
Chapitre 13 sur 26
Cuento 12: El arroz con leche envenenado
Tale 12: The Poisoned Pudding
بارھویں کہانی
بارھویں کہانی
بیتال بولا اے راجا بیر بکرماجیت! چوڑا پور نام ایک نگر ہے، وہاں کا چوڑا من نام راجا تھا، جس کے گرو کا نام دیو سوامی، اور اس کے بیٹے کا نام ہری سوامی، وہ کام دیو کے سمان سندر، اور شاستر میں برہسپتی کے برابر، اور دھن اس کے کبیر کا سا۔ وہ ایک براہمن کی بیٹی کہ نام اس کا لاونیہ وتی تھا، بیاہ لایا، ان دونوں میں بہت سی پریتی ہوئی۔
غرض ایک دن گرمی کے موسم میں رات کے وقت چوبارے کی چھت پر دونوں غافل پڑے سوتے تھے۔ اتفاقاً ستری کے منہ پر سے اوڑھنی سرک گئی، اور گندھرب ومان پر بیٹھا، ہوا میں اڑا ہوا کہیں جاتا تھا، اچانک اس کی نظر اس پر پڑی، کہ وہ ومان کو نیچے لایا، اور اس سوتی کو ومان پر رکھ کر لے اڑا۔ کتنی دیر کے پیچھے براہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ ستری نہیں، تب گھبرایا اور وہاں سے اتر کر تمام گھر کو ڈھونڈھا، جب اسے وہاں بھی نہ ملی، تو ساری نگری کی گلی گلی کوچے کوچے ڈھونڈتا پھرا، لیکن کہیں اسے نہ پایا۔ پھر اپنے جی میں کہنے لگا، کون اسے لے گیا اور کہاں گئی۔
جب کچھ بس نہ چل سکا، تو آخر لاچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر کو آیا، اور وہاں اسے پھر دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا۔ جب اس بن گھر سونا نظر آیا، تب نہایت بے چینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو، ہائے پران پیاری، ہائے پران پیاری، کر کے پکارنے لگا۔ پھر اس کے ویوگ سے اتی بیاکل ہو، گرہستی چھوڑ، بیراگ لے، لنگوٹا باندھ، بھبھوت مل، مالا پہن، نگر تج، تیرتھ یاترا کو نکلا۔ نگر نگر گاؤں گاؤں تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر میں دوپہر کے سمے جا پہنچا۔ جب بھوک سے نپٹ لاچار ہوا، تو ڈھاک کے پتوں کا دونا بنا ہاتھ میں لیے ایک براہمن کے گھر جا، اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو۔
غرض جب پریتی کے بس آدمی ہوتا ہے، تب اسے دھرم، جات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہیں رہتا، اور نرادر ہو جہاں پاتا ہے تہاں کھاتا ہے۔ جب اس براہمن سے ان نے بھیک مانگی، تب اس نے اس سے دونا لے، گھر میں جا، کھیر سے بھر، لا دیا۔ یہ اس دونے کو لیے تالاب کنارے آیا، وہاں ایک بڑ کا درخت تھا، اس کی جڑ پر دونا رکھ، سرور میں منہ ہاتھ دھونے گیا۔ اس برکش کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے میں منہ ڈال چلا گیا، اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا، کہ اس میں یہ بھی ہاتھ منہ دھو کر آیا، پر اسے یہ احوال معلوم نہ تھا، اور بھوک بھی نہایت لگی تھی، آتے ہی کھیر کھائی اور وہیں سے بش چڑھا۔
پھر ان نے اس براہمن سے جا کر کہا کہ تیں نے میرے تئیں بش دیا، اور میں اب اس سے مروں گا۔ اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا۔ پھر اس براہمن نے اسے موا دیکھ اپنی ستری کو گھر سے نکال دیا، اور کہا برہم ہتیاری تو یہاں سے جا۔
اتنی بات سنا بیتال بولا کہ اے راجا! ان میں سے برہم ہتیا کا پاپ کسے ہوا؟ راجا نے کہا، سانپ کے منہ میں تو بش ہوتا ہے، اس سے اسے پاپ نہیں۔ اور براہمن نے بھوکا جان کے بھکشا دی تھی، اسے بھی پاپ نہیں۔ اور اس براہمنی نے سوامی کی آگیا سے بھیک دی تھی، اسے بھی پاپ نہیں۔ اور اس نے بھی ان جانے کھیر کھائی، تس سے اسے بھی پاپ نہیں۔ غرض ان میں سے جس کو کوئی پاپ لگاوے وہی پاپی ہے۔ یہ سن بیتال پھر اسی ترور پر جا لٹکا، اور راجا بھی جا اسے اتار، باندھ، کاندھے پر رکھ، وہاں سے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.