Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 5 sur 18

Lucknow, Refusing Government Service, and Imprisonment

ورود لکھنؤ، سرکاری ملازمت سے انکار اور واقعۂ قید

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

ورود لکھنؤ

جب مرزا نے دلی سے کلکتے جانے کا ارادہ کیا تھا اس وقت راہ میں ٹھہرنے کا قصد نہ تھا۔ مگر چونکہ لکھنؤ کے بعض ذی اقتدار لوگ مدت سے چاہتے تھے کہ مرزا ایک بار لکھنؤ آئیں، اس لیے کانپور پہنچ کر ان کو خیال آیا کہ لکھنؤ بھی دیکھتے چلیے۔ اس زمانے میں نصیر الدین حیدر فرمانروا اور روشن الدولہ نائب السلطنت تھے۔ اہل لکھنؤ نے مرزا کی عمدہ طور پر مدارات کی اور روشن الدولہ کے ہاں بعنوان شایستہ ان کی تقریب کی گئی۔ مرزا سے اس پریشانی کے عالم میں قصیدہ تو سرانجام نہیں ہو سکا؛ مگر ایک مدحیہ نثر صنعت تعطیل میں، جو ان کے مسودات میں موجود ہے، نائب السلطنت کے سامنے پیش کرنے کے لیے لکھی تھی۔ لیکن مرزا صاحب نے ملاقات سے پہلے دو شرطیں ایسی پیش کیں جو منظور نہ ہوئیں: ایک یہ کہ نائب میری تعظیم دیں، دوسرے نذر سے مجھے معاف رکھا جائے۔ اسی وجہ سے مرزا بغیر اس کے کہ روشن الدولہ سے ملیں اور وہ نثر پیش کریں، وہاں سے کلکتے کو روانہ ہو گئے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ کلکتے سے واپس آنے کے بعد انھوں نے ایک قصیدہ دلی سے نصیر الدین حیدر کی شان میں لکھ کر ایک دوست کے توسط سے گزرانا تھا، اور اس پر پانچ ہزار روپے بطور صلے کے ملنے کا حکم ہوا تھا۔ شیخ امام بخش ناسخ نے مرزا کو لکھا کہ پانچ ہزار ملے تھے؛ تین ہزار روشن الدولہ کھا گئے؛ اور دو ہزار متوسط کو دیے، کہا کہ اس میں سے جو مناسب سمجھو مرزا کو بھیج دو۔ مرزا صاحب نے یہ سن کر پھر کچھ تحریک کی۔ مگر تین دن بعد یہ خبر پہنچی کہ نصیر الدین مر گئے۔ پھر واجد علی شاہ کے زمانے میں مرزا نے سلسلہ جنبانی کی، اور پانسو روپیہ سالانہ ہمیشہ کے لیے وہاں سے مقرر ہو گئے۔ لیکن صرف دو برس گزرے تھے کہ ریاست ضبط ہو گئی، اور وہ دفتر گاؤ خورد ہو گیا۔

لطیفہ

لکھنؤ کی ایک صحبت میں، جبکہ مرزا وہاں موجود تھے، ایک روز لکھنؤ اور دلی کی زبان پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک صاحب نے مرزا سے کہا کہ جس موقع پر اہل دہلی "اپنے تئیں" بولتے ہیں وہاں اہل لکھنؤ "آپ کو" بولتے ہیں؛ آپ کی رائے میں فصیح "آپ کو" ہے یا "اپنے تئیں"؟ مرزا نے کہا: فصیح تو یہی معلوم ہوتا ہے جو آپ بولتے ہیں؛ مگر اس میں دقت یہ ہے کہ مثلاً آپ میری نسبت یہ فرمائیں کہ "میں آپ کو فرشتہ خصائل جانتا ہوں"، اور میں اس کے جواب میں اپنی نسبت یہ عرض کروں کہ "میں تو آپ کو کتے سے بھی بدتر سمجھتا ہوں"، تو سخت مشکل واقع ہوگی۔ میں تو اپنی نسبت کہوں گا اور آپ ممکن ہے کہ اپنی نسبت سمجھ جائیں۔ سب حاضرین یہ لطیفہ سن کر پھڑک گئے۔ مرزا کا مطلب صرف اس قدر بیان کرنا تھا کہ "آپ کو" مخاطب کے لیے تو عموماً بولا ہی جاتا ہے؛ اگر متکلم کے لیے بھی اس کا استعمال ہوگا تو بعض مواقع پر التباس واقع ہوگا۔ اس مطلب کو انھوں نے اس لطیف پیرائے میں بیان کیا۔ مگر یہ فقط ایک لطیفہ اہل صحبت کے خوش کرنے کے لیے تھا، ورنہ اہل دہلی بھی اکثر بجائے "اپنے تئیں" کے "آپ کو" بولتے ہیں؛ اس میں کچھ اہل لکھنؤ کی خصوصیت نہیں ہے۔

