Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 18 из 25

Histoire du Khwaja Sag-parast : le chahbandar et la Mère des brahmanes

The Dog-Worshipping Merchant: The Harbour-Master and the Mother of the Brahmins

خواجہ سگ پرست کا قصہ: شاہ بندر اور برہمنوں کی ماتا

Mir Amman

Письмо
Размер

سوداگروں نے ایک کوٹھڑی میرے تحت میں کر دی۔ میں نے اس کے نول کا روپیہ بھر دیا۔ دل جمی کر کر کسو بہانے سے دائی کے گھر گیا اور کہا اے اماں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوں اب وطن کو جاتا ہوں۔ اگر تیری توجہ سے ایک نظر ملکہ کو دیکھ لوں تو بڑی بات ہے۔ بارے دائی نے قبول کیا۔ میں نے کہا میں رات کو آؤں گا۔ فلانے مکان پر کھڑا رہوں گا۔ بولی اچھا۔ میں کہہ کر سرا میں آیا۔ صندوق اور بچھونے اٹھا کر جہاز میں لایا۔ اور ناخدا کو سونپ کر کہا۔ کل فکر کو اپنی کنیز کو لے کر آؤں گا۔ ناخدا بولا۔ جلد آئیو۔ صبح ہی لنگر اٹھاویں گے۔ میں نے کہا بہت خوب۔ جب رات ہوئی اسی مکان پر جہاں دائی سے وعدہ کیا تھا، جا کر کھڑا رہا۔ پہر رات گئے محل کا دروازہ کھلا اور ملکہ میلے کچیلے کپڑے پہنے ایک پیٹی جواہر کی لئے باہر نکلی۔ وہ پٹاری میرے حوالے کی اور ساتھ چلی۔ صبح ہوتے کنارے دریا کے ہم پہنچے۔ ایک لبوت پر سوار ہو کر جہاز میں اترے۔ یہ وفادار کتا بھی ساتھ تھا۔ جب صبح خوب روشن ہوئی لنگر اٹھایا اور روانہ ہوئے۔ بہ خاطر جمع چلے جاتے تھے ایک بندر سے آواز توپوں کی شلک کی آئی۔ سب حیران اور فکر مند ہوئے۔ جہاز کو لنگر کیا اور آپس میں چرچا ہونے لگا کہ کیا شاہ بندر کچھ دغا کرے گا۔ توپ چھوڑنے کا سبب کیا ہے؟ اتفاقاً سب سوداگروں کے پاس خوب صورت لونڈیاں تھیں۔ شاہ بندر کے خوف سے مبادا چھین لے، سب نے کنیزوں کو صندوقوں میں بند کیا۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا کہ اپنی شہزادی کو صندوق میں بٹھا کر قفل کر دیا۔ اس عرصے میں شاہ بندر ایک غراب پر بمع نوکر چاکر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ آتے آتے جہاز پر آ چڑھا۔ شاید اس کے آنے کا یہ سبب تھا کہ بادشاہ کو دائی کے مرنے اور ملکہ کے غائب ہونے کی خبر معلوم ہوئی مارے غیرت کے اس کا تو نام نہ لیا مگر شاہ بندر کو حکم کیا کہ میں نے سنا ہے عجمی سوداگروں کے پاس لونڈیاں خوب خوب ہیں۔ سو میں شہزادی کے واسطے لیا چاہتا ہوں، تم ان کو روک کر جتنی لونڈیاں جہاز میں ہوں، حضور میں حاضر کرو گے۔ انہیں دیکھ کر جو پسند آویں گی ان کی قیمت دی جائے گی۔ نہیں تو واپس ہوں گی۔ بموجب حکم بادشاہ کے یہ شاہ بندر اس لیے آپ جہاز پر آیا۔ اور میرے نزدیک ایک اور شخص تھا اس کے پاس بھی ایک باندی قبول صورت صندوق میں بند تھی۔ شاہ بندر اسی صندوق پر آ کر بیٹھا۔ اور لونڈیوں کو نکلوانے لگا۔ میں نے خدا کا شکر کیا کہ بھلا بادشاہ زادی کا مذکور نہیں۔

