Urdu in Translation
搜索
书签

第 9 章,共 20 章

法伊兹·阿里:私奔、被俘与坎普尔

Faiz Ali: Flight, Capture and Kanpur

۸: فیض علی کے ساتھ فرار، گرفتاری اور کانپور

米尔扎·穆罕默德·哈迪·鲁斯瓦

文字
字号

قیدیٔ الفت صیاد رہا ہوتے ہیں

خورشید کے گم ہونے کے ڈیڑھ مہینے کے بعد ایک صاحب جن کی وضع شہر کے بانکوں جیسی تھی۔ سانولا رنگ، چھریرا بدن، ایک دوشالہ کمر سے لپیٹے اور ایک سر سے باندھے میرے کمرے میں درانا چلے آئے اور آنے کے ساتھ ہی سامنے قالین کے کنارے بیٹھ گئے۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ طبیعت میں کسی قدر کمینہ پن ہے، یا ابھی انیلیے ہیں، رنڈیوں کے یہاں جانے کا کم اتفاق ہوا ہے۔ اس وقت میں اکیلی بیٹھی تھی۔ میں نے بوا حسینی کو آواز دی، وہ کمرے میں آئیں۔ ان کے آتے ہی وہ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کسی قدر بے تکلفی کے ساتھ بوا حسینی کا ہاتھ پکڑ لیا، علیحدہ لے جا کر کچھ باتیں کیں، جن میں کچھ میں نے سنیں اور کچھ نہیں۔ اس کے بعد بوا حسینی خانم کے پاس گئیں۔ وہاں سے آنے پر پھر باتیں ہوئیں۔ آخر کلام یہ تھا۔ "آپ کو ایک مہینے کی تنخواہ پیشگی دینی ہوگی"۔ ان صاحب نے کمر سے بینڈ روپوں کی نکالی، بوا حسینی نے گود پھیلائی، انہوں نے چھن سے روپے پھینک دیے۔

بوا حسینی: یہ کتنے ہیں؟

وہ صاحب: نہیں معلوم، گن لیجیے۔

بوا حسینی: اے ہے مجھے تو نگوڑا گننا بھی نہیں آتا۔

وہ صاحب: میں جانتا ہوں، پچھتر روپے ہوں گے۔ شاید ایک دو کم ہوں یا زیادہ۔

بوا حسینی: میاں پچھتر کسے کہتے ہیں؟

وہ صاحب: تین بیسی اور پندرہ، پچیس کم سو۔

بوا حسینی: پچیس کم سو۔ تو یہ کتنے دن کی تنخواہ ہوئی؟

وہ صاحب: پندرہ دن کی۔ کل وہ بھی پندرہ دن کی دے دوں گا۔ پورے ڈیڑھ سو خرچے آپ کو پہنچ جائیں گے۔

یہ "خرچے" سن کر مجھے بہت ہی برا معلوم ہوا۔ اب تو بالکل ہی یقین ہو گیا کہ کوئی ایسے ہی ویسے ہیں، مگر مجبور، رنڈی کا پیشہ، دوسرے پرائے بس میں، کرتی تو کیا کرتی۔

بوا حسینی روپے لے کے خانم کے پاس گئیں۔ خانم اس وقت نہیں معلوم کس نیکی کے دم میں تھیں کہ فوراً منظور کر لیا۔ بلکہ مجھے تعجب ہوا، اس لیے کہ بڑے سے بڑے رئیس سے روپے کے بارے میں ایک دم کے لیے مروت نہیں کرتی تھیں یا اس وقت ایک دن کا وعدہ مان لیا۔

اس معاملے کے طے ہونے کے بعد وہ صاحب میرے ہی کمرے میں شب باش ہوئے۔ کوئی پہر رات باقی ہوگی، مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کسی نے کمرے کے نیچے آ کے دستک دی۔ وہ صاحب فوراً اٹھ بیٹھے اور کہا "لو اب میں جاتا ہوں، کل شب کو پھر آؤں گا"۔ چلتے وقت پانچ اشرفیاں اور تین انگوٹھیاں، ایک سونے کی، یاقوت کا نگینہ، ایک فیروزے کی، ایک ہیرے کی مجھ کو دیں اور کہا "یہ تم اپنے پاس رکھنا، خانم کو نہ دینا"۔ میں نے خوشی خوشی ہاتھ میں پہنیں اور اپنی انگلیوں کو دیکھنے لگی۔ مجھے بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتی تھیں۔ پھر صندوقچہ کھولا، اشرفیاں اور انگوٹھیاں چور خانے میں چھپا کے رکھ دیں۔

دوسرے دن شب کو وہی صاحب پھر آئے۔ اس وقت میں تعلیم لے رہی تھی۔ وہ ایک کنارے آ کر بیٹھ گئے۔ گانا ہوا کیا۔ پانچ روپے سازندوں کو دے دیے۔ استاد جی اور سارنگیے خوشامد کی باتیں کرنے لگے۔ استاد جی نے کمر میں جو دوشالہ بندھا ہوا تھا اس کے اینٹھنے کی فکر کی۔ پھر منہ پھوڑ کے مانگا، مگر وار خالی گیا، انہوں نے نہ دیا۔

وہ صاحب: استاد جی! روپیہ پیسہ اور جس چیز کو کہیے موجود ہے، یہ دوشالہ میں نہیں دے سکتا، ایک دوست کی نشانی ہے۔

استاد جی اپنا منہ لے کے چپ ہو رہے۔

اس کے بعد تعلیم موقوف ہوئی۔ بوا حسینی کو باقی پچھتر گن دیے گئے۔ پانچ روپے بوا حسینی کو اپنی طرف سے دیے۔ وہ رخصت ہوئیں۔ جب وہ اور میں صرف دو آدمی کمرے میں رہ گئے، میں نے پوچھا "آپ نے مجھ کو کہاں دیکھا تھا جو عنایت کی؟"

وہ: دو مہینے ہوئے عیش باغ کے میلے میں۔

میں: اور پھر آئے دو مہینے کے بعد؟

وہ: میں باہر چلا گیا تھا، اور اب پھر جانے والا ہوں۔

اب میں نے رنڈی پنے کی لگاوٹ شروع کی۔

میں: تو ہمیں چھوڑ کے چلے جاؤ گے؟

وہ: نہیں، پھر بہت جلد چلا آؤں گا۔

میں: اور تمہارا مکان کہاں ہے؟

وہ: مکان تو فرخ آباد میں ہے، مگر یہاں بہت کام رہتا ہے، بلکہ رہتا یہیں ہوں، کچھ دنوں کے لیے باہر چلا جاتا ہوں، پھر چلا آتا ہوں۔

میں: اور یہ دوشالہ کس کی نشانی ہے؟

وہ: کسی کی نہیں۔

میں: واہ! میں سمجھ گئی، یہ تمہاری آشنا کی نشانی ہے۔

وہ: نہیں، تمہارے سر کی قسم! میری کوئی آشنا واشنا نہیں ہے، بس تمہی ہو جو کچھ ہو۔

میں: تو پھر مجھے دے دو۔

وہ: میں نہیں دے سکتا۔

یہ بات مجھے بہت ناگوار ہوئی۔ اتنے میں انہوں نے بڑے بڑے موتیوں کی مالا جس میں زمرد کی لڑیں لگی ہوئی تھیں اور ایک جوڑی ہیرے کے کڑے کی اور دو انگوٹھیاں سونے کی میرے آگے رکھ دیں۔ یہ سب تو میں نے خوشی خوشی اٹھا لیا۔ صندوقچہ کھول کے بند کرنے لگی، مگر مجھے تعجب ہوا کہ یہ ہزاروں کی رقم تو یوں مجھ کو دے دیتے ہیں، مگر یہ دوشالہ زیادہ سے زیادہ پانسو کا ہوگا، اس سے کیوں انکار کیا۔ واقعی مجھ کو دوشالہ پسند نہ تھا جو میں زیادہ اصرار کرتی۔ اپنے کام سے کام تھا۔

ان صاحب کا نام فیض علی تھا۔ پہر ڈیڑھ پہر رات گئے آتے تھے اور کبھی آدھی رات کو، کبھی پچھلے پہر سے اٹھ کے چلے جاتے تھے۔ مہینے ڈیڑھ مہینے میں کئی مرتبہ دستک یا سیٹی کی آواز میں نے سنی اور فوراً ہی فیض علی اٹھ کر روانہ ہو گئے۔ فیض علی سے رسم ہوئے کوئی ڈیڑھ مہینہ گزرا ہوگا کہ میرا صندوقچہ سادے اور جڑاؤ گہنے سے بھر گیا۔ اشرفیوں اور روپوں کا شمار نہیں۔ اب میرے پاس خانم اور بوا حسینی سے چھپا ہوا دس بارہ ہزار کا مال ہو گیا تھا۔

فیض علی سے اگر مجھ کو محبت نہ تھی تو نفرت بھی نہ تھی۔ اور نفرت ہونے کی کیا وجہ! اول تو وہ کچھ بدصورت بھی نہ تھے۔ دوسرے لینا دینا عجب چیز ہے۔ میں سچ کہتی ہوں جب تک وہ نہ آتے، میری آنکھیں دروازے کی طرف لگی رہتی تھیں۔ گوہر مرزا کی آمد و رفت ان دنوں صرف دن کی رہ گئی تھی۔ شب کے آنے والوں میں سے بھی اکثر لوگ سمجھ گئے تھے کہ میں کسی کی پابند ہو گئی ہوں۔ اس لیے سویرے سے کھسک جاتے تھے اور جو صاحب جم کے بیٹھتے تھے ان کو میں کسی حیلے سے ٹال دیتی تھی۔

خورشید کی تلاش بہت کچھ ہوئی مگر کہیں سراغ نہ ملا۔ اس اثناء میں فیض علی کئی مرتبہ دو دو تین تین دن تک غائب رہے اور پھر چلے آئے۔ واقعی فیض علی کو مجھ سے بہت محبت تھی، جس کا اظہار طرح طرح سے ہوتا۔ اگر میرا دل ابتدا سے گوہر مرزا کی طرف مائل نہ ہو گیا ہوتا، تو میں ضرور فیض علی سے محبت کرتی اور اسی کو دل دیتی۔ اس پر بھی میں نے ان کی دل جوئی اور ظاہرداری میں کسی طرح کمی نہیں کی۔ میں نے فیض علی کو فریب دے رکھا تھا کہ مجھے تم سے محبت ہے اور وہ بے چارہ میرے دام میں پھنسا ہوا تھا۔ جو کچھ خفیہ اس نے مجھ کو دیا اس کی کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی۔ خانم اور بوا حسینی کے کہنے سے مجھے فرمائشیں بھی کرنا پڑتی تھیں۔ ان کی بجا آوری کو بھی وہ اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اس کو روپے پیسے کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ ایسا دل چلا آدمی نہ میں نے رئیسوں میں دیکھا نہ شہزادوں میں۔

رسوا: جی ہاں کیوں نہیں، مالِ مفت دلِ بے رحم، بھلا اس کے برابر کس کا دل ہو سکتا ہے؟

امراؤ: مالِ مفت کیوں!

