
Chapter 7 of 20
苏尔坦纳瓦卜;钦本纳瓦卜的败落
Nawab Sultan; the Fall of Nawab Chhabban
۶: نواب سلطان اور نواب چھبن کا زوال
آج اس بزم میں وہ جلوہ نما ہوتا ہے
یوں تو بسم اللہ کی مسی میں پہلے پہل ناچی گائی تھی، مگر پہلا مجرا میرا نواب شجاعت علی خاں کے لڑکے کی شادی میں ہوا تھا۔ وہ محفل بھی یادگار تھی۔ نواب کی بارہ دری کس شان سے سجائی گئی تھی۔ بیش قیمت شیشہ آلات کی روشنی سے رات کو دن ہو گیا تھا۔ صاف ستھرا فرش، ایرانی قالین، زربفت کے مسند تکیے، سامنے رنگ رنگ کے مردنگوں کی قطار روشن۔
عطر اور پھولوں کی خوشبو سے تمام بارہ دری بسی ہوئی تھی۔ دھواں دھار حقوں اور گلوریوں کی خوشبو سے دماغ معطر تھے۔ میرا سن کوئی چودہ برس کا ہوگا۔ اس زمانے میں بڑودے سے ایک بائی جی آئی ہوئی تھیں۔ تمام شہر میں ان کے گانے کی دھوم تھی۔ بڑے بڑے گویے کان پکڑتے تھے۔ معلومات ایسی کہ پوتھیاں گویا نوکِ زبان تھیں۔ گلا وہ کہ چار محلے ادھر آواز جائے۔ مگر واہ خانم صاحب! واقعی کیا رنگِ محفل دیکھتی تھیں۔ ان کے بعد مجھ کو کھڑا کر دیا۔ مجھے تو کیا تمیز تھی، مگر سمجھ دار لوگ حیران تھے کہ خانم صاحب کرتی کیا ہیں۔ بھلا بائی جی کے سامنے اس چھوکری کا رنگ کیسے جمے گا۔
پہلے گت شروع ہوئی۔ اس میں محفل میری طرف مخاطب ہوئی۔ میری بھی اٹھتی جوانی تھی۔ صورت اچھی نہ تھی، مگر اس وقت کی پھرتی، چالاکی، الھڑ پن!
کچھ نہ پوچھو شباب کا عالم
کیا کہوں کچھ عجب زمانہ تھا!
گت تھوڑی ہی دیر ناچی ہوں گی کہ خانم نے یہ غزل شروع کرا دی:
آج اس بزم میں وہ جلوہ نما ہوتا ہے
دیکھیے دیکھیے اک آن میں کیا ہوتا ہے
اس غزل کے شروع کرنے کے ساتھ ہی محفل تہ و بالا ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے دوسرا مطلع اک ذرا بتا کے جو گایا، اہلِ محفل جھومنے لگے:
نالہ رکتا ہے تو سرگرمِ جفا ہوتا ہے
درد تھمتا ہے تو بے درد خفا ہوتا ہے
اور اس شعر نے تو قیامت ہی برپا کر دی:
پھر نظر جھینپتی ہے، آنکھ جھکی جاتی ہے
دیکھیے دیکھیے پھر تیر خطا ہوتا ہے
اس شعر پر یہ حال تھا کہ جس سے نظر ملا کے گایا، نظر نہ اٹھا سکا:
بت پرستی میں نہ ہوگا کوئی مجھ سے بدنام
جھینپتا ہوں جو کہیں ذکرِ خدا ہوتا ہے
ذرا اس شعر کو سنیے اور قیاس کیجیے عاشق مزاجوں کا اس پر کیا اثر ہوا ہوگا:
عشق میں حسرتِ دل کا تو نکلنا کیسا
دم نکلنے میں بھی کم بخت مزا ہوتا ہے
پھر اس کے بعد یہ شعر:
حالِ دل ان سے نہ کہنا تھا، ہمیں چوک گئے
اب کوئی بات بنائیں بھی تو کیا ہوتا ہے
تمام محفل وجد کے عالم میں تھی۔ ہر شخص محظوظ تھا۔ ہر لفظ پر واہ، ہر سم پر آہاہاہا۔ ایک ایک شعر آٹھ آٹھ دس دس مرتبہ گوایا گیا، پھر بھی سیری نہیں ہوتی تھی۔ اس غزل پر میرا مجرا موقوف ہوا۔ دوسرے مجرے میں بھی یہی غزل گوائی گئی۔
مرزا رسوا: وہ خیر، محفل کا جو حال ہوا ہو، از برائے خدا اور جس قدر شعر اس غزل کے یاد ہوں سنا دیجیے۔ یہ غزل کس کی ہے؟
امراؤ: اوئی، کیا آپ نہیں جانتے؟
رسوا: میں سمجھا!
امراؤ: اور شعر سنیے:
تا لبِ گور پہنچ جاتے ہیں مرنے والے
وہ بھی اس وقت کہ جب شوق رسا ہوتا ہے
رسوا: سبحان اللہ!
امراؤ: واقعی قلم توڑ دیا ہے!
آہ میں کچھ بھی اثر ہو تو شرر بار کہوں
ورنہ شعلہ بھی حقیقت میں ہوا ہوتا ہے
رسوا: یہ بھی خوب کہا ہے!
امراؤ: اور سنیے:
کس قدر معتقدِ حسنِ مکافات ہوں میں
دل میں خوش ہوتا ہوں جب رنج سوا ہوتا ہے
رسوا: یہ فلسفہ ہے، اسے وہی خوب سمجھتے ہیں۔
امراؤ: اور سنیے:
شوقِ اظہار اگر ہے تو مرے دل کو نہ توڑ
اسی آئینے میں تو جلوہ نما ہوتا ہے
رسوا: یہ تصوف ہے، ہم دنیا کے لوگ ہیں، ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں، مگر "شوقِ اظہار" یہ لفظیں کیونکر مل جایا کرتی ہیں؟
امراؤ: مقطع سنیے:
ہجر میں نالہ و فریاد سے باز آ ......
ایسی باتوں سے وہ بے درد خفا ہوتا ہے
رسوا: مطلع سے مقطع نکال لیا ہے، مقطع کہنے کی فرصت نہ ملی ہوگی۔
امراؤ: فرصت انہیں کب ملتی ہے۔
پہلے مجرے کے دوسرے دن شام کو بوا حسینی میرے کمرے میں آئیں، ایک خدمت گار ان کے ساتھ تھا۔
بوا حسینی: دیکھو امراؤ صاحب! یہ کیا کہتا ہے۔
اتنا کہہ کے بوا حسینی کمرے سے باہر چلی گئیں۔
خدمت گار: (سلام کر کے) مجھے نواب سلطان صاحب نے بھیجا ہے، جو کل شب کو محفل میں زرد مندیل سر پر رکھے دولہا کے داہنی طرف بیٹھے تھے، اور فرمایا ہے کہ میں کسی وقت آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں، بشرطیکہ جس وقت میں آؤں اس وقت کوئی اور نہ ہو۔ اور اس غزل کی نقل مانگی ہے جو آپ نے کل گائی تھی۔
میں: نواب صاحب کو میری تسلیمات کہنا۔ شام کو جب چاہے تشریف لائیے، تخلیہ ہو جائے گا۔ غزل کے لیے کل دن کو کسی وقت آنا، لکھ دوں گی۔
دوسرے دن پہر دن چڑھے خدمت گار آیا۔ میں کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔ غزل کی نقل میں نے کر رکھی تھی، اس کے حوالے کی۔ اس نے پانچ اشرفیاں کمر سے نکال کے مجھے دیں اور کہا کہ نواب صاحب نے کہا ہے کہ آپ کے لائق تو نہیں، مگر خیر پان کھانے کے لیے میری طرف سے قبول کیجیے۔ آج شب کو چراغ جلنے کے بعد میں ضرور آؤں گا۔ خدمت گار سلام کر کے رخصت ہوا۔ اس کے جانے کے بعد پہلے تو مجھے خیال ہوا کہ بوا حسینی کو بلا کے یہ اشرفیاں دے دوں، وہ خانم کے حوالے کریں۔ پھر ایک دفعہ جو اشرفیوں کی طرف دیکھا، چمکتی چمکتی نئے گھن کی اشرفیاں بھلا میرے دل سے کب نکلتی تھیں! اس وقت صندوقچہ وندوقچہ تو میرے پاس نہ تھا، پلنگ کے پائے کے نیچے دبا دیں۔
مرزا رسوا صاحب! میرے نزدیک ہر عورت کی زندگی میں ایک وہ زمانہ آتا ہے جب وہ چاہتی ہے کہ اسے کوئی چاہے۔ یہ نہ سمجھیے گا کہ یہ خواہش چند روزہ ہوتی ہے، بلکہ عنفوانِ شباب سے اس کی ابتدا ہوتی ہے اور سن کے ساتھ ہی اس کا نشو و نما ہوتا رہتا ہے۔ جس قدر سن بڑھتا ہے اسی قدر یہ خواہش بڑھتی رہتی ہے۔
گوہر مرزا بے شک میرا چاہنے والا موجود تھا، مگر اس کی چاہت اور قسم کی تھی۔ اس کی چاہت میں ایک بات کی کمی تھی جسے میرا دل ڈھونڈتا تھا۔ مردانہ ہمت کو اس کی طینت میں لگاؤ نہ تھا۔ ماں کا ڈومنی پنا اس کے خمیر میں شامل تھا۔ وہ جو کچھ پاتا تھا مجھ سے چھین جھپٹ کے لے لیتا تھا۔ خود ایک روپیہ کے سوا، جس کا ذکر کر چکی ہوں، کبھی کچھ نہیں دیا۔ اب میرا دل ایسا عاشق ڈھونڈتا تھا جو میری ناز برداری کرے، روپیہ خرچے، کھلائے پلائے۔ نواب سلطان صاحب (نواب صاحب کا یہی نام آدمی نے بتایا تھا) صورت شکل کے اچھے تھے۔ ان کے چہرے پر اس قسم کا رعب تھا جس پر عورت ہزار دل سے فریفتہ ہو جاتی ہے۔ بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ عورت کو صرف خوشامد اور اظہارِ عشق پسند ہے۔ بے شک پسند ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس میں ذرا بھی کمینہ پن نہ ہو۔ جو لوگ رنڈیوں کا گہنا تاکتے ہوئے آتے ہیں، جن کے ہر کنائے سے یہ مدعا نکلتا ہے کہ ہمیں چاہو، خدا کے لیے چاہو، اور ہمارے گھر پڑ جاؤ، جو کچھ تمہارے پاس ہے ہمیں دے دو، اور ہمارے گھر کی ماماگیری کرو، روٹیاں پکا پکا کے کھلاؤ، ہماری اور ہمارے بال بچوں کی جوتیاں سیدھی کرو۔ ہر شخص کا حسن حضرت یوسف کا معجزہ نہیں ہے کہ ہر ایک عورت اس پر جان دینے لگے۔ مرد عورت سے اور عورت مرد سے محبت کرتی ہے، مگر اس محبت میں اکثر اغراضِ ذاتی کا بھی لحاظ رہتا ہے۔ بے غرض محبت جیسے لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، یہ صرف قصے کہانیوں میں سنی جاتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ یک طرفہ محبت نہیں ہوتی۔ ہم نے اسے بھی آنکھوں سے دیکھا ہے، مگر اس کو خللِ دماغ سمجھنا چاہیے۔ پھر کیا ضروری ہے کہ مرد عورت دونوں دیوانے ہوں۔
