Urdu in Translation
Search

Chapter 16 of 25

The Dog-Worshipping Merchant: The Prison of Solomon

خواجہ سگ پرست کا قصہ: زندان سلیمان

Mir Amman

Script
Size

خدا کی حکمت سے اس شہر کے بادشاہ کو قولنج کی بیماری ہوئی۔ امراء اور حکیم جمع ہوئے، جو علاج کرتے تھے، فائدہ نہ ہوتا تھا۔ ایک بزرگ نے کہا کہ سب سے بہتر یہ دوا ہے، کہ محتاجوں کو کچھ خیرات کرو اور بندی خانوں کو آزاد کرو۔ دوا سے دعا میں بڑا اثر ہے۔ وونہیں بادشاہی چیلے پنڈت خانوں کی طرف دوڑے۔ اتفاقاً ایک اس میدان میں آ نکلا اژدحام دیکھ کر معلوم کیا کہ کسو کو یہاں چڑھاتے ہیں۔ یہ سنتے ہی گھوڑے کو دار کے نزدیک لا کر تلوار سے طنابیں کاٹ دیں۔ حاکم کے پیادوں کو ڈانٹا اور تنبیہ کی کہ ایسے وقت میں کہ بادشاہ کی یہ حالت ہے، تم خدا کے بندے کو قتل کرتے ہو! اور مجھے چھڑوا دیا۔ تب یہ دونوں بھائی پھر حاکم کے پاس گئے۔ اور میرے قتل کے واسطے کہا۔ شحنہ نے تو رشوت کھائی تھی، جو یہ کہتے تھے سو کرتا تھا۔ کوتوال نے ان سے کہا خاطر جمع رکھو۔ اب میں ایسا قید کرتا ہوں کہ آپ سے آپ مارے بھوکوں کے لیے بے آب و دانہ مر جاوے۔ کسو کو خبر نہ ہووے۔ مجھے پکڑ لائے اور ایک گوشے میں رکھا۔ اس شہر سے باہر کوس ایک پر ایک پہاڑ تھا کہ حضرت سلیمان کے وقت میں دیوؤں نے ایک کنواں تنگ و تاریک اس میں کھودا تھا۔ اس کا نام زندان سلیمان کہتے تھے، جس پر بڑا غضب بادشاہی ہوتا، اسے وہاں محبوس کرتے۔ وہ خودبخود مر جاتا۔ رات کو چپکے یہ دونوں بھائی اور کوتوال کے ڈنڈے مجھے اس پہاڑ پر لے گئے اور غار میں ڈال کر اپنی خاطر جمع کر کے پھرے۔ اے بادشاہ! یہ کتا میرے ساتھ چلا۔ جب مجھے کنویں میں گرایا، تب یہ اس کے مینڈ پر لیٹ رہا۔ میں اندر بے ہوش پڑا تھا۔ ذرا سرت آئی تو میں اپنے تئیں مردہ خیال کیا اور اس مکان کو گور سمجھا۔ اس میں دو شخصوں کی آواز کان میں پڑی کہ کچھ آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ یہی معلوم کیا کہ منکر نکیر ہیں مجھ سے سوال کرنے آئے ہیں۔ سرسراہٹ رسی کی سنی، جیسے کسو نے وہاں لٹکائی۔ میں حیرت میں تھا زمین کو ٹٹولتا تو ہڈیاں ہاتھ میں آتیں۔

