
Глава 6 из 20
ليلة المطر؛ راشد علي
The Rainy Night; Rashid Ali
۵: برسات کی رات اور راشد علی
ایک شاطر چور دل میرا چرا کے لے گیاپاسباں کم بخت سب سوتے کے سوتے رہ گئے
برسات کے دن ہیں۔ آسمان پر گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ پانی تل دھار اور پر دھار برس رہا ہے۔ بجلی چمک رہی ہے، بادل گرج رہا ہے۔ میں بوا حسینی کی کوٹھری میں اکیلی پڑی ہوں۔ بوا حسینی خانم کے ساتھ حیدری کے گھر گئی ہوئی ہیں۔ چراغ گل ہو گیا، اندھیری وہ کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھتا۔
اور کمروں میں جشن ہو رہے ہیں۔ کہیں سے گانے کی آواز آ رہی ہے، کہیں قہقہے اڑ رہے ہیں، ایک میں ہوں کہ اس اندھیری کوٹھری میں اپنی تنہائی پر رو رہی ہوں۔ کوئی آس پاس نہیں ہے۔ دل پر جو گزر رہی ہے، دل ہی جانتا ہے۔ جب بجلی چمکتی ہے، مارے ڈر کے دولائی سے منہ ڈھانپ لیتی ہوں۔ جب گرج کی آواز آتی ہے، کانوں میں انگلیاں دے لیتی ہوں۔ اسی عالم میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں معلوم ہوا جیسے کسی نے زور سے میرا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔ میری گھگھی بندھ گئی۔ منہ سے آواز تک نہ نکلی۔ آخر بے ہوش ہو گئی ...... صبح کو چور کی ڈھونڈیا ہوئی۔ وہ کہاں ملتا ہے! خانم منہ تھوتھائے بیٹھی ہیں، بوا حسینی بڑبڑاتی پھرتی ہیں۔ میں ٹھگ ماری سی چپکی بیٹھی ہوں۔ سب پوچھ پوچھ کے تھک گئے، مگر مجھے کچھ معلوم ہو تو بتاؤں۔
رسوا: یہ نہیں کہتیں کہ اگر معلوم بھی ہو تو کیوں بتاؤں۔
امراؤ: خیر، اب حاشیے نہ چڑھائیے۔ سنتے جائیے۔
خانم کی اس دن کی مایوسی اور بوا حسینی کا اداس چہرہ جب مجھے یاد آتا ہے تو بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔
رسوا: کیوں نہ ہنسی آئے، ان کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں اور آپ کا مذاق ہو گیا۔
امراؤ: امیدیں خاک میں مل گئیں؟ خانم کو آپ نہیں جانتے، ایک ہی لکھوا بیسوا تھیں۔ اس معاملے کو اس طرح دبا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا، اور التیام کی وہ تدبیریں کیں کہ شاید و باید۔
اب کسی آنکھ کے اندھے اور گانٹھ کے پورے کی تلاش ہوئی۔ آخر ایک ہدہد پھنس ہی گیا۔ ان دنوں ملکِ آئین سے ایک صدر الصدور کے صاحب زادے طالب علمی کے لیے لکھنؤ تشریف لائے تھے۔ گھر سے خوش، والدِ مرحوم ان کے رشوت نذرانے کے روپے سے ایک بڑا علاقہ ان کے صرفِ بے جا کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ چند روز یہاں آ کر اچھے رہے، پھر جو لکھنؤ کی ہوا لگی، علم تماش بینی میں طاق اور فنِ بے غیرتی میں مشاق ہو گئے۔ اسمِ شریف راشد علی تھا۔ راشد تخلص کرتے تھے، لکھنؤ کے کسی استاد نے مرشد بنا دیا۔ اس تخلص پر آپ کو بہت ہی فخر تھا۔