رسوا: نہیں تو اپنی اماں جان کا زیور روز آپ کو اتار اتار کے لا دیا کرتا تھا؟

امراؤ: ہمیں کیا معلوم تھا۔

شب کے آنے والوں میں ایک پنا مل جوہری تھے۔ گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھ کے چلے جاتے تھے۔ ان کو چار آدمیوں میں بیٹھنے کا مزا تھا۔ اگر ان کی خاطرداری ہوتی رہے تو اور کسی کے آنے جانے سے انہیں کچھ غرض نہ تھی۔ مہینے میں دو سو روپے کا نقد سلوک اور فرمائشوں کا ذکر نہیں۔ فیض علی کی ملاقات کے زمانے میں ان کی آمد و رفت بھی کم ہو گئی تھی۔ یا تو ہر روز آیا کرتے یا دوسرے تیسرے دن آنے لگے۔ پھر ایک مرتبہ پندرہ دن کا غوطہ لگایا، اب جو آئے تو کچھ اداس اداس۔ معمولی باتوں کا جواب دیتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں نے سبب پوچھا۔

پنا مل: کیا تم نے سنا نہ ہوگا؟

میں: کیا؟

پنا مل: ہم تو تباہ ہو گئے، گھر میں چوری ہو گئی، پشتینیوں کا سب اثاثہ اٹھ گیا۔

میں: (چونک کے) ہائیں! چوری ہو گئی؟ کتنے کا مال گیا؟

پنا مل: سب اٹھ گیا، رہا کیا، دو لاکھ کا جواہر اٹھ گیا۔

میں دل میں ہنسی۔ ہنسی اس بات پر کہ ان کے باپ چھنا مل تو کروڑ پتی مشہور تھے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دو لاکھ بہت بڑی رقم ہے، مگر ان کے نزدیک کیا اصل ہے۔ بظاہر منہ بنا کے بہت افسوس کیا۔

پنا مل: جی ہاں، آج کل شہر میں چوریاں بہت ہوتی ہیں۔ نواب ملکہ عالم کے ہاں چوری ہوئی، لالہ گوہر پرشاد کے ہاں چوری ہوئی۔ اندھیر ہے۔ سنا ہے باہر سے چور آئے ہوئے ہیں۔ مرزا علی رضا بیگ بے چارے حیران ہیں۔ شہر کے چور سب طلب ہو گئے تھے، کسی سے کچھ پتا نہیں ملا۔ لوگ کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں۔

پنا مل کے آنے کے دوسرے دن میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوں کہ چوک میں ایک شور ہوا۔ میں بھی چلمن کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ اب جو دیکھتی ہوں تو خلائق کا انبوہ ہے۔

ایک: آخر گرفتار ہوئے نا؟

دوسرا: واہ مرزا، کیا کہنا! کوتوال ہو تو ایسا ہو۔

تیسرا: کیوں بھئی کچھ مال کا پتا بھی لگا؟

چوتھا: بہت کچھ برآمد ہوا، مگر ابھی بہت سا باقی ہے۔

پانچواں: میاں فیضو بھی گرفتار ہوئے؟

چھٹا: وہ کیا آتے ہیں۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میاں فیضو بندھے چلے آتے ہیں۔ سپاہیوں کا گارد ساتھ ہے، گرد خلائق کا انبوہ ہے۔ میاں فیضو منہ پر دوپٹا ڈالے ہوئے ہیں، ان کی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ دوپہر سے پہلے کا واقعہ ہے۔

حسبِ معمول فیض علی کوئی پہر رات گئے تشریف لائے۔ کمرے میں میں ہوں اور وہ ہیں۔ آتے ہی کہا "آج ہم باہر جاتے ہیں، پرسوں آئیں گے۔ دیکھو! امراؤ جان، جو کچھ ہم نے دیا ہے اس کو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔ نہ بوا حسینی کو دینا نہ خانم کو دکھانا۔ تمہارے کام آئے گا۔ ہم پرسوں ضرور آئیں گے۔ اچھا یہ کہو کہ ہمارے ساتھ تھوڑے دنوں کے لیے باہر چل سکتی ہو؟"

میں: تم جانتے ہو کہ میں اپنے بس میں نہیں۔ خانم صاحب کو اختیار ہے، تم ان سے کہو۔ اگر وہ راضی ہوں تو مجھے کیا عذر ہے۔

فیض علی: سچ ہے۔ تم لوگ بڑے بے وفا ہوتے ہو۔ ہم تو تم پر جان دیتے ہیں اور تم ایسا خشک جواب دیتی ہو۔ اچھا بوا حسینی کو بلواؤ۔

میں نے بوا حسینی کو آواز دی، وہ آئیں۔

فیض علی: (میری طرف اشارہ کر کے) بھلا کچھ دنوں کے باہر بھی جا سکتی ہیں؟

حسینی: کہاں؟

فیض علی: فرخ آباد۔ میں ایسا ویسا آدمی نہیں ہوں۔ میری وہاں ریاست ہے۔ بالفعل میں دو مہینے کے لیے وہاں جاتا ہوں۔ اگر خانم صاحب منظور کریں تو دو مہینے کی تنخواہ پیشگی، بلکہ اس کے علاوہ جو کچھ کہیں میں دینے کو تیار ہوں۔

بوا حسینی: مجھے تو نہیں یقین کہ خانم منظور کریں گی۔

فیض علی: اچھا تم پوچھو تو۔

بوا حسینی خانم کے پاس گئیں۔

میرے نزدیک بوا حسینی کو خانم کے پاس بھیجنا بے کار تھا، اس لیے کہ مجھے یقین تھا کہ وہ ہرگز منظور نہ کریں گی۔

فیض علی نے میرے ساتھ وہ سلوک کیا تھا کہ اگر میں اپنے اختیار میں ہوتی تو مجھے ان کے ساتھ جانے میں کچھ بھی عذر نہ ہوتا۔ میں یہ خیال کرتی تھی کہ جب اس شخص نے گھر بیٹھے اتنا سلوک کیا تو وطن جا کر نہال کر دے گا۔ میں اسی خیال میں تھی کہ اتنے میں بوا حسینی نے آ کر صاف جواب دے دیا۔ "ان کا باہر جانا کسی طرح نہیں ہو سکتا"۔

فیض علی: دگنی تنخواہ پر سہی!

بوا حسینی: چوگنی تنخواہ پر بھی نہیں ممکن۔ ہم لوگ باہر نہیں جانے دیتے۔

فیض علی: خیر، جانے دو ......

(بوا حسینی چلی گئیں۔ میں نے دیکھا کہ فیض علی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے ہیں۔ یہ حال دیکھ کے مجھے بہت ہی ترس آیا۔)

معشوقوں کی بے وفائیوں کا تذکرہ قصے کہانیوں میں جب سنتی تھی تو مجھے افسوس ہوتا تھا، برا کہتی تھی۔ مجھے یہ خیال آیا کہ اگر اس کا ساتھ نہ دیا، تو میری بے وفائی اور احسان فراموشی میں کوئی شبہ نہیں۔ میں نے دل میں ٹھان لیا کہ میں اس شخص کا ضرور ساتھ دوں گی۔

میں: اچھا تو میں چلوں گی۔

فیض علی: چلو گی؟

میں: کوئی جانے دے یا نہ جانے دے، میں ضرور چلوں گی۔

فیض علی: کیوں کر؟

میں: چھپ کر۔

فیض علی: اچھا تو پرسوں رات کو ہم آئیں گے۔ پہر بھر رات رہے تمہیں یہاں سے نکال لے چلیں گے۔ دیکھو دغا نہ دینا، ورنہ اچھا نہ ہوگا۔

میں: میں اپنی خوشی سے چلنے کو کہتی ہوں۔ تم سے وعدہ کر چکی ہوں۔ میرے وعدے کو بھی دیکھنا۔

فیض علی: بہت اچھا، دیکھا جائے گا۔

اس رات فیض علی کوئی ڈیڑھ پہر رات رہے میرے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد میں دل میں غور کرنے لگی۔ وعدہ تو کر لیا مگر دیکھیے ہوتا کیا ہے۔ جاؤں یا نہ جاؤں۔ جب فیض علی کی محبت اور اپنے وعدے کا خیال آتا تھا تو دل کہتا تھا جانا چاہیے، مگر پھر جیسے کوئی منع کرتا تھا کہ نہ جاؤ، خدا جانے کیا ہو، کیا نہ ہو۔

اسی ادھیڑ بن میں صبح ہو گئی۔ کوئی بات طے نہ ہوئی۔ دن بھر یہی باتیں دل میں رہیں۔ رات کو اتفاق سے میرے پاس کوئی نہ آیا، کمرے میں اکیلی اسی فکر میں رہی، آخر نیند آ گئی۔ صبح کو ذرا دن چڑھے تک سویا کی۔ گوہر مرزا نے کچی نیند میں جھنجھوڑ کے اٹھا دیا۔ مجھے بہت ہی برا معلوم ہوا۔ دن بھر نشے کا سا خمار رہا۔ نہیں معلوم کس بات پر بوا حسینی سے الجھن ہو گئی۔ ہاں خوب یاد آیا، بات یہ تھی کہ کہیں باہر سے مجرا آیا تھا۔ بوا حسینی نے مجھ سے کہا "جاؤ گی؟" اس وقت میرے سر میں درد ہو رہا تھا، میں نے صاف انکار کر دیا۔ بوا حسینی نے کہا "واہ جب نہ تب انکار کر دیتی ہو، آخر اس پیشے میں ہو کر کیا کرو گی؟" میں نے کہا "میں تو نہ جاؤں گی"۔ بوا حسینی نے کہا "نہیں، جانا ہوگا۔ خاص تمہاری فرمائش ہے، اور خانم صاحب نے وعدہ کر لیا ہے اور روپیہ بھی لے لیا ہے"۔ میں نے کہا "بوا! میں نہیں جانے کی، روپیہ پھیر دو"۔

بوا حسینی: بھلا تم جانتی ہو، خانم صاحب روپیہ لے کے کبھی پھیرتی ہیں؟

میں: چاہے کسی کی طبیعت اچھی ہو چاہے نہ اچھی ہو! اگر خانم صاحب روپیہ نہ پھیریں گی تو میں اپنے پاس سے پھیر دوں گی۔

بوا حسینی: آہا! اب تم بڑے روپے والی ہو گئی ہو۔ لاؤ پھیر دو۔

میں: کتنا روپیہ ہے؟

بوا حسینی: سو روپے۔

میں: سو روپے لو گی یا کسی کی جان؟

بوا حسینی کو بھی اس دن خدا جانے کہاں کی ضد چڑھ گئی تھی۔

بوا حسینی: بڑی کھری ہو تو دے دو۔

میں: شام کو دے دوں گی۔

بوا حسینی: وہاں باہر کے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، وہ شام تک کے لیے کیوں مانیں گے؟