غرض جتنی لونڈیاں پائیں شاہ بندر کے آدمیوں نے ناؤ پر چڑھائیں اور خود شاہ بندر جس صندوق پر بیٹھا تھا، اس کے مالک سے بھی ہنستے ہنستے پوچھا کہ تیرے پاس بھی تو لونڈی تھی؟ اس احمق نے کہا۔ آپ کے قدموں کے سوگند میں نے ہی یہ کام نہیں کیا۔ سبھوں نے تمہارے ڈر سے لونڈیاں صندوق میں چھپائی ہیں۔ شاہ بندر نے یہ بات سن کر سب صندوقوں کا جھاڑا لینا شروع کیا۔ میرا بھی صندوق کھولا اور ملکہ کو نکال کر سب کے ساتھ لے گیا عجب طرح کی مایوسی ہوئی کہ یہ ایسی حرکت پیش آئی کہ تیری جان تو مفت گئی اور ملکہ سے دیکھئے کیا سلوک کرے۔ اس کی فکر میں اپنی بھی جان کا ڈر بھول گیا۔ سارے دن رات خدا سے دعا مانگتا رہا۔ جب بڑی فجر ہوئی، سب لونڈیوں کو کشتی پر سوار کر کے پھرا لائے۔ سوداگر خوش ہوئے۔ اپنی اپنی کنیزیں لیں۔ سب آئیں مگر ایک ملکہ ان میں نہ تھی۔ میں نے پوچھا کہ میری لونڈی نہیں آئی۔ اس کا کیا سبب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم واقف نہیں، شاید بادشاہ نے پسند کی ہو گی۔ سب سوداگر مجھے تسلی اور دلاسا دینے لگے کہ خیر جو ہوا سو ہوا تو کڑھ مت اس کی قیمت ہم سب بہم کر کر تجھے دیں گے میرے حواس باختہ ہو گئے۔ میں نے کہا کہ اب عجم میں نہیں جانے کا۔ کشتی رانوں سے کہا، یارو مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو، کنارے پر اتار دیجئو۔ وہ راضی ہوئے میں جہاز سے اتر کر غراب میں بیٹھا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ چلا آیا۔

جب بندر میں پہنچا، ایک صندوقچہ جواہر کا جو ملکہ اپنے ساتھ لائی اسے تو رکھ لیا، اور سب اسباب شاہ بندر کے نوکروں کو دیا، اور میں جاسوسی میں ہر کہیں پھرنے لگا کہ شاید خبر ملکہ کی پاؤں۔ لیکن ہر گز سراغ نہ ملا اور نہ اس بات کا پتا پایا۔ ایک رات کو کسو مکر سے بادشاہ کے بھی محل میں گیا اور ڈھونڈتا کچھ خبر نہ ملی۔ قریب ایک مہینے کے شہر کے کوچے اور محلے چھان مارے اور اس غم سے اپنے تئیں قریب ہلاکت کے پہنچایا، اور سودائی سا پھرنے لگا۔ آخر اپنے دل میں خیال کیا، کہ غالب ہے شاہ بندر کے گھر میری بادشاہ زادی ہووے تو ہووے نہیں تو اور کہیں نہیں۔ شاہ بندر کی حویلی کے گرد و پیش دیکھتا تھا، کہ کہیں سے بھی جانے کی راہ پاؤں تو اندر جاؤں۔

