
Глава 4 из 10
The First Cause: Misunderstanding, and Interference in Religion
اصل اول: رعایا کی غلط فہمی اور مداخلت مذہبی
اصل اول
غلط فہمی رعایا، یعنی برعکس سمجھنا تجاویز گورنمنٹ کا۔
اس مقام پر جتنی باتیں ہم بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ درحقیقت ہماری گورنمنٹ میں یہ باتیں تھیں، بلکہ یہ مطلب کہ لوگوں نے یوں غلط سمجھا اور سرکشی کا سبب ہو گیا۔ اگر ہندوستانی آدمی بھی لیجسلیٹیو کونسل میں مداخلت رکھتے تو یہ غلط فہمی واقع نہ ہوتی۔
مداخلت مذہبی
کچھ شبہ نہیں کہ تمام لوگ جاہل اور قابل اور اعلیٰ اور ادنیٰ بیقین جانتے تھے کہ ہماری گورنمنٹ کا دلی ارادہ ہے کہ مذہب اور رسم و رواج میں مداخلت کرے اور سب کو کیا ہندو اور کیا مسلمان عیسائی مذہب اور اپنے ملک کی رسم و رواج پر لا ڈالے، اور سب سے بڑا سبب اس سرکشی میں یہی ہے۔
ہر شخص دل سے جانتا تھا کہ ہماری گورنمنٹ کے احکام بہت آہستہ آہستہ ظہور میں آتے ہیں، اور جو کام کرنا ہوتا ہے رفتہ رفتہ کیا کرتے ہیں، اس واسطے دفعتاً اور جبراً مسلمانوں کی طرح دین بدلنے کو نہیں کہتے، مگر جتنا جتنا قابو پاتے جاویں گے اتنی اتنی مداخلت کرتے جاویں گے۔ اور جو باتیں رفتہ رفتہ ظہور میں آتی گئیں جن کا بیان آگے آوے گا، ان کے اس غلط شبہ کو زیادہ تر مستحکم اور مضبوط کرتی گئیں۔ سب کو یقین تھا کہ ہماری گورنمنٹ علانیہ جبر مذہب بدلنے پر نہیں کرے گی، بلکہ خفیہ تدبیریں کر کر مثل نابود کر دینے علم عربی و سنسکرت کے، اور مفلس و محتاج کر دینے ملک کے اور لوگوں کو، جو ان کا مذہب ہے اس کے مسائل سے ناواقف کر کر، اور اپنے دین و مذہب کی کتابیں اور رسائل اور وعظ کو پھیلا کر، نوکریوں کا لالچ دے کر لوگوں کو بے دین کر دے گی۔ ۱۸۳۷ء کی قحط سالی میں جو یتیم لڑکے کم عمر عیسائی کیے گئے، وہ تمام اضلاع ممالک مغربی و شمالی میں ارادہ گورنمنٹ کے ایک نمونہ گنے جاتے تھے کہ ہندوستان کو اس طرح پر مفلس اور محتاج کر کر اپنے مذہب میں لے آویں گے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جب سرکار آنریبل ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی ملک فتح کرتی تھی، ہندوستان کی رعایا کو کمال رنج ہوتا تھا، اور یہ بھی میں سچ کہتا ہوں کہ منشا اس رنج کا اور کچھ نہیں ہوتا تھا بجز اس کے کہ لوگ جانتے تھے کہ جوں جوں اختیار ہماری گورنمنٹ کا زیادہ ہوتا جاوے گا اور کسی دشمن اور ہمسایہ حاکم کے مقابلہ اور فساد کا اندیشہ نہ رہے گا، توں توں ہمارے مذہب اور رسم اور رواج میں زیادہ تر مداخلت کریں گے۔
