Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 5 из 10

The Second Cause: Unsuitable Laws and Methods of Rule

اصل دوم: نامناسب قوانین اور طریقۂ حکومت

Сэр Саййид Ахмад-хан

Письмо
Размер

اصل دوم

جاری ہونا ایسے آئین اور ضوابط اور طریقہ حکومت کا جو ہندوستان کی حکومت اور ہندوستانیوں کی عادات کے مناسب نہ تھی۔

لیجسلیٹیو کونسل سے بھی امور مذہبی میں مداخلت ہوئی۔ ایکٹ ۲۱ ۱۸۵۰ء صاف مذہبی قواعد پر خلل انداز تھا۔ پھر اس ایکٹ سے ایک یہ بدگمانی لوگوں کو تھی کہ یہ ایکٹ خاص واسطے ترغیب عیسائی مذہب قبول کرنے کے جاری ہوا ہے، کیونکہ یہ بات ظاہر تھی کہ غیر مذہب کا کوئی آدمی ہندوؤں میں شامل نہیں ہو سکتا، پس ہندو تو اس قانون کے مفاد سے محروم تھے۔ غیر مذہب کا آدمی اگر مسلمان ہو جاوے تو اس کو اپنے مذہب کی رو سے جو اس نے اختیار کیا ہے، اپنے مورثوں کا متروکہ جو غیر مذہب میں تھے لینا منع ہے۔ پس کوئی نو مسلم اس ایکٹ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا، البتہ عیسائی مذہب جس نے قبول کیا ہے وہ فائدہ مند ہو سکتا تھا۔ اس سبب سے لوگ خیال کرتے تھے کہ علاوہ مداخلت مذہبی کے اس ایکٹ سے صاف ترغیب ہے۔

ایکٹ ۱۵ ۱۸۵۶ء درباب بیوہ ہنود کے رسوم مذہبی میں خلل ڈالتا تھا۔ گو اس میں بڑی بڑی بحثیں ہوئیں اور ریوسٹ بھی لیے گئے، مگر ہندو لوگ جو مذہب سے زیادہ پابند رسم و رواج کے ہیں، اس ایکٹ کو نہایت ناپسند کرتے تھے، بلکہ باعث اپنی ہتک عزت اور بربادی خاندان کا جانتے تھے، اور یوں بدگمانی کرتے تھے کہ یہ ایکٹ اس مراد سے جاری ہوا ہے کہ ہندو کی بیوائیں خود مختار ہو جائیں اور جو چاہیں سو کرنے لگیں۔

ضابطہ عورتوں کی فعل مختاری کا جو فوجداری عدالتوں میں جاری تھا، کس قدر ہندوستانیوں کی عزت اور آبرو اور رسم اور رواج میں نقصان پہنچاتا تھا۔ منکوحہ عورتیں تک فوجداری سے فعل مختار ہو گئیں۔ ولیوں کی ولایت عورت پر سے اٹھ گئی، اور یہ باتیں صریح مذہب میں نقصان پہنچاتی تھیں۔ دیوانی عدالت پر جو اس کا تدارک حوالہ کیا گیا تھا، بلاشبہ ناکافی اور بے فائدہ تھا، اور جس بات کا فی الفور تدارک ہونا ازروئے مذہب اور رسم و رواج کے چاہیے تھا وہ ایسی تاخیر اور جھمیلے میں ڈالا گیا تھا کہ زیادہ تر فساد اس سے برپا ہوتا تھا۔ دیوانی کی ڈگریات بابت دلا پانے زوجہ کے بہت ہی کم تعمیل ہوئی ہوں گی۔ اکثر مقدمات ایسے نکلیں گے کہ عورت نے غاصب کے گھر دو دو تین تین بچے بھی جن لیے اور ہنوز مدعی اس کی نشاندہی کی تدبیر میں سرگرداں ہے۔

