Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 16 sur 26

Cuento 15: Jimutavahana y Garuda

Tale 15: Jimutavahana and Garuda

پندرھویں کہانی

Mazhar Ali Khan Vila

Écriture
Taille

پندرھویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! ہماچل نام ایک پربت ہے، تہاں گندھربوں کا نگر ہے، اور وہاں کا راج راجا جیموت کیتو کرتا تھا۔ ایک سمے اس نے پتر کے ارتھ کلپ برکش کی بہت سی پوجا کی۔ تب کلپ برکش خوش ہو، بولا اے راجا! تیری سیوا دیکھ میں سنتشٹ ہوا، جو تو چاہے سو بر مانگ۔ راجا نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو، جو میرا راج اور نام رہے۔ ان نے کہا ایسا ہی ہوگا۔

کتنے دنوں کے بعد راجا کے بیٹا ہوا، اسے نہایت خوشی ہوئی، اور بڑی دھوم سے شادی کی۔ بہت سا دان پنیہ کر، براہمن کو بلا، اس کا نام کرن کیا۔ براہمنوں نے اس کا نام جیموت باہن دھرا۔ جب کہ وہ بارہ برس کا ہوا، تب شو کی پوجا کرنے لگا، اور سب شاستر پڑھ کے بڑا ہی گیانی دھیانی، ساہسی، سور، بیر، دھیر، مہاتما، پنڈت ہوا۔ اس سمے اس کے برابر کوئی نہ تھا، اور جتنے اس کے راج میں لوگ تھے وے سب اپنے اپنے دھرم میں ساودھان تھے۔ جب وہ جوان ہوا، تو ان نے بھی کلپ برکش کی بہت سیوا کی، تب کلپ برکش نے پرسن ہو اس سے کہا، جس بات کی تجھے اچھا ہو سو مانگ میں تجھے دوں گا۔

پھر جیموت باہن بولا، جو تم مجھ سے پرسن ہوئے ہو تو میری سب رعیت کا دردر دور کرو، اور جتنے لوگ میرے راج میں ہیں سب مال و دولت سے برابر ہو جاویں۔ تب کلپ برکش نے بر دیا، سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ کوئی کسی کا حکم نہ مانتا تھا اور کوئی کسی کا کام نہ کرتا۔ جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بندھو اس راجا کے تھے وے آپس میں بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے تو دونوں دھرم کے بس ہوئے، اور لوگ ان کا حکم نہیں مانتے، اس سے اتم یہ ہے کہ ان دونوں کو پکڑ کے قید کیجیے، اور راج ان کا چھین لیجیے۔

غرض راجا تو انہوں کی طرف سے غافل رہا، اور انہوں نے آپس میں منصوبہ باندھ فوج لے راجا کا مندر جا گھیرا۔ جب یہ خبر راجا کو پہنچی، تب راجا نے اپنے بیٹے سے کہا، اب کیا کریں؟ راج کمار بولا، مہاراج! آپ یہاں براجیے، آپ کے دھرم سے ابھی جا کے انہیں مار لیتا ہوں۔ راجا نے کہا اے پتر! یہ شریر انتیہ ہے، اور دھن بھی استھر ہے۔ جب آدمی جنما تو مرتیو بھی اس کے ساتھ ہے۔ اس سے اب راج چھوڑ دھرم کاج کیا چاہیے۔ ایسے شریر کے کارن، اور اس راج کے واسطے مہا پاپ کرنا اچت نہیں، کیونکہ راجا یدھشٹر بھی مہا بھارت کر کے پیچھے پچھتائے تھے۔

