
Chapter 12 of 25
第二个托钵僧的游历:瑜伽士的书与高加夫山的仙女
The Second Darvesh: The Yogi's Book and the Fairy of Qaf
سیر دوسرے درویش کی: جوگی کی کتاب اور کوہ قاف کی پری
وہ مہنت جسے اس زمانے کا افلاطون کہا چاہیے، قارورہ اور نبض دیکھتا ہوا اور ہر ایک کو نسخہ لکھ کر دیتا ہوا چلا جاتا ہے۔ خدا نے ایسا دست شفا اس کو دیا ہے کہ دارو پیتے ہی اثر ہوتا ہے اور وہ مرض بالکل جاتا رہتا ہے۔ یہ ماجرا میں نے بہ چشمِ خود دیکھا اور خدا کی قدرت کو یاد کیا کہ ایسے ایسے بندے پیدا کیئے ہیں۔ اگر حکم ہو تو شہزادہ عالمیان کو اس کے پاس لے جاویں، اس کو ایک نظر دکھاویں، امید قوی ہے کہ جلد شفائے کامل ہو۔ اور ظاہر میں بھی یہ تدبیر اچھی ہے کہ ہر ایک ملک کی ہوا کھانے سے اور جا بجا کے آب و دانے سے مزاج میں فرحت آتی ہے۔
بادشاہ کو بھی اس کی صلاح پسند آئی اور خوش ہو کر فرمایا بہت بہتر، شاید اس کا ہاتھ راس آوے اور میرے فرزند کے دل سے وحشت جاوے، ایک امیر معتبر جہاں دیدہ، کار آزمودہ کو اور اس تاجر کو میر رکاب میں تعینات کیا اور اسباب ضروری ساتھ کر دیا۔ نواڑی، بجرے، مور پنکھی پلوار، لچکے، کھیلنے، الاق، پٹیلیوں پر مع سر انجام سوار کر کر رخصت کیا۔ منزل منزل چلتے چلتے اس ٹھکانے پر جا پہنچے۔ نئی ہوا اور نیا دانہ پانی کھانے پینے سے کچھ مزاج ٹھہرا، لیکن خاموشی کا وہی عالم تھا اور رونے سے کام۔ دم بہ دم اسی پری کی صورت دل سے بھولتی نہ تھی۔ اگر کبھو بولتا تو بیت پڑھتا۔
نہ جانوں کس پری رو کی نظر ہوئیابھی تو تھا بھلا چنگا مرا دل
بارے جب وہ تین مہینے گزرے اس پہاڑ پر قریب چار ہزار مریض کے جمع ہوئے، لیکن سب یہی کہتے تھے کہ اب خدا چاہے تو گسائیں اپنے مٹھ سے نکلیں گے اور سب کو ان کے فرمانے سے شفائے کلی ہو گی۔
القصہ جس دن وہ دن آیا، صبح کو جوگی مانند آفتاب سے نکل آیا اور دریا میں نہایا اور پیرا، پار جا کر پھر آیا اور بھبھوت بھسم تمام بدن میں لگایا۔ وہ گورا بدن مانند انگار کے راکھ میں چھپایا اور ماتھے پر ملا گیر کا ٹیکا دیا، لنگوٹ باندھ کر انگوچھا کاندھے پر ڈالا بھالوں کا جوڑا باندھا، موچھوں پر تاؤ دے کر چڑھواں جوتا اڑایا۔ اس کے چہرے سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری دنیا اس کے نزدیک کچھ قدر نہیں رکھتی۔ ایک قلم دان جڑاؤ بغل میں لے کر ایک ایک کی طرف دیکھتا اور نسخہ دیتا ہوا میرے نزدیک آ پہنچا۔ جب میری اور اس کی چار نظریں ہوئیں، کھڑا رہ کر غور میں گیا اور مجھ سے کہنے لگا ہمارے ساتھ آؤ۔ میں ہم راہ ہو لیا۔
