Urdu in Translation
بحث

الفصل 24 من 25

Странствие четвёртого дервиша: дочь слепого

The Fourth Darvesh: The Blind Man's Daughter

سیر چوتھے درویش کی: اندھے کی بیٹی

Мир Амман

الخط
الحجم

میں نے اس کاغذ کو جو دیکھا، ایک تصویر نظر پڑی کہ غش سا آنے لگا۔ بہ زور مارے ڈر کے اپنے تئیں سنبھالا اور کہا بہت خوب، میں رخصت ہوتا ہوں۔ اگر خدا کو میرا بھلا کرنا ہے تو بہ موجبِ حکم حضور کے مجھ سے عمل میں آوے گا۔ یہ کہہ کر مبارک کو ہم راہ لے کر جنگل کی راہ لی۔ گاؤں گاؤں، بستی بستی، شہر شہر، ملک ملک پھرنے لگا اور ہر ایک سے اس کا نام و نشان تحقیق کرنے۔ کسو نے نہ کہا کہ ہاں میں جانتا ہوں یا کسی سے مذکور سنا ہے۔ سات برس تک اسی عالم میں حیرانی و پریشانی سہتا ہوا ایک نگر میں وارد ہوا۔ عمارت عالی اور آباد، لیکن وہاں کا ہر ایک متنفس اسمِ اعظم پڑھتا تھا اور خدا کی عبادت بندگی کرتا تھا۔

ایک اندھا ہندوستانی فقیر بھیک مانگتا نظر آیا، لیکن کسو نے ایک کوڑی یا ایک نوالہ نہ دیا۔ مجھے تعجب آیا اور اس کے اوپر رحم کھایا۔ جیب میں سے ایک اشرفی نکال کر اس کے ہاتھ میں دی۔ وہ لے کر بولا کہ اے داتا! خدا تیرا بھلا کرے، تو شاید مسافر ہے، اس شہر کا باشندہ نہیں۔ میں نے کہا فی الواقع سات برس سے میں تباہ ہوا ہوں۔ جس کام سے نکلا ہوں، اُس کا سراغ نہیں ملتا۔ آج اِس بلدے میں آ پہنچا ہوں۔ وہ بوڑھا دعائیں دے کر چلا، میں اُس کے پیچھے لگ گیا۔ باہر شہر کے ایک مکانِ عالی شان نظر آیا، وہ اس کے اندر گیا۔ میں بھی چلا۔ دیکھا تو جا بجا عمارت گر پڑی ہے اور بے مرمّت ہو رہی ہے۔

میں نے دل میں کہا کہ یہ محل لائق پادشاہوں کے ہے۔ جس وقت تیاری اِس کی ہوگی، کیا ہی مکان ِ دل چسپ بنا ہوگا، اور اب تو ویرانی سے یہ صورت بن رہی ہے! پر معلوم نہیں کہ اُجاڑ کیوں پڑا ہے، اور یہ نابینا اس محل میں کیوں بستا ہے۔ وہ کور لاٹھی ٹیکتا ہوا چلا جاتا تھا کہ ایک آواز آئی، جیسے کوئی کہتا ہے کہ اے باپ! خیر تو ہے، آج سویرے کیوں پھرے آتے ہو؟ پیر مرد نے سن کر جواب دیا کہ بیٹی! خدا نے ایک جوان مسافر کو میرے احوال پر مہربان کیا، اس نے ایک مہر مجھ کو دی۔ بہت دنوں سے پیٹ بھر کر اچھا کھانا نہ کھایا تھا، سو گوشت، مصالح، گھی، تیل، آٹا، لون مول لیا اور تیری خاطر کپڑا جو ضرور تھا، خرید کیا۔ اب اِس کو قطع کر اور سی کر پہن۔ اور کھانا پکا، تو کھا پی کے اُس سخی کے ہاتھ میں دعا دیں۔ اگرچہ مطلب اُس کے دل کا معلوم نہیں، پر خدا دانا بینا ہے، ہم بے کسوں کی دعا قبول کرے۔ میں نے یہ احوال اس کی فاقہ کشی کا جو سنا، بے اختیار جی میں آیا کہ بیس اشرفیاں اور اس کو دوں لیکن آواز کی طرف دھیان جو گیا تو ایک عورت دیکھی کہ ٹھیک وہ تصویر اسی معشوق کی تھی۔ تصویر کو نکال کر مقابل کیا۔ سر مو تفاوت نہ دیکھا۔ ایک نعرہ دل سے نکلا اور بے ہوش ہوا۔ مبارک میرے تئیں بغل میں لے کر بیٹھا اور پنکھا کرنے لگا۔ مجھ میں ذرا سا ہوش آیا، اس کی طرف تاک رہا تھا؛ جو مبارک نے پوچھا کہ تم کو کیا ہو گیا؟ ابھی منھ سے جواب نہ نکلا، وہ نازنین بولی کہ اے جوان! خدا سے ڈر اور بِگانی اِستِری پر نگاہ مت کر، حیا اور شرم سب کو ضرور ہے۔

