Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 22 de 25

Voyage du troisième derviche : Mehr Nigar et Behzad Khan

The Third Darvesh: Mehr Nigar and Behzad Khan

سیر تیسرے درویش کی: مہر نگار اور بہزاد خان

Mir Amman

Escritura
Tamaño

آخر میرے شوق نے اس شہر تلک پہنچایا۔ گلی کوچے میں باولا سا پھرنے لگا۔ اکثر ملکہ کے محل کے آس پاس رہا کرتا۔ لیکن کوئی ڈھب ایسا نہ ہوتا جو وہاں تک رسائی ہو۔ عجیب حیرانی تھی کہ جس واسطے یہ محنت کر کر گیا، وہ مطلب ہاتھ نہ آیا۔ ایک دن بازار میں کھڑا تھا کہ ایک بارگی آدمی بھاگنے لگا اور دکاندار دکانیں بند کر کے چلے گئے۔ یا وہ رونق تھی یا سنسان ہو گیا۔ ایک طرف سے ایک جوان رستم کا سا کلہ جڑا شیر کی مانند گونجتا اور تلوار دو دستی جھاڑتا ہوا، زرہ بکتر گلے میں ٹوپ جھلم کا سر پر طمنچے کی جوڑی کمر میں، کیفی کی طرح بکتا جھکتا نظر آیا۔ اور اس کے پیچھے غلام بنات کی پوشاک پہنے ایک تابوت مخمل کاشانی سے مڑھا ہوا سر پر لئے چلے آتے ہیں۔ میں نے یہ تماشا دیکھ کر ساتھ چلنے کا قصد کیا۔ جو کوئی آدمی میری نظر پڑتا، مجھے منع کرتا لیکن میں کب سنتا ہوں، رفتہ رفتہ وہ جوان مرد ایک عالی شان مکان میں چلا۔ میں بھی ساتھ ہوا۔ اس نے پھرتے ہی چاہا کہ ایک ہاتھ مارے اور مجھے دو ٹکڑے کرے۔ میں نے اسے قسم دی کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا۔ کسو طرح مجھے اس زندگی کے عذاب سے چھڑا دے کہ نہایت تنگ آیا ہوں۔ میں جان بوجھ کر تیرے سامنے آیا ہوں، دیر مت کر، مجھے مرنے پر ثابت قدم دیکھ کر خدا نے اس کے دل میں رحم ڈالا اور غصہ ٹھنڈا ہوا۔ بہت توجہ اور مہربانی سے پوچھا کہ تو کون ہے؟ اور کیوں اپنی زندگی سے بیزار ہوا ہے؟ میں نے کہا ذرا بیٹھئے تو کہوں۔ میرا قصہ بہت دور و دراز ہے۔ اور عشق کے پنجے میں گرفتار ہوں۔ اس سبب سے لاچار ہوں۔ یہ سن کر اس نے اپنی کمر کھولی اور ہاتھ منہ دھو دھا کر کچھ ناشتا کیا۔ مجھے بھی عنایت ہوا۔ جب فراغت کر کے بیٹھا، بولا۔ کہہ تجھ پر کیا گزری؟ میں نے سب واردات اس پیر مرد کی اور ملکہ کی اور وہاں اپنے جانے کی کہہ سنائی۔ پہلے سن کر رویا اور یہ کہا کہ اس کم بخت نے کس کس کا گھر گھالا۔ خیر، تو مراد کو پہنچے گا، اندیشہ نہ کر اور خاطر جمع رکھ حجام کو فرمایا کہ اس کی حجامت کر کے حمام کروا دے۔ ایک جوڑا کپڑا اس کے غلام نے لا کر پہنایا۔ تب مجھ سے کہنے لگا کہ یہ تابوت جو تو نے دیکھا، اس شہزادے مرحوم کا ہے، جو قفس میں مقید تھا۔ اس کو دوسرے وزیر نے آخر کمر سے مارا، اس کو تو نجات ہوئی کہ مظلوم مارا گیا۔ میں اس کا کوکا ہوں۔ میں نے اس وزیر کو بہ ضرب شمشیر مارا اور بادشاہ کے بھی مارنے کا ارادہ کیا۔ بادشاہ گڑگڑایا اور سوگند کھانے لگا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میں نے اسے نامرد جان کر چھوڑ دیا۔ تب سے میرا کام یہی ہے کہ ہر مہینے کی نو چندی جمعرات کو میں اس تابوت کو اسی طرح شہر میں لئے پھرتا ہوں، اور اس کا ماتم کرتا ہوں۔ اس کی زبانی یہ احوال سننے سے مجھے تسلی ہوئی کہ اگر یہ چاہے گا تو میرا مقصد بر آوے گا۔ خدا نے بڑا احسان کیا جو ایسے جنونی کو مجھ پر مہربان کیا۔ سچ ہے خدا مہربان تو کل مہربان۔