جب سب کی نوبت ہو چکی، میرے تئیں باغ کے اندر لے گیا اور ایک مقطع خوش نقش خلوت خانے میں مجھے فرمایا کہ یہاں تم رہا کرو، اور آپ اپنے استھان میں گیا۔ جب ایک چِلا گزرا تو میرے پاس آیا اور آگے کی نسبت مجھے خوش پایا۔ تب مسکرا کر فرمایا کہ اس باغیچے میں سیر کیا کرو۔ جس میوے پر جی چلے کھایا کرو اور ایک قلفی چینی کی معجون بھری ہوئی دی کہ اس میں سے چھ ماشے ہمیشہ بلا ناغہ نوش جان فرمایا کرو۔ یہ کہہ کر وہ تو چلا گیا، اور میں نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔ ہر روز قوت بدن میں اور فرحت دل کی معلوم ہونے لگی، لیکن حضرت عشق کو کچھ اثر نہ کیا۔ اس پری کی صورت نظروں کے آگے پھرتی تھی۔
ایک روز طاق میں جلد کتاب کی نظر آئی۔ اتار کر دیکھا تو سارے علم دین دنیا کے اس میں جمع کئے تھے۔ گویا دریا کو کوزے میں بھر دیا تھا۔ ہر گھڑی اس کا مطالعہ کیا کرتا۔ علم حکمت اور تسخیر میں نہایت قوت بہم پہنچائی۔ اس عرصے میں برس دن گزر گیا۔ پھر وہی خوشی کا دن آیا۔ جوگی اپنے آسن پر سے اٹھ کر باہر نکلا۔ میں نے سلام کیا۔ ان نے قلم دان مجھے دے کر کہا ساتھ چلو۔ میں بھی ساتھ ہو لیا۔ جب دروازے سے باہر نکلا ایک عالم دعا دینے لگا۔ وہ امیر اور سوداگر مجھے ساتھ دیکھ کر گسائیں کے قدموں میں گرے اور ادائے شکر کرنے لگے کہ آپ کی توجہ سے بارے اتنا تو ہوا۔ وہ اپنی عادت پر دریا کے گھاٹ تک گیا اور اشنان پوجا جس طرح ہر سال کرتا تھا، پھرتی بار بیماریوں کو دیکھتا بھالتا چلا آتا تھا۔
اتفاقاً سودائیوں کے غول میں ایک جوان خوب صورت شکیل، کہ ضعف سے کھڑے ہونے کی طاقت اس میں نہ تھی، نظر پڑا۔ مجھ کو کہا کہ اس کو ساتھ لے آؤ۔ سب کی دارو درمن کر کے جب خلوت خانے میں گیا۔ تھوڑی سی کھوپڑی اس جوان کی تراش کر، چاہا کہ کنکھجورا جو مغز پر بیٹھا تھا، زنبور سے اٹھا لیوے۔ میرے خیال میں گذرا اور بول اٹھا کہ اگر دست پناہ آگ میں گرم کر کر اس کی پیٹھ پر رکھئے تو خوب ہے۔ آپ سے آپ نکل آوے گا۔ اور جو یوں کھینچے گا تو مغز کے گودے کو نہ چھوڑے گا۔ پھر خوف زندگی کو ہے۔ یہ سن کر میری طرف دیکھا اور چپکا اٹھا باغ کے کونے میں ایک درخت کو لے میں پکڑ جٹا کی لٹ کی گلے میں پھانسی لگا کر رہ گیا۔ میں نے پاس جا کر دیکھا تو واہ واہ یہ تو مر گیا۔ یہ اچنبھا دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔ لاچار جی میں آیا اس کو گاڑ دوں۔ جوں درخت سے جدا کرنے لگا دو کنجیاں اس کی لٹوں میں سے گر پڑیں۔ میں نے ان کو اٹھا لیا اور اس گنج خوبی کو زمیں میں دفن کیا۔ وہ دونوں کنجیاں لے کر سب قفلوں میں لگانے لگا۔ اتفاقاً دو حجروں کے تالے ان تالیوں سے کھلے۔ دیکھا تو زمیں سے چھت تلک جواہر بھرا ہوا ہے۔ اور ایک پیٹی مخمل سے مڑھی سونے کے پتر لگی قفل دی ہوئی ایک طرف دھری ہے۔ اس کو جو کھولا تو ایک کتاب دیکھی کہ اس میں اسم اعظم اور حاضرات جن و پری کی اور روحوں کی ملاقات اور تسخیر آفتاب کی ترکیب لکھی ہے۔