دوسرے دن شب کو نواب صاحب تشریف لائے۔ بوا حسینی سے معمولی گفتگو کے بعد تعینِ اخراجات ہو کر کمرے میں تخلیہ ہو گیا۔ معلوم ہوا نواب صاحب نے ملازم نہیں رکھا، صرف یہ طے ہوا ہے کہ کبھی رات کو گھڑی دو گھڑی کے لیے آیا کریں گے۔ نواب صاحب بہت ہی کم سخن بھولے آدمی تھے۔ سن اٹھارہ انیس برس کا تھا۔ بسم اللہ کے گنبد میں پرورش پائی تھی۔ ماں باپ کے دباؤ میں تھے۔ دنیا کے جعل فریب سے بالکل آگاہ نہ تھے۔ اظہارِ عشق خدمت گار کی زبانی ہو چکا تھا، ورنہ نواب صاحب کو اس میں بھی کسی قدر مشکل ہوتی، مگر میں نے تھوڑی دیر میں بے تکلف بنا لیا۔
بہت سی لگاوٹ کی باتیں کیں، بالکل عاشقِ زار بن گئی۔ اس میں کچھ سچ تھا، کچھ جھوٹ۔ سچ تو اس لیے تھا کہ نواب صاحب کی صورت ایسی نہ تھی کہ ایک عورت خواہ وہ کیسی ہی سخت دل کیوں نہ ہو، ان پر مائل نہ ہو جائے۔ گوری گوری رنگت جیسے گلاب کا پھول، ستواں ناک، پتلے پتلے ہونٹ، خوبصورت بتیسی، گھونگر والے بال، کتابی چہرہ، اونچا ماتھا، بڑی بڑی آنکھیں، بھرے بھرے بازو، مچھلیاں پڑی ہوئی چوڑی کلائیاں، بلند بالا کسرتی بدن۔ خدا نے سر سے لے کے پاؤں تک تمام بدن نور کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ اس پر بھولی بھالی باتیں، بات بات میں عاشقانہ شعر، جن میں سے اکثر انہی کی تصنیف تھے۔ شعر پڑھنے میں ہواؤ ٹوٹا ہوا تھا۔ خاندانی شاعر تھے۔ مشاعروں میں اپنے والد کے ساتھ غزل پڑھتے تھے۔ شاعروں کو کیسا ہی عاشقانہ شعر ہو، کسی کے سامنے پڑھتے ہوئے جھینپ نہیں ہوتی۔ خود بزرگ کے سامنے چاہے اور قسم کی گفتگو نہ کر سکتے ہوں، مگر شعر پڑھنے میں تکلف نہیں ہوتا۔ شعر بھی ایسے کہ اگر نثر میں ان کا مطلب ادا کیا جائے تو منہ سے کہتے نہ بنے۔ غرضیکہ اس شب کو بڑے مزے کی صحبت تھی۔
نواب: آپ کی اداؤں نے تو مجھے ایسا فریفتہ کر لیا ہے کہ بغیر آپ کے دیکھے چین ہی نہیں آتا۔
میں: یہ سب آپ کی قدر دانی ہے، ورنہ میں کیا اور میری حقیقت کیا۔ "ایاز! قدرِ خود بشناس۔ من آنم کہ من دانم۔"
نواب: اوہو! آپ تو خواندہ معلوم ہوتی ہیں۔
میں: جی ہاں، کچھ شد بد پڑھا تو ہے۔
نواب: اور لکھنا بھی جانتی ہو؟
میں: جی ہاں، لکھ بھی لیتی ہوں۔
نواب: تو وہ غزل آپ ہی کے ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہے؟
میں مسکرا کے چپ ہو رہی۔
نواب: واللہ کیا پیارا خط ہے! اس بات سے تو بہت ہی جی خوش ہوا۔ خدمت گاروں سے دل کا حال کہتے نہیں بنتا، اب زبانِ قلم سے گفتگو ہوا کرے گی۔ ہم تو ایسا چاہتے ہی تھے، جہاں تک ہو کسی ایسے معاملے میں غیر کی وساطت نہ ہو۔
نہ غیروں کی وساطت ہو، نہ یاروں کی شماتت ہو
جو ہیں آپس کی باتیں رازدار ان کے ہمیں تم ہو
میں: یہ آپ ہی کا شعر ہے؟
نواب: جی نہیں، والدِ مرحوم نے فرمایا ہے۔
میں: کیا خوب فرمایا ہے!
نواب: ماشاء اللہ آپ کو شاعری کا مذاق بھی ہے۔
اچھی صورت جو خدا دے تو یہ اوصاف بھی دے
حسنِ تقریر بھی ہو، خوبیِ تحریر بھی ہو
میں: کس کا شعر ہے؟
نواب: انہی کا۔
میں: کیا خوب فرمایا!
نواب: وہ ایسا ہی فرماتے تھے، مگر واللہ آپ کی شان کے لائق ہے۔
میں:
یہ فقط آپ کی عنایت ہے
ورنہ میں کیا، میری حقیقت کیا
نواب: واہ، کیا صاف صاف شعر ہے!
میں: تسلیم!
نواب: یہ کہیے آپ شعر بھی کہتی ہیں۔
میں: جی نہیں، آپ ایسے قدر دانوں سے کہلواتی ہوں۔ اس بات پر نواب صاحب پہلے تو چیں بہ جبیں ہوئے، پھر مسکرائے اور دیکھ کر ہنس پڑے۔
نواب: خوب کہی! جی ہاں، اکثر رنڈیوں کا دستور ہے کہ یاروں سے شعر کہوا کے اپنے نام سے پڑھا کرتی ہیں۔
میں: آپ رنڈیوں کو کہیے۔ کیا مرد ایسا نہیں کرتے؟
نواب: واللہ سچ ہے۔ والدِ مرحوم کے دوستوں میں اکثر ایسے صاحب ہیں جنہوں نے کبھی ایک مصرع نہیں کہا اور ہر مشاعرے میں غزل پڑھنے کو مستعد۔ اکثر والد ہی کہہ دیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ میری غزل میں شعر زائد ہوئے، چھانٹ دیے۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں لطف ہی کیا ہے۔ والدِ مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے حضرت استاد کے بنائے ہوئے شعر دیوان سے نکال ڈالے۔ جھوٹی تعریفوں سے دل کو کیا خوشی ہوتی ہوگی۔
میں: خدا جانے۔ یہ بھی ایک ہوس ہے اور بڑی ہوس۔
نواب: اچھا تو اس غزل کا اور کوئی شعر یاد ہو تو پڑھیے۔
میں:
فرض ہے ضبطِ نالہ و فریاد
جس سے ناخوش ہو تم وہ عادت کیا
نواب: کیا شعر ہے! پھر پڑھیے۔ واللہ کیا نئی بات کہی ہے!
میں: (شعر دوبارہ پڑھ کے) تسلیم! آپ قدر دانی کرتے ہیں۔
نواب: شعر ہی اچھا ہے۔ اور کوئی شعر پڑھیے۔
میں: اس طرح میں میری غزل نہیں۔ یہ دو شعر ابھی کہے ہیں۔
نواب: یہ اور طرہ ہوا۔ فی البدیہہ اور ایسے شعر! اچھا اور کسی غزل کے شعر پڑھیے۔
میں: اب آپ ارشاد کیجیے۔ اسی لیے میں نے سبقت کی تھی۔
نواب: میں پڑھے دیتا ہوں، مگر آپ کو بھی غزل پڑھنا ہوگی۔
اتنے میں کمرے کا دروازہ دھڑاکے سے کھلا اور ایک صاحب پچاس پچپن برس کا سن، سیاہ رنگت، کھچڑی داڑھی، ترچھی پگڑی باندھے، کمر بندھی ہوئی، کٹار لگی ہوئی، کمرے کے اندر گھس آئے اور آتے ہی نہایت بے تکلفی سے میرا زانو دبا کے بیٹھ گئے۔ نواب صاحب نے میری طرف دیکھا، میں نے سر جھکا لیا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ کہاں تو نواب سے یہ اقرار تھا کہ بالکل تخلیہ ہوگا، کمرے میں کوئی نہ ہوگا۔ کس مزے کی گفتگو، کیسا ستھرا مذاق تھا، کیا راز و نیاز ہو رہا تھا، کہاں یہ بلائے مہیب نازل ہوئی۔ سنگ آمد و سخت آمد۔
ان صاحب نے بیٹھتے ہی نواب صاحب کی طرف گھور گھور کے دیکھنا شروع کیا جیسے کوئی اپنے باپ کے قاتل کو دیکھتا ہو۔ گھڑی گھڑی کٹار پر ہاتھ جاتا تھا۔ میں تو دل میں سہمی جاتی تھی۔ یا الٰہی یہ کیا آفتِ ناگہانی آ گئی۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ نواب اپنی طرف کھنچے ہوئے بیٹھے ہیں، تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔
ہائے کیا مزے کی صحبت تھی، اس کم بخت نے کیسا خلل ڈالا۔ نواب ابھی غزل پڑھنے کو تھے، اس کے بعد میں کچھ کہتی۔ نواب تعریفیں کرتے، کیا دل خوش ہوتا۔ آج ہی تو ایک ایسا قدر دان ملا تھا جسے مدتوں سے میرا دل ڈھونڈتا تھا اور آج ہی آفت کا سامنا ہوا۔ خدا اس موئے کو جلدی یہاں سے اڑائے۔ یہ خیالات میرے دل میں تھے اور وہ خون خوار صورت آنکھوں کے سامنے تھی جس کے دیکھنے سے میرا دل لرزا جاتا تھا۔ یہ تو میری جان کو گویا دلاور خان ہو گیا۔ بار بار اندیشہ تھا کہ کٹار جو اس کی کمر میں ہے یا میرے کلیجے کے پار ہوگی، یا خدانخواستہ نواب کو کچھ گزند پہنچائے گی۔ دل ہی دل میں کوستی تھی، خدا غارت کرے، موا کہاں سے اس وقت آ گیا۔
آخر مجھ سے اور تو کچھ نہ بن پڑا، بوا حسینی کو آواز دی۔ انہوں نے آ کے جو یہ ماجرا دیکھا، سمجھ گئیں۔ بوا حسینی کی باتوں سے معلوم ہوا کہ وہ ان صاحب کو کچھ جانتی بھی تھیں۔
بوا حسینی: خاں صاحب! مجھے کچھ آپ سے عرض کرنا ہے، ادھر تشریف لائیے۔
خاں صاحب: جو کچھ کہنا ہے وہیں سے کہو، ہم لوگ کہیں بیٹھ کے اٹھتے نہیں۔
بوا حسینی: تو خاں صاحب کوئی زبردستی ہے؟
خاں صاحب: اس میں زبردستی کیا؟ رنڈی کے مکان پر کسی کا اجارہ نہیں، اور اگر زبردستی ہے تو زبردستی ہی سہی۔ ہم تو نہیں اٹھنے کے۔ دیکھیں تو ہمیں کون ...... اٹھا دیتا ہے۔
بوا حسینی: اجارہ کیوں نہیں۔ جو زر خرچے گا، رنڈی اسی کی ہے۔ پھر اور کوئی اس وقت نہیں آ سکتا۔
خاں صاحب: تو کیا زر خرچنے کو ہم نابر ہیں؟
بوا حسینی: اچھا، اس وقت اس کا کوئی موقع نہیں، اور کسی وقت تشریف لائیے گا۔
خاں صاحب: عورت کچھ داہی ہوئی ہے۔ کہہ دیا ہم نہیں اٹھیں گے۔
میں نے دیکھا کہ نواب صاحب کا چہرہ مارے غصے کے سرخ ہو گیا، مگر ابھی تک چپکے بیٹھے ہیں، کچھ منہ سے نہیں بولتے۔
بوا حسینی: بٹی، اچھا تو ادھر اٹھ کے چلی آ۔ نواب صاحب! آپ کے آرام کا وقت ہے، کوٹھے پر تشریف لے جائیے۔
میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو اس نگوڑے مارے نے زور سے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اب کیا کروں!