جب شام ہوئی اور آفتاب غروب ہوا۔ اس جوان نے تابوت کو نکالا اور ایک غلام کے عوض وہ تابوت میرے سر پر دھرا اور اپنے ساتھ لے کر چلا۔ فرمانے لگا کہ ملکہ کے نزدیک جاتا ہوں۔ تیری سفارش تابہ مقدور کروں گا۔ تو ہرگز دم نہ ماریو، چپکا بیٹھا سنا کیجو۔ میں نے کہا جو کچھ صاحب فرمائے ہیں وہی کروں گا، خدا تم کو سلامت رکھے جو میرے احوال پر ترس کھاتے ہو۔ اس جوان نے قصد بادشاہی باغ کا کیا، جب اندر داخل ہوا ایک چبوترا سنگ مرمر کا ہشت پہلو باغ کے صحن میں تھا اور اس پر ایک نم گیرہ سفید بادلے کا موتیوں کی جھالر لگی ہوئی الماس کے استادوں پر کھڑا تھا اور ایک مسند مغرق بچھی تھی۔ گاؤ تکیہ اور بغلی تکیے زربفت کے لگے ہوئے۔ وہ تابوت وہاں رکھوایا اور ہم دونوں کو فرمایا کہ اس درخت کے پاس جا کر بیٹھو۔ بعد ایک ساعت کے مشعل کی روشنی نظر آئی۔ ملکہ آپ کئی خواصیں پس و پیش اہتمام کرتی ہوئیں تشریف لائیں لیکن اداسی اور خفگی چہرے پر ظاہر تھی۔ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ فاتحہ پڑھی اور کچھ باتیں کرنے لگیں۔ میں کان لگائے سن رہا تھا۔ آخر اس جوان نے کہا کہ ملکہ جہان سلامت! ملک عجم کا شہزادہ آپ کی خوبیاں اور محبوبیاں غائبانہ سن کر اپنی سلطنت کو برباد دے کر فقیر بن مانند ابراہیم ادہم کے تباہ ہوا، اور بڑی محنت کھینچ کر یہاں تک آ پہنچا۔ سائیں تیرے کارن چھوڑا شہر بلخ۔ اور شہر میں بہت دنوں سے حیران پریشان پھرتا ہے۔ آخر وہ قصد مرنے کا کر کے میرے ساتھ لگ چلا۔ میں نے تلوار سے ڈرایا۔ اس نے گردن آگے دھر دی کہ اب میں یہی چاہتا ہوں، دیر مت کر۔ غرض تمہارے عشق میں ثابت ہے میں نے خوب آزمایا۔ سب طرح پورا پایا۔ اس سبب سے اس کا مذکور میں درمیان لایا۔ اگر حضور سے اس کے احوال پر مسافر جان کر توجہ ہو تو خدا ترسی اور حق شناسی سے دور نہیں۔