ایک بدرو نظر پڑی کہ موافق آدمی کی آمد و رفت کے ہے مگر جالی آہنی اس کے دہانے پر جڑی ہے۔ یہ قصد کیا کہ اس بدرو کی راہ سے چلوں۔ کپڑے بدن سے اتارے اور اس نجس کیچڑ میں اترا۔ ہزار محنت سے اس جالی کو توڑا اور سنڈاس کی راہ سے چور محل میں گیا۔ عورتوں کا لباس بنا کر ہر طرف دیکھنے بھالنے لگا۔ ایک مکان سے آواز میرے کان میں پڑی، جیسے کوئی مناجات کر رہا ہے۔ آگے جا کر دیکھوں تو ملکہ ہے کہ عجب حالت سے روتی اور نک گھسنی کر رہی ہے، اور خدا سے دعا مانگتی ہے کہ صدقے اپنے رسولؐ اور اس کی آل پاک کے، مجھے اس کفرستان سے نجات دے۔ اور جس شخص نے مجھے اسلام کی راہ بتائی ہے، اس سے ایک بار خیریت سے ملا۔ میں دیکھتے ہی دوڑ کر پاؤں پر گڑ پڑا۔ ملکہ نے مجھے گلے لیا۔ ہم دونوں پر ایک دم بے ہوشی کا عالم ہو گیا۔ جب حواس بجا ہوئے میں نے کیفیت ملکہ سے پوچھی۔ بولی جب شاہ بندر سب لونڈیوں کو کنارے پر لے گیا۔ میں خدا سے یہی دعا مانگتی تھی کہ کہیں میرا راز فاش نہ ہو، اور میں پہچانی نہ جاؤں اور تیری جان پر آفت نہ آوے۔ وہ ایسا ستار ہے کہ ہرگز کسو نے نہ دریافت کیا کہ یہ ملکہ ہے۔ شاہ بندر ہر ایک کو بہ نظر خریداری دیکھتا تھا۔ جب میری باری ہوئی۔ مجھے پسند کر کر اپنے گھر میں چپکے سے بھیج دیا اوروں کو بادشاہ کے حضور میں گزارنا۔

میرے باپ نے جب ان میں مجھے نہ دیکھا، سب کو رخصت کیا۔ یہ سب پرپنچ میرے واسطے کیا تھا۔ اب یوں مشہور کیا ہے کہ بادشاہ زادی بیمار ہے۔ اگر میں ظاہر نہ ہوئی کہ کوئی دن میرے مرنے کی خبر سارے ملک میں اڑے گی۔ تو بدنامی بادشاہ کی نہ ہووے۔ لیکن اب اس عذاب میں ہوں کہ شاہ بندر مجھ سے اور ارادہ دل میں رکھتا ہے۔ اور ہمیشہ ساتھ سونے کو بلاتا ہے۔ میں راضی نہیں ہوتی ازبس کہ چاہتا ہے، اب تک میری رضا مندی منظور ہے لہٰذا چپ ہو رہتا ہے۔ پر حیران ہوں اس طرح کہاں تک نبھے گی سو میں نے جی بھر ٹھہرا لیا کہ جب مجھ سے کچھ اور قصد کرے گا تو میں اپنی جان دوں گی اور مر رہوں گی لیکن تیری ملنے سے ایک اور تدبیر دل میں سوجھی ہے۔ خدا چاہے تو سوائے اس فکر کے دوسری کوئی طرح مخلصی کی نظر نہیں آتی۔ میں نے کہا فرماؤ تو، کون سے تدبیر ہے؟ کہنے لگی اگر تو سعی اور محنت کرے تو ہو سکے۔ میں نے کہا فرمانبردار ہوں۔ اگر حکم کرو تو جلتی آگ میں کود پڑوں۔ اور سیڑھی پاؤں تو تمہاری خاطر آسمان پر چلا جاؤں جو کچھ فرماؤ سو بجا لاؤں۔