بعد ایک ساعت کے آواز چپڑ چپڑ منہ چلانے کی میرے کان میں آئی۔ جیسے کوئی کچھ کھاتا ہے میں نے پوچھا کہ اے خدا کے بندو! تم کون ہو؟ خدا کے واسطے بتاؤ۔ وہ ہنسے اور بولے۔ یہ زندان مہتر سلیمان کا ہے۔ اور ہم قیدی ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا۔ کیا میں جیتا ہوں؟ پھر کھلکھلا کر ہنسے اور کہا۔ اب تلک تو تو زندہ ہے، پر اب مرے گا۔ میں نے کہا تم کیا کھاتے ہو؟ جو ہو، مجھے بھی تھوڑا سا دو۔ تب جھنجھلا کر خالی جواب دیا اور کچھ نہ دیا۔ وہ کھا پی کر سو رہے۔ اور میں مارے ضعف و ناتوانی کے غش میں پڑا روتا تھا اور خدا کو یاد کرتا تھا۔ قبلہ عالم! سات دن دریا میں اور اتنے ہی بھائیوں کے بہتان کے سبب، دانہ میسر نہ آیا، علاوہ کھانے کے مار پیٹ کھائی، اور ایسے زندان میں پھنسا کہ صورت رہائی کی مطلق خیال میں نہ آتی تھی۔ آخر جان کندنی کی نوبت پہنچی۔ کبھو دم آتا کبھو نکل جاتا تھا، لیکن کبھو کبھو آدھی رات کو ایک شخص آتا اور رومال میں روٹیاں اور پانی کی صراحی ڈوری میں باندھ کر لٹکا دیتا اور پکارتا۔ وہ دونوں آدمی جو میرے پاس محبوس تھے، لے لیتے اور کھاتے پیتے۔ اوپر سے کتے نے یہ ہمیشہ احوال دیکھتے دیکھتے عقل دوڑائی کہ جس طرح یہ شخص آب و نان کنویں میں لٹکا دیتا ہے تو بھی ایسی فکر کر کہ اس بے کس کو، جو میرا خاوند ہے آزوقہ پہنچے تو اس کا دم بچے۔ یہ خیال کر کے شہر میں گیا۔ نان بائی کی دکان پر میز پر گردے چنے ہوئے دھرے تھے۔ جست مار کر ایک کلچہ منہ میں لیا اور بھاگی۔ لوگ پیچھے دوڑے، ڈھیلے مارتے۔ لیکن اس نے نان کو نہ چھوڑا۔ آدمی تھک کر پھرے۔ شہر کے کتے پیچھے لگے ان سے لڑتا بھڑتا روٹی کو بچائے اس چاہ پر آیا، اور نان کو اندر ڈال دیا۔ روز روشن تھا۔ میں نے روٹی کو اپنے پاس پڑا دیکھا اور کتے کی آواز سنی۔ کلچے کو اٹھا لیا۔ اور یہ کتا روٹی پھینک کر پانی کی تلاش میں گیا۔

کسی گاؤں کے کنارے ایک بڑھیا کی جھونپڑی تھی۔ ٹھلیا اور بندھا پانی سے بھرا ہوا دھرا تھا پیر زن چرخا کاتتی تھی۔ کتا کوزے کے نزدیک گیا چاہا کہ لوٹے کو اٹھاوے۔ عورت نے ڈانٹا۔ لوٹا اس کے منہ سے چھٹا، گھڑے پر گرا، گھڑا پھوٹا، باقی باسن لڑھک گئے، پانی بہہ چلا۔ بڑھیا لکڑی لے کر مارنے کو اٹھی۔ یہ سگ اس کے دامن میں لپٹ گیا۔ پھر اس کے پاؤں پر منہ ملنے اور دم ہلانے لگا۔ اور پہاڑ کی طرف دوڑ گیا۔ پھر اس پاس آ کر کبھی رسی اٹھاتا۔ کبھو ڈول منہ میں پکڑ کر دکھاتا، اور منہ اس کے قدموں پر رگڑتا، اور آنچل چادر کا پکڑ کر کھینچتا۔ خدا نے اس عورت کے دل میں رحم دیا کہ ڈول رسی کو لے کر اس کے ہمراہ چلی۔ یہ اس کا آنچل پکڑے گھر سے باہر ہو کر آگے آگے ہو لیا۔

آخر اس کو پہاڑی پر لے آیا۔ عورت کے جی میں کتے کی اس حرکت سے الہام ہوا کہ اس کا میاں مقرر اس غار میں گرفتار ہے۔ شاید اس کی خاطر پانی چاہتا ہے۔ غرض پیر زن کو لیے ہوئے غار کے منہ پر آیا۔ عورت نے لوٹا پانی کا بھر کر رسی سے لٹکایا۔ میں نے وہ باسن لے لیا۔ اور نان کا ٹکڑا کھایا۔ دو تین گھونٹ پانی پیا، اس پیٹ کے کتے کو راضی کیا۔ خدا کا شکر کر کر ایک کنارے بیٹھا اور خدا کی رحمت کا منتظر تھا کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے؟ یہ حیوان بے زبان اسی طور سے نان لے آتا اور بڑھیا کے ہاتھ پانی پلواتا۔

