
第 12 章,共 26 章
Cuento 11: El árbol de oro en el mar
Tale 11: The Golden Tree in the Sea
گیارھویں کہانی
گیارھویں کہانی
بیتال بولا کہ اے راجا! پنیہ پور نام ایک نگر ہے، تہاں کا بلبھ نام راجا تھا، اور اس کے منتری کا نام ستیہ پرکاش۔ اس منتری کی ستری کا نام لکشمی۔ اس راجا نے ایک روز اپنے دیوان سے کہا، جو راجا ہو کر سندر ستری سے عیش نہ کرے تو راج کرنا اس کا نرپھل ہے۔ یہ بات کہہ دیوان کو راج کا بھار دے آپ سکھ سے عیش کرنے لگا۔ راج کی چنتا سب چھوڑ دی اور دن رات آنند میں رہنے لگا۔
اتفاقاً ایک روز وہ منتری اپنے گھر میں اداس بیٹھا تھا، کہ اس میں اس کی بھاریا نے پوچھا، سوامی! ان دنوں آپ کو بہت دربل دیکھتی ہوں۔ وہ بولا، نس دن مجھے راج کی چنتا رہتی ہے، اس سے شریر دربل ہوا ہے، اور راجا آٹھ پہر اپنے عیش آرام میں رہتا ہے۔ وہ منتری کی جورو بولی کہ ہے پتی! بہت دن تم نے راج کاج کیا، اب تھوڑے دنوں کے لیے راجا سے بدا ہو تیرتھ یاترا کرو۔
یہ بات اس کی سن چپکا ہو رہا، پھر جب وہاں سے اٹھا تو وقت دربار کے راجا کے پاس جا، رخصت لے، تیرتھ یاترا کرنے نکلا۔ جاتے جاتے سمدر تیر سیت بندھ رامیشور جا پہنچا۔ وہاں جاتے ہی مہا دیو کا درشن کر، باہر نکلا تھا، کہ اتفاقاً نظر اس کی سمدر کی طرف جا پڑی، تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اس میں سے نکلا، کہ جس کے زمرد کے پتے، پکھراج کے پھول، مونگے کے پھل، نہایت خوش نما نظر آیا، اور اس درخت پر اتی سندر نائکا بین ہاتھ میں لیے مدھر مدھر کومل کومل سروں سے بیٹھی گاتی ہے۔ بعد ایک گھڑی کے وہ ترور سمدر میں لوپ ہو گیا۔
یہ تماشا منتری وہاں دیکھ، الٹا پھر، اپنے نگر میں آیا اور راجا کے پاس جا، ڈنڈوت کر، ہاتھ جوڑ، بولا، مہاراج! میں ایک اچرج دیکھ آیا ہوں۔ راجا نے کہا بیان کر۔ دیوان نے کہا مہاراج! اگلے منش کہہ گئے ہیں، جو بات کسو کی عقل میں نہ آوے، اور کوئی یاد نہ کرے ویسی بات نہ کہیے۔ پر یہ میں نے آنکھوں سے پرتیکش دیکھا، اس سے میں کہتا ہوں، مہاراج! جہاں رگھو ناتھ جی نے سمدر پر پل باندھا ہے، اس جا دیکھتا کیا ہوں کہ ساگر میں سے ایک سونے کا ترور نکلا، کہ زمرد کے پات، پکھراج کے پھول، مونگے کے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جس کا بیان نہیں ہو سکتا۔ اور اس پر مہا سندری ستری بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سروں سے گاتی تھی، پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیڑ سدھو میں چھپ گیا۔
یہ بات راجا سن دیوان کو راج سونپ اکیلا سمدر کے کنارے کو چلا۔ کتنے ایک دنوں میں وہاں جا پہنچا اور مہا دیو کے درشن کو مندر میں گیا۔ جوں پوجا کر باہر آیا، کہ سمدر سے وہی درخت نائکا سمیت نکلا۔ راجا اس کو دیکھتے ہی ساگر میں کود اسی ترو پر جا بیٹھا، وہ راجا سمیت پاتال کو چلا گیا۔ وہ اس کو دیکھ کے بولی کہ اے بیر پرش! کس واسطے تو یہاں آیا ہے؟ راجا نے کہا، میں تیرے روپ کے لالچ سے آیا ہوں۔