چند ایکٹ اور قانون ایسے ہیں کہ جن کی رو سے باوصف متحد المذہب ہونے متخاصمین کے برخلاف ان کے مذہب کے مقدمات دیوانی عدالت سے فیصل ہوتے تھے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری گورنمنٹ کسی مذہب کی طرفداری کرے۔ مختلف مذہب ہونے کی صورت میں بلاشبہ انصاف کا لحاظ چاہیے، بشرطیکہ وہ انصاف دونوں مذہبوں کے یا دونوں اہل مقدمہ کے معاہدہ کے برخلاف نہ ہو۔ الا جب طرفین متحد المذہب ہیں تو ضرور ہے کہ انھیں کے مذہب یا انھیں کے رسم و رواج کے مطابق مقدمات حقوق متعلقہ دیوانی کے فیصل ہوں۔

قوانین ضبطی اراضیات لاخراج، جس کا آخر قانون ۲ ۱۸۱۹ء ہے، حکومت ہندوستان کو نہایت مضر تھا۔ ضبطی اراضیات نے جس قدر رعایائے ہندوستان کو ناراض اور بدخواہ ہماری گورنمنٹ کا کر دیا تھا، اس سے زیادہ اور کسی چیز نے نہیں کیا تھا۔ سچ فرمایا تھا لارڈ منرو اور ڈیوک آف ولنگٹن صاحب بہادر نے کہ ضبط کرنا معافیات کا ہندوستانیوں سے دشمنی پیدا کرنی اور ان کو محتاج کر دینا ہے۔ میں بیان نہیں کر سکتا کہ ہندوستانیوں کو کس قدر ناراضی اور دلی رنج اور ہماری گورنمنٹ کی بدخواہی اور نیز کتنی مصیبت اور تنگی معاش اس سبب سے ان کو تھی۔ بہت سی معافیات صدہا سال سے چلی آتی تھیں اور ادنیٰ ادنیٰ حیلہ پر ضبط ہو گئیں۔ ہندوستانی صاف خیال کرتے تھے کہ سرکار نے خود تو ہماری پرورش نہیں کی، بلکہ جو جاگیر ہم کو اور ہمارے بزرگوں کو اگلے بادشاہوں نے دی تھیں وہ بھی گورنمنٹ نے چھین لیں، پھر تو ہم کو اور کیا توقع گورنمنٹ سے ہے۔ ضبطی اراضیات کے باب میں اگر ہماری گورنمنٹ کی طرف سے یہ عذر صحیح اور واقعی یہی سمجھا جاوے کہ اگر ضبطی اراضیات لاخراجی نہ ہوتی تو واسطے پورا کرنے اخراجات گورنمنٹ کے، جس کو نہایت کفایت شعاری سے مان لینا چاہیے، ہندوستانی آدمیوں سے اور کسی محصول کے لینے کی تدبیر کرنی پڑتی، مگر رعایا کو اس سے کسی طرح پر تسلی اور جو مصیبت کہ ان پر پڑی اس کا دفعیہ نہیں ہو سکتا۔ دیکھو اس زمانہ میں جہاں جہاں باغیوں نے اشتہارات واسطے بہکانے اور ورغلانے رعایا کے جاری کیے ہیں، سب میں بجز دو باتوں کے، یعنی مداخلت مذہبی اور ضبطی معافیات کے، اور کسی چیز کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے بخوبی ثابت ہے کہ یہ دونوں باتیں اصلی منشا اور بہت بڑا سبب ناراضی اہل ہند کا تھا، علی الخصوص مسلمانوں کا، جن کو یہ نقصان بہت زیادہ بہ نسبت ہندوؤں کے پہنچا تھا۔