یہ سن اس کے بیٹے نے کہا، اچھا، راج اپنا گوتیوں کو دیجیے، اور آپ چل کے تپسیا کیجیے۔ یہ بات ٹھہرا بھائی بھتیجوں کو بلوا راج دے، دونوں باپ بیٹے ملیاچل پربت کے اوپر گئے اور وہاں جا، کٹی بنا، رہنے لگے۔ جیموت باہن اور ایک رشی کے بیٹے کی دوستی ہوئی۔ ایک دن اس پربت کے اوپر راجا کا بیٹا اور رشی کا بیٹا سیر کے واسطے گئے، وہاں ایک بھوانی کا مندر نظر آیا۔ اس مندر میں ایک راج کنیا بین لیے ہوئے دیوی کے آگے گا رہی تھی۔ اس کنیا کی اور جیموت باہن کی چار نظریں ہوئیں، اور دونوں کی لگن لگ گئی۔ پر راج کنیا من مار لاج کی ماری اپنے گھر کو پدھاری اور ادھر یہ بھی اس رشی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا۔ وہ رات ان دونوں گل عذاروں کو نہایت بے کلی سے کٹی۔ صبح کے ہوتے ہی ادھر سے راج کنیا دیوی کے مندر کو گئی، اور ادھر سے راج کمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کنیا بھی ہے، تب اس نے اس کی سکھی سے پوچھا یہ کس کی کنیا ہے؟ سکھی نے کہا، یہ ملیا کیتو راجا کی پتری ہے، ملیا وتی اس کا نام، اور ابھی کنواری ہے۔ یہ کہہ پھر سکھی نے اس راج پتر سے پوچھا، کہو سندر پرش! تم کہاں سے آئے ہو، اور تمہارا کیا نام ہے؟

یہ بولا، بدیا دھروں کا راجا جیموت کیتو نام، تس کا میں سُت ہوں، اور جیموت باہن میرا نام۔ راج کے بھنگ ہونے سے پتا پتر ہم یہاں آن کے رہے ہیں۔ پھر سکھی نے یہ باتیں سن کر ساری راج کنیا سے کہیں۔ یہ سن اپنے جی میں بہت دکھ پائے گھر کو آئی، اور رات کو چنتا کر کے سو رہی۔ پر یہ دسا اس کی دیکھ سکھی نے وہ برتانت اس کی ماں کے آگے ظاہر کیا۔ رانی نے سن کر راجا کے آگے بیان کیا، اور کہا، مہاراج! پتری آپ کی برجوگ ہوئی ہے، اس کا بر کیوں نہیں ڈھونڈھتے۔

یہ سن راجا نے اپنے جی میں چنتا کر اسی سمے متراوسو نام اپنے پتر کو بلا کر کہا، بیٹا! اپنی بہن کا بر ڈھونڈھ لاؤ۔ تب وہ بولا، کہ مہاراج! گندھربوں کا راجا جیموت کیتو نام، جس کا پتر جیموت باہن نام، راج چھوڑ پتا پتر دونوں سنا ہے کہ یہاں آئے ہیں۔ یہ سن ملیا کیتو راجا نے کہا، یہ پتری جیموت باہن کو دوں گا۔ اتنا کہہ بیٹے کو آگیا دی کہ، پتر! جیموت باہن راج کمار کو راجا کے پاس سے جا کر بلا لاؤ۔ یہ راجا کا حکم پا کر اسی مکان پر گیا، اور وہاں جا کر اس کے پتا سے کہا، اپنے پتر کو ہمارے ساتھ کر دو، کہ ہمارے پتا نے کنیا دان دینے کو بلایا ہے۔ یہ سن کر راجا جیموت کیتو نے اپنے بیٹے کو ساتھ کر دیا، اور وہ یہاں آیا، پھر ملیا کیتو راجا نے اس کا گندھرب بواہ کر دیا۔

جب کہ اس کی شادی ہو چکی، تب دلہن کو اور متراوسو کو اپنے استھان پر لے کر آیا، پھر ان تینوں نے راجا کو ڈنڈوت کی، اور راجا نے بھی اسیس دی۔ وہ دن تو یونہیں گزرا لیکن دوسرے دن صبح کو اٹھتے ہی دونوں راج کمار اس ملیاگر پربت پر پھرنے کو گئے۔ وہاں جا کر جیموت باہن کیا دیکھتا ہے کہ ایک سفید ڈھیر اونچا سا ہے۔ تب اس نے اپنے سالے سے پوچھا، بھائی! یہ دھولا دھولا ڈھیر کیسا نظر آتا ہے؟ وہ بولا، پاتال لوک سے کروڑوں ناگ کمار یہاں آتے ہیں، تنہیں گرڑ آن کے کھاتا ہے، یہ انہوں کے ہاڑوں کا ڈھیر ہے۔

