Urdu in Translation
搜索
书签

第 8 章,共 20 章

Le maulvi dans le margousier ; la disparition de Khurshid

The Maulvi in the Neem Tree; Khurshid Vanishes

۷: نیم پر مولوی صاحب اور خورشید کی گمشدگی

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

文字
字号

کچھ ان کو امتحانِ وفا سے غرض نہ تھیاک زار و ناتواں کے ستانے سے کام تھا

امراؤ: مرزا رسوا صاحب! آپ کو کسی سے کبھی عشق بھی ہوا ہے؟

رسوا: جی نہیں، خدا نہ کرے! آپ کو تو سینکڑوں سے عشق ہوا ہوگا، آپ اپنا حال کہیے۔ ایسی ہی باتیں سننے کے تو ہم مشتاق ہیں، مگر آپ کہتی نہیں۔

امراؤ: یوں تو میرا رنڈی کا پیشہ ہے اور یہ ہم لوگوں کا چلتا ہوا فقرہ ہے۔ جب کسی کو دام میں لایا چاہتے ہیں اس پر مرنے لگتے ہیں۔ ہم سے زیادہ کسی کو مرنا نہیں آتا۔ ٹھنڈی سانسیں بھرنی، بات بات پر رو دینا، دو دو دن کھانا نہ کھانا، کنوئیں میں پیر لٹکا کے بیٹھ جانا، سنکھیا کھا لینا، یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔ کیسا ہی سخت دل کا آدمی کیوں نہ ہو، ہمارے فریب میں آ ہی جاتا ہے۔ مگر آپ سے سچ کہتی ہوں کہ نہ مجھ سے کسی کو عشق ہوا نہ مجھ کو کسی سے۔ البتہ بسم اللہ جان کو عشق بازی کا بڑا ملکہ تھا۔ انسان تو انسان فرشتہ ان کے جال سے نہیں نکل سکتا تھا۔ ہزاروں ان کے عاشق تھے اور وہ ہزاروں پہ عاشق تھیں، سچے عاشقوں میں ایک مولوی صاحب قبلہ کا چہرہ بھی تھا۔ ایسے ویسے مولوی نہ تھے، عربی کی اونچی اونچی کتابوں کا درس دیتے تھے۔ دور دور سے لوگ ان سے پڑھنے آتے تھے۔ معقولات میں ان کا مثل و نظیر نہ تھا۔ جس زمانے کا میں ذکر کرتی ہوں، سنِ شریف ستر سے کچھ کم ہی ہوگا۔ نورانی چہرہ، سفید داڑھی، سر منڈا ہوا، اس پر عمامہ، عبائے شریف، عصائے مبارک۔ ان کی صورت دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ ایک چھٹی ہوئی شوخ نوجوان رنڈی پر عاشق ہیں اور اس طرح عاشق ہیں۔ ایک دن کا واقعہ عرض کرتی ہوں، اس میں کسی طرح کا مبالغہ نہ سمجھیے، بالکل صحیح صحیح ہے۔ آپ کے دوست ...... میر صاحب قبلہ مرحوم، جن کو دلبر جان سے تعلق تھا، خود شاعر تھے اور عمدہ اشعار پر دم دیتے تھے۔ اسی سلسلے میں حسن پرستی کا بھی شوق تھا، مگر نہایت ہی معقولیت کے ساتھ۔ شہر کی وضع دار رنڈیوں میں کون ایسی تھی جہاں وہ نہ جاتے ہوں۔

رسوا: جی ہاں، کہیے میں خوب جانتا ہوں۔ خدا ان کے درجات عالی کرے۔

امراؤ: وہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ شاید آپ کو یاد ہو، بسم اللہ جان خانم سے لڑ کے کچھ دنوں کے لیے اس مکان میں جا رہی تھیں جو بزازے کے پچھواڑے تھا۔

رسوا: میں اس مکان پر کبھی نہیں گیا۔

امراؤ: خیر، مگر بسم اللہ کے دیکھنے کے لیے اور اس غرض سے بھی کہ ماں بیٹیوں میں ملاپ کرا دوں، میں اکثر جایا کرتی تھی۔ ایک دن قریب شام صحن میں تختوں کے چوکے پر گاؤ تکیے سے لگی بیٹھی ہیں۔ میر صاحب مرحوم ان کے قریب تشریف رکھتے ہیں۔ مولوی صاحب قبلہ سامنے دور مہذب بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کی بے بسی کی صورت مجھے کبھی نہ بھولے گی۔ زیتون کی تسبیح پر چپکے چپکے (شاید) یا حفیظ یا حفیظ پڑھ رہے ہیں۔ میں جو گئی تو بسم اللہ نے ہاتھ پکڑ کر مجھے برابر بٹھا لیا۔ میں میر صاحب اور مولوی صاحب کو تسلیم کر کے بیٹھ گئی۔ بسم اللہ نے چپکے سے میرے کان میں کہا "تماشا دیکھو گی؟"

میں: (حیران ہو کر) کیسا تماشا؟

بسم اللہ: دیکھو!

