
第 10 章,共 26 章
Cuento 9: La promesa de Madansena
Tale 9: Madansena's Promise
نویں کہانی
نویں کہانی
بیتال بولا اے راجا! مدن پور نام ایک نگر ہے، وہاں بیربر نام راجا تھا، اور اسی دیس میں ہرنیہ دت نام ایک بنیا، کہ اس کی بیٹی کا نام مدن سینا تھا۔ وہ ایک روز بسنت رتو میں سکھیوں کو ساتھ لیے اپنے باغ میں واسطے سیر و تماشے کے گئی۔ اتفاقاً اس کے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے متر کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا۔ وہاں سے پھرتا ہوا اس باڑی میں آن پہنچا، اسے دیکھ موہت ہو گیا، اور اپنے دوست سے کہنے لگا، بھائی! وہ کداچت مجھ سے ملے تو میرا جیون سپھل ہو، اور جو نہ ملے تو اس دنیا میں جینا عبث ہے۔ یہ اپنے دوست سے باتیں کر، برہ میں بیاکل ہو، بے اختیار اس کے پاس جا، اس کا ہاتھ پکڑ کے کہنے لگا، جو تو مجھ سے پریت نہ کرے گی تو میں تیرے اوپر اپنا پران دوں گا۔ وہ بولی، ایسا مت کیجو، اس میں پاپ ہو گا۔ تب ان نے کہا تیرے کرشمے نے میرے دل کو چھیدا ہے، اور تیری برہ کی آگ نے میرے شریر کو جلا دیا، اس پیر سے میری سدھ بدھ سب جاتی رہی ہے، اور مجھے اس سمے عشق کے غلبے سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہیں ہے۔ پر جو تو مجھے بچن دے تو میرے جی میں جی آوے۔ وہ بولی آج کے پانچویں دن میری شادی ہوگی تو پہلے میں تجھ سے مل جاؤں گی، پیچھے اپنے شوہر کے یہاں رہوں گی۔ یہ بچن دے سوگند کھا، وہ اپنے گھر کو گئی، اور یہ اپنے گھر کو آیا۔
غرض پانچویں دن اس کی شادی ہوئی، خاوند اس کا بیاہ کر، اسے اپنے گھر لے آیا۔ کتنے ایک دنوں کے پیچھے رات کے وقت اس کی دورانی جٹھانی نے زبردستی اسے اس کے پتی کے پاس بھیجا۔ وہ رنگ محل میں چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھ رہی۔ اس عرصے میں اس کے خصم نے جو دیکھا تو اس کا ہاتھ پکڑ سیج پر بٹھا لیا۔
غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤں تو اس نے ہاتھ سے جھڑک دیا، اور جو جو اس ساہوکار بچے سے قول قرار ہوا تھا، سو سب بیان کیا۔ یہ سن کے اس کے خاوند نے کہا، جو سچ اس کے پاس جایا چاہتی ہے تو جا۔ وہ اپنے سوامی کی آگیا پا، اس سیٹھ کے ستھان کو چلی۔ راہ میں چور نے اسے دیکھ، خوشی ہو، اس کے پاس آ کر کہا کہ تو دو پہر رات کے سمے اس اندھیرے میں ایسے بستر آبھوشن پہن کے اکیلی کہاں جاتی ہے؟ وہ بولی، جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے۔ یہ سن چور نے کہا یہاں تیرا سہایک کون ہے؟ وہ کہنے لگی دھنش بان لیے مدن میرا سہائے کرنے والا ساتھ ہے۔
یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول و آخر کی کتھا بیان کر کے کہا، کہ میرا سنگار بھنگ مت کر، میں تجھے بچن دیے جاتی ہوں، وہاں سے جب پھروں گی تب گہنا تیرے حوالے کروں گی۔ یہ سن کے چور نے اپنے دل میں کہا، گہنا دینے کا تو مجھے بچن دیے جاتی ہے، پھر کیوں اس کا سنگار بھنگ کروں۔ یہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیا، آپ وہاں بیٹھا رہا، اور یہ وہاں گئی کہ جہاں سوم دت پڑا سوتا تھا۔ جاتے ہی جو اس نے اسے اچانک جگایا تو وہ گھبرا کر اٹھا، اور کہنے لگا، تو دیو کنیا ہے، کہ رشی کنیا، یا ناگ کنیا ہے، سچ کہہ تو کون ہے؟ اور میرے پاس کہاں سے آئی ہے؟ وہ بولی، کہ میں نر کنیا ہوں، اور ہرنیہ دت سیٹھ کی بیٹی، مدن سینا میرا نام ہے، اور تجھے یاد نہیں، جو اس اپ بن میں تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے قسم کو بضد ہوا تھا، اور میں نے بموجب تیرے کہنے کے یہ سوگند کی تھی، کہ بواہتا پرش کو تیاگ کر کے تیرے پاس آؤں گی۔ سو میں آئی ہوں، جو تیری اچھا میں آوے سو کر۔ پھر ان نے پوچھا، کہ یہ تو نے برتانت اپنے پتی کے آگے کہا یا نہیں؟ ان نے اتر دیا، کہ میں نے تمام احوال کہا، اور ان نے سب دریافت کر کے مجھے تیرے پاس بدا کیا۔ سوم دت بولا، یہ بات ایسے ہے جیسے بنا بستر کا گہنا، یا بنا گھی کے بھوجن، یا بغیر سر کے گانا، یہ سب ایک سان ہیں۔
اسی طرح میلے بسن، تیج کو ہریں، کھبوجن بل کو، کھباریا پران کو، کپت کل کو ہرے، اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے، پر ستری ہت اور اہت میں دونوں طرح سے دکھ دینے والی ہے۔ ستری جو نہ کرے سو تھوڑا، کیونکہ جو بات اس کے من میں رہتی ہے، سو زبان پر نہیں لاتی، اور جو زبان میں ہے اسے ظاہر نہیں کرتی، اور جو کرتی ہے سو کہتی نہیں۔ ستری کو سنسار میں بھگوان نے عجب کوئی پیدا کیا ہے۔
اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے اسے جواب دیا، کہ میں پرائی عورت سے علاقہ نہیں رکھتا۔ یہ سن کے پھر الٹی اپنے گھر کو چلی۔ راہ میں اس چور سے بھینٹ ہوئی، اس کے آگے سب برتانت کہا، چور نے سن کے شاباشی دے چھوڑ دیا۔ یہ اپنے پتی نکٹ آئی، اور اس سے تمام احوال بیان کیا، پر اس کے خاوند نے اسے پیار نہ کیا، اور کہا کوئل کا سر ہی روپ ہے، اور ناری کا روپ پتی برت، اور کروپ منش کا روپ بدیا، تپسی کا روپ کشما۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ اے راجا! ان تینوں میں سے کس کا ست ادھک ہے؟ راجا بکرماجیت نے کہا، چور کا ست ادھک ہے۔ بیتال نے کہا کس طرح؟ راجا نے کہا، پرش پر اس کی اچھا دیکھ سوامی نے چھوڑا۔ راجا کا ڈر مان سوم دت نے چھوڑا۔ اور چور کو چھوڑنے کا کچھ کارن نہ تھا، اس سے چور ہی پردھان ہے۔ یہ سن بیتال پھر رکھ میں جا لٹکا، اور راجا بھی وہاں جا اسے درخت سے اتار، باندھ، کاندھے پر رکھ پھر لے چلا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。