جب بھٹیاروں نے دیکھا کہ کتا ہمیشہ روٹی لے جاتا۔ ترس کھا کر مقرر کیا کہ جب اسے دیکھتے، ایک گروا اس کے آگے پھینک دیتے۔ اگر وہ عورت پانی نہ لاتی، تو یہ اس کے باسن پھوڑ ڈالتا۔ لاچار وہ بھی ہر روز ایک صراحی پانی کی دے جاتی، اس رفیق نے آب و نان سے میری خاطر جمع کی اور آپ زندانی کے منہ پر پڑا رہتا۔ اس طرح چھ مہینے گزرے، لیکن جو آدمی ایسی زندان میں رہے کہ دنیا کی ہوا اس کے نہ لگے اس کا کیا حال ہوا۔ نرا پوست و استخوان مجھ میں باقی رہا۔ زندگی وبال ہوئی۔ جی میں آوے کہ یا الٰہی! یہ دن نکل جاوے تو بہتر ہے۔

ایک روز رات کے وہ دونوں قیدی سوتے تھے۔ مرا دل امنڈ آیا۔ بے اختیار رونے لگا اور خدا کی درگاہ میں نک گھسنی کرنے لگا۔ پچھلے پہر کیا دیکھتا ہوں کہ خدا کی قدرت سے ایک رسی غار میں لٹکی۔ اور آواز کان میں آئی کہ اے کم بخت بد نصیب ڈوری کا سرا اپنے ہاتھ میں مضبوط باندھ اور یہاں سے نکل۔

میں نے سن کر دل میں خیال کیا کہ آخر بھائی مجھ پر مہربان ہو کر لہو کے جوش سے آپ ہی نکالنے آئے۔ نہایت خوشی سے اس طناب کو کمر میں خوب کسا۔ کسو نے مجھے اوپر کھینچا۔ رات ایسی اندھیری تھی کہ جن نے مجھے نکالا۔ اس کو نہ پہچانا۔ کہ کون ہے۔ جب میں باہر آیا، تب اس نے کہا، جلد آ، یہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔ مجھ میں طاقت تو نہ تھی، پر مارے ڈر کے لڑھکتا پڑتا پہاڑ سے نیچے آیا۔ دیکھوں تو دو گھوڑے زین بندھے ہوئے کھڑے ہیں۔ اس شخص نے ایک پر مجھے سوار کیا، اور ایک پر آپ چڑھ لیا۔ اور آگے ہوا۔ جاتے جاتے دریا کنارے پر پہنچا۔

صبح ہو گئی۔ اس شہر سے دس بارہ کوس نکل آئے۔ اس جوان کو دیکھا کہ اوپچی بنا ہوا زرہ بکتر پہنے چار آئنہ باندھے گھوڑے پر پاکھر ڈالے، میری طرف غضب کی نظروں سے گھور کر اور ہاتھ اپنا دانتوں سے کاٹ کر تلوار میان سے کھینچی اور گھوڑے کو جست کر مجھ پر چلائی۔ میں نے اپنے تئیں گھوڑے پر سے نیچے گرا دیا اور گھگھیانے لگا میں بے تقصیر ہوں، مجھے کیوں قتل کرتا ہے؟ اے صاحب مروت! ایسے زندان سے میرے تئیں تو نے نکالا۔ اب یہ بے مروتی کیا ہے؟ اس نے کہا۔ سچ کہہ تو کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ مسافر ہوں ناحق کی بلا میں گرفتار ہو گیا تھا۔ تمہارے تصدق سے جیتا باہر نکلا ہوں۔ اور باتیں خوشامد کی کیں۔

