
Capítulo 14 de 25
Historia del rey Azad Bajt: la hija del visir en Nishapur
The Emperor's Own Story: The Vizier's Daughter in Nishapur
سرگذشت آزاد بخت بادشاہ کی: وزیر زادی نیشاپور میں
وزیر زادی، جس نے اپنے تئیں سوداگر بچہ مشہور کیا تھا اسے دیکھ کر متعجب ہوئی اور دل میں سمجھ کر خوش ہوئی کہ خدا جھوٹ نہ کرے، جس سوداگر کا میرے باپ نے بادشاہ سے مذکور کیا ہے، اغلب ہے کہ یہی ہو۔ بار خدایا اس کا احوال مجھ پر ظاہر کر۔
اتفاقاً ایک طرف جو دیکھا تو ایک دکان ہے اس میں دو پنجرے آہنی لٹکے ہیں اور ان دونوں میں دو آدمی قید ہیں۔ ان کی مجنون کی سی صورت ہو رہی ہے، کہ چرم و استخوان باقی ہے، اور سر کے بال اور ناخن بڑھ گئے ہیں، سر اوندھائے بیٹھے ہیں۔ اور وہ حبشی بد ہیئت مسلح دونوں طرف کھڑے ہیں۔ سوداگر بچے کو اچنبھا آیا۔ لاحول پڑھ کر دوسری طرف جو دیکھا تو ایک دکان میں غالیچے بچھے ہیں۔ ان پر ایک چوکی ہاتھی دانت کی، اس پر گدیلا مخمل کا پڑا ہوا، ایک کتا جواہر کا پٹا گلے میں اور سونے کی زنجیر سے بندھا ہوا بیٹھا ہے، اور دو غلام امرد خوب صورت اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک تو مور چھل جڑاؤ دستے کا لیے جھلتا ہے اور دوسرا مال تار کشی کا ہاتھ میں لے کر منہ اور پاؤں اس کا پونچھ رہا ہے۔ سوداگر بچے نے خوب غور کر کر جو دیکھا تو پٹے میں کتے کے بارہوں لعل کے جیسے سنے تھے موجود ہیں۔ شکر خدا کیا اور فکر میں گیا کہ کس صورت سے ان لعلوں کو بادشاہ کے پاس لے جاؤں اور دکھا کر اپنے باپ کو چھڑاؤں؟ یہ تو اس حیرانی میں تھا اور تمام خلقت چوک اور رستے کی اس کا حسن و جمال دیکھ کر حیران تھی اور ہکا بکا ہو رہی تھی۔ سب آدمی آپس میں یہ چرچا کرتے تھے کہ آج تک اس صورت و شبیہ کا انسان نظر نہیں آیا۔ اس خواجہ نے بھی دیکھا۔ ایک غلام کو بھیجا کہ تو جا کر بہ منت اس سوداگر بچے کو میرے پاس بلا لا۔
وہ غلام آیا اور خواجہ کا پیام لایا۔ اگر مہربانی فرمائیے تو ہمارا خداوند صاحب کا مشتاق ہے، چل کر ملاقات کیجیے۔ سوداگر بچہ تو یہ چاہتا ہی تھا، بولا کیا مضائقہ جوں ہی خواجہ کے نزدیک آیا اور اس پر خواجہ کی نظر پڑی، ایک برچھی عشق کی سینے میں لگی، تعظیم کی خاطر سروقد اٹھا، لیکن حواس باختہ۔ سوداگر بچہ نے دریافت کیا کہ اب یہ دام آیا۔ آپس میں بغل گیر ہوئے۔ خواجہ نے سوداگر بچے کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے برابر بٹھایا۔ بہت سا تملق کر کے پوچھا کہ اپنے نام و نسب سے مجھے آگاہ کرو، کہاں سے آنا ہوا، اور کہاں کا ارادہ ہے؟ سوداگر بچہ بولا کہ، اس کمترین کا وطن روم ہے اور قدیم سے استنبول زاد بوم ہے۔ میرے قبلہ گاہ سوداگر ہیں۔ اب بہ سبب پیری کے طاقت سیر و سفر کی نہیں رہی۔ اس واسطے مجھے رخصت کیا ہے کہ کاروبار تجارت کا سیکھوں۔ آج تک میں نے قدم گھر سے باہر نہ نکالا تھا۔ یہ پہلا ہی سفر درپیش ہوا۔ دریا کی راہ ہواؤ نہ پڑا، خشکی کی طرف سے قصد کیا۔ لیکن اس عجم کے ملک میں آپ کے اخلاق اور خوبیوں کا جو شور ہے، محض آپ کی ملاقات کی آرزو یہاں تک آیا ہوں۔ بارے فضل الٰہی سے خدمت شریف میں مشرف ہوا۔ اور اس سے زیادہ پایا۔ تمنا دل کی بر آئی خدا سلامت رکھے۔ اب یہاں سے کوچ کروں گا۔ یہ سنتے ہیں خواجہ کے عقل و ہوش جاتے رہے۔ بولا اے فرزند! ایسی بات مجھے نہ سناؤ۔ کوئی دن غریب خانے میں قدم فرماؤ۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ تمہارا اسباب اور نوکر چاکر کہاں ہیں؟ سوداگر بچے نے کہا کہ مسافر کا گھر سرا ہے، انہیں وہاں چھوڑ کر میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ خواجہ نے کہا بھٹیار خانے میں رہنا مناسب نہیں۔ میرا اس شہر میں اعتبار ہے، اور بڑا نام ہے۔ جلد انہیں بلوا لو۔ میں ایک مکان تمہارے اسباب کے لیے خالی کر دیتا ہوں۔ جو کچھ جنس لائے ہو، میں دیکھوں۔ ایسی تدبیر کروں گا کہ یہیں تمھیں بہت سا منافع ملے۔ تم بھی خوش ہو گے اور سفر کے حرج مرج سے بچو گے اور مجھے بھی چند روز رہنے سے اپنا احسان مند کرو گے۔ سوداگر بچے نے اوپری دل سے عذر کیا۔ لیکن خواجہ نے پذیرا نہ کیا۔ اور اپنے گماشتے کو فرمایا کہ بار بردار جلدی بھیجو اور کارواں سرا سے ان کا اسباب منگوا کر فلانے مکان میں رکھواؤ۔
سوداگر بچے نے ایک زنگی غلام کو ان کے ساتھ کر دیا کہ سب مال و متاع لدوا کر لے آ، اور آپ شام تلک خواجہ کے ساتھ بیٹھا رہا۔ جب گزری کا وقت ہو چکا اور دکان بڑھائی۔ خواجہ گھر کو چلا تب دونوں غلاموں میں سے ایک نے کتے کو بغل میں لیا۔ دوسرے نے کرسی اور غالیچہ اٹھا لیا اور ان دونوں حبشی غلاموں نے ان پنجروں کو مزدوروں کے سر پر دھر دیا، اور آپ پانچوں ہتھیار باندھے ساتھ آئے۔ خواجہ سوداگر بچے کا ہاتھ، ہاتھ میں لیے باتیں کرتا ہوا حویلی میں آیا۔ سوداگر بچے نے دیکھا کہ مکان عالی شان لائق بادشاہوں یا امیروں کے ہے۔ لب نہر فرش چاندنی کا بچھا ہے، اور مسند کے روبرو اسباب عیش کا چنا ہے۔ کتے کی صندلی بھی اسی جگہ بچھائی اور خواجہ، سوداگر بچے کو لے کر بیٹھا بے تکلف وضع شراب کی کی۔ دونوں پینے لگے۔ جب سر خوش ہوئے، تب خواجہ نے کھانا مانگا۔ دسترخوان بچھا اور دنیا کی نعمت چنی گئی۔ پہلے ایک لنگری میں کھانا لے کر سر پوش طلائی ڈھانپ کر کتے کے واسطے لے گئے اور ایک دسترخوان زر بفت کا بچھا کر اس کے آگے دھر دی۔ کتا صندلی سے نیچے اترا جتنا جی چاہا اتنا کھایا اور سونے کی لگن میں پانی پیا۔ پھر چوکی پر جا بیٹھا۔ غلاموں نے رومال سے ہاتھ منہ اسکا پاک کیا۔ پھر اس طباق اور لگن کو غلام پنجروں کے نزدیک لے گئے اور خواجہ سے کنجی مانگ کر قفل قفسوں کے کھولے۔ ان دونوں انسانوں کو باہر نکال کر کئی سونٹے مار کر کتے کا جھوٹا انہیں کھلایا اور وہی پانی پلایا۔ پھر تالے بند کر کر تالیاں خواجہ کے حوالے کیں۔ جب یہ سب ہو چکا، تب خواجہ نے آپ کھانا شروع کیا۔ سوداگر بچے کو یہ حرکت پسند نہ آئی۔ گھن کھا کر ہاتھ کھانے میں نہ ڈالا۔ ہرچند خواجہ نے منت کی پھر اس نے انکار ہی کیا۔ تب خواجہ نے سبب اسکا پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھاتے؟ سوداگر بچے نے کہا یہ حرکت تمہاری اپنے تئیں بدنام معلوم ہوئی۔ اس لیے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور کتا نجس العین ہے۔ پس خدا کے دو بندوں کو کتے کا جھوٹا کھلانا کس مذہب و ملت میں روا ہے؟ فقط یہ غنیمت نہیں جانتے کہ وہ تمہاری قید میں ہیں؟ نہیں تو تم اور وہ برابر ہو۔ اب میرے تئیں شک آئی کہ تم مسلمان نہیں۔ کیا جانوں کون ہو کہ کتے کو پوجتے ہو؟ مجھے تمہارا کھانا کھانا مکروہ ہے۔ جب تلک یہ شبہ دل سے دور نہ ہو۔
خواجہ نے کہا۔ اے بابا، جو کچھ۔ تو کہتا ہے، میں یہ سب سمجھتا ہوں اور اسی خاطر بدنام ہوں کہ اس شہر کی خلقت نے میرا نام خواجہ سگ پرست رکھا ہے اسی طرح پکارتے ہیں اور مشہور کیا ہے۔ لیکن خدا کی لعنت کافروں اور مشرکوں پر ہو جیو۔ کلمہ پڑھا اور سوداگر بچے کی خاطر جمع کی۔ تب سوداگر بچے نے پوچھا کہ اگر مسلمان بہ دل ہو تو اس کا کیا باعث ہے کہ ایسی حرکت کر کے اپنے تئیں بدنام کیا ہے۔ خواجہ نے کہا اے فرزند، نام میرا بدنام ہے اور دگنا محصول اس شہر میں بھرتا ہوں، اسی واسطے یہ بھید کسو پر ظاہر نہ ہو۔ عجب یہ ماجرا ہے کہ جو کوئی سوائے غم اور غصے کے اسے کچھ حاصل نہ ہو۔ تو بھی مجھے معاف رکھ کر نہ مجھ میں قدرت کہنے کی اور نہ تجھ میں طاقت سننے کی رہے گی۔ سوداگر بچے نے اپنے دل میں غور کی کہ مجھے اپنے کام سے کام ہے۔ کیا ضرورت ہے، جو ناحق زیادہ مجوز ہوں۔ بولا۔ اگر لائق کہنے کے نہیں تو نہ کہہ۔ کھانے میں ہاتھ ڈالا، اور نوالہ اٹھا کر کھانے لگا۔ دو مہینے تک اس ہوشیاری اور عقل مندی سے سوداگر بچے نے خواجہ کے ساتھ گزران کی کہ کسو پر ہرگز نہ کھلا کہ یہ عورت ہے۔ سب یہی جانتے تھے کہ مرد ہے۔ اور خواجہ سے روز بروز ایسی محبت زیادہ ہوئی کہ دم اپنی آنکھوں سے جدا نہ کرتا۔
ایک دن عیش مے نوشی کی صحبت میں سوداگر بچے نے رونا شروع کیا۔ خواجہ نے دیکھتے ہی خاطر داری کی اور رومال سے آنسو پوچھنے لگا اور سبب گریہ کا پوچھا۔ سوداگر بچے نے کہا۔ اے قبلہ! کیا کہوں؟ کاش کے تمہاری خدمت میں بندگی پیدا نہ کی ہوتی اور یہ شفقت جو صاحب میرے حق میں کرتے ہیں نہ کرتے۔ اب دو مشکلیں میرے پیش آئی ہیں۔ نہ تمہاری خدمت سے جدا ہونے کو جی چاہتا ہے اور نہ رہنے کا اتفاق یہاں ہو سکتا ہے۔ اب جانا ضرور ہوا۔ لیکن آپ کی جدائی سے امید زندگی کی نظر نہیں آتی۔