اس لیاقت سے گفتگو کی کہ میں اس کی صورت اور سیرت پر محو ہو گیا۔ مبارک میری خاطر داری بہت سی کرنے لگا، لیکن دل کی حالت کی اُس کو کیا خبر تھی؟ لاچار ہو کر میں پکارا کہ اے خدا کے بندو اور اس مکان کے رہنے والو! میں غریب مسافر ہوں، اگر اپنے پاس بلاؤ اور رہنے کو جگہ دو تو بڑی بات ہے۔ اس اندھے نے نزدیک بلایا اور آواز پہچان کر گلے لگا اور جہاں وہ گل بدن بیٹھی تھی، اس مکان میں لے گیا۔ وہ ایک کونے میں چھپ گئی۔ اس بوڑھے نے مجھ سے پوچھا کہ اپنا ماجرا کہہ، کہ کیوں گھر بار چھوڑ کر اکیلا پڑا پھرتا ہے اور تجھےکس کی تلاش ہے۔ میں نے ملک صادق کا نام نہ لیا اور وہاں کچھ ذکر مذکور نہ کیا۔ اس طور سے کہا کہ یہ بے کس، شہزادہ چین و ماچین کا ہے۔چنانچہ میرے ولی نعمت ہنوز بادشاہ ہیں۔ ایک سوداگر سے لاکھوں روپے دے کر یہ تصویر مول لی تھی۔ اس کے دیکھنے سے سب ہوش آرام جاتا رہا، اور فقیر کا بھیس کرکر تمام دنیا چھان ماری۔ اب یہاں میرا مطلب ملا ہے، سو تمھارا اختیار ہے۔

یہ سن کر اندھے نے ایک آہ بھری اور بولا اے عزیز! میری لڑکی بڑی مصیبت میں گرفتار ہے۔ کسو بشر کی مجال نہیں کہ اس سے نکاح کرے اور پھل پاوے۔ میں نے کہا امیدوار ہوں کہ مفصل بیان کرو۔ تب اس مرد عجمی نے اپنا ماجرا اس طور سے ظاہر کیا کہ سن اے پادشاہ زادے! میں رئیس اور اکابر اس کم بخت شہر کا ہوں۔ میرے بزرگ نام آور اور عالی خاندان تھے۔ حق تعالیٰ نے یہ بیٹی مجھے عنایت کی۔ جب بالغ ہوئی تو اس کی خوب صورتی اور نزاکت اور سلیقے کا شور ہوا۔ اور سارے ملک میں مشہور ہوا کہ فلانے کے گھر میں ایسی لڑکی ہے کہ اس کے حسن کے مقابل حور، پری شرمندہ ہے۔ انسان کا تو کیا منھ ہے کہ برابری کرے؟ یہ تعریف اِ س شہر کے شہزادے نے سنی۔ غائبانہ بغیر دیکھے بھالے عاشق ہوا، کھانا پینا چھوڑ دیا، اَٹھوائی کھٹوائی لے کر پڑا۔