یہ ذکر ملکہ نے سن کر فرمایا کہاں ہے؟ اگر شہزادہ ہے تو کیا مضائقہ؟ رو بہ رو آوے وہ کوکا وہاں سے اٹھ کر آیا اور مجھے ساتھ لے کر گیا۔ میں ملکہ کے دیکھنے سے نہایت شاد ہوا، لیکن عقل و ہوش برباد ہوئے۔ عالم سکوت کا ہو گیا۔ یہ ہواؤ نہ پڑا کہ کچھ کہوں۔ ایک دم میں ملکہ سدھاری اور کوکا اپنے مکان کو چلا۔ گھر آ کر بولا کہ میں نے تیری سب حقیقت اول سے آخر تک کہہ سنائی اور سفارش بھی کی، اب تو ہمیشہ رات کو بلا ناغہ جایا کر اور عیش خوشی منایا کر۔ میں اس کے قدم پر گر پڑا۔ اس نے گلے لگا لیا۔ تمام دن گھڑیاں گنتا رہا کہ کب سانجھ ہو، جو میں جاؤں۔ جب رات ہوئی میں اس جوان سے رخصت ہو کر چلا اور پائیں باغ میں ملکہ کے چبوترے پر تکیہ لگا کے جا بیٹھا۔ بعد ایک گھڑی کے ملکہ تن تنہا ایک خواص کو ساتھ لے کر آہستہ آہستہ آ کر مسند پر بیٹھیں۔ خوش طالعی سے یہ دن میسر ہوا، میں نے قدم بوس کیا۔ انہوں نے میرا سر اٹھا لیا اور گلے سے لگا لیا۔ اور بولیں کہ اس فرصت کو غنیمت جان میرا کہا مان۔ مجھے یہاں سے لے نکل، کسو اور ملک کو چل۔ میں نے کہا چلئے یہ کہہ کر ہم دونوں باغ کے باہر تو ہوئے پر حیرت سے اور خوشی سے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ راہ بھول گئے اور ایک طرف کو چلے جاتے تھے، پر کچھ ٹھکانا نہیں پاتے تھے۔ ملکہ برہم ہو کر بولیں اب میں تھک گئی تیرا مکان کہاں ہے، جلدی چل کر پہنچ۔ نہیں تو کیا کیا چاہتا ہے؟ میرے پاؤں میں پھپھولے پڑ گئے، رستے میں کہیں بیٹھ جاؤں گی۔

میں نے کہا کہ تیرے غلام کی حویلی نزدیک ہے، اب آ پہنچے، خاطر جمع رکھو اور قدم اٹھاؤ۔ جھوٹ تو بولا پر دل میں حیران تھا کہ کہاں لے جاؤں؟ عین راہ پر ایک دروازہ مقفل نظر پڑا۔ جلدی سے قفل کو توڑ کر مکان کے بھیتر گئے۔ اچھی حویلی، فرش بچھا ہوا شراب کے شیشے بھرے، قرینے سے طاق میں دھرے اور باورچی خانے میں نان کباب تیار تھے۔ ماندگی کمال ہو رہی تھی ایک ایک گلاس شراب پرتگالی کی اس گزک کے ساتھ پی اور ساری رات باہم خوشی کی۔ جب اس چین سے صبح ہوئی، شہر میں غل مچا کہ شہزادی غائب ہوئی۔ محلہ محلہ، کوچہ کوچہ، منادی پھرنے لگی اور کٹنیاں اور ہرکارے چھوٹے کہ جہاں ہاتھ آوے پیدا کریں، اور سب دروازوں پر شہر کے بادشاہی غلاموں کی چوکی آ بیٹھی۔ گزر بانوں کو حکم ہوا کہ بغیر پروانگی، چیونٹی باہر شہر کے نہ نکل سکے۔ جو کوئی سراغ ملکہ کا لاوے گا ہزار اشرفی اور خلعت انعام پاوے گا۔ تمام شہر کٹنیاں پھرنے اور گھر گھر میں گھسنے لگیں۔ مجھے جو کم بختی لگی دروازہ بند نہ کیا۔ ایک بڑھیا شیطان کی خالہ، اس کا خدا کرے منہ کالا، ہاتھ میں تسبیح لٹکائے برقع اوڑھے، دروازہ کھلا پا کر ندھڑک چلی آئی اور سامنے ملکہ کے کھڑی ہو کر ہاتھ اٹھا کر دیا دینے لگی کہ الٰہی تیری نتھ جوڑی سہاگ کی سلامت رہے اور کماؤ کی پگڑی قائم رہے۔ میں غریب رانڈ فقیرنی ہوں۔ ایک بیٹی میری ہے کہ وہ دو جی سے پورے دونوں درد زہ میں مرتی ہے اور مجھ کو اتنی وسعت نہیں کہ ادھی کا تیل چراغ جلاؤں، کھانے پینے کو تو کہاں سے لاؤں۔ اگر مر گئی تو گورو کفن کیونکر کروں گی؟ آج دو دن ہوئے ہیں کہ بھوکی پیاسی پڑی ہے۔ اے صاحب زادی! اپنی خیر کچھ ٹکڑا پارچہ دلا تو اس کو پانی پینے کا آدھار ہو۔