بوا حسینی اپنے دل میں یہ سمجھی تھیں کہ اس کے پاس روپیہ کہاں سے آیا۔ اگر اس وقت اس حیلے سے تنگ کی جائے گی تو خواہ مخواہ مجرے پر راضی ہو جائے گی۔ میرے صندوقچے میں اس وقت کچھ نہ ہوں گے تو ہزار ڈیڑھ ہزار کی اشرفیاں تھیں، زیور کا ذکر نہیں۔ مگر اس وقت بوا حسینی کے سامنے صندوقچہ کھولنا مناسب نہ تھا۔

میں: جاؤ گھنٹے بھر میں لے جانا۔

بوا حسینی: گھنٹے بھر میں کیا موکل دے جائیں گے؟

میں: ہاں دے جائیں گے۔ جاؤ بھئی، اس وقت دق نہ کرو۔ میری طبیعت اچھی نہیں۔

بوا حسینی: آخر کچھ کہو تو، لڑکی کیا ہوا؟

میں: مجھے بخار کی سی حرارت ہے اور سر میں شدت سے درد ہو رہا ہے۔

بوا حسینی: (ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا) ہاں سچ تو ہے، پنڈا پھیکا ہے، مگر مجرے کو تو کہیں پرسوں جانا ہوگا، جب تک خدا نہ کرے کیا طبیعت کا یہی حال رہے گا۔ روپے کیوں پھیرے جائیں۔

میں اس بات کا کچھ جواب نہ دے پائی تھی کہ بوا حسینی جلدی سے اٹھ کے چل دیں۔ بوا حسینی کی اس ہماہمی سے مجھے بہت ہی غصہ معلوم ہوا۔ اسی وقت دل میں بدی آ گئی۔ دل نے کہا، واہ جی، جب ان لوگوں کو ہمارے دکھ بیماری کا خیال نہیں، اپنے مطلب سے مطلب ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ رہنا بیکار ہے۔

رسوا: کبھی پہلے بھی یہ خیال آپ کے دل میں آیا تھا۔

امراؤ: کبھی نہیں۔ مگر آپ یہ کیوں پوچھتے ہیں؟

رسوا: اس لیے کہ فیض علی نے جو وہ سہارا دیا تھا، اسی سے آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا۔

امراؤ: یہ تو کھلی ہوئی بات ہے۔

رسوا: کھلی ہوئی بات تو ہے، مگر اس میں ایک باریکی بھی ہے۔

امراؤ: وہ باریکی کیا ہے، خدا کے لیے جلدی کہیے؟

رسوا: فیض علی کے ساتھ نکل چلنا، وعدہ کرنے سے پہلے آپ کے دل میں ٹھن گیا تھا، اب دل بہانے ڈھونڈ رہا تھا کہ کیوں کر نکل چلوں۔

امراؤ: نہیں یہ بات نہ تھی۔ میں دو دلی ہو رہی تھی کہ جاؤں یا نہ جاؤں۔ گوہر مرزا کے بے وقت چھیڑنے اور بوا حسینی کی زبردستی سے میں نے جانے کا قصد کر لیا تھا۔ بلکہ اس وقت تک کچھ یوں ہی سا ارادہ تھا۔ جب رات کو فیض علی آئے تو ان کی صورت اور مستعدی دیکھ کے پکا ارادہ ہو گیا۔

رسوا: جی نہیں، پہلے ہی سے قصد مصمم ہو چکا تھا، اسی لیے گوہر مرزا کا چھیڑنا اور بوا حسینی کی ضد آپ کو بری معلوم ہوئی، ورنہ یہ معمولی باتیں تھیں۔ ایسا تو اکثر ہوا کرتا ہوگا۔

امراؤ: میں نے مانا کہ ایسا ہی ہوگا، اچھا، پھر وہ منع کرنے والا کون تھا؟ میں سچ کہتی ہوں کہ چلتے چلتے مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی کان میں کہہ رہا ہے "امراؤ نہ جا، کہا مان"۔ جس وقت دو تین زینے اتر چکی ہوں اس وقت تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی ہاتھ پکڑ کے کھینچے لیتا ہے کہ نہ جا، مگر میں نے نہ مانا۔

رسوا: یہ روکنے والا بڑا زبردست تھا۔ اسی کا حکم نہ ماننے کی تو آپ نے سزا بھگتی۔

امراؤ: اچھا میں سمجھی! یہ وہ چیز ہے جو نیک کاموں کی ہدایت کرتی ہے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

رسوا: جی نہیں، یہ وہ نہیں تھی۔ خانم کے مکان پر رہنا کون سا اچھا کام تھا۔ آپ کی باتوں سے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ بدکاری کو ہمیشہ برا سمجھتی رہی ہیں، اگرچہ آپ کی حالت نے آپ کو اس کے کرنے پر مجبور کیا ہو۔ پھر خانم کے مکان پر رہنے سے ایک شخص کا ساتھ دے کے اس کا پابند ہو جانا بدرجہا بہتر تھا۔ بات یہ تھی کہ فیض علی کے حسنِ سلوک نے آپ کو اس کے ساتھ نکل چلنے کی ترغیب دی تھی۔ قیافہ شناسی کے شوق اور اس میں کسی قدر ملکہ ہو جانے سے آپ اچھی خاصی مردم شناس ہو گئی تھیں۔ عیش باغ کے میلے میں لوگوں کے چہرے دیکھنے کا حال میں نے بڑے شوق سے سنا تھا۔ فیض علی کے کرتوت آپ پر ظاہر نہ تھے، مگر اس کی شکل و شمائل، رفتار و گفتار سے آپ کے دل کو آگاہی ہو گئی تھی کہ اس کے ساتھ جانے میں کچھ نہ کچھ خطرہ ضرور ہے۔ مگر اس کی فریب کی باتوں اور روپے کے لالچ نے آپ کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے تھے۔ افسوس! اگر آپ علمِ مردم شناسی کے اصول سے واقف ہوتیں تو کبھی اس کے دام میں نہ آتیں۔

امراؤ: میں پڑھوں گی، کسی کتاب کا نام لیجیے۔

خانم کا مکان چوک میں بہت ہی محفوظ جگہ ہے۔ پچھم کی طرف بازار ہے، اتر دکھن اونچی اونچی رنڈیوں کے کمرے ہیں۔ ایک بیبا جان کا مکان ہے، دوسری طرف حسینن باندی رہتی ہے۔ پچھواڑے میں حسین علی صاحب کا دیوان خانہ ہے۔ غرض یہ کہ کسی جانب سے چور کا لگاؤ نہیں ہے۔ اس پر بھی تین پاسی نوکر تھے جو رات بھر کوٹھوں پر پھرتے رہتے تھے۔ جب سے فیض علی کی آمد و رفت شروع ہوئی، مکا پاسی خاص میرے کمرے کے دروازے پر رہتا تھا، کیونکہ فیض علی رات گئے آیا کرتے تھے اور پھر پہر رات چلے جاتے تھے، دروازے بند کرنے اور قفل لگانے کے لیے مکا مقرر کیا گیا ہے۔

شب کو حسبِ وعدہ فیض علی آئے۔ فیض علی نے اسے کمرے میں بلایا، ایک روپیہ جیب سے نکال کے دیا، کہا "جاؤ کولی کی دکان سے اس کی امرتیاں لے آؤ، اور اے لو یہ روپیہ انعام لو۔ تم کو ہم نے کچھ نہیں دیا تھا۔ دروازہ بھیڑ دینا، ہم جاگ رہے ہیں۔ کوئی ڈر نہیں"۔

مکا سلام کر کے کمرے کے باہر نکلا۔ فیض علی نے کہا، لو اب چلو۔ میں اٹھی، دو جوڑے کپڑے دن ہی سے گٹھری میں باندھ رکھے تھے، زیور کا صندوقچہ میں نے پہلے ہی کھسکا دیا تھا۔ گٹھری بغل میں دبائی۔ اکبری دروازے کی طرف کا راستہ لیا۔ نخاس میں بیل گاڑی پہلے ہی کھڑی کی گئی تھی۔ ہم دونوں سوار ہوئے اور چل نکلے۔ ہنڈولنے کے ناکے سے تھوڑی دور جا کے فیض علی کا سائیس گھوڑا لیے ہوئے ملا، وہ بھی بہل کے ساتھ ہو لیا۔ صبح ہوتے ہوتے موہن لال گنج پہنچے۔ یہاں سرا میں دوپہر تک قیام ہوا، بھٹیاری سے کھانا پکوا کے کھایا۔
دال ارہر کی بے نمک پھیکی
مطلقاً جس میں بو نہ تھی گھی کی

تیسرے دن رائے بریلی میں داخل ہوئے۔ یہاں سفر کے مناسب کپڑا خریدا۔ میرے دو جوڑے بنوائے۔ لکھنؤ سے جو کپڑے پہن کے آئی تھی، اتار کے گٹھری میں باندھے۔ رائے بریلی سے بیل گاڑی کو جو لکھنؤ سے آئی تھی، رخصت کیا۔ دوسری گاڑی کرایہ کی، لال گنج کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ قصبہ رائے بریلی سے کوئی نو دس کوس کے فاصلے پر ہے۔ شاموں شام پہنچ گئے۔ رات سرائے میں رہے۔ فیض علی ضروری سودے سلف کے لیے بازار گئے۔ جس کوٹھری میں ہم تھے اس کے پاس والی کوٹھری میں ایک دیہاتی رنڈی اتری ہوئی تھی۔ نصیبن نام تھا، گہنے پاتے سے درست تھی، کپڑے بھی اچھے تھے۔ تھی تو دیہاتی مگر زبان بہت صاف تھی۔ لب و لہجہ قصباتیوں کا سا تھا۔ میری اس کی دیر تک باتیں ہوا کیں۔

نصیبن: آپ کہاں سے آئی ہیں؟

میں: فیض آباد سے۔

نصیبن: فیض آباد میں تو میری بہن پیارن رہتی ہے، آپ ضرور جانتی ہوں گی۔

میں: (آخر پہچان گئی نا کہ میں بھی رنڈی ہوں) میں کیا جانوں۔

نصیبن: فیض آباد میں کون ایسی پتریا ہے جو ہم کو نہیں جانتی۔

میں: بہت دنوں سے ان کے گھر بیٹھ گئی ہوں۔ یہ لکھنؤ میں رہتے ہیں، اسی لیے میں بھی اکثر وہیں رہتی ہوں۔

نصیبن: آخر پیدائش تو تمہاری فیض آباد کی ہے نا؟

میں: (یہ تو بالکل سچ کہتی ہے، اب کیا جواب دوں) ہاں پیدا تو وہاں ہوئی، مگر بچپنے سے باہر رہی۔

نصیبن: تو فیض آباد میں کسی کو نہیں جانتی؟

میں: کسی کو نہیں۔

نصیبن: یہاں کیوں آنا ہوا؟

میں: ان کے ساتھ ہوں۔

نصیبن: لکھنؤ ہوتی ہوئی آئی ہو؟

میں: ہاں

نصیبن: پھر سیدھا رستہ چھوڑ کے ادھر بیہڑ میں کہاں آئی ہو، نرپت گنج ہو کے اناؤ چلی گئی ہوتیں؟

میں: رائے بریلی میں ان کو کچھ کام تھا۔

نصیبن: میں نے اس لیے کہا کہ ادھر کا راستہ بہت خراب ہے۔ ڈاکوؤں کے مارے مسافروں کی آمد و رفت بند ہے۔ پلیہ کی بیہڑ میں سینکڑوں کو لوٹ لیا۔ آناؤ کا رستہ ادھر ہی سے ہو کے ہے۔ تم تین آدمی ہو جس میں دو مرد ایک عورت ذات، تمہارے گلے میں گہنا بھی ہے۔ بھلا تمہاری کیا حقیقت ہے، وہاں تو براتیں لٹ جاتی ہیں۔

میں: تن بہ تقدیر۔

نصیبن: بڑی دل کی کڑی ہو۔

میں: پھر کیا کروں!

اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں جن کا دہرانا کوئی ضروری نہیں اور نہ مجھے یاد ہیں۔ ہاں میں نے پوچھا۔

میں: تم کہاں جاؤ گی؟

نصیبن: ہم تو گدائی کو نکلے ہیں۔

میں: میں نہیں سمجھی؟

نصیبن: اے لو گدائی نہیں جانتیں، کیسی پتریا ہو؟

میں: بہن میں کیا جانوں، گدائی تو بھیک مانگنے کو کہتے ہیں؟

نصیبن: ہمارے دشمن بھیک مانگیں اور سچ پوچھو تو کہوں، پتریا کی ذات بھیک منگنی ہے، اس میں ڈیرے دار ہو یا نہ ہو۔

میں: یہ تو سچ ہے، مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ گدائی کسے کہتے ہیں۔

نصیبن: سال میں ایک مرتبہ ہم لوگ گھر سے نکل کے گاؤں گاؤں پھرتے ہیں۔ امیروں، رئیسوں کے مکان پر جا کے اترتے ہیں۔ جو کچھ جس کے مقدور میں ہوتا ہے، ہمیں دیتا ہے۔ کہیں مجرا ہوتا ہے، کہیں نہیں ہوتا۔

میں: اچھا اس کو گدائی کہتے ہیں؟

نصیبن: ہاں، اب سمجھیں۔

میں: یہاں کسی رئیس کے پاس آئی ہوئی ہو؟

نصیبن: یہاں سے تھوڑی دور پر شیو دھیان سنگھ ایک راجا کی گڑھی ہے، انہی کے پاس گئی تھی۔ راجا صاحب کو بادشاہی حکم پہنچا ہے، ڈاکوؤں کے بندوبست کو گئے ہوئے ہیں۔ کئی دن ٹھہری رہی، آخر دم گھبرایا۔ یہاں سے دو کوس پر ایک گاؤں ہے سمریہا، وہ گاؤں بالکل پتریوں کا ہے۔ وہاں میری خالہ رہتی ہیں۔ کل ان کے پاس جاؤں گی۔

میں: پھر کہاں جاؤ گی؟

نصیبن: وہیں ٹھہری رہوں گی۔ جب راجا صاحب آئیں گے تو پھر گڑھی کو جاؤں گی اور بہت سے ڈیرے بھی ان کے انتظار میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

میں: کیا راجا صاحب کو ناچ مجرے سے بہت شوق ہے؟

نصیبن: بہت شوق تھا۔

میں: کیوں اب کیا ہوا؟

نصیبن: جب سے ایک پتریا لکھنؤ سے لائے ہیں ہم لوگوں کی کوئی قدر نہیں رہی۔

میں: اس پتریا کا کیا نام ہے؟

نصیبن: نام تو مجھ کو یاد نہیں، صورت دیکھی ہے۔ گوری گوری سی ہے۔ ذرا چہرے مہرے کی اچھی ہے۔

میں: گاتی تو خوب ہوگی؟

نصیبن: خاک! گانا وانا کچھ نہیں آتا، ہاں ناچتی ذرا اچھا ہے۔ راجا صاحب اسی پر لٹو ہیں۔

میں: کتنے دنوں سے وہ پتریا آئی ہے؟

نصیبن: کوئی چھ مہینے ہوئے ہوں گے۔

رات کو میں نے فیض علی سے راستے کی خرابی کا حال بیان کیا۔ انہوں نے کہا "خاطر جمع رکھو، ہم نے بندوبست کر لیا ہے"۔

دوسرے دن منہ اندھیرے ہم لال گنج کی سرائے سے روانہ ہوئے۔ نصیبن کی گاڑی ہمارے پیچھے پیچھے تھی۔ فیض علی گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم اور نصیبن باتیں کرتے جاتے تھے۔ تھوڑی دور چل کے سمریہا ملا۔ نصیبن نے دور سے ہم کو وہ گاؤں دکھایا۔ سڑک کے کنارے کھیت تھے۔ ان میں کچھ گنوارنیاں پانی دے رہی تھیں، کچھ کھیت نرا رہی تھیں۔ ایک پرائی چل رہی تھی۔ اس میں ایک مسٹنڈی سی عورت دھوتی باندھے بیل ہنکا رہی تھی۔ ایک پرے لے رہی تھی۔ نصیبن نے کہا یہ سب پتریاں ہیں۔ میں نے دل میں کہا واہ یہ پیشہ بھی کیا، پھر اس قدر محنت جو مردوں سے بمشکل ہو۔ آخر ان کو پتریا ہونا کیا ضرور تھا۔ مگر ان کی صورتیں بھی ایسے ہی کاموں کے لائق ہیں۔ لکھنؤ میں کنڈے والیاں، دہی والیاں، گھوسنیں آتی ہیں، ان کی شکل بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ نصیبن یہاں سے رخصت ہوئی۔

کوئی دو کوس اور جا کے ایک نشیب ملا۔ جا بجا بیہڑ، بڑے بڑے غار، سامنے ندی کا کنارہ نظر آیا۔ دونوں طرف دور تک گنجان درختوں کی قطار تھی۔ جب ہم اس موقع پر پہنچے ہیں، دھوپ اچھی طرح نکل چکی تھی، کوئی پہر دن چڑھا ہوگا۔ اس سڑک پر سوا ہمارے اور کوئی راستہ چلتے دکھائی نہ دیتا تھا، چاروں طرف سناٹا تھا۔ ندی کے پاس پہنچ کے فیض علی نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ میں روکتی کی روکتی رہ گئی، وہ یہ جادہ جا بہت دور نکل گئے۔ تھوڑی دور تک گھوڑا نظروں سے غائب رہا، پھر ندی کے پار جا کے پیچھے دوڑا چلا گیا تھا۔ اب میں ہوں اور گاڑی بان ہے۔ اتنے میں میں نے دور سے دیکھا کہ دس پندرہ گنوار گاڑی کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا خدا خیر کرے! تھوڑی دیر میں گنواروں نے آ کر گاڑی کو گھیر لیا۔ سب تلواریں باندھے ہوئے تھے، بندوقیں کندھے پر تھیں، توڑے سلگ رہے تھے۔

گنوار: (گاڑی بان سے) گاڑی روک۔ کون ہے گاڑی میں؟

گاڑی بان: یہ سواری بریلی سے آئی ہے، آناؤ کا بھاڑا کیا ہے۔

گنوار: روک گاڑی۔

گاڑی بان: گاڑی کیوں روکیں، خان صاحب کے ہاں کی زنانی سواری ہے۔

گنوار: کوئی مرد ساتھ نہیں ہے؟

گاڑی بان: مرد آگے بڑھ گئے ہیں، آتے ہوں گے۔

گنوار: اترو بی بی گاڑی سے؟

ایک: پردہ کھول کے کھینچ لو یار۔ سسری پتریا تو ہے، اس کا پردہ کیسا۔

ایک گنوار آگے بڑھا، گاڑی کا پردہ الٹ کے مجھے گاڑی سے اتارا۔ تین آدمی مجھے گھیر کے کھڑے ہو گئے۔ اتنے میں ندی کی طرف سے گرد اٹھی اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز آئی۔ جب گھوڑے قریب آئے، میں نے دیکھا آگے فیض علی کا گھوڑا ہے، پیچھے اور دس پندرہ سوار ہیں۔ گنواروں نے دیکھتے ہی بندوقوں کی ایک باڑھ ماری۔ اس میں دو سوار ادھر سے گر پڑے۔ پھر تلواریں میان سے نکلیں۔ سوار سر پر ہی آ گئے تھے۔ ادھر سے بھی تلواریں کھنچ گئیں۔ دو ایک ہاتھ چلے ہوں گے۔ تین گنوار ادھر سے زخمی ہو کے گرے اور ادھر سے ایک سوار گرا۔ گنوار بھاگ نکلے۔ "اچھا کہاں جاؤ گے۔ دیکھو ندی کے اس پار کیا ہوتا ہے"۔

گنواروں کے جانے کے بعد میں پھر گاڑی میں بیٹھی۔ جس سوار کے زخم آیا تھا اس کے پٹیاں کسی گئیں۔ وہ بھی گاڑی میں میرے ساتھ بٹھایا گیا۔ گاڑی روانہ ہوئی۔ اب دو سوار ہماری گاڑی کے ادھر ادھر ہیں۔ کچھ سوار آگے ہیں، کچھ پیچھے ہیں۔

فیض علی: (اپنے ساتھ سے) بھائی فضل علی کسی طرح لکھنؤ سے نکلنا ہی نہ ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے جان چھڑا کے آیا ہوں۔

فضل علی: یہ نہیں کہتے عیش میں پڑے تھے۔

فیض علی: ہاں یہ تو کہو گے۔

فضل علی: کہیں گے کیا، تحفہ بھی تو ساتھ ساتھ ہے۔ ذرا بھابھی صاحب کو ہم بھی تو دیکھیں۔

فیض علی: آپ سے کوئی پردہ ہے، دیکھیے۔

فضل علی: ڈیرے پر چل کے بامراد دیکھیں گے۔

اتنے میں گاڑی ندی کے کنارے پہنچ گئی۔ کنارا بہت اونچا تھا، مجھ کو گاڑی سے اتر کر پیدل چلنا پڑا۔ بڑی مشکل سے گاڑی دوسرے کنارے تک پہنچی۔ جو زخمی سوار گاڑی پر تھا اس کے زخم گاڑی کی تکان سے کھل گئے تھے۔ تمام گاڑی میں خون ہی خون تھا۔

ندی کے اس پار جا کے زخم پھر سے باندھے گئے۔ گاڑی دھوئی گئی۔ پھر میں گاڑی میں سوار ہوئی۔ اب قریب دوپہر کے دن آ چکا تھا۔ مجھے شدت سے بھوک لگی ہوئی تھی۔ گاڑی اسی طرح چل رہی تھی۔ ان لوگوں کا ڈیرہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ندی سے کوئی چار کوس پر جا کے ایک گاؤں کے پاس باغ تھا، اس میں چھولداریاں پڑی ہوئی تھیں، گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لوگ ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ کچھ لوگ کھانا پکا رہے تھے۔ یہاں آ کر ہماری گاڑی رکی۔ ہمارے ساتھ کے سواروں کو دیکھتے ہی ایک آدمی اس پڑاؤ سے دوڑ کے آگے بڑھا۔ اس نے کچھ فضل علی کے کان میں کہا۔ فضل علی کے چہرے سے تشویش کے آثار ظاہر ہوتے تھے۔ وہ فیض علی کے پاس گھوڑا بڑھا کے آئے، فیض علی سے چپکے چپکے باتیں ہوئیں۔