نواب: خاں صاحب! رنڈی کا ہاتھ چھوڑ دیجیے، اسی میں خیریت ہے۔ بہت کچھ زیادتیاں کر چکے ہیں۔ میں خاموش بیٹھا رہا، صرف اس خیال سے کہ رنڈی کے مکان پر تہتک کرنا اچھا نہیں، مگر اب ......
خاں صاحب: مگر اب تم کیا کر سکتے ہو؟ دیکھیں تو کون ...... رنڈی کا ہاتھ چھڑواتا ہے۔
میں: (زور سے ہاتھ جھٹک کر) اچھا تو ہاتھ چھوڑ دیجیے، میں کہیں جاتی نہیں۔ (واقعی میں نواب صاحب کو چھوڑ کے ہرگز نہ جاتی۔)
خاں صاحب نے ہاتھ چھوڑ دیا۔
نواب: میں کہے جاتا ہوں کہ ذرا زبان سنبھال کے گفتگو کیجیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے شریفوں کی صحبت نہیں اٹھائی۔
خاں صاحب: خیر، تم نے تو شریفوں کی صحبت اٹھائی ہے، جو کچھ ہو سکے کر لو۔
نواب: یہ تو معلوم ہوا کہ آپ لڑنے پر آمادہ ہیں، مگر رنڈی کا مکان کوئی اکھاڑہ نہیں ہے، نہ میدان۔ بہتر ہے اس کو کسی اور وقت پر موقوف رکھیے اور اب تشریف لے جائیے۔ نہیں تو ......
خاں صاحب: نہیں تو تم مجھے گھول کے پی جاؤ گے؟ تشریف لے جائیے کی خوب کہی، تم ہی کیوں نہیں چلے جاتے؟
نواب: خاں صاحب! جنابِ امیر کی قسم! میں بہت طرح دیتا ہوں، اس لیے کہ مجھے کسی قدر اپنی عزت کا خیال ہے۔ والدین، عزیز، دوست، جو سنے گا نام رکھے گا، ورنہ آپ کو ابھی ان گستاخیوں کا مزا چکھا دیتا۔ پھر میں آپ سے کہتا ہوں کہ بے فائدہ حجت نہ کیجیے، تشریف لے جائیے۔
خاں صاحب: رنڈی کے گھر پر تو آتے ہو اور اماں جان سے ڈرتے ہو؟ گستاخیاں کیسی؟ تمہارے باپ کا نوکر ہوں؟ تم اپنے گھر کے رئیس زادے ہو تو ہوا کرو۔ رنڈی کے مکان پر تم بیٹھے ہو، ہم بھی بیٹھے ہیں۔ جب ہمارا جی چاہے گا، جائیں گے۔ تم خود بے کار حجت کرتے ہو۔ کسی کو اٹھاتے نہیں دیکھا۔
نواب: اٹھا دینا تو کوئی مشکل کام نہیں۔ خدمت گاروں کو آواز دیتا ہوں تو آپ کی گردن میں ہاتھ دے کے ابھی نکالے دیتے ہیں۔
خاں صاحب: خدمت گاروں کے بل پر نہ بھولنا، یہ کٹار بھی دیکھی ہے؟
نواب: ایسے بہت کٹار دیکھے ہیں۔ جو وقت پر کام آوے وہ کٹار ہے۔ آپ کی کٹار میان سے نکلتی رہے گی، یہاں تو ابھی آپ کی گردن ناپ دی جائے گی۔ پھر دیکھا جائے گا۔
خاں صاحب: لے اب تمہی گھر کو جاؤ، اماں جان یاد کرتی ہوں گی۔
میں دیکھ رہی تھی کہ نواب صاحب کا چہرہ بالکل متغیر ہو گیا ہے۔ مارے غصے کے تھر تھر کانپ رہے تھے، مگر واہ ری شرافت! اس پاجی نے کس قدر سخت سست کہا، مگر یہ آپ ہی آپ کر کے بات کر رہے ہیں۔ اس سے مجھے پہلے تو یہ خیال تھا کہ نواب ڈر گئے، مگر میرا یہ خیال غلط نکلا۔ واقعی نواب کو اپنی عزت کا خیال تھا، اسی لیے طرح دے رہے تھے۔ چاہتے تھے کہ معاملہ سہولت سے رفع دفع ہو جائے، مگر اس پاجی کی بدزبانی بڑھتی جاتی تھی۔ جس قدر نواب طرح دیتے تھے، وہ اور شیر ہوا جاتا تھا۔ آخر نواب نے کہا۔
نواب: اچھا اٹھیے خاں صاحب! ہم آپ دونوں یہاں سے چلے چلیں، عیش باغ میں چل کے ہمارے آپ کے دو دو ہاتھ ہو جائیں۔
خاں صاحب: (قہقہہ مار کے) صاحب زادے! ابھی تم خود منہ چومنے کے لائق ہو اور مردوں سے خانہ جنگی کرنے کا حوصلہ! کہیں کوئی چرکا کھا جاؤ گے تو اماں جان روتی پھریں گی۔
نواب: مردود! اب تیری بدزبانیاں حد کو پہنچ گئی ہیں۔ دیکھ، اب تجھے تیری گستاخی کی سزا دیتا ہوں۔
یہ کہتے ہی نواب نے دولائی کے اندر سے ہاتھ نکالا۔ ہاتھ میں طمنچہ تھا، دن سے داغ دیا۔ خاں صاحب دھم سے گر پڑے۔ میں سن سی ہو گئی۔ فرش پر خون ہی خون نظر آتا تھا۔ بوا حسینی جہاں کھڑی تھیں کھڑی رہ گئیں۔ طمنچے کی آواز سن کے خانم صاحب، مرزا صاحب، میر صاحب، خورشید جان، امیر جان، بسم اللہ جان، خدمت گار، مہریاں، تو، میں، سب دوڑے آئے۔ میرے کمرے میں بھیڑ ہو گئی۔ سب اپنی اپنی کہنے لگے۔ اتنے میں شمشیر خاں (ایک ادھیڑ سا آدمی، نواب صاحب کا ملازم) نے لپک کر نواب کے ہاتھ سے طمنچہ لیا اور کہا: "لے اب حضور گھر تشریف لے جائیں، میں سنبھال لوں گا۔"
نواب: میں نہیں جاتا۔ اب جو کچھ ہوا، ہوا، اور جو کچھ ہونا ہوگا ہو جائے گا۔
شمشیر خاں: (کمر سے چھری نکال کے) جنابِ امیر علیہ السلام کی قسم! ابھی اپنے کلیجے میں مار لوں گا، نہیں تو برائے خدا آپ چلے جائیں۔ آپ کا یہاں ٹھہرنا اچھا نہیں ہے۔
اتنے میں لوگوں نے دیکھا خاں صاحب کے گولی کہاں لگی۔ معلوم ہوا کہ جان کی خیریت ہے، بازو میں لگی تھی، اس پار ہو گئی۔
شمشیر خاں: میں عرض کرتا ہوں کہ حضور تشریف لے جائیں۔ اس مردود کا ہوا ہی کیا ہے؟ آپ کیوں بدنام ہوتے ہیں۔
بارے نواب صاحب بھی کچھ سمجھ کے اٹھے۔ ایک آدمی ہمارے یہاں سے ساتھ کیا گیا۔ خانم نے اسی وقت مرزا علی رضا بیگ کو کہلوا بھیجا۔ وہ چوک میں ہی تھے، فوراً چلے آئے۔ خانم نے علیحدہ لے جا کر نہیں معلوم کیا کان میں پھونکا، وہاں سے آئے تو یہ کہتے ہوئے آئے۔
مرزا: ہوگا! پھینک دو مردود کو کمرے کے نیچے، سمجھ لیا جائے گا۔
خیر، خاں صاحب کو کمرے کے نیچے تو نہیں پھینکا، بازو پر پٹی باندھی، ڈولی بلوائی گئی۔ خاں صاحب کو بھی کسی قدر ہوش آ گیا تھا۔ مکان کا پتا پوچھا، معلوم ہوا مرغ خانے میں رہتے ہیں۔ ڈولی میں بٹھا کے ان کے گھر بھجوا دیا۔ کہاروں کو سمجھا دیا تھا، مکان کے قریب کہیں پر اتار کے چلے آنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
سلطان صاحب کئی دن تک نہیں آئے، نہ ان کا آدمی آیا۔ مجھے ان سے محبت سی ہو گئی تھی۔ یقین تھا کہ وہ اب نہیں آئیں گے، اور واقعی ایسا ہی ہوا بھی۔ وضع دار آدمی تھے۔ پہلے ہی جب وہ آئے تھے، آدمی کی زبانی پیش تر بہت تاکید تخلیے کے لیے کر دی تھی۔ بوا حسینی نے اقرار کر لیا تھا کہ کوئی نہ آنے پائے گا، مگر اتنی چوک ہو گئی کہ دروازے پر کسی کو نہ بٹھا دیا۔ خاں صاحب از غیبی ڈھیلا، خدا جانے کہاں سے آن پڑے، سارا کھیل بگڑ گیا۔ اتفاق سے چار پانچ دن کے بعد ایک برات میں میرا مجرا آ گیا تھا۔ وہاں نواب صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ میرا پہلا مجرا نو بجے رات کو شروع ہونا تھا۔ محفل میں بات کرنا کیسا، اشارے کنائے کا بھی موقع نہ تھا۔ ایک لڑکا گورا گورا، کوئی نو دس برس کا سن، بھاری کپڑے پہنے سلطان صاحب کے پاس بیٹھا تھا، کسی ضرورت سے اٹھا۔ میرا مجرا ہو چکا تھا، علیحدہ کمرے میں پیشواز اتار رہی تھی۔ میں نے اسے اشارے سے بلوایا، پاس بٹھایا، ایک پان لگا کے دیا، پوچھا۔
میں: سلطان صاحب کو جانتے ہو؟
لڑکا: کون سلطان صاحب؟
میں: وہ جو دولہا کے پاس تمہارے برابر بیٹھے تھے۔
لڑکا: (تیوری چڑھا کے) واہ! وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں، انہیں ذرا سلطان صاحب نہ کہنا۔
میں: اچھا تو ہم کچھ دیں، انہیں دو گے؟
لڑکا: کہیں مجھ پر خفا نہ ہوں؟
میں: خفا نہیں ہوں گے۔
لڑکا: اور دو گی کیا، پان؟
میں: پان نہیں، پان تو ان کے خاصدان میں ہوں گے۔ اے لو، یہ کاغذ دے دینا۔ (ایک پرچہ کاغذ کا کمرے میں فرش پر پڑا تھا، میں نے اس پر کوئلے سے یہ شعر لکھ دیا:)
