Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 11 sur 26

Cuento 10: Las tres reinas delicadas

Tale 10: The Three Delicate Queens

دسویں کہانی

Mazhar Ali Khan Vila

Écriture
Taille

دسویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! گوڑ دیس میں بردھمان ایک نگر ہے، اور گن شیکھر نام وہاں کا راجا تھا۔ اس کا منتری ایک سراوگی ابھے چند نام تھا، اسی کے سمجھانے سے راجا بھی شراوک دھرم میں آیا، شو کی پوجا، بشنو کی پوجا، اور گئو دان، بھومی دان، پنڈ دان، جوا اور مدار، ان سب کو منع کیا، نگر میں کوئی کرنے نہ پاوے، اور ہاڑ گنگا میں کوئی نہ لے جاوے۔ اور ان باتوں کی دیوان نے بھی راجا سے آگیا لے ڈونڈی نگر میں پھروادی، کہ جو کوئی یہ کرم کرے گا اس کا سربس راجا چھین لے، سزا دے، شہر سے نکال دے گا۔

پھر ایک دن دیوان راجا سے کہنے لگا کہ مہاراج! دھرم کا بچار سنیے، جو کوئی کسو کا جی لیتا ہے وہ اور جنم میں اس کا بھی جی لیتا ہے، اسی پاپ سے سنسار میں آن کے منش کا جیون مرن نہیں چھٹتا، پھر پھر جنم لیتا ہے اور مرتا ہے، اس سے جگت میں جنم پا کے دھرم بٹورنا منش کو اچت ہے۔ دیکھیے، کام، کرودھ، لوبھ، موہ بس ہو برہما وشنو مہادیو کسی نہ کسی طور سے سنسار میں اوتار لے لے آتے ہیں۔ بلکہ ان سے گائے اچھی ہے، جو راگ دویش مد کرودھ لوبھ موہ سے رہت ہے، اور پرجا کی رکشا کرے ہے، اور اس کے جو پتر ہوتے ہیں، وے بھی جگت کے جیووں کو بہت طرح سے سکھ دے پالتے ہیں، اس سے دیوتا اور منی سب گئو کو مانتے ہیں، اس لیے دیوتاؤں کو ماننا اچھا نہیں۔ اس جگ میں گائے کو مانیے، اور ہاتھی سے لگا چونٹی اور پشو پنچھی نر تک ہر ایک جی کی رکشا کرنا دھرم ہے، جہاں میں اس کے سمان کوئی دھرم نہیں۔ جو نر برائے ماس کو کھا اپنا ماس بڑھاتے ہیں، سو انت کال میں نرک بھوگ کرتے ہیں اس سے منش کو اچت یہ ہے، کہ جی کی رکشا کرے۔ جو لوگ کہ برانا دکھ نہیں سمجھتے اور غیروں کے جی مار مار کھاتے ہیں، ان کی اس پرتھوی میں عمر کم ہوتی ہے۔ اور لولے لنگڑے، کانے، اندھے، بونے، کبڑے ایسے انگ ہین ہو ہو جنم لیتے ہیں۔ جیسے پشو و پنچھی کے انگ کھاتے ہیں، ویسے ہی انت اپنے انگ گنواتے ہیں۔ اور مدپان کرنے سے مہاپاپ ہوتا ہے، اس سے مدماس کا کھانا اچت نہیں۔

اس طرح سے دیوان راجا کو اپنے مت کا گیان سمجھا ایسا جین دھرم میں لایا کہ جو یہ کہتا تھا، وہی راجا کرتا تھا۔ اور براہمن جوگی جنگم سیوڑا سنیاسی درویش کسی کو نہ مانتا تھا، اور اسی دھرم سے راج کرتا تھا۔ ایک دن کال کے بس ہو مر گیا۔ پھر اس کا بیٹا دھرم دھوج نام گدی پر بیٹھا، اور راج کرنے لگا۔ ایک دن اس نے ابھے چند دیوان کو پکڑوا، سر پر سات چوٹیاں رکھوا، منہ کالا کروا، گدھے پر چڑھا، ڈونڈی بجوا، نگر کے پھیرے دلوا، دیس نکالا دیا، اور اپنا راج نہ کنٹک کیا۔

ایک دن راجا بسنت رتو میں رانیوں کو ساتھ لے ایک باغ کی سیر کو گیا۔ اس باغ میں ایک بڑا تالاب تھا، اور اس میں کنول پھول رہے تھے۔ راجا اس سرووَر کی سوبھا دیکھ، کپڑے اتار، سنان کرنے کو اترا۔ ایک پھول توڑ تیر پر آ رانی کے ہاتھ میں دینے لگا، کہ اس میں ہاتھ سے وہ چھٹ کر رانی کے پاؤں پر گرا، اور اس کی چوٹ سے رانی کا پاؤں ٹوٹ گیا۔ تب راجا گھبرا کر ایک بارگی باہر نکل اس کی اوشدھ کرنے لگا، کہ اس میں رات ہوئی، اور چندرماں نے پرکاش کیا۔ چاند کی جوت کے پڑتے ہی دوسری رانی کے شریر میں پھپھولے پڑ گئے، کہ اچانک دور سے کسی گرہستی کے گھر سے موسل کی آواز آئی، ونہیں تیسری رانی کے سر میں ایسا درد ہوا کہ غش آ گیا۔

اتنی بات کہہ بیتال بولا اے راجا! ان تینوں میں اتی سکمار کون ہے؟ راجا نے کہا، جس کے منڈ میں پیر ہو مورچھا آئی، سوئی بہت نازک ہے۔ یہ بات سن بیتال پھر اسی برکش میں جا لٹکا، اور راجا وہاں جا، اسے اتار، گٹھری باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.