اگلی عملداریوں میں بلاشبہ حقیقت زمینداری کی خانگی بیع اور رہن اور ہبہ کا دستور تھا، مگر یہ بہت کم ہوتا تھا، اور جہاں تک ہوتا تھا برضامندی اور خوشی ہوتا تھا۔ بعلت باقی یا بعلت قرضہ جبراً اور حکماً نیلام حقیت کا کبھی دستور نہیں ہوا۔ ہندوستان میں زمیندار اپنی موروثی زمینداری کو بہت عزیز سمجھتے ہیں۔ اس کے زوال سے ان کو کمال رنج ہوتا ہے۔ اگر خیال کیا جاوے تو ہندوستان میں ہر ایک محال زمینداری کا ایک چھوٹی سی سلطنت دکھائی دیتی ہے۔ قدیم سے سب کی رضامندی سے ایک شخص سردار رہتا ہے، وہ ایک بات تجویز کرتا تھا، اور ہر ایک حقیت دار بقدر اپنے حصہ زمینداری کے بولنے کا اور دخل دینے کا اختیار رکھتا تھا۔ رعیت باشندہ دیہہ کے چودھری بھی حاضر ہو کر کچھ کچھ گفتگو کرتے تھے۔ اگر کسی مقدمہ نے زیادہ طول پکڑا تو کسی بڑے گاؤں کے مقدم اور سردار کے حکم سے فیصلہ ہو گیا۔ ہندوستان کے ہر ایک گاؤں میں بہت خاصی صورت ایک چھوٹی سلطنت اور پارلیمنٹ کی موجود تھی۔ بیشک بادشاہ کو جس قدر اپنی سلطنت جانے کا رنج ہوتا تھا اتنا ہی زمیندار کو اپنی زمینداری جانے کا غم تھا۔ ہماری گورنمنٹ نے اس کا مطلق خیال نہ کیا۔ ابتدائے عملداری سے آج تک شاید کوئی گاؤں باقی ہو گا جس میں تھوڑا بہت نہ انتقال ہوا ہو۔ ابتدا ابتدا میں ان نیلاموں نے ایسی بے ترتیبی سے کثرت پکڑی کہ تمام ملک الٹ پلٹ ہو گیا۔ پھر ہماری گورنمنٹ نے اس کے تدارک کو قانون اول ۱۸۲۱ء جاری کیا اور ایک کمیشن مقرر ہوا۔ اس سے اور صدہا قسم کی خرابیاں برپا ہو گئیں، یہاں تک کہ یہ کام حسب دلخواہ انجام نہ ہو سکا اور آخر کار یہ محکمہ بند ہو گیا۔

اس مقام پر ہم یہ گفتگو کرنی نہیں چاہتے کہ اگر سرکار وصول مالگذاری کا یہ قاعدہ مقرر نہ کرتی تو پھر کیا کرتی، اور جب کہ زمین مالگذاری سرکار میں مستغرق اور اس کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے کیوں نہیں نیلام ہوتی؟ کیونکہ ہم اس مقام پر صرف یہ بات بیان کرتے ہیں کہ سرکشی کے یہ اسباب ہوئے، خواہ ان سببوں کا ہونا بمجبوری ہوا، خواہ ناواقفی سے۔ اور اگر اس امر کی بحث دیکھنی ہو تو ہماری دوسری رائے طریقہ انتظام ہندوستان میں ہے، اس کو دیکھو۔ مگر اتنی بات یہاں لکھ دیتے ہیں کہ زمین کا مالگذاری میں مستغرق سمجھنا بہت قابل مباحثہ کے ہے۔ درحقیقت دعوے سرکار کا پیداوار پر ہے، نہ زمین پر۔

بعوض زر قرضہ نیلام حقیت کے رواج نے بہت سی فساد برپا کیے۔ مہاجنوں اور روپیہ والوں نے دم دے کر زمینداروں کو روپیہ دیے اور قصداً ان کی زمینداری چھیننے کو بہت فریب برپا کیے، اور دیوانی میں ہر قسم کے جھوٹے سچے مقدمات لگائے، اور قدیم زمینداروں کو بیدخل کیا اور خود مالک بن گئے۔ ان آفات نے تمام ملک کے زمینداروں کو ہلا ڈالا۔