ایسی دولت کے ہاتھ لگنے سے نہایت خوشی حاصل ہوئی اور ان پر عمل کرنا شروع کیا۔ دروازہ باغ کا کھول اپنے اس امیر اور ساتھ والوں کو کہا کہ کشتیاں منگوا کر یہ سب جواہر و نقد جنس اور کتابیں بار کر لو اور ایک نواڑے پر آپ سوار ہو کر وہاں سے بحر کی راہ روانہ ہوا۔ آتے آتے جب نزدیک اپنے ملک کے پہنچا، جہاں پناہ کو خبر ہوئی۔ سوار ہو کر استقبال کیا اور اشتیاق سے بے قرار ہو کر کلیجے سے لگا لیا۔ میں نے قدم بوسی کر کر کہا کہ اس خاک سار کو قدیم باغ میں رہنے کا حکم ہوا۔ بولے کہ اے برخوردار وہ مکان میرے نزدیک منحوس ٹھہرا۔ لہٰذا اس کی مرمت اور تیاری موقوف کی۔ اب وہ مکان لائق انسان کے رہنے کے نہیں رہا۔ اور جس محل میں جی چاہے، اترو۔ بہتر یوں ہے کہ قلعے میں کوئی جگہ پسند کر کے میری آنکھوں کے روبرو رہو اور پائیں باغ جیسا چاہو تیار کروا کر سیر تماشا کرو۔ میں نے بہت ضد اور ہٹ کر کر اس باغ کو نئے سرے سے تعمیر کروا دیا اور بہشت کی مانند آراستہ کر داخل ہوا۔ پھر فراغت سے جنوں کی تسخیر کی خاطر چلے بیٹھا اور ترک حیوانات کر کر حاضرات کرنے لگا۔
جب چالیس دن پورے ہوئے تب آدھی رات کو ایک ایسی آندھی آئی کہ بڑی بڑی عمارتیں گر پڑیں اور درخت جڑ پیڑ سے اکھڑ کر کہیں سے کہیں جا پڑے، اور پری زادیوں کا لشکر نمودار ہوا۔
ایک تخت ہوا سے اترا۔ اس پر ایک شخص شاندار موتیوں کا تاج اور خلعت پہنے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھتے ہی بہت مودب ہو کر سلام کیا۔ اس نے میرا سلام لیا اور کہا اے عزیز! یہ کیا تو نے ناحق دند مچایا؟ ہم سے تجھے کیا مدّعا ہے؟ میں نے التماس کیا کہ یہ عاجز بہت مدت سے تمہاری بیٹی پر عاشق ہے، اور اسی لیے کہاں سے کہاں خراب و خستہ ہوا اور جیتے جی موا۔ اب زندگی سے بھی تنگ آیا ہوں اور اپنی جان پر کھیلا ہوں، جو یہ کام کیا ہے۔ اب آپ کی ذات سے امیدوار ہوں کہ مجھ حیران سرگردان کو اپنی توجہ سے سرفراز کرو، اور اس کے دیدار سے زندگی اور آرام بخشو تو بڑا ثواب ہو گا۔ یہ میری آرزو سن کر بولا کہ آدمی خاکی اور ہم آتشی، ان دونوں میں موافقت آنی مشکل ہے۔ میں نے قسم کھائی کہ ان کے دیکھنے کا میں مشتاق ہوں اور کچھ مطلب نہیں۔ پھر اس تخت نشین نے جواب دیا کہ انسان اپنے قول و قرار پر نہیں رہتا۔ غرض کے وقت پر سب کچھ کہتا ہے لیکن یاد نہیں رکھتا۔ یہ بات میں تیرے بھلے کے لیے کہہ سناتا ہوں کہ اگر تو نے کبھی قصد کچھ اور کیا تو وہ بھی اور تو بھی دونوں خراب اور خستہ ہو گئے، بلکہ خوف جان کا ہے۔ میں نے پھر دوبارہ سوگند یاد کی کہ جس میں طرفین کی برائی ہو، ویسا کام ہر گز نہ کروں گا۔ مگر ایک نظر دیکھتا رہوں گا۔ یہ باتیں ہوتیاں تھیں کہ انچت وہ پری کہ جس کا مذکور تھا، نہایت ٹھسے سے بناؤ کیے ہوئے آ پہنچی اور بادشاہ کا تخت وہاں سے چلا گیا۔ تب میں نے بے اختیار اس پری کو جان کی طرح بغل میں لے لیا اور یہ شعر پڑھا:
کماں ابرو مرے گھر کیوں نہ آوےکہ جس کے واسطے کھینچے ہیں چلّے
