Urdu in Translation
搜索

第 6 章,共 16 章

Ghazals 102–121 (Radif Nun)

غزلیں ۱۰۲ تا ۱۲۱ (ردیف ن)

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

ردیف ن

۱۰۲۔ لوں وام بختِ خفتہ سے ایک خوابِ خوش ولے

لوں وام بختِ خفتہ سے ایک خوابِ خوش ولےلیکن یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

۱۰۳۔ وہ فراق اور وہ وصال کہاں

وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سودائے خط و خال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصور سےاب وہ رعنائیِ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشقواں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکرِ دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔوہ عناصر میں اعتدال کہاں

۱۰۴۔ کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں

کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

آج ہم اپنی پریشانیِ خاطر ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھیے کیا کہتے ہیں

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انہیں کچھ نہ کہوجو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہیں

دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سےاور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہرِ گیا کہتے ہیں

اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے گا کیاآگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہوا کہتے ہیں

دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگاس کی ہر بات پہ ہم ’نامِ خدا‘ کہتے ہیں

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالبؔ آشفتہ نوا، کہتے ہیں

۱۰۵۔ آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیں

آبرو کیا خاک اُس گُل کی۔ کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتابذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

کیا کہوں تاریکئِ زندانِ غم اندھیر ہےپنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

زخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں

بس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوُےجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں

ہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں

۱۰۶۔ عہدے سے مدِح ناز کے باہر نہ آ سکا

عہدے سے مدِح ناز کے باہر نہ آ سکاگراک ادا ہو تو اُسے اپنی قضا کہوں

حلقے ہیں چشم ہائے کشادہ بسوئے دلہر تارِ زلف کو نگہِ سُرمہ سا کہوں

میں، اور صد ہزار نوائے جگر خراشتو، اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں

ظالم مرے گماں سے مجھے منفعل نہ چاہہَے ہَے خُدا نہ کردہ، تجھے بے وفا کہوں

۱۰۷۔ مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت

مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقتمیں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں

ضعف میں طعنۂ اغیار کا شکوہ کیا ہےبات کچھ سَر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

زہر ملتا ہی نہیں مجھ کو ستمگر، ورنہکیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں

۱۰۸۔ ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن

ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

غرّۂِ اوجِ بِنائے عالمِ امکاں نہ ہواِس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

نغمہ ہائے غم کو ہی اے دل غنیمت جانیےبے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

دَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن

۱۰۹۔ ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںاِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں

کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کاپرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں

ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیزنا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں

بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں

ہر چند جاں گدازئِ قہروعتاب ہےہر چند پشت گرمئِ تاب و تواں نہیں

جاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہےلب پر دہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں

خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں

ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہوہے عارِدل نفس اگر آذر فشاں نہیں

نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں

کہتے ہو “ کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں“گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیرُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں

جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھیغالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں

۱۱۰۔ مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیںایک چکّر ہے مرے پاؤں میں زنجیر نہیں

شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کو،کہ جہاںجادہ غیر از نگہِ دیدۂِ تصویر نہیں

حسرتِ لذّتِ آزار رہی جاتی ہےجادۂ راہِ وفا جز دمِ شمشیر نہیں

رنجِ نو میدیِ جاوید گوارا رہیوخوش ہوں گر نالہ زبونی کشِ تاثیر نہیں

سر کھجاتا ہے جہاں زخمِ سر اچھا ہو جائےلذّتِ سنگ بہ اندازۂِ تقریر نہیں

جب کرم رخصتِ بیباکی و گستاخی دےکوئی تقصیر بجُز خجلتِ تقصیر نہیں

غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ’آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں‘

۱۱۱۔ مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں

مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیںہیں جمع سُویداۓ دلِ چشم میں آہیں

۱۱۲۔ برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہۓ

برشکالِ گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہۓکھِل گئی ماندِ گلُ سوَ جا سے دیوارِ چمن