مدتوں سے ہم ہیں محرومِ عتاب
بزم میں آج ان کو چھیڑا چاہیے
اور سمجھا دیا کہ یہ کاغذ ان کی آنکھ بچا کے سامنے رکھ دینا، ان کو معلوم بھی نہ ہوگا۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا۔ میں کمرے کے پٹ کی آڑ سے جھانک رہی تھی۔ سلطان صاحب نے وہ کاغذ اٹھایا، پڑھا۔ پہلے تو چہرے پر کچھ فکر کے آثار ظاہر ہوئے۔ پھر تھوڑی دیر تک پرچے کو غور سے دیکھتے رہے۔ اس کے بعد مسکرا کے جیب میں رکھ لیا۔ شمشیر خاں کو اشارے سے بلایا، اس کے کان میں کچھ چپکے سے کہا۔ کوئی گھنٹہ بھر کے بعد شمشیر خاں ہمارے کمرے میں آیا۔
شمشیر خاں: نواب صاحب نے کہا ہے کہ اس پرچے کا جواب ہم گھر پر جا کر لکھ بھیجیں گے۔
دوسرا مجرا صبح کو ہوا تھا، اس وقت سلطان صاحب محفل میں نہ تھے۔ ان کے بغیر محفل مجھے سونی معلوم ہوتی تھی، گانے میں دل نہ لگتا تھا۔ آخر جوں توں مجرا ختم ہوا، میں گھر آئی۔ اس دن، دن بھر شمشیر خاں کا انتظار رہا۔ بارے چراغ جلنے کے بعد وہ آیا، نواب کا رقعہ دیا۔ مضمون یہ تھا:
"تمہارے شعر نے اس آگ کو جو میرے دل میں دبی ہوئی تھی، کرید کر بھڑکا دیا۔ واقعی مجھے تم سے محبت ہے، مگر اپنی وضع سے مجبور ہوں۔ تمہارے مکان پر اب ہرگز نہ آؤں گا۔ میرے ایک بے تکلف دوست نواز گنج میں رہتے ہیں، کل میں تمہیں وہاں بلوا بھیجوں گا، بہ شرطِ فرصت چلی آنا۔ یہی ایک صورت ملنے کی ہے، وہ بھی نو دس بجے رات تک۔
شبِ وصال کی کوتاہیوں کا شکوہ کیا
یہاں تو ایک نظر دیکھنے کے لالے ہیں"
سلطان صاحب اس دن سے کبھی خانم کے مکان پر نہیں آئے۔ ہفتے میں دو تین مرتبہ نواز گنج میں نواب بنے خاں کے مکان پر بلوا بھیجتے تھے۔ عجب لطف کی صحبت رہتی تھی۔ کبھی شعر و سخن کا چرچا ہوا، کبھی نواب بنے صاحب طبلہ بجانے لگے، میں گانے لگی۔ سلطان صاحب خود بھی گاتے تھے۔ تال سم سے تو ایسے واقف نہ تھے، مگر اپنی غزل آپ خوب گا لیتے تھے۔
کچھ اس طرح سے نظر بازیوں کی مشق بڑھی
میں ان کو اور وہ میری نظر کو دیکھتے ہیں
جب یاد آتا ہے، اس جلسے کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ گرمیوں کے دن، شبِ مہتاب کا عالم، صحنِ باغ میں تختوں کے چوکے پر سفید چاندنی کا فرش ہے، گاؤ تکیے لگے ہوئے۔ سامانِ عیش و نشاط مہیا، باغ میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوئے، بیلے چنبیلی کی مہک سے دماغ معطر، خوشبودار گلوریاں، بسے ہوئے حقے، تخلیے کا جلسہ، آپس کی چہلیں، بے تکلفی کی باتیں! ایسے ہی جلسوں میں بیٹھ کر دنیا و مافیہا کا تو ذکر کیا، انسان خدا کو بھی بھول جاتا ہے، اور اسی کی سزا ہے کہ ایسے جلسے بہت جلد برہم ہو جاتے ہیں اور ان کا افسوس مرتے دم تک رہتا ہے، بلکہ شاید مرنے کے بعد بھی۔
لذتِ معصیتِ عشق نہ پوچھ
خلد میں بھی یہ بلا یاد آئی
واقعی سلطان صاحب کو مجھ سے اور مجھے ان سے محبت تھی۔ دونوں کے مذاق کچھ ایسے بنتے ہوئے تھے کہ عمر بھر کا ساتھ ہوتا تو کبھی ملال نہ ہوتا۔ سلطان صاحب کو شعر و سخن کا شوق تھا اور مجھے بھی بچپن سے اس کی لت ہے۔ سلطان صاحب سے جیسا مرا دل ملا اور کسی سے نہیں ملا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اسی سبب سے مجھ سے محبت کرتے تھے۔ بات بات میں وہ شعر پڑھتے تھے، میں جواب دیتی تھی۔ مگر افسوس! فلکِ تفرقہ انداز نے وہ جلسہ بہت ہی جلد برہم کر دیا۔
دل یہ کہتا ہے فراقِ ماہ و انجم دیکھ کر
ہائے کیا کیا صحبتیں راتوں کی برہم ہو گئیں
رسوا: اچھا، وہ سب کچھ تو ہوا۔ آپ کے قدم کی برکت سے ایسے ایسے بہت سے جلسے برہم ہو گئے ہوں گے۔
امراؤ: واہ مرزا صاحب! تو کیا میرے دشمن بھن پیرے ہیں، یہ آپ نے خوب کہی۔
رسوا: یہ تو میں نہیں کہہ سکتا، مگر سلامتی سے جہاں آپ تشریف لے گئیں، صفائی ہو گئی۔
امراؤ: آپ جو چاہے کہیے۔ اگر ایسا جانتی کہ آپ یہ کہیں گے تو اپنی روداد ہرگز بیان نہ کرتی۔ خیر، اب تو قصور ہوا۔
رسوا: قصور! یہی تو آپ نے زندگی بھر میں ایک کام کیا جس سے آپ کا نام دنیا میں رہ جائے گا، خواہ نیک نامی کے ساتھ خواہ بدنامی کے ساتھ، اس کا ذمہ میں نہیں کرتا۔ اب اس بات کو یہیں تک رہنے دیجیے۔ ذرا اس غزل کے دو تین شعر اور یاد ہوں تو پڑھ دیجیے۔
امراؤ: آپ بھی آدمی کو خوب بناتے ہیں۔
رسوا: خیر، بگاڑتا تو نہیں؟ اچھا، آپ شعر پڑھیے۔
امراؤ: اچھا سنیے۔ ایک مطلع اور دو شعر اور یاد ہیں:
دردِ دل کی لذتیں صرفِ شبِ غم ہو گئیں
طولِ فرقت سے بہت بے تابیاں کم ہو گئیں
وہ جو بیٹھے سوگ میں زلفِ رسا کھولے ہوئے
حسرتیں میری شریکِ بزمِ ماتم ہو گئیں
ہم نشیں! دیکھی نحوست داستانِ ہجر کی
صحبتیں جمنے نہ پائی تھیں کہ برہم ہو گئیں
اسی زمانے میں نواب جعفر علی خاں صاحب کی ملازم ہوئی۔ سنِ شریف کوئی ستر برس کے قریب تھا۔ منہ میں ایک دانت نہ تھا، پشت خم ہو گئی تھی۔ سر میں ایک بال سیاہ نہ تھا، مگر اب تک اپنے کو پیار کرنے کے لائق سمجھتے تھے۔ ہائے وہ ان کا کیچلی انگرکھا اور گلبدن کا پاجامہ، لال نیفہ، مصالحہ دار ٹوپی، کاکلیں بٹی ہوئی، عمر بھر نہ بھولیں گی۔
آپ کہیے گا کہ اس عمر اور ایسی حالت میں رنڈی نوکر رکھنا کیا ضروری تھا۔ سنیے مرزا صاحب! اس زمانے کا فیشن یہی تھا۔ کوئی امیر رئیس ایسا بھی ہوگا جس کے پاس رنڈی نہ ہو۔ نواب صاحب کی سرکار میں جہاں اور سامان شان و شوکت کے تھے، وہاں سلامتی منانے کے لیے جلوسیوں میں ایک رنڈی کا بھی اسم تھا۔ پچھتر روپے ماہوار ملتے تھے۔ دو گھنٹے کے لیے مصاحبت کر کے چلی آتی تھی۔ اور تکلف سنیے، نواب بوڑھے ہو گئے تھے، مگر کیا مجال نو بجے کے بعد دیوان خانے میں بیٹھ سکیں۔ اگر کسی دن اتفاق سے دیر ہو گئی، کھلائی آ کے زبردستی اٹھا لے جاتی تھی۔ نواب صاحب کی والدہ زندہ تھیں، ان سے اسی طرح ڈرتے تھے جس طرح پانچ برس کا بچہ ڈرتا ہو۔ بیوی سے بھی انتہا کی محبت تھی۔ بچپن میں شادی ہوئی تھی، مگر سوائے عشرۂ محرم اور شبوں کے کسی دن علیحدہ سونے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ آپ تو ہنستے ہوں گے، مگر میرے دل سے پوچھیے، بے شک پیار کرنے کے قابل تھے۔ اس بڑھاپے میں جس وقت سوز پڑھتے تھے، دل لوٹ جاتا تھا۔ فنِ موسیقی میں ان کو کمال تھا۔ کیا مجال ان کے سامنے کوئی گا سکے۔ اچھے اچھے گویوں کو ٹوک دیا۔ سوز خوانی میں یکتا تھے، سندی سوز میر علی صاحب کے ان کو پہنچے ہوئے تھے۔ ان کی ملازمت سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ سینکڑوں سوز یاد ہو گئے، دور دور میری شہرت ہو گئی۔
خانم کی تعزیہ داری تمام شہر کی رنڈیوں سے بڑھ چڑھ کر تھی۔ امام باڑے میں پٹکے، شیشہ آلات، جو شے تھی، نادر تھی۔ عشرۂ محرم میں دس دن تک روز مجلس ہوتی تھی۔ عاشورے کے دن سینکڑوں محتاج مومنین کی فاقہ شکنی کی جاتی تھی۔ چہلم تک ہر جمعرات کو مجلس ہوتی تھی۔