آخر بادشاہ کو یہ بات معلوم ہوئی۔ میرے تئیں رات کو خلوت میں بلایا اور یہ مذکور درمیان میں لایا اور مجھے باتوں میں پھسلایا، حتی کہ نسبت ناتا کرنے میں راضی کیا۔ میں بھی سمجھا کہ جب بیٹی گھر میں پیدا ہوئی تو کسو نہ کسو سے بیاہا ہی چاہیے۔ پس اس سے کیا بہتر ہے کہ پادشاہ زادے سے منسوب کر دوں؟ اس میں پادشاہ بھی مِنّت دار ہوتا ہے۔ میں قبول کرکے رخصت ہوا۔ اسی دن سے دونوں طرف تیاری بیاہ کی ہونے لگی۔ ایک روز اچھی ساعت میں قاضی، مفتی، عالم، فاضل، اکابر سب جمع ہوئی۔ نکاح باندھا گیا اور مہر متعین ہوا۔ دلہن کو بڑی دھوم دھام سے لے گئے۔ سب رسم رسومات کرکے فارغ ہوئے۔ نوشہ نے رات کو جب قصد جِماع کا کیا؛ اُس مکان میں ایک شور و غُل ایسا ہوا کہ جو باہر لوگ چوکی میں تھے، حیران ہوئے۔ دروازہ کوٹھری کا کھول کر چاہا دیکھیں یہ کیا آفت ہے، اندر سے ایسا بند تھا کہ کواڑ کھول نہ سکے۔ ایک دم میں وہ رونے کی آواز بھی کم ہوئی۔ پٹ کی چول اکھاڑ کر دیکھا تو دولہا سر کٹا ہوا پڑا تڑپتا ہے اور دلہن کے منھ سے کف چلا جاتا ہے اور اسی مٹی لہو میں لتھڑی ہوئی بے حواس پڑی لوٹتی ہے۔

یہ قیامت دیکھ کر سب کے ہوش جاتے رہے۔ ایسی خوشی میں یہ غم ظاہر ہوا۔

بادشاہ کو خبر پہنچی۔ سر پیٹتا ہوا دوڑا۔ تمام ارکان سلطنت کے جمع ہوئے۔ پر کسو کی عقل کام نہیں کرتی کہ اس احوال کو دریافت کرے۔ نہایت کو بادشاہ نے اس قلق کی حالت میں حکم کیا کہ اس کم بخت بھونڈی دلہن کا بھی سر کاٹ ڈالو۔ یہ بات بادشاہ کی زبان سے جو نکلی، پھر ویسا ہی ہنگامہ برپا ہوا۔ بادشاہ اور اپنی جان کے خطرے سے نکل بھاگا اور فرمایا کہ اسے محل سے باہر نکال دو۔ خواصوں نے اس لڑکی کو میرے گھر میں پہنچا دیا۔ یہ چرچا دنیا میں مشہور ہوا۔ جن نے سنا حیران ہوا اور شہزادے کے مارے جانے کے سبب سے خود بادشاہ اور جتنے باشندے اس شہر کے ہیں میرے جانی دشمن ہوئے۔