بندوبست مالگذاری جو ہماری گورنمنٹ نے کیا نہایت قابل تعریف ہے، مگر اگلے بندوبستوں کی نسبت سنگین ہے۔ اگلی عملداریوں میں بطور خام تحصیل مالگذاری لی جاتی تھی۔ شیر شاہ نے ایک تہائی پیداوار کا حصہ گورنمنٹ مقرر کیا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ اس طریقہ میں بہت مشکلیں تھیں اور گورنمنٹ کو نقصان بھی متصور تھا، مگر کاشتکار سب آباد رہتے تھے، کسی کو ٹوٹا دینا نہ پڑتا تھا۔ اکبر اول نے اسی بندوبست کو یعنی پیداوار کا تہائی حصہ لینا پسند کیا اور اسی کو جاری کیا، مگر بندوبست پختہ کر دیا، جس کا ذکر لارڈ الفنسٹن صاحب کی عمدہ تاریخ میں مندرج ہے اور آئین اکبری میں بھی اس کا بیان ہے۔ اکبر نے اقسام زمین کے مقرر کیے:

اول: قسم کی زمین جس کا نام پولج تھا، اور ہر سال بوئی جاتی تھی۔ برابر مالگذاری کا حصہ لیا جاتا تھا۔

دوم: قسم کی زمین جس کا نام پڑوتی تھا، اور ہمیشہ کاشت نہ ہوتی تھی بلکہ چندے واسطے زور بڑھانے کے چھوڑ دیتے تھے۔ اس زمین سے انھیں سالوں کی بابت مالگذاری لی جاتی تھی جس میں وہ کاشت ہوتی تھی۔

سوم: قسم کی زمین جس کا نام چچر تھا، اور زمین چار برس سے بے تردد تھی اور اس کی درستی کے لیے خرچ بھی درکار رہتا تھا۔ اول سال زراعت میں بہت تھوڑا لیا جاتا تھا اور پھر بڑھتا جاتا تھا، یہاں تک کہ پانچویں میں پورا ہوتا تھا۔

چہارم: قسم زمین جس کا نام بنجر تھا، اور پانچ برس سے زیادہ بے تردد پڑی تھی۔

اور بھی ملائم شرطیں تھیں۔ اس خام بندوبست کا نقدی سے بدلنا اس طرح پر تھا کہ پیداوار ہر بیگہ کی اور ہر قسم زمین کی اوسط کے حساب سے غلہ کے وزن پر نکالی جاتی تھی۔ مثلاً بیگہ پیچھے نو من غلہ کی اوسط پیداوار نکالی، اور تین من غلہ اس بیگہ کا کاشتکار سے لینا حصہ گورنمنٹ ٹھہر گیا۔ پھر اوسط نرخ ناموں سے قیمت غلہ قرار دی گئی اور وہ نقدی اس بیگہ کی ٹھہر گئی۔ پھر اس میں بڑی رفاہ یہ تھی کہ اگر کاشتکار بعوض نقدی گرانی نرخ سمجھ کر تین من غلہ دیدے تو اس کو اختیار تھا۔ سرکاری بندوبست میں ان میں سے بہت باتوں کا خیال نہیں رہا۔ افتادہ زمین پر برابر محصول لگ گیا، جن زمینوں کا زور بڑھانے کو کچھ دنوں افتادہ رکھنا تھا اس کی منہائی نہیں ہوئی۔ ہر سال برابر جوتنے جانے سے زور کم ہوتا گیا، پیداوار کم ہونے لگی، جو حساب کہ بندوبست کے وقت لگایا تھا وہ نہ رہا۔ اکثر اضلاع میں ہر ایک بندوبست سخت ہو گیا۔ زمینداروں کاشتکاروں کو نقصان عاید ہوئے۔ رفتہ رفتہ وہ بے سامان ہو گئے، زراعت کا سامان بہت کم ہو گیا، اور اس سبب سے جو زمین کاشت کرتے تھے وہ جیسا کہ چاہیے کمائی نہ گئی۔ اس سبب سے بھی کمی پیداوار ہوئی۔ ادائے مالگذاری کے لیے وہ قرضدار ہوئے۔ سود قرضہ زیادہ ہونے لگا۔ بہت سے زمیندار مالگذار جو بہت اچھا سامان اور معقول خرچ رکھتے تھے مفلس ہو گئے۔ جن دیہات میں افتادہ زمین سوا تھی وہ اور زیادہ خراب ہو گئی۔ آنریبل ٹامسن صاحب بہادر اپنے ہدایت نامہ کی دفعہ ۶۴ میں لکھتے ہیں کہ آئین نہم ۱۸۳۳ء کے بندوبست میں علی العموم یہ بات نظر آتی ہے کہ اچھے دیہات کی جمع کچھ نرم تجویز ہوئی اور خراب دیہات کی جمع سنگین ہو گئی۔ زمینداروں کی ناجائز منفعتیں جاتی رہیں۔ اگرچہ یہ بات بہت اچھی تھی، مگر بندوبست کے وقت اس کی رعایت چاہیے تھی جو نہ ہوئی۔ غرضکہ ان اسباب سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو مفلسی نے گھیر لیا تھا، جس کے سبب باوجود اس امن اور آسائش کے جو زمینداروں کو تھی، ان کے دل سے پچھلی عملداریوں کی یاد بھولتی نہ تھی۔