یہ کہہ کر مولوی صاحب کی طرف متوجہ ہوئیں۔ مکان کے صحن میں ایک بہت پرانا نیم کا درخت تھا۔ مولوی صاحب کو حکم ہوا "اس درخت پر چڑھ جاؤ"۔ مولوی صاحب کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور وہ تھر تھر کانپنے لگے۔ میں زمین میں گڑی جاتی تھی۔ میر صاحب منہ پھیر کے بیٹھ گئے۔ مولوی صاحب بے چارے کبھی آسمان کو دیکھتے تھے، کبھی بسم اللہ کی صورت کو۔ وہاں ایک حکم کر کے دوسرا حکم پہنچا، اور فوراً تیسرا تادری حکم "چڑھ جاؤ، کہتی ہوں"۔

اب میں نے دیکھا کہ مولوی صاحب بسم اللہ کہہ کے اٹھے، عبائے شریف کو تختوں کے چوکے پر چھوڑا، نیم کی جڑ کے پاس کھڑے ہوئے۔ پھر بسم اللہ کی طرف دیکھا۔ اس نے ایک ذرا چیں بہ جبیں ہو کے کہا "ہوں"!

مولوی صاحب پائینچے چڑھا کے درخت پر چڑھنے لگے۔ تھوڑی دور جا کر بسم اللہ کی طرف دیکھا۔ اس دیکھنے کا شاید یہ مطلب تھا کہ بس یا اور۔

بسم اللہ: اور

مولوی صاحب اور پر چڑھے، پھر حکم کا انتظار کیا۔ "اور"۔ اسی طرح درخت کی پھننگ کے پاس پہنچ گئے۔ اب اگر اور اوپر جاتے تو شاخیں اس قدر پتلی تھیں کہ ضرور ہی گر پڑتے اور جان بحق تسلیم ہو جاتے۔ بسم اللہ کی زبان سے "اور" نکلنے ہی کو تھا کہ میں قدموں میں گر پڑی، میر صاحب نے نہایت منت کے ساتھ سفارش کی۔ بارے حکم ہوا "اتر جاؤ"۔ مولوی صاحب چڑھنے کو چڑھ گئے تھے مگر اترنے میں بڑی دقت ہوئی۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب گرے اور اب گرے، مگر بخیر و عافیت اتر آئے۔ بے چارے پسینہ پسینہ ہو گئے، دم پھول گیا۔ قریب تھا کہ گر پڑیں مگر اپنے کو سنبھال کے، نعلین پہن کے، تخت کے قریب آئے، عبائے مبارک زیبِ دوش کیا، چپکے بیٹھ گئے، تسبیح پڑھنے لگے۔ بیٹھ تو گئے مگر کسی پہلو قرار نہ تھا۔ چیونٹے ازارِ شریف میں گھس گئے تھے، اس سے بہت پریشان تھے۔

رسوا: بھئی واللہ! بسم اللہ بھی عجب دل لگی باز رنڈی تھی۔

امراؤ: دل لگی کا ذکر کیا، وہ بے درد چپکی بیٹھی تھی، تبسم کا اثر بھی چہرے پر نہ تھا۔ میں اور میر صاحب دونوں دم بخود بیٹھے تھے۔ ایک عجیب عالمِ عبرت طاری تھا۔
رہے گا کیوں کوئی طرزِ ستم باقی زمانے میں
مزا آتا ہے اس کافر کو الفت آزمانے میں

رسوا: یہ جملہ عمر بھر ہنسنے کے لیے کافی ہے، تصور شرط ہے۔ تم نے تو بیان کیا اور میری آنکھوں کے سامنے بسم اللہ، مولوی صاحب اور ان کی مقدس صورت، میر صاحب، تم، صحن، نیم کا درخت، ان سب کی تصویر کھنچ گئی۔ یہ تو کچھ ایسا واقعہ ہے کہ دفعتاً ہنسی بھی نہیں آتی۔ مولوی صاحب کی حماقت پر رونا آتا ہے۔ بے شک بسم اللہ قیامت کی رنڈی تھی۔ ستر برس کا بڈھا اور اس پر یہ حکم "درخت پر چڑھ جاؤ" اور وہ بھی چڑھ گئے۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ بڑا ادقیق مسئلہ ہے۔

امراؤ: واقعی آپ نہیں سمجھ سکتے۔ اس میں قیامت کی باریکی ہے۔ آخر بیان ہی کرنا پڑا۔

رسوا: للہ بیان کیجیے۔ کیا ابھی کچھ اور فضیحت باقی ہے؟

امراؤ: ابھی بہت سی فضیحتیں باقی ہیں۔ لے سنیے۔

مولوی صاحب کے جانے کے بعد میں نے بسم اللہ سے پوچھا تھا۔

میں: بسم اللہ! یہ تجھ کو کیا ہوا تھا؟

بسم اللہ: کیا؟

میں: ستر برس کا بڈھا، اور جو درخت پر سے گر پڑتا تو مفت خون ہوتا!