فیض علی: اچھا دیکھا جائے گا۔

فضل علی: کھانا کھانے تک کی مہلت نہیں ہے، ایسے میں نکل چلو۔

فیض علی: اچھا، جب تک چھولداریاں اکھاڑی جائیں، گھوڑوں پر زین کسے جائیں، ہم لوگ کھانا کھا لیں۔

میں گاڑی سے اتری۔ ایک آم کے درخت کے نیچے دری بچھا دی گئی، سالن کی پتیلیاں لا کے رکھی گئیں۔ تھئی کی تھئی روٹیاں موٹی موٹی ٹوکریوں میں آئیں۔ میں، فیض علی اور فضل علی تین آدمیوں نے مل کے کھانا کھایا۔ کھانا کھاتے وقت اگرچہ چہروں پر تشویش کے آثار تھے، مگر ہنسی مذاق ہوتا جاتا تھا۔

جتنی دیر میں ہم لوگوں نے کھانا کھایا، چھولداریاں اکھاڑ کے ٹٹوؤں پر لاد دی گئیں، زین کسے گئے۔ آخر قافلہ چل نکلا۔

دو ہی تین کوس گئے ہوں گے کہ بہت سے سوار اور پیدلوں نے آ کر گھیر لیا۔ ادھر بھی سب پہلے سے مستعد تھے۔ دونوں طرف سے گولیاں چلنے لگیں۔ اس لڑائی میں فیض علی میری گاڑی کے آس پاس رہے۔ میں گاڑی کے اندر بیٹھی دعائیں پڑھ رہی ہوں، کلیجہ ہاتھوں اچھل رہا ہے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی گاڑی کا پردہ کھول کے دیکھ لیتی ہوں۔ یہ گرا، وہ مرا۔ آخر دونوں طرف سے بہت سے زخمی ہوئے۔ ہمارے ساتھ پچاس ساٹھ آدمی تھے، راجا شیو دھیان سنگھ کے آدمی بہت تھے۔ ایک پر دس ٹوٹ پڑے، بہت زخمی ہوئے۔ فضل علی اور فیض علی موقع پا کر نکل گئے۔ دس بارہ آدمی گرفتار ہوئے۔ انہی گرفتاروں میں میں بھی تھی۔

ہم لوگوں کی گرفتاری کے بعد گاڑی بان نے منت سماجت کر کے رہائی حاصل کی۔ زخمی سوار کو میدان میں ڈال دیا، جہاں اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ تو اپنی جان لے کے رائے بریلی کی طرف روانہ ہوا۔ مردوں کی مشکیں کسی گئیں، گڑھی کی طرف روانہ ہوئے۔ گڑھی وہاں سے کوئی چار پانچ کوس تھی۔ تھوڑی دور جا کے راجا صاحب اور ان کے ساتھ کے اور لوگ ملے۔ راجا صاحب گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم لوگ سامنے گئے۔ میری طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

راجا: یہی بی لکھنؤ سے آئی ہیں؟

میں: (ہاتھ باندھ کے) حضور! قصوروار ہوں، لیکن اگر غور کیجیے تو ایسا قصور بھی نہیں۔ عورت ذات، جعل فریب سے آگاہ نہیں۔ میں کیا جانتی تھی؟

راجا: اب اپنی بے قصوری ثابت کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ قصور آپ کا ثابت ہے۔ جو باتیں آپ سے پوچھی جائیں ان کا جواب دیجیے۔

میں: جو حکم حاکم۔

راجا: لکھنؤ میں کہاں مکان ہے؟

میں: ٹکسال کے پاس۔

راجا: جہاں خانم کا مکان ہے وہیں؟

میں: حضور وہیں۔

راجا: (آدمیوں کو اشارہ کر کے) دیکھو تخت کھیڑے سے ایک بیل گاڑی لے لو۔ لکھنؤ کی رنڈیاں ہیں، ہمارے دیس کی پتریاں نہیں ہیں کہ رات بھر محفل میں ناچیں اور برات کے ساتھ دس دس کوس تک ناچتی جائیں۔

میں: حضور کو خدا سلامت رکھے!

آدمی گئے، کھیڑے سے گاڑی لے آئے۔ مجھے گاڑی پر بٹھایا اور لوگ اسی طرح مشکیں کسے ہوئے ساتھ ساتھ تھے۔

گڑھی پہنچ کر وہ لوگ نہیں معلوم کہاں بھیج دیے گئے، میں کوٹ میں بلائی گئی، ستھرا مکان رہنے کو دیا گیا، دو آدمی خدمت کو مقرر ہوئے۔ پکا پکایا کھانا، پوریاں کچوریاں مٹھائیاں طرح طرح کے اچار کھانے کو۔ لکھنؤ کے چھوڑنے کے بعد آج رات کو کھانا سیر ہو کر کھایا۔ دوسرے دن صبح کو معلوم ہوا کہ اور قیدی لکھنؤ روانہ کر دیے گئے۔ مجھ کو رہائی کا حکم ہے، مگر ابھی راجا صاحب رخصت نہیں کریں گے۔ پہر بھر دن چڑھے راجا صاحب نے بلا بھیجا۔

راجا: اچھا ہم نے تم کو رہا کیا۔ فیضو اور فضل علی دونوں بدمعاش نکل گئے اور سب نابکار جو گرفتار ہوئے لکھنؤ میں پہنچ کر اپنی سزا کو پہنچیں گے۔ بے شک تمہارا کوئی قصور نہیں، مگر آئندہ ایسے لوگوں سے نہ ملنا، اگر تمہارا جی چاہے دو چار دن یہاں رہو۔ ہم نے تمہارے گانے کی بہت تعریف سنی ہے۔

میں: (نصیبن کی وہ بات یاد آئی کہ راجا صاحب کے پاس لکھنؤ کی کوئی رنڈی ہے۔ ہو نہ ہو اسی نے میری تعریف کی ہوگی۔) حضور نے کس سے سنا؟

راجا: اچھا، یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔

تھوڑی دیر کے بعد لکھنؤ کی وہ رنڈی طلب ہوئی۔ لکھنؤ کی وہ رنڈی کون؟ خورشید جان۔ خورشید دوڑ کے مجھ سے لپٹ گئی۔ دونوں مل کے رونے لگیں۔ آخر راجا صاحب کے خوف سے فوراً علیحدہ ہو کر سامنے مودب بیٹھ گئیں۔ سازندے طلب ہوئے۔

رہائی کی خبر سن کے میں نے ایک حسبِ حال غزل کہہ لی تھی۔ بہت سے شعر تھے۔ جو شعر یاد آتے ہیں سنائے دیتی ہوں۔ ہر ایک شعر پر راجا صاحب اور حاضرینِ جلسہ بہت ہی محظوظ ہوئے۔ بے خودی کا عالم طاری تھا۔ غزل یہ ہے۔

قیدیٔ الفت صیاد رہا ہوتے ہیں
خوش نوایانِ چمن زاد رہا ہوتے ہیں
تو بھی چھوڑے تو تری زلف نہ چھوڑے ہم کو
کوئی ہم اے ستم ایجاد رہا ہوتے ہیں
حسرت اے ذوقِ اسیری کہ خفا ہے صیاد
آج ہم با دلِ ناشاد رہا ہوتے ہیں
خاطرِ نازکِ صیاد کو برداشت نہیں
باعثِ نالہ و فریاد رہا ہوتے ہیں
غمِ دنیا نہ سہی اور ہزاروں غم ہیں
قیدِ ہستی سے کب آزاد رہا ہوتے ہیں
کیوں نہ رشک آئے ہمیں تازہ گرفتاروں پر
ہم تو اے لذتِ بیداد رہا ہوتے ہیں
اے ادا قیدِ محبت سے رہائی معلوم
کب اسیرِ غمِ صیاد رہا ہوتے ہیں

مقطع سن کے راجا صاحب نے پوچھا۔ "ادا کس کا تخلص ہے؟" خورشید نے کہا "خود انہی کی کہی ہوئی ہے"، راجا اور بھی خوش ہوئے۔

راجا: اگر ایسا جانتے تو ہم آپ کو ہرگز رہا نہ کرتے۔

میں: غزل سے حضور کو معلوم ہو گیا ہوگا کہ اسی کا تو افسوس ہے، مگر اب تو حضور حکم دے چکے اور لونڈی آزاد ہو چکی۔

اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔ راجا صاحب اندر رسوئی کھانے چلے گئے، خورشید کی مجھ سے خوب باتیں ہوئیں۔

خورشید: دیکھو بہن! میرا کوئی قصور نہیں۔ خانم صاحب سے اور راجا صاحب سے بہت دنوں سے لاگ ڈانٹ تھی۔ راجا صاحب نے کئی مرتبہ مجھے بلوایا، انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ آخر عیش باغ کے میلے میں ان کے آدمی لگے ہوئے تھے، مجھ کو زبردستی اٹھا لائے۔ جب سے یہیں ہوں، ہر طرح کی میری خاطر ہوتی ہے، سب طرح کا آرام ہے۔

میں: موئے گنواروں میں خوب تمہارا جی لگتا ہے۔

خورشید: یہ بات تو سچ ہے۔ مگر تم میری طبیعت کو جانتی ہو۔ روز ایک نئے شخص کے پاس جانا میرے بالکل خلاف ہے۔ وہاں یہی کرنا پڑتا تھا۔ خانم کو جانتی ہو۔ یہاں صرف راجا صاحب سے سابقہ ہے، اور سب میرے حکم کے تابع ہیں۔ دوسرے یہ میرا وطن ہے۔ یہاں کی ہر چیز مجھے اچھی معلوم ہوتی ہے۔

میں: تو تمہارا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہیں ہے؟

خورشید: مجھے تو معاف کرو۔ یہاں اچھی طرح ہوں، بلکہ تم بھی یہیں رہو۔

میں: میں یہاں تو نہ رہوں گی، مجبوری کی اور بات ہے۔

خورشید: لکھنؤ جاؤ گی؟

میں: نہیں۔

خورشید: پھر کہاں؟

میں: جہاں خدا لے جائے۔

خورشید: ابھی کچھ دنوں رہو۔

میں: ہاں ابھی تو ہوں۔

پندرہ بیس دن تک میں گڑھی میں رہی، خورشید سے روزانہ ملتی تھی۔ خورشید کا دل وہاں لگا ہوا تھا۔ میرا جی بہت گھبراتا تھا۔ آخر راجا صاحب سے میں نے عرض کیا۔

میں: حضور نے مجھے حکمِ رہائی دیا ہے؟

راجا: ہاں! تو پھر کیا جانا چاہتی ہو؟

میں: جی ہاں! اب لونڈی کو رخصت کیجیے، پھر حاضر ہوں گی۔

راجا: یہ لکھنوی فقرے ہیں۔ اچھا کہاں جاؤ گی؟

میں: کانپور۔

راجا: لکھنؤ نہ جاؤ گی؟

میں: حضور! لکھنؤ کیا منہ لے کے جاؤں گی۔ خانم سے کیسی شرمندگی ہوگی، ساتھ والیاں کیا کیا ہنسیں گی۔