تعلقہ داری بندوبست کا شکست کر دینا، اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس میں کچھ ناانصافی ہوئی، عمدہ سبب فساد کا ہوا، خصوصاً ملک اودھ میں۔ یہ تعلقہ دار راجہ بنے ہوئے تھے، اپنی تعلقہ داری کے دیہات میں حکومتیں کرتے تھے، نفع اٹھاتے تھے۔ وہ بادشاہت اور منفعت ان کی دفعتاً جاتی رہی۔ اس باب میں بھی کہ اگر سرکار یہ نہ کرتی تو اصل زمینداروں کو ان ظالموں کے ہاتھ سے کیونکر نکالتی، اس مقام پر بحث نہیں کرنے کے، بلکہ اس کی بحث ہماری دوسری رائے میں ہے۔ یہاں صرف یہ بیان کرنا ہے کہ شکست تعلقہ داری بھی سبب سرکشی ہے۔

اسٹامپ کا جاری ہونا بالکل ایک ولایتی پیداوار ملک کا قاعدہ ہے، جہاں زمین کی آمدنی گویا کہ نہیں لی جاتی۔ ہندوستان میں اس کا جاری کرنا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا جانا، جس کی انتہا اب قانون دہم ۱۸۲۹ء میں ہے، بلاشبہ خلاف طبائع اہل ہند بلکہ بنظر حالات مفلسی اہل ہند نامناسب تھا۔ اسٹامپ کے جاری ہونے میں پچھلے لوگ بہت بحث کر گئے ہیں اور بہت سی دلیلیں پیش ہوئی ہیں کہ اس کا اجرا مفید ہے، اور بہت غالب تر دلیلیں ہوئی ہیں کہ اصلی بات برخلاف اس کے ہے۔ مگر ہم اس مقام پر ان سب بحثوں سے قطع نظر کرتے ہیں اور اتنا لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ ان بحثوں کی حاجت ان ملکوں میں ہے جہاں کی رعایا تربیت یافتہ اور متمول اور درست باز معاملہ فہم ہے۔ ہندوستان کی رعایا جو دن بدن مفلس ہوتی جاتی ہے، وہ ہرگز اس زیر باری اٹھانے کے لائق نہیں۔ سب عقلا اس محصول کو ناپسند کر گئے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ دستاویزات پر محصول لگانا جتنا قابل الزام اور بے وجہ محض ہے، اس سے زیادہ برا وہ محصول ہے جو کاغذات پر انصاف کرنے کے لیے لیا جاتا ہے۔ علاوہ زیر باری اخراجات کی بہت سی صورتوں میں عدالت گستری سے باز رکھتا ہے۔ چنانچہ مل صاحب کی کتاب پولیٹکل اکونمی اور لارڈ بروم صاحب کی پولیٹکل فلوزوفی اس کے ناپسندیدہ ہونے سے پر ہیں۔ اور جس قدر کہ ولایت میں اس پر عذر ہے، اس سے بہت زیادہ ہندوستان میں اس کے رواج پر الزام ہے۔