یہ بات سن کر خواجہ بے اختیار ایسا رونے لگا کہ ہچکی بندھ گئی، اور بولا کہ اے نور چشم! ایسی جلدی اس اپنے بوڑھے خادم سے سیر ہوئے کہ اسے دل گیر کیے جاتے ہو؟ قصد روانہ ہونے کا دل سے دور کرو۔ جب تلک میری زندگی ہے، رہو تمہاری جدائی سے ایک دم جیتا نہ رہوں گا۔ بغیر اجل کے مر جاؤں گا اور اس ملک فارس کی آب و ہوا بہت خوب اور موافق ہے۔ بہتر یوں ہے کہ ایک آدمی معتبر بھیج کر اپنے والدین کو مع اسباب یہیں بلوا لو۔ جو کچھ سواری اور برداری درکار ہو، میں موجود کروں۔ جب ماں باپ تمہارے گھر بار سب آیا، اپنی خوشی سے کاروبار تجارت کا کیا کریو۔ میں نے بھی اس عمر میں زمانے کی بہت سختیاں کھینچی ہیں، اور ملک ملک پھرا ہوں، اب بوڑھا ہوا۔ فرزند نہیں رکھا تجھے بہتر اپنے بیٹے سے جانتا ہوں، اور اپنا ولی عہد و مختار کرتا ہوں۔ میرے کارخانے سے بھی ہوشیار اور خبردار ہو۔ جب تلک جیتا ہوں، ایک ٹکڑا کھانے کو اپنے ہاتھ سے دو۔ جب مر جاؤں داب گاڑ دیجو، اور سب مال و متاع میر لیجو۔ تب سوداگر بچے نے جواب دیا کہ واقعی صاحب نے زیادہ باپ سے میری غم خواری اور خاطر داری کی کہ مجھے ماں باپ بھول گئے۔ لیکن اس عاصی کے والد نے ایک سال کی رخصت دی تھی۔ اگر دیر لگاؤں گا تو وہ اس پیری میں روتے روتے مر جائیں گے پس رضامندی پدر کی خوشنودی خدا کی ہے، اگر وہ مجھے سے ناراضی ہوں گے تو میں ڈرتا ہوں کہ شاید دعائے بد نہ کریں کہ دونوں جہاں میں خدا کی رحمت سے محروم رہوں۔ اب آپ کی یہی شفقت ہے کہ بندے کو حکم کیجئے کہ فرمانا قبلہ گاہ کا بجا لاوے اور حق پدری سے ادا ہووے۔ اور صاحب کی توجہ کا ادائے شکر جب تلک مجھ میں دم ہے، میری گردن پر ہے۔ اگر اپنے وطن میں بھی جاؤں گا تو ہر دم میں دل و جان سے یاد کروں گا، خدا مسبب الاسباب ہے۔ شاید پھر کوئی ایسا سبب ہو کر قدم بوسی حاصل کروں۔
غرض سوداگر بچے نے ایسی ایسی باتیں لون مرچ لگا کر خواجہ کو سنائی کہ وہ بچارا لاچار ہو کر ہونٹ چاٹنے لگا۔ ازبسکہ اس پر شیفتہ اور فریفتہ ہو رہا تھا، کہنے لگا اچھا اگر تم نہیں رہتے ہو تو میں ہی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ میں تجھ کو اپنی جان کے برابر جانتا ہوں۔ پس جب جان چلی جاوے تو خالی بدن کس کام آوے؟ اگر تو اسی میں رضامند ہے تو چل اور مجھے بھی لے چل۔ سوداگر بچہ یہ سن کر اپنی بھی تیاری سفر کی کرنے لگا اور گماشتوں کو حکم کیا، بار برداری کی فکر جلدی کرو۔
جب خوجہ کے چلنے کی خبر مشہور ہوئی۔ وہاں کے سوداگروں نے سن کر سب نے تہیہ سفر کیا۔ خواجہ سگ پرست نے گنج اور جواہر بے شمار، نوکر اور غلام ان گنت، تحفے اور اسباب شاہانہ بہت ساتھ لے کر شہر کے باہر تنبو اور قنات اور بے چوبے اور سرا پردے اور کندے کھڑے کروا کر ان میں داخل ہوا۔ جتنے تجار تھے، اپنی اپنی بساط موافق سوداگری کا لے کر ہم راہ ہوئے برائے خود ایک لشکر ہو گیا۔
