
Chapter 4 of 16
Ghazals 60–86 (Radifs Be to Ze)
غزلیں ۶۰ تا ۸۶ (ردیف ب تا ز)
ردیف ب
۶۰۔ پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شرابدے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب
پوچھ مت وجہ سیہ مستئِ اربابِ چمنسایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب
جو ہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہےسر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب
ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگرموجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب
بار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سوموجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب
جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ نازدے ہے تسکیں بَدَمِ آبِ بقا موجِ شراب
بس کہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہوہوکرشہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب
موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیالہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب
نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشاۓ دماغبس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب
ایک عالم پہ ہیں طوفانئِ کیفیّتِ فصلموجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب
شرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گلرہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب
ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسدؔپھر ہوا وقت، کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
ردیف ت
۶۱۔ افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نےجن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت
کافی ہے نشانی تری چھلّے کا نہ دیناخالی مجھے دکھلا کے بوقتِ سفر انگشت
لکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرمتا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
۶۲۔ رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
رہا گر کوئی تا قیامت سلامتپھر اک روز مرنا ہے حضرت سلامت
جگر کو مرے عشقِ خوں نابہ مشربلکھے ہے ’خداوندِ نعمت سلامت‘
علٰی الرّغم دشمن، شہیدِ وفا ہوںمبارک مبارک سلامت سلامت
نہیں گر سر و برگِ ادراک معنیتماشاۓ نیرنگ صورت سلامت
۶۳۔ آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوستدودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست
اے دلِ ناعاقبت اندیش! ضبطِ شوق کرکون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست
خانہ ویراں سازئ حیرت! تماشا کیجیۓصورتِ نقشِ قدم ہوں رفتۂ رفتارِ دوست
عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھےکُشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست
چشمِ ما روشن، کہ اس بے درد کا دل شاد ہےدیدۂ پر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست
غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میںبے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست
تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست
جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغسَر کرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست
چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخئ گفتارِ دوست
مہربانی ہاۓ دشمن کی شکایت کیجیۓیا بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست
یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آتی ہےآپہے ردیف شعر میں غالبؔ! ز بس تکرارِ دوست
۶۴۔ مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔیار لاۓ مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت
ردیف ج
۶۵۔ گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آج
گلشن میں بند وبست بہ رنگِ دگر ہے آجقمری کا طوق حلقۂ بیرونِ در ہے آج
آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھتارِ نفس کمندِ شکارِ اثر ہے آج
اے عافیت! کنارہ کر، اے انتظام! چلسیلابِ گریہ در پےِ دیوار و در ہے آج
۶۶۔ معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظار
معزولئ تپش ہوئی افرازِ انتظارچشمِ کشودہ حلقۂ بیرونِ در ہے آج
۶۷۔ لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں
لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیںاچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!!
ردیف چ
۶۸۔ نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچاگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
"کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید" نہ پوچھبہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ
تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل!کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بسترکھینچ
تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگسبہ کورئ دل و چشمِ رقیب ساغر کھینچ
بہ نیم غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ نازنیامِ پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ
مرے قدح میں ہے صہباۓ آتشِ پنہاںبروۓ سفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ
ردیف د
۶۹۔ حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہاہوئی معزولئ انداز و ادا میرے بعد
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہےشعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
خوں ہے دل خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنیان کے ناخن ہوۓ محتاجِ حنا میرے بعد
درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جانگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
ہے جنوں اہلِ جنوں کے لۓ آغوشِ وداعچاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
کون ہوتا ہے حریفِ مۓ مرد افگنِ عشقہے مکّرر لبِ ساقی میں صلا میرے بعد
غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئیکہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد
آۓ ہے بے کسئ عشق پہ رونا غالبؔکس کے گھر جاۓ گا سیلابِ بلا میرے بعد
۷۰۔ ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدم
ہلاکِ بے خبری نغمۂ وجود و عدمجہان و اہلِ جہاں سے جہاں جہاں آباد
۷۱۔ تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے
تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولےمیرا لہو بھی خوب ہے تیری حنا کے بعد
ردیف ر
۷۲۔ بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوار
بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر در و دیوارنگاہِ شوق کو ہیں بال و پر در و دیوار
وفورِ عشق نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گۓ مرے دیوار و در در و دیوار
نہیں ہے سایہ، کہ سن کر نوید مَقدمِ یارگۓ ہیں چند قدم پیشتر در و دیوار
ہوئی ہے کس قدر ارزانئ مۓ جلوہکہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