بسم اللہ: ہماری بلا سے خون ہوتا۔ میں تو اس موئے بوبک سے جلی ہوئی تھی۔ کل میری دھنو کو اس زور سے پٹخا کہ ہڈی پسلی ٹوٹ گئی ہوتی۔

بات یہ تھی کہ بسم اللہ جان نے ایک بندریا پالی تھی۔ اس کا بڑا گہرا سہاگ تھا۔ ذرا اس کے ٹھاٹھ سن لیجیے۔ اطلس کی گھنگریا، کامدانی کی کرتی، جالی کی اوڑھنی، چاندی کی چوڑیاں، طوق، گھونگھرو، سونے کی بالیاں، جلیبیاں امرتیاں کھانے کو۔ جب مول لی تھی تو موئی ذرا سی تھی، دو تین برس میں کھا کھا کے خوب موٹی ہوئی تھی۔ جو لوگ جانتے تھے وہ تو خیر، اجنبی آدمی پر دفعتاً جا پڑے تو گھگھی بندھ جائے۔ زور بھی اتنا تھا کہ اچھے مرد کا ہاتھ پکڑ لے تو چھڑائے نہ چھوٹے۔

جس دن مولوی صاحب نیم پر چڑھائے گئے ہیں، اس سے ایک دن پہلے کا ذکر ہے کہ آپ تشریف لائے۔ تختوں کے چوکے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بسم اللہ جان کو مسخرہ پن سوجھا، دھنو کو اشارہ کیا۔ وہ پشت سے چپکے چپکے آئی اور اچک کے مولوی صاحب کے کندھے پر جا بیٹھی۔ مولوی صاحب نے جو مڑ کے دیکھا بے چارے گھبرا گئے، زور سے جھٹک دیا۔ یہ تخت کے نیچے گر پڑی۔ یا میں تو جانتی ہوں خود چلی گئی ہوگی۔ مولوی صاحب پر کھوکھیانے لگی۔ مولوی صاحب نے لاٹھی دکھائی، وہ ڈر کے مارے بسم اللہ کی گود میں جا بیٹھی۔ بسم اللہ نے اسے تو چمکار دوپٹے کا آنچل اوڑھا دیا اور مولوی صاحب کو خوب دل کھول کے کوسا، گالیاں دیں۔ اس پر بھی صبر نہ آیا، دوسرے دن یہ سزا تجویز کی۔

رسوا: سزا مناسب تھی۔

امراؤ: مناسب میں تو کوئی شک نہیں، مولوی صاحب کو کھٹکے کا لنگور بنا دیا۔

رسوا: واقعی مولوی صاحب لائقِ تعزیر تو تھے۔ قیس نے تو سگِ لیلیٰ کو پیار کر کے گود میں اٹھا لیا تھا اور مولوی صاحب نے بسم اللہ جان کی چہیتی بندریا کو اول تو جھٹک دیا، پھر یہ بے ادبی کہ اسے لاٹھی دکھائی، عشق کی شان سے بہت بعید تھا۔

ایک دن رات کے آٹھ بجے بسم اللہ جان کے کمرے میں ہوں۔ بسم اللہ گا رہی ہیں، میں طنبورہ چھیڑ رہی ہوں، خلیفہ جی طبلہ بجا رہے ہیں۔ اتنے میں مولوی صاحب تشریف لائے۔

بسم اللہ: (دیکھتے ہی) یہ آٹھ دن سے آپ کہاں تھے؟

مولوی صاحب: کیا کہوں، مجھے تو اب کی ایسی تپ شدید لاحق ہوئی تھی کہ بچنا محال تھا، مگر تمہارا دیدار دیکھنا تھا، اس لیے جانبر ہو گیا۔

بسم اللہ: تو یہ کہیے وصال ہو گیا تھا۔

اس فقرے نے مجھ کو اور خلیفہ جی کو پھڑکا دیا۔

مولوی صاحب: جی ہاں، آثار تو کچھ ایسے ہی تھے۔

بسم اللہ: واللہ اچھا ہوتا!

مولوی صاحب: میرے مرنے پر آپ کو کیا نفع ہوتا ہے؟

بسم اللہ: جی آپ کے عرس میں ہر سال جایا کرتے۔ گاتے، ناچتے، لوگوں کو رجاتے، آپ کا نام روشن کرتے۔

اسی طرح چند باتوں کے بعد پھر گانا شروع ہوا۔ بسم اللہ نے حسبِ موقع یہ غزل شروع کی۔
مرتے مرتے نہ قضا یاد آئی
اسی کافر کی ادا یاد آئی
مولوی صاحب پر وجد کی حالت طاری تھی۔ آنسوؤں کا تار بندھا ہوا تھا۔ قطرے ریشِ مقدس سے ٹپک رہے تھے۔