لطیفہ

زبان کے متعلق مرزا کا اسی قسم کا ایک اور لطیفہ مشہور ہے۔ دلی میں "رتھ" کو بعضے مؤنث اور بعض مذکر بولتے ہیں۔ کسی نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ حضرت! رتھ مؤنث ہے یا مذکر؟ آپ نے کہا: بھیا! جب رتھ میں عورتیں بیٹھی ہوں تو مؤنث کہو اور جب مرد بیٹھیں تو مذکر سمجھو۔

سرکاری ملازمت سے انکار

تذکرۂ آب حیات میں لکھا ہے کہ ۱۸۴۲ء میں، جبکہ دہلی کالج نئے اصول پر قائم کیا گیا، مسٹر ٹامسن سکرٹری گورنمنٹ ہند، جو آخرکو اضلاع شمال و مغرب میں لفٹنٹ گورنر ہو گئے تھے، مدرسین کے امتحان کے لیے دلی میں آئے، اور چاہا کہ جس طرح سو روپیہ ماہوار کا ایک عربی مدرس کالج میں مقرر ہے اسی طرح ایک فارسی کا مدرس مقرر کیا جائے۔ لوگوں نے مرزا اور مومن خاں اور مولوی امام بخش کا ذکر کیا۔ سب سے پہلے مرزا صاحب کو بلایا گیا۔ مرزا پالکی میں سوار ہو کر صاحب سکرٹری کے ڈیرے پر پہنچے۔ صاحب کو اطلاع ہوئی؛ انھوں نے فوراً بلا لیا۔ مگر یہ پالکی سے اتر کر اس انتظار میں ٹھہرے رہے کہ دستور کے موافق صاحب سکرٹری ان کے لینے کو آئیں گے۔ جب بہت دیر ہو گئی، اور صاحب کو معلوم ہوا کہ اس سبب سے نہیں آتے، وہ خود باہر چلے آئے اور مرزا سے کہا کہ جب آپ دربار گورنری میں تشریف لاویں گے تو آپ کا اسی طرح استقبال کیا جائے گا؛ لیکن اس وقت آپ نوکری کے لیے آئے ہیں، اس موقع پر وہ برتاؤ نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب نے کہا: گورنمنٹ کی ملازمت کا ارادہ اس لیے کیا ہے کہ اعزاز کچھ زیادہ ہو، نہ اس لیے کہ موجودہ اعزاز میں بھی فرق آئے۔ صاحب نے کہا: ہم قاعدے سے مجبور ہیں۔ مرزا صاحب نے کہا: مجھ کو اس خدمت سے معاف رکھا جائے؛ اور یہ کہہ کر چلے آئے۔

واقعۂ قید

مرزا کو شطرنج اور چوسر کھیلنے کی بہت عادت تھی۔ اور چوسر جب کبھی کھیلتے تھے برائے نام کچھ بازی بد کر کھیلا کرتے تھے۔ اسی چوسر کی بدولت ۱۲۶۴ ہجری میں مرزا پر ایک سخت ناگوار واقعہ گزرا۔ مرزا نے خود اس واقعے کو ایک فارسی خط میں مختصر طور پر بیان کیا ہے، جس کا ترجمہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں: "کوتوال دشمن تھا اور مجسٹریٹ ناواقف؛ فتنہ گھات میں تھا اور ستارہ گردش میں۔ باآنکہ مجسٹریٹ کوتوال کا حاکم ہے، میرے باب میں وہ کوتوال کا محکوم بن گیا اور میری قید کا حکم صادر کر دیا۔ سشن جج، باوجودیکہ میرا دوست تھا اور ہمیشہ مجھ سے دوستی اور مہربانی کے برتاؤ برتتا تھا اور اکثر صحبتوں میں بے تکلفانہ ملتا تھا، اس نے بھی اغماض اور تغافل اختیار کیا۔ صدر میں اپیل کیا گیا مگر کسی نے نہ سنا اور وہی حکم بحال رہا۔ پھر معلوم نہیں کیا باعث ہوا کہ جب آدھی میعاد گزر گئی تو مجسٹریٹ کو رحم آیا اور صدر میں میری رہائی کی رپورٹ کی، اور وہاں سے حکم رہائی کا آ گیا، اور حکام صدر نے ایسی رپورٹ بھیجنے پر اس کی بہت تعریف کی۔ سنا ہے کہ رحم دل حاکموں نے مجسٹریٹ کو بہت نفرین کی اور میری خاکساری اور آزادہ روی سے اس کو مطلع کیا؛ یہاں تک کہ اس نے خود بخود میری رہائی کی رپورٹ بھیج دی۔ اگرچہ میں، اس وجہ سے کہ ہر کام کو خدا کی طرف سے سمجھتا ہوں اور خدا سے لڑا نہیں جا سکتا، جو کچھ گزرا اس کے ننگ سے آزاد اور جو کچھ گزرنے والا ہے اس پر راضی ہوں، مگر آرزو کرنا آئین عبودیت کے خلاف نہیں ہے۔ میری یہ آرزو ہے کہ اب دنیا میں نہ رہوں؛ اور اگر رہوں تو ہندوستان میں نہ رہوں۔ روم ہے، مصر ہے، ایران ہے، بغداد ہے؛ یہ بھی جانے دو، خود کعبہ آزادوں کی جائے پناہ اور آستانۂ رحمۃ للعالمین دلدادوں کی تکیہ گاہ ہے۔ دیکھیے وہ وقت کب آئے گا کہ درماندگی کی قید سے، جو اس گزری ہوئی قید سے زیادہ جانفرسا ہے، نجات پاؤں اور بغیر اس کے کہ کوئی منزل مقصود قرار دوں سر بصحرا نکل جاؤں۔ یہ ہے جو کچھ کہ مجھ پر گزرا، اور یہ ہے جس کا میں آرزومند ہوں۔"

یہ واقعہ مرزا صاحب پر نہایت شاق گزرا تھا۔ اگرچہ منجملہ چھ مہینے کے، تین مہینے جو ان کو قید خانے میں گزرے، ان کو کسی طرح کی تکلیف نہیں ہوئی؛ وہ بالکل قید خانے میں اسی آرام سے رہے جیسے گھر پر رہتے تھے۔ کھانا اور کپڑا اور تمام ضروریات حسب دلخواہ گھر سے ان کو پہنچتی تھیں۔ ان کے دوست ان سے ملنے جاتے تھے۔ اور وہ صرف بطور نظربندوں کے جیلخانے کے ایک علیحدہ کمرے میں رہتے تھے۔ مگر چونکہ اس وقت تک شہر کے شرفا و اعیان کے ساتھ کبھی اس قسم کا سلوک مرزا نے نہیں دیکھا تھا، اس لیے وہ اس کو ایک بڑی بے آبروئی کی بات سمجھتے تھے۔ چنانچہ جو ترکیب بند انھوں نے قید خانے میں لکھا تھا اس میں کہتے ہیں:

راز دانا! غم رسوائی جاوید بلاستبہر آزار غمم از قید فرنگم نبود

جور اعدا رود از دل بہ رہائی لیکنطعن احباب کم از زخم خدنگم نبود

نواب مصطفیٰ خاں مرحوم نے اس زمانے میں مرزا کے ساتھ دوستی کا حق پورا پورا ادا کیا۔ اپیل میں جو کچھ صرف ہوا وہ اپنے پاس سے صرف کیا اور تین مہینے تک برابر ان کی غمخواری اور ہر طرح کی خبرگیری میں مصروف رہے۔ چنانچہ اسی ترکیب بند میں نواب مرحوم کی نسبت کہتے ہیں:

خود چرا خوں خورم از غم کہ بغمخواری منرحمت حق بہ لباس بشر آمد گوئی

خواجہ ہست دریں شہر کہ از پرسش وےپایۂ خویشتنم در نظر آمد گوئی

مصطفیٰ خاں کہ دریں واقعہ غمخوار منستگر بمیرم چہ غم از مرگ کہ عزادار منست

لطیفہ

جب مرزا قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے[1] صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ ایک روز میاں کے پاس بیٹھے تھے؛ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔ مرزا نے کہا: "کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے؟ پہلے گورے کی قید میں تھا، اب کالے کی قید میں ہوں۔"