ہماری گورنمنٹ کی ابتدائے حکومت ہندوستان میں گفتگو مذہب کی بہت کم تھی، روز بروز زیادہ ہوتی گئی اور اس زمانہ میں بدرجۂ کمال پہنچ گئی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ کو ان امور میں کچھ مداخلت نہ تھی، مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب معاملہ بموجب حکم اور بموجب اشارہ اور مرضی گورنمنٹ ہوتے ہیں۔ سب جانتے تھے کہ گورنمنٹ نے پادری صاحبوں کو ہندوستان میں مقرر کیا ہے، گورنمنٹ سے پادری صاحب تنخواہ پاتے ہیں، گورنمنٹ اور اور حکام انگریزی ولایتی جو اس ملک میں نوکر ہیں وہ پادری صاحبوں کو بہت سا روپیہ واسطے خرچ کے اور کتابیں بانٹنے کو دیتے ہیں اور ہر طرح ان کے مددگار اور معاون ہیں۔ اکثر حکام متعہد اور افسران فوج نے اپنے تابعین سے مذہب کی گفتگو شروع کی تھی۔ بعضے صاحب اپنے ملازمین کو حکم دیتے تھے کہ ہماری کوٹھی پر آن کر پادری صاحب کا وعظ سنو، اور ایسا ہی ہوتا تھا۔ غرضکہ اس بات نے ایسی ترقی پکڑی تھی کہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا تھا کہ گورنمنٹ کی عملداری میں ہمارا یا ہماری اولاد کا مذہب قائم رہے گا۔
پادری صاحبوں کے وعظ نے نئی صورت نکالی تھی۔ تکرار مذہب کی کتابیں بطور سوال و جواب چھپنی اور تقسیم ہونی شروع ہوئیں۔ ان کتابوں میں دوسرے مذہب کے مقدس لوگوں کی نسبت الفاظ اور مضامین رنجیدہ مندرج ہوئے۔ ہندوستان میں دستور وعظ اور کتھا کا یہ ہے کہ اپنی اپنی معبد یا مکان پر بیٹھ کر کہتے ہیں، جس کا دل چاہے اور جس کو رغبت ہو وہاں جا کر سنے۔ پادری صاحبوں کا طریقہ اس کے برخلاف تھا۔ وہ خود غیر مذہب کے مجمع اور تیرتھ گاہ اور میلہ میں جا کر وعظ کہتے تھے، اور کوئی شخص صرف حکام کے ڈر سے مانع نہ ہوتا تھا۔ بعض ضلعوں میں یہ رواج نکلا کہ پادری صاحبوں کے ساتھ تھانہ کا ایک چپراسی جانے لگا۔ پادری صاحب وعظ میں صرف انجیل مقدس کے بیان پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ غیر مذہب کے مقدس لوگوں کو اور مقدس مقاموں کو بہت برائی سے اور ہتک سے یاد کرتے تھے، جس سے سننے والوں کو نہایت رنج اور دلی تکلیف پہنچتی تھی، اور ہماری گورنمنٹ سے ناراضی کا بیج لوگوں کے دل میں بویا جاتا تھا۔
مشنری سکول بہت جاری ہوئے اور اس میں مذہبی تعلیم شروع ہوئی۔ سب لوگ کہتے تھے کہ سرکار کی طرف سے ہیں۔ بعض اضلاع میں بہت بڑے بڑے عالی قدر حکام متعہد ان اسکولوں میں جاتے تھے اور لوگوں کو اس میں داخل اور شامل ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ امتحان مذہبی کتابوں کا لیا جاتا تھا، اور طالب علموں سے جو لڑکے کم عمر ہوتے تھے پوچھا جاتا کہ تمھارا خدا کون، تمھارا نجات دینے والا کون؟ اور وہ عیسائی مذہب کے موافق جواب دیتے تھے، اس پر ان کو انعام ملتا تھا۔ ان سب باتوں سے رعایا کا دل ہماری گورنمنٹ سے پھٹتا جاتا تھا۔
یہاں ایک بڑا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لوگ اس تعلیم سے ناراض تھے تو اپنے لڑکوں کو کیوں داخل کرتے تھے؟ اس بات کو عدم ناراضی پر خیال کرنا نہیں چاہیے، بلکہ یہ ایک بڑی دلیل ہے ہندوستان کے کمال خراب حال اور مفلس اور نہایت تنگ اور تباہ حال ہو جانے پر۔ یہ صرف ہندوستان کی محتاجی اور مفلسی کا باعث تھا کہ لوگ اس خیال سے کہ ان اسکولوں میں داخل ہو کر ہماری اولاد کو کچھ وجہ معیشت اور روزگار حاصل ہو گا، ایسی سخت بات کو جس سے بلاشبہ ان کو دلی رنج اور روحانی غم تھا، گوارا کرتے تھے، نہ رضامندی سے۔
