
Глава 8 из 10
The Fifth Cause: The Army
اصل پنجم: فوج کا انتظام
اصل پنجم
بد انتظامی اور بے اہتمامی فوج۔
ہماری گورنمنٹ کا انتظام فوج ہمیشہ قابل اعتراض کے تھا۔ فوج انگلشیہ کی کمی ہمیشہ اعتراض کی جگہ تھی۔ جب کہ نادر شاہ نے خراسان پر فتح پائی اور ایران اور افغانستان دو مختلف ملک اس کے قبضہ میں آئے، اس نے برابر کی دو فوجیں آراستہ کیں: ایک ایرانی قزلباشی، دوسری افغانی۔ جب ایرانی فوج کچھ عدول حکمی کا ارادہ کرتی تو افغانی فوج اس کے دبانے کو موجود تھی، اور جب افغانی فوج سرتابی کرتی تو قزلباشی اس کے تدارک کو موجود ہوتی۔ ہماری گورنمنٹ نے یہ کام ہندوستان میں نہیں کیا۔ ہم نے مانا کہ ہندوستانی فوج سرکار کی بڑی تابعدار اور خیرخواہ اور جاں نثار تھی، مگر یہ کہاں سے عہد ہو گیا تھا کہ کبھی اس فوج کی خلاف مرضی حکم نہ ہو گا اور کسی حکم سے یہ فوج آزردہ خاطر نہ ہو گی؟ پھر درصورت ناراض ہو جانے اس فوج کے، جیسا کہ ہوا، کیا راہ رکھنی تھی ہماری گورنمنٹ نے جس سے اس تمردی کا رفع دفع فی الفور ہو سکتا؟
یہ بات سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہندو و مسلمان دونوں قوموں کو جو آپس میں مخالف ہیں نوکر رکھا تھا، مگر بسبب مخلوط ہو جانے ان دونوں قوموں کے ہر ایک پلٹن میں یہ تفرقہ نہ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک پلٹن کے جتنے نوکر ہیں ان میں بسبب ایک جا رہنے کے اور ایک لڑی میں مرتب ہونے کے آپس میں اتحاد اور ارتباط برادرانہ ہوتا جاتا تھا۔ ایک پلٹن کے سپاہی اپنے آپ کو ایک برادری سمجھتے تھے، اور اسی سبب سے ہندو و مسلمان کی تمیز نہ تھی۔ دونوں قومیں آپس میں اپنے آپ کو بھائی سمجھتی تھیں۔ اس پلٹن کے آدمی جو کچھ کرتے تھے سب اس میں شریک ہو جاتے تھے۔ ایک دوسرے کا حامی اور مددگار ہو جاتا تھا۔ اگر انھیں دونوں قوموں کی پلٹنیں اس طرح پر آراستہ ہوتیں کہ ایک پلٹن نری ہندوؤں کی ہوتی جس میں کوئی مسلمان نہ ہوتا، اور ایک پلٹن نری مسلمانوں کی ہوتی جس میں کوئی ہندو نہ ہوتا، تو یہ آپس کا اتحاد اور برادری نہ ہوتی، پانی اور وہی تفرقہ قائم رہتا، اور میں خیال کرتا ہوں کہ شاید مسلمان پلٹنوں کو کارتوس جدید کا کاٹنے میں بھی کچھ عذر نہ ہوتا۔
فوج انگلشیہ کے کم ہونے سے رعایا کو بھی جو کچھ خوف تھا وہ صرف ہندوستانی ہی فوج کا تھا۔ علاوہ اس کے ہندوستانی فوج کو بھی بڑا غرور تھا۔ وہ اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتے تھے۔ فوج انگلشیہ کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتے تھے۔ تمام ہندوستان کی فتوحات صرف اپنی تلوار کے زور سے جانتے تھے۔ ان کا یہ قول تھا کہ برہما سے لے کر کابل تک ہم نے سرکار کو فتح کر دیا ہے۔ علی الخصوص پنجاب کی فتح کے بعد ہندوستانی فوج کا غرور بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ اب ان کے غرور نے یہاں تک نوبت پہنچائی تھی کہ ادنیٰ ادنیٰ بات پر تکرار کرنے پر مستعد تھے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ فوج کے غرور اور تکبر کی یہاں نوبت پہنچی تھی کہ کچھ عجب نہ تھا کہ وہ کوچ اور مقام پر بھی تکرار کرنے لگتی۔