خدا نے اس کے دل میں رحم کیا۔ شمشیر کو غلاف کیا اور بولا خیر خدا جو چاہے سو کرے۔ جا تیری جان بخشی کی۔ جلد سوار ہو۔ یہاں توقف کا مکان نہیں۔ گھوڑوں کو جلد کیا اور چلے۔ راہ میں افسوس کھاتا اور پچھتاتا جاتا تھا۔ ظہر کی وقت تک ایک جزیرے میں جا پہنچے۔ وہاں گھوڑے سے اترا۔ مجھے بھی اتارا زین خوگیر مرکبوں کی پیٹھ سے کھولا اور چرنے کو چھوڑ دیا۔ اپنی بھی کمر سے ہتھیار کھول ڈالے اور بیٹھا۔ مجھ سے بولا۔ اے بد نصیب! اب اپنا احوال کہہ تو معلوم ہو کہ تو کون ہے۔ میں نے اپنا نام بتایا، اور جو کچھ بپتا بیتی تھی، اول سے آخر تک کہی۔

اس جوان نے جب میری سرگزشت سب سنی رونے لگا۔ اور مخاطب ہوا کہ اے جوان! اب میرا ماجرا سن۔ میں کنیا زیرباد کے دیس کے راجہ کی بیٹی ہوں۔ اور وہ گبرو جو زندان سلیمان میں قید ہے، اس کا نام بہرہ مند ہے۔ میرے پتا کے منتری کا بیٹا ہے۔ ایک روز مہاراج نے آگیا دی کہ جتنے راجہ اور کنور ہیں، میدان میں زیر جھروکے نکل کر تیر اندازی اور چوگان بازی کریں تو گھڑ چڑھی اور کسب ہر ایک کا ظاہر ہو۔ میں رانی کے نیڑے، جو میری ماتا تھیں، اٹاری پر اوجھل بیٹھی تھی۔ اور دائیاں اور سہیلیاں حاضر تھیں تماشا دیکھتی تھی۔ یہ دیوان کا پوت سب میں سندر تھا، اور گھوڑے کو کاوے دے کر کسب کر رہا تھا۔ مجھ کو بھایا اور دل سے اس پر ریجھی مدت تلک یہ بات گپت رکھی۔

آخر جب بہت بیاکل ہوئی، تو دائی سے کہا اور ڈھیر سا انعام دیا۔ وہ اس جوان کو کسو نہ کسو ڈھب سے پوشیدہ میری دھرہر میں لے آئی، تب یہ بھی مجھے چاہنے لگا۔ بہت دن اس عشق مشک میں کٹے۔

ایک روز چوکی داروں نے آدھی رات کو ہتھیار باندھے اور محل میں آتے دیکھ کر اسے پکڑا اور راجہ سے کہا۔ اسے حکم قتل کا کیا۔ سب اراکان دولت نے کہہ سن کر جان بخشی کروائی۔ تب فرمایا کہ اس کو زندان سلیمان میں ڈال دو اور دوسرا جوان جو اس کے ہمراہ اسیر ہے اس کا بھگنا ہے۔ اس دن کو وہ بھی اس کے ساتھ تھا۔ دونوں کو اس کنویں میں چھوڑ دیا۔ آج تین برس ہوئے کہ وہ پھنسے ہیں۔ مگر کسو نے نہیں دریافت کیا کہ یہ جوان راجہ کے گھر میں کیوں آیا تھا۔ بھگوان نے میری پت رکھی۔ اس شکرانے کے بدلے میں نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ ان اور جل اس کو پہنچایا کروں۔ تب سے اٹھواڑے میں ایک دن آتی ہوں اور آٹھ دن کا آزوقہ اکٹھا دے جاتی ہوں۔ کل کی رات سپنے میں دیکھا کہ کوئی مانس کہتا ہے کہ شتابی اٹھ اور گھوڑا جوڑا اور کمند اور کچھ نقد خرچ کے واسطے لے کر اس غار پر جا اور اس بچارے کو وہاں سے نکال۔ یہ سن کر میں چونک پڑی اور مگن ہو کر مردانہ بھیس کیا، اور ایک صندوقچہ جواہر و اشرفی سے بھر لیا۔ اور یہ گھوڑا اور کپڑا جوڑا لے کر وہاں گئی کہ کمند سے اسے کھینچوں۔ کرم میں تیرے تھا کہ ویسی قید سے اس طرح چھٹکارا پاوے۔ اور میرے اس کرتب سے محرم کوئی نہیں، شاید وہ کوئی دیوتا تھا کہ تیری مخلصی کی خاطر مجھے بھجوایا۔ خیر جو میرے بھاگ میں تھا سو ہوا۔ یہ کتھا کہہ کر پوری کچوری، اس کا سالن انگوچھے سے کھولا۔ پہلے قند نکال ایک کٹورے میں گھولا اور عرق بید مشک کا اس میں ڈال کر مجھے دیا۔ میں نے اس کے ہاتھ لے کر پیا۔ پھر تھوڑا سا ناشتہ کیا۔ بعد ایک ساعت کے میرے تئیں لنگی بندھوا کر دریا میں لے گئی۔ قینچی سے میری سر کے بال کترے، ناخن لیے، نہلا دھلا کر کپڑے پہنائے۔ نئے سر سے آدمی بنایا۔ میں دوگانہ شکرانے کا رو بہ قبلہ ہو کر پڑھنے لگا۔ وہ نازنین اس میری حرکت کو دیکھتی رہی۔