ملکہ نے کہا تو بڑے بت کے بت خانے میں جا اور جس جگہ جوتیاں اتارتے ہیں وہاں ایک سیاہ ٹاٹ پڑا رہتا ہے۔ اس ملک کی رسم ہے کہ جو کوئی مفلس اور محتاج ہو جاتا ہے۔ اس جگہ وہ ٹاٹ اوڑھ کر بیٹھتا ہے۔ وہاں کے لوگ جو زیارت کو جاتے ہیں موافق اپنے اپنے مقدور کے اسے دیتے ہیں۔ جب دوچار دن مال جمع ہو جاتا ہے، پنڈے ایک خلعت بڑے بت کی سرکار سے دیکر اسے رخصت کرتے ہیں۔ وہ تونگر ہو کر چلا جاتا ہے۔ کوئی نہیں معلوم کرتا کہ یہ کون تھا۔ تو بھی جا کر اس پلاس کے نیچے بیٹھ اور ہاتھ منہ اپنا خوب طرح چھپا لے اور کسو سے نہ بول۔

بعد تین دن کے برہمن اور بت پرست ہر چند تجھے خلعت دے کر رخصت کریں تو وہاں سے ہرگز نہ اٹھ۔ جب نہایت منت کریں۔ تب تو بولیو کہ مجھے روپیہ پیسہ کچھ درکار نہیں۔ میں مال کا بھوکا نہیں۔ میں مظلوم ہوں۔ فریاد کر آیا ہوں۔ اگر برہمنوں کی ماتا میری داد دے تو بہتر ہے۔ نہیں تو بڑا بت میرا انصاف کرے گا۔ اور اس ظالم سے یہی بڑا بت میری فریاد کو پہنچے گا۔ جب تک وہ ماتا برہمنوں کی آپ تیرے پاس نہ آوے بہتیرا کوئی منائے تو راضی نہ ہو جیو۔ آخر لاچار ہو کر وہ خود تیرے نزدیک آوے گی۔ وہ بہت بوڑھی ہے۔ دو سو چالیس برس کی عمر ہے، اور چھتیس بیٹے اس کے جنے ہوئے بت خانے کے سردار ہیں۔ اور اس کا بڑے بت کے پاس بڑا درجہ ہے۔ اس سبب اس کا اتنا بڑا حکم ہے کہ جتنے چھوٹے بڑے اس ملک کے ہیں اس کے کہنے کو اپنی سعادت جانتے ہیں۔ جو وہ فرماتی ہے بسر و چشم مانتے ہیں۔ اس کا دامن پکڑ کر کہو۔ اے مائی اگر مجھ مظلوم مسافر کا انصاف ظالم سے نہ کرے گی تو میں بڑے بت کی خدمت میں ٹکریں ماروں گا۔ آخر وہ رحم کھا کر تجھ سے میری سفارش کرے گی۔

اس کے بعد جب وہ برہمنوں کی ماتا تیرا سب احوال پوچھے تو کہیو کہ میں عجم کا رہنے والا ہوں۔ بڑے بت کی زیارت کی خاطر اور تمہاری علالت سن کر کالے کوسوں سے یہاں آیا ہوں۔ کئی دنوں آرام سے رہا۔ میری بی بی بھی میرے ساتھ آئی تھی۔ وہ جوان ہے اور صورت شکل بھی اچھی ہے اور آنکھ ناک سے درست ہے۔ معلوم نہیں کہ شاہ بندر نے اسے کیونکر دیکھا۔ بہ زور مجھ سے چھین کر اپنے گھر میں ڈال دیا۔ اور ہم مسلمانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جو محرم عورت ان کی دیکھے یا چھین لے تو واجب ہے کہ اس کو جس طرح ہو یا مار ڈالیں اور اپنی جورو کو لے لیں۔ اور نہیں تو کھانا پینا چھوڑ دیں، کیونکہ جب تلک وہ جیتا رہے وہ عورت خاوند پر حرام ہے۔ اب یہاں لاچار ہو کر آیا ہوں۔ دیکھئے تم کیا انصاف کرتی ہو؟ جب ملکہ نے مجھے یہ سب سکھا پڑھا دیا، میں رخصت ہو اسی ناب دان سے باہر نکلا، اور وہ جالی آہنی پر لگا دی۔

