Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 7 из 10

The Fourth Cause: Duties Neglected

اصل چہارم: فرائض سے غفلت

Сэр Саййид Ахмад-хан

Письмо
Размер

اصل چہارم

ترک ہونا ان امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لیے واجب اور لازم تھا۔

جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں، گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوار طبع ہوں، مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس مقام پر بہت ضرور ہے۔ یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں، درندے رام ہوتے ہیں، انسان کی تو کیا حقیقت ہے، کہ لارڈ بیکنز ایسیز کافی نہیں کہ ہم اس مقام پر دوستی اور محبت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں۔ ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے۔ دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے، اور گورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے۔ محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتے ہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں۔ گورنمنٹ کو تمام رعایا سے ایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر ایک تن ہو جاویں۔

رعیت چو بیخ است و سلطاں درختدرخت اے پسر باشد از بیخ سخت

کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی؟ کیوں نہ ہو سکتی تھی؟ اس لیے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیر ملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے، اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں۔ اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحاد مذہب اور ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرور نہیں۔ کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیز نہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں، ویسا ہی خداوند تمھاری محبت آپس میں اور دوسروں کے ساتھ بڑھاوے اور زیادہ ہونے دیوے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے، یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو، اور وہ محبت اور مہربانی روز بروز بڑھتی جاوے؟ اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کو تسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ کریں، ویسا ہی تم بھی ان سے کرو، کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا خلاصہ یہی ہے۔ مراد مسیح مقدس کی اس نصیحت سے محبت ہے۔ غرضکہ کوئی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور اتحاد بہت عمدہ چیز ہے، اور بہت اچھے اچھے نتیجہ دیتی ہے، اور بہت سی برائیوں کو روکتی ہے۔ آج تک ہماری گورنمنٹ نے یہ محبت ہندوستان کی رعایا کے ساتھ پیدا نہیں کی۔

یہ بھی ایک قاعدہ محبت کا جبلت انسانی بلکہ حیوانی میں بھی قدرتی پیدا کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کی طرف سے ادنیٰ کی طرف محبت چلتی ہے۔ باپ کی محبت اپنے بیٹے کی طرف پہلے اس سے شروع ہوتی ہے کہ بیٹے کو باپ سے ہے۔ اسی طرح مرد کی محبت اپنی عورت کی طرف عورت کی محبت سے جو مرد کی طرف ہے مقدم ہے۔ اسی بنا پر یہ بات ہے کہ ادنیٰ جو اعلیٰ سے محبت شروع کرے وہ خوشامد گنی جاتی ہے نہ محبت۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری گورنمنٹ کو اول چاہیے تھا کہ رعایا کے ساتھ محبت اور اتحاد کرنے میں تقدم کرتی۔ پھر محبت کا یہ قاعدہ جو ہزارہا تجربہ سے حاصل ہوا ہے کہ خواہ نخواہ محبت دوسرے کے دل میں اثر کرتی ہے اور اپنی طرف کھینچ لاتی ہے، رعایا کے دل میں اثر کرتی، اور رعایا اس سے زیادہ ہماری گورنمنٹ کی محبت بلکہ فریفتہ ہو جاتی۔

عشق آں خانماں خرابے ہستکہ ترا آورد بخانۂ ما

مگر افسوس کہ ہماری گورنمنٹ نے ایسا نہیں کیا۔

اگر ہماری گورنمنٹ دعوے کرے کہ یہ بات غلط ہے، ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کی اور نیکی کا بدلا بدی پائی، تو اس کا انصاف ہم خود گورنمنٹ کے سپرد کریں گے۔ اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو رعایا کو بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کی محبت سے زیادہ محبت ہوتی۔ بیشک محبت ایک دل کی چیز ہے جو کہے سے اور بنائے سے نہیں بنتی۔ ظاہر میں بھی اگرچہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں، الا سچ یہ ہے کہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دی جا سکتی ہے، مگر دل اس کو خوب جانتا ہے، بلکہ اس کے ہاتھ میں بلکہ اس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے۔

دل را بدل رہے است دریں گنبد سپہراز سوئے کینہ کینہ و از سوئے مہر مہر

ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سے ایسا الگ اور ان میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس۔ ہماری گورنمنٹ اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے، کہ الگ الگ پہچانے جاتے ہیں، اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایا کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے جیسے ابرکا پتھر، کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہے۔ سفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور سیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔

ہم ناانصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلاشبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبت دینداری کی رکھنی چاہیے، مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایائے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نے کی ہے۔ اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا، مذہب ایک نہ تھا، رسم و رواج ایک نہ تھا، دلی رضامندی رعایا کو نہ تھی، آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہندوستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے؟

ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو۔ اول ہندوستان پر مسلمانوں نے فتح پائی۔ ترکوں اور پٹھانوں کی سلطنت میں ہندوستان کی رعایا سے محبت اور میل جول نہ ہوا۔ جب تک آسایش اور آسودگی سلطنت نے صورت نہ پکڑی۔ مغلیہ کی سلطنت میں اکبر اول کے عہد سے یہ ملاپ بخوبی شروع ہوا اور شاہجہان کے وقت تک بدستور رہا، باوجودیکہ اس زمانہ میں بھی رعایا کو بے نظمی اصول سلطنت کے سبب تکلیفیں پہنچتی تھیں، مگر وہ زخم مندمل ہو جاتا تھا اس برادرانہ محبت سے جو آپس میں تھی۔ ۱۶۶۹ء میں یعنی عالمگیر کے عہد میں یہ محبت ٹوٹ گئی، اور بسبب مقابلہ اور سرکشی قوم ہنود کے مثل سیوا جی مرہٹہ وغیرہ کے عالمگیر جملہ قوم ہنود سے ناراض ہوا اور اپنے صوبہ داروں کے نام حکم بھیجے کہ جملہ قوم ہنود کے ساتھ سخت گیری پیش آوے، اور ہر ایک سے جزیہ لے۔ پھر جو مضرت اور ناراضی رعایا کو ہوئی وہ ظاہر ہے۔ غرضکہ ہماری گورنمنٹ نے سو برس کی عملداری میں بھی رعایا سے محبت اور الفت پیدا نہ کی۔

اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ رعایا کو باعزت رکھنا اور ان کی تالیف کرنی، یعنی ان کے دلوں کو ہاتھ میں رکھنا، بہت بڑا سبب ہے پائداری گورنمنٹ کا۔ تھوڑا ملے اور آدمی کی عزت ہو تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ بہت ملے اور تھوڑی عزت ہو۔ بے عزتی کرنی کسی کی ایسی بد چیز ہے کہ آدمی کے دل کو دکھاتی ہے۔ یہی چیز ہے کہ بغیر ظاہری نقصان پہنچائے عداوت پیدا کرتی ہے، اور اس کا ایسا گہرا زخم ہوتا ہے کہ کبھی نہیں بھرتا۔

جراحات السنان لہا التیامولا یلتام ما جرح اللسان

تالیف کی خاصیت اس کے برخلاف ہے۔ یہ وہ چیز ہے کہ اس سے دشمن دوست ہوتا ہے اور دوستوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیگانہ یگانہ ہوتا ہے۔ یہی چیز ہے کہ جس سے وحشی جنگل کے جانور، چرند و پرند، تابع دار ہوتے ہیں۔ پھر اگر رعایا کے ساتھ ہو تو وہ کس قدر مطیع اور فرمانبردار ہوں گے۔ ابتدائے عملداری میں یہ چیز تھی کہ جس نے سب کے دلوں کو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے کھینچ لیا تھا، ایک دلی اطاعت پیدا کر دی تھی۔ بیشک ہماری گورنمنٹ ان باتوں کو بھول گئی۔ بلاشبہ تمام رعایا ہندوستان کی اس بات کی شاہد ہو کہ ہماری گورنمنٹ نے ان کو نہایت بے قدر اور بے وقر کر دیا ہے۔ ہندوستان کے اشراف آدمی کی ایک چھوٹے سے یورپین کے سامنے ایسی بھی قدر نہیں ہے جیسی کہ ایک چھوٹے یورپین کی ایک بہت بڑے ڈیوک کے سامنے۔ یوں تصور کیا جاتا تھا کہ ہندوستان میں کوئی جنٹلمین نہیں ہے۔

