Urdu in Translation
搜索

第 5 章,共 9 章

格扎勒第90至111首(拉迪夫“耶”)

Ghazals 90–111 (Radif Ye)

غزلیں ۹۰ تا ۱۱۱ (ردیف ی)

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

ردیف ی

۹۰۔ صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے

صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے

ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشقیعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے

دیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خماے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے

یا میرے زخمِ رشک کو رُسوا نہ کیجیےیا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے

۹۱۔ مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے

دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے

سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے

سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودیرو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے

یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے

بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی

خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی

نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی

مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی

مرے دل میں ہے غالب شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی

۹۲۔ ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے

ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے

ہے دورِ قدح وجہ پریشانیِ صہبایک بار لگا دو خمِ مے میرے لبوں سے

رندانِ درِ مے کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے

بیدادِ وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے

گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے

۹۳۔ تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا

تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے

غالب ترا احوال سنا دینگے ہم ان کووہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے

۹۴۔ غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی

غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

کھلےگا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا ربقسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی

ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

لگد کوبِ حوادث کا تحمل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی

کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالببدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھائےمیں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغِ نا تمامی

۹۵۔ وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضب

وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضبوہ نازنیں بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے

صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظرطاقت ربا وہ ان کا اشارا کہ ہائے ہائے

وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ واہ واہوہ بادہ ہائے ناب گوارا کہ ہائے ہائے

۹۶۔ کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے

کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے

ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے

حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے

کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے

کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیابس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے

بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میںفرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے

ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے

ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدرغالب ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے

۹۷۔ درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے

درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے

تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے

کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے

عمر بھر کا تو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے

زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگییعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے

گل فشانی ہائے نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے

شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے

خاک میں ناموسِ پیمانِ محبّت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے

ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری ہائے ہائے

کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تارِ برشکالہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے

گوش مہجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل تِس پر یہ نا امّیدواری ہائے ہائے

عشق نے پکڑا نہ تھا غالب ابھی وحشت کا رنگرہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری ہائے ہائے

۹۸۔ سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے

لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے

کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے

ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے

پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

۹۹۔ گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے

کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدارحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے

ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنیاے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے

مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے

وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے

ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدعالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے

۱۰۰۔ تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے

دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے

۱۰۱۔ ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیا

ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیاظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے

جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے

آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے

ہے وہی بد مستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

مجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگیزندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے

آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے

۱۰۲۔ مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہے

مری ہستی فضائے حیرت آبادِ تمنّا ہےجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے

خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہووہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے

وفائے دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدماثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے

نہ لائی شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدیکفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے

۱۰۳۔ عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

۱۰۴۔ پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے

پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرےکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

۱۰۵۔ ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے

ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھےصبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے

ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے

مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیالتا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے

کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

۱۰۶۔ رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے

رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

مینائے مے ہے سروِ نشاطِ بہار سےبالِ تَدَر و جلوۂ موجِ شراب ہے

زخمی ہوا ہے پاشنہ پائے ثبات کانے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے

جادادِ بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہتغافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے

نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کاجوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے

میں نامراد دل کی تسلّی کو کیا کروںمانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے

گزرا اسد مسرّتِ پیغامِ یار سےقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے

۱۰۷۔ دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے

غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے

دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے

گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے

اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے

نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے

سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے

۱۰۸۔ گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھےتب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے

نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے

کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہمکر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے

ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے

کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے

غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلومباوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے

ہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جائےداغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے

۱۰۹۔ اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

۱۱۰۔ سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے

سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے

رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہےاٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے

جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے

ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذّتِ فراغتکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی

وہ بادۂ شبانہ کی سر مستیاں کہاںاٹھیے بس اب کہ لذّتِ خوابِ سحر گئی

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میںبارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی

دیکھو تو دل فریبئ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی

ہر بو الہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی

نظّارے نے بھی کام کِیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

فردا و دی کا تفرِقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

مارا زمانے نے اسداللہ خاں تمہیںوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی

۱۱۱۔ پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے

پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہے

پھِر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے

چشم دلاّلِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے

وُہ ہی صد رنگ نالہ فرسائیوُہ ہی صد گونہ اشک باری ہے

دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بیقراری ہے

جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوجداری ہے

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے

پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے

پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلباشک باری کا حکم جاری ہے

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے

بے خودی بے سبب نہیں غالبکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کینمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّت زندگانی کی

کشاکش ہائے ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادیہوئی زنجیر، موجِ آب کو فرصت روانی کی

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہےشرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。