میری سوز خوانی مشہور تھی۔ ایسی ترکیبیں اور کسی کو کب یاد تھیں۔ بڑے بڑے سوز خواں میرے سامنے منہ نہ کھول سکتے تھے۔ اسی سوز خوانی کی بدولت نواب ملکہ کشور کے محل تک میری رسائی ہوئی۔ جہاں پناہ نے خود میری نوحہ خوانی کی تعریف کی۔ سرکارِ شاہی سے مجھ کو بہت کچھ ہر محرم میں عطا ہوتا تھا۔ مرثیہ خوانوں میں میرا اسم تھا۔ شب کو اپنے امام باڑے میں ماتم کر کے مجھے درِ دولت پر حاضر ہونا پڑتا تھا۔ کوئی دو بجے رات کو وہاں سے آتی تھی۔
جس زمانے میں بسم اللہ کی مسی ہوئی تھی، نواب چھبن صاحب کے چچا کربلائے معلیٰ گئے ہوئے تھے۔ بسم اللہ کی مسی کو کوئی چھ مہینے گزرے ہوں گے کہ وہ کربلا سے تشریف لائے۔ ان کی لڑکی کی نواب کے ساتھ منگنی ہو گئی تھی۔ انہوں نے آتے کے ساتھ ہی شادی پر زور دیا۔ نواب صاحب بسم اللہ جان پر مرتے تھے۔ ادھر بسم اللہ جان نے گھر میں بیٹھ جانے کا فقرہ دے رکھا تھا، صاف انکار کر دیا۔ مگر انکار کب چلتا تھا۔ شاہی زمانہ، ان کی لڑکی پر گالی چڑھ چکی تھی، وہ کب مانتے۔ ایک شب کو نواب کے مکان پر جلسہ ہے۔ مصاحبین جمع ہیں۔ بسم اللہ نواب کے پہلو میں بیٹھی ہیں۔ اس رات کو بسم اللہ کے ساتھ میں بھی چلی گئی تھی۔
سامنے بیٹھی ہوئی گا رہی ہوں، نواب صاحب طنبورہ چھیڑ رہے ہیں۔ نواب صاحب کے مصاحبِ خاص دلبر حسین طبلہ بجا رہے ہیں۔ اتنے میں ایک خبردار نے خبر دی کہ بڑے نواب صاحب (نواب صاحب کے چچا) تشریف لاتے ہیں۔ نواب صاحب یہ سمجھے کہ آئے ہیں تو اندر محل میں بیگم صاحب (نواب صاحب کی والدہ) کے پاس جائیں گے۔ ہم سب کو بھی یہی خیال تھا، مگر وہ دراناں دیوان خانے میں گھسے چلے آئے۔ آ کے جو دیکھا تو یہ جلسہ ہے، آگ بگولا ہو گئے۔ خیر، ان کے آنے کے ساتھ ہی گانا تو موقوف ہوا، نواب صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔
بڑے نواب: خیر، اب تعظیم و تکریم کو تو رہنے دیجیے۔ مجھے ایک امرِ ضروری عرض کرنا تھا، ورنہ آپ کے عیش میں خلل انداز نہ ہوتا۔
نواب: ارشاد!
بڑے نواب: آپ بچے ہیں، آپ کو معلوم نہیں۔ میرے چھوٹے بھائی احمد علی خاں مرحوم نے والدۂ مرحومہ کے سامنے انتقال کیا تھا، اس وجہ سے آپ محجوب الارث ہیں۔ کوئی حق آپ کا اس جائیداد میں نہیں ہے جس پر آپ قابض و متصرف ہیں۔ بے شک والدۂ مرحومہ نے آپ کو بیٹا کیا تھا اور مرتے وقت آپ کے نام وصیت بھی کر گئی ہیں، مگر وہ کوئی چیز نہیں۔ صرف ایک ثلث جائیداد بنا پر اس وصیت نامے کے آپ کو مل سکتی ہے، مگر لوگوں کے کہنے سننے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک ثلث سے زیادہ صرف کر چکے ہیں۔ خیر، ثلث کا مجھ کو دعویٰ نہیں اور ثلث سے زیادہ نسبت آپ سے باز پرس نہ کی جائے گی، اس لیے کہ آپ میرے خونِ جگر ہیں۔ (اس کے بعد بڑے نواب صاحب آب دیدہ ہو گئے، مگر پھر ضبط کر کے کہا) آپ اس جائیداد پر مدت العمر قابض و متصرف رہتے، میری ذاتی جائیداد میرے خرچ کے لیے کفالت کرتی ہے اور اس جائیداد کے بھی آپ ہی وارث ہوتے۔ مگر آپ کی بد وضعی نے مجھے مجبور کیا کہ آپ کو اس جائیدادِ موروثی سے بے دخل کر دوں۔ بزرگوں کی نیک کمائی حرام کاری میں مٹانے کے لیے نہیں ہے۔ منصف الدولہ کے آدمی میرے ہم راہ ہیں، اسی وقت تمام گھر کا تعلیقہ ہوگا۔ آپ فوراً مع اربابِ نشاط یہاں سے تشریف لے جائیے۔
نواب: تو اس جائیداد میں میرا کوئی حق نہیں؟
بڑے نواب: جی نہیں۔
نواب: اچھا، ایک ثلث پانے کا مستحق ہوں؟
بڑے نواب: وہ آپ لے چکے، اور آپ کو کچھ دعویٰ ہے تو درِ دولت پر تشریف لے چلیے۔ میرے نزدیک آپ کا ایک حبہ نہیں۔
نواب: تو اچھا، اماں جان کو میں اپنے ساتھ لیتا جاؤں گا۔
بڑے نواب: وہ آپ سے دست بردار ہوتی ہیں۔ وہ میرے ساتھ کربلا جائیں گی۔
نواب: اچھا تو میں کہاں جاؤں؟
بڑے نواب: یہ میں کیا جانوں! یہ اپنے مصاحبین اور ملازمین، مشغولہ اور معشوقہ سے دریافت کیجیے۔
نواب: اچھا، تو میرے کپڑے اسباب وغیرہ تو دے دیجیے۔
بڑے نواب: اس مکان میں آپ کا کوئی اسباب نہیں ہے، نہ آپ کے بنوائے ہوئے کپڑے ہیں۔
اس کے بعد منصف الدولہ کے آدمی دیوان خانے میں آئے، نواب صاحب کو مع مصاحبین و اربابِ نشاط گھر سے باہر کیا۔
ہم لوگوں نے گھر سے نکلتے ہی ڈولیاں کرایہ کیں، چوک کا راستہ لیا۔ مصاحبین اور نواب صاحب خدا جانے کہاں گئے۔
سنا ہے کہ مصاحبین ایک ایک کر کے راستے ہی سے رخصت ہو گئے۔ نواب کے والد کا ایک قدیم ملازم مخدوم بخش، جس کو نواب صاحب نے بیکار سمجھ کر نوکری سے برطرف کر دیا تھا، راستے میں ملا۔ اس نے حال دریافت کیا اور ان کی بے کسی پر ترس کھا کے اپنے گھر لے آیا۔
نواب صاحب کے گھر سے آنے کے بعد بسم اللہ کے کمرے میں جلسہ ہے۔ میاں حسو، نواب صاحب کے خاص کارکن، مصاحب، دوست، جاں نثار، جہاں نواب کا پسینہ گرے وہاں اپنا خون گرانے والے، تشریف رکھتے ہیں۔ یہ آج ہی کچھ نہیں آئے ہیں، پہلے بھی نواب کے چوری چھپے آیا کرتے تھے، مگر آج کھلے خزانے بڑے ٹھاٹھ سے بیٹھے ہیں۔ اس وقت آپ بسم اللہ جان پر گویا بے شرکتِ احدے و بے مزاحمتِ غیرے قابض و متصرف ہیں۔ نوکری کی گفتگو ہو رہی ہے۔
حسو: دیکھو بسم اللہ جان! ...... نواب سے تو اب کوئی امید نہ رکھو۔ میں، جو کچھ کہو وہ دے دیا کروں، غریب آدمی ہوں، زیادہ تو میری اوقات نہیں۔ جو نواب صاحب دیتے تھے، اس کا نصف بھی مجھ سے ممکن نہیں، مگر ہاں کسی نہ کسی طرح آپ کو خوش رکھوں گا۔
بسم اللہ: غریب آدمی ہوں؟ یہ نہیں کہتے کہ نواب کی دولت کاٹ کاٹ کے گھر میں بھر لی اور پھر ہم سے غریبی بیان ہوتی ہے۔ ایسے غریبوں کو تاؤ تو نو من چربی سے کم نہ نکلے۔
حسو: ہیں ہیں! تم تو ایسا نہ کہو۔ وہ نواب کے پاس تھا ہی کیا جو میں گھر بھر لیتا۔ کیا میری والدہ صاحبہ کے پاس کچھ کم تھا؟
بسم اللہ: آپ کی والدہ بوا فرخندہ نواب سرفراز محل کی خاصہ والیوں میں تھیں نا؟
میر حسو: (جھینپ کر) وہ جو کوئی ہو، جب مری ہیں تو کوئی چار ہزار کا تو زیور چھوڑ کر مری ہیں۔
بسم اللہ: وہ آپ کی بیوی لے کے یار کے ساتھ نکل گئیں۔ آپ کے پلے کیا پڑا؟ میرے آگے ذرا شیخی نہ بگھاریے، مجھے رتی رتی آپ کا حال معلوم ہے۔
حسو: تو والد کے پاس کچھ کم تھا؟
بسم اللہ: والد آپ کے نواب حسن علی خاں کے چڑی ماروں میں تھے۔
حسو: چڑی ماروں میں؟
بسم اللہ: اچھا، وہ مرغ بازوں میں سہی۔
حسو: مرغ بازوں میں تھے؟
بسم اللہ: اچھا، وہ بٹیر باز سہی، تھا تو چڑیا کا کام۔
حسو: لیجیے، آپ تو مذاق کرتی ہیں۔
بسم اللہ: میں کھری کہتی ہوں، اسی سے بری مشہور ہوں۔ اور کہتی بھی نہ، تمہارے چھچھورے پن پر جی جل گیا۔ یوں تو آتے تھے، میں نے کبھی منع نہیں کیا۔ آج ہی تو نواب پر یہ واردات ہوئی، آج ہی آپ نے میرے منہ در منہ نوکری کا پیغام دے دیا۔ ہوش کی دوا کرو۔ تم کیا نوکر رکھو گے۔ یہی ایک مہینہ، دو مہینہ، تین مہینہ سہی، بس!