دیہاتی مکتبوں کے مقرر ہونے سے سب لوگ یقین سمجھتے تھے کہ صرف عیسائی بنانے کو یہ مکتب جاری ہوئے ہیں۔ پرگنہ وزیٹر اور ڈپٹی انسپکٹر جو ہر ہر گاؤں اور قصبہ میں لوگوں کو نصیحت کرتے پھرتے تھے کہ اپنے لڑکوں کو مکتبوں میں داخل کرو، ہر ہر گاؤں میں کالا پادری ان کا نام تھا۔ جس گاؤں میں پرگنہ وزیٹر یا ڈپٹی انسپکٹر پہنچا اور گنواروں نے آپس میں چرچا کیا کہ کالا پادری آیا۔ عوام الناس یوں خیال کرتے تھے کہ یہ عیسائی مکتب ہیں اور کرسٹان بنانے کو بٹھاتے ہیں۔ اور فہمیدہ آدمی اگرچہ یہ نہیں سمجھتے تھے، مگر یوں جانتے تھے کہ ان مکاتیب میں صرف اردو کی تعلیم ہوتی ہے، ہمارے لڑکے اس میں پڑھ کر اپنے مذہب کے احکام اور مسائل اور اعتقادات اور رسمیات سے بالکل ناواقف ہو جاویں گے اور عیسائی بن جاویں گے، اور یوں سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ کا بھی ارادہ ہے کہ ہندوستان کے مذہبی علوم کو معدوم کر دے تاکہ آیندہ کو عیسائی مذہب پھیلا دے۔ اکثر اضلاع شرقی ہندوستان میں ان مکتبوں کا جاری ہونا اور لڑکوں کا داخل ہونا صاف حکماً ہوا، اور کہہ دیا کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ لڑکوں کو داخل کیا جاوے۔
لڑکیوں کی تعلیم کا بہت چرچا ہندوستان میں تھا اور سب یقین جانتے تھے کہ سرکار کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں اسکولوں میں آویں اور تعلیم پاویں اور بے پردہ ہو جاویں۔ یہ بات حد سے زیادہ ہندوستانیوں کو ناگوار تھی۔ بعض بعض اضلاع میں اس کا نمونہ قائم ہو گیا تھا۔ پرگنہ وزیٹر اور ڈپٹی انسپکٹر یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم سعی کر کر لڑکیوں کے مکتب قائم کر دیں گے تو ہماری بڑی نیکنامی گورنمنٹ میں ہو گی۔ اس سبب سے وہ ہر طرح پر بطریق جائز و ناجائز لوگوں کو واسطے قائم کرنے لڑکیوں کے مکتبوں کے فہمائش کرتے تھے، اور اس سبب سے زیادہ لوگوں کے دلوں کو ناراضی اور اپنے غلط خیالات کا ان کو یقین ہوتا جاتا تھا۔
بڑے بڑے کالج جو شہروں میں مقرر تھے، اول اول گو ان سے بھی کچھ کچھ وحشت لوگوں کو ہوئی تھی، اس زمانہ میں شاہ عبد العزیز جو تمام ہندوستان میں نامی مولوی تھے زندہ تھے، مسلمانوں نے ان سے فتوے پوچھا، انھوں نے صاف جواب دیا کہ کالج انگریزی میں جانا اور پڑھنا اور انگریزی زبان کا سیکھنا بموجب مذہب کے سب درست ہے۔ اس پر سینکڑوں مسلمان کالجوں میں داخل ہوئے۔ مگر اس زمانہ میں کالجوں کا حال ایسا نہ تھا، بلکہ ان میں تعلیم کا سررشتہ بہت اچھا تھا۔ ہر قسم کے علوم فارسی اور عربی اور سنسکرت اور انگریزی پڑھائے جاتے تھے۔ فقہ اور حدیث اور علم ادب پڑھانے کی اجازت تھی۔ فقہ میں امتحان ہوتا تھا، سندیں بٹتی تھیں۔ کسی طرح کی ترغیب مذہبی نہ تھی۔ مدرس بہت ذی عزت اور معتبر اور مشہور اور ذی علم اور پرہیزگار مقرر ہوتے تھے۔ مگر آخر کو یہ بات نہ رہی۔ قدر عربی کی بہت کم ہو گئی، اور فقہ و حدیث کی تعلیم یکسر جاتی رہی۔ فارسی بھی چنداں قابل لحاظ نہ رہی۔ تعلیم کی صورت اور کتابوں کے رواج نے بالکلیہ تغیر پکڑی۔ اردو اور انگریزی کا رواج بہت زیادہ ہوا، جس کے سبب یہی شبہ کہ گورنمنٹ کو ہندوستان کے مذہبی علوم کا معدوم کرنا منظور ہے، قائم ہو گیا۔ مدرس لوگ معتبر اور ذی علم نہ رہے۔ وہی مدرسہ کے طالب علم کہ جنھوں نے ابھی تک لوگوں کی آنکھوں میں اعتبار پیدا نہ کیا تھا، مدرس ہونے لگے۔ اس لیے ان مدرسوں کا بھی وہی حال ہو گیا۔
ادھر تو دیہاتی مکاتیب اور کالجوں کا یہ حال تھا کہ ان پر سب کو شبہ رواج دینے مذہب عیسائی کا ہو رہا تھا، کہ دفعتاً پیشگاہ گورنمنٹ سے اشتہار جاری ہوا کہ جو شخص مدرسہ کا تعلیم یافتہ ہو گا اور فلاں فلاں علوم اور زبان انگریزی میں امتحان دے کر سند یافتہ ہو گا، وہ نوکری میں سب سے مقدم سمجھا جاوے گا۔ چھوٹی چھوٹی نوکریاں بھی ڈپٹی انسپکٹروں کے سارٹیفکٹ پر، جس کو ابھی تک سب لوگ کالا پادری سمجھے جاتے تھے، منحصر ہو گئیں۔ اور ان غلط خیالات کے سبب لوگوں کے دل پر ایک غم کا بوجھ پڑ گیا، اور سب کے دل میں ہماری گورنمنٹ سے ناراضی پیدا ہو گئی، اور لوگ یہ سمجھے کہ ہندوستان کو ہر طرح بے معاش اور محتاج کیا جاتا ہے کہ ناچار مجبور ہو کر رفتہ رفتہ ان لوگوں کی مذہبی باتوں میں تغیر و تبدیل ہو جاوے۔
اسی زمانہ میں بعض اضلاع میں تجویز ہوئی کہ قیدی جیلخانوں میں ایک شخص کے ہاتھ کا پکا ہوا کھاویں، جس سے ہندوؤں کا مذہب بالکل جاتا رہتا تھا۔ مسلمانوں کے مذہب میں اگرچہ کچھ نقصان نہیں آتا تھا، مگر اس کا رنج سب کے دل پر تھا کہ سرکار ہر ایک کا مذہب لینے پر آمادہ اور ہر طرح پر اس کی تدبیر میں ہے۔
یہ سب خرابیاں لوگوں کے دلوں میں ہو رہی تھیں کہ دفعتاً ۱۸۵۵ء میں پادری صاحبان اے ایڈمنڈ نے دار الامارۃ کلکتہ سے عموماً اور خصوصاً سرکاری معزز نوکروں کے پاس چٹھیات بھیجیں، جن کا مطلب یہ تھا کہ اب تمام ہندوستان میں ایک عملداری ہو گئی، تار برقی سے سب جگہ کی خبر ایک ہو گئی، ریلوے سڑک سے سب جگہ کی آمد و رفت ایک ہو گئی، مذہب بھی ایک چاہیے، اس لیے مناسب ہے کہ تم لوگ بھی عیسائی ایک مذہب ہو جاؤ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ان چٹھیات کے آنے کے بعد خوف کے مارے سب کی آنکھوں میں اندھیرا آ گیا، پاؤں کے تلے کی مٹی نکل گئی۔ سب کو یقین ہو گیا کہ ہندوستانی جس وقت کے منتظر تھے وہ وقت اب آ گیا۔ اب جتنے سرکاری نوکر ہیں اول ان کو کرسٹان ہونا پڑے گا اور پھر تمام رعیت کو۔ سب لوگ بیشک سمجھتے تھے کہ یہ چٹھیات گورنمنٹ کے حکم سے آئی ہیں۔ آپس میں ہندوستانی لوگ اہلکاران سرکاری سے پوچھتے تھے کہ تمھارے پاس بھی چٹھی آئی؟ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ تم بھی بسبب لالچ نوکری کے کرسٹان ہو گئے۔ ان چٹھیوں نے یہاں تک ہندوستانی اہلکاروں کو الزام لگایا کہ جن پاس چٹھیاں آئیں تھیں وہ مارے شرمندگی اور بدنامی کے چھپاتے تھے اور انکار کرتے تھے، ہمارے پاس تو نہیں آئی۔ لوگ جواب دیتے تھے کہ اب آ جاوے گی، کیا تم سرکار کے نوکر نہیں ہو؟ اگر سچ پوچھو تو یہ چٹھیاں تمام ہندوستانیوں کے غلط شبہات کو پکا اور مستحکم کرنے والی تھیں۔ چنانچہ انھوں نے کر دیا، اور اس کے مٹانے کو کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی۔
کچھ عجب نہ تھا کہ اسی زمانہ میں کچھ برہمی اور تھوڑا بہت فساد ملک میں شروع ہو جاتا، چنانچہ اس وقت کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے، مگر جناب معلی القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال نے بہت جلد خبر لی اور ایک اشتہار جاری کیا جس سے فی الجملہ لوگوں کے دلوں میں تسلی ہوئی، اور وہ اضطراب جو ہو گیا تھا دھیما ہوا۔ مگر جیسا کہ چاہیے ویسا قلع اور قمع اس کا نہ ہوا۔ لوگ سمجھے کہ یہ بات بالفعل موقوف ہو گئی، پھر کبھی قابو کے وقت پر جاری ہو گی۔ پادری صاحبان اے ایڈمنڈ کی چٹھی اور نواب معلی القاب نواب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال کا اشتہار آخر کتاب میں مندرج ہے، وہاں دیکھو۔
ان سب باتوں سے مسلمان بہ نسبت ہندو کے بہت زیادہ ناراض تھے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندو اپنے مذہب کے احکام بطور رسم و رواج کے ادا کرتے ہیں، نہ بطور احکام مذہب کے۔ ان کو اپنے مذہب کے احکام اور عقاید اور وہ دلی اور اعتقادی باتیں جن پر نجات عاقبت کی موافق ان کے مذہب کے منحصر ہے، مطلق معلوم نہیں ہیں اور نہ ان کے برتاؤ میں ہیں۔ اس سبب سے وہ اپنے مذہب میں نہایت سست اور بجز ان رسمی باتوں کے اور کھانے پینے کی پرہیز کے اور کسی مذہبی عقیدہ میں پختہ اور متعصب نہیں ہیں۔ ان کے سامنے ان کے اس عقیدہ کے، جس کا دل میں اعتقاد چاہیے، برخلاف باتیں ہوا کریں، ان کو کچھ غصہ یا رنج نہیں آتا۔ برخلاف مسلمانوں کے، وہ اپنے مذہب کے عقاید بموجب جو باتیں کہ ان کے مذہب میں نجات دینے والی اور عذاب میں ڈالنے والی ہیں، بخوبی جانتے ہیں اور ان احکام کو مذہبی احکام اور خدا کی طرف کے احکام سمجھ کر کرتے ہیں۔ اس سبب سے اپنے مذہب میں پختہ اور متعصب ہیں۔ ان وجوہات سے مسلمان زیادہ تر ناراض تھے، اور ہندوؤں کی بہ نسبت زیادہ تر فساد میں ان کا شریک ہونا قرین قیاس تھا، چنانچہ یہی ہوا۔ بلاشبہ جتنی گورنمنٹ کی مداخلت مذہب میں خلاف قواعد ملکداری ہے، ویسا ہی کسی مذہب کی تعلیم کو روکنا، علی الخصوص اس مذہب کی جس کو وہ حق سمجھتی ہے، برخلاف اور بیجا ہے۔ مگر ہمارا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوجودیکہ ہماری گورنمنٹ ایسی ہی ہے، مگر کام اس طرح پر ہوئے کہ رعایا کا یہ غلط شبہ رفع نہ ہوا۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.