
Chapter 13 of 25
阿扎德·巴赫特国王的故事:红宝石与大臣
The Emperor's Own Story: The Ruby and the Vizier
سرگذشت آزاد بخت بادشاہ کی: لعل اور وزیر
سرگذشت آزاد بخت پادشاہ کی
جب دوسرا درویش بھی اپنی سیر کا قصہ کہہ چکا، رات آخر ہو گئی اور وقت صبح کا شروع ہونے پر آیا۔ بادشاہ آزاد بخت چپکا اپنے دولت خانے کی طرف روانہ ہوا۔ محل میں پہنچ کر نماز ادا کی۔ پھر غسل خانے میں جا کر خلعت فاخرہ پہن کر دیوان عام میں تخت پر نکل بیٹھا۔ اور حکم کیا کہ یساول جاوے۔ چار فقیر فلانے مکان پر وارد ہیں۔ ان کو با عزت اپنے ساتھ حضور میں لے آوے۔
بموجب حکم کے چوب دار وہاں گیا۔ دیکھا تو چاروں بے نوا، جھاڑا جھٹکا، پھر ہاتھ منہ دھو کر چاہتے ہیں کہ وداع کریں اور اپنی اپنی راہ لیں۔ چیلے نے کہا، شاہ جی نے چاروں صورتوں کو طلب فرمایا۔ میرے ساتھ چلیے۔ چاروں درویش آپس میں ایک ایک کو تکنے لگے اور چوب دار سے کہا بابا! ہم اپنے دل کے بادشاہ ہیں۔ ہمیں دنیا کے بادشاہ سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا میاں اللہ! مضائقہ نہیں اگر چلو تو اچھا ہے۔ اتنے میں چاروں کو یاد آیا کہ مولا مرتضیٰ نے جو فرمایا تھا، سو اب پیش آیا۔ خوش ہوئے اور یساول کے ہمراہ چلے۔ جب قلعے میں پہنچے اور روبرو بادشاہ کے گئے، چاروں قلندروں نے دعا دی کہ بابا! تیرا بھلا ہو۔ بادشاہ دیوان خاص میں جا بیٹھے، اور دو چار خاص امیروں کو بلایا، اور فرمایا کہ چاروں گدڑی پوشوں کو بلاؤ۔ جب وہاں گئے حکم بیٹھنے کا کیا۔ احوال پرسی فرمائی کہ تمہارا کہاں سے آنا ہوا، اور کہاں کا ارادہ ہے؟ مکان مرشدوں کے کہاں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ بادشاہ کی عمر و دولت زیادہ رہے۔ ہم فقیر ہیں۔ ایک مدت سے خانہ بدوش اسی طرح سیر و سفر کرتے پھرتے ہیں۔ وہ مثل ہے فقیر کو جہاں شام ہوئی وہیں گھر ہے۔ اور جو کچھ اس دنیائے ناپائدار میں دیکھا ہے کہاں تک بیان کریں؟ آزاد بخت نے بہت تسلی اور تشفی کی اور کھانے کو منگوا کر اپنے روبرو ناشتہ کروایا، جب فارغ ہوئے، پھر فرمایا کہ اپنا ماجرا تمام بے کم و کاست مجھ سے کہو۔ جو مجھ سے تمہاری خدمت ہو سکے گی قصور نہ کروں گا۔
فقیروں نے جواب دیا کہ ہم پر جو کچھ بیتا ہے، نہ ہمیں بیان کرنے کی طاقت ہے اور نہ بادشاہ کے سننے سے فرحت ہو گی، اس کو معاف کیجیے۔ تب بادشاہ نے تبسم کیا، اور کہا۔ شب کو جہاں تم بستروں پر بیٹھے اپنا احوال کہہ رہے تھے، وہاں میں بھی موجود تھا، چنانچہ دو درویش کا احوال سن چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ دونوں جو باقی ہیں، وے بھی کہیں اور چند روز بخاطر جمع میرے پاس رہیں کہ قدم درویشان ردِّ بلا ہے۔ بادشاہ سے یہ بات سنتے ہی مارے خوف کے کانپنے لگے اور سر نیچے کر کے چپ ہو رہے۔ طاقت گویائی کی نہ رہی۔
