Urdu in Translation
Search

Chapter 20 of 20

尾声

Epilogue

اختتامیہ

米尔扎·穆罕默德·哈迪·鲁斯瓦

Script
Size

نہ پوچھ نامۂ اعمال کی دل آویزیتمام عمر کا قصہ لکھا ہوا پایا

مرزا رسوا صاحب! جب آپ نے میری سوانح عمری کا مسودہ مجھے نظر ثانی کے لیے دیا تھا، مجھے ایسا غصہ آیا کہ جی چاہتا تھا پرزے پرزے کر کے پھینک دوں۔ بار بار خیال آتا کہ زندگی میں کیا کم رسوا ہی ہوئی کہ اس کا افسانہ بعد مرنے کے بھی باقی رہے کہ لوگ اس کو پڑھیں اور مجھ کو لعنت ملامت کریں۔ مگر مزاج کی تساہلی اور آپ کی محنت کے لحاظ نے ہاتھ روک لیا۔

اتفاقاً کل شب کو بارہ بجے کے قریب سوتے سوتے آنکھ کھل گئی۔ میں حسب معمول کمرے میں تنہا تھی۔ مامائیں، خدمت گار سب نیچے کے مکان میں سو رہے تھے۔ میرے سرہانے لیمپ روشن تھا۔ پہلے تو بڑی دیر تک کروٹیں بدلا کی۔ چاہتی تھی سو جاؤں مگر کسی طرح نیند نہ آئی۔ آخر اٹھی، پان لگا کر کھایا۔ ماما کو پکارا، حقہ بھروایا، پھر پلنگ پر جا لیٹی۔ حقہ پینے لگی۔ جی میں آیا کوئی کتاب دیکھوں۔ بہت سے قصے کہانی کی کتابیں سرہانے الماری میں رکھی تھیں۔ ایک ایک کو اٹھا کے ورق الٹے پلٹے، مگر وہ سب کئی کئی مرتبہ کی دیکھی ہوئی تھیں۔ جی نہ لگا۔ بند کر کے رکھ دیں۔ آخر اسی مسودے پر ہاتھ پڑا۔ خفقان کی شدت تھی۔ سچ مچ میں نے اس کے چاک کرنے کا مصمم قصد کر لیا۔ چاک ہی کیا چاہتی تھی کہ یہ معلوم ہوا جیسے کان میں کوئی کہہ رہا ہے۔ "اچھا امراؤ بالفرض اسے تم نے پھاڑ کے پھینک دیا، جلا دیا، تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ تمام عمر کے واقعات، جو خدائے عادل و توانا کے حکم سے فرشتوں نے مفصل اور مشرح لکھے ہیں، انہیں کون مٹا سکتا ہے۔"

اس غیبی آواز سے میرے ہاتھ پاؤں لرزنے لگے۔ قریب تھا کہ مسودہ ہاتھ سے گر پڑے، مگر پھر میں نے اپنے تئیں سنبھالا۔ چاک کرنے کا خیال تو بالکل دل سے محو ہو گیا۔ جی چاہا جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دوں۔ پھر ایک بار یوں ہی بلا قصد پڑھنا شروع کیا۔ پہلا صفحہ جب تمام ہو گیا ورق الٹا۔ دو چار سطریں اور پڑھیں۔ اس وقت مجھے اپنی سرگزشت سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی کہ جس قدر پڑھتی جاتی تھی، جی چاہتا تھا اور پڑھوں اور قصوں کو پڑھنے میں مجھے ایسا لطف کبھی نہ آیا تھا، کیوں کہ ان کے پڑھتے وقت یہ خیال پیش نظر رہتا تھا کہ یہ سب بنائی ہوئی باتیں ہیں، درحقیقت کوئی اصل نہیں۔ یہی خیال قصے کو بے مزا کر دیتا تھا۔ میری سوانح عمری میں جو امور آپ نے قلم بند کیے ہیں، وہ سب مجھ پر گزرے ہیں۔ اس وقت وہ سب گویا میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ ہر واقعہ اصلی حالت میں نظر آتا تھا اور اس سے طرح طرح کے اثر میرے دل و دماغ پر طاری ہوتے تھے، جس کا بیان بہت ہی دشوار ہے۔ اگر کوئی مجھے اس حالت میں دیکھتا تو اس کو میری دیوانگی میں کوئی شک نہ رہتا۔ کبھی تو میں بے اختیار ہنس پڑتی تھی۔ کبھی ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے تھے۔ غرضیکہ عجیب و غریب کیفیت تھی۔ آپ نے فرمایا تھا۔ "جا بجا بناتی جانا۔" یہاں اس کا ہوش کسے تھا۔ پڑھتے پڑھتے صبح ہو گئی۔ اب میں اٹھی، وضو کیا، نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر سو رہی۔ صبح کو کوئی آٹھ بجے آنکھ کھلی۔ ہاتھ منہ دھو کے پڑھنے لگی۔ بارے سرِ شام تک سارا مسودہ پڑھ چکی۔

تمام قصے میں وہ تقریر آپ کی مجھے بہت ہی دلچسپ معلوم ہوئی جہاں آپ نے نیک بختوں اور خراب عورتوں کا مقابلہ کر کے ان کا فرق بتایا ہے۔ واقعی نیک بخت عورتوں کو جس قدر فخر ہو زیبