لڑکے کو آپ اٹھا لیا، اور دوار پال سے کہا کہ اس توڑے کو اٹھا لا، پھر محل میں جا، لڑکے کو رانی کی گود میں دیا۔ اتنے میں پربھات ہوا، راجا نے باہر آ پنڈتوں سے اور جوتشیوں سے بلا کے پوچھا کہ کہو اس لڑکے میں راج لکشن کیا ہے؟
تب ان پنڈتوں میں سے ایک سامدرک جاننے والا براہمن بولا، کہ مہاراج! اس لڑکے میں تین لکشن تو پرتیکش دستے ہیں، ایک تو بڑی چھاتی، دوسرے اونچا للاٹ، تیسرے بڑا چہرہ، سوائے ان کے مہاراج! بتیس لکشن پرش کے جو کہے ہیں سو سب اس میں ہیں، اس سے نسندیہ رہیے، یہ راج کرے گا۔ یہ سن راجا نے پرسن ہو موتیوں کا ہار اپنے گلے سے اتار اس براہمن کو دیا اور سب براہمنوں کو بہت سا دان دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھو۔ تب پنڈتوں نے کہا، مہاراج! آپ گٹھجوڑا باندھ بیٹھیے، مہارانی گود میں لڑکا لے بیٹھیں، اور سب منگلی لوگوں کو بلا کر منگلا چار کرواؤ، تب ہم شاستر کی ریت سے نام کرن کریں۔
یہ سن راجا نے دیوان کو آگیا دی کہ جو یہ کہیں سو کرو۔ دیوان نے لڑکے کے ہونے کی اسی وقت نگر میں ڈونڈی خوشی کی پھروا دی۔ یہ سن کے سب منگلا مکھی حاضر ہوئے، اور گھر گھر سے بدھائی آنے لگی۔ راجا کے مندر میں آنند کے باجن باجنے لگے، اور منگلا چار ہونے۔ پھر راجا رانی گود میں لڑکے کو لے چوک میں آ بیٹھے اور براہمن بید پڑھنے لگے۔ ان براہمنوں میں سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچار اس لڑکے کا نام ہردت رکھا۔ پھر وہ دن دن بڑھنے لگا، ندان سو نو برس کی عمر میں چھ شاستر اور چودہ بدیا پڑھ کر پنڈت ہوا۔ اس میں بھگوان کا چاہا یوں ہوا کہ اس کے ماں باپ مر گئے، وہ راج گدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا۔ کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجا اپنے من میں چنتا کرنے لگا کہ میں نے ماں باپ کے یہاں جنم لے کے ان کے نمت کیا کیا۔ مثل ہے کہ جو دیاونت ہوتے ہیں وے سب پر دیا کیا کرتے ہیں، وے ہی گیانی ہیں اور انہیں کو بیکنٹھ ہوتا ہے۔ اور جن کا من شدھ نہیں، تن کا دان پوجا، تپ، تیرتھ کرنا، شاستر سننا، سب ورتھا ہے۔ اور جو شردھا ہین ڈنبھ سمیت شرادھ کرتے ہیں تن کا نرپھل ہوتا ہے اور پتر ان کے نراس جاتے ہیں۔
یہ بات راجا نے سوچ سمجھ کر بچارا کہ اب پتری کرم کیا چاہیے۔ پھر راجا ہردت گیا میں گیا اور جا کر اپنے پتروں کے نام لے پھلگو ندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی میں سے تینوں کے ہاتھ نکلے۔ یہ دیکھ اپنے جی میں گھبرایا کہ میں کس کے ہاتھ میں دوں، اور کس کے ہاتھ میں نہ دوں۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ اے راجا بکرم! ان تینوں میں سے کسے پنڈ دینا اچت تھا؟ تب راجا نے کہا، چور کو۔ پھر بیتال بولا کس کارن؟ تب اس نے کہا کہ براہمن کا بیج تو مول لیا گیا، اور راجا نے ہزار اشرفی لے کے پالا، اس واسطے ان دونوں کو پنڈ کا ادھیکار نہ ہوا۔ اتنی بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا ٹنگا، اور راجا اسے وہاں سے باندھ کر لے چلا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.