جب ماتم داری سے فراغت ہوئی اور چہلم ہو چکا۔ بادشاہ نے ارکان دولت سے صلاح پوچھی کہ اب کیا کیا چاہیے سبھوں نے کہا کہ اور تو کچھ نہیں ہو سکتا پر ظاہر میں دل کی تسلی اور صبر کے واسطے اس لڑکی کو اس کے باپ سمیت مروا ڈالیے اور گھر بر ضبط کر لیجئے۔ جب میری یہ سزا مقرر کی کوتوال کو حکم ہوا۔ اس نے چاروں طرف سے میری حویلی کو گھیر لیا اور نرسنگا دروازے پر بجایا، اور چاہا کہ اندر گھسیں اور بادشاہ کا حکم بجا لاویں، غیب سے اینٹ پتھر ایسے برسنے لگے کہ تمام فوج تاب نہ لا سکی اپنا سر منہ بچا کر جیدھر تیدھر بھاگی۔ اور ایک آواز مہیب بادشاہ نے محل میں اپنے کانوں سنی کہ کیوں کم بختی آئی ہے، کیا شیطان لگا ہے۔ بھلا چاہتا ہے تو اس نازنین کے احوال کا متعرض نہ ہو۔ نہیں تو جو کچھ تیرے بیٹے نے اس سے شادی کر کر دیکھا تو بھی اس کی دشمنی سے دیکھے گا۔ اب اگر ان کو ستاوے گا تو سزا پاوے گا۔

بادشاہ کو مارے دہشت کے تپ چڑھی۔ وونہیں حکم کیا۔ ان بدبختوں سے کوئی مزاحم نہ ہو۔ کچھ کہو نہ سنو۔ حویلی میں پڑا رہنے دو۔ زور ظلم ان پر نہ کرو۔ اس دن سے عامل باؤ بتاس جان کر دعا، تعویذ اور سیانے جنتر منتر کرتے ہیں اور سب باشندے اس شہر کے اسم اعظم اور قرآن مجید پڑھتے ہیں۔ مدت سے یہ تماشا ہو رہا ہے لیکن اب تک کچھ اسرار معلوم نہیں ہوتا۔ اور مجھے بھی ہرگز اطلاع نہیں۔ مگر اس لڑکی سے ایک بار پوچھا تم نے اپنی آنکھوں سے کیا دیکھا تھا؟ یہ بولی کہ اور تو کچھ نہیں جانتی، لیکن یہ نظر آیا کہ جس وقت میرے خاوند نے قصد مباشرت کا کیا، چھت پھٹ کر ایک تخت مرصع کا نکلا۔ اس پر ایک جوان خوبصورت شاہانہ لباس پہنے بیٹھا تھا اور ساتھ بہت سے آدمی اہتمام کرتے ہوئے اس مکان میں آئے اور شہزادے کے قتل کے مستعد ہوئے۔ وہ شخص سردار میرے نزدیک آیا اور بولا کہ کیوں جانی! ہم سے کہاں بھاگو گی؟ ان کی صورتیں آدمی کی سی تھیں لیکن پاؤں بکریوں کے سے نظر آئے۔ میرا کلیجہ دھڑکنے لگا اور خوف سے غش میں آ گئی۔ پھر مجھے کچھ سدھ نہیں کہ آخر کیا ہوا۔

تب سے میرا یہ احوال ہے کہ اس پھوٹے مکان میں ہم دونوں جی پڑے رہتے ہیں۔ بادشاہ کے غصے کے باعث اپنے رفیق سب جدا ہو گئے۔ اور میں گدائی کرنے جو نکلتا ہوں تو کوڑی نہیں دیتا بلکہ دکان پر کھڑے رہنے کے روا دار نہیں۔ اس کم بخت لڑکی کے بدن پر لتا نہیں کہ سر چھپاوے اور کھانے کو میسر نہیں جو پیٹ بھر کھاوے۔ خدا سے یہ چاہتا ہوں کہ موت ہماری آوے یا زمین پھاٹے اور یہ ناشدنی سماوے۔ اس جینے سے مرنا بھلا ہے۔ خدا نے شاید ہمارے ہی واسطے تجھے بھیجا ہے جو تو نے رحم کھا کر ایک مہر دی۔ کھانا بھی مزے دار پکا کر کھایا اور بیٹی کی خاطر کپڑا بھی بنایا۔ خدا کی درگاہ میں شکر کیا اور تجھے دعا دی۔ اگر اس پر آسیب جن یا پری کا نہ ہوتا تو تیری خدمت میں لونڈی کی جگہ دیتا اور اپنی سعادت جانتا۔ یہ احوال اس عاجز کا ہے۔ تو اس کے درپے مت ہو اور اس قصد سے درگزر۔