دیوانی عدالت کا انتظام جو پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ میں ہے، وہ نہایت شایستہ ہے۔ اس کو اس قدر میں کچھ مداخلت نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اکثر حکام کی رائے اس کے برخلاف ہو گی اور پنجاب کے انتظام کو پسند کرتے ہوں گے، مگر یہ گفتگو نہایت قابل بحث کے ہے۔ قانون پنجاب کا ایک مجمل مطلب ہے انھیں قوانین کا جو اس ملک میں جاری ہیں۔ ان کے بسط اور پھیلاؤ اور عمل درآمد کے واسطے قواعد مقرر نہیں ہیں۔ ہر حاکم اس میں خود مختار ہے۔ سب حاکموں کی رائے سلیم ہونی ضرور نہیں ہے۔ پھر اس میں کس قدر خرابیاں انجام کو پڑنی متصور ہیں۔ دیوانی کا محکمہ سب محکموں سے زیادہ تر عمدہ ہے جس پر نہایت اہتمام چاہیے۔ یہی محکمہ ہے جس پر آبادی ملک اور اجرائے تجارت اور افزونی بنج بیوپار و استحکام حقوق منحصر ہیں۔ پنجاب میں یہ محکمہ نہایت کم قدر ہو رہا ہے۔ حکام مطلق متوجہ نہیں، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ متوجہ ہونے کی فرصت نہیں۔ جس قدر مقدمات غور طلب بسبب انتقالات اور معاملات کثیر اور بسبب زیادہ مدت ہو جانے عملداری سرکار کے اس ملک میں ان ملکوں کی عدالتوں میں درپیش ہوتے ہیں، وہ ابھی تک پنجاب میں نہیں، اور جب ہوں گے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ قوانین پنجاب ان کی درستی سے فیصلہ کرنے کو کافی نہیں۔ اس غدر میں دیوانی عدالت کا جس قدر اثر پایا جاتا ہے وہ صرف اتنا ہے: اول انتقالات حقیت، دوم مقروض ہونا یا مدیون ڈگری ہونا لوگوں کا، کہ یہ دونوں باتیں آپس کے فساد کی باعث ہوئیں نہ مقابلہ سرکار کی۔ ان باتوں سے آپس میں دلی رنج تھا، اور یہ قاعدہ ہے کہ جب عملداری کو سستی ہوتی ہے آپس کے تنازع سے فسادات برپا ہوتے ہیں۔ پھر ان دونوں باتوں میں جو لوگوں کو آپس میں رنج تھا، سب سے بڑا اس کا سبب یہ تھا کہ انتقالات ناواجبی اور قرضہ ناجایز لوگوں کے سر پر ہو گیا تھا، وہ جھوٹی ڈگریوں ہو گئے تھے، اور اسی سبب سے دیوانی عدالت پر الزام لگایا جاتا ہے۔ خیال کرنا چاہیے کہ جس قدر کم توجہی اور ابتری اور سرسری تحقیقات اور خود اختیاری حکام مجوز مقدمات دیوانی کی پنجاب میں ہے، وہ بہت اس سے زیادہ خرابیاں پیدا کرے گی۔ دیوانی عدالت کی تاثیر دس برس میں ظاہر نہیں ہوتی۔ پچاس برس بعد پنجاب کو ممالک مغربی شمالی کے انتظام اور تاثیر عدالت دیوانی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ مگر اب ہم اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ پریسیڈنسی بنگال اور آگرہ کا قانون متعلق مقدمات دیوانی قابل اصلاح ہے۔ انفصال مقدمات میں بہت تاخیر ہوتی ہے۔ اسٹامپ کے بیش قیمت ہونے سے، اپیل کے ہر مقدمہ میں بہت سے درجات قائم ہونے سے لوگوں کو زیر باری ہے۔ حکام دیوانی کو بعض قسم کا اختیار نہ دینے سے انفصال مقدمات میں ہرج تھا۔ سو اس کو ایکٹ ۱۹ ۱۸۵۳ء نے کچھ کچھ رفع کیا، اور جس قدر باقی ہے وہ قابل اصلاح ہے۔ اس میں اگر زیادہ گفتگو دیکھنی منظور ہو، ہماری دوسری رائے کو جو درباب انتظام ہندوستان ہے اس کو ملاحظہ کرو۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.