اتنے میں سامنے والا دروازہ کھلا اور ایک صاحب جوان، گندمی رنگ، گول چہرہ، سیاہ داڑھی، میانہ قد، کسرتی بدن، جامدانی کا انگرکھا پھنسا پھنسا پہنے ہوئے، کھلے پائینچوں کا پاجامہ، مخملی جوتا نہایت عمدہ، جالی پر کی چکن کا رومال اوڑھے ہوئے داخل ہوئے۔ بسم اللہ نے دیکھتے ہی کہا "واہ صاحب! اس دن کے گئے آج آپ آئے ہیں۔ لے بس اب ٹہلیے۔ میں ایسی آشنائی نہیں رکھتی۔ اور وہ لال طاقی گرنٹ کے طاقتے کہاں ہیں؟ اسی سے تو آپ نے منہ چھپایا"۔

وہ صاحب: (لجاجت کے لہجے میں) نہیں سرکار! یہ بات نہیں، اس دن سے مجھے فرصت نہیں ملی۔ والدہ کی طبیعت علیل تھی، میں ان کی تیمارداری میں تھا۔

بسم اللہ: جی ہاں، آپ ایسے ہی سعادت مند ہیں، مجھے یقین ہے۔ یہ نہیں کہتے کہ آج کل ہمن کی چھوکری پر آپ فریفتہ ہیں اور رات کو وہیں کی دربارداری ہوتی ہے۔ مجھے سب خبریں ملی ہیں، اور ہم سے فقرے ہوتے ہیں کہ والدہ کی طبیعت علیل تھی۔

اس آواز کو سن کے ایک مرتبہ مولوی صاحب نے پیچھے مڑ کے دیکھا۔ ان کی اور ان کی آنکھیں چار ہوئیں۔ مولوی صاحب نے فوراً منہ پھیر لیا۔ دوسرے صاحب کو جو دیکھتی ہوں تو چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ ہاتھ پاؤں تھر تھر کانپنے لگے۔ جلدی سے دروازہ کھول، کمرے کے نیچے تھے۔ بسم اللہ پکارتی کی پکارتی رہی، انہوں نے جواب نہ دیا۔

بسم اللہ بھی کچھ سمجھ کے پہلے تو چپ سی ہو گئی، مگر پھر ایک مرتبہ تیوری چڑھا کے آپ ہی آپ کہنے لگی "پھر باشد!" اتنا کہہ کے گانے میں مصروف ہو گئی۔ اس دن کے بعد میں نے ان کو کبھی بسم اللہ کے پاس آتے نہیں دیکھا، مولوی صاحب برابر آیا کیے۔

رسوا: جی ہاں! اگلے زمانے کے لوگ ایسے ہی وضع دار ہوتے تھے۔

گانا ہو رہا تھا کہ گوہر مرزا شاید یہ سن کے کہ میں بھی یہاں ہوں، یہیں چلے آئے۔ ان سے بسم اللہ سے ہنسی ہوتی تھی۔ گالی گلوچ سے لے کر کشتم کشتا تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔ میرا مزاج ایسا چھچھورا نہ تھا کہ برا مانتی۔

گوہر مرزا آتے ہی میرے اور بسم اللہ کے بیچ میں بیٹھ گیا اور جھپ سے بسم اللہ کے گلے میں ہاتھ ڈال دیے۔

گوہر مرزا: آج تو خوب گا رہی ہو۔ جی چاہتا ہے ......

اب جو دیکھتی ہوں تو مولوی صاحب کے ماتھے کی جھریوں میں حرکت ہونے لگی۔ ایک ہی مرتبہ گوہر مرزا کی نگاہ مولوی صاحب پر جا پڑی۔ پہلے تو بغور صورت دیکھی، پھر اپنا کان زور سے پکڑا، جھجک کے پیچھے ہٹا۔ (یہ معلوم ہوتا تھا گویا آپ ڈر گئے) بسم اللہ اس حرکت پر بے تحاشا ہنس پڑی، خلیفہ جی مسکرانے لگے، میں نے منہ پر رومال رکھ لیا، مگر مولوی صاحب بہت ہی چیں بہ چیں ہوئے۔ بلکہ قریب تھا کہ اٹھ جائیں کہ بسم اللہ نے کہا "بیٹھو"۔ بے چارے پھر بیٹھ گئے۔ بسم اللہ بھی کیا ہی شریر تھی۔ مولوی صاحب پر یہ ظاہر کرنا منظور تھا کہ گوہر مرزا میرے آشنا ہیں، تاکہ مولوی صاحب دیکھ کے جلیں۔ گوہر مرزا نے ہنسنا شروع کیا۔ بڑی دیر تک مولوی صاحب کو اس دھوکے میں رکھا، اور ان کا وہ حال جیسے کوئی انگاروں پر لوٹ رہا ہو، بھلسے جاتے ہیں۔ مارے ہنسی کے میرے پیٹ میں بل پڑے جاتے ہیں۔ آخر مولوی صاحب کی بے بسی پر مجھ کو رحم آیا، میں نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اس پر بسم اللہ مجھ سے ناراض بھی ہو گئیں۔ میں نے گوہر مرزا کی طرف متوجہ ہو کے کہا "لے اب من چلا پن کر چکے، چلو"۔