یہ سب باتیں، یعنی محبت اور الفت اور عزت اور تالیف رعایا کی، گورنمنٹ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے بوسیلہ ان حکام متعہد کے جو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے ہندوستان میں کارپردازی اور رعایا سے معاملہ اور میل جول اور ملاقات رکھتے ہیں۔ گورنمنٹ کا ارادہ کیسا ہی نیک ہو، وہ کبھی ظاہر نہ ہو گا جب تک یہ لوگ اس کے ظاہر کرنے پر کمر نہ باندھیں۔ اگلے حکام متعہد کے عادات اور روش اور اخلاق بہت برخلاف تھے حال کے حکام متعہد سے۔ وہ پہلے لوگ بہت عزت کرتے تھے ہندوستانیوں کی، ہر طرح خاطرداری سے پیش آتے تھے، ان کے دلوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے، دوستانہ ان کے رنج و راحت کے شریک ہوتے تھے، باوجودیکہ بہت بڑی سرداری اور حکومت ہندوستان میں رکھتے تھے اور تحشم اور رعب اور دبدبہ جو شایان حکومت ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے۔ پھر ایسی محبت اور عزت ہندوستانیوں کی کرتے تھے کہ ہر ایک شخص ملک کا ان کے اخلاق اور ان کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھا اور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اس حشمت و شوکت اور حکومت کے بے غرور رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں۔ ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے ان سے اسی طرح پیش آتے تھے۔ بیشک ان لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی، اور برادرانہ محبت اور اس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی۔ حال میں جو حکام متعہد ہیں ان میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں۔ کیا ان کے غرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو ان کی آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے؟ کیا ان کی بد مزاجی اور بے پرائی نے ہندوستانیوں کے دل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے؟ کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہے کہ بڑے سے بڑا ذی عزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے خوف سے ترساں نہ تھا؟ اور کیا یہ بات چھپی ہوئی کہ ایک اشراف اہلکار صاحب کے سامنے مثل پڑھ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہے، اور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی، اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے؟ میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں لگاتا۔ بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ ان کی محبت اور ان کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور رہیں، اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں، اور ان کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں، اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جب کہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے، کہ میرے پیچھے چلے آؤ، میں تم کو آدمیوں کا شکار کرنے والا بناؤں گا۔ انھوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے۔ ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی رکھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا، اور وہی مبارکی حاصل کی جو مسیح مقدس نے فرمائی تھی: مبارک وے ہیں جو دل میں بے غرور ہیں، اس لیے کہ آسمان کی بادشاہت انھیں کی ہے۔ ان حاکموں نے اپنا حلم انصاف والا سب رعایا کو جتایا اور زمین پر حکومت کی، جیسا کہ یسوع مقدس نے فرمایا تھا: مبارک وہ ہیں جو حلیم ہیں، اس لیے کہ زمین کے وارث ہوں گے۔ ان حاکموں نے اپنی روشنی ایسی مسیح کے قول کے بموجب اسی طرح رعایا کو دکھائی کہ تمھاری روشنی آدمیوں کے سامنے ویسی چمکے تاکہ وہ تمھارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمھارے باپ کی جو آسمان پر ہے شکر کریں۔ اس قسم کے حاکم اگرچہ کم تھے، مگر جہاں تھے عزیز تھے۔

اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم کے لوگوں کو ناگوار نہیں، مگر مسلمانوں کو بہت زیادہ گراں گذرتی تھیں۔ اس کا سبب بہت روشن ہے کہ صدہا سال سے مسلمان ہندوستان میں بھی باعزت چلے آتے ہیں۔ ان کی طبیعت اور جبلت میں ایک غیرت ہے۔ دل میں لالچ روپیہ کی بہت کم ہے۔ کسی لالچ سے عزت کا جانا نہیں چاہتے۔ بہت تجربہ ہوا ہو گا کہ اور قوم میں جو باتیں بغیر رنج کے اٹھا لیتے ہیں، مسلمانوں کو اس سے بھی ادنیٰ بات کا اٹھانا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ہم نے مانا کہ مسلمانوں میں یہ خصلتیں بہت بری ہی سہی، مگر مجبوری ہے۔ خدا نے جو طبیعت بنائی ہے وہ بدلی نہیں جاتی۔ اس میں مسلمانوں کی بدبختی سہی، مگر کچھ قصور نہیں۔ یہی رنج تھے جن کے باعث تبدل عملداری کو دل چاہتا تھا۔ سرکار کے برخلاف خبریں سن کر دل خوش ہوتا تھا۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو مسلمانوں کی بھلائی سے اغماض نہ تھا۔ ان کی لیاقت اور تعلیم ان کا ادب سب پیش نظر تھا، مگر یہ لوگ اس سے بے خبر تھے، اور ہماری گورنمنٹ کا ارادہ اور دلی نیت حکام کے وسیلہ سے ظاہر نہیں ہوتا تھا۔

