
Глава 23 из 25
Странствие четвёртого дервиша: сорок обезьян и царь джиннов
The Fourth Darvesh: The Forty Monkeys and the King of the Jinn
سیر چوتھے درویش کی: چالیس بندر اور جنوں کا بادشاہ
چوتھا فقیر اپنی سیر کی حقیقت رو رو کر اس طرح دھرانے لگا۔
قصہ ہماری بے سروپائی کا اب سنو
ٹک اپنا دھیان رکھ کر مرا حال سب سنو
کس واسطے میں آیا ہوں یاں تک تباہ ہو
سارا بیان کرتا ہوں اس کا سبب سنو
یا مرشد اللہ! ذرا متوجہ ہو۔ یہ فقیر جو اس حالت میں گرفتار ہے۔ چین کے بادشاہ کا بیٹا ہے۔ ناز و نعمت سے پرورش پائی اور بخوبی تربیت ہوا۔ زمانے کے برے بھلے سے کچھ واقف نہ تھا۔ جانتا تھا کہ یونہیں ہمیشہ نبھے گی۔ عین بے فکری میں یہ حادثہ روبکار ہوا کہ قبلہ عالم، جو والد اس یتیم کے تھے انہوں نے رحلت فرمائی۔ جان کندنی کے وقت اپنے چھوٹے بھائی کو، جو میرے چچا ہیں، بلایا اور فرمایا کہ ہم نے تو سب مال ملک چھوڑ کر ارادہ کوچ کا کیا۔ لیکن یہ وصیت میری تم بجا لائیو، اور بزرگی کا کام فرمائیو۔ جب تلک شہزادہ جو مالک اس تخت و چھتر کا ہے، جوان ہو اور شعور سنبھالے اور اپنا گھر دیکھے بھالے، تم اس کی نیابت کیجو اور سپاہ و رعیت کو خراب نہ ہونے دیجو۔ وہ بالغ ہو، اس کو سمجھا بجھا کر تخت حوالے کرنا اور روشن اختر جو تمہاری بیٹی ہے، اس سے شادی کر کے تم سلطنت سے کنارہ پکڑنا۔ اس بندوبست اور سلوک سے بادشاہت ہمارے خاندان میں قائم رہے گی۔ کچھ خلل نہ آوے گا۔ یہ کہہ کر آپ تو جاں بحق تسلیم ہوئے، چچا بادشاہ ہوئے اور بندوبست ملک کا کرنے لگے مجھے حکم کیا کہ محل میں رہوں۔ تب تلک بیگمات اور خواصوں میں پلا کیا اور کھیلا کودا کیا۔ چچا کی بیٹی سے شادی سن کر شاد تھا اور اس امید پر بے فکر رہتا، اور دل میں کہتا کہ اب کوئی دن میں بادشاہت بھی ہاتھ لگے گی اور کتخدائی بھی ہو گی۔ دنیا بہ امید قائم ہے۔ ایک حبشی مبارک نام کہ والد مرحوم کی خدمت میں تربیت ہوا تھا اور اس کا بڑا اعتبار تھا، اور صاحب شعور نمک حلال تھا۔ میں اکثر اس کے نزدیک جا بیٹھا۔ وہ بھی مجھے بہت پیار کرتا اور میری جوانی دیکھ کر خوش ہوتا اور کہتا کہ الحمد للہ اے شاہ زادے اب تم جوان ہوئے انشا اللہ عنقریب تمہارا عم، ظل سبحانی، وصیت پر عمل کرے گا، اپنی بیٹی اور تمہارے والد کا تخت تمہیں دے گا۔
ایک روز یہ اتفاق ہوا کہ ایک ادنیٰ سہیلی نے بے گناہ میرے تئیں ایسا طمانچہ کھینچ کر مارا کہ میری گال پر پانچوں انگلیوں کا نشان اکھڑ آیا۔ میں روتا ہوا مبارک کے پاس گیا۔ ان نے مجھے گلے لگا لیا اور آنسو آستیں سے پونچھے اور کہا کہ چلو آج تمہیں بادشاہ پاس لے چلوں۔ شاید دیکھ کر مہربان ہو۔ اور لائق سمجھ کر تمہارا حق تمہیں دے۔ اسی وقت چچا کے حضور میں لے گیا۔ چچا نے دربار میں نہایت شفقت کی اور پوچھا کہ کیوں دل گیر ہو اور یہاں کیوں کر آئے؟ مبارک بولا کچھ عرض کرنے آئے ہیں یہ سن کر خود بخود کہنے لگا کہ اب میاں کا بیاہ کر دیتے ہیں۔ مبارک نے کہا بہت مبارک ہے۔ وونہیں نجومی اور جوتشیوں کو رو بہ رو طلب کیا۔ اوپری دل سے پوچھا کہ اس سال کونسا مہینہ اور کونسا دن اور گھڑی مہورت مبارک ہے کہ سر انجام شادی کا کروں؟ انہوں نے مرضی پا کر گن گنا کر عرض کی کہ قبلہ عالم یہ برس سارا نحس ہے۔ کسی چاند میں کوئی تاریخ سعد نہیں ٹھہرتی۔ اگر یہ سال تمام بخیر و عافیت کٹے تو آئندہ کار خیر کے لیے بہتر ہے۔