جب نماز سے فارغ ہوا، پوچھنے لگی کہ یہ تو نے کیا کام کیا؟ میں نے کہا جس خالق نے ساری خلقت کو پیدا کیا اور تجھ سی محبوبہ سے میری خدمت کروائی اور تیرے کو مجھ پر مہربان کیا اور ویسے زندان سے خلاص کروایا اس کی ذات لاشریک ہے اس کی میں نے عبادت کی اور بندگی بجا لایا۔ اور ادائے شکر کیا۔ یہ بات سن کر کہنے لگی تم مسلمان ہو؟ میں نے کہا شکر الحمد للہ۔ بولی۔ میرا دل تمہاری باتوں سے خوش ہوا۔ میرے تئیں جبھی سکھاؤ اور کلمہ پڑھاؤ۔ میں نے دل میں کہا الحمد للہ کہ یہ ہمارے دین کی شریک ہوئی۔

غرض میں نے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا، اور اس سے پڑھوایا۔ پھر وہاں سے گھوڑوں پر سوار ہو کر ہم دونوں چلے۔ رات کو اترتے تو وہ ذکر دین ایمان کا کرتی اور سنتی اور خوش ہوتی۔ اسی طرح دو مہینے تلک پیہم شبانہ روز چلتے گئے۔ آ کر ایک ولایت میں پہنچے کہ درمیان سرحد ملک زیر باد اور سراندیپ کے تھی۔ ایک شہر نظر آیا کہ آبادی میں استنبول سے بڑا اور آب و ہوا بہت خوش اور موافق۔ بادشاہ اس شہر کا کسری سے زیادہ عادل اور رعیت پرور دیکھ کر دل نپٹ شاد ہوا۔ ایک حویلی خرید کر بود و باش مقرر کی۔ جب کئی دن میں رنج سفر سے آسودہ ہوئے کچھ اسباب ضروری درست کر کے اس بی بی سے موافق شرع محمدی کے نکاح کیا اور رہنے لگا۔ تین سال میں وہاں کے اکابر و اصاغر سے مل جل کر اعتبار بہم پہنچایا۔ اور تجارت کا ٹھاٹھ پھیلایا۔ آخر وہاں کے سب سوداگروں سے سبقت لے گیا۔

ایک روز وزیر اعظم کی خدمت میں سلام کے لئے چلا۔ ایک میدان میں کثرت خلق اللہ کی دیکھی، کسو سے پوچھا کیوں اتنا ازدحام ہے؟ معلوم ہوا کہ دو شخصوں کو زنا اور چوری کرتے پکڑا ہے، اور شاید خون بھی کیا ہے، ان کو سنگسار کرنے کو لائے ہیں۔ مجھے سنتے ہی اپنا احوال یاد آیا کہ ایک دن مجھے بھی اس طرح سولی چڑھانے لے گئے تھے۔ خدا نے بچایا۔ آیا یہ کون ہوں گے کہ ایسی بلا میں گرفتار ہوئے ہیں؟ معلوم نہیں کہ راست ہے یا میری طرح تہمت میں گرفتار ہوئے ہیں۔ بھیڑ کو چیر کر اندر گھسا۔ دیکھا تو یہی میرے دونوں بھائی ہیں کہ ٹنڈیاں کسے، سروپا برہنہ ان کو لیے جاتے ہیں۔ ان کی صورت دیکھتے ہی خون نے جوش کیا اور کلیجہ جلا۔ محصول کو ایک مٹھی اشرفیاں دیں، اور کہا ایک ساعت توقف کرو۔ اور وہاں سے گھوڑے کو سرپٹ پھینک کر حاکم کے گھر گیا۔ ایک دانہ یاقوت بے بہا کا نذر گزرانا اور ان کی شفاعت کی۔ حاکم نے کہا۔ ایک شخص ان کا مدعی ہے، اور ان کے گناہ ثابت ہوئے ہیں، اور بادشاہ کے ہو چکا ہے۔ میں لاچار ہوں۔