حسو: چھ مہینے کی تنخواہ جمع کر دوں؟
بسم اللہ: زبان سے؟
حسو: یہ لو (سونے کے جڑاؤ کڑے کی جوڑی کمر سے نکال کے)۔ تمہارے نزدیک کتنے کا مال ہوگا؟
بسم اللہ: میں دیکھوں؟ (کڑے حسو کے ہاتھ سے لے کے اپنے ہاتھوں میں پہن لیے) کل چھنا مل کے لڑکے کو دکھاؤں گی، مگر بنے اچھے ہیں۔ اچھا، تو اب آپ تشریف لے جائیے۔ اس وقت تو مجھے چھٹن باجی نے بلا بھیجا ہے، ٹھہر نہیں سکتی۔ کل اسی وقت آئیے۔
حسو: تو کڑے اتار دیجیے۔
بسم اللہ: یا اللہ! کوئی چوروں سے بیوہار ہے؟ میں تمہارے کڑے کچھ کھا نہ لوں گی۔ اس وقت میرے ہاتھ میں سادی پڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔ اماں جان سے چھپ کے جاتی ہوں، ان سے کڑے مانگوں گی تو کہیں گی کیا کرو گی، اس لیے ذرا ہاتھ میں ڈال لیے، صبح کو لے جانا۔
حسو: کڑے دے دیجیے، میرے نہیں ہیں، نہیں تو کیا بات تھی، تم پر سے صدقے کیے تھے۔
بسم اللہ: تو کیا آپ کی اماں کے ہیں؟ انہوں نے انتقال کیا، پھر بھی آپ کا مال ہے۔
حسو: میں نے یوں ہی تمہیں دکھا دیے تھے، میرا مال نہیں ہے۔
بسم اللہ: جیسے میں پہچانتی نہیں۔ یہ وہی کڑے ہیں جو نواب نے اس دن میرے سامنے گروی رکھنے کو دیے تھے۔
حسو: لو اور سنو! یہ کب؟
بسم اللہ: یہ جب کہ جس دن بہن امراؤ کے مجرے کی فرمائش ہوئی تھی۔ بہن امراؤ نے ضد کی کہ میں پورے سو لوں گی۔ نواب کے پاس خرچ نہ تھا، میرے سامنے صندوقچہ نکال کے کڑے پھینک دیے تھے۔ (پھر میری طرف مخاطب ہو کے) دیکھنا بہن امراؤ، یہ وہی کڑے ہیں نا؟
میں: مجھ سے کیا پوچھتی ہو، کیا تم جھوٹ کہو گی۔
بسم اللہ: لے خشکا کھائیے۔ اب یہ کڑے آپ کو نہ دیے جائیں گے۔ یہ ہمارے نواب کے کڑے ہیں، ہم نے پہچانے۔ اب ہم نہ دیں گے۔
حسو: لو اچھی کہی! اور وہ روپے جو ہم نے دیے ہیں؟
بسم اللہ: روپے تم کہاں سے لائے؟ وہ بھی نواب کا مال تھا۔
حسو: جی سچ! مہاجن سے بیاز و (سودی) نہ لا کے دیے تھے؟
بسم اللہ: اچھا، تو مہاجن کو بھیج دیجیے، ہم اس کو روپے دے دیں گے، آپ ٹہلیے۔
حسو: کڑے تو میں لے کے جاؤں گا۔
بسم اللہ: میں تو نہ دوں گی۔
حسو: تو کچھ زبردستی ہے؟
بسم اللہ: جی ہاں، زبردستی ہے۔ لے اب چپکے سے کھسک جائیے، نہیں تو ......
حسو: اچھا تو رہنے دیجیے، کل ہی دے دیجیے گا۔
بسم اللہ: کل دیکھا جائے گا۔
"دیکھا جائے گا" بسم اللہ نے اس تیور سے کہا کہ میاں حسو کو چپکے سے اٹھ کے چلے جاتے ہی بن پڑی۔ بات یہ تھی کہ نواب صاحب کے چچا نے جب چھبن صاحب کے نوکروں سے حساب فہمی کی ہے، اس وقت جس قدر اسباب جس جس کی معرفت دیا تھا، اس کو سود اور اصل کے روپے دے کے چھڑا لیا۔ حسو سے اس کڑے کی جوڑی کے لیے جب باز پرس کی گئی تو صاف مکر گیا کہ میری معرفت گروی نہیں ہوئے۔ اسی سے میاں حسو کو ردبتی تھی۔
بسم اللہ: (حسو کے چلے جانے کے بعد مجھ سے) دیکھا بہن، یہ بڑا قابو چی ہے۔ نواب کا گھر اسی موذی نے تہس نہس کیا ہے۔ میں مدت سے اس موئے کی تاک میں تھی۔ آج ہی تو داؤں پر چڑھا ہے۔ یہ کڑے میں اس کو کب دیتی ہوں۔ کر ہی کیا سکتا ہے، چوری کا تو مال ہے۔
میں: ہرگز نہ دینا۔ دینا ہے تو نواب کو دے دو، احسان ہوگا۔
بسم اللہ: نواب کو بھی نہ دوں گی۔ بہن، گیارہ سو کی جوڑی ہے، موئے نے سوا دو سو روپے پر ہتھیائی تھی۔ زیادہ بریں نیست، سوا دو سو حوالے کر دوں گی، دس بیس سود کے سہی۔
میں: بھلا مہاجن تمہیں کیوں دینے لگا؟
بسم اللہ: کیسا مہاجن! اسی نے روپے دیے تھے، اور جب بڑے نواب نے پوچھا کیسا مکر گیا۔ اگر یہ کچھ زیادہ ٹرپھس کریں گے تو ان کو کوتوالی کا چبوترہ دکھاؤں گی۔
ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ نواب صاحب تشریف لائے، پا پیادہ، اکیلے، چہرے پر اداسی چھائی ہوئی، آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے۔ نہ وہ شان و شوکت، نہ وہ رعب داب، نہ وہ بے تکلفی۔ چپکے آ کے اک کنارے بیٹھ رہے۔ سچ کہوں، میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے، مگر میں نے اپنے کو روکا۔ مگر واہ ری بسم اللہ! رنڈی ہو تو ایسی ہو۔ آتے کے ساتھ ہی کڑوں کا قصہ چھیڑ دیا۔
بسم اللہ: نواب! دیکھو یہ وہی کڑے کی جوڑی ہے نا جو تم نے اس دن حسو کو گروی کرنے کو دی تھی؟
نواب: وہی ہیں۔ وہ تو مکر گیا تھا کہ میرے ہاتھوں گروی ہی نہیں ہوئے؟
بسم اللہ: کتنے پر گروی ہوئے تھے؟
نواب: یہ تو یاد نہیں، شاید ڈھائی سو یا سوا دو سو، کچھ ایسے ہی تھے۔
بسم اللہ: اور سود کیا تھا؟
نواب: سود کا حساب کس نے آج تک کیا۔ جو چیز گروی ہوئی، پھر اس کے چھڑانے کی نوبت نہیں آئی، سود کا حساب کیا ہوتا۔
بسم اللہ: اچھا تو یہ کڑے میں لے لوں؟
نواب: لے لو۔
بسم اللہ: کہو تو میاں حسو کو مرزا صاحب کے پاس بھیجوں؟
نواب: نہیں، میرے سر کی قسم! ایسا نہ کرنا، سید ہے۔
بسم اللہ: سید ہے؟ اس کے باپ کا پتا نہیں؟
نواب: خیر، وہ تو اپنے منہ سے کہتا ہے۔
میں اپنے دل میں نواب کی ہمت پر آفرین کرنے لگی۔ واہ ری ہمت، کیا کہنا، خاندانی رئیس ہیں نا!
