
Capítulo 15 de 25
Historia del Joya Sag-parast: los dos hermanos desleales
The Dog-Worshipping Merchant: Two Faithless Brothers
خواجہ سگ پرست کا قصہ: دو بے وفا بھائی
تب تو اس مرد نے قدم بڑھا کر تخت کے پاس آ کر پائے کو بوسہ دیا اور صفت و ثنا کرنے لگا اور بولا۔ " اے شہنشاہ! اگر حکم قتل کا میرے حق میں نہ ہوتا تو سب سیاستیں سہتا اور اپنا ماجرا نہ کہتا۔ لیکن جان سب سے عزیز ہے۔ کوئی آپ سے کنویں میں نہیں گرتا۔ پس جان کی محافظت واجب ہے، اور ترک واجب کا خلاف حکم خدا کے ہے۔ خیر جو مرضی مبارک یہی ہے، تو سرگزشت اس پیر ضعیف کی سنئے۔ پہلے حکم ہو کہ وہ دونوں قفس جن میں دو آدمی قید ہیں، حضور میں لا کر رکھیں۔ میں اپنا احوال کہتا ہوں۔ اگر کہیں جھوٹ کہوں تو ان سے پوچھ کر مجھے قائل کیجئے اور انصاف فرمائیے۔ مجھے یہ بات اس کی پسند آئی۔ پنجروں کو منگوا کر اس دونوں کو نکلوا کر خواجہ کے پاس کھڑا کیا۔
خواجہ نے کہا، اے بادشاہ یہ مرد جو داہنی طرف ہے، غلام کا بڑا بھائی ہے، اور جو بائیں کو کھڑا ہے منجھلا برادر ہے۔ میں ان دونوں سے چھوٹا ہوں۔ میرا باپ ملک فارس میں سوداگر تھا۔ جب میں چودہ برس کا ہوا، قبلہ گاہ نے رحلت کی۔ جب تجہیز و تکفین سے فراغت ہوئی اور پھول اٹھ چکے، ایک روز ان دونوں بھائیوں نے مجھے کہا کہ اب باپ کا ملا جو کچھ ہے تقسیم کر لیں۔ جس کا دل جو چاہے سو کام کرے۔ میں نے سن کر کہا اے بھائیو یہ کیا بات ہے؟ میں تمہارا غلام ہوں۔ بھائی چارے کا دعوی نہیں رکھتا۔ ایک باپ مر گیا۔ تم دونوں میرے پدر کی جگہ میرے سر پر قائم ہو۔ ایک نان خشک چاہتا ہوں جس میں زندگی بسر کروں اور تمہاری خدمت میں حاضر رہوں۔ مجھے حصے بخرے سے کیا کام ہے؟ تمہارے آگے کو جوٹھے سے اپنا پیٹ بھر لوں گا اور تمہارے پاس رہوں گا۔ میں لڑکا ہوں، کچھ پڑھا لکھا بھی نہیں۔ مجھ سے کیا ہو سکے گا؟ ابھی تم مجھے تربیت کرو۔ یہ سن کر جواب دیا کہ تو چاہتا ہے اپنے ساتھ ہمیں بھی خراب اور محتاج کرے۔ میں چپکا ایک گوشے میں جا کر رونے لگا۔ پھر دل کو سمجھایا کہ بھائی آخر بزرگ ہیں۔ میری تعلیم کی خاطر چشم نمائی کرتی ہیں کہ کچھ سیکھے اس فکر میں سو گیا۔ صبح کو ایک پیادہ قاضی کا آیا اور مجھے دارالشرع میں لے گیا۔ وہاں دیکھا تو یہی دونوں بھائی حاضر ہیں۔ قاضی نے کہا کیوں اپنے باپ کا ورثہ بانٹ چونٹ نہیں لیتا؟ میں نے گھر میں جو کہا تھا، وہاں بھی جواب دیا۔