ایسے وقت میں کہ جب فوج کا یہ حال تھا اور ان کے سر غرور و تکبر سے بھرے ہوئے تھے، اور دل میں یہ جانتے تھے کہ جس بات پر ہم اڑیں گے اور تکرار کریں گے خواہ نخواہ سرکار کو ماننا پڑے گا، ان کو نئے کارتوس دیے گئے، جس میں وہ یقین سمجھتے تھے کہ چربی کا میل ہے اور اس کے استعمال سے ہمارا دھرم جاتا رہے گا۔ انھوں نے اس کے کاٹنے سے انکار کیا۔ جب بارک پور کی پلٹن اس جرم میں موقوف ہو گئی اور حکم سنایا گیا تو تمام فوج نہایت رنجیدہ ہوئی، کیونکہ وہ یوں سمجھتے تھے کہ بسبب تخلل مذہب کی بارک پور کی پلٹن کا کچھ قصور نہ تھا، وہ محض بے قصور اور صرف سرکار کی ناانصافی سے موقوف ہوئی ہے۔ تمام فوج نہایت رنجیدہ تھی کہ ہم نے سرکار کے ساتھ رفاقتیں کیں، اپنے سر کٹائے، سرکار کو ملک در ملک فتح کر دیے، اور سرکار ہمارے مذہب لینے کے درپے ہوئی اور واجبی بات پر موقوف کر دیا۔ اس وقت کچھ فساد نہ ہوا، کیونکہ فوج پر بجز موقوفی کے اور کچھ جبر نہ ہوا تھا، مگر تمام فوج کے دل میں کچھ تو بسبب یقین ہونے چربی کارتوس میں، اور کچھ بسبب رنج موقوفی پلٹن بارک پور کے، اور سب سے زیادہ بسبب غرور اور خود بینی اور اس خیال سے کہ جو کچھ ہیں ہمیں ہیں، مصمم ارادہ ہو گیا کہ ہم میں سے کوئی بھی کارتوس نہیں کاٹنے کا، اس میں کچھ ہی ہو جائے۔ بلاشبہ بعد واقعہ بارک پور آپس میں فوجوں کی خط و کتابت ہوئی، پیغام آئے کہ کارتوس جدید کوئی نہ کاٹے۔ اب تک تمام فوج کے دل میں ناراضی اور غصہ تو ہے، مگر میری رائے میں ابھی تک کچھ فساد کا ارادہ نہیں۔
دفعتاً تقدیر سے کمبخت مئی ۱۸۵۷ء کی آ گئی۔ میرٹھ میں سپاہ کو بہت سخت سزا دی گئی، جس کو ہر ایک عقلمند بہت برا اور ناپسند جانتا ہے۔ اس سزا کا رنج جو کچھ فوج کے دل پر گذرا، بیان سے باہر ہے۔ وہ اپنی تمغوں کو یاد کرتے تھے اور بجائے اس کے بیڑیوں اور ہتکڑیوں کو پہنے ہوئے دیکھ کر روتے تھے۔ وہ اپنی وفاداریوں کا خیال کرتے تھے اور پھر اس کے صلہ میں جو ان کو انعام ملا تھا دیکھتے تھے۔ اور علاوہ اس کے ان کا دلی انتہا غرور جو ان کے سر میں تھا، اور جس کے سبب وہ اپنے تئیں ایک بہت ہی بڑا سمجھتے تھے، ان کو زیادہ رنج دیتا تھا۔ پھر سب فوج مقیم میرٹھ کو یقین ہو گیا کہ یا ہم کو کارتوس کاٹنا پڑے گا یا یہی دن نصیب ہو گا۔ اسی رنج اور غصہ کی حالت میں دسویں مئی کو فوج سے وہ حرکت سرزد ہوئی کہ شاید اس کا نظیر بھی کسی تاریخ میں نہیں ملنے کا۔ اس فوج کو کیا چارہ رہا تھا اس حرکت کے بعد بجز اس کے کہ جہاں تک ہو سکے مفسدے پورے کرے؟