ملکہ نے ترس کھا کر اپنے نزدیک بلا کر چار نان اور کباب اور ایک انگوٹھی چھینگیا سے اتار کر حوالے کی کہ اس کو بیچ بانچ کر گہنا پاتا بنا دیجو۔ اور خاطر جمع سے گزران کیجو۔ اور کبھو آیا کیجو، تیرا گھر ہے، اس نے اپنے دل کا مدعا، جس کی تلاش میں آئی تھی بہ جنس پایا۔ خوشی سے دعائیں دیتی اور بلائیں لیتی دفع ہوئی۔ ڈیوڑھی میں نان کباب پھینک دیئے، مگر انگوٹھی کو مٹھی میں لے لیا کہ پتا ملکہ کے ہاتھ کا میرے ہاتھ آیا۔ خدا اس آفت سے جو بچایا چاہے اس مکان کا مالک جواں مرد سپاہی، تازی گھوڑے پر چڑھا ہوا، نیزہ ہاتھ میں لئے شکار بن سے ایک ہرن لٹکائے آ پہنچا، اپنی حویلی کا تالا ٹوٹا اور کواڑ کھلے پائے۔ اس دلالہ کو نکلتے دیکھا، مارے غصے کے ایک ہاتھ سے اس کے جھونٹے پکڑ کر لٹکایا اور گھر میں آیا۔ اس کے دونوں پاؤں میں رسی باندھ کر ایک درخت کی ٹہنی میں لٹکایا۔ سر تلے پاؤں اوپر کئے ایک دم میں تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ اس مرد کی صورت دیکھ کر یہ ہیبت غالب ہوئی کہ ہوائیاں منہ پر اڑنے لگیں اور مارے ڈر کے کلیجہ کانپنے لگا۔ اس عزیز نے ہم دونوں کو بدحواس دیکھ کر تسلی دی کہ بڑی نادانی تم نے کی۔ ایسا کام کیا اور دروازہ کھول دیا۔

ملکہ نے مسکرا کر فرمایا کہ شہزادہ اپنے غلام کی حویلی کہہ کر مجھے لے آیا اور مجھ کو پھسلایا۔ اس نے التماس کیا کہ شہزادے نے بیان واقعی کہا۔ جتنی خلق اللہ ہے بادشاہوں کے لونڈی غلام ہیں۔ انہیں کی برکت اور فیض سے سب کی پرورش اور نباہ ہے۔ یہ غلام بے دام و درم زر خریدہ تمہارا ہے۔ لیکن بھید چھپانا عقل کا مقتضا ہے۔ اے شہزادے تمہارا اور ملکہ کا اس غریب خانے میں توجہ فرمانا اور تشریف لانا سعادت دونوں جہان کی ہے۔ اور اپنے فدوی کو سرفراز کیا۔ میں نثار ہونے کو تیار ہوں۔ کسو صورت میں جان و مال سے دریغ نہ کروں گا۔ آپ شوق سے آرام فرمائیے اب کوڑی بھر خطرہ نہیں۔ یہ مردار کٹنی اگر سلامت جاتی تو آفت لاتی۔ اب جب تلک مزاج شریف چاہے بیٹھے رہیے اور جو کچھ چاہیے درکار ہو اس خانہ زاد کو کہیے سب حاضر کرے گا اور بادشاہ تو کیا چیز ہے! تمہاری خبر فرشتے کو بھی نہ ہو گی۔ اس جواں مرد نے ایسی ایسی باتیں تسلی کی کہیں کہ ٹک خاطر جمع ہوئی۔ تب میں نے کہا شاباش تم مرد ہو۔ اس مروت کا عوض ہم سے بھی جب ہو سکے گا تب ظہور میں آوے گا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا کہ غلام کا اسم بہزاد خاں ہے۔ غرض چھ مہینے تک جتنی شرط خدمت کی تھی۔ بہ جان و دل بجا لایا۔ خوب آرام سے گزری۔