وطن سے جو ملازم ہم راہ آئے تھے وہ سب رکھن میاں کہتے تھے۔ لکھنؤ والوں نے ان کو راجا کا لقب دیا، مگر اس نام اور القاب میں کسی قدر دیہاتیت تھی اور آپ لکھنؤ کی وضع قطع پر مرتے تھے، اس لیے تھوڑے ہی دنوں میں نواب صاحب بن گئے۔ جب گھر سے آئے تھے تو خاصی داڑھی منہ پر تھی، لکھنؤ کی ہوا لگتے ہی پہلے کترواں ہوئی، پھر خشخاشی اور تھوڑے دنوں کے بعد بالکل صفایا ہو گیا۔
داڑھی منڈانے سے چھوٹا سا چہرہ کیسا بدنما نکل آیا، مگر آپ اسے خوبصورتی سمجھتے تھے۔ سیاہ رنگ، چیچک کے داغ، بھدی سی ناک، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، گال پچکے ہوئے، تنگ پیشانی، کوتاہ گردن، ٹھنگنا سا قد، غرض یہ کہ بہمہ صفت موصوف تھے، مگر آپ اپنے کو یوسفِ ثانی سمجھتے تھے۔ پہروں آئینہ سامنے رہتا تھا۔ مونچھیں اس قدر مروڑی گئیں کہ آخر چوہیا کی دم ہو گئیں۔ بال بڑھائے گئے، گھونگھر بنایا گیا، نکے دار ٹوپی سر پر رکھی گئی، اونچی چولی کا انگرکھا ڈانٹا گیا، بڑے پائنچوں کا پاجامہ پہنا گیا۔ یہ سب ٹھاٹھ رنڈیوں کی دربارداری کے لیے کیا گیا تھا۔
اول تو خود ہی طبیعت بہت رسا تھی، دوسرے لائق احباب کی وساطت سے چند ہی روز کے بعد اونچے اونچے کمروں پر رسائی ہو گئی۔ رسائی کیسی، بے تکلفی بڑھ گئی۔ چھٹن جان سے مادر پدر ہوتا ہے، بکن میمیں لگاتی ہیں، حسنا نے جوتا کھینچ مارا، آپ ہیں کہ ٹھٹھی ہنس رہے ہیں۔ یہ سب کچھ تھا، مگر نائکاؤں کا بڑا ادب کرتے تھے۔ جس رنڈی سے ایک شب کے لیے بھی واسطہ ہو گیا، اس کی نائکہ کو مجمعِ عام میں اماں جان کہنا اور جھک کے تسلیم کرنا عین سعادت مندی تھی۔ اس میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ یاروں پر ظاہر ہو جاتا تھا کہ آپ یہاں مشرف ہو چکے ہیں۔
سرِ شام دو تین گھڑی رات گئے تک خانم صاحب کا دربار کرتے تھے۔ ان کی ہر ایک نوچی کی خدمت میں نیاز حاصل تھا۔ علمِ موسیقی میں بھی آپ کو کمال تھا۔ ٹھمریاں خود تصنیف فرماتے، خود ہی دھن بنا کے گاتے تھے، خود ہی بھاؤ بتاتے جاتے تھے۔ اور تو جو کچھ تھا، منہ سے طبلہ خوب بجاتے تھے۔ یاروں نے خوب ہی بنا لیا تھا۔ آپ کے اشعار پر لوگوں نے اتنی تعریف کی کہ آپ کو فخرِ آتش و ناسخ بنا دیا۔ مشاعروں میں ڈریا لے گئے۔ آپ سے غزل پڑھوائی، تمام مشاعرہ چونک گیا۔ ریختی گویوں سے پہلے آپ کا کلام پڑھا جاتا تھا۔ ہنستے ہنستے لوگوں کے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے۔ لوگ بناتے تھے، آپ خوش ہوتے تھے، جھک جھک کے تسلیمیں کرتے تھے۔
وطن سے بے غل و غش روپیہ چلا آتا تھا۔ ان کی والدہ بے چاری اس خیال سے کہ لڑکا پڑھنے گیا ہے، مولوی بن کے آئے گا، جو کچھ یہ لکھ بھیجتے تھے، بھیج دیتی تھیں۔ لکھنؤ کے بے فکرے، خوش پوشاک، عیش پسند، مفت خورے آپ کے ہمراہ رہتے تھے۔ انہیں لوگوں کے کہنے سننے پہ کچھ خیال پیدا ہوا۔ اس خیال نے ترقی کرتے کرتے اشتیاق تک نوبت پہنچائی۔ آخر کو عشق اور اس کے بعد جنون ہو گیا۔ ادھر خانم نے کھنچاؤ کیا۔ خانم کا یہ کہنا "نا صاحب! ابھی وہ کم سن ہے"، اور ان کی التجا، منت وزاری، بے قراری آج تک مجھے یاد ہے۔ آخر دعا تعویذ کی تاثیر اور غم خواروں کی دوا دوش سے پانچ ہزار روپے پر توڑ ہوا۔ اس روپے کے لینے کے لیے آپ کو چند روز کے لیے وطن جانا پڑا۔ ماں سے چھپا کے دو گاؤں آپ نے رہن کر دیے۔ بیس پچیس ہزار روپے لے کے لکھنؤ آئے۔ پانچ توڑے گن دیے۔