بسم اللہ کی بے مروتی دیکھیے، نواب سے وہی چھٹن جان کے گھر جانے کا بہانہ کر کے ان کو سویرے سے رخصت کر دیا۔ خدا جانے کس سے وعدہ تھا۔ اس واقعے کے دوسرے یا تیسرے دن کا ذکر ہے، میں خانم کے پاس بیٹھی ہوں۔ اتنے میں ایک بوڑھی سی عورت آئی، خانم صاحب کو جھک کے سلام کیا۔ خانم نے بیٹھنے کا اشارہ کیا، سامنے بیٹھ گئی۔
خانم: کہاں سے آئی ہو؟
بڑھیا: کیا بتاؤں کہاں سے آئی ہوں۔ کوئی ہے تو نہیں؟
خانم: بوا، یہاں کون ہے، میں ہوں اور تم ہو اور یہ چھوکری ہے۔ اس کو بات سمجھنے کی تمیز نہیں، کہو۔
بڑھیا: مجھے نواب فخر النساء بیگم صاحب نے بھیجا ہے۔
خانم: کون فخر النساء بیگم صاحب؟
بڑھیا: اے لو، تم نہیں جانتیں، نواب چھبن صاحب ......
خانم: سمجھی، کہو۔
بڑھیا: بیگم صاحب نے مجھے بھیجا ہے۔ آپ بسم اللہ جان کی ماں ہیں نا؟
خانم: ہاں، بات کہو۔
بڑھیا: بیگم صاحب نے کہا ہے کہ چھبن صاحب میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ میں بھی اس پر پروانہ ہوں اور اس کا باپ بھی پروانہ تھا۔ میرے نازوں کا پالا ہے، اور اس کا چچا بھی دشمن نہیں ہے، اپنی اولاد سے بڑھ کر سمجھتا ہے۔ اس کے بھی ایک اکلوتی لڑکی ہے، بچپن کی منگیتر۔ لڑکی پر گالی چڑھ چکی ہے۔ چھبن نے شادی کرنے سے انکار کر دیا، اسی پر چچا کو برا معلوم ہوا۔ میں نے بھی دخل نہیں دیا۔ یہ سب تنبیہ کے لیے کیا گیا ہے۔ تمہاری لڑکی کا عمر بھر کا گھر ہے۔ جو تنخواہ لڑکا دیتا تھا، اس سے دس اوپر مجھ سے لینا، مگر اتنا احسان مجھ پر کرو کہ شادی پر راضی کر دو۔ شادی کے بعد سب جائیداد اسی کی ہے، سوا اس کے اور ہے کون۔ میری اور چچا کی جان و مال کا مالک ہے، مگر اتنا خیال رکھو کہ یہ گھر تباہ نہ ہونے پائے۔ اس میں تمہارا بھی بھلا ہے اور ہمارا بھی۔ آئندہ تم کو اختیار ہے۔
خانم: بیگم صاحب کو میری طرف سے آداب تسلیمات کہنا اور عرض کرنا کہ جو کچھ آپ نے ارشاد فرمایا ہے، خدا چاہے تو وہی ہوگا۔ میں آپ کی عمر بھر کی لونڈی ہوں، مجھ سے کوئی امر خلاف نہ ہوگا، خاطر جمع رکھیے۔
بڑھیا: مگر بیگم صاحب نے کہا ہے کہ چھبن کو اس کی خبر نہ ہو۔ بڑا ضدی لڑکا ہے۔ اگر کہیں معلوم ہو گیا تو ہرگز نہ مانے گا۔
خانم: (ماما سے) کیا مجال! (مجھ سے) دیکھو چھوکری، کہیں کسی سے یہ قصہ نہ لے بیٹھنا۔
میں: جی نہیں۔
اس کے بعد بڑھیا نے علیحدہ لے جا کے خانم سے چپکے چپکے باتیں کیں، وہ میں نے نہیں سنیں۔ ماما کے رخصت کے وقت خانم کو اتنا کہتے سنا۔
خانم: میری طرف سے عرض کرنا کہ اس کی کیا ضرورت تھی۔ ہم لوگ تو قدیمی نمک خوار ہیں۔
بڑھیا کے جانے کے بعد خانم نے بسم اللہ کو بلا بھیجا اور کچھ ایسے دو انچھر کان میں پھونک دیے کہ اب جو نواب صاحب آئے تو وہ آؤ بھگت ہوئی کہ ملازمت کے زمانے میں نہ ہوئی تھی۔
نواب صاحب بیٹھے ہیں، بسم اللہ سے اختلاط کی باتیں ہو رہی ہیں، میں بھی موجود ہوں۔ اتنے میں خانم صاحب خود بسم اللہ کے کمرے کے دروازے پر آ کے کھڑی ہوئیں۔
خانم: اے لوگو، ہم بھی آویں؟
بسم اللہ: (نواب سے) ذرا سرک کے بیٹھو، اماں آتی ہیں۔ (خانم سے) آئیے۔
خانم نے سامنے آتے ہی نواب کو تین تسلیمات کیں۔ میں نے آج کے دن کے سوا خانم کو اس طرح مؤدب ہو کر کسی کو سلام کرتے نہ دیکھا تھا۔
خانم: (نواب سے) حضور کا مزاج کیسا ہے؟
نواب: (گردن جھکا کے) الحمد للہ!
خانم: خدا خوش رکھے! ہم لوگ تو دعا گو ہیں۔ ہزار بڑھ جائیں، مگر پھر بھی وہی ٹکے کی مال زادی، آپ کے ہاتھ کو دیکھنے والی۔ آپ کو خدا نے رئیس کیا ہے۔ اس وقت ایک عرض لے کے حاضر ہوئی ہوں۔ یوں تو بسم اللہ، خدا سلامت رکھے! سال بھر سے آپ کی خدمت میں ہیں، مگر میں نے کبھی آپ کو تکلیف نہیں دی، بلکہ حضور کے سلام کو بہت کم حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہوگا۔ اس وقت ایسی ہی ضرورت تھی جو چلی آئی۔
خانم تو یہ باتیں کر رہی تھیں، بسم اللہ جان ان کا منہ دیکھ رہی ہیں کہ یہ کہتی کیا ہیں۔ میں کسی قدر بات کا پہلو سمجھے ہوئے تھی۔ نواب کی طرف دیکھ رہی ہوں۔ نواب کا یہ حال ہے کہ چہرے سے ایک رنگ جاتا ہے اور ایک آتا ہے۔ آنکھیں جھپنی جاتی ہیں، مگر چپکے بیٹھے ہیں۔
خانم: تو پھر عرض کروں؟
نواب: (بہت ہی مشکل سے) کہیے۔
خانم: (مجھ سے) ذرا بوا حسینی کو بلا لینا۔
میں گئی اور بوا حسینی کو بلا لائی۔
خانم: (بوا حسینی سے) بوا، ذرا دوشالے کی جوڑی تو اٹھا لانا، وہی جو کل بکنے کو آیا ہے۔
"بکنے کو آیا ہے" ان لفظوں نے نواب پر وہی اثر کیا جیسے کسی پر دفعتاً بجلی گر پڑے، مگر بہت ضبط کر کے چپکے سے بیٹھے رہے۔ اتنے میں بوا حسینی دوشالہ لے آئیں۔ کیسا پرمتن زرکار دوشالہ کہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
خانم: (نواب کو دوشالہ دکھا کے) دیکھیے، یہ دوشالہ کل بکنے کو آیا ہے۔ سوداگر دو ہزار کہتا ہے، پندرہ سو تک لوگوں نے لگا دیا ہے، وہ نہیں دیتا۔ میری نگاہ میں سترہ بلکہ اٹھارہ تک مہنگا نہیں ہے۔ اگر حضور پرورش کریں تو بھلا اس بڑھاپے میں آپ کی بدولت ایک دوشالہ تو اوڑھ لوں۔
نواب خاموش بیٹھے رہے۔ بسم اللہ کچھ بولا ہی چاہتی تھیں کہ خانم نے جھڑک کے کہا۔
خانم: ٹھہر لڑکی، تو ہمارے بیچ میں نہ بولنا۔ تو تو آئے دن فرمائش کیا کرتی ہے، ایک فرمائش ہماری بھی سہی۔
نواب پھر چپکے بیٹھے ہیں۔
خانم: اوئی نواب صاحب! نخی سے سوم بھلا جو جلدی دے جواب۔ کچھ تو ارشاد کیجیے، سکوت سے تو بندی کو تسکین نہ ہوگی۔ ہاں نہ سہی، نہیں سہی، کچھ تو کہہ دیجیے۔ میرے دل کا ارمان تو نکل جائے۔
نواب اب بھی چپ ہیں۔
خانم: للہ! حضور جواب دیجیے۔ یوں تو میری حقیقت ہی کیا ہے! موئی بازاری کسبی! مگر آپ ہی لوگوں کی عزت دی ہوئی ہے۔ برائے خدا چھوکریوں کے سامنے تو مجھ بڑھیا کو ذلیل نہ کیجیے۔
نواب: (آب دیدہ ہو کر) خانم صاحب! اس دوشالے کی کوئی اصل نہیں ہے، مگر تم کو شاید میرا حال معلوم نہیں۔ کیا بسم اللہ جان نے کچھ نہیں کہا؟ اور ہاں، امراؤ جان بھی تو اس دن وہیں تھیں۔
خانم: مجھ سے کسی نے بھی کچھ نہیں کہا۔ کیوں، خیر تو ہے؟
بسم اللہ پھر کچھ بولنے کو تھیں کہ خانم نے اشارہ کیا، وہ چپ رہیں، ٹال کے ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔ میں پہلے ہی سے بت بنی بیٹھی تھی۔
نواب: اب ہم اس قابل نہیں رہے جو آپ کی فرمائشوں کو پورا کریں۔
خانم: آپ کے دشمن اس قابل نہ رہے ہوں! اور میں ایسی چھچھوری نہیں جو روز روز فرمائش کیا کروں۔ فرمائش کریں یا نہ کریں، بسم اللہ کریں! بھلا میں بوڑھی آڑھی، میری فرمائش کیا اور میں کیا!