ایک دن مجھے اپنا ملک اور ماں باپ یاد آئے اس لیے نہایت متفکر بیٹھا تھا۔ میرا چہرہ ملین دیکھ کر بہزاد خان روبرو ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس فدوی سے اگر کچھ تقصیر چرن برداری میں واقع ہو تو ارشاد ہو۔ میں نے کہا از برائے خدا یہ کیا مذکور ہے! تم نے ایسا سلوک کیا کہ اس شہر میں ایسے آرام سے رہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ میں کوئی رہتا ہے۔ نہیں تو یہ ایسی حرکت ہم سے ہوئی تھی کہ تنکا تنکا ہمارا دشمن تھا۔ ایسا دوست ہمارا کون تھا کہ ذرا دم لیتے۔ خدا تمہیں خوش رکھے بڑے مرد ہو۔ تب اس نے کہا اگر یہاں سے دل برداشتہ ہوا ہو۔ تو جہاں خیر عافیت سے پہنچا دوں۔ فقیر بولا کہ اگر اپنے وطن تک پہنچوں تو والدین کو دیکھوں، میری تو یہ صورت ہوئی، خدا جانے ان کی کیا حالت ہوئی جس واسطے جلا وطن ہوا تھا میری آرزو بر آئی۔ اب ان کی بھی قدم بوسی واجب ہے۔ میری خبر ان کو کچھ نہیں کہ مرا یا جیتا ہے؟ ان کے دل پر کیا قلق گزرتا ہو گا۔ وہ جوان مرد بولا کہ بہت مبارک ہے چلئے یہ کہہ کر ایک راس گھوڑا ترکی سو کوس چلنے والا اور ایک گھوڑی جلد جس کے پر نہیں کٹے تھے۔ لیکن شائستہ، ملکہ کی خاطر لایا اور ہم دونوں کو سوار کروایا۔ پھر زرہ بکتر پہن سلاغ باندھ اوپچی بن اپنے مرکب پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا غلام آگے ہو لیتا ہے، صاحب خاطر جمع سے گھوڑے دبائے چل آویں۔ جب شہر کے دروازے پر آیا ایک نعرہ مارا اور تینوں قفل توڑے اور نگہبانوں کو ڈپٹ کر للکارا کہ اے نامردو! اپنے خاوند کو جا کر کہو کہ بہزاد خان ملکہ مہر نگار اور شہزادہ کامگار کو، جو تمہارا داماد ہے، ہانکے پکارے لئے جاتا ہے۔ اگر مردی کا کچھ نشہ ہے تو باہر نکلو اور ملکہ کو چھین لو۔ یہ نہ کہیو کہ چپ چاپ لے گیا، نہیں تو قلعے میں بیٹھے آرام کیا کرو۔ کہ خبر بادشاہ کو جلد جا پہنچے۔ وزیر اور میر بخشی کو حکم ہوا کہ ان تینوں مفسدوں کو باندھ کر لاؤ، یا ان کے سر کاٹ کر حضور میں پہنچاؤ، ایک دم کے بعد غٹ فوج کا نمودار ہوا اور تمام زمین و آسمان گرد باد ہو گیا۔ بہزاد خاں نے ملکہ کو اور اس فقیر کو ایک در میں پل کے، جو بارہ پلے اور جون پور کے پل کے برابر تھا، کھڑا کیا۔ اور آپ گھوڑے کو تنگ کر اس فوج کی طرف پھرا اور شیر کی مانند گونج کر مرکب کو ڈپٹ کر فوج کے درمیان گھسا۔ تمام لشکر کائی سا پھٹ گیا اور یہ دونوں سرداروں تلک جا پہنچا۔ دونوں کے سر کاٹ لئے جب سردار مارے گئے لشکر تتر بتر ہو گیا۔ وہ کہاوت ہے سر سے سر واہ جب بیل پھوٹی رائی رائی ہو گی۔ وونہیں آپ بادشاہ کتنی فوج بکتر پوشوں کے ساتھ لے کمک کو آئے۔ ان کو بھی لڑائی میں اس پکے جوان نے مار دیا، شکست فاش کھائی۔

بادشاہ پسپا ہوئے۔ سچ ہے فتح داد الٰہی ہے لیکن بہزاد خان نے ایسی جوانمردی کی کہ شاید رستم سے بھی نہ ہو سکتی تھی۔ جب بہزاد خان نے دیکھا کہ مطلق صاف ہوا، اب کون باقی رہا ہے جو ہمارا پیچھا کرے گا، بے وسواس ہو کر اور خاطر جمع کر جہاں ہم کھڑے تھے آیا اور ملکہ اور مجھ کو ساتھ لے کر چلا۔ سفر کی عمر کوتاہ ہوتی ہے۔ تھوڑے عرصے میں اپنے ملک کی سرحد میں جا پہنچے۔