جہاں جہاں فوج میں یہ خبر پہنچی، تمام فوج زیادہ تر رنجیدہ ہوئی۔ میرٹھ کی فوج سے جو حرکت ہوئی تھی اس سے تمام ہندوستانی فوج نے یقین جان لیا تھا کہ اب سرکار کو ہندوستانی فوج کا اعتبار نہ رہا۔ سرکار وقت پا کر سب کو سزا دے گی، اور اس سبب سے تمام فوج کو اپنے افسروں کے فعل اور قول کا اعتبار اور اعتماد نہ تھا۔ سب آپس میں کہتے تھے کہ اس وقت تو یہ ایسی باتیں ہیں، جب وقت نکل جاوے گا تو یہ سب آنکھیں بدل لیں گے۔ میں بہت معتبر بات کہتا ہوں کہ دلی میں جو فوج باغی جمع تھی، اس میں سے ہزاروں آدمیوں کو اس بیجا حرکت اور بے فائدہ بغاوت کا رنج تھا۔ وہ روتے اور کہتے تھے کہ ہماری قسمت نے یہ کام ہم سے کروایا۔ پھر بہت افسوس سے کہتے تھے کہ اگر ہم نہ کرتے تو کیا کرتے؟ ایک نہ ایک دن سرکار ہم کو تباہ کر دیتی، کیونکہ سرکار کو اب ہندوستانی فوج پر اعتماد نہیں رہا تھا، وہ قابو کا وقت جب پاتے ہم کو تباہ کر دیتے۔ ابتدائے غدر میں جب کہ دلی پر فوج کشی کا ارادہ ہوا ہے، ہنوز فوج روانہ نہ ہوئی تھی کہ بعضے آدمیوں کی صاف رائے تھی کہ جس وقت دلی پر فوج سے لڑائی شروع ہوئی، بلاشبہ تمام ہندوستانی فوج بگڑ جاوے گی، چنانچہ یہی ہوا۔ سبب اس کا یہی تھا کہ فوج سے لڑائی شروع ہونے کے بعد ممکن نہ تھا کہ باقی فوج سرکار سے مطمئن رہتی۔ وہ ضرور سمجھتے تھے کہ جب ہمارے بھائی بندوں کو مار لیں گے تب ہم پر متوجہ ہوں گے، اس لیے سب نے فساد پر کمر باندھ لی اور بگڑتے گئے۔ جن کے دل میں فساد نہ تھا وہ بھی بسبب شامل ہونے فوج کے اس جتھے سے الگ نہ ہو سکے۔ ہندوستانی رعایا جانتی تھی کہ سرکار کے پاس جو کچھ ہے وہ ہندوستانی فوج ہے۔ جب تمام فوج کا بگڑنا مشہور ہو گیا، سب نے سر اٹھایا۔ عملداری کا ڈر دلوں سے جاتا رہا اور سب جگہ فساد برپا ہو گیا۔
اب ہماری اس رائے کو پنجاب کے حالات پر تولو۔ پنجاب کے مسلمان بہت ستم رسیدہ تھے سکھوں کے ہاتھ سے۔ سرکاری عملداری سے ان کا چنداں نقصان نہ ہوا تھا۔ سرکار نے پنجاب میں ابتدائے عملداری میں بہت تشدد کیا تھا اور اب دن بدن رفاہ کرتی جاتی تھی، برخلاف ہندوستان کے کہ یہاں معاملہ بالعکس تھا۔ ابتدائے عملداری میں تمام ملک کے ہتھیار لے لیے گئے، کسی کو قابو فساد کا نہ رہا تھا۔ اگرچہ وہ تمول سکھوں کو جو پہلے تھا نہ رہا تھا، مگر ان کا کمایا ہوا روپیہ جو ان کے پاس جمع تھا ابھی خرچ نہ ہو چکا تھا، اور وہ مفلسی جو ہندوستان میں تھی وہاں ابھی نہیں آئی تھی۔ اس کے سوا تین سبب اور بہت قوی تھے جو پنجاب نہ بگڑا:
اول یہ کہ فوج انگلشیہ وہاں موجود تھی۔
دوسرے یہ کہ وہاں کے حکام کی ہوشیاری سے دفعتاً بے خبری میں ہندوستانی فوج کے ہتھیار لے لیے گئے۔ بسبب طغیانی اور کثرت سے واقع ہونے دریاؤں اور بند ہو جانے گھاٹوں کے، ہندوستانی فوج بے قابو ہو گئی، فوج کا فساد برپا نہ ہو سکا۔
تیسرے یہ کہ تمام سکھ اور پنجابی اور پٹھان جن سے احتمال فساد تھا سرکار میں نوکر ہو گئے، اور لوٹ کا لالچ اس پر مزید تھا۔ جو بات رعایائے ہندوستان اور روزگار پیشہ کو باغیوں کے ہاں بمشکل اور بذلت حاصل ہوتی تھی، وہ اہل پنجاب کو سرکار کے ہاں بعزت و بلا دقت نصیب تھا۔ پھر حالات پنجاب کے ہندوستان کے حالات سے بالکل مخالف تھے۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.