بھائیوں نے کہا۔ اگر یہ بات اپنے دل سے کہتا تو ہمیں لا دعویٰ لکھ دے کہ باپ کے مال و اسباب سے مجھے کچھ علاقہ نہیں۔ تب بھی میں نے یہی سمجھا کہ یہ دونوں میرے بزرگ ہیں۔ میری نصیحت کے واسطے کہتے ہیں کہ باپ کا ملا لیکر بے جا تصرف نہ کروں۔ بہ موجب ان کی مرضی کے فارغ خطبی بہ مہر قاضی میں نے لکھ دی۔ یہ راضی ہوئے۔ گھر میں آیا۔ دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے اے بھائی یہ مکان جس میں تو رہتا ہے ہمیں درکار ہے۔ تو اپنی بود و باش کی خاطر اور جگہ لے کر جا رہ۔ تب میں نے دریافت کیا کہ باپ کی حویلی میں بھی رہنے سے خوش نہیں۔ لاچار ارادہ اٹھ جانے کا کیا۔ جہاں پناہ جب میرا باپ جیتا تھا تو جس وقت سفر سے آتا ہر ایک ملک کا تحفہ بہ طریق سوغات کے لاتا اور مجھے دیتا۔ اس واسطے کہ چھوٹے بیٹے کو ہر کوئی زیادہ پیار کرتا ہے۔ میں نے اس کو بیچ بیچ کر تھوڑی سی اپنی نج کی پونجی بہم پہنچائی تھی۔ اسی سے کچھ خرید و فروخت کرتا۔ ایک بار لونڈی میری خاطر ترکستان سے میرا باپ لایا۔ ایک دفعہ گھوڑے لے کر آیا۔ ان میں سے ایک بچھڑا تا کند کہ ہونہار تھا، وہ بھی مجھے دیا۔ میں اپنے پاس سے دانہ گھاس کا اس کا کرتا تھا۔
آخر ان کی بے مروتی دیکھ ایک حویلی خرید کی۔ وہاں جا رہا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ چلا آیا۔ واسطے ضروریات کے اسباب خانہ داری کا جمع کیا اور وہ غلام خدمت خاطر مول لئے اور باقی پونجی سے ایک دکان بزازی کی کر کے خدا کے توکل پر بیٹھا۔ اپنی قسمت پر راضی تھا۔ اگرچہ بھائیوں نے بد خلقی کی، پر خدا جو مہربان ہوا، تین برس کے عرصے میں ایسی دکان جمی کہ میں صاحب اعتبار ہوا۔ سب سرکاروں میں جو تحفہ چاہتا میری ہی دکان سے جاتا۔ اس میں بہت سے روپے کمائے اور نہایت فراغت سے گزرنے لگی۔ ہر دم جناب باری شکرانہ کرتا اور آرام سے رہتا۔ یہ کبت اکثر اپنے احوال پر پڑھتا:
روٹھے کیوں نہ راجا، واتیں کچھ ناہیں کاجا
ایک تو سے مہاراجا، اور کون کو سراہیے
روٹھے کیوں نہ بھائی، واتیں کچھ نہ بسائیں
ایک تو ہی بے سہائی، اور کون پاس جائیے
روٹھے کیوں نہ متر، ستر آٹھوں جام
ایک راوے چرن کے نیہ کو نبھائیے
سنسار ہے روٹھا، ایک تو ہے انوٹھا
سب چومیں گے انگوٹھا، ایک تو نہ روٹھا چاہیے