بادشاہ نے مبارک کی طرف دیکھا اور کہا شاہ زادے کو محل میں لے جا۔ خدا چاہے اس سال کے گزرنے سے اس کی امانت اس کے حوالے کر دوں گا۔ خاطر جمع رکھے اور پڑھے لکھے۔ مبارک نے سلام کیا اور مجھے ساتھ لیا۔ محل میں پہنچا دیا۔ دو تین دن کے بعد میں مبارک کے پاس گیا، مجھے دیکھتے ہی رونے لگا۔ میں حیران ہوا اور پوچھا کہ دادا خیر تو ہے۔ تمہارے رونے کا کیا باعث ہے؟ تب وہ خیر خواہ کہ مجھے دل و جان سے چاہتا تھا بولا کہ میں اس روز تمہیں اس ظالم کے پاس لے گیا کاش کہ اگر یہ جانتا تو نہ لے جاتا۔ میں نے گھبرا کر کہا۔ میرے جانے میں کیا ایسی قباحت ہوئی؟ کہو تو سہی۔ تب اس نے کہا کہ سب امیر وزیر ارکان دولت، چھوٹے بڑے تمہارے باپ کے وقت کے تمہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کرنے لگے کہ اب ہمارا صاحبزادہ جوان ہوا اور سلطنت کے لائق ہوا۔ اب کوئی دن میں حق حق دار کو ملے گا۔ تب ہماری قدر دانی کرے گا اور خانہ زاد موروثیوں کی قدر سمجھے گا۔ یہ خبر اس بے ایمان کو پہنچی۔ اس کی چھاتی پر سانپ پھر گیا۔ مجھے خلوت میں بلا کر کہا اے مبارک اب ایسا کام کر کہ شہزادے کو کسو فریب سے مار ڈال۔ اور اس کا خطرہ میرے جی سے نکال جو میری خاطر جمع ہو۔ تب سے میں بے حواس ہو رہا ہوں کہ تیرا چچا تیری جان کا دشمن ہوا۔ جونہیں مبارک سے یہ خبر میں نے سنی، بغیر مارے مر گیا اور جان کے ڈر سے اس کے پاؤں پر گر پڑا کہ واسطے خدا کے میں سلطنت سے گزرا کسو طرح میرا جی بچے۔ اس غلام با وفا نے میرا سر اٹھا کر چھاتی سے لگا لیا اور جواب دیا کہ کچھ خطرہ نہیں۔ ایک تدبیر سوجھی ہے، اگر راس آئی تو کچھ پرواہ نہیں۔ زندگی ہے تو سب کچھ ہے۔ اغلب ہے کہ اس فکر سے تیری جان بھی بچے اور اپنے مطلب سے کامیاب ہو۔ یہ بھروسا دے کر مجھے ساتھ لے کر اس جگہ جہاں بادشاہ غفور یعنی والد اس فقیر کے سوتے بیٹھتے تھے، گیا اور میری بہت خاطر جمع کی۔ وہاں ایک کرسی بچھی تھی۔ ایک طرف مجھے کھڑا کیا اور ایک طرف آپ پکڑ کر صندلی کو سرکایا اور کرسی کے تلے کا فرش اٹھایا اور زمین کو کھودنے لگا۔ ایک بارگی ایک کھڑکی نمودار ہوئی کہ زنجیر اور قفل اس میں لگا ہے مجھے بلایا۔ میں اپنے دل میں مقرر یہ سمجھا کہ میرے ذبح کرنے اور گاڑ دینے کو یہ گڑھا اس نے کھودا ہے۔ موت آنکھوں کے آگے پھر گئی۔ لاچار چپکے چپکے کلمہ پڑھتا ہوا نزدیک گیا دیکھتا ہوں تو اس دریچے کے اندر عمارت ہے اور چار مکان ہیں۔ ہر ایک دالان میں دس دس خمیں سونے کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی لٹکتی ہیں اور ہر ایک گولی کے منہ پر سونے کی اینٹ اور ایک بندر جڑاؤ کا بنا ہوا بیٹھا ہے انتالیس گولیاں چاروں مکان میں گنیں اور ایک خم کو دیکھا کہ مونہا منہ اشرفیاں بھری ہیں۔ اس پر نہ میمون ہے، نہ خشت ہے، اور ایک حوض جواہر سے لبالب بھرا ہوا دیکھا۔ میں نے مبارک سے پوچھا کہ اے دادا یہ کیا طلسم ہے اور یہ کس کام کے ہیں؟ بولا کہ یہ بوزے جو دیکھتے ہو، ان کا یہ ماجرا ہے کہ تمہارے باپ نے جوانی کے وقت سے ملک صادق، جو بادشاہ جنوں کا ہے، اس کے ساتھ دوستی اور آمدورفت پیدا کی تھی۔