اُلفتِ گل سے غلط ہے دعوئ وارستگیسرو ہے باوصفِ آزادی گرفتارِ چمن

ہے نزاکت بس کہ فصلِ گل میں معمارِ چمنقالبِ گل میں ڈھلی ہے خشتِ دیوارِ چمن

۱۱۳۔ عشق تاثیر سے نومید نہیں

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیں

سلطنت دست بدست آئی ہےجامِ مے خاتمِ جمشید نہیں

ہے تجلی تری سامانِ وجودذرہ بے پرتوِ خورشید نہیں

رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائےورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومیِ جاوید نہیں

کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امید نہیں

۱۱۴۔ جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا کر اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغِ تفِ نالہ لے داغِ دل سےکہ شب رو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

۱۱۵۔ ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں

ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میںکافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عزاب میں

کب سے ہُوں۔ کیا بتاؤں جہانِ خراب میںشب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھرآنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوںمیں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جامساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں

جو منکرِ وفا ہو فریب اس پہ کیا چلےکیوں بدگماں ہوں دوست سے دشمن کے باب میں

میں مضطرب ہُوں وصل میں خوفِ رقیب سےڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں

میں اور حظِّ وصل خدا ساز بات ہےجاں نذر دینی بھول گیا اضطراب میں

ہے تیوری چڑھی ہوئی اندر نقاب کےہے اک شکن پڑی ہوئی طرفِ نقاب میں

لاکھوں لگاؤ ایک چُرانا نگاہ کالاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

وہ نالہ دل میں خس کے برابر جگہ نہ پائےجس نالے سے شگاف پڑے آفتاب میں

وہ سحر مدعا طلبی میں کام نہ آئےجس سِحر سے سفینہ رواں ہو سراب میں

غالبؔ چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں

۱۱۶۔ کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں

کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میںیہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں

اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں

غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغولِ حق ہوں، بندگئ بُو تراب میں

۱۱۷۔ حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میںمقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوںہر اک سے پوچھتا ہوں کہ ’جاؤں کدھر کو میں‘

جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار باراے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو میں

ہے کیا، جو کس کے باندھیے میری بلا ڈرےکیا جانتا نہیں ہوں تمہاری کمر کو میں

لو، وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ’بے ننگ و نام ہے‘یہ جانتا اگر، تو لٹاتا نہ گھر کو میں

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھپہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرارکیا پوجتا ہوں اس بتِ بیداد گر کو میں

پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یارجاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں

اپنے پہ کر رہا ہوں قیاس اہلِ دہر کاسمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہنر کو میں

غالبؔ خدا کرے کہ سوارِ سمندِ نازدیکھوں علی بہادرِ عالی گہر کو میں

۱۱۸۔ ذکر میرا بہ بدی بھی، اسے منظور نہیں

ذکر میرا بہ بدی بھی، اسے منظور نہیںغیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں

وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوقمژدۂ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں

شاہدِ ہستیِ مطلق کی کمر ہے عالملوگ کہتے ہیں کہ ’ہے‘ پر ہمیں منظور نہیں

قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکنہم کو تقلیدِ تنک ظرفیِ منصور نہیں

حسرت! اے ذوقِ خرابی، کہ وہ طاقت نہ رہیعشقِ پر عربدہ کی گوں تنِ رنجور نہیں

ظلم کر ظلم! اگر لطف دریغ آتا ہوتو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیںکس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ’ہم حور نہیں‘

صاف دردی کشِ پیمانۂ جم ہیں ہم لوگوائے! وہ بادہ کہ افشردۂ انگور نہیں

ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔمیرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

۱۱۹۔ نالہ جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں

نالہ جز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں

عشق و مزدوریِ عشرت گہِ خسرو، کیا خوب!ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں

کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلطمۂ موج کم از سیلیِ استاد نہیں

وائے مظلومیِ تسلیم! و بدا حالِ وفا!جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں

رنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں

سبدِ گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں!مژدہ اے مرغ! کہ گلزار میں صیاد نہیں

نفی سے کرتی ہے اثبات طراوش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد “ نہیں“

کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں

کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔتم کو بے مہریِ یارانِ وطن یاد نہیں؟

۱۲۰۔ دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہایاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئےتیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں؟

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہلِ بزم؟ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں؟

۱۲۱۔ ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر

ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگرعشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。