ایک عرضی صحیح سلامت آنے کی بادشاہ کے حضور میں، جو قبلہ گاہ مجھ فقیر کے تھے، لکھ کر روانہ کی، جہاں پناہ پڑھ کر شاد ہوئے۔ دوگانہ شکر کا ادا کیا، جیسے سوکھے دھان میں پانی پڑا۔ خوش ہو کر سب امیروں کو جلو میں لے کر اس عاجز کے استقبال کی خاطر لب دریا آ کر کھڑے ہوئے۔ اور نواڑوں کے واسطے میر بحر کو حکم ہوا۔ میں نے دوسرے کنارے پر سواری بادشاہ کی کھڑی دیکھی۔ قدم بوسی کی آرزو میں گھوڑے کو دریا میں ڈال دیا۔ ہیلہ مار کر حضور میں حاضر ہوا مجھے مارے اشتیاق کلیجے سے لگا لیا۔ اب ایک اور آفت ناگہانی پیش آئی کہ جس گھوڑے پر میں سوار تھا شاید وہ بچہ اسی مادیان کا تھا جس پر ملکہ سوار تھی۔ ہم جنسیت کے باعث میرے مرکب کو دیکھ کر گھوڑی نے بھی جلد کر کر اپنے تئیں ملکہ سمیت میرے پیچھے دریا میں گرایا اور پیرنے لگی، ملکہ نے گھبرا کر باگ کھینچی، وہ منہ کی نرم تھی الٹ گئی۔ ملکہ غوطے کھا کر مع گھوڑے دریا میں ڈوب گئی۔ کہ پھر ان دونوں کا نشان نظر نہ آیا۔ بہزاد خان نے یہ حالت دیکھی کہ اپنے تئیں گھوڑے سمیت ملکہ کی مدد کی خاطر دریا میں پہنچایا۔ وہ بھی اس بھنور میں آ گیا، پھر نکل نہ سکا۔ بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے، کچھ بس نہ چلا، ڈوب گیا۔ جہاں پناہ نے یہ واردات دیکھ کر مہا جال منگوا کر پھنکوایا، ملاحوں اور غوطہ خوروں کو فرمایا۔ انہوں نے سارا دریا چھان مارا۔ تھاہ کی مٹی لے لے آئے۔ پر وہ دونوں ہاتھ نہ آئے۔ یا فقرا! یہ حادثہ ایسا ہوا کہ میں سودائی اور جنونی ہو گیا اور فقیر بن کر یہی کہتا پھرتا ان نینوں کا یہی بسیکہ وہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ۔ اگر ملکہ کہیں غائب ہو جاتی یا مر جاتی تو دل کو تسلی آتی۔ پھر تلاش کو نکلتا یا صبر کرتا۔ لیکن جب نظروں کے رو بہ رو غرق ہو گئی تو کچھ بس نہ چلا۔ آخر جی میں یہی لہر آئی کہ دریا میں ڈوب جاؤں شاید اپنے محبوب کو مر کر پاؤں۔

ایک روز ایک رات کو اسی دریا میں بیٹھا اور ڈوبنے کا ارادہ کر کر گلے تک پانی میں گیا۔ چاہتا ہوں کہ آگے پاؤں رکھوں اور غوطہ کھاؤں۔ وہی سوار برقعہ پوش جنہوں نے تم کو بشارت دی ہے آ پہنچے۔ میرا ہاتھ پکڑ لیا اور دلاسا دیا کہ خاطر جمع رکھ۔ ملکہ اور بہزاد خان جیتے ہیں۔ تو اپنی جان ناحق کیوں کھوتا ہے؟ دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے خدا کی درگاہ سے مایوس مت ہو۔ اگر جیتا رہے گا تو تیری ملاقات ان دونوں سے ایک نہ ایک روز ہو رہے گی۔ اب تو روم کی طرف جا۔ اور بھی دو درویش دل ریش وہاں گئے ہیں۔ ان سے جب ملے گا اپنی مراد کو پہنچے گا۔ یا فقرا! یہ موجب حکم اپنے ہادی کے میں بھی خدمت شریف میں آ کر حاضر ہوا ہوں۔ امید قوی ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مطلب کو پہنچے۔ اس ٹکڑ گدا کا یہ احوال تھا جو تمام کمال کہہ سنایا

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.