
Chapitre 3 sur 16
Ghazals 41–59 (Radif Alif)
غزلیں ۴۱ تا ۵۹ (ردیف الف)
ردیف الف
۴۱۔ شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھا
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھارشتۂٴ ہر شمع خارِ کِسوتِ فانوس تھا
مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حناکس قدر یا رب! ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا
حاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزودل بہ دل پیوستہ، گویا، یک لبِ افسوس تھا
کیا کروں بیمارئِ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خونِ دل، بے منتِ کیموس تھا
۴۲۔ آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریےاس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
۴۳۔ ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھا
ضعفِ جنوں کو وقتِ تپش در بھی دور تھااک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
۴۴۔ فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراںنہیں رفتارِ عمرِ تیز رو پابندِ مطلب ہا
۴۵۔ عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئےہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میںشایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
بر روۓ شش جہت درِ آئینہ باز ہےیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واںحاصل سواے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
۴۶۔ رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!
رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف!عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ مے خانۂ نیرنگ ہےگردشِ مجنوں بہ چشمک ہاے لیلیٰ آشنا
شوق ہے "ساماں طرازِ نازشِ اربابِ عجز"ذرّہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
میں اور ایک آفت کا ٹکڑا وہ دلِ وحشی، "کہ ہےعافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا"
شکوہ سنجِ رشکِ ہم دیگر نہ رہنا چاہیےمیرا زانو مونس اور آئینہ تیرا آشنا
کوہکن" نقّاشِ یک تمثالِ شیریں" تھا اسدؔسنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا
۴۷۔ ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنا
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا ربآج ہی ہوا منظور ان کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی، کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
۴۸۔ سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہےکہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالمتیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
۴۹۔ غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں طُرّہ گیاہ کا
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگصید ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہےشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
مقتل کو کس نشاط سے جا تا ہو ں میں، کہ ہےپُرگل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
جاں در" ہواۓ یک نگہِ گرم" ہے اسدؔپروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
۵۰۔ جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
۵۱۔ لطافت بےکثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
لطافت بےکثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا
حریفِ جوششِ دریا نہیں خوددارئ ساحلجہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
۵۲۔ عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانادرد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے، قسمت میں مری، صورتِ قفلِ ابجدتھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
دل ہوا کشمکشِ چارۂ زحمت میں تماممٹ گیا گھسنے میں اس عقدے کا وا ہو جانا
اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہاس قدر دشمنِ اربابِ وفا ہو جانا
ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہواباور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
دل سے مٹنا تری انگشتِ حنائی کا خیالہو گیا گوشت سے ناخن کا جدا ہو جانا
ہے مجھے ابرِ بہاری کا برس کر کھلناروتے روتے غمِ فرقت میں فنا ہو جانا
گر نہیں نکہتِ گل کو ترے کوچے کی ہوسکیوں ہے گردِ رہِ جولانِ صبا ہو جانا
تاکہ تجھ پر کھلے اعجازِ ہوائے صیقلدیکھ برسات میں سبز آئنے کا ہو جانا
بخشے ہے جلوۂ گل، ذوقِ تماشا غالبؔچشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا
۵۳۔ پھر وہ سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرے
پھر وہ سوۓ چمن آتا ہے خدا خیر کرےرنگ اڑتا ہے گُلِستاں کے ہواداروں کا
۵۴۔ اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہے
اسدؔ! یہ عجز و بے سامانئِ فرعون توَام ہےجسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
۵۵۔ بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آجہر سلحشور انگلستاں کا
گھر سے بازار میں نکلتے ہوۓزہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہےگھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہرِ دہلی کا ذرّہ ذرّہ خاکتشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تکآدمی واں نہ جا سکے یاں کا
میں نے مانا کہ مل گۓ پھر کیاوہی رونا تن و دل و جاں کا
گاہ جل کر کیا کیۓ شکوہسوزشِ داغ ہاۓ پنہاں کا
گاہ رو کر کہا کیۓ باہمماجرا دیدہ ہاۓ گریاں کا
اس طرح کے وصال سے یا ربکیا مٹے داغ دل سے ہجراں کا
۵۶۔ بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کانگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہےکہ داغِ آرزوۓ بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرتمبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا
۵۷۔ عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدؔ
عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدؔنقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہوا
۵۸۔ شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھا
شب کہ ذوقِ گفتگو سے تیرے، دل بے تاب تھاشوخئِ وحشت سے افسانہ فسونِ خواب تھا
واں ہجومِ نغمہ ہاۓ سازِ عشرت تھا اسدؔناخنِ غم یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا
۵۹۔ دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئیوہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیاغالبؔ ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.