جو ہے تجھے سرِ سوداۓ انتظار، تو آکہ ہیں دکانِ متاعِ نظر در و دیوار
ہجومِ گریہ کا سامان کب کیا میں نےکہ گر پڑے نہ مرے پاؤں پر در و دیوار
وہ آ رہا مرے ہمساۓ میں، تو ساۓ سےہوۓ فدا در و دیوار پر در و دیوار
نظر میں کھٹکے ہے بِن تیرے گھر کی آبادیہمیشہ روتے ہیں ہم دیکھ کر در و دیوار
نہ پوچھ بے خودئِ عیشِ مَقدمِ سیلابکہ ناچتے ہیں پڑے سر بسر در و دیوار
نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میںحریف رازِ محبت مگر در و دیوار
۷۳۔ گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن’جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر‘
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہمسر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں، تو چاہیے دونا ہو التفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
۷۴۔ کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر
کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر
آتش پرست کہتے ہیں اہلَ جہاں مجھےسرگرمِ نالہ ہاۓ شرربار دیکھ کر
کیا آبروۓ عشق، جہاں عام ہو جفارکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر
وا حسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر
بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر
زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر
کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر
گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طو ر پردیتے ہیں بادہ' ظرفِ قدح خوار' دیکھ کر
سر پھوڑنا وہ! 'غالبؔ شوریدہ حال' کایاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
۷۵۔ لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی" ہوں اُس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہاۓ دل نمک داں پر
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایساکہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیاکہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر
بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگاقیامت اِک ہواۓ تند ہے خاکِ شہیداں پر
نہ لڑ ناصح سے، غالب، کیا ہوا گر اس نے شدّت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
۷۶۔ ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند سُبُک دست ہوۓ بت شکنی میںہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور
ہے خوںِ جگر جوش میں دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خو نبانہ فشاں اور
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جاۓجلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
لیتا۔ نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چینکرتا۔جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرُکتی ہے مری طبع۔ تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور
۷۷۔ صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخر
صفاۓ حیرت آئینہ ہے سامانِ زنگ آخرتغیر " آبِ برجا ماندہ" کا پاتا ہے رنگ آخر
نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کیہوا جامِ زُمرّد بھی مجھے داغ پِلنگ آخر
۷۸۔ جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانی
جنوں کی دست گیری کس سے ہو گر ہو نہ عریانیگریباں چاک کا حق ہو گیا ہے میری گردن پر
بہ رنگِ کاغذِ آتش زدہ نیرنگِ بے تابیہزار آئینہ دل باندھے ہے بالِ یک تپیدن پر
فلک سے ہم کو عیشِ رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہےمتاعِ بُردہ کو سمجھے ہوۓ ہیں قرض رہزن پر
ہم اور وہ بے سبب "رنج آشنا دشمن" کہ رکھتا ہےشعاعِ مہر سے تُہمت نگہ کی چشمِ روزن پر
فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کافروغِ طالعِ خاشاک ہے موقوف گلخن پر
اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا، قاتل سے کہتا ہے’تو مشقِ ناز کر، خونِ دو عالم میری گردن پر‘
۷۹۔ ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیںتکلـّف بـر طـرف! مـل جائـے گا تـجـھ سـا رقیـب آخــر
۸۰۔ لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اور
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائے گا سر، گر ترا پتھر نہ گھسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ’جاؤں؟‘مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا، کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو ’قیامت کو ملیں گے‘کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیرّ سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوشکرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ ’کیوں جیتے ہیں غالبؔ‘قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
ردیف ز
۸۱۔ حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیازدعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز
نہ ہو بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہمِ وجودہنوز تیرے تصوّر میں ہےنشیب و فراز
وصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!کہ دیجئے آئینۂ انتظار کو پرواز
ہر ایک ذرّۂ عاشق ہے آفتاب پرستگئی نہ خاک ہوۓ پر ہواۓ جلوۂ ناز
نہ پوچھ وسعتِ مے خانۂ جنوں غالبؔجہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
۸۲۔ فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہرہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز
ہے نازِ مفلساں "زرِ ا ز دست رفتہ" پرہوں "گل فروِشِ شوخئ داغِ کہن" ہنوز
مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیںخمیازہ کھینچے ہے بتِ بیدادِ فن ہنوز
۸۳۔ کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!
دل سے نکلا۔ پہ نہ نکلا دل سےہے ترے تیر کا پیکان عزیز
تاب لاتے ہی بنے گی غالبؔواقعی سخت ہے اور جان عزیز
۸۴۔ وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاک
وسعتِ سعیِ کرم دیکھ کہ سر تا سرِ خاکگزرے ہے آبلہ پا ابرِ گہربار ہنوز
یک قلم کاغذِ آتش زدہ ہے صفحۂ دشتنقشِ پا میں ہے تپِ گرمئ رفتار ہنوز
۸۵۔ گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئیسرخوشِ خواب ہے وہ نرگسِ مخمور ہنوز
۸۶۔ نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آواز
تو اور آرائشِ خمِ کاکلمیں اور اندیشہ ہاۓ دور دراز
لاف تمکیں، فریبِ سادہ دلیہم ہیں، اور راز ہاۓ سینہ گداز
ہوں گرفتارِ الفتِ صیّادورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز
وہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سےناز کھینچوں، بجاۓ حسرتِ ناز
نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خونجس سے مذگاں ہوئی نہ ہو گلباز
اے ترا غمزہ یک قلم انگیزاے ترا ظلم سر بسر انداز
تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!ریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب اور تو غریب نواز
اسد اللہ خاں تمام ہوااے دریغا وہ رندِ شاہد باز
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.