یہ سب ماجرا سن کر میں نے بہت منت و زاری کی کہ مجھے اپنی فرزندی میں قبول کر، جو میری قسمت میں بدا ہو گا سو ہو گا۔ وہ پیر مرد ہرگز راضی نہ ہوا۔ شام جب ہوئی اس سے رخصت ہو کر سرا میں آیا۔ مبارک نے کہا لو شہزادے مبارک ہو، خدا نے اسباب تو درست کیا ہے۔ بارے یہ محنت اکارت نہ گئی۔ میں نے کہا آج کتنی خوشامد کی، پر وہ اندھا بے ایمان راضی نہ ہوا۔ خدا جانے دیوے گا یا نہیں پر میرے دل کی یہ حالت تھی کہ رات کاٹنی مشکل ہوئی کہ صبح ہو تو پھر جا کر حاضر ہوں۔ کبھو یہ خیال آتا، اگر وہ مہربان ہو اور قبول کرے تو مبارک ملک صادق کی خاطر لے جائے گا۔ پھر کہتا بھلا ہاتھ تو آوے۔ مبارک کو منا ونا کر میں عیش کروں گا پھر جی میں یہ خطرہ آتا کہ اگر مبارک بھی قبول کرے تو جنوں کے ہاتھ سے وہی نوبت میری ہو گی جو بادشاہ زادے کی ہوئی۔ اور اس شہر کا بادشاہ کب چاہے گا کہ اس کا بیٹا مارا جائے اور دوسرا خوشی منائے۔

تمام رات نیند اچاٹ ہو گئی اور اسی منصوبے کے الجھیڑے میں کٹی۔ جب روز روشن ہوا، میں چلا۔ چوک میں سے اچھے اچھے تھان پوشاکی اور گوٹا کناری اور میوہ خشک و تر خرید کر اس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نہایت خوش ہو کر بولا کہ سب کو اپنی جان سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔ پر اگر میری جان بھی تیرے کام آوے تو دریغ نہ کروں اور اپنی بیٹی ابھی تیرے حوالے کروں۔ لیکن یہی خوف آتا ہے کہ اس حرکت سے تیری جان کو خطرہ نہ ہو کہ یہ داغ لعنت کا میرے اوپر تا قیامت رہے میں نے کہا کہ اب اسی بستی میں بے کس واقع ہوں اور تم میرے دین دنیا کے باپ ہو، میں اس آرزو میں مدت سے کیا کیا تباہی اور پریشانی کھینچتا ہوا اور کیسے کیسے صدمے اٹھاتا ہوا یہاں تلک آیا اور مطلب کا بھی سراغ پایا۔ خدا نے تمہیں بھی مہربان کیا جو بیاہ دینے پر رضا مند ہوئے۔ لیکن میرے واسطے آگا پیچھا کرتے ہو۔ ذرا منصف ہو کر غور فرماؤ تو عشق کی تلوار سے سر بچانا اور اپنی جان کو چھپانا کس مذہب میں درست ہے؟ ہر چہ بادا باد۔ میں سب طرح اپنے تئیں برباد دیا ہے۔ معشوق کے وصال کو میں زندگی سمجھتا ہوں۔ اپنے مرنے جینے کی مجھے کچھ پروا نہیں، بلکہ اگر ناامید ہوں گا تو بن اجل مر جاؤں گا اور تمہارا قیامت میں دامن گیر ہوں گا۔