بارے بہت منت و زاری سے حاکم نے مدعی کو بلوا کر پانچ ہزار روپے پر راضی کیا کہ وہ دعوی خون کا معاف کرے۔ میں نے روپے گن دیئے اور لا دعوی لکھوا لیا۔ اور ایسی بلا سے مخلصی دلوائی۔ جہاں پناہ! ان سے پوچھئے کہ سچ کہتا ہوں یا جھوٹ بکتا ہوں۔ وہ دونوں بھائی سر نیچے کیے شرمندہ سے کھڑے تھے، خیر ان کو چھڑوا کر گھر میں لایا حمام کروا کر لباس پہنوایا۔ دیوان خانے میں مکان رہنے کو دیا۔ اس مرتبہ اپنے قبیلے کو ان کے روبرو نہ کیا۔ ان کی خدمت میں حاضر رہتا۔ اور ان کے ساتھ کھانا کھاتا۔ سونے کے وقت گھر میں جاتا۔ تین برس تک ان کی خاطر داری میں گزری اور ان سے بھی کوئی حرکت بد واقع نہ ہوئی کہ باعث رنجیدگی کا ہووے جو میں سوار ہو کر کہیں جاتا تو یہ گھر میں رہتے۔

اتفاقا وہ بی بی نیک بخت ایک دن حمام کو گئی تھی۔ جب دیوان خانے میں آئی کوئی مرد نظر نہ پڑا۔ اس نے برقع اتارا۔ شاید یہ منجھلا بھائی لیٹا ہوا جاگتا تھا۔ دیکھتے ہی عاشق ہوا۔ بڑے بھائی سے کہا دونوں نے میرے مار ڈالنے کی باہم صلاح کی۔ میں اس حرکت سے مطلق خبر نہ رکھتا بلکہ دل میں کہتا تھا کہ الحمد للہ اس مرتبے اب تک انہوں نے کچھ ایسی بات نہیں کی۔ اب ان کی وضع درست ہوئی۔ شاید غیرت کو کام فرمایا۔

ایک روز بعد کھانے کے بڑے بھائی صاحب آب دیدہ ہوئے اور اپنے وطن کی تعریف اور ایران کی خوبیاں بیان کرنے لگے۔ یہ سن کر دوسرے بھی بسورنے لگے۔ میں نے کہا اگر ارادہ وطن کا ہے تو بہتر میں تابع مرضی کے ہوں۔ میری بھی یہی آرزو ہے۔ اب انشا اللہ تعالیٰ میں بھی آپ کی رکاب میں چلتا ہوں۔ اس بی بی سے دونوں بھائیوں کی اداسی کا مذکور کیا اور اپنا ارادہ بھی کہا۔ وہ عاقلہ بولی۔ تم جانو لیکن پھر کچھ دغا کیا چاہتے ہیں۔ یہ تمہاری جان کے دشمن ہیں۔ تم نے سانپ آستین میں پالے ہیں اور ان کی دوستی کا بھروسا رکھتے ہو! جو جی چاہے سو کرو۔ لیکن موذیوں سے خبردار رہو۔ بہر تقدیر تھوڑے عرصہ میں تیاری سفر کی کر کے خیمہ میدان میں استاد کیا۔ بڑا قافلہ جمع ہوا اور میری سرداری اور قافلہ باشی پر راضی ہوئے۔ اچھی ساعت دیکھ کر روانہ ہوا، لیکن اس کی طرف سے اپنی جانب میں ہوشیار رہتا اور سب صورتوں سے فرماں برداری اور دلجوئی ان کی کرتا۔ ایک روز ایک منزل میں منجھلے بھائی نے مذکور کیا کہ ایک فرسخ اس مکان سے ایک چشمہ جاری ہے، مانند سلسبیل کے، اور میدان میں خود رو کوسوں تک لالہ و نافرمان اور نرگس و گلاب پھولا ہے۔ واقعی عجب مکان سیر کا ہے۔ اگر اپنا اختیار ہوتا تو کل وہاں جا کر تفریح طبیعت کی کرتے اور ماندگی بھی رفع ہوتی۔ میں بولا کہ صاحب مختار ہیں۔ فرماؤ تو کل کے دن مقام کریں اور وہاں چل کر سیر کرتے پھریں۔ یہ بولے ازیں چہ بہتر؟