اہل ہند علی الخصوص مسلمانوں کی ناراضی کا بڑا سبب یہ تھا کہ اعلیٰ عہدہ جات پر ترقی بہت کم تھی۔ بہت ہی کم زمانہ گذرا ہے کہ یہ لوگ تمام ہندوستان میں معزز تھے، بڑے بڑے عہدے پاتے تھے۔ ان کا عزم اور ان کا ارادہ اب بھی ویسا ہی تھا، اسی طرح اپنی قدر و منزلت کی ترقی چاہتے تھے، اور ظاہر میں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ابتدائے عملداری سرکار میں جو لوگ خاندانی اور معزز تھے، وے منتخب ہو کر معزز عہدے پاتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ بات نہ رہی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان لوگوں میں چنداں لیاقت نہ تھی، اس لیے امتحان کا قاعدہ ہماری رائے میں کسی طرح قابل الزام کے نہیں، اور نہ درحقیقت کسی کو اس کا رنج ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ امتحان سے عمدہ اہلکار ہاتھ آئے، مگر ایسے ایسے لوگ ان معزز عہدوں پر مقرر ہو گئے جو ہندوستانیوں کی آنکھوں میں نہایت بے قدر تھے۔ سارٹیفکٹ ملنے میں خاندانی اور ذی عزت ہونے کا بہت کم لحاظ رہا۔ جس قدر ہندوستانیوں کی ترقی لارڈ بنٹنک صاحب بہادر نے کی، اس سے زیادہ پھر نہیں ہوئی۔ کچھ شک نہیں ہے کہ وہ ترقی بسبب قلت عہدہ جات کے نہایت ناکافی تھی۔ بڑے بڑے اعلیٰ حاکم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جیسی ترقی ہندوستانیوں کی چاہیے تھی ویسی ہی نہیں ہوئی۔

اہل ہند کو قدیم عادت تھی کہ اپنے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہوتے تھے، بادشاہ کی شان اور شوکت اور تجمل اور تحشم دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ایک قاعدہ جبلت انسانی میں پڑا ہے کہ اپنے بادشاہ اور مالک ملک کا دل خوش ہوتا ہے۔ یہ بات جانتا ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ اور ہمارا مالک ہے، ہم اس کے تابع اور رعیت ہیں۔ علی الخصوص اہل ہند کو قدیم سے اس کی عادت پڑی ہوئی تھی، جو اب مدت سے نایاب تھی۔ نواب گورنر جنرل بہادر اگرچہ دورہ میں دربار کرتے تھے، مگر ہندوستانیوں کی مراد تک پورا نہ تھا۔ لارڈ آکلنڈ اور لارڈ ایلن برا صاحب نے البتہ شاہانہ دربار کیے۔ شاید ولایت میں یہ طریقہ کچھ ناپسند ہوا ہو، مگر حق یہ ہے کہ ہندوستان کے حالات کے نہایت مناسب تھا، بلکہ اب بھی جیسا چاہیے تھا ویسا نہ ہوا تھا۔ خدا ہمیشہ ہماری ملکۂ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے۔ خدا ہمیشہ ہمارے ناظم مملکت ہند نائب مناب ملکۂ معظمہ اور گورنر جنرل بہادر ہندوستان کا حافظ ہے۔ ہم کو امید ہے کہ اب کوئی آرزو اہل ہند کی بے پوری ہوئے باقی نہ رہے گی۔