صبح ہوتے ہی بت خانے میں گیا اور وہ سیاہ پلاس اوڑھ کر بیٹھا۔ تین روز میں اتنا روپیہ اور اشرفی اور کپڑا میرے نزدیک جمع ہوا کہ انبار لگ گیا۔ چوتھے دن پنڈے بھجن کرتے اور گاتے بجاتے میرے پاس آئے اور رخصت کرنے لگے۔ میں راضی نہ ہوا اور دہائی بڑے بت کی دی کہ میں گدائی نہیں کرنے آیا۔ بلکہ انصاف کے لیے بڑے بت اور برہمنوں کی ماتا کے پاس آیا ہوں۔ جب تلک اپنی داد نہ پاؤں گا۔ یہاں سے نہ جاؤں گا۔ وہ سن کر اس پیرزال کے روبرو ہو گئے۔ اور میرا احوال بیان کیا۔ بعد اس کے ایک چوبے آیا اور میرے تئیں کہنے لگا چل ماتا بلاتی ہے، میں وونہیں ٹاٹ کالا سر سے پاؤں تک اوڑھے ہوئے دھرے میں گیا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک جڑاؤ سنگھاسن پر جس میں لعل، الماس اور موتی مونگا لگا ہوا ہے، بڑا بت بیٹھا ہے اور ایک کرسی زریں پر فرش معقول بچھا ہے۔ اس پر ایک بڑھیا سیاہ پوش مسند تکیے لگائی اور دو لڑکے دس بارہ برس کے ایک داہنے ایک بائیں شان و شوکت اور تجمل سے بیٹھی ہے۔ مجھے آگے بلایا۔ میں ادب سے گیا اور تخت کے پائے کو بوسہ دیا۔ پھر اس کا دامن پکڑ لیا۔ اس نے میرا احوال پوچھا۔ میں نے اسی طرح جس طرح ملکہ نے تعلیم کر دیا تھا، ظاہر کیا۔ سن کر بولی کیا مسلمان اپنی استریوں کو اوجھل میں رکھتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں تمہارے بچوں کی خیر ہو۔ یہ ہماری رسم قدیم ہے بولی کہ تیرا اچھا مذہب ہے میں ابھی حکم کرتی ہوں کہ شاہ بندر مع تیری جورو آن کر حاضر ہوتا ہے۔ اور اس گیدی کو ایسی سیاست کروں کہ بار دیگر ایسی حرکت نہ کرے اور سب کے کان کھڑے ہوں اور ڈریں۔ اپنے لوگوں سے پوچھنے لگی کہ شاہ بندر کون ہے؟ اس کی یہ مجال ہے کہ بگانی تریا کو بزور چھین لیتا ہے؟ لوگوں نے کہا فلانا شخص ہے۔ یہ سن کر ان دونوں لڑکوں کو، جو پاس میں بیٹھے تھے، فرمایا کہ جلدی اس مانس کو لے کر بادشاہ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ماتا فرماتی ہے کہ حکم بڑے بت کا یہ ہے کہ شاہ بندر کے آدمیوں پر زور زیادتی کرتا ہے، چنانچہ اس غریب کی عورت چھین لیا ہے۔ اس کی تقصیر بڑے ثابت ہوئی۔ جلد اس گمراہ کے مال کا تالیقہ کر کر اس ترک کے، کہ ہمارا منظور نظر ہے، حوالے کر، نہیں تو آج کو تو ستیاناس ہو گا۔ اور ہماری غضب میں پڑے گا، وہ دونوں طفل اٹھ کر منڈپ سے باہر آئے اور سوار ہویئے۔ سب پنڈے سنکھ بجاتے اور آرتی گاتے جلو میں ہو لئے۔ غرض وہاں کے بڑے چھوٹے جہاں ان لڑکوں کا پاؤں پڑتا تھا وہاں کی مٹی تبرک جان کر اٹھا لیتے اور آنکھوں سے لگاتے۔ اسی طرح بادشاہ کے قلعے تک گئے۔ بادشاہ کو خبر ہوئی۔ ننگے پاؤں استقبال کی خاطر نکل آیا اور ان کو بڑے مان مہت سے لے جا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا، اور پوچھا، آج کیونکر تشریف فرمانا ہوا، ان دونوں برہمن بچوں نے ماں کی طرف سے جو کچھ سن آئے تھے، اور کہا اور بڑے بت کی خفگی سے ڈرایا۔ بادشاہ نے سنتے ہی فرمایا، بہت خوب اور اپنے نوکروں کو حکم کیا کہ محصل جاویں اور شاہ بندر کو مع اس عورت کے جلد حضور میں حاضر کریں، تو میں تقصیر اس کی تجویز کر کے سزا دوں۔