میں نے حکم کیا کہ سارے قافلے میں پکار دو کہ کل مقام ہے، اور بکاول کو کہا کہ حاضری قسم بہ قسم کی تیار کر، کل سیر کو چلیں گے، جب صبح ہوئی ان دونوں برادروں نے کپڑے پہن کر کمر باندھ کر مجھے یاد دلایا کہ جلد ٹھنڈے ٹھنڈے چلیے اور سیر کیجئے۔

میں نے سواری مانگی۔ بولے کہ پاپیادہ جو لطف سیر کا ہوتا ہے، سو سواری میں معدوم نفروں کو کہہ دو گھوڑے ڈور کر لے آویں۔ دونوں غلاموں نے قلیان اور قہوہ دان لے لیا اور ساتھ ہوئے۔ راہ میں تیر اندازی کرتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ جب قافلہ سے دور نکل گئے ایک غلام کو انہوں نے کسی کام سے دور بھیجا۔ تھوڑی دور آگے بڑھ کر دوسرے کو بھی اس کے بلانے کو رخصت کیا۔ کم بختی جو آئی میرے منہ میں جیسے کسو نے مہر دے دی۔ جو وہ چاہتے تھے سو کرتے تھے اور مجھے باتوں میں پرچائے لیے جاتے تھے۔ مگر یہ کتا ساتھ رہ گیا۔

بہت دور نکل گئے نہ چشمہ نظر آیا نہ گلزار۔ مگر ایک میدان پر خار تھا۔ وہاں مجھے پیشاب لگا۔ میں بول کرنے کو بیٹھا۔ اپنے پیچھے چمک تلوار کی سی دیکھی، مڑ کر دیکھوں تو منجھلے بھائی صاحب نے مجھ پر تلوار ماری کہ سر دو پارہ ہو گیا جب تلک بولوں کہ اے ظالم مجھے کیوں مارتا ہے بڑے بھائی نے شانے پر لگائی۔ دونوں کاری زخم لگے۔ تیورا کر گرا۔ تب ان دونوں بے رحموں نے بہ خاطر جمع میرے تئیں چور زخمی کیا اور لہو لہان کر دیا۔ یہ کتا میرا احوال دیکھ کر ان پر بھپکا۔ اس کو بھی گھائل کیا۔ بعد اس کے اپنے ہاتھوں سے اپنے بدنوں میں زخموں کے نشان کیے اور سروپا برہنہ قافلے میں گئے اور ظاہر کیا کہ حرامیوں نے اس میدان میں ہمارے بھائی کو شہید کیا اور ہم بھی لڑ بھڑ کر زخمی ہوئے۔ جلدی کوچ کرو، نہیں تو کارواں پر گر کر سب کو ننگا کر لیں گے۔ قافلے کے لوگوں نے بدوؤں کا نام جو سنا وونہیں بدحواس ہوئے اور گھبرا کر کوچ کیا اور چل نکلے۔ میرے قبیلے نے ان کے سلوک اور خوبیاں سن رکھی تھیں، جو جو مجھ سے دغائیں کی تھیں۔ یہ واردات ان کی زبان سے سن کر جلد خنجر سے اپنے تئیں ہلاک کیا اور جاں بحق تسلیم ہوئی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.