اب مولوی صاحب کو معلوم ہو گیا کہ گوہر مرزا کا مجھ سے رسم ہے، بسم اللہ کا کوئی واسطہ نہیں۔ بہت ہی خوش ہوئے، باچھیں کھل گئیں۔

رسوا: مولوی صاحب کو تو پاک محبت تھی نا؟

امراؤ: پاک محبت تھی۔

رسوا: پھر ان کو جلنا نہ چاہیے تھا۔

امراؤ: واہ! کیا پاک محبت میں رشک نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے۔

رسوا: تو پاک محبت نہ ہوگی۔

امراؤ: اب یہ ان کا ایمان جانے، میں تو یہی سمجھتی تھی۔

خانم کی نوچیوں میں یوں تو میرے سوا ہر ایک اچھی تھی، مگر خورشید کا جواب نہ تھا۔ پری کی صورت تھی، رنگ میدا شہاب، ناک نقشہ گویا صانعِ قدرت نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا۔ آنکھوں میں یہ معلوم ہوتا تھا کہ موتی کوٹ کے بھر دیے ہیں۔ ہاتھ پاؤں سڈول، نور کے سانچے میں ڈھلے ہوئے۔ بھرے بھرے بازو، گول کلائیاں، جامہ زیبی وہ قیامت کی کہ جو پہنا معلوم ہوا کہ یہ اسی کے لیے مناسب تھا۔ اداؤں میں وہ دل فریبی، وہ بھولا پن کہ جو ایک نظر دیکھے، ہزار جان سے فریفتہ ہو جائے۔ جس محفل میں جا کے بیٹھ گئی، معلوم ہوا کہ ایک شمع روشن ہو گئی۔ بیسیوں رنڈیاں بیٹھی ہوں، نظر اسی پر پڑتی ہے۔ یہ سب کچھ تھا، مگر تقدیر کی اچھی نہ تھی۔ اور تقدیر کو بھی کیوں الزام دیجیے، خود اپنے ہاتھ عمر بھر خراب رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ رنڈی پنے کے لائق نہ تھی۔ بیسواڑے کے ایک زمیندار کی لڑکی تھی۔ صورت سے شرافت ظاہر تھی۔ حسن خداداد تھا، مگر اس حسن و جمال پر خبط یہ تھا کہ کوئی مجھ پر عاشق ہو۔ یوں تو وہ خود ہی پیار کرنے کے لائق تھی۔ کون ایسا ہوگا جو اس پر فریفتہ نہ ہو جاتا ہو۔ اول ہی اول پیارے صاحب کو محبت تھی۔ ہزار ہا روپے کا سلوک کیا۔ واقعی جان دیتے تھے۔ خورشید نے بھی انہیں اچھی طرح کسا۔ جب اطمینان ہو گیا کہ سچا عاشق ہے، خود جان دینے لگیں۔ دن دن بھر کھانا نہیں کھاتیں۔ اگر ان کو کسی دن اتفاق سے دیر ہو گئی، بیٹھی زار و قطار رو رہی ہیں۔ ہم سب نے صلاح دی "دیکھو خورشید! ایسا نہ کرو۔ مردوے بے مروت ہوتے ہیں۔ تمہارے ان کے صرف آشنائی ہے، آشنائی کی بنیاد کیا۔ نکاح نہیں ہوا، بیاہ نہیں ہوا۔ اگر ایسا چاہو گی تو اپنا برا چاہو گی، پچھتاؤ گی"۔ آخر ہمارا ہی کہا ہوا۔ پیارے صاحب نے جب دیکھا کہ رنڈی پیار کرتی ہے، لگے غمزے کرنے۔ یا تو آٹھوں پہر بیٹھے رہتے تھے یا اب ہیں کہ دو دو پہروں نہیں آتے۔ خورشید جان دیے دیتی ہے۔ روتی ہے، پیٹتی ہے، کھانا نہیں کھاتی، عجیب حال ہے، خانم کو صورت سے نفرت ہو گئی، یہاں تک کہ آنا جانا، کھانا پینا، آدمیوں کی تنخواہ سب موقوف۔