یہ سن کر میں اپنے دل میں گھبرایا کہ یہ بات تو اچھی نہ ہوئی۔ اگر شاہ بندر کے ساتھ ملکہ کو بھی لاویں تو پردہ فاش ہو گا اور میرا کیا احوال ہو گا؟ دل میں نہایت خوف زدہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کی، لیکن میرے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور بدن کانپنے لگا۔ لڑکوں نے یہ میرا رنگ دیکھ کر شاید دریافت کیا کہ یہ حکم اس کی مرضی کے موافق نہ ہوا۔ وونہیں خفا و برہم ہو کر اٹھے اور بادشاہ کو جھڑک کر بولے اے مردک تو دیوانہ ہوا ہے جو فرمانبرداری سے بڑے بت کی نکلا، اور ہمارے بچن کو جھوٹ سمجھا جو دونوں کو بلا کر تحقیق کیا چاہتا ہے؟ اب خبردار تو غضب میں بڑے بت کے پڑا۔ ہم نے تجھے حکم پہنچا دیا۔ اب تو جان اور بڑا بت جانے۔

اس کہنے سے بادشاہ کی عجیب حالت ہوئی کہ ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اور سر سے پاؤں تلک رعشہ ہو گیا۔ منت کر کے منانے لگا۔ یہ دونوں ہرگز نہ بیٹھے، لیکن کھڑے رہے۔ اس میں جتنے امیر امرا وہاں حاضر تھے ایک منہ ہو کر بد گوئی شاہ بندر کرنے لگے کہ وہ ایسا ہی حرام زادہ بدکار اور پاپی۔ ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ حضور بادشاہ کے کیا کیا عرض کریں؟ جو کچھ برہمنوں کی ماتا نے کہلا بھیجا ہے، درست ہے۔ اس واسطے کہ حکم بڑے بت کا ہے۔ یہ دروغ کیونکر ہو گا؟ بادشاہ نے جب سب کی زبانی ایک ہی بات سنی، اپنے کہنے سے بہت خجل اور نادم ہوا۔ جلد ایک خلعت پاکیزہ مجھے دی اور حکم نامہ اپنے ہاتھ سے لکھ اس پر دستی مہر کر میرے حوالے کیا۔ اور ایک رقعہ مادر برہمناں کو لکھا اور جواہر اشرفیوں کے خوان لڑکوں کے روبرو پیش کش رکھ کر رخصت کیا۔ میں خوشی بہ خوشی بت خانے میں آیا اور اس بڑھیا کے پاس گیا۔ بادشاہ کا جو خط آیا تھا اس کا مضمون تھا۔ القاب کے بعد بندگی عجز و نیاز لکھ کر لکھا تھا کہ موافق حکم حضور کے اس مرد مسلمان کو خدمت شاہ بندر کی مقرر ہوئی اور خلعت دی گئی۔ اب یہ اس کے قتل کا مختار ہے، اور سارا مال و اموال اس ترک کا ہوا۔ جو چاہے سو کرے۔ امیدوار ہوں کہ میری تقصیر معاف ہو۔ برہمنوں کی ماں نے خوش ہو کر فرمایا نوبت خانے میں بت خانے کی نوبت بجے۔ اور پانچ سو سپاہی برق انداز جو بال باندھی کوڑی ماریں، مسلح میرے ہمراہ کر دیئے، اور حکم کیا کہ بندر میں جا کر شاہ بندر کو دستگیر کر کے اس مسلمان کے حوالے کریں۔ جس طرح کے عذاب سے اس کا جی چاہے اسے مارے اور خبردار سوائے اس عزیز کے کوئی محل سرا میں داخل نہ ہوئے، اور اس کے مال و خزانے کو امانت اس کے سپرد کریں۔ جب یہ بہ خوشی رخصت کرے، رسید اور رہائی نامہ اس سے لے کر پھر آویں۔ اور ایک سروپا بت بزرگ کی سرکار سے میرے تئیں دے کر سوار کروا کر وداع کیا۔