آزاد بخت نے جب دیکھا کہ اب ان میں مارے رعب کے حواس نہیں رہے، جو کچھ بولیں۔ فرمایا کہ اس جہاں میں کوئی شخص ایسا نہ ہو گا جس پر ایک نہ ایک واردات عجیب و غریب نہ ہوئی ہو گی۔ باوجودے کہ بادشاہ ہوں لیکن میں نے ایسا تماشا دیکھا ہے کہ پہلے میں ہی اس کا بیان کرتا ہوں۔ تم بہ خاطر جمع سنو! درویشوں نے کہا۔ بادشاہ سلامت آپ کا الطاف فقیروں پر ایسا ہی ہے۔ ارشاد فرمائیے۔
آزاد بخت نے اپنا احوال کہنا شروع کیا اور کہا۔
اے شاہو! بادشاہ کا اب ماجرا سنو
جو کچھ کہ میں نے دیکھا ہے اور ہے سنا، سنو
کہتا ہوں میں فقیر کی خدمت میں سر بسر
احوال میرا خوب طرح دل لگا سنو
میرے قبلہ گاہ نے جب وفات پائی اور میں اس تخت پر بیٹھا۔ عین عالم شباب کا تھا۔ اور سارا یہ ملک روم کا میرے حکم میں تھا۔ اتفاقاً ایک سال کوئی سوداگر بدخشاں کے ملک سے آیا، اور اسباب تجارت کا بہت سا لایا۔ خبرداروں نے میرے حضور میں خبر کی کہ ایسا بڑا تاجر آج تک شہر میں نہیں آیا۔ میں نے اس کو طلب فرمایا۔
وہ تحفے ہر ایک ملک کے لائق میری نذر کے لے کر آیا۔ فی الواقع ہر ایک جنس بے بہا نظر آئی۔ چنانچہ ایک ڈبیا میں ایک لعل تھا نہایت خوش رنگ اور آبدار، قد و قامت درست وزن میں پانچ مثقال کا۔ میں نے باوجود سلطنت کے ایسا جواہر کبھو نہ دیکھا تھا اور نہ کسو سے سنا تھا۔ پسند کیا۔ سوداگر کو بہت سا انعام و اکرام دیا اور سند راہ داری کی لکھ دی کہ اس سے ہماری تمام قلمرو میں کوئی مزاحم محصول کا نہ ہو اور جہاں جاوے اس کو آرام سے رکھیں۔ چوکی پہرے میں رہیں اس کا نقصان اپنا نقصان سمجھیں۔ وہ تاجر حضور میں دربار کے وقت حاضر رہتا اور آدابِ سلطنت سے خوب واقف تھا۔ اور تقریر و خوش گوئی اس کے لائق سننے کے تھی اور میں اس لعل کو ہر روز جواہر خانے سے منگوا کر سرِ دربار دیکھا کرتا۔
ایک روز دیوان عام کیے بیٹھا، اور امراء و ارکان دولت اپنے اپنے پائے پر کھڑے تھے۔ اور ہر ملک کے بادشاہوں کے ایلچی مبارک باد کی خاطر جو آئے تھے، وہ بھی سب حاضر تھے۔ اس وقت میں نے موافق معمول کے اس لعل کو منگوایا، جواہر خانے کا داروغہ لے کر آیا۔ میں ہاتھ میں لے کر تعریف کرنے لگا اور فرنگ کے ایلچی کو دیا۔ اس نے دیکھ کر تبسم کیا اور زمانہ سازی سے صفت کی۔ اس طرح ہاتھوں ہاتھ ہر ایک نے لیا اور دیکھا اور ایک زبان ہو کر بولے قبلہ عالم کے اقبال کے باعث یہ میسر ہوا ہے۔ واللہ کسو بادشاہ کے ہاتھ آج تک ایسا رقم بے بہا نہیں لگا۔ اس وقت میرے قبلہ گاہ کا وزیر، کہ مرد دانا تھا اور اسی خدمت پر سرفراز تھا، وزارت کی چوکی پر کھڑا تھا، آداب بجا لایا، اور التماس کیا کہ کچھ عرض کیا چاہتا ہوں اگر جان بخشی ہو۔
میں نے حکم کیا کہہ۔ وہ بولا قبلہ عالم آپ بادشاہ ہیں اور بادشاہوں سے بہت بعید ہے کہ ایک پتھر کی تعریف کریں۔ اگرچہ رنگ ڈھنگ سنگ میں لاثانی ہے، لیکن سنگ ہے اور اس دم سب ملکوں کے ایلچی دربار میں حاضر ہیں۔ جب اپنے اپنے شہر میں جاویں گے البتہ یہ نقل کریں گے کہ عجب بادشاہ ہے کہ ایک لعل کہیں سے پایا ہے، اسے ایسا تحفہ بنایا ہے کہ ہر روز روبرو منگاتا ہے اور آپ اس کی تعریف کر کر سب کو دکھاتا ہے۔ پس جو بادشاہ یا راجہ احوال سنے گا، اپنی مجلس میں ہنسے گا۔ خداوند! ایک ادنیٰ سوداگر نیشاپور میں ہے۔ اس نے بارہ دانے لعل کے ہر ایک سات سات مثقال کا ہے، پٹے میں نصب کر کر کتے کے گلے میں ڈال دیے۔ مجھے سنتے ہی غصہ چڑھ آیا۔ اور کھسیانے ہو کر فرمایا کہ اس وزیر کی گردن مار دو۔ جلادوں نے وونہیں اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور چاہا کہ باہر لے جاویں۔ فرنگ کے بادشاہ کا ایلچی دست بستہ روبرو آ کھڑا ہوا۔ میں نے پوچھا کہ تیرا کیا مطلب ہے؟ اس نے عرض کی امیدوار ہوں کہ تقصیر سے وزیر کی واقف ہوں۔ میں نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے سے اور بڑا گناہ کونسا ہے۔ خصوصاً بادشاہوں کے روبرو؟ اس نے کہا اس کا دروغ ثابت نہیں ہوا۔ شاید جو عرض کی ہے، سچ ہو۔ ابھی بے گناہ کا قتل کرنا درست نہیں۔ اس کا میں نے یہ جواب دیا کہ ایک سوداگر جو ہر گز پھرتا ہے اور کوڑی کوڑی جمع کرتا ہے، بارہ دانے لعل کے جو وزن میں سات سات مثقال کے ہوں، کتے کے پٹے میں لگاوے۔ اس نے کہا۔ خدا کی قدرت سے تعجب نہیں۔ شاید کہ باشد ایسے تحفے اکثر سوداگروں اور فقیروں کے ہاتھ آتے ہیں۔ اس واسطے کہ یہ دونوں ہر ایک ملک میں جاتے ہیں اور جہاں سے جو کچھ پاتے ہیں، لے آتے ہیں۔ صلاح دولت یہ ہے کہ اگر وزیر ایسا ہی تقصیر وار ہے تو حکم قید کا ہو۔ اس لیے کہ بادشاہ عقل کل ہوتے ہیں، اور یہ حرکت سلاطین سے بدنما ہے کہ ایسی بات پر کہ جھوٹ سچ اس کا ابھی ثابت نہیں ہوا، حکم قتل کا فرمائیں اور اس کی تمام عمر کی خدمت اور نمک حلالی بھول جائیں۔