اول تو میرا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہ تھا، دوسرے یہ بھی خیال تھا کہ لکھنؤ جانے کو اگر راجا صاحب سے کہوں گی تو شاید رہائی نہ ہوگی، کیونکہ وہاں جانے سے خورشید کا حال کھل جاتا۔ شاید خانم کوئی آفت برپا کرتیں۔

راجا صاحب میرے اس ارادے سے بہت خوش ہوئے۔

راجا: تو لکھنؤ کبھی نہ جاؤ گی؟

میں: لکھنؤ میں میرا کون بیٹھا ہے۔ گانے بجانے کا پیشہ ہے۔ جہاں رہوں گی، کوئی نہ کوئی قدردان نکل ہی آئے گا۔ خانم کی قید میں رہنا اب مجھے منظور نہیں۔ اگر وہاں رہنا ہوتا تو نکل کیوں آتی؟

میں نے راجا صاحب کو یقین دلا دیا کہ لکھنؤ ہرگز نہ جاؤں گی۔

دوسرے دن راجا نے مجھے رخصت کیا۔ دس اشرفیاں انعام دیں، ایک دوشالہ دیا، ایک رومال، ایک رتھ مع تین بیل، غرضیکہ انہوں نے مجھے ڈیرہ دار پتریاں بنا دیا۔ ایک گاڑی بان اور دو آدمی میرے ساتھ کیے۔ آناؤ کو روانہ ہوئی۔ وہاں پہنچ کر سلارو بھٹیارے کے مکان میں ٹھہری۔ راجا صاحب کے آدمیوں کو رخصت کیا، صرف گاڑی بان رہ گیا۔

سرِ شام اپنی کوٹھری کے سامنے بیٹھی ہوں۔ مسافر آتے جاتے ہیں۔ بھٹیاریاں چلا رہی ہیں "میاں مسافر! ادھر ادھر۔ مکان جھاڑا ہوا ہے، حقہ پانی کو آرام، کھانے پینے کو آرام، گھوڑے ٹٹو کے لیے نیم کا سایہ ......"

اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ فیض علی کا سائیس چلا آتا ہے۔ سرا کے پھاٹک ہی سے اس کی نگاہ مجھ پر پڑی، میری اس کی آنکھیں چار ہوئیں۔ وہ سیدھا میرے پاس چلا آیا۔ باتیں کرنے لگا۔ پہلے میرا حال پوچھا، اس کے بعد میں نے فیض علی کا حال پوچھا۔ اس نے کہا "ان کو آپ کے اناؤ آنے کی خبر مل گئی ہے، آج رات کو پہر ڈیڑھ پہر رات گئے ضرور آ جاویں گے"۔

یہ سن کر میرا دل دھڑکنے لگا۔ وجہ یہ تھی کہ مجھے اب فیض علی کا ساتھ منظور نہ تھا۔ تخت کھیڑے کے واقعے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اب گلو خلاصی ہو گئی ہے۔ اناؤ میں فیض علی کے ملنے کا مان گمان تک نہ تھا۔ میں نے دل میں کہا لو پھر آفت کا سامنا ہوا، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ فیض علی میری جان نہ چھوڑیں گے۔ رات کو ڈیڑھ پہر رات گئے فیض علی جان پر نازل ہو گئے۔ معمولی بات چیت کے بعد اناؤ سے روانگی کا مشورہ ہونے لگا۔ بڑی دیر تک باتیں رہیں۔ آخر یہ صلاح ٹھہری کہ گاڑی سلارو بھٹیارے کے پاس چھوڑ دو، راتوں رات گنگا کے اس پار اتر چلو۔ اب کیا کر سکتی تھی۔ فیض علی کے بس میں تھی۔ جو انہوں نے کہا چار و ناچار منظور کرنا پڑا۔ فیض علی نے سلارو کو بلایا، کنارے لے جا کے دیر تک باتیں کیں۔ کوئی آدھی رات گئے اپنے ساتھ مجھے گھوڑے پر بٹھایا، سرائے سے باہر ہوئے۔ پانچ چھ کوس زین کا چلنا، رات کا وقت، میرا بند بند ٹوٹ گیا۔ مدتوں درد رہا۔ آخر جوں توں کر کے گنگا کے کنارے پہنچے۔ بڑی مشکل سے ناؤ تلاش کی، اس پار اترے، فیض علی نے کہا "اب کوئی خوف نہیں ہے"۔ صبح ہوتے ہوتے کانپور پہنچ گئے۔ فیض علی نے مجھ کو لاٹھی محال کی سرائے میں اتارا، خود مکان کی تلاش میں نکلے۔ تھوڑی دیر کے بعد آ کے کہا۔ "یہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں ہے، مکان ہم نے ٹھہرا لیا ہے، وہاں چلی چلو"۔ ڈولی کرایہ پر کی۔ تھوڑی دیر میں ڈولی ایک پختہ عالی شان مکان کے دروازے پر ٹھہری۔ فیض علی نے ہم کو یہاں اتارا۔ مکان کے اندر جا کے کیا دیکھتی ہوں کہ ایک دالان میں دو کھری چارپائیاں پڑی ہیں۔ ایک چٹائی بچھی ہوئی ہے، اس پر ایک عجیب قطع کا حقہ رکھا ہوا ہے، جسے دیکھتے ہی پینے سے مجھے نفرت ہو گئی۔ مکان کا قرینہ دیکھ کے دل کو وحشت ہونے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد فیض علی نے کہا "اچھا تو میں بازار سے کچھ کھانے کو لے آؤں"۔ میں نے کہا "بہتر، مگر ذرا جلدی آنا"۔ فیض علی بازار کو گئے، میں اسی مکان میں اکیلی بیٹھی ہوں۔

اب سنیے، فیض علی بازار کو گئے تو وہیں کے ہو رہے۔ نہ آج آتے ہیں نہ کل۔ ایک گھڑی، دو گھڑی، پہر، دو پہر، کہاں تک کہوں۔ دوپہر گزری، شام ہونے کو آئی۔ اناؤ میں سرِ شام کھانا کھایا تھا، رات کو گھوڑے پر چلنے کی تکان، نیند کا خمار، صبح سے منہ پر چلو پانی تک نہ پڑا، ٹکڑا تک نہیں کھایا، بھوک کے مارے دم نکلا جاتا تھا۔ تھوڑی دیر میں سورج ڈوب گیا، اندھیرا ہونے لگا۔ آخر رات ہو گئی۔ یا خدا اب کیا کروں۔ منہ کھول دیا، اٹھ بیٹھی۔ اتنا بڑا ڈھنڈار مکان بھائیں بھائیں کر رہا ہے۔ بیہات، خدا کی ذات اور میں اکیلی۔ یہ معلوم ہوتا تھا اب اس کوٹھری سے کوئی نکلا، وہ سامنے والے دالان میں کوئی ٹہل رہا ہے۔ کوٹھے سے دھم دھم کی آواز آئی، زینے سے کوئی کھٹ کھٹ اترا چلا آتا ہے۔ دو پہر رات ہو گئی۔ اب تک انگنائی اور دیواروں پر چاندنی تھی، اب چاند بھی چھپ گیا، بالکل اندھیرا گھپ ہو گیا۔ آخر میں دوشالے سے منہ لپیٹ کے پڑ رہی۔ پھر کچھ کھٹکا ہوا۔ رات پہاڑ ہو گئی۔ کاٹے نہیں کٹتی ہے۔ آخر جوں توں کر کے صبح ہوئی۔

دوسرے دن صبح کو تو عجب ہی عالم تھا۔ اب لکھنؤ کی قدر ہوئی۔ دل میں کہتی تھی یا خدا کس مصیبت میں جان پڑی، لکھنؤ کا عیش چین اور اپنا کمرا یاد آتا تھا، ادھر ایک آواز دی ادھر آدمی مستعد۔ حقہ، پان، کھانا، پانی، جو کچھ ہوا ادھر منہ کیا ادھر سامنے موجود۔ خلاصہ یہ کہ آج بھی صبح سے دوپہر ہو گئی اور فیض علی نہ آئے۔ اس حالت میں اگر کوئی نیک بخت بی بی چار دیواری کی بیٹھنے والی ہوتی تو ضرور گھٹ گھٹ کے مر جاتی۔ میرا ہواؤ تو کھلا ہوا نہ تھا، مگر پھر بھی سینکڑوں مردوں میں بیٹھ چکی تھی۔ کانپور نہ سہی لکھنؤ کے اکثر گلی کوچوں سے واقف۔ یہاں کی بھی سرا دیکھی تھی، بازار دیکھا تھا۔ اب میری بلا اس خالی مکان میں بیٹھی رہتی۔ جھپ سے کنڈی کھول گلی میں نکل کھڑی ہوئی۔ گھر سے دس بیس قدم گئی ہوں گی کہ دیکھتی کیا ہوں کہ ایک شخص سرکاری وردی پہنے، گھوڑے پر سوار، دس پندرہ برق انداز ساتھ، ان کے حلقے میں میاں فیض علی ٹنڈیاں کسی ہوئیں، سامنے سے چلے آتے ہیں۔ یہ ماجرا دیکھتے ہی میں سن سے ہو گئی، وہیں ٹھٹک گئی، ایک ایک قدم سو سو من کا ہو گیا۔ خیریت یہ ہوئی کہ ان لوگوں میں سے کسی کی نگاہ مجھ پر نہیں پڑی۔ وہ نکلے ہوئے چلے گئے، میں ایک گلی میں ہو رہی۔ تھوڑی دور جا کے ایک پتلی سی گلی ملی۔ اسی گلی میں ایک مسجد تھی۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ سب سے بہتر خدا کا گھر ہے، تھوڑی دیر یہیں جا کے ٹھہرنا چاہیے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا، میں درانا اندر چلی گئی۔ یہاں ایک مولوی صاحب سے سامنا ہوا۔ کالے سے تھے۔ سر منڈا ہوا تھا۔ ایک نیلی تہمد باندھے دھوپ میں ٹہل رہے تھے۔ پہلے تو شاید سمجھے میں طاق بھرنے آئی ہوں، بہت ہی خوش ہوئے۔ جب میں جا کے چپکے صحن کے کنارے پاؤں لٹکا کے بیٹھ گئی تو قریب آ کے پوچھنے لگے "کیوں بی صاحب! آپ کا یہاں کیا کام ہے؟"

میں: میں مسافر ہوں، خدا کا گھر سمجھ کے تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گئی ہوں۔ اگر آپ کو ناگوار ہو تو ابھی چلی جاؤں۔

مولوی صاحب اگرچہ بہت ہی بے تکے تھے مگر میری لگاوٹ کی نظر اور دل فریب تقریر نے جادو کا اثر کیا۔ بھلا جواب کیا منہ سے نکلتا، ہکا بکا ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ میں سمجھ گئی کہ دام میں آ گئے۔

مولوی: (تھوڑی دیر کے بعد بہت سنبھل کے) اچھا تو آپ کا کہاں سے آنا ہوا؟

میں: جی کہیں سے آنا ہوا، مگر بالفعل تو یہیں ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔

مولوی: (بہت ہی گھبرا کے) مسجد میں؟

میں: جی نہیں، بلکہ آپ کے حجرے میں۔

مولوی: لاحول ولا قوۃ!