اس نے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ ملے تو میں تیرے ساتھ بواہ کروں۔ راجا نے یہ بات مانی، تس پر بھی ان نے بچن لے کر راجا کے ساتھ بیاہ کیا۔ غرض جب اندھیری چتر دشی آئی، تو ان نے کہا اے راجا! آج تو میرے نکٹ مت رہ۔ یہ سن کے راجا کھڑگ ہاتھ میں لے وہاں سے اٹھا، اور ایک کنارے جا چھپ کر دیکھتا رہا۔ جب آدھی رات ہوئی، اس وقت ایک دیو آیا، اور اس نے آتے ہی اسے گلے سے لگایا۔ یہ دیکھتے ہی راجا کھانڈا لے کے دھایا، اور کہا ارے راکشس پاپی! میرے سامنے تو ستری کو ہاتھ نہ لگا، پہلے مجھ سے سنگرام کر، اور مجھے تبھی تک بھئے تھا کہ جب تک تجھے نہ دیکھا تھا، اب میں نڈر ہوں۔
اتنی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا ہاتھ مارا کہ رنڈ سے منڈ جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا۔ یہ دیکھ وہ بولی، کہ اے بیر پرش! تو نے بڑا اپکار کیا۔ یہ کہہ کر پھر کہا کہ نہ تمام پہاڑوں میں لعل ہوتے ہیں، نہ سب شہروں میں ستونتے آدمی، نہ ہر ایک بن میں چندن اپجتا ہے، نہ ہر ایک ہاتھی کے مستک میں موتی ہوتا ہے۔ پھر راجا نے پوچھا یہ راکشس کس واسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا؟ وہ بولی، میرے پتا کا نام بدیا دھر ہے، تس کی میں پتری ہوں، سندری میرا نام، اور یہ مقرر تھا کہ مجھ بن میرا باپ بھوجن نہ کرتا۔ ایک دن بھوجن کے بریاں میں گھر میں نہ تھی، تب پتا نے کرودھ کر مجھے سراپ دیا، کہ تجھے کالی چودس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگایا کرے۔ یہ سن کے میں بولی پتا! سراپ تو تم نے دیا، پر اب میرے اوپر کرپا کیجیے۔ اس نے کہا ایک مہا بیر پرش آن کر جب اس راکشس کو مارے گا، تب تو اس سراپ سے چھوٹے گی۔ سو میں اس سراپ سے چھوٹی، اور اب میں اپنے پتا کو نمسکار کرنے جاؤں گی۔
راجا بولا جو تو میرے اپکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کو چل کے دیکھ، پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جائیو۔ وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول۔ پھر راجا اسے ساتھ لے اپنی راج دھانی میں آیا، شادیانے بجنے لگے، ساری نگری میں خبر ہوئی کہ راجا آیا۔ تب گھر گھر بدھائی منگلا چار ہونے لگے۔ پھر تو تمام نگر کے منگلا مکھی آن کے دربار میں مبارکبادی دینے لگے، راجا نے بہت سا دان پنیہ کیا۔ پھر کئی ایک دن پیچھے وہ سندری بولی، مہاراج! اب میں اپنے باپ کے یہاں جاؤں گی۔ راجا نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا سدھارو۔ جب اس نے راجا کو اداس دیکھا تو کہا، مہاراج! میں نہ جاؤں گی۔ راجا نے کہا کس واسطے تو نے اپنے باپ کے یہاں کا جانا موقوف کیا؟ وہ بولی اب میں منش کی ہو چکی، اور پتا میرا گندھرب ہے، اب میں جاؤں تو میرا آدر نہ کرے گا، اس لیے میں نہیں جاتی۔
یہ سن راجا خوش ہوا، اور لاکھوں روپے کا دان پنیہ کیا۔ راجا کے اس احوال کے سننے سے دیوان کی چھاتی پھٹی اور مر گیا۔ اتنی بات کہہ بیتال بولا اے راجا! کس لیے وہ منتری مر گیا؟ تب راجا بیر بکرماجیت نے کہا، منتری نے دیکھا کہ راجا تو عیش کرنے لگا، اور راج کاج کی چنتا سب بھلا دی، پرجا اناتھ ہوئی، اب میرا کہا کوئی نہ ماننے لگا، اسی چنتا سے وہ مر گیا۔ یہ سن بیتال پھر اسی برکش پر جا لٹکا۔ راجا پھر اسی طرح سے کاندھے پر رکھ کر اس کو روانہ ہوا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。