روپیہ عین المال دیوان جی کی معرفت خانم کے خزانۂ عامرہ میں داخل ہوا۔ بوا حسینی نے پاؤں پھیلائے، پانچ سو روپے نذر و نیاز کے نام سے لے مریں۔ خلاصہ یہ میں آپ کے سر منڈھ دی گئی۔ چھ مہینے تک آپ لکھنؤ میں رہے، سو روپے ماہوار دیتے تھے، فرمائش کا ذکر نہیں۔ جو کچھ مجھے خفیہ دیا وہ بوا حسینی کے پاس رہتا تھا، خانم کو اس کی خبر نہ تھی۔ اب میں گویا آزاد ہو گئی۔ دو مہریاں، خدمت گار میرے لیے خاص ملازم ہوئے۔ پھاٹک کے پاس والا کمرا میرے رہنے کے لیے سجا دیا گیا۔ دو چار مرد آدمی، شریف زادے، نواب زادے میرے پاس بھی آ کر بیٹھنے لگے۔
گل چینِ اول گوہر مرزا مجھ سے ہر زمانے میں برابر ملتا رہا۔ خانم اور بوا حسینی اس کی صورت سے جلتی تھیں۔ مجھے محبت تھی، اس لیے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ ادھر گوہر مرزا کے والد نے انتقال کیا، جو آمدنی وہاں سے تھی وہ بند ہو گئی۔ بنو بڑھیا ہو چکی تھیں، کوئی پوچھتا نہ تھا، اس لیے گوہر مرزا کے صرف کی خبر گیری میرے ذمہ ہی تھی۔
سب رنڈیوں کا قاعدہ ہے کہ ایک نہ ایک کو اپنا بنا رکھتی ہیں۔ ایسے شخص سے بہت زیادہ فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب کوئی نہ ہوا تو اسی سے دل بہلایا۔ سودے سلف کا آرام رہتا ہے۔ آدمی سے منگاؤ تو کچھ نہ کچھ کھا جائے گا۔ یہ مارے خیر خواہی کے اچھی سے اچھی چیز شہر بھر سے ڈھونڈ کے لاتے ہیں۔ بیمار پڑو تو حد سے زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ طرح طرح کے آرام دیتے ہیں۔ رات بھر پاؤں دباتے ہیں۔ صبح کو دوا بنا کے پلاتے ہیں۔ حکیم صاحب سے حال کہنے جاتے ہیں۔ دوست آشناؤں میں تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔ چڑکٹ پھنسا کے لاتے ہیں۔ جہاں شادی بیاہ ہوا، ناچ کا انتظام اپنے ذمے لے کے مجرے میں انہی کو لے جاتے ہیں۔ محفل میں بیٹھ کے اہلِ محفل کو متوجہ کرتے ہیں۔ وہ ناچ رہی ہے، یہ تال دیتے جاتے ہیں۔ ہر سم پر آہ کرتے ہیں، ہر تال پر واہ واہ کہتے ہیں۔ وہ بھاؤ بتا رہی ہے، یہ شرح کرتے جاتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے اچھے سے اچھا کھانا ملتا ہے۔ خاطر مدارات اور رنڈیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ انعام و اکرام سوا ملتا ہے۔ اگر کسی رئیس امیر سے ملاقات ہو گئی، انہیں کی بدولت اس کو لطفِ رقابت حاصل ہوتا ہے۔ ادھر وہ چاہتے ہیں کہ رنڈی ہم کو چاہنے لگے، ادھر رنڈی جان جان کے ان کا کلمہ بھر رہی ہے۔ کبھی یہ فقرہ: "صاحب! میں ان کی پابند ہوں، نہیں معلوم آپ سے کیونکر ملتی ہوں۔ اب ان کے آنے کا وقت ہے، مجھے جانے دیجیے۔ وہ تو ہمیشہ کے ہیں، آپ اس طرح کیا نباہیے گا۔"