یہ سن کے جیموت باہن نے سالے سے کہا، متر! تم گھر جا کے بھوجن کرو، کیونکہ میں اس سمے نتیہ پوجا کرتا ہوں، کہ میرے پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے۔ یہ سن کے وہ تو گیا اور جیموت باہن آگے کو جو بڑھا، تو رونے کی آواز آنے لگی۔ اسی آواز کی دھن پر چلا چلا وہاں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑھیا دکھ سے بیاکل ہو روتی ہے۔ اس کے پاس جا کے پوچھا، اے ماتا! تو کس کارن روتی ہے؟ تب وہ بولی، کہ سنکھ چوڑ نام ناگ جو میرا بیٹا ہے، تس کی آج باری ہے، اسے گرڑ آ کے کھا جائے گا، اس دکھ سے میں روتی ہوں۔ اس نے کہا ماتا! مت رو تیرے پتر کے بدلے میں اپنا پران دوں گا۔ بڑھیا بولی، بیٹا! ایسا مت کیجیو، تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے۔

یہ کہتی تھی کہ اتنے میں سنکھ چوڑ بھی آن پہنچا، اور اس نے سن کے کہا، اے مہاراج! مجھ سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں، پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار میں گھڑی گھڑی پیدا نہیں ہوتے۔ اس سے آپ میرے پلٹے اپنا جی نہ دیجیے، کیونکہ آپ کے جیتے رہنے سے لاکھوں آدمیوں کا اپکار ہوگا اور جینا مرنا دونوں برابر ہیں۔ تب جیموت باہن بولا، کہ یہ ست پرشوں کا دھرم نہیں ہے، جو منہ سے کہہ کر نہ کریں۔ تو جہاں سے آیا ہے وہیں کو جا۔

یہ سن کے سنکھ چوڑ تو دیوی کے درشن کو گیا، اور آکاش سے گرڑ اترا۔ اتنے میں راج کمار دیکھتا کیا ہے، کہ پاؤں تو اس کے چار چار بانس برابر ہیں، اور تاڑ سی لمبی چونچ، پہاڑ کے سمان پیٹ، پھاٹک کی مانند آنکھیں، اور گھٹا سے پر۔ ایکا ایکی چونچ پسار راج پتر پر دوڑا۔ پہلے تو راج پتر نے اپنے تئیں بچایا، پر دوسری بیر وہ چونچ میں رکھ اس کو لے اڑا، اور چکر مارنے لگا۔ اتنے میں ایک بازو بند کہ اس کے نگ پر راجا کا نام کھدا ہوا تھا وہ کھل کر لوہو بھر راج کنیا کے سنمکھ گرا، وہ اس کو دیکھ کر مورچھا کھا کر پڑی۔

جب ایک گھڑی کے بعد چیتی، تو اس نے سب برتانت اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا۔ وے یہ بپتا سن کر آئے، گہنا رُدھر بھرا دیکھ روئے، اور تینوں آدمی ڈھونڈھنے کو نکلے کہ رستے میں انہیں سنکھ چوڑ بھی ملا، اور ان سے بڑھ کر اکیلا وہاں گیا، جہاں راج کمار کو دیکھا تھا، اور پکار پکار کہنے لگا، اے گرڑ! چھوڑ دے، چھوڑ دے، یہ تیرا بھکشن نہیں ہے، سنکھ چوڑ میرا نام ہے، میں تیرا بھکشن ہوں۔ یہ سن کے گرڑ گھبرا کر گرا، اور اپنے جی میں سوچا کہ براہمن یا کشتری میں نے کھایا، یہ کیا کیا۔ پھر اس راج پتر سے کہنے لگا اے پرش! سچ کہ کس لیے اپنا جی دیتا ہے؟