اتفاقاً جمعے کے روز میں اپنے گھر بیٹھا تھا کہ ایک غلام میرا سودا سلف کو بازار گیا تھا۔ بعد میں ایک دم کے روتا ہوا آیا۔ میں نے سبب پوچھا کہ تجھے کیا ہوا؟ خفا ہو کر بولا کہ تمہیں کیا کام ہے؟ تم خوشی مناؤ، لیکن قیامت میں کیا جواب دو گے؟ میں نے کہا اے حبشی! ایسی کیا بلا تجھ پر نازل ہوئی؟ اس نے کہا یہ غضب ہے کہ تمہارے بڑے بھائیوں کی چوک کے چوراہے میں ایک یہودی نے مشکیں باندھی ہیں، اور قمچیاں مارتا ہے۔ اور ہنستا ہے کہ اگر میرے روپے نہ دو گے تو مارتے مارتے مار ہی ڈالوں گا۔ بھلا مجھے ثواب تو ہو گا۔ پس تمہارے بھائیوں کی یہ نوبت اور تم بے فکر ہو؟ یہ بات اچھی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ بات غلام سے سنتے ہی لہو نے جوش کیا۔ ننگے پاؤں بازار کی طرف دوڑا اور غلاموں کو کہا جلد روپے لے کر آؤ۔ جونہی وہاں گیا، دیکھا جو جو غلام نے کہا تھا سچ ہے ان پر مار پڑ رہی ہے۔ حاکم کے پیادوں کو کہا۔ واسطے خدا کے ذرا ٹھہر جاؤ۔ میں یہودی سے پوچھوں کہ ایسی کیا تقصیر کی ہے، جس کے بدلے یہ تعزیر کی ہے؟
یہ کہہ کر میں یہودی کے نزدیک گیا اور کہا آج روز آدینہ ہے۔ ان کو کیوں ضرب شاق کر رہا ہے؟ اس نے جواب دیا اگر حمائت کرتے ہو تو پوری کرو۔ ان کے عوض روپے حوالے کرو۔ نہیں تو اپنے گھر کی راہ لو۔ میں نے کہا، کیسے روپے؟ دستاویز نکال، میں روپے گن دیتا ہوں۔ اس نے کہا تمسک حاکم کے پاس دے آیا ہوں۔ اتنے میں میرے دونوں غلام روپے لے کر آئے۔ ہزار روپے میں نے یہودی کو دیئے اور بھائیوں کو چھڑایا۔ ان کی یہ صورت ہو رہی تھی کہ بدن سے ننگے اور بھوکے پیاسے اپنے ہمراہ گھر میں لایا۔ وونہیں حمام میں نہلوایا پوشاک پہنائی۔ کھانا کھلایا۔ ہرگز ان سے یہ نہ کہا کہ اتنا مال باپ کا تم نے کیا کیا؟ شاید شرمندہ ہوں۔
اے بادشاہ یہ دونوں موجود ہیں، پوچھے کہ سچ کہتا ہوں یا کوئی بات جھوٹ بھی ہے؟ خیر جب کئی دن میں مار کی گرفت سے بحال ہوئے، ایک روز میں نے کہا کہ اے بھائیوں اب اس شہر میں تم بے اعتبار ہو گئے ہو، بہتر یہ ہے کہ چند روز سفر کرو۔ یہ سن کر چپ ہو رہے۔ میں نے معلوم کیا کہ راضی ہیں، سفر کی تیاری کرنے لگا۔ پال پر تل، باربرداری، اور سواری کی فکر کر کے بیس ہزار کی جنس تجارت خرید کر دی۔ ایک قافلہ سوداگروں کا بخارے کو جاتا تھا ان کے ساتھ کر دیا۔
بعد ایک سال کے وہ کارواں پھر آیا۔ ان کی خیر خبر کچھ نہ پائی۔ آخر ایک آشنا سے قسمیں دے کر پوچھا۔ اس نے کہا جب بخارے میں گئے ایک نے جوئے میں اپنا تمام مال ہار دیا۔ اب وہاں کی جاروب کشی کرتا ہے اور پھڑ کو لیپتا پوتتا ہے۔ جواری جو جمع ہوتے ہیں، ان کی خدمت کرتا ہے، وہ بطریق خیرات کے کچھ دے دیتے ہیں وہاں گرگا بنا پڑا رہتا ہے۔ اور دوسرا بوزہ فروش کی لڑکی پر عاشق ہوا، اپنا مال سارا صرف کیا۔ اب وہ بوزہ خانے کی ٹہل کرتا ہے۔ قافلے کے آدمی اس لیے نہیں کہتے کہ تو شرمندہ ہو گا۔