غرض اس گفت و شنید اور ہاں ناں میں قریب ایک مہینے کے خوف و رجا میں گزرا۔ ہر روز اس بزرگ کی خدمت میں دوڑا جاتا اور خوشامد برآمد کیا کرتا۔ اتفاقاً وہ بوڑھا کاہلا ہوا۔ اس کی بیمار داری میں حاضر رہا۔ ہمیشہ قارورہ حکیم پاس لے جاتا۔ جو نسخہ لکھ دیتا، اسی ترکیب سے بنا کر پلاتا۔ اور شولا اور غذا اپنے ہاتھ سے پکا کر کوئی نوالا کھلاتا۔ ایک دن مہربان ہو کر کہنے لگا اے جوان تو بڑا ضدی ہے۔ میں نے ہر چند ساری قباحتیں کہہ سنائیں اور منع کرتا ہوں کہ اس کام سے باز آ۔ جی ہے تو جہان ہے۔ پر خواہ مخواہ کنویں میں گرا چاہتا ہے۔ اچھا آج اپنی لڑکی سے تیرا مذکور کروں گا۔ دیکھوں وہ کیا کہتی ہے؟ یا فقر اللہ! یہ خوشخبری سن کر میں ایسا پھولا کہ کپڑوں میں نہ سمایا۔ آداب بجا لایا اور کہا کہ اب آپ نے میرے جینے کی فکر کی۔ رخصت ہو کر مکان پر آیا اور تمام شب مبارک سے یہی مذکور رہا۔ کہاں کی نیند اور کہاں کی بھوک؟ صبح کو نور کے وقت پھر جا کر موجود ہوا۔ سلام کیا۔ فرمانے لگا کہ لو اپنی بیٹی ہم نے تم کو دی۔ خدا مبارک کرے۔ تم دونوں کو خدا کے حفظ و امان میں سونپا۔ جب تلک میرے دم میں دم ہے، میری آنکھوں کے سامنے رہو۔ جب میری آنکھ مند ہو جائے گی جو تمہارے جی میں آوے گا سو کیجیو، مختار ہو۔

کتنے دن پیچھے وہ بزرگ جاں بحق تسلیم ہوا۔ رو پیٹ کر تجہیز و تکفین کیا۔ بعد تیجے کے اس نازنین کو مبارک ڈولے میں بٹھا کر کارواں سرا میں لے گیا اور مجھے کہا کہ یہ امانت ملک صادق کی ہے۔ خبر دار خیانت نہ کیجو اور یہ محنت مشقت برباد نہ دیجو۔ میں نے کہا اے کاکا! ملک صادق یہاں کہاں ہے، دل نہیں مانتا میں کیونکر صبر کروں؟ جو کچھ ہو سو ہو، جیوں یا مروں، اب تو عیش کر لو۔ مبارک نے دق ہو کر ڈانٹا کہ لڑکپن نہ کرو۔ ابھی ایک دم کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ ملک صادق کو دور جانتے ہو، جو اس کا فرمانا نہیں ہو؟ اس نے چلتے وقت پہلے ہی اونچ نیچ سب سمجھا دی ہے۔ اگر اس کے کہنے پر رہو گے اور صحیح سلامت اس کو وہاں لے چلو گے تو وہ بھی بادشاہ ہے۔ شاید تمہاری محنت پر توجہ کر کے تم کو بخش دے تو کیا اچھی بات ہووے۔ پیت کی پیت رہے اور میت کا میت ہاتھ لگے۔ بارے اس کے ڈرانے اور سمجھانے سے میں حیران ہو کر چپکا ہو رہا۔ دو سانڈنیاں خرید کیں اور کجاؤں پر سوار ہو کر ملک صادق کے ملک کی راہ لی۔ چلتے چلتے ایک میدان میں آواز شور غل کی آنے لگی۔ مبارک نے کہا شکر خدا ہماری محنت نیک لگی۔ یہ لشکر جنوں کا آ پہنچا۔ بارے مبارک نے ان سے مل جل کر پوچھا کہ کہاں کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولے کہ بادشاہ نے تمہارے استقبال کے واسطے ہمیں تعینات کیا ہے۔ اب تمہاری فرماں بردار ہیں۔ اگر کہو تو ایک میں روبرو لے چلیں، مبارک نے کہا دیکھو کس کس محنتوں سے خدا نے بادشاہ کے حضور میں ہمیں سرخ رو کیا۔ اب جلدی کیا ضرور ہے؟ اگر خدانخواستہ کچھ خلل ہو جاوے تو ہماری محنت اکارت ہو، اور جہاں پناہ کے غضب میں پڑیں۔ سبھوں نے کہا کہ اس کے تم مختار ہو۔ جس طرح جی چاہے چلو۔ اگرچہ سب طرح کا آرام تھا پر رات دن چلنے سے کام تھا۔