راج کمار بولا، اے گرڑ! برکش چھایا کرتے ہیں اوروں کے اوپر، اور آپ دھوپ میں بیٹھے پھولتے پھلتے ہیں پرائے واسطے۔ اچھے پرشوں کا اور برکشوں کا یہی دھرم ہے، جو یہ دیہ غیر کے کام نہ آوے تو اس شریر سے کیا پریوجن ہے۔ مثل مشہور ہے کہ جوں جوں چندن کو گھستے ہیں، تیوں تیوں دونی سگندھ دیتا ہے۔ اور جوں جوں چھیل چھیل کاٹ کاٹ ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں، تیوں تیوں اکھ ادھک سواد دیتی ہے۔ جوں جوں کنچن کو جلاتے ہیں، تیوں تیوں اتی سندر ہوتا جاتا ہے۔ اتم لوگ جو ہیں، سو پران جانے سے بھی اپنا سبھاؤ نہیں چھوڑتے، انہیں کسی نے بھلا کہا تو کیا اور برا کہا تو کیا۔ دولت رہی تو کیا جو نہ رہی تو کیا۔ ابھی مرے تو کیا اور بعد مدت کے مرے تو کیا۔ جو منش نیاؤ کی راہ سے چلتے ہیں، کچھ ہو، اور راہ پر پاؤں نہیں رکھتے۔ کیا ہوا جو موٹے ہوئے یا دبلے؟

غرض جس کے شریر سے اپکار نہ ہو اس کا جینا نرپھل ہے، اور پرائے ارتھ جن کا جیو ہے انہوں کا جینا سپھل ہے۔ یوں تو کتا، کوا، بھی اپنا جی پالتا ہے۔ جو براہمن گئو، متر، ستری کی خاطر بلکہ بیگانے واسطے جی دیتے ہیں سو نشچے سدا بیکنٹھ باس کرتے ہیں۔ گرڑ بولا، جگ میں سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہیں، اور اپنا جی دے دوسرے کے جی کو بچانے والے سنسار میں برلے ہی ہوتے ہیں۔ یہ کہہ گرڑ بولا، بر مانگ، میں تیرے ساہس پر سنتشٹ ہوا۔ یہ سن کے جیموت باہن نے کہا، ہے دیو! جو تم میرے اوپر پرسن ہوئے ہو تو اب ناگوں کو نہ کھاؤ، اور جو کھائے ہیں انہیں جلا دو۔

یہ سن گرڑ نے پاتال سے امرت لا کر سانپوں کے ہاڑوں پر چھڑکا کہ پھر وے جی اٹھے، اور اس سے کہا اے جیموت باہن! میرے پرساد سے تیرا گیا ہوا راج پھر تجھے ملے گا۔ یہ بر دے گرڑ اپنے استھان پر گیا، اور سنکھ چوڑ بھی اپنے دھام کو، اور جیموت باہن بھی وہاں سے چلا، کہ راہ میں اس کا سسر اور ساس اور ستری ملی، پھر ان سمیت اپنے باپ کے پاس آیا۔

جب یہ احوال سنا تو اس کے چچا اور چچیرے بھائی، بلکہ سارے کٹمب کے لوگ ملنے کو آئے، اور پاؤں پڑ، انہیں لے جا، راج پر بٹھایا۔ اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا، اے راجا! ان میں سے ست کس کا ادھک ہوا؟ راجا بیر بکرماجیت بولا، سنکھ چوڑ کا۔ بیتال نے کہا، کس طرح؟ راجا نے کہا، گیا ہوا سنکھ چوڑ پھر جیو دینے کو آیا، اور گرڑ کے کھانے سے اسے بچایا۔ بیتال بولا، کہ جس نے پرائے لیے اپنی جان دی، اس کا ست کیوں نہ ادھک ہوا؟ راجا نے کہا جیموت باہن ذات کا کشتری ہے، اسے جی دینے کا ابھیاس ہو رہا ہے، اس سے اسے جان دینی کچھ کٹھن نہ معلوم دی۔ یہ سن بیتال پھر اسی پیڑ میں جا لٹکا، اور راجا وہاں جا، اسے باندھ کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.