جب میں بندر میں پہنچا، ایک آدمی نے بڑھ کر شاہ بندر کو خبر کی۔ وہ حیران سا بیٹھا تھا کہ میں جا پہنچا۔ غصہ تو دل میں بھر ہی رہا تھا۔ دیکھتے ہی شاہ بندر کو تلوار کھینچ کر ایسی گردن لگائی کہ اس کا سر بھٹا سا اڑ گیا۔ اور وہاں سے گماشتے خزانچی، مشرف داروغوں کو پکڑوا کر سب دفتر ضبط کئے اور میں محل میں داخل ہوا۔ ملکہ سے ملاقات کی۔ آپس میں گلے لگ کر روئے اور شکر خدا کا کیا۔ میں اس کے، اس نے میرے آنسو پونچھے۔ پھر باہر مسند پر بیٹھ کر اہل کاروں کو خلعتیں دیں اور اپنی اپنی خدمتوں پر سب کو بحال کیا۔ نوکر اور غلاموں کو سرفرازی دی۔ وہ لوگ جو منڈپ سے میرے ساتھ متعین ہوئے تھے۔ ہر ایک کو انعام و بخشش دے کر ان کے جمدار، رسالہ دار کو جوڑے پہنا کر رخصت کیا اور جواہر بیش قیمت اور تھان نوریانی اور شال بانی اور زر دوزی اور جنس و تحفے ہر ایک ملک کے اور نقد بہت سا بادشاہ کی نذر کی خاطر، اور موافق ہر ایک امراؤں کے درجہ بہ درجہ اور پنڈائن کے لیے اور سب پنڈوں کے تقسیم کرنے کی خاطر اپنے ساتھ لے کر بعد ایک ہفتے کے میں بت کدے میں آیا اور اس ماتا کے آگے بطریق بھینٹ کے رکھا۔ اس نے ایک اور خلعت سرفرازی کی مجھے بخشی اور خطاب دیا۔ پھر بادشاہ کے دربار میں جا کر پیش گزرانی اور جو جو ظلم و فساد شاہ بندر نے ایجاد کیا تھا اس کے موقوف کرنے کی خاطر عرض کی۔ اس سبب سے بادشاہ اور امیر، سوداگر سب مجھ سے راضی ہوئے۔ بہت نوازش مجھ پر فرمائی اور خلعت اور گھوڑا دے کر منصب جاگیر عنایت کی، اور آبرو حرمت بخشی۔

جب بادشاہ کے حضور سے باہر آیا شاگرد پیشوں کو اور اہلکاروں کو اتنا کچھ دے کر راضی کیا کہ سب میرا کلمہ پڑھنے لگے۔ غرض میں بہت مرفہ الحال ہو گیا اور نہایت چین و آرام سے اس ملک میں ملکہ سے عقد باندھ کر رہنے لگا۔ اور خدا کی بندگی کرنے لگا۔ میرے انصاف کے باعث رعیت پرجا سب خوش تھے۔ مہینے میں ایک بار بت خانے میں اور بادشاہ کے حضور میں آتا جاتا۔ بادشاہ روز بروز زیادہ سرفراز فرماتا۔