یہ کہہ کر خانم نے ایک آہِ سرد بھری: "ہائے تقدیر! اب ہم اس لائق ہو گئے کہ ایسے ایسے رئیس ایک ذرا سے چیتھڑے کے لیے ہم سے منہ چھپاتے ہیں۔"
میں دیکھ رہی تھی کہ خانم کا ایک ایک فقرہ نواب کے دل پر نشتر کا کام دے رہا تھا۔
نواب: خانم صاحب! آپ سب لائق ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں، اب میں اس لائق نہیں رہا جو کسی کی فرمائش پوری کروں۔
اس کے بعد نواب نے اپنی تباہی کا مختصر حال کہا۔
خانم: خیر میاں! اس لائق تو آپ نہیں رہے کہ ایک ادنیٰ سی فرمائش پوری کریں، پھر رنڈی کے مکان پر آنا کیا فرض تھا؟ حضور کو نہیں معلوم کہ بیسوائیں چار پیسے کی میت ہوتی ہیں۔ کیا آپ نے یہ مثل نہیں سنی کہ رنڈی کس کی جورو ...... ہم لوگ مروت کریں تو کھائیں کیا؟ یوں آئیے، آپ کا گھر ہے، میں منع نہیں کرتی، مگر آپ کو اپنی عزت کا خود ہی خیال چاہیے۔
یہ کہہ کے خانم فوراً کمرے سے چلی گئیں۔
نواب: واقعی مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔ اب ان شاء اللہ نہ آؤں گا۔
یہ کہہ کے وہ اٹھنے کو تھے کہ بسم اللہ نے دامن پکڑ کے بٹھا لیا۔
بسم اللہ: اچھا تو اس کڑے کی جوڑی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
نواب: (کسی قدر ترش ہو کر) میں نہیں جانتا۔
بسم اللہ: اے واہ! تم تو بالکل خفا ہو گئے، جاتے کہاں ہو، ٹھہرو۔
نواب: نہیں بسم اللہ جان! اب مجھ کو جانے دو۔ اب میرا آنا بے کار ہے۔ جب خدا ہمارے دن پھیرے گا تو دیکھا جائے گا۔ اور اب کیا دن پھریں گے!
بسم اللہ: میں تو نہ جانے دوں گی۔
نواب: تو کیا اپنی اماں سے جوتیاں کھلواؤ گی؟
بسم اللہ: (مجھ سے) ہاں سچ تو ہے بہن امراؤ! آج یہ بڑی بی کو ہوا کیا تھا۔ برسوں ہو گئے، میرے کمرے میں آج تک جھانکی تک نہیں۔ آج آئیں بھی تو قیامت برپا کر گئیں۔ بھئی اماں جان چاہے خفا ہو جائیں، چاہے خوش ہوں، میں نواب سے رسم ترک نہیں کر سکتی۔ آج نہیں ہے ان کے پاس، نہ سہی۔ ایسی بھی کیا آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لینا۔ آخر یہی نواب ہیں جن کی بدولت ہزاروں روپے اماں جان نے پائے۔ آج اگر زمانہ ان سے پھر گیا تو کیا ہم بھی طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں، گھر سے نکال دیں؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ اب اگر اماں زیادہ تنگ کریں گی تو بہن امراؤ، میں سچ کہتی ہوں، نواب کا ہاتھ پکڑ کر کسی طرف کو نکل جاؤں گی۔ لو میں نے اپنے دل کی بات کہہ دی۔
میں بسم اللہ کی باتیں بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی، ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔
بسم اللہ: اچھا نواب! تم کہاں رہتے ہو؟
نواب: کہاں بتاؤں؟
بسم اللہ: آخر کہیں تو؟
نواب: تحسین گنج میں مخدوم بخش کے مکان پر رہتا ہوں۔ افسوس، میں نہ جانتا تھا کہ مخدوم ایسا نمک حلال آدمی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں اس سے بہت شرمندہ ہوں۔
میں: یہ وہی مخدوم بخش ہے نا جو آپ کے والد کے وقت سے نوکر تھا، جس کو آپ نے موقوف کر دیا تھا؟
نواب: ہاں وہی مخدوم بخش۔ کیا کہوں اس وقت وہ کیسا کام آیا۔ خیر، اگر خدا نے چاہا ......
اتنا کہہ کے نواب کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر پڑے۔ اس کے بعد نواب صاحب بسم اللہ کے ہاتھ سے دامن چھڑا کے کمرے کے باہر چلے گئے۔ میرا ارادہ تھا کہ نواب سے چلتے وقت کچھ باتیں کروں گی، اور اسی لیے ان کے ساتھ ہی اٹھی تھی، مگر وہ اس قدر جلد زینے سے اتر گئے کہ میں کچھ نہ کہہ سکی۔ نواب کے تیور اس وقت بہت برے تھے۔ خانم کی باتوں نے نواب کے دل پر سخت اثر کیا تھا۔ ان کی حالت بالکل مایوسی کی تھی۔ اگرچہ مجھے معلوم تھا کہ یہ سب باتیں جو خانم نے آج کی ہیں، وہ سب اس فہمائش کی تمہید ہیں جو اور کسی وقت پر موقوف رکھی گئی ہے، مگر مجھے بہت ہی تشویش تھی کہ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کچھ کھا کے سو رہیں تو اور غضب ہو۔
سرِ شام میں اور بسم اللہ دونوں سوار ہو کے تحسین گنج گئے۔ مخدوم بخش کا مکان بڑی مشکل سے ملا۔ کہاروں نے اس کے دروازے پر آواز دی۔ ایک چھوٹی سی لڑکی اندر سے نکلی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مخدوم بخش گھر پر نہیں ہے۔ نواب کو پوچھا، اس نے کہا وہ صبح سے کہیں گئے ہوئے ہیں، ابھی تک نہیں آئے۔ دو گھنٹے تک انتظار کیا، نہ نواب صاحب آئے نہ مخدوم بخش۔ آخر مایوس ہو کر گھر چلے آئے۔
دوسرے دن صبح کو مخدوم بخش نواب کو ڈھونڈتا ہوا آیا۔ معلوم ہوا کہ رات کو بھی اس کے مکان پر نہیں گئے۔ شام کو ان کی والدہ کی ماما، وہی بڑھیا جو ایک دن خانم کے پاس آئی تھی، روتی پیٹتی آئی۔ اس سے بھی یہی خبر ملی کہ نواب کا کہیں پتا نہیں ہے۔ بیگم صاحب نے روتے روتے اپنا عجب حال کیا، بڑے نواب سخت متفکر ہیں۔ اس واقعے کو کئی دن گزر گئے اور نواب چھبن صاحب کا کہیں پتا نہ ملا۔
اس واقعے کے چوتھے پانچویں روز چھبن صاحب کی انگوٹھی نخاس میں بکتی ہوئی پکڑی گئی۔ بیچنے والے کو علی رضا بیگ کوتوال کے پاس لے گئے۔ اس نے کہا، مجھے امام بخش ساقی کے لڑکے نے بیچنے کو دی ہے۔ امام بخش ساقی کا لڑکا تو نہ ملا، خود امام بخش پکڑ بلایا گیا۔ پہلے امام بخش صاف مکر گیا کہ میں اس انگوٹھی کو نہیں جانتا، آخر مرزا نے خوب ڈانٹا اور دھمکایا تو قبول دیا۔
امام بخش: حضور! میں لبِ دریا لوہے کے پل کے پاس حقہ پلاتا ہوں۔ جو لوگ دریا نہانے جاتے ہیں، ان کے کپڑوں کی رکھوالی کرتا ہوں۔ پانچ دن کا ذکر ہے، ایک شریف زادے، کوئی بیس بائیس برس کی عمر ہوگی، گورے گورے سے تھے، بہت خوبصورت نوجوان تھے، سرِ شام پکے پل پر نہانے آئے۔ کپڑے اتار کے میرے پاس رکھوا دیے، مجھ سے لنگی لے کے باندھی، خود دریا میں کود پڑے۔ تھوڑی دیر تک نہایا کیے، پھر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اور سب لوگ دریا سے نہا نہا کے نکلے، کپڑے پہن پہن کے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے، وہ صاحب نہ آئے۔ میں یہ سمجھا کہ کسی طرف تیرتے ہوئے نکل گئے ہوں گے۔ بڑی دیر ہو گئی۔ میں اس آسرے میں کہ اب آتے ہیں، اب آتے ہیں، پہر رات گئے تک بیٹھا رہا۔ آخر کو مجھے یقین ہو گیا کہ ڈوب گئے۔ اب میں نے دل میں یہ سوچا کہ اگر کسی کو خبر کرتا ہوں تو جھگڑوں میں پھنس جاؤں گا، کھنچا کھنچا پھروں گا۔ اس سے بہتر ہے کہ چپ ہو رہوں۔ ان کے کپڑے اٹھا کے گھر پر لے آیا۔ جیب میں سے یہ انگوٹھی نکلی، اور ایک اور انگوٹھی ہے، اس میں خدا جانے کیا لکھا ہے۔ میں نے مارے ڈر کے آج تک کسی کو نہیں دکھائی۔ میں تو اس انگوٹھی کو بھی نہ بیچتا، مگر میرا لڑکا شہدا ہو گیا ہے، وہ چرا کے لے آیا۔
مرزا علی بیگ نے دو سپاہی کوتوالی سے ساتھ کیے، وہ انگوٹھی اور کپڑے اس کے گھر سے منگوائے۔ انگوٹھی مہر کی تھی۔ مرزا علی رضا بیگ نے بڑے نواب کو اس سانحے کی خبر کی۔ کپڑے اور دونوں انگوٹھیاں گھر بھجوا دیں۔ امام بخش کو سزا ہو گئی۔
بسم اللہ: ہا! آخر نواب چھبن صاحب تو ڈوب گئے نا؟ میں تو سچ کہوں، اماں جان کی گردن پر ان کا خون ہوا۔
میں: افسوس! میں تو اسی دن دل میں کھٹک گئی تھی، اسی لیے اس دن ان کے ساتھ اٹھی تھی کہ کچھ سمجھا دوں گی، مگر وہ زینے سے اتر ہی گئے۔
بسم اللہ: ان کے سر پر قضا سوار تھی۔ خدا غارت کرے بڑے نواب کو! نہ ان کو جائیداد سے بے حق کرتے، نہ وہ اپنی جان دیتے۔
میں: خدا جانے اماں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
بسم اللہ: سنا ہے بے چاری دیوانی ہو گئی ہیں۔
میں: جو نہ ہو کم ہے۔ یہی تو ایک اللہ آمیں کا لڑکا تھا۔ ایک تو بے چاری رانڈ بیوہ، دوسرے یہ آفت ان کے سر پر ٹوٹ پڑی۔ سچ پوچھو تو ان کا گھر ہی تباہ ہو گیا۔
رسوا: تو نواب چھبن صاحب کو آپ نے ڈبو ہی دیا۔ اچھا، اس موقع پر ایک بات اور مجھے پوچھ لینے دیجیے۔
میں: پوچھیے۔
رسوا: نواب صاحب تیرنا جانتے تھے یا نہیں؟
میں: کیا معلوم، یہ آپ کیوں پوچھتے ہیں؟
رسوا: اس لیے کہ مجھے میر مچھلی صاحب نے ایک نکتہ بتایا تھا کہ جو شخص تیرنا جانتا ہے وہ اپنے قصد سے نہیں ڈوب سکتا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.