یہ احوال اس شخص سے سن کر میری عجب حالت ہوئی۔ مارے فکر کے نیند بھوک جاتی رہی، زاد راہ لے کر قصد بخارے کا کیا۔ جب وہاں پہنچا دونوں کو ڈھونڈا اور اپنے مکان میں لایا۔ غسل کروا کر نئی پوشاک پہنائی اور ان کی خجالت کے ڈر سے ایک بات منہ پر نہ رکھی۔ پھر مال سوداگری کا ان کے واسطے خریدا اور ارادہ گھر کا کیا، جب نزدیک نیشاپور کے آیا، ایک گاؤں میں بہ مع مال اسباب ان کو چھوڑ کر گھر میں آیا۔ اس لیے کہ میرے آنے کی کسی کو خبر نہ تھی۔
بعد دو دن کے مشہور کیا کہ میرے بھائی سفر سے آئے ہیں کل ان کے استقبال کی خاطر جاؤں گا۔ صبح کو چاہا کہ جاؤں۔ ایک گرہست اسی موضع کا میرے پاس آیا اور فریاد کرنے لگا۔ میں اس کی آواز سن کر باہر نکلا۔ اسے روتا دیکھ کر پوچھا کیوں زاری کرتا ہے؟ بولا تمہارے بھائیوں کے سبب سے ہمارے گھر لوٹے گئے۔ کاش کہ ان کو تم وہاں نہ چھوڑ آتے!
میں نے پوچھا کیا مصیبت گزری؟ بولا کہ رات کو ڈاکا آیا، ان کا مال و اسباب لوٹا اور ہمارا گھر بھی لوٹ گئے۔ میں نے افسوس کیا اور پوچھا کہ اب وہ دونوں کہاں ہیں؟ کہا شہر کے باہر ننگے، خراب خستہ بیٹھے ہیں۔ اور یہ مارے شرمندگی کے باہر نہ نکلتے تھے۔
تین مہینے اسی طرح گزرے۔ تب میں نے اپنے دل میں غور کیا کہ کب تلک یہ کونے میں دبکے بیٹھے رہیں گے۔ بنے تو ان کو اپنے ساتھ سفر میں لے جاؤں۔ بھائیوں سے کہا۔ اگر فرمائیے تو فدوی آپ کے ساتھ چلے؟ یہ خاموش ہو رہے۔ پھر لوازمہ سفر کا اور جنس سوداگری کر کے چلا اور ان کو ساتھ لیا۔
جنس مال کی زکوٰۃ دے کر اسباب کشتی پر چڑھایا اور لنگر اٹھایا، ناؤ چلی یہ کتا کنارے پر سو رہا تھا۔ جب چونکا اور جہاز کو مانجھ دھار میں دیکھا، حیران ہو کر بھونکا اور دریا میں کود پڑا اور تیرنے لگا۔ میں نے ایک پسوئی دوڑا دی۔ بارے سگ کو لے کر کشتی میں پہنچایا۔
ایک مہینہ خیرو عافیت سے دریا میں گزرا۔ اس میں منجھلا بھائی لونڈی پر عاشق ہوا۔ ایک دن بڑے بھائی سے کہنے لگا کہ چھوٹے بھائی کی منت اٹھانے سے بڑی شرمندگی حاصل ہوئی۔ اس کا تدارک کیا کریں؟ بڑے نے جواب دیا کہ ایک صلاح دل میں ٹھہرائی ہے۔ اگر بن آوے تو بڑی بات ہے۔ آخر دونوں نے مصلحت کر کے تجویز کی کہ اسے مار ڈالیں اور سارے اسباب کے قابض متصرف ہوں۔