آخر مصاحبت میں مجھے داخل کیا۔ میرے بے صلاح کوئی کام نہ کرتا۔ نہایت بے فکری سے زندگی گزرنے لگی۔ مگر خدا ہی جانتا ہے، اکثر اندیشہ ان دونوں بھائیوں کا دل میں آیا کہ وہ کہاں ہوں گے اور کس طرح ہوں گے؟ بعد مدت دو برس کے ایک قافلہ سوداگروں کا ملک زیر باد سے اس بندر میں آیا۔ وہ سب قصد عجم کا رکھتے تھے۔ قاعدہ یہ تھا کہ جو ہر کارواں آتا، اس کا سردار سوغات و تحفہ ہر ایک ملک کا میرے پاس لاتا اور نذر گزرانتا۔ دوسرے روز میں اس کے مکان پر جاتا۔ وہاں کچھ بہ طریق محصول اس کے مال سے لیتا اور پروانگی کوچ کی دیتا۔ اسی طرح وہ سوداگر زیرباد کے بھی میری ملاقات کو آئے اور بے بہا پیش کش لائے۔ دوسرے دن میں ان کے خیمے میں گیا۔ دیکھا تو دو آدمی پھٹے پرانے کپڑے پہنے گٹھڑی بقچے سر پر اٹھا میری روبرو لاتے ہیں۔ بعد ملاحظہ کرنے کے پھر اٹھا لے جاتے ہیں اور بڑی محنت سے خدمت کر رہے ہیں۔

میں نے خوب نجھا کر جو دیکھا تو یہی میرے دونوں بھائی ہیں۔ اس وقت غیرت اور حمیت نے نہ چاہا کہ ان کو اس طرح خدمت گاری میں دیکھوں۔ جب اپنے گھر کو چلا آدمیوں کو کہا کہ ان دونوں شخصوں کو لے آؤ۔ جب انکو لائے پھر لباس اور پوشاک بنوا دی اور اپنے پاس رکھا۔ ان بد ذاتوں نے پھر میرے مارنے کا منصوبہ کر کر ایک روز آدھی رات میں سب کو غافل پا کر چوروں کی طرح میرے سرہانے آ پہنچے۔ میں نے اپنی جان کے ڈر سے چوکی داروں کو دروازے پر رکھا تھا اور یہ کتا وفادار میری چارپائی کی پٹی تلے سوتا تھا۔ جوں انہوں نے تلواریں میان سے کھینچیں، پہلے کتے نے بھونک کر ان پر حملہ کیا۔ اس کی آواز سے سب جاگ پڑے۔ میں ہل ہلا کر چونکا۔ آدمیوں نے پکڑا، معلوم ہوا کہ آپ ہی ہیں۔ سب لعنتیں دینے لگے کہ باوجود اس خاطر داری یہ کیا حرکت ان سے ظہور میں آئی۔

بادشاہ سلامت! تب تو میں بھی ڈرا۔ مثل مشہور ہے ایک خطا، دو خطا، تیسری خطا مادر بہ خطا۔ دل میں یہی صلاح کہ ان کو مقید کروں، لیکن اگر بندی خانے میں رکھوں تو ان کا کون خبر گیراں رہے گا؟ بھوک و پیاس سے مر جائیں گے۔ یا کوئی اور سوانگ لائیں گے۔ اس واسطے قفس میں رکھا ہے کہ ہمیشہ میری نظروں کے تلے رہیں تو میری خاطر جمع رہے۔ مبادا آنکھوں سے اوجھل ہو کر کچھ اور مکر کریں۔ اور اس کتے کی عزت اور حرمت، اس کی نمک حلالی اور وفاداری کے سبب ہے۔ سبحان اللہ آدمی بے وفا، بدتر، حیوان وفادار سے ہے۔ سو میری یہ سرگذشت تھی جو حضور میں عرض کی اب خواہ قتل فرمائیے یا جان بخشی کیجئے حکم بادشاہ کا ہے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.