میں: اوئی مولوی صاحب! مجھے تو آپ کے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔

مولوی: جی ہاں، تو میں اکیلا تو رہتا ہوں، اسی لیے تو میں نے کہا مسجد میں آپ کا کیا کام ہے۔

میں: یہ کیا ...... خاصیت ہے کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں دوسرا نہیں رہ سکتا۔ مسجد میں ہمارا کچھ کام نہیں، یہ خوب کہی! آپ کا کیا کام ہے؟

مولوی: میں تو لڑکے پڑھاتا ہوں۔

میں: میں آپ کو سبق دوں گی۔

مولوی: لاحول ولا قوۃ۔

میں: لاحول ولا قوۃ؟ یہ آپ ہر دفعہ لاحول کیوں پڑھتے ہیں۔ یہ کیا شیطان آپ کے پیچھے پڑا ہے؟

مولوی: شیطان آدمی کا دشمن ہے، اس سے ہر وقت ڈرنا چاہیے۔

میں: خدا سے ڈرنا چاہیے، موئے شیطان سے کیا ڈرنا اور یہ کیا آپ نے کہا آپ آدمی ہیں؟

مولوی: (ذرا بگڑ کے) جی ہاں اور کون ہیں؟

میں: مجھے تو آپ جن معلوم ہوتے ہیں، اکیلے اس مسجد میں رہتے ہیں۔ آپ کا دل بھی نہیں گھبراتا؟

مولوی: پھر کیا کریں، ہمیں تو اکیلے کی عادت ہے۔

میں: اسی سے تو آپ کے چہرے پر وحشت برستی ہے۔ وہ آپ نے نہیں سنا۔تنہا منشیں کہ نیم دیوانگی است

مولوی: اجی وہ کچھ سہی۔ جس حال میں ہم ہیں خوش ہیں، آپ اپنا مطلب کہیے؟

میں: مطلب تو کتاب کے دیکھنے سے حل ہوگا، بالفعل زبانی مباحثہ ہے۔

مولوی: چہ خوش!

میں: چرا باشد۔

میں مولوی صاحب کو خوب جھنجھوڑیاں دیتی، مگر اس وقت بھوک کے مارے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔

رسوا: یہ مولوی صاحب سے اس قدر مذاق کی کیا ضرورت تھی؟

امراؤ: اے ہے اس کا حال نہ پوچھو۔ بعض آدمیوں کی صورت ہی ایسی ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔

رسوا: جی ہاں، جیسے کسی کی منڈی ہوئی کھوپڑی دیکھ کے بعض آدمیوں کی ہتھیلی کھجلاتی ہے، چپت لگانے کو جی چاہتا ہے۔

امراؤ: بس یہی سمجھ لیجیے۔

رسوا: اچھا تو وہ مولوی صاحب میں ایسی کون سی بات تھی جس سے مذاق کرنے کو جی چاہتا تھا؟

امراؤ: کیا کہوں، کچھ بیان نہیں ہو سکتا۔ جوان آدمی تھے، صورت بھی کچھ بری نہ تھی۔ سانولی رنگت تھی، چہرے پر حونق پن تھا۔ سر پر لمبے لمبے بال تھے، منہ پر داڑھی تھی، مگر کچھ بے تکے پن کی حد سے بڑھی ہوئی۔ مونچھوں کا بالکل صفایا تھا۔ تہمد بہت اونچی بندھی ہوئی تھی۔ سر پر چھینٹ کی بڑی سی ٹوپی تھی جو سر کی پوری چوحدی ڈھانکے ہوئے تھی۔ بات کرنے کا عجیب انداز تھا۔ منہ جلدی سے کھلتا تھا، پھر بند ہو جاتا تھا۔ نیچے کا ہونٹ کچھ عجیب انداز سے اوپر کو چڑھ جاتا تھا، اور اس کے ساتھ ہی نکہ دار داڑھی کچھ عجب انداز سے ہل جاتی تھی۔ اس کے بعد ناک سے کچھ ہونہہ سا نکلتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ کھا رہے ہیں، اور باتیں بھی کرتے جاتے ہیں۔ احتیاطاً منہ جلدی سے بند کر لیتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کچھ نکل پڑے۔

رسوا: کیا واقعی کچھ کھا رہے تھے؟

امراؤ: جی نہیں، جگالی کر رہے تھے۔

رسوا: اکثر کٹ ملا کچھ ایسی ہی صورت بنا لیتے ہیں جسے دیکھ کے بے وقوفوں کو ڈر لگتا ہے اور عقل مندوں کو ہنسی آتی ہے۔ مجھے ایسی صورتیں دیکھنے کا بہت شوق ہے۔

امراؤ: اور سنیے، آپ کی گفتگو میں ایک وصف اور بھی تھا، وہ یہ کہ اکثر منہ پھیر لیا کرتے تھے۔

رسوا: یہ تو عین تمیزداری ہے، اس لیے کہ عند التقریر آپ کے منہ سے تھوک اڑتا ہوگا۔

امراؤ: کچھ اور بھی عرض کروں؟

رسوا: بس اب معاف کیجیے، یہاں تو صبح ہو گئی۔

امراؤ: القصہ میں نے جیب سے ایک روپیہ نکالا۔

مولوی: (یہ سمجھ کے کہ مجھے نذر دیا جاتا ہے، جلدی سے ہاتھ تو بڑھا دیا اور منہ سے) "اس کی کیا ضرورت تھی"۔

میں: (مسکرا کے) اس کی اشد ضرورت تھی، اس لیے کہ مجھے بھوک لگی ہے، کسی سے کچھ کھانے کو منگا دیجیے؟

مولوی: (اب جھینپے تو یوں باتیں بنانے لگے) میں سمجھا۔ (میں نے دل میں کہا سمجھے کیا خاک، سمجھتے تو پتھر کے ہو جاتے) اسی لیے تو کہتا ہوں اس کی کیا ضرورت تھی۔ کیا کھانا یہاں ممکن نہیں ہے؟

میں: امکان بالقوہ یا بالفعل، بالذات یا بالغیر؟

مولوی: بالفعل تو ممکن نہیں۔ میرا ایک شاگرد کھانا لاتا ہوگا، آپ بھی کھا لیجیے گا۔

میں: بالفعل تو ممکن نہیں، بالذات کی آپ کو توفیق نہیں، اور یہاں ضرورت نے اکلِ میت کو جواز کا حکم دے دیا ہے لہٰذا بازار سے کچھ لا دیجیے۔

مولوی: اب ذرا صبر کیجیے۔ کھانا آتا ہی ہوگا۔

میں: اب صبر کرنا تکلیف مالا یطاق ہے۔ اور دوسرے میں نے بالتحقیق سنا ہے کہ رمضان شریف ایک مہینے تمام دنیا میں سیر کرتے ہیں اور گیارہ مہینے اسی مسجد میں معتکف رہتے ہیں۔

مولوی: اس وقت تو فی نفس الامر میں کچھ نہیں ہے مگر میرا ایک شاگرد کھانا لے کے آتا ہوگا۔

میں: اور بالفرض والتسلیم لو کان حالاً اگر کھانا آیا بھی تو وہ آپ کی قوت لایموت کے لیے بھی کافی نہ ہوگا، میری شرکت اس میں یعنی چہ؟ اور من وجہ کفالت بھی کرے تو الانتظار اشد من الموت کا مضمون ہے۔ تا تریاق از عراق آوردہ شود ......

مولوی: آہا، آپ تو بہت قابل معلوم ہوتی ہیں۔

میں: مگر میرے زعمِ ناقص میں آپ کسی قابل نہیں۔

مولوی: واقع ایسا ہی ہے، مگر ......

میں: (بات کاٹ کر) مگر اس لیے کہ یہاں تو آنتیں قل ھو اللہ پڑھ رہی ہیں اور آپ لاطائل تقریریں کر رہے ہیں۔

مولوی: اچھا تو میں ابھی لایا۔

میں: للہ ذرا جلدی لائیے۔

خدا خدا کر کے مولوی صاحب گئے اور کوئی گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد چار خمیری روٹیاں اور ایک مٹی کے پیالے میں تھوڑا سا نیلا شوربا لا کے میرے سامنے رکھ دیا۔ دیکھ کے جان جل گئی۔ مولوی صاحب کی صورت دیکھنے لگی۔ مولوی صاحب اپنے دل میں کچھ اور ہی سمجھے۔

مولوی: (فوراً ساڑھے چودہ گنڈے پیسے، کوئی دھیلے کی کوڑیاں چادر کے کونے سے کھول کر سامنے رکھ دیے) سنیے صاحب! چار پیسے کی روٹیاں ہیں، پیسے کا سالن ہے، دھیلا بھانج (روپے کا خوردہ) میں گیا، آپ کی جمع آپ کے سامنے موجود ہے۔ پہلے گن لیجیے تو کھا لیجیے گا۔

میں نے پھر ایک دفعہ مولوی صاحب کی صورت دیکھی، مگر بھوک بری بلا ہے، جلدی جلدی نوالے اٹھانا شروع کیے۔ جب دو چار نوالے کھا چکی تو مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہوئی۔

میں: میں نے کہا مولوی صاحب! کیا اس اجڑے شہر میں یہی کھانے کو ملتا ہے؟

مولوی: تو کیا یہاں لکھنؤ کی طرح محمود کی دکان ہے جہاں پلاؤ زردہ آٹھ پہر تیار رہتا ہے؟

میں: حلوائی کی دکان تو ہوگی؟

مولوی: حلوائی کی دکان یہ مسجد کے نیچے ہے۔

میں: تو پھر چار کوس جانا کیا ضرور تھا۔ دو پہر کے بعد آئے اور لے کے کیا آئے۔ موئے کتوں کا راتب۔

مولوی: ایسا تو نہ کہیے۔ آدمی کھاتے ہیں۔

میں: آپ ایسے آدمی کھاتے ہوں گے۔ باسی خمیری روٹیاں اور نیلا نیلا شوربا!