سچ ہے کہ حقیقی بادشاہت خدا تعالیٰ کو ہے جس نے تمام عالم کو پیدا کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی سلطنت کا نمونہ دنیا میں بادشاہوں کو پیدا کیا ہے تاکہ اس کے بندے اس نمونہ سے اپنے حقیقی بادشاہ کو پہچان کر اس کا شکر ادا کریں۔ اس لیے بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ جیسا کہ اس حقیقی بادشاہ کی خصلتیں داد و دہش اور بخشش اور مہربانی کی ہیں، اسی کا نمونہ ان مجازی بادشاہوں میں بھی چاہیے۔ یہی بات ہے کہ جس کے سبب بڑے بڑے عقلمندوں نے بادشاہ کو ظل اللہ ٹھہرایا ہے۔ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح خداوند تعالیٰ کی بے انتہا بخشش اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے، اسی طرح بادشاہوں کی بخشش اور انعام اپنی ساری رعیت کے ساتھ چاہیے۔ اگرچہ ابتدا میں یہ بات خیال میں آتی ہے کہ ذرا ذرا سی بات میں انعام و اکرام دینا بے فائدہ خزانہ کا خالی کرنا ہے، مگر یہ بات یوں نہیں، بلکہ انعام اکرام سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ رعیت کو اپنے بادشاہ کی محبت بڑھتی ہے۔ کلیہ قاعدہ ہے کہ الانسان عبید الاحسان، اس لیے تمام رعیت اپنے بادشاہ کا انعام و اکرام دیکھ کر خواہ نخواہ دلی محبت پیدا کرتی ہے، اور اچھی اچھی خدمت گذاریوں اور خیرخواہیوں کا حوصلہ رکھتی ہے۔ تاریخ کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اگلی عملداریوں میں یہ بات بہت رائج تھی۔ ہر ہر طرح سے انعام و اکرام رعایا کو اور سرداروں کو ملتا تھا۔ بڑے بڑے قیمتی خلعت اور عمدہ عمدہ تحفہ اور نقد روپیہ اور زمین جاگیر انعام میں ملتی تھی۔ خاندانی آدمی خطاب پاتے تھے، ہم چشموں میں عزت پیدا کرتے تھے۔ ان کے دل میں بڑے بڑے حوصلے تھے، اور ہندوستان کی رعایا اس بات کو بہت پسند کرتی تھی بلکہ صدہا سال سے اس کے عادی ہو رہے تھے۔ ہماری گورنمنٹ نے یہ سلسلہ بالکل دور کر دیا تھا۔ کسی شخص کو رعیت میں سے اس قسم کے ظاہری انعام و اکرام کی توقع نہیں رہی تھی، اور اسی باعث سے تبدل عملداری کو ان کا دل چاہتا تھا، یہاں تک کہ جب کبھی آنریبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے ٹھیکہ ختم ہونے اور ملکۂ معظمہ کی عملداری ہونے کی خبر سنتے تھے تو خوش ہوتے تھے۔ اگلے بادشاہوں کے عہد میں انعام و اکرام دو قسم کا ہوتا تھا۔ ایک وہ جو بادشاہ اپنی عیاشی اور اپنی ناپسندیدہ خصلتوں کے پالنے میں خرچ کرتا تھا۔ یہ بات درحقیقت ناپسندیدہ تھی، اور ہندوستانی بھی اس کو ناپسند کرتے تھے، بلکہ پاجیوں اور غیر مستحقوں کے انعام سے ناراض ہوتے تھے۔ دوسری قسم کا انعام وہ تھا جو بادشاہ اپنے خیرخواہ نوکروں اور فتح نصیب سرداروں، اپنی رعیت کے علما اور صلحا اور فقرا اور شعرا اور خانہ نشینوں اور بے رزقوں کو دیتا تھا۔ اس قسم کے انعام کی سب خواہش رکھتے ہیں اور اسی کے نہ ہونے سے ناراض ہیں کہ ان باتوں سے رعایا کم ہمت اور آرام طلب ہو جاتی ہے اور محنت کش اور قوت بازو سے روٹی کمانے والے نہیں رہتے، اس لیے بادشاہ کو اس قسم کے انعام سے قطع نظر کر کر دوسری قسم کا انعام، یعنی آزادی دینا بہتر ہے، تاکہ ان کو خود روٹی کمانے کی گنجایش ملے۔ یہ بات سچ ہے، مگر یہ انعام اس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کہ رعایا آسودہ اور تربیت یافتہ ہو، نہ یہ کہ وحوش سیرتوں کے ناک میں سے نکیل نکال کر بے آب و دانہ جنگل میں ہانک دیں کہ خود دانہ پانی ڈھونڈ لو۔ ان کا انجام کیا ہو گا؟ بجز اس کے کہ یا مر جاویں گے یا وہی وحشیوں کی سی حرکتیں کریں گے، جس سے ہماری مراد ہندوستان کی یہ سرکشی ہے۔

غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ معاملات کی اصلیت کو آنکھ سے چھپا دیتا ہے۔ طبیعت انتقام اور سیاست کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ سچ ہے کہ جو واردتیں ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں پیش آئیں، اسی لائق تھیں کہ ہمارے حکام کو جس قدر غصہ آوے اور جس قدر انتقام اور سیاست کریں سب بجا ہے، مگر ہندوستان کے حالات پر غور کرنا چاہیے کہ درحقیقت کس قدر سرکشی ہندوستان میں اصلی تھی، اور کیوں اس قدر بڑھ گئی، اور کیوں اس قدر دکھائی دی، اور بد نصیب مسلمان کیوں زیادہ مفسد بعض اضلاع میں دکھائی دیے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ صدہا سال سے عملداری ہندوستان میں تزلزل تھا۔ رعایائے ہندوستان کو موروثی عادت تھی کہ جب کوئی امیر یا سردار یا بادشاہ زادہ قابو یافتہ ہوا، اس کے ساتھ ہزاروں آدمی جمع ہو گئے۔ اس کی نوکری کو، اس کی طرف سے عاملی کو، اس کی طرف سے انتظام کو کسی طرح اپنا قصور نہیں سمجھتے تھے۔ ہندوستان میں یہ ایک مثل مشہور رہی ہے کہ نوکری پیشہ کا کیا قصور، جس نے نوکر رکھا تنخواہ دی اس کی نوکری کی۔ البتہ جب سردار اٹھایا جاوے اور اس کی جگہ دوسرا سردار قائم ہو، اس کی اطاعت نہ کرنے کو قصور سمجھتے تھے۔ ہندوستان کے امیروں اور سرداروں کی، علی الخصوص ان کی جو قبل عملداری سرکار ہندوستان پر متسلط تھے اور جن کے سبب ہندوستان طوائف الملوک ہو رہا تھا، یہی عادت تھی کہ ملازمین سیف اور قلم سے کسی طرح کی مزاحمت نہ کرتے تھے۔ وہی عادت تمام ہندوستان کے لوگوں کو پڑی ہوئی تھی۔ جب ہندوستان میں مفسدوں نے سر اٹھایا اور لوگوں کو نوکر رکھنا چاہا، ہزارہا آدمی جو روٹی سے محتاج اور نوکریوں کے خواہشمند تھے، جا کر نوکر ہوئے۔ یہ سب کہتے تھے کہ ہمارا کیا قصور ہے، ہم تو نوکری پیشہ ہیں۔ عام رعایا میں سے بہت سے لوگ اس اپنی قدیمی عادت سے کہ اب جو سردار ہے اس کی اطاعت کریں، ہم تو رعیت ہیں، جو زبردست ہے اس کے تابع ہیں، باغیوں کے تابع ہو گئے۔ بہت سے اہلکاران سرکاری یہ سمجھ کر کہ باغیوں سے ظاہرداری کر کے جان بچا دیں اور جب سرکار کا تسلط ہو پھر سرکار کے تابع ہوں، وہ بھی مجرم ہو گئے، حالانکہ کچھ شک کا مقام نہیں ہے کہ وہ دل سے سرکار کے تابع تھے۔ اکثر لوگوں اور اہلکاروں سے دفعتاً مجبوری، خواہ نادانی، خواہ بمقتضائے بشریت کوئی بات ہو گئی۔ انھوں نے خیال کیا کہ اب ہمارے اس قصور اتفاقیہ یا مجبورانہ یا جاہلانہ سے سرکار درگذر نہیں کرنے کی اور سزا دے گی۔ اس خوف اور ڈر سے لاچار باغیوں کے ساتھ جا شامل ہوئے۔ بہت سے آدمیوں نے درحقیقت کچھ نہیں کیا تھا، مگر بخوف اور بسبب اور خیالات چند در چند باغیوں میں مل گئے۔ بہت لوگوں نے اس زمانہ میں وہ باتیں کیں جن باتوں کو وہ لوگ اپنے ذہن اور اپنی سمجھ میں جرم مخالف سرکار نہیں سمجھتے۔ اگر تمام ہندوستان کے حالات بغاوت پر نظر کی جاوے گی تو ہم کو یقین ہے کہ دونوں قومیں جو ہندوستان میں بستی ہیں، برابر، بلکہ ایک سے زیادہ ایک اور ایک سے زیادہ ایک، اس فساد میں مفسد نظر پڑیں گی، اور اس کے اثبات پر تمام حالات ہندوستان کے گواہ موجود ہیں۔ مگر جن اضلاع میں مسلمان زیادہ تر مفسد دکھائی دیے، اس کا سبب صرف یہی نہیں خیال کرنا چاہیے کہ دلی کی سلطنت پر مسلمان بادشاہ نے دعوے کیا تھا، اور درحقیقت مسلمان اسی قدر مفسد ہوئے تھے جیسا کہ نظر پڑے، نہیں۔ حکام کا مزاج دفعتاً ان باتوں سے جو ظاہر میں مسلمانوں سے ہوئیں ناراض ہو گیا۔ ان کے مخالفوں کو بڑی گنجایش ہو گئی خود غرضانہ باتیں پیش کرنے کو۔ تھوڑی بات کو بہت بڑھا کر کہا۔ ادھر حکام کو زیادہ ناراضی ہوئی، ادھر مسلمانوں کو زیادہ تر خوف اور مایوسی ہوئی، اور اپنی تقدیر سے جتنے تھے اس سے زیادہ مفسد دکھائی دیے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ پانچویں قسم کی بغاوت مسلمانوں میں بہت تھی، اور وہ تبدل عملداری کے خیال سے بہت خوش ہوتے تھے، جس کا سبب ہر ایک مقام ہم بیان کرتے آئے ہیں۔ باایں ہمہ ہماری گورنمنٹ پر مخفی نہ ہو گا کہ اس حال پر بھی جاں بازی کی خیرخواہیاں اس ہنگامہ میں کس سے زیادہ ظہور میں آئی ہیں۔ خدا کے آگے، جس کو حقیقی بادشاہت ہے، اور دنیا کے بادشاہوں کے آگے، جن کو مجازی سلطنت خداوند نے عطا کی ہے، سب گنہگار ہیں۔ سچ فرمایا داؤد مقدس علیہ السلام نے کہ اے خداوند، اپنے بندے سے حساب نہ لے، کیونکہ کوئی جاندار تیرے حضور بے گناہ ٹھہر نہیں سکتا۔ اے خدا، اپنے کمال کرم سے مجھ پر رحم کر، اور اپنے رحموں کی فراوانی سے میرے گناہ مٹا دے۔ مجھے میری برائی سے خوب دھو اور مجھے میرے گناہ سے پاک کر۔ آمین۔