جب نزدیک جا پہنچے۔ میں مبارک کو سوتا دیکھ کر اس نازنین کے قدموں پر سر رکھ کر اپنے دل کی بے قراری اور ملک صادق کے سبب سے لاچاری نہایت منت و زاری سے کہنے لگا کہ جس روز سے تمہاری تصویر دیکھی ہے، خواب و خورش اور آرام میں نے اپنے اوپر حرام کیا ہے۔ اب جو خدا نے یہ دن دکھایا تو محض بے گانہ ہو رہا ہوں۔ فرمانے لگی کہ میرا بھی دل تمہاری طرف مائل ہے کہ تم نے میری خاطر کیا کیا ہرج مرج اٹھایا اور کس کس مشقتوں سے لے آئے ہو۔ خدا کو یاد کرو اور مجھے بھی بھول نہ جائیو۔ دیکھو تو پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے یہ کہہ کر ایسی بے اختیار دھاڑ مار کر روئی کہ ہچکی لگ گئی۔ ایدھر میرا یہ حال، ادھر اس کا وہ احوال۔ اس گفتگو میں مبارک کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ہم دونوں مشتاقوں کا رونا دیکھ کر رونے لگا اور بولا کہ خاطر جمع رکھو۔ ایک روغن میرے پاس ہے اس گل بدن کے بدن میں مل دوں گا۔ اس کی بو سے ملک صادق کا جی ہٹ جائے گا۔ غالب ہے کہ تمہیں بخش دے۔

مبارک سے یہ تدبیر سنکر دل کا ڈھارس ہو گئی۔ اس کے گلے سے لگ کر لاڈ کیا اور کہا اے دادا اب تو میرا باپ کی جگہ ہے۔ تیرے باعث میری جان بچی۔ اب بھی ایس کام کر جس میں زندگانی ہو۔ نہیں تو اس غم میں مر جاؤں گا۔ اس نے ڈھیر سی تسلی دی۔ جب روز روشن ہوا آواز جنوں کی معلوم ہونے لگی دیکھا تو کئی خواص ملک صادق کے آتے ہیں۔ اور ایک سروپا بھاری ہمارے لئے لائے ہیں اور ایک چودول موتیوں کی توڑ پڑے ہوئی ان کے ساتھ ہے۔ مبارک نے اس نازنین کو وہ تیل مل دیا۔ اور پوشاک پہنا، بناؤ کروا کر ملک صادق کے پاس لے چلا۔ بادشاہ نے دیکھ کر مجھے بہت سرفراز کیا اور عزت و حرمت سے بٹھایا اور فرمانے لگا کہ تجھ سے میں ایسا سلوک کروں گا کہ کسو نے آج تک نہ کیا ہو گا۔ بادشاہت تو تیرے باپ کی موجود ہے، علاوہ اب تو میرے بیٹے کی جگہ ہو۔ یہ توجہ کی باتیں کر رہا تھا، اتنے میں وہ نازنین بھی رو برو آئی۔ اور روغن کی بو سے یک بہ یک دماغ پراگندہ ہوا اور حال بے حال ہو گیا۔ تاب اس باس کی نہ لا سکا۔ اٹھ کر باہر چلا اور ہم دونوں کو بلوایا اور مبارک کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیوں جی، خوب شرط بجا لائے۔ میں نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر خیانت کرو گے تو خفگی میں پڑو گے۔ یہ بو کیسی ہے اب دیکھو تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔ بہت جزبز ہوا۔ مبارک نے مارے ڈر کے اپنا ازار بند کھول کر دکھایا کہ بادشاہ سلامت جب حضور کے حکم سے اس کام کے ہم متعین ہوئے تھے، غلام نے پہلے اپنی علامت کاٹ کر ڈبیا میں بند کر کے بہ مہر سرکار کے خزانچی کے سپرد کر دی تھی اور میں مرہم سلیمانی لگا کر روانہ ہوا تھا۔