چناچہ ہر سال میں ایک دفعہ کئی طرح کے تحفے، خوشبوئیں اور اس ملک کی سوغاتیں لے جاتے، اور مہینے کے قریب اس کی خدمت میں رہتے۔ جب رخصت ہوتے تو ملک صادق ایک بندر زمرد کا دیتا، ہمارا بادشاہ اسے لا کر اس تہہ خانے میں رکھتا۔ اس بات سے سوائے میرے کوئی دوسرا مطلع نہ تھا۔ ایک مرتبہ غلام نے عرض کی کہ جہان پناہ! لاکھوں روپے کے تحفے لے جاتے ہیں اور وہاں سے ایک بوزنہ پتھر کا مردہ آپ لے آتے ہیں۔ اس کا آخر فائدہ کیا ہے؟ جواب میری اس بات کا مسکرا کر فرمایا خبردار کہیں ظاہر نہ کیجو، خبر شرط ہے۔ یہ ایک میمون بے جان جو تو دیکھتا ہے، ہر ایک کے ہزار دیو زبردست تابع اور فرماں بردار ہیں۔ لیکن جب میرے پاس چالیسوں بندر پورے جمع نہ ہوویں، تب تک یہ سب نکمے ہیں۔ کچھ کام نہ آویں گے۔ سو ایک بندر کی کمی تھی کہ اس بادشاہ نے وفات پائی۔
اتنی محنت کچھ نیک نہ لگی۔ اس کا فائدہ ظاہر نہ ہوا۔ اے شہزادے تیرے یہ حالت بے کسی کی دیکھ کر مجھے یاد آیا اور جی میں ٹھہرایا، کسو طرح تجھ کو ملک صادق کے پاس لے چلوں اور تیرے چچا کا ظلم بیان کروں غالب ہے کہ وہ دوستی تمہارے باپ کی یاد کر کر ایک بوزنہ جو باقی ہے تجھے دے۔ تیرا ملک تیرے ہاتھ آوے اور چین ماچین کی سلطنت تو بہ خاطر جمع کرے۔ اور بالفعل اس حرکت سے تیری جان بچتی ہے۔ اگر اور کچھ نہ ہوا تو اس ظالم کے ہاتھ سے سوائے اس تدبیر کے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے اس کی زبانی یہ سب کیفیت سن کر کہا کہ دادا جان اب تو میری جان کا مختار ہے۔ جو میرے حق میں بھلا ہو، سو کر۔ میری تسلی کر کے آپ عطر اور بخور اور جو کچھ وہاں کے لیے جانے کی خاطر مناسب جانا، خرید کرنے بازار میں گیا۔
دوسرے دن میرے اس کافر چچا کے پاس، جو بجائے ابوجہل کے تھا، گیا اور کہا جہاں پناہ! شہزادے کے مار ڈالنے کی ایک صورت میں نے دل میں ٹھہرائی ہے۔ اگر حکم ہو تو عرض کروں۔ وہ کم بخت خوش ہو کر بولا۔ وہ کیا تدبیر ہے؟ تب مبارک نے کہا کہ اس کے مار ڈالنے میں سب طرح آپ کی بدنامی ہے۔ مگر میں اسے باہر جنگل میں لے جا کر ٹھکانے لگاؤں اور گاڑ داب کر چلا آؤں۔ ہر گز کوئی محرم نہ ہو گا کہ کیا ہوا۔ یہ بندش مبارک سے سن کر بولا کہ بہت مبارک۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ سلامت نہ رہے۔ اس کا دغدغہ میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس فکر سے تو چھڑا دے گا تو اس خدمت کے عوض کچھ پاوے گا۔ جہاں تیرا جی چاہے لے جا کے کھپا دے، اور مجھے یہ خوشخبری لا دے۔ مبارک نے بادشاہ کی طرف سے اپنی دل جمعی کر کے مجھے ساتھ لیا اور وہ تحفے لیکر آدھی رات کو شہر کوچ کیا اور اتر کی سمت چلا۔ ایک مہینے تک پیہم چلا رکھا۔ ایک روز رات کو چلے جاتے تھے، جو مبارک بولا کہ شکر خدا کا اب منزل مقصود کو پہنچے۔ میں نے سن کر کہا دادا یہ تو نے کیا کہا؟ کہنے لگا کہ اے شہزادے تو جنون کا لشکر کیا نہیں دیکھتا؟ میں نے کہا مجھے تیرے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ مبارک نے ایک سرمہ دانی نکال کر سلیمانی سرمے کی دو سلائیں میری دونوں آنکھوں میں پھیر دیں وونہیں جنوں کی خلقت اور لشکر تنبو قنات نظر آنے لگے، لیکن سب خوش رو اور خوش لباس مبارک کو پہچان کر ہر ایک آشنائی کی راہ سے گلے ملتا اور مزاخیں کرتا۔