خدا ہمیشہ ہماری ملکۂ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے۔ میں بیان نہیں کر سکتا خوبی اس پر رحم اشتہار کی جو ہماری ملکۂ معظمہ نے جاری کیا۔ بیشک ہماری ملکۂ معظمہ کے سر پر خدا کا ہاتھ ہے۔ بیشک یہ پر رحم اشتہار الہام سے جاری ہوا ہے۔

ہندوستان کا بہت قدیم قاعدہ چلا آیا ہے کہ جب دار السلطنت پر کوئی بادشاہ، خواہ ازروئے استحقاق اور خواہ بغیر استحقاق کے، قائم ہوا، سب سردار ملکوں کے اس کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس ہنگامہ میں بھی یہی ہوا کہ جب دلی کا بادشاہ تخت پر بیٹھا اور ملکوں میں خبر پہنچی کہ دلی کے بادشاہ نے تخت سنبھالا، سب نے بادشاہ کی طرف رجوع کی۔ جب کہ دلی کا بادشاہ پکڑا گیا اور وہ دار السلطنت ہماری گورنمنٹ کے قبضہ میں آیا، سب کو یقین تھا کہ جملہ مفسد جنھوں نے سر اٹھایا ہے اطاعت کریں گے، شاید فوج باغی کے لوگ رہ جاتے۔ مگر یہ امر جو ظہور میں نہ آیا، اس کا سبب لکھنا ہم اپنی اس رائے میں ضرور نہیں سمجھتے۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.