مبارک سے یہ جواب سن کر تب میری طرف آنکھیں نکال کے گھورا اور کہنے لگا تو یہ تیرا کام ہے، اور طیش میں آ کر منہ سے برا بھلا بکنے لگا۔ اس وقت اس کے تیور سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید جان سے مجھے مروا ڈالے گا۔ جب میں نے اس کے بشرے سے یہ وقت دریافت کیا، اپنے جی سے ہاتھ دھو کر اور جان پر کھیل کر کٹار مبارک کی کمر سے کھینچ کر ملک صادق کی توند میں ماری۔ کٹار کے لگتے ہی نہوڑا اور جھوما۔ میں نے حیران ہو کر جانا کہ مقرر مر گیا۔ پھر اپنے دل میں خیال کیا کہ زخم ایسا کاری نہیں لگا۔ یہ کیا سبب ہوا؟ میں کھڑا دیکھتا تھا کہ وہ زمین پر لوٹ لاٹ گیند کی صورت بن کر آسمان کی طرف اڑ چلا۔ ایسا بلند ہوا کہ آخر نظروں سے غائب ہو گیا۔ پھر ایک پل کے بعد بجلی کی طرح کڑکتا اور غصے میں کچھ بے معنی بکتا ہوا نیچے آیا۔ اور مجھے ایک لات ماری کہ میں تیورا کر چاروں شانے چت گر پڑا اور جی ڈوب گیا۔ خدا جانے کتنی دیر میں ہوش آیا۔ آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو ایک ایسے جنگل میں پڑا ہوں کہ جہاں سوائے کیکر اور سیٹے اور جھڑبیری کے درختوں کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اب اس گھڑی عقل کچھ کام نہیں کرتی کہ کیا کروں اور کہاں جاؤں؟ ناامیدی سے ایک آہ بھر کر ایک طرف کی راہ لی۔ اگر کہیں کوئی آدمی کی صورت نظر پڑتی تو ملک صادق کا نام پوچھتا۔ وہ دیوانہ جان کر جواب دیتا تو یہ کہ ہم نے اس کا نام بھی نہیں سنا۔

ایک روز پہاڑ پر جا کر میں نے یہی ارادہ کیا کہ اپنے تئیں گرا کر ضائع کروں جو مستعد گرنے کا ہوا، وہی سوار صاحب ذوالفقار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ کیوں تو اپنی جان کھوتا ہے؟ آدمی پر دکھ درد ہوتا ہی ہے۔ اب تیرے برے دن گئے اور بھلے دن آئے۔ جلد روم کو جا۔ تین شخص ایسے ہی آگے گئے ہیں۔ ان سے ملاقات کر اور وہاں کے سلطان سے مل۔ تم پانچوں کا مطلب ایک ہی جگہ ملے گا۔

اس فقیر کی سیر کا یہ ماجرا ہے، جو عرض کیا۔ بارے بشارت سے اپنے مولا مشکل کشا کی مرشدوں کی حضور میں آ پہنچا ہوں اور بادشاہ ظل اللہ کی بھی ملازمت حاصل ہوئی چاہیے کہ اب سب کی خاطر جمع ہو۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.