آخر جاتے جاتے بادشاہ سراچوں کے نزدیک گئے اور بارگاہ میں داخل ہوئے۔ دیکھتا ہوں تو روشنی قرینے سے روشن ہے اور صندلیاں طرح بہ طرح کی دو رویہ بچھی ہیں۔ اور عالم، فاضل، درویش اور امیر وزیر، میر بخشی، دیوان ان پر بیٹھے ہیں۔ اور یساول گرز بردار احدی چپکے چپکے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور درمیان میں ایک تخت مرصع کا بچھا ہے۔ اس پر ملک صادق تاج اور چارقب موتیوں کی پہنے ہوئے مسند پر تکیے لگائے بڑی شان و شوکت سے بیٹھا ہے۔ میں نے نزدیک جا کر سلام کیا۔ مہربانگی سے بیٹھنے کا حکم کیا۔ پھر کھانے کا چرچا ہوا۔ بعد فراغت کے دسترخوان بڑھایا گیا۔ تب مبارک کی طرف متوجہ ہو کر احوال میرا پوچھا۔ مبارک نے کہا کہ اب ان کے باپ کی جگہ پر چچا ان کی بادشاہت کرتا ہے۔ اور ان کا دشمن جانی ہوا ہے۔ اس لئے میں انہیں وہاں سے لے بھاگ کر آپ کی خدمت میں لایا ہوں کہ یتیم ہیں اور سلطنت ان کا حق ہے۔ لیکن بغیر مربی کسو سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ حضور کی دستگیری کے باعث اس مظلوم کی پرورش ہوتی ہے۔ ان کے باپ کی خدمت کا حق یاد کر کے ان کی مدد فرمائیے اور وہ چالیس بندر عنایت کیجئے جو چالیس پورے ہوں۔ اور یہ اپنے حق پر پہنچ کر تمہارے جان و مال کو دعا دیں۔ سوائے صاحب کی پناہ کے کوئی ان کا ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ یہ تمام کیفیت سن کر صادق نے تامل کر کے کہا کہ واقعی حقوق خدمت اور دوستی بادشاہ مغفور کے ہمارے اوپر بہت تھے اور یہ بچارہ تباہ ہو کر اپنی سلطنت موروثی چھوڑ کر جان کے واسطے یہاں تلک آیا ہے اور ہمارے دامن دولت میں پناہ لی ہے۔ تا مقدور کسی طرح ہم سے کمی نہ ہو گی اور در گزر نہ کروں گا۔ لیکن ایک کام ہمارا ہے، اگر وہ اس سے ہو سکا اور خیانت نہ کی اور بخوبی انجام دیا اور اس امتحان میں پورا اترا تو میں قول قرار کرتا ہوں کہ زیادہ بادشاہ سے سلوک کروں گا، اور جو یہ چاہے کام سو دوں گا۔
میں نے ہاتھ باندھ کر التماس کیا کہ اس فدوی سے تابہ مقدور جو خدمت سرکار کی ہو سکے گی بہ سرو چشم بجا لاوے گا۔ اور اس کو خوبی و دیانت داری اور ہوشیاری سے کرے گا اور اپنی سعادت دونوں جہاں کی سمجھے گا۔ فرمایا کہ تو ابھی لڑکا ہے اس واسطے بار بار تاکید کرتا ہوں، مبادا خیانت کرے اور آفت میں پڑے۔ میں نے کہا خدا بادشاہ کے اقبال سے آسان کرے گا اور میں حتی المقدور کوشش کروں گا اور امانت حضور تلک لے آؤں گا۔ یہ سن کر ملک صادق نے مجھ کو قریب بلایا اور ایک دستک سے نکال کر میرے تئیں دکھلایا اور کہا یہ جس شخص کی شبیہ ہے اسے جہاں سے جانے تلاش کر کے میری خاطر پیدا کر کے لا۔ اور جس گھڑی تو اس کا نام و نشان پائے اور سامنے جاوے، میری طرف سے بہت اشتیاق ظاہر کیجو۔ اگر یہ خدمت تجھ سے سر انجام ہوئی تو جتنی توقع تجھے منظور ہے، اس سے زیادہ غور پرداخت کی جائے گی۔ والا نہ، جیسا کرے گا ویسا پاوے گا۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.