ایک دن چوگنی کو پیٹھ دے کر وہاں سے کوچ کیا۔ ہزاروں اونٹوں پر شلیتے اسباب کے اور خچروں پر صندوق نقد و جواہر کے لاد کر پانچ سو غلام دشت قبچاق اور زنگ و روم کے مسلح، صاحب شمشیر، تازی اور ترکی و عراق و عربی گھوڑے پر چڑھ کر چلے۔ سب کے پیچھے خواجہ اور سوداگر بچہ خلعت فاخرہ پہنے سکھپال پر سوار اور ایک تخت بغدادی اونٹ پر کسا، اس پر کتا مسند پر سویا ہوا، اور ان دونوں قیدیوں کے قفس ایک شتر پر لٹکائی ہوئے روانہ ہوئے۔ جس منزل پہنچے سب سوداگر خواجہ کی بارگاہ میں آ کر حاضر ہوتے۔ اور دستر خوان پر کھانا کھاتے اور شراب پیتے۔ خواجہ سوداگر بچے کے ساتھ ہونے کی خوشی میں شکر خدا کا کرتا اور کوچ در کوچ چلا جاتا تھا۔
بارے بخیر و عافیت نزدیک قسطنطنیہ کے آ پہنچے۔ باہر شہر کے مقام کیا۔ سوداگر بچے نے کہا۔ اے قبلہ اگر رخصت دیجئے تو میں جا کر ماں باپ کو دیکھوں اور مکاں صاحب کے واسطے خالی کروں۔ جب مزاج سامی میں آوے شہر میں داخل ہو جئے، خواجہ نے کہا تمہاری خاطر تو میں یہاں آیا۔ اچھا جلد مل جل کر میرے پاس آؤ۔ اور اپنے نزدیک میرے اترنے کو مکان دو۔ سوداگر بچہ رخصت ہو کر اپنے گھر میں آیا۔ سب وزیر کے محل کے آدمی حیران ہوئے کہ یہ مرد کون گھس آیا۔ سوداگر بچہ، یعنی بیٹی وزیر کی، اپنی ماں کے پاؤں پر جا گری اور روئی اور بولی کہ میں تمہاری جائی ہوں۔ سنتے ہی وزیر کی بیگم گالیاں دینے لگی کہ اے تتری تو بڑی شتا ہو نکلی۔ اپنا منہ تو نے کالا کیا اور خاندان کو رسوا کیا۔ ہم تو تیری جان کو رو پیٹ کر صبر کر کے تجھ سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جا دفع ہو۔ تب وزیر زادی کے سر پر پگڑی اتار کر پھینک دی اور بولی اے اماں جان میں بری جگہ نہیں گئی۔ کچھ بدی نہیں کی۔ مگر تمہارے بموجب فرمانے کے بابا کو قید سے چھڑانے کی خاطر یہ فکر کی۔ الحمد اللہ تمہاری دعا کی برکت سے اور اللہ کے فضل سے پورا کام کر کے آئی ہوں، کہ نیشا پور سے اس سوداگر مع کتے، جس کے گلے میں وہ لعل پڑے ہیں، اپنے ساتھ لائی ہوں، اور تمہاری امانت میں بھی خیانت نہیں کی۔ سفر کے لیے مردانہ بھیس کیا ہے۔ اب ایک روز کا کام باقی ہے۔ وہ کر کر قبلہ گاہ پنڈت خانے سے چھڑاتی ہوں، اور اپنے گھر میں آتی ہوں۔ اگر حکم ہو تو پھر جاؤں اور ایک روز باہر رہ کر خدمت میں آؤں۔
ماں نے جب خوب معلوم کیا کہ میری بیٹی نے مردوں کا کام کیا ہے اور اپنے تئیں سب طرح سلامت و محفوظ رکھا ہے۔ خدا کی درگاہ میں نک گھسنی کی اور خوش ہو کر بیٹی کو چھاتی سے لگا لیا۔ اور منہ چوما بلائیں لیں، دعائیں دیں اور رخصت کیا کہ تو جو مناسب جان سو کر۔ میری، خاطر جمع ہوئی۔