میں نہیں سمجھ سکتی کہ اس حسن کے ساتھ عشق اس کے دل میں کس نے بھر دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کسی مرد آدمی کی جورو ہوتی تو میاں بیوی میں خوب نباہ ہوتا۔ عمر بھر مرد پاؤں دھو دھو کے پیتا، بشرطیکہ قدردان ہوتا۔ بسم اللہ، خورشید کے تلوؤں کی برابری نہیں کر سکتی تھی۔ اس پر وہ تمکنت، وہ غرور، وہ غمزہ، وہ نکتورا کہ خدا کی پناہ۔ مولوی صاحب کا حال تو آپ سن ہی چکے ہیں۔ اور آشناؤں سے بھی اس کا سلوک کچھ اچھا نہ تھا۔ اصل تو یہ ہے کہ اس کو اپنی ماں کی دولت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ واقعی دولت بھی لازوال تھی۔ اپنے آگے کسی کی ہستی ہی نہ سمجھتی تھی۔ خورشید کی ذات سے خانم کو بڑی امیدیں تھیں۔ واقعی اگر اس میں رنڈی پن ہوتا تو لاکھوں ہی پیدا کرتی۔ اس حسن و خوبی پر آواز بالکل ہی نہ تھی۔ ناچنے میں بھی بالکل پھوہڑ تھیں۔ صرف صورت ہی صورت تھی۔ اول اول مجرے بہت آتے تھے، آخر جب معلوم ہوا کہ گانے ناچنے میں تمیز نہیں، لوگوں نے بلانا چھوڑ دیا۔ جو تھا وہ صورت کا مشتاق ہو کے آتا تھا۔ اچھے اچھے مرتے تھے، مگر جب آ کے دیکھا منہ تھوتھائے بیٹھی ہیں۔ ان پر عشق سوار تھا، ہر ایک سے بے رخی، بے اعتنائی۔ یہ حالت دیکھ کے لوگوں نے بھی آنا چھوڑ دیا۔ اب پیارے صاحب ہی صرف رہ گئے۔ ادھر تماشا دیکھیے کہ پیارے صاحب کے والد پر عتابِ شاہی نازل ہوا۔ گھر کی ضبطی ہو گئی، جاگیر چھین لی گئی، بے چارے محتاج ہو گئے۔ یہ سب کچھ ہوا، مگر خورشید کے عشق میں کمی نہ ہوئی۔ اب یہ ضد ہوئی کہ مجھے گھر میں بٹھا لو۔ پیارے صاحب نے بہ پاسِ خاندان یا یوں کہو کہ باپ کے ڈر سے منظور نہ کیا، خورشید کی آس ٹوٹ گئی۔

خورشید بہت ہی بھگی عورت تھی۔ سینکڑوں روپے پھسلا پھسلا کے لوگ کھا گئے۔ فقیر فقراء سے آپ کو بڑا اعتقاد تھا۔ ایک دن ایک شاہ صاحب تشریف لائے۔ وہ ایک کے دو کرتے تھے۔ خورشید نے اپنے کڑے اور کنگن کی جوڑیاں اتار دیں۔ شاہ صاحب نے ایک کوری ہانڈی منگوائی، اس میں سیاہ تل بھروا دیے، کڑے کنگن ہانڈی میں رکھ کر چپنی ڈھانک دی۔ شال باف کا ایک پارچہ گلے میں باندھ ناڑے سے باندھ دیا۔ شاہ صاحب روانہ ہو گئے۔ چلتے چلتے کہہ گئے "آج نہ کھولنا، کل صبح کو کھولنا، مرشد کے حکم سے ایک کے دو ہو جائیں گے"۔ صبح کو ہانڈی کھولی گئی، کالے تلوں کے سوا کچھ نہ ملا۔

ایک جوگی نے کالے ناگ کا پھن منہ سے نکال کے دکھایا کہ یہ تجھے پرسوں آ کے ڈس جائے گا۔ خورشید نے کانوں سے پتے بالیاں اتار کے حوالے کیں۔ خورشید کو کبھی غصہ آتا ہی نہ تھا۔ ایسی نیک دل اور نیک مزاج عورتیں تو بہو بیٹیوں میں بھی کم ہوتی ہیں، رنڈیوں کا تو ذکر کیا۔ مگر ہاں ایک دن غصہ آیا، جس دن پیارے صاحب مانجھے کا جوڑا پہن کے آئے۔ اول تو چپکی بیٹھی رہی۔ تھوڑی دیر کے بعد گالوں پر سرخی نمودار ہوئی، رفتہ رفتہ سرخ بھبھوکا ہو گئے۔ اس کے بعد اٹھی، مانجھے کے جوڑے کو پرزے پرزے کر ڈالا۔ اب رقت شروع ہوئی۔ دو دن تک رویا کی۔ تمام دنیا نے سمجھایا، کچھ نہ مانا۔ آخر بخار آنے لگا۔ دو مہینے بیمار رہی۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔ حکیموں نے دق تجویز کیا، لیکن خدا کے فضل سے دو مہینے کے بعد مزاج خود بہ خود رو بہ اصلاح ہو گیا۔ اب پیارے صاحب سے بظاہر چھتم چھٹا ہو گئی۔ اس کے بعد اور لوگوں سے ملاقات ہوئی، مگر کسی سے دل نہ لگا، اور نہ کسی کا دل ان سے، اس لیے کہ بے توجہی اور بے اعتنائی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔ بظاہر ملتی تھیں مگر دل نہ ملتا تھا۔