تماش بین ان سے دبتے ہیں۔ اگر کسی سے کچھ تکرار ہوئی، یہ حمایت کو مستعد۔ شہر کے بانکے ترچھوں سے ملاقات، بات کی بات میں پچاس ساٹھ آدمی جمع ہو سکتے ہیں۔ تماش بین ایک طرف، خود نائکہ پر دباؤ رہتا ہے۔ ہر وقت یہ خوف لگا رہتا ہے رنڈی ان کو پیار کرتی ہے، کہیں ایسا نہ ہو ان کے ساتھ نکل کے گھر جا بیٹھے۔
امیر جان کاظم علی پر مرتی تھیں۔ برسوں اپنے پاس سے روپیہ دیا۔ ایک مرتبہ پانچ سو کے کڑے اتار کے دے دیے اور صبح کو غل مچا دیا کوئی اتار کے لے گیا۔
ایک دفعہ جھالے کی ایک فرد گیارہ سو کے جوڑ کی دے دی اور کہہ دیا کہ عیش باغ کے میلے میں کان سے گر گئی۔ اسی طرح ہزاروں روپے کا سلوک کیا۔ گھر بھر کی روٹیاں امیر جان کی بدولت تھیں۔
خورشید پیارے صاحب پر جان دیتی تھیں۔ بسم اللہ کے کوئی آشنا نہ تھا، طبیعت میں سفلہ پن تھا، کسی پر بند نہ تھیں۔ اوروں کا ذکر کیا، خانم صاحب پچاس پچپن برس کے سن میں میر اولاد علی پر جان دیتی تھیں۔ میر صاحب کا سن اٹھارہ انیس برس کا تھا۔ صورت دار تھے، جوان تھے، کسرتی بدن، اچھی اچھیوں کی نگاہ پڑتی تھی۔ خانم کا رعب غالب تھا، کیا مجال کوئی بات کر سکے۔ بے چارے غریب آدمی تھے، نانِ شبینہ کو محتاج۔ خانم کی بدولت سارا کنبہ پرورش پاتا تھا۔ ڈیڑھ ہزار روپے لگا کے شادی کر دی، مگر برات کی رات کے سوا میر صاحب کو کبھی شب کو گھر میں سونا نصیب نہیں ہوا۔ دن رات یہیں رہتے تھے، گھڑی دو گھڑی کو گھر بھی ہو آتے تھے۔
ایک اور مرزا صاحب، کوئی ستر برس کا سن، کمر جھکی ہوئی، نہ منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت، خانم صاحب کے قدیم آشناؤں میں تھے۔ اب ان سے کوئی واسطہ نہ تھا، مگر گھر والوں کی طرح رہتے تھے۔ صبح شام کھانا خانم کے ساتھ کھاتے تھے۔ کپڑا خانم بنوا دیتی تھیں۔ افیم، گنا، ریوڑیاں، ان سب اخراجات کا بار خانم کے سر تھا۔ ایک دن ہم لوگ خانم صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، خورشید جان غم زدہ صورت بنائے بیٹھی ہیں۔ کیوں؟ پیارے صاحب کی شادی ہوتی ہے، ان پر غم سوار ہے۔ خانم نے براہِ فہمائش کہا: "جاؤ چھوکریو! نہیں معلوم اس زمانے کی محبتیں کس قسم کی ہیں! جیسی رنڈیاں ویسے ان کے آشنا۔ ایک ہمارا زمانہ تھا۔ دیکھو (مرزا صاحب کی طرف اشارہ کر کے) ایک یہی مرد آدمی بیٹھے ہیں، جوانی میں مجھ سے آشنائی ہوئی، ماں باپ نے شادی ٹھہرائی، آپ مانجھے کا جوڑا پہن کے مجھے دکھانے آئے۔ میں نے مانجھے کے جوڑے کے پرزے پرزے کر دیے، ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی کہ میں تو نہ جانے دوں گی۔ اس کو چالیس برس کا زمانہ گزرا، آج تک تو گھر نہیں گئے۔ کہو ہے کوئی ایسا تمہارا بھی؟" سب نے سر جھکا لیا۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.