ترکیب بند

مرزا نے قید میں ایک فارسی ترکیب بند اپنے حسب حال لکھ کر دوستوں کو بھیجا تھا۔ اس نظم میں کل سات بند اور ہر بند میں بارہ بارہ شعر ہیں۔ مرزا کے عزیزوں اور دوستوں نے کلیات فارسی میں اس نظم کو چھپنے نہیں دیا تھا؛ مگر مرزا صاحب نے مرنے سے کسی قدر پہلے اپنی جدید نظم کا ایک مجموعہ موسوم بہ "سبد چین" شائع کیا تھا، اس میں اس ترکیب بند کو بھی شامل کر دیا تھا۔ لیکن سبد چین کی زیادہ اشاعت نہیں ہوئی، اس لیے یہ ترکیب بند بہت کم لوگوں کی نظر سے گزرا ہے۔ چونکہ یہ ترکیب بند مرزا کی عمدہ ترین حالیہ نظموں میں سے ہے، اس واسطے اس کے مختلف بندوں میں سے کچھ کچھ شعر یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

(از بند اول)

خواہم از بند بہ زنداں سخن آغاز کنمغم دل پردہ دری کردہ فغاں ساز کنم

بہ نوائے کہ ز مضراب چکاند خونابخویشتن را بہ سخن زمزمہ پرداز کنم

چوں سرایم سخن انصاف ز مجرم خواہمچوں نویسم غزل اندیشہ ز غماز کنم

یار دیرینہ! قدم رنجہ مفرما کاینجاآں نہ گنجد کہ تو در کوبی و من باز کنم

اہل زنداں بسر و چشم خودم جا دادندتا بدیں صدر نشینی چہ قدر ناز کنم

ہلہ دزدان گرفتار! وفا نیست بشہرخویشتن را بہ شما ہمدم و ہمراز کنم

(از بند سوم)

پاسباناں بہم آئید کہ من مے آیمدر زنداں بگشائید کہ من مے آیم

ہر کہ دیدے بدر خویش سپاسم گفتےخیر مقدم بسرائید کہ من مے آیم

جادہ نشناسم و ز انبوہ شمامی ترسمراہم از دور نمائید کہ من مے آیم

رہرو جادۂ تسلیم درشتی نکندسخت گیرندہ چرائید کہ من مے آیم

ہاں عزیزاں کہ دریں کلبہ اقامت داریدبخت خود را بستائید کہ من مے آیم

تا بہ دروازۂ زنداں پے آوردن منقدمے رنجہ نمائید کہ من مے آیم

چوں سخن سنجی و فرزانگی آئین من ستبہرہ از من بربائید کہ من مے آیم

(از بند چہارم)

آنچہ فرداست ہم امروز در آمد گوئیآفتاب از جہت قبلہ بر آمد گوئی

دل و دستے کہ مرا بود فرو ماند ز کارشب و روزیکہ مرا بود سر آمد گوئی

بہرۂ اہل جہاں چوں ز جہاں درد و غم ستبہرۂ من ز جہاں بیشتر آمد گوئی

خستن و بستن من جز عسس نیست، بروبر من اینہا ز قضا و قدر آمد گوئی

ہنرم را نتواں کرد بہ خستن ضائعخستگی غازۂ روے ہنر آمد گوئی

چرخ یک مرد گرانمایہ بزنداں خواہدیوسف از قید زلیخا بدر آمد گوئی

(از بند ہفتم)

ہمدماں! درد دلم از دیدہ نہانید ہمہغالب غمزدہ را روح و روانید ہمہ

للہ الحمد کہ در عیش و نشاطید ہمہللہ الشکر کہ با شوکت و شانید ہمہ

من بخوں خفتہ و بینم ہمہ بینید ہمہمن جگر خستہ و دانم ہمہ دانید ہمہ

درمیاں ضابطۂ مہر و وفائے بود ستمن بریدم کہ ہر آئینہ برآئید ہمہ

روزے از مہر نگفتید فلانی چوں ستبارے از لطف بگوئید چسانید ہمہ

چارہ گر نتواں کرد دعائے کافی ستدل اگر نیست خداوند زبانید ہمہ

ہفت بندست کہ در بند رقم ساختہ امبنویسید و بہ بینید و بخوانید ہمہ

آں نہ باشم کہ بہر بزم ز من یاد آریددارم امید کہ در بزم سخن یاد آرید

حواشی

[1] حضرت محمد نصیر الدین عرف میاں کالے صاحب بہادر شاہ مرحوم کے شیخ اور مولانا فخر الدین قدس سرہ کے پوتے تھے۔ مرزا مدت تک ان کے مکان میں رہے ہیں۔ وہ مرزا سے نہایت محبت رکھتے تھے اور انھیں کی تقریب سے قلعے میں تعلق پیدا ہوا تھا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.