ایک دن میں جہاز کی کوٹھڑی میں سوتا تھا اور لونڈی پاؤں داب رہی تھی کہ منجھلا بھائی آیا اور جلدی سے مجھے جگایا۔ میں ہڑبڑا کر چونکا اور باہر نکلا۔ یہ کتا بھی میرے ساتھ ہو لیا۔ دیکھوں تو بڑا بھائی جہاز کی باڑ پر ہاتھ ٹیکے نہیوڑا ہوا تماشا دریا کا دیکھ رہا ہے اور مجھے پکارتا ہے۔ میں نے پاس جا کر کہا خیر تو ہے؟ بولا عجب طرح کا تماشا ہو رہا ہے کہ دریائی آدمی موتی کی سیپیاں اور مونگے کے درخت ہاتھ میں لیے ہوئے ناچتے ہیں۔ اگر اور کوئی ایسی بات خلاف قیاس کہتا تو میں نہ مانتا۔ بڑے بھائی کے کہنے کو راست جانا دیکھنے کو سر جھکایا۔ ہر چند نگاہ کی، کچھ نظر نہ آیا اور وہ یہی کہتا رہا، اب دیکھا؟ لیکن کچھ ہو تو دیکھوں۔ اس میں مجھے غافل پا کر منجھلے نے اچانک پیچھے آ کر ایسا دھکیلا کہ بے اختیار پانی میں گر پڑا۔ اور وہ رونے دھونے لگے کہ دوڑیو! ہمارا بھائی دریا میں ڈوبا۔ اتنے میں ناؤ بڑھ گئی اور دریا کی لہر مجھے کہیں سے کہیں لے گئی۔ غوطے پر غوطے کھاتا تھا اور موجوں میں چلا جاتا تھا۔ آخر تھک گیا۔ خدا کو یاد کرتا تھا، کچھ بس نہ چلتا تھا۔ یکبارگی کسو چیز پر ہاتھ پڑا۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو یہی کتا ہے۔ شاید جس دم مجھے دریا میں ڈالا، میرے ساتھ یہ بھی کودا اور تیرتا ہوا میرے ساتھ لپٹا چلا جاتا تھا۔ میں نے اس کی دم پکڑ لی۔ اللہ نے اس کو میری زندگی کا سبب کیا، سات دن اور رات یہی صورت گزری۔ آٹھویں دن کنارے جا لگے۔ طاقت مطلق نہ تھی، لیٹے لیٹے کروٹیں کھا کر جوں توں اپنے تئیں خشکی میں ڈالا۔
ایک دن بے ہوش پڑا رہا۔ دوسرے دن کتے کی آواز کان میں گئی۔ ہوش میں آیا، خدا کا شکر بجا لایا، ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ دور سے شہر کا سواد نظر آیا لیکن قوت کہاں کہ ارادہ کروں! لاچار قدم چلتا پھر بیٹھتا۔ اسی حالت سے شام تک کوس بھر راہ کاٹی۔ بیچ میں ایک پہاڑ ملا۔ رات کو وہاں گر رہا۔ صبح کو شہر میں داخل ہوا۔ جب بازار میں گیا۔ نان بائی اور حلوائیوں کی دکانیں نظر آئیں، دل ترسنے لگا۔ نہ پاس پیسا جو خرید کروں۔ نہ جی چاہے کہ مفت مانگوں۔ اسی طرح اپنے دل کو تسلی دیتا ہوا کہ دکان سے لوں گا، چلا جاتا تھا۔ آخر طاقت نہ رہی اور پیٹ میں آگ لگی۔ نزدیک تھا کہ روح بدن سے نکلے، ناگاہ دو جوان کو دیکھا کہ لباس عجم کا پہنے، اور ہاتھ پکڑے چلے آتے تھے۔ ان کو دیکھ کر خوش ہوا کہ یہ اپنے ملک کے انسان ہیں شاید آشنا صورت ہو، ان سے اپنا احوال کہوں گا۔ جب نزدیک آئے تو میرے دونوں برادر حقیقی تھے۔ دیکھ کر نپٹ شاد ہوا۔ شکر خدا کا آیا کہ خدا نے آبرو رکھ لی۔ غیر کے آگے ہاتھ نہ پسارا۔ نزدیک جا کر سلام کیا اور بڑے بھائی کا ہاتھ چوما۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی غل و شور کیا۔ منجھلے نے طمانچہ مارا کہ میں لڑکھڑا گر پڑا۔ بڑے بھائی کا دامن پکڑا کہ شاید یہ حمایت کرے گا۔ اس نے لات ماری۔
غرض دونوں نے مجھے خوار و خراب کیا، اور حضرت یوسف کے بھائیوں کا سا کام کیا۔ ہرچند میں نے خدا کے واسطے دیے اور گھگھیا ہر گز رحم نہ کھایا۔ ایک خلقت اکٹھی ہوئی۔ سب نے پوچھا اس کا کیا گناہ ہے؟ تب بھائیوں نے کہا۔ اس حرام زادے کی مدتوں سے تلاش میں تھے، آج اس صورت سے نظر آیا۔ اور مجھ سے پوچھتے تھے کہ اے ظالم! یہ کیا تیرے دل میں آیا کہ ہمارے بھائی کو مار کھپایا! کیا اس نے تیری تقصیر کی تھی۔ ان نے تجھ سے کیا برا سلوک کیا تھا کہ اپنا مختار بنایا تھا؟ پھر ان دونوں نے اپنے گریبان چاک کر ڈالے، اور بے اختیار جھوٹھ موٹھ بھائی کی خاطر روتے تھے، اور لات مکے مجھ پر کرتے تھے۔
اس میں حاکم کے پیادے آئے۔ ان کو ڈانٹا کہ کیوں مارتے ہو؟ اور میرا ہاتھ پکڑا کوتوال کے پاس لے گئے۔ یہ دونوں بھی ساتھ چلے اور حاکم سے بھی یہی کہا، اور بطور رشوت کے کچھ دے کر اپنا انصاف چاہا اور خون ناحق کا دعویٰ کیا۔ حاکم نے مجھ سے پوچھا۔ میری یہ حالت تھی کہ مارے بھوک اور پیٹ کے طاقت گویائی کی نہ تھی۔ سر نیچے کھڑا تھا کہ کچھ منہ سے جواب نہ نکلا۔ حاکم کو بھی یقین ہوا کہ یہ مقرر خونی۔ فرمایا کہ اسے میدان میں لے جا کر سولی دو۔ جہاں پناہ! میں نے روپے دے کر ان کو یہودی کی قید سے چھڑایا تھا۔ اس کے عوض انہوں نے بھی روپے خرچ کر کے میری جان کا قصد کیا، یہ دونوں حاضر ہیں۔ ان سے پوچھیے اس میں سرِ مو تفاوت کہتا ہوں؟ خیر مجھے لے گئے۔ جب دار کو دیکھا، ہاتھ زندگی سے دھوئے سوائے اس کتے کے کوئی میرا رونے والا نہ تھا۔ اس کی یہ حالت تھی کہ آدمی کے پاؤں میں لوٹتا اور چلاتا تھا۔ کوئی لکڑی کوئی پتھر سے مارتا لیکن یہ اس جگہ سے نہ سرکتا۔ اور میں رو بہ قبلہ کھڑا ہو خدا سے کہتا تھا کہ اس وقت میں تیری ذات کے سوا میرا کوئی نہیں، جو آڑے آوے اور بے گناہ کو بچاوے، اب تو ہی بچائے تو بچتا ہوں۔ یہ کہہ کر کلمہ شہادت کا پڑھ کر تیورا کر گر پڑا۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.