ساون کا مہینہ ہے، سہ پہر کا وقت ہے، پانی برس کے کھل گیا ہے۔ چوک کے کوٹھوں اور بلند دیواروں پر جا بجا دھوپ ہے۔ ابر کے ٹکڑے آسمان پر ادھر ادھر آتے جاتے نظر آتے ہیں۔ پچھم کی طرف رنگ رنگ کی شفق پھولی ہوئی ہے۔ چوک میں سفید پوشوں کا مجمع زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ آج زیادہ تر مجمع کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جمعے کا دن ہے، لوگ عیش باغ کے میلے کو جلد جلد قدم اٹھائے چلے جاتے ہیں۔ خورشید، امیر جان، بسم اللہ اور میں میلے جانے کے لیے بن ٹھن رہی ہیں۔ دھانی دوپٹے جو ابھی رنگریز رنگ کے دے گیا ہے، چنے جاتے ہیں، بالوں میں کنگھیاں ہو رہی ہیں، چوٹیاں گوندھی جاتی ہیں، بھاری زیور نکالے جاتے ہیں۔ خانم صاحب سامنے چوکے پر گاؤ تکیے سے لگی بیٹھی ہیں۔ بوا حسینی بھی پیچوان لگا کے پیچھے ہٹی ہیں۔ خانم صاحب کے سامنے میر صاحب بیٹھے ہیں۔ میلے جانے پر اصرار کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں "آج میری طبیعت سست ہے، میں نہیں جانے کی"۔ ہم لوگ دعائیں مانگ رہے ہیں خدا کرے نہ جائیں تو میلے کی بہار ہے۔

خورشید پر اس دن سب غضب کا جوبن ہے۔ گوری رنگت ململ کے دھانی دوپٹے سے پھوٹی نکلتی ہے۔ اودی گرنٹ کا پاجامہ بڑے بڑے پائینچوں کا سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ پھنسی پھنسی کرتی قیامت ڈھا رہی ہے۔ ہاتھ گلے میں ہلکا ہلکا زیور ہے۔ ناک میں ہیرے کی کیل، کانوں میں سونے کی انتیاں، ہاتھوں میں کڑے، گلے میں موتیوں کا کنٹھا۔ سامنے کمرے میں قدِ آدم آئینہ لگا ہے، اپنی صورت دیکھ رہی ہیں۔ کیا کہوں کیا صورت تھی! اگر میری صورت ویسی ہوتی تو اپنے عکس کی آپ ہی بلائیں لے لیتی۔ مگر ان کو یہ غم ہے کہ ہائے اس صورت کو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ پیارے صاحب سے بگاڑ ہی ہو چکا ہے۔ چہرہ اداس اداس ہے۔ ہائے وہ اداسی بھی سب غضب کر رہی ہے۔ اچھی صورت والوں کا سب کچھ اچھا معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت اس پری پیکر کی صورت دیکھنے سے دل پسا جاتا ہے۔ اور تو کوئی مثال اپنے دل کی حالت کی سمجھ میں نہیں آتی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی اچھے شاعر کا کوئی شعر درد آمیز سنا ہے اور دل اس کے مزے لے رہا ہے۔

بسم اللہ کی صورت ایسی بری نہ تھی۔ کھلتا ہوا سانولا رنگ، کتابی چہرہ، ستواں ناک، بڑی بڑی آنکھیں، سیاہ پتلی، چھریرا بدن، بوٹا سا قد، کارچوبی تولواں جوڑا، کاہی کریب کا دوپٹا بنت ٹکی ہوئی، زرد گرنٹ کا پاجامہ، بیش قیمت زیور سر سے پاؤں تک، گہنے میں لدی ہوئی، اس پر طرہ پھولوں کا گہنا۔ عین چوتھی کی دلہن معلوم ہوتی تھی۔ پھر اس بات بات میں شوخی و شرارت۔ میلے میں پہنچ کر کسی کا منہ چڑھا دیا، کسی سے آنکھ لڑائی۔ جب وہ دیکھنے لگا تو منہ پھیر لیا۔ ہاں یہ کہنا بھول گئی کہ ہم لوگ بناؤ سنگھار کر کے میانوں میں سوار ہوئے، میلے پہنچے۔