بادشاہ سلامت! اگلے شہر یاروں نے بندی خانہ اسی سبب ایجاد کیا کہ بادشاہ یا سردار اگر کسو پر غضب ہوں تو اسے قید کریں۔ کئی دن میں غصہ جاتا رہے گا، اور بے تقصیری اس کی ظاہر ہو گی۔ بادشاہ خون ناحق سے محفوظ رہیں گے۔ کل کو روز قیامت میں ماخوذ نہ ہوں گے۔
میں نے جتنا اس کے قائل کرنے کو چاہا اس نے ایسی معقول گفتگو کی کہ مجھے لاجواب کیا۔ تب میں نے کہا کہ خیر تیرا کہنا پذیرا ہوا۔ میں خون سے اس کے درگذرا لیکن زندان میں مقید رہے گا۔ اگر ایک سال کے عرصے میں اس کا سخن راست ہوا کہ ایسے لعل کتے کے گلے میں ہیں تو اس کی نجات ہو گی۔ اور نہیں تو بڑے عذاب سے مارا جاوے گا۔ فرمایا کہ وزیر کو پنڈت خانے میں لے جاؤ۔ یہ سن کر ایلچی نے زمین خدمت کی چومی اور تسلیمات کی۔
جب یہ خبر وزیر کے گھر میں گئی، آہ واویلا مچا اور ماتم سرا ہو گیا۔ اس وزیر کی ایک بیٹی تھی برس چودہ پندرہ کی۔ نہایت خوب صورت اور قابل، نوشت و خواند میں درست۔ وزیر اس کو نپٹ پیار کرتا تھا اور عزیز رکھتا تھا، چنانچہ اپنے دیوان خانے کے پچھواڑے ایک رنگ محل اس کی خاطر بنوا دیا تھا۔ اور لڑکیاں عمدوں کی اس کی مصاحبت میں اور خواصیں تکمیل خدمت میں رہتیں۔ ان سے ہنسی خوشی کھیلا کودا کرتی۔
اتفاقاً جس دن وزیر کو محبوس خانے میں بھیجا، وہ لڑکی اپنی ہم جولیوں میں بیٹھی تھی اور خوشی سے گڑیا کا بیاہ رچایا تھا۔ اور ڈھولک پکھاوج لیے ہوئے رت جگے کی تیاری کر رہی تھی۔ اور کڑاہی چڑھا کر گلگلے اور تلتی اور بنا رہی تھی کہ ایک بارگی اس کی ماں روتی پیٹتی، سر کھلے، پاؤں ننگے، بیٹی کے گھر میں گئی اور دو ہتڑ اس لڑکی کے سر پر ماری اور کہنے لگی کاش کہ تیرے بدلے خدا اندھا بیٹا دیتا تو میرا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا۔ اور باپ کا رفیق ہوتا۔ وزیر زادی نے پوچھا۔ اندھا بیٹا تمہارے کس کام آتا؟ جو کچھ بیٹا کرتا میں بھی کر سکتی ہوں۔ امّاں نے جواب دیا خاک تیرے سر پر! یہ بپتا بیتی ہے کہ بادشاہ کے روبرو کچھ ایسی بات کہی کہ بندی خانے میں قید ہوا۔ اس نے پوچھا وہ کیا بات تھی؟ ذرا میں بھی تو سنوں تب وزیر کے قبیلے نے کہا کہ تیرے باپ نے شاید یہ کہا کہ نیشاپور میں کوئی سوداگر ہے۔ اس نے بارہ عدد لعل بے بہا کتے کے پٹے میں ٹانکے ہیں۔ بادشاہ کو باور نہ ہوا۔ اس نے جھوٹا سمجھا اور اسیر کیا۔ اگر آج کے دن بیٹا ہوتا تو ہر طرح سے کوشش کر کر اس بات کی تحقیق کرتا، اور اپنے باپ کا اپرالا کرتا۔ اور بادشاہ سے عرض معرض کر کے میرے خاوند کو پنڈت خانے سے مخلصی دلواتا۔