اسی خوشی کے عالم میں باہم اس باغ میں رہنے لگے۔ مارے ڈر کے کچھ اور خیال نہ کرتا۔ بلائیں لیتا اور فقط دیکھا کرتا۔ وہ پری میرے قول و قرار کے نباہنے پر دل میں حیران رہتی اور بعضے وقت کہتی کہ پیارے! تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو، لیکن ایک نصیحت میں دوستی کی راہ سے کرتی ہوں۔ اپنی کتاب سے خبردار رہیو کہ جن کسی نہ کسی دن تمہیں غافل پا کر چرا کر لے جائیں گے۔ میں نے کہا اسے میں اپنی جان کے برابر رکھتا ہوں۔
اتفاقاً ایک روز رات کو شیطان نے ورغلایا۔ شہوت کی حالت میں یہ دل میں آیا کہ جو کچھ ہو سو ہو، کہاں تلک اپنے تئیں تھانبوں؟ اسے چھاتی سے لگایا اور قصد جماع کا کیا۔ وونہیں ایک آواز آئی۔ یہ کتاب مجھ کو دے کہ اس میں اسم اعظم ہے، بے ادبی نہ کر۔ اس مستی کے عالم میں کچھ ہوش نہ رہا۔ کتاب بغل سے نکال کر بغیر جانے پہچانے حوالے کر دی اور اپنے کام میں لگا۔ وہ نازنین یہ میری نادانی کی حرکت دیکھ کر بولی کہ ظالم! آخر چوکا اور نصیحت بھولا۔
یہ کہہ کر بے ہوش ہو گئی اور میں نے اس کے سرہانے ایک دیو دیکھا کہ کتاب لیے کھڑا ہے۔ چاہا کہ پکڑ کر خوب ماروں اور کتاب چھین لوں۔ اتنے میں اس کے ہاتھ سے کتاب دوسرا لے بھاگا۔ میں نے جو افسوں یاد کیے تھے، پڑھنے شروع کیے۔ وہ جن جو کھڑا تھا بیل بن گیا، لیکن افسوس کہ پری ذرا بھی ہوش میں نہ آئی اور وہی حالت بے خودی کی رہی۔ تب میرا دل گھبرایا۔ سارا عیش تلخ ہو گیا۔
اس روز آدمیوں سے نفرت ہوئی۔ اس باغ کے گوشے میں پڑا رہتا ہوں اور دل بہلانے کی خاطر یہ مرتبان زمرد کا جھاڑ دار بنایا کرتا ہوں، اور ہر مہینے اس میدان میں اس بیل پر سوار ہو کر جایا کرتا ہوں۔ مرتبان کو توڑ کر غلام کو مار ڈالتا ہوں۔ اس امید پر کہ سب میری حالت دیکھیں اور افسوس کھاویں۔ شاید کوئی ایسا خدا کا بندہ مہربان ہو کہ میرے حق میں دعا کرے تو میں بھی اپنے مطلب کو پہنچوں۔
اے رفیق! میرے جنون اور سودا کی یہ حقیقت ہے جو میں نے تجھے کہہ سنائی۔ میں سن کر آبدیدہ ہوا اور بولا کہ اے شہزادے! تو نے واقعی عشق کی بڑی محنت اٹھائی۔ لیکن قسم خدا کی کھاتا ہوں کہ میں اپنے مطلب سے درگزرا۔ اب تیری خاطر جنگل پہاڑ پھروں گا اور جو مجھ سے ہو سکے گا کروں گا۔ یہ وعدہ کر کر میں جوان سے رخصت ہوا، اور پانچ برس تک سودائی سا ویرانے میں خاک چھانتا پھرا، سراغ نہ ملا۔
آخر اکتا کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور چاہا کہ اپنے تئیں گرا دوں کہ ہڈی پسلی کچھ ثابت نہ رہے۔ وہی ایک سوار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ اپنی جان مت کھو، تھوڑے دنوں کے بعد تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گا۔ یا سائیں اللہ! تمہارے دیدار تو میسر ہوئے۔ اب خدا کے فضل سے امیدوار ہوں کہ خوشی اور خرمی حاصل ہو۔ اور سب نامراد اپنی مراد کو پہنچیں۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.