وزیر زادی پھر سوداگر بچہ بن کر خواجہ سگ پرست کے پاس چلی۔ وہاں خواجہ کو جدائی اس کی از بسکہ مشاق ہوئی، بے اختیار ہو کر کوچ کیا۔ اتفاقاً نزدیک شہر کے ادھر سے سوداگر بچہ جاتا تھا اور ادھر سے خواجہ آتا تھا۔ عین راہ میں ملاقات ہوئی۔ خواجہ نے دیکھے ہی کہا بابا مجھ بوڑھے کو اکیلا چھوڑ کر کہا گیا تھا؟ سوداگر بچہ بولا آپ سے اجازت لے کر اپنے گھر گیا تھا۔ آخر ملازمت کے اشتیاق نے وہاں رہنے نہ دیا۔ آ کر حاضر ہوا۔ شہر کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک باغ سایہ دار دیکھ کر خیمہ استاد کیا اور وہیں اترے۔ خواجہ اور سوداگر بچہ باہم بیٹھ کر شراب و کباب پینے لگے۔ جب عصر کا وقت ہوا، سیر تماشے کی خاطر خیمے سے نکل کر صندلیوں پر بیٹھے۔
اتفاقاً ایک قراول بادشاہی ادھر آ نکلا۔ ان کا لشکر اور نشست برخاست دیکھ کر اچنبھے ہو رہا اور دل میں کہا۔ شاید ایلچی کسو بادشاہ کا آیا ہے، کھڑا تماشا دیکھتا تھا کہ خواجہ شاطر نے اس کو آگے بلایا اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے کہا میں بادشاہ کا میر شکار ہوں۔ شاطر نے خواجہ سے اس کا احوال کہا۔ خواجہ نے ایک غلام کافری کو کہا کہ جا کر باز دار سے کہہ کہ ہم مسافر ہیں۔ اگر جی چاہے تو آؤ بیٹھو، قہوہ قلیان حاضر ہے۔ جب میر شکار نے سوداگر کا سنا تو زیادہ متعجب ہوا، اور غلام کے ساتھ خواجہ کی مجلس میں آیا۔ لوازم اور شان و شوکت اور سپاہ و غلام دیکھے۔ خواجہ اور سوداگر بچے کو سلام کیا اور مرتبہ سگ کا نگاہ کیا۔ ہوش اس کے جاتے رہے۔ ہکا بکا سا ہو گیا۔ خواجہ نے اسے بٹھلا کر قہوہ کی ضیافت کی۔ قراول نے نام و نشان خواجہ کا پوچھا۔ جب رخصت مانگی خواجہ نے کئی تھان اور کچھ تحفے اس کو دے کر اجازت دی۔
صبح کو جب بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور درباریوں سے خواجہ سوداگر کا ذکر کرنے لگا، رفتہ رفتہ مجھ کو خبر ہوئی۔ میر شکار کو میں نے روبرو طلب کیا اور سوداگر کا احوال پوچھا۔ اس نے جو کچھ دیکھا تھا عرض کیا۔ سننے سے کتے کے تجمل کے اور وہ آدمیوں کے پنجرے میں قید ہونے کے مجھے کو خفگی ہوئی۔ میں نے فرمایا وہ مردود تاجر واجب القتل ہے۔ قشقچیوں کو حکم کیا کہ جلد جاؤ اس بے دین کا سر کاٹ لاؤ۔ قضا کار وہی ایلچی فرنگ کا دربار میں حاضر تھا، مسکرایا، مجھے اور بھی غضب زیادہ ہوا، فرمایا کہ اے بے ادب بادشاہوں کے حضور میں بے سبب دانت کھولنے ادب سے باہر ہیں۔ بے محل ہنسنے سے رونا بہتر ہے۔ اس نے التماس کیا۔ جہاں پناہ کئی باتیں خیال میں گزریں، لٰہذا فدوی متبسم ہوا۔ پہلے یہ کہ وزیر سچا ہے۔ اب قید خانے سے رہائی پاوے گا۔ دوسرے یہ کہ بادشاہ ناحق سے اس وزیر کے بچے۔ تیسرے یہ قبلہ عالم نے بے سبب اور بے تقصیر اس سوداگر کو حکم قتل کا کیا۔ ان حرکتوں سے تعجب آیا کہ بے تحقیق ایک بے وقوف کے کہنے سے آپ ہر کسو کو حکم قتل کر کر بیٹھے ہیں۔ خدا جانے فی الحقیقت اس خواجہ کا احوال کیا ہے، اسے حضور میں طلب کیجئے اور اس کی واردات پوچھئے اگر تقصیر وار ٹھہرے، تب مختار ہو، جو مرضی میں آوے اس سے سلوک کیجئے۔ جب ایلچی نے اس طرح سے سمجھایا، مجھے بھی وزیر کا کہنا یاد آیا۔ فرمایا جلد سوداگر کو اس کے بیٹے کے ساتھ اور وہ سگ اور قفس حاضر کرو۔ قورچی اس کے بلانے کو دوڑائے۔ وہ ایک دم میں سب کو حضور لے آئے۔ روبرو طلب کیا پہلے خواجہ اور اس کا پسر آیا۔ دونوں لباس فاخرہ پہنے ہوئے۔ سوداگر بچے کا جمال دیکھنے سے سب ادنیٰ اعلیٰ حیران اور بھیچک ہوئے۔ ایک خوان طلائی جواہر سے بھرا ہوا، کہ اس کی چھوٹ نے سارے مکان کو روشن کر دیا، سوداگر بچہ ہاتھ میں لئے آیا اور میرے تخت کے آگے نچھاور کیا، آداب کورنشات بجا لا کر کھڑا ہوا۔
خواجہ نے بھی زمین چومی اور دعا کرنے لگا اس گویائی سے بولتا تھا کہ گویا بلبل ہزار داستان ہے۔ میں نے اس لیاقت کو بہت پسند کیا، لیکن عتاب کی رو سے کہا۔ اے شیطان آدمی کی صورت! تو نے یہ کیا جال پھیلایا ہے اور اپنی راہ میں کنواں کھودا ہے؟ تیرا کیا دین ہے؟ اور یہ کون آئین ہے؟ کس پیغمبر کی امت ہے؟ اگر کافر ہے تو بھی یہ کیسی مت ہے؟ اور تیرا کیا نام ہے کہ تیرا یہ کام ہے؟ اس نے کہا قبلہ کی عمر و دولت بڑھتی رہے، غلام کا دین یہ ہے کہ خدا واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا ہوں اور اس کے بعد بارہ امام کو اپنا پیشوا جانتا ہوں۔ اور آئیں میرا یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں، حج بھی کر آیا ہوں، اور اپنے مال سے خمس زکوٰۃ دیتا ہوں، اور مسلمان کہلاتا ہوں، لیکن ظاہر میں یہ سارے عیب جو مجھ میں بھرے ہیں، جن کے سبب سے آپ ناخوش ہوئے اور تمام خلق اللہ میں بدنام ہو رہا ہوں اس کا ایک باعث ہے کہ ظاہر نہیں کر سکتا۔ ہر چند سگ پرست مشہور ہوں، اور مضاعف محصول دیتا ہوں۔ یہ سب قبول کیا ہے، پھر دل کا بھید کسو سے نہیں کہا۔
اس بہانے سے میرا غصہ زیادہ ہوا اور کہا، مجھے تو باتوں میں پھسلاتا ہے۔ میں نہیں ماننے کا، جب تلک اس اپنی گمراہی کی دلیل معقول عرض نہ کرے کہ میرے دل نشین ہو۔ تب تو جان سے بچے گا۔ نہیں تو اس کے قصاص میں تیرا پیٹ چاک کرواؤں گا، تو سب کی عبرت ہو کہ بار دیگر کوئی دین محمدی میں رخنہ نہ کرے۔ خواجہ نے کہا، اے بادشاہ! مجھ کم بخت کے خون سے درگزر کر۔ اور جتنا مال میرا ہے کہ گنتی اور شمار سے باہر ہے، سب کو ضبط کر لے اور مجھے اور میرے بیٹے کو اپنے تخت کے تصدق کر کر چھوڑ دے۔ اور جان بخشی کر۔
میں نے تبسم کر کے کہا، اے بیوقوف! اپنے مال کی طمع مجھے دکھاتا ہے، سوائے سچ بولنے کے اب تیری مخلصی نہیں۔ یہ سنتے ہی خواجہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپکنے لگے اور اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر ایک آہ بھری اور بولا، میں تو پادشاہ کے روبرو گنہگار ٹھہرا، مارا جاؤں گا۔ اب کیا کروں؟ تجھے کس کو سونپوں؟ میں نے ڈانٹا کہ اے مکار! بس اب عذر بہت کئے، جو کہنا ہے جلد کہہ۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.