وزیر زادی بولی۔ امّاں جان! تقدیر سے لڑا نہیں جاتا۔ چاہیے انسان بلائے ناگہانی میں صبر کرے اور امیدوار فضل الٰہی کا رہے۔ وہ کریم ہے مشکل کسو کی اٹکی نہیں رکھتا اور رونا دھونا خوب نہیں۔ مبادا دشمن اور طرح سے بادشاہ کے پاس لگا دیں اور لتریں چغلی کھاویں کہ باعث زیادہ خفگی کا ہو۔ بلکہ جہاں پناہ کے حق میں دعا کرو۔ ہم اس کے خانہ زاد ہیں۔ وہ ہمارا خداوند ہے۔ وہی غضب ہوا ہے، وہی مہربان ہو گا۔ اس لڑکی نے عقل مندی سے ایسی ایسی طرح ماں کو سمجھایا کہ کچھ اس کو صبر و قرار آیا۔ تب اپنے محل میں گئی اور چپکی ہو رہی۔ جب رات ہوئی وزیر زادی نے دادا کو بلایا۔ اس کے ہاتھ پاؤں پڑی، بہت سی منت کی اور رونے لگی اور کہا۔ میں یہ ارادہ رکھتی ہوں کہ امّاں جان کا طعنہ مجھ پر نہ رہے اور میرا باپ مخلصی پاوے۔ جو تیرا رفیق ہو تو میں نیشاپور کو چلوں اور اس تاجر کو، جس کے کتے کے گلے میں ایسے لعل ہیں، دیکھ کر جو بن آوے لے کر آؤں اور اپنے باپ کو چھڑاؤں۔
پہلے تو اس مرد نے انکار کیا آخر بہت کہنے سننے سے راضی ہوا۔ تب وزیر زادی نے فرمایا۔ چپکے چپکے اسباب سفر کا درست کر اور جنس تجارت کے لائق نذر بادشاہوں کے خرید کر، اور غلام و نوکر چاکر جتنے ضرور ہوں ساتھ لے۔ لیکن یہ بات کسو پر نہ کھلے۔ دادا نے قبول کیا اور اس کی تیاری میں لگا۔ جب سب اسباب مہیا کی اونٹوں اور خچروں پر بار کر کر روانہ ہوا۔ اور وزیر زادی بھی لباس مردانہ پہن کر ساتھ جا ملی ہر گز کسو کو خبر نہ ہوئی۔ جب صبح ہوئی۔ وزیر کے محل میں چرچا ہوا کہ وزیر زادی غائب ہے۔ معلوم نہیں کیا ہوئی۔
آخر بدنامی کے ڈر سے ماں نے بیٹی کا گم ہونا چھپایا، اور وہاں وزیر زادی نے اپنا نام سوداگر بچہ رکھا۔ منزل بہ منزل چلتے چلتے نیشاپور میں پہنچی۔ خوشی بہ خوشی کارواں سرا میں جا اتری، اور سب اپنا اسباب اتارا۔ رات کو رہی۔ فجر کی حمام میں ہو گئی۔ اور پوشاک پاکیزہ جیسے روم کے باشندے پہنتے ہیں پہنی، شہر کی سیر کے واسطے نکلی۔ آتے آتے جب چوک میں پہنچی چوراہے پر کھڑی ہوئی۔ ایک طرف دکان جوہری کی نظر پڑی کہ بہت سے جواہر کا ڈھیر لگ رہا ہے، اور غلام فاخرہ لباس پہنے ہوئے دست بستہ کھڑے ہیں۔ اور ایک شخص جو سردار ہے، برس پچاس ایک کی اس کی عمر ہے، طالع مندوں کی سی خلعت اور نیم آستیں پہنے ہوئے اور کئی صاحب با وضع نزدیک اس کے کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ اور آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.