میلے میں وہ بھیڑیں تھیں کہ اگر تھالی پھینکو تو سر ہی سر جائے۔ جا بجا کھلونے والوں، مٹھائی والوں کی دکانیں، خوانچے والے، میوہ فروش، ہار والے، تنبولی، ساقنیں، غرض کہ جو کچھ میلوں میں ہوتا ہے، سب کچھ تھا۔ مجھے اور تو کسی چیز سے کچھ کام نہیں، لوگوں کے چہرے دیکھنے کا ہمیشہ شوق ہے، خصوصاً میلے تماشوں میں۔ خوش، ناخوش، مفلس، تونگر، بے وقوف، عقل مند، عالم، جاہل، شریف، رذیل، سخی، بخیل، یہ سب حال چہرے سے کھل جاتا ہے۔ ایک صاحب ہیں کہ وہ اپنے تن زیب کے انگرکھے اور اودی صدری، نکہ دار ٹوپی، چست گھٹنے اور مخملی چڑھویں جوتے پر اتراتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کوئی صاحب ہیں صندلی رنگا ہوا دوپٹا سر سے آڑا باندھے ہوئے، رنڈیوں کو گھورتے پھرتے ہیں۔ ایک صاحب آئے تو ہیں میلہ دیکھنے، مگر بہت ہی مکدر، چیں بہ جبیں، کچھ چپکے چپکے بڑبڑاتے جاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بیوی سے لڑ کے آئے ہیں۔ جن باتوں کے جواب بروقت نہ سوجھے تھے انہیں اب یاد کر رہے ہیں۔ کوئی صاحب اپنے چھوٹے سے لڑکے کی انگلی پکڑے اس سے باتیں کرتے چلے آتے ہیں۔ ہر بات میں اماں کا نام آتا ہے۔ "اماں کھانا پکاتی ہوں گی، اماں کا جی ماندہ ہے، اماں سو رہی ہوں گی، اماں جاگتی ہوں گی۔ بہت شوخی نہ کیا کرو، نہیں تو اماں حکیم کے ہاں چلی جاویں گی"۔ ایک صاحب سات آٹھ برس کی لڑکی کو سرخ کپڑے پہنا کے لائے ہیں، کندھے پر چڑھائے ہوئے ہیں۔ ناک میں ننھی سی نتھنی ہے۔ اونچی چوٹی گندھی ہوئی، لال شال باف کا موباف پڑا ہے۔ ہاتھوں میں چاندی کی چوڑیاں ہیں۔ معصوم کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑے ہوئے ہیں۔ کلائیاں دکھی جاتی ہیں۔ کوئی چوڑیاں نہ اتار لے۔ کہیے پھر پہنا کے لانا ہی کیا ضرور تھا۔

لیجیے دوسرے صاحب۔ ایک اور ان کے یارِ غار بھی ساتھ ہیں۔ فرمائشی گالیاں چل رہی ہیں "اماں پان تو کھاؤ"۔ کھٹ سے پیسہ تنبولی کی دکان پر پھینکا۔ معلوم ہوا کہ آپ بڑے تونگر ہیں۔ پیسے دو پیسے کی آپ کے آگے کیا اصل ہے۔ فوراً ہی حقے والے کو آواز بھی دے دی۔

"بھئی ساقی ادھر آنا، حقہ سلگا ہوا ہے؟" ایک اور یاران کے آ موجود ہوئے۔ معمولی گالی گلوچ کے بعد ملاقات، سلام، بندگی، مزاج پرسی بے تکلف دوستوں میں ہوا کرتی ہے۔ "ابے پان تو کھلوا"۔ لطف یہ کہ آپ مسلمان، یار ہندو۔ جب تنبولی نے پان دیے جھٹ سے بڑھ کے لے آئے۔ "ارے یار بھول گئے"، اب یہ کھسیانے ہوئے۔ ٹینٹ سے ایک پیسہ نکالا۔ "لو بھئی ہمیں بھی دو پان دینا، الائچی بھی چھوڑ دینا، چونا زیادہ نہ ہو"۔ دوست سے "اچھا تو چلم تو پلواؤ گے؟" چلم حقے سے اتارتے ہی تھے کہ ساقی نے گھور کے دیکھا۔ فوراً ہاتھ سے حقہ اور جیب سے پیسہ نکال کے دینا پڑا۔

گوہر مرزا نے موتی جھیل کے کنارے فرش بچھوا دیا تھا، وہیں جا کے ٹھہرے۔ ادھر ادھر درختوں میں پھرتے رہے۔ سرِ شام سے دو گھڑی رات گئے تک میلے کی سیر کی، پھر گھر چلنے کی ٹھہری۔ اپنے اپنے میانوں میں آ کر سوار ہوئے۔ اب جو دیکھتے ہیں تو خورشید جان کا میانہ خالی ہے، ان کا کوئی پتہ نہیں۔ پہلے تو شبہ ہوا کہ یہیں کہیں درختوں میں ہوں گی۔ دور دور تک تلاش کے لیے آدمی دوڑائے۔ گوہر مرزا نے جا کے سارا میلہ چھان مارا، کہیں پتا نہ ملا۔ آخر مایوس ہو کے گھر واپس آئے۔ خانم نے سنتے ہی سر پیٹ لیا۔ تمام گھر کو صدمہ ہوا۔ میں خود رات بھر رویا کی۔ پیارے صاحب کے مکان پر آدمی گیا۔ بے چارے اسی وقت دوڑے ہوئے آئے۔ ہزاروں قسمیں کھائیں کہ مجھے بالکل نہیں معلوم۔ میں میلے بھی نہیں گیا۔ بیگم کی طبیعت علیل ہے، جاتا تو کیونکر جاتا۔ پیارے صاحب پر یوں ہی بے جا سا گمان تھا، ان کی قسمیں کھانے کے بعد کسی کو شبہ بھی نہ رہا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ شادی کے بعد بیوی کے ایسے پابند ہو گئے تھے کہ چوک کا آنا جانا انہوں نے بالکل موقوف کر دیا تھا۔ رات کو گھر سے نکلتے ہی نہ تھے۔ خورشید کے گم ہونے کی خبر سن کے کچھ اگلی محبت کے خیال سے، کچھ خانم کی مروت سے نہیں معلوم کس طرح چلے آئے تھے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。