مولوی: نیلا تو نہیں ہے۔ اچھا تو دہی لا دوں؟

میں: جی نہیں رہنے دیجیے، معاف کیجیے۔

مولوی: پیسے کا خیال نہ کیجیے، میں اپنے پاس سے لائے دیتا ہوں۔

میں کچھ جواب بھی نہ دینے پائی تھی کہ مولوی صاحب مسجد سے باہر چلے گئے۔ اور ایک آب خورے میں خدا جانے کب کا سڑا ہوا کھٹا دہی اٹھا لائے اور اس طرح سامنے لا کے رکھ دیا گویا آپ نے حاتم کی قبر پر لات مار دی۔

بہرطور میں نے وہ چار روٹیاں اگل نگل کے کھائیں اور کوئی بدھنی بھر کے پانی پیا۔ وہ شوربا اور دہی یوں ہی چھوڑ کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پیسے کوڑیاں بھی وہیں پڑی رہنے دیے۔

میں ہاتھ دھونے اٹھی تھی، مولوی صاحب سمجھے مسجد سے دفان ہوتی ہے۔

مولوی: اور یہ پیسے اور کوڑیاں تو اٹھا لیجیے۔

میں: میری طرف سے مسجد میں چراغی چڑھا دیجیے۔

منہ ہاتھ دھو کے اپنی جگہ پر آ بیٹھی، مولوی صاحب سے باتیں کرنے لگی۔

کانپور میں مولوی صاحب کی ذات سے مجھے بہت آرام ملا۔ انہی کی معرفت ایک کمرا کرائے پر لیا۔ نواڑی پلنگ، دری، چاندنی، چھت، پردے، تانبے کے برتن اور سب ضروریات کا سامان خرید لیا۔ ایک ماما کھانے پکانے کو اور ایک اوپر کے کام کاج کو، دو اور خدمت گار نوکر رکھ لیے، ٹھاٹھ سے رہنے لگی۔ اب سازندوں کی تلاش ہوئی۔ یوں تو بہت سے آئے مگر کسی کا باج پسند نہ آیا۔ آخر لکھنؤ کا ایک طبلیہ مل گیا۔ یہ خلیفہ جی کے خاندان کا شاگرد تھا۔ اس سے خوب پرگت ملی۔ اسی کی معرفت دو سارنگیے کانپور کے ذرا سمجھ دار تھے، بلوائے۔ طائفہ درست ہو گیا۔ شب کو پہر ڈیڑھ پہر رات گئے تک کمرے پر گانے بجانے کا چرچا رہنے لگا۔ شہر میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ لکھنؤ سے کوئی رنڈی آئی ہے۔ اکثر مرد آدمی آنے لگے۔ شاعری بھی خوب چمکی۔ کوئی دن ایسا ہی کم بخت ہوگا جو کسی جلسے میں جانا نہ ہوتا ہو۔ مجرے کثرت سے آتے تھے۔ تھوڑے ہی دنوں میں بہت سا روپیہ کما لیا۔ اگرچہ کانپور کے لوگوں کا راہ رویہ بول چال مجھے پسند نہ تھی، بات بات پر لکھنؤ یاد آتا تھا، مگر خود مختاری کی زندگی میں کچھ ایسا مزا ہے کہ واپس جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ میں جانتی تھی کہ اگر لکھنؤ جاؤں گی تو پھر خانم کی نوچی بن کے رہنا پڑے گا، کیونکہ اس پیشے میں رہ کر لکھنؤ میں خانم سے علیحدہ رہنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ ایک تو اس سبب سے کہ تمام رنڈیاں خانم کا دباؤ مانتی تھیں۔ اگر میں الگ ہو کے رہتی تو کوئی مجھ سے نہیں ملتی۔ دوسرے عمدہ سازندوں کا بہم پہنچنا دشوار تھا۔ ناچ مجرے کا ڈھچر کیوں کر چل سکتا تھا۔ جن سرکاروں میں میری رسائی ہوئی تھی وہ بھی خانم کی وجہ سے تھی۔ اگرچہ میرا شمار اچھے گانے والیوں میں تھا، مگر لکھنؤ میں اس کام کے کرنے والے بہت سے ہیں۔ اچھے برے کا امتیاز خاص لوگوں کا ہوتا ہے، عام لوگوں میں نام بکتا ہے۔ بڑے آدمیوں کی نگاہ اکثر اونچے ہی کمروں پر جاتی ہے۔ اس حالت میں مجھے کون پوچھتا۔ کانپور میں میرے حوصلے سے زیادہ میری قدردانی ہوتی تھی۔ کسی امیر رئیس کے ہاں کوئی تقریب شادی بیاہ کی نہ ہوتی تھی، جس میں میرا بلانا باعثِ فخر نہ سمجھا جاتا ہو۔ باہر جا کر اس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ لکھنؤ کیا چیز ہے۔ یہاں ایک صاحب حضرت شارق لکھنوی بہت مشہور ہیں۔ استاد مسلم الثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں آپ کے شاگرد ہیں۔ لکھنؤ میں کوئی ان کا نام بھی نہ جانتا ہوگا۔ ایک دن کا تذکرہ سنیے۔ ایک صاحب میرے کمرے میں تشریف لائے۔ اثنائے گفتگو میں شعر و شاعری کا کچھ چرچا نکلا۔ چھوٹتے ہی انہوں نے پوچھا "آپ حضرت شارق لکھنوی کو جانتی ہیں؟" میں نے کہا "نہیں۔ کون حضرت شارق؟" یہ صاحب ان کے شاگردوں میں تھے، فوراً بگڑ گئے۔

وہ صاحب: میں تو سنتا تھا، آپ لکھنؤ کی رہنے والی ہیں؟

میں: جی ہاں غریب خانہ تو لکھنؤ میں ہی ہے۔

وہ صاحب: بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ لکھنؤ میں ہوں اور حضرت استاد کو نہ جانیں۔

میں: لکھنؤ کے مشہور شاعروں میں کون ایسا ہے، جس کو میں نہ جانتی ہوں۔ استادوں کا تو ذکر ہی کیا ہے، ان کے نام برآوردہ شاگردوں میں سے بھی کوئی کم ایسا ہوگا جس کا کلام میں نے نہ سنا ہو۔ ان کا نامِ نامی سے تو مطلع فرمائیے۔ یہ تخلص تو میں نے کبھی سنا نہیں۔

وہ صاحب: (چیں بہ جبیں ہو کے) نام لینے سے کیا فائدہ! تخلص شرق سے غرب اور شمال سے جنوب تک زبان زدِ خلائق ہیں۔ ہاں اک آپ نہیں جانتیں، نہ جانیں!

میں: حضور معاف کیجیے گا، میرے نزدیک تو یہ شاعرانہ تعلی ہے۔ مگر آپ کے استاد ہیں، آپ کو ایسا ہی کہنا چاہیے۔ اچھا تو نامِ نامی سے تو مطلع فرمائیے۔ ممکن ہے کہ میں نے تخلص نہ سنا ہو، نام سے واقف ہوں۔

وہ صاحب: میر ہاشم علی صاحب شارق۔

میں: اس نام سے تو بے شک کان آشنا ہیں۔ (اتنا کہہ کے اب میں فکر کرنے میں لگی۔ یا الٰہی یہ کون میر ہاشم علی صاحب ہیں۔ آخر ایک صاحب پر اشتباہ ہوا) آپ کے استاد مرثیہ خوانی بھی تو کرتے ہیں؟

وہ صاحب: جی ہاں، مرثیہ خوانی میں بھی ان کا مثل و نظیر نہیں۔

میں: بجا ارشاد ہوا، یعنی میر صاحب اور مرزا صاحب سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔

وہ صاحب: انہی صاحبوں کے ہمسر ہیں۔

میں: بھلا کس کا مرثیہ پڑھتے ہیں؟

وہ صاحب: کسی کا مرثیہ کیوں پڑھنے لگے، خود تصنیف فرماتے ہیں۔ ابھی ستائیسویں رجب کو نیا مرثیہ پڑھا تھا، تمام شہر میں شہرہ ہے۔

میں: مطلع تو آپ کو یاد ہوگا؟

وہ صاحب: مطلع تو نہیں، تلوار کی تعریف میں ایک بند پڑھا تھا، وہ مجھے کیا تمام شہر کی زبان پر ہے۔ قلم توڑ دیا ہے۔

میں: ذرا ارشاد کیجیے گا، میں بھی مستفید ہوں۔

وہ صاحب: نکلی غلافِ نور سے تفسیر جوہری۔

میں: سبحان اللہ! اس بند کے تو دور دور شہرے ہیں۔ پانچ مصرعے مجھ سے سن لیجیے، واقعی کیا کلام ہے!

وہ صاحب: (بہت ہی خوش ہو کے) جی ہاں، آپ نے یہ مرثیہ لکھنؤ میں سنا ہوگا۔ وہی تو میں کہتا تھا کہ لکھنؤ کی رہنے والی اور پھر شعر و سخن کا شوق، حضرت شارق کو نہ جانتی ہوں، تعجب ہے۔ اب میں سمجھا یہ مذاق تھا۔

میرے جی میں آیا کہہ دوں کہ آپ کے استاد مر کے بھی جنیں گے تو ایسا بند نہیں کہہ سکتے۔ مرزا دبیر (مرحوم) کا کلام ہے، مگر پھر کچھ سمجھ کے چپ ہو رہی۔

رسوا: واقعی آپ نے بڑی عقل مندی کی، ورنہ بے چارے کی روزی میں خلل آتا۔ میر ہاشم علی صاحب شارق پر کیا موقوف ہے، اکثر صاحبوں کا یہی شعار ہے۔ دوسروں کا کلام باہر جا کے اپنے نام سے پڑھتے ہیں۔ چند ہی روز کا ذکر ہے ایک صاحب میرے ایک دوست کی غزلوں کے مسودے چرا کے لے گئے، حیدرآباد دکن میں سناتے پھرے۔ بڑے بڑے لوگوں سے داد لی، مگر سمجھنے والے سمجھ گئے۔ لکھنؤ سے خطوط آئے۔ اصل مصنف سے تذکرہ ہوا۔ وہ ہنس کے چپ ہو رہے۔ اکثر صاحبوں نے لکھنؤ کو ایسا بدنام کیا ہے کہ اب لفظ لکھنوی اپنے نام یا تخلص کے ساتھ لکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ایسے ایسے بزرگ لکھنوی لکھتے ہیں جن کی ہفتاد پشت دیہات میں گزر گئی، خود لکھنؤ میں چند روز طالب علمی یا اور کسی سلسلے سے آ کر رہے، چلیے اچھے خاصے لکھنوی بن گئے۔ اگرچہ یہ کچھ ایسی فخر کی بات نہیں مگر جھوٹ سے کیا فائدہ۔

امراؤ: جی ہاں، اکثر صاحب اسی طرح لکھنؤ فروشی کر کے اپنا بھلا کرتے ہیں۔ کانپور میں میرا بھی ٹھیک یہی حال تھا۔ اس زمانے میں ریل تو تھی نہیں اور نہ لکھنؤ سے کوئی باہر جاتا تھا، بلکہ ہر شہر کے کاملین تلاشِ معیشت میں یہیں آتے تھے، اپنے کمال کی حسبِ حیثیت داد پاتے تھے۔ دہلی اجڑ کے لکھنؤ آباد ہوا تھا۔

رسوا: فی زمانہ یہی حال دکن کا بھی ہے۔ لکھنؤ اجڑ کے دکن آباد ہوا ہے۔ میں تو گیا نہیں، مگر سنا ہے کہ محلے کے محلے لکھنؤ والوں سے آباد ہیں۔

امراؤ: جو صاحب لکھنوی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان سے کہیے پہلے اپنی زبان کی موچ نکالیں۔

رسوا: کیا خوب بات کہی ہے! واقعی روزمرہ تو کسی قدر آ بھی جاتا ہے، مگر لہجہ نہیں آتا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。