Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 6 из 10

The Third Cause: Ignorance of the Subjects' Condition

اصل سوم: رعایا کے حال سے ناواقفیت

Сэр Саййид Ахмад-хан

Письмо
Размер

اصل سوم

ناواقف رہنا گورنمنٹ کا رعایا کے اصلی حالات اور اطوار اور عادات اور ان مصائب سے جو ان پر گذرتے تھے اور جن سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا جاتا تھا۔

اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو رعایا کے حالات اور اطوار اور جو جو دکھ ان کو تھے ان کی اطلاع نہ تھی، اور اطلاع نہ ہونے کا کیا سبب تھا؟ کیونکہ حالات اور اطوار کی اطلاع اختلاط اور ارتباط اور باہم آمد و رفت بے تکلفانہ سے ہوتی ہے، اور یہ بات جب ہوتی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم میں مل جل کر اور محبت اور اخلاص پیدا کر کر بطور ہم وطنوں کے توطن اختیار کرے، جیسا کہ مسلمان غیر مذہب اور غیر ملک کے رہنے والوں نے ہندوستان میں توطن اختیار کر کے پیدا کیا، اور غیر ملکیوں سے برادرانہ راہ و رسم پیدا کی۔ مگر درحقیقت ہماری گورنمنٹ کو یہ بات، جو اصلی سبب رعایا کے حالات کی اطلاع کا ہے، حاصل نہیں ہو سکتی، اور نہ اس طرح کی سکونت مختلطانہ ہماری کو ہونی متخیل ہے۔ اب رہی یہ بات کہ رعایا خود اپنے مصائب کی اطلاع کرتی، تو اس کا قابو رعایا کو نہ تھا، کیونکہ رعایائے ہندوستان کو تجاویز گورنمنٹ میں ذرا بھی مداخلت نہ تھی۔ اور اگر کسی نے کچھ بے قاعدہ کوئی عرضی پرچہ بھیجا یا بحضور نواب گورنر جنرل بہادر پیش کیا، وہ بطور استغاثہ تصور کیا گیا، نہ بطور استحقاق مداخلت تجاویز گورنمنٹ میں، اور اسی لیے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوا۔ اب ضرور ہوا کہ کوئی اور شخص حالات رعایا کی اطلاع گورنمنٹ میں کرے۔ وہ اطلاع منحصر تھی حکام متعہد اضلاع کی رپورٹ پر۔ وہ خود اس سے ناواقف تھے، اور کوئی راہ نہ تھی ان کو اطلاع حاصل ہونے کو۔ اور ان کی عدم توجہی اس باب میں اور ان کی نازک مزاجی ایک مشہور بات ہے۔ ان کے رعب سے سب ڈرتے تھے۔ کسی کو سچی بات، علی الخصوص وہ کہ جو مخالف طبع اور مزاج حاکموں کے ہوتی تھی، کہنے کا مقدور نہ تھا۔ ہر شخص ملازم اور درباری رئیس سب ڈر کے مارے خوشامد کی بات کہتے تھے۔ اور ہماری گورنمنٹ نے، جو درحقیقت گورنمنٹ نوعیہ ہے، ان باتوں سے گورنمنٹ شخصیہ کی صورت پیدا کی تھی۔ پھر یہ طریقہ اطلاع حالات رعایا کا بذریعہ حکام اضلاع ناکافی ہی نہ تھا بلکہ درحقیقت معدوم تھا۔ اس لیے حالات رعایا کے ہمیشہ ہماری گورنمنٹ سے مخفی رہے۔ جو نیا قانون گورنمنٹ سے جاری ہوا اس سے جو مضرت رعایا کے حال اور رفاہ اور فلاح کو پہنچی، اس کا رفع کرنے والا اور اس کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا۔ اس قسم کے امور میں کوئی غمخوار رعایا کا نہ تھا، بجز ان کے لہو کے جو جل جل کر ان کے بدن میں رہتا تھا، یا بجز ان کی بے کسی کے، جس پردہ میں آپ رو رو کر چپ رہتے تھے۔

مفلسی اور تنگی معاش ہندوستان کی رعایا کو ہماری گورنمنٹ کی حکومت میں کیوں نہ ہوتی؟ سب سے بڑی معاش رعایائے ہندوستان کی نوکری تھی، اور یہ ایک پیشہ گنا جاتا تھا۔ اگرچہ ہر ایک قسم کے لوگ روزگار نہ ہونے کے شاکی تھے، مگر شکایت سب سے زیادہ مسلمانوں کو تھی۔ غور کرنا چاہیے کہ ہندو جو اصلی باشندہ اس ملک کے ہیں، زمانۂ سلف میں ان میں سے کوئی شخص روزگار پیشہ نہ تھا، بلکہ سب لوگ ملکی کاروبار میں مصروف تھے۔ برہمن کو روزگار سے کچھ علاقہ نہ تھا۔ بیس برن جو کہلاتے ہیں، وہ ہمیشہ بیوپار اور مہاجنی میں مصروف تھے۔ چھتری جو اس ملک کے کسی زمانہ میں حاکم بھی تھے، پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بھی روزگار پیشہ نہ تھے، بلکہ زمین سے اور ایک ایک ٹکڑہ زمین کی حکومت سے بطور بھیا چارہ علاقہ رکھتے تھے۔ سپاہ ان کی ملازم نہ تھی، بلکہ بطور بھائی بندی کے وقت پر جمع ہو کر لشکر آراستہ ہوتا تھا، جیسا کہ کچھ تھوڑا سا نمونہ روس کی مملکت میں پایا جاتا ہے۔ البتہ قوم کایت اس ملک میں قدیم سے روزگار پیشہ دکھلائی دیتے ہیں۔ مسلمان اس ملک کے رہنے والے نہیں ہیں۔ اگلی بادشاہوں کے ساتھ بوسیلہ روزگار کے ہندوستان میں آئے اور یہاں توطن اختیار کیا، اس لیے سب کے سب روزگار پیشہ تھے، اور کمی روزگار سے ان کو زیادہ تر شکایت بہ نسبت اصلی باشندوں اس ملک کے تھی۔ عزت دار سپاہ کا روزگار، جو یہاں کی جاہل رعایا کے مزاج سے زیادہ تر مناسبت رکھتا ہے، ہماری گورنمنٹ میں بہت کم تھا۔ سرکاری فوج جو غالباً مرکب تھی تلنگوں سے، اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے۔ سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی، مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ اگلی سپاہ سوار سے اس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ علاوہ سرکاری نوکری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے بھی نوکر ہوتے تھے کہ ان کی تعداد بھی کچھ کم خیال کرنی نہیں چاہیے۔ اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے۔ اس سبب سے رعایا کو حد سے زیادہ قلت روزگار تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو نوکر رکھنا چاہا، ہزارہا آدمی نوکری کو جمع ہو گئے، اور جیسے بھوکا آدمی قحط کے دنوں اناج پر گرتا ہے اسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے۔

ملحد گرسنہ در خانۂ خالی بر خواںعقل باور نکند کز رمضاں اندیشد

بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر نوکر ہوئے تھے، اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیڑھ سیر اناج پاتے تھے۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعایا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی۔

ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی، یعنی جاگیر و زمینہ انعام اکرام۔ جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی چار لاکھ بیگہ زمین اور ایک سو بیس گاؤں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں دیے۔ یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی، بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہو گئی تھیں، جس ضبطی کے سبب ہزارہا آدمی نان شبینہ کو محتاج ہو گئے تھے۔ زمینداروں کاشتکاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے۔ اہل حرفہ کا روزگار بسبب جاری اور رائج ہونے اشیائے تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا، یہاں تک کہ ہندوستان میں کوئی سوئی بنانے والی اور دیا سلائی جلانے والی کو بھی نہیں پوچھتا تھا۔ جولاہوں کا تار تو بالکل ٹوٹ گیا تھا، جو بدذات سب سے زیادہ اس ہنگامہ میں گرمجوش تھے۔ خدا کے فضل سے جب کہ ہندوستان بھی سلطنت گریٹ برٹن میں داخل تھا، تو سرکار کو رعایا کے اس تنگی حال پر توجہ کرنی اور ان کے روحانی غم اور دلی رنجشوں کے مٹانے میں سعی کرنی ضرور تھی۔

کمپنی نوٹ سے ایک نئی طرح کی زیر باری ملک ہوئی تھی، جو کسی پہلی عملداری میں اس کی نظیر نہیں ہے۔ جتنا روپیہ قرض لیا جاتا تھا، اس کے سود کے وصول کرنے کی تدبیر، بلکہ سود اور اخراجات اور انتفاع کے وصول کرنے کی تدبیر ملک سے ہوتی تھی۔ غرضکہ ہر طرح سے ملک مفلس اور محتاج ہو گیا۔ اگلے خاندان جن کو ہزاروں کا مقدور تھا، معاش سے بھی تنگ تھے، اور یہ ایک اصلی سبب ناراضی رعایا کا گورنمنٹ سے تھا۔ لوگوں کے دل جو تبدل عملداری کو چاہتے تھے اور نئی عملداری کے راغب اور دل سے اس سے خوش تھے، میں بہت سچ کہتا ہوں کہ اسی سبب سے تھے۔ ہم سچ کہتے ہیں اور پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم بہت سچ کہتے ہیں: جب افغانستان سرکار نے فتح کیا، لوگوں کو بڑا غم ہوا۔ کیا سبب تھا؟ صرف یہ تھا کہ اب مذہب پر علانیہ دست اندازی ہو گی۔ جب گوالیار فتح ہوا، پنجاب فتح ہوا، اودھ لیا گیا، لوگوں کو کمال رنج ہوا۔ کیوں ہوا؟ اس لیے ہوا کہ ان پاس کی ہندوستانی عملداریوں سے ہندوستانیوں کو بہت آسودگی تھی۔ نوکریاں اکثر ہاتھ آتی تھیں۔ ہر قسم کی ہندوستانی اشیا کی تجارت بکثرت تھی۔ ان عملداریوں کے خراب ہونے سے زیادہ افلاس اور محتاجی ہوتی جاتی تھی۔ ہماری گورنمنٹ کی عملداری میں خوبیاں اور بھلائیاں بھی حد سے زیادہ تھیں، مگر سب پر عیب نہیں لگاتا، بقول شخصے:

عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگونفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند

امن اور آسائش اور آزادی، رستوں کا صاف ہونا، ڈاکوؤں ہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا، سڑکوں کا آراستہ ہونا، مسافروں کی آسایش، بیوپاریوں کا مال دور دور بھیجنا، غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا، خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا، زبردست زبردست کا زور اٹھنا، اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہوں گی۔ مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی۔ ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا: اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں، خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا، چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لٹنا، ظالموں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا، اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو کہ کس قدر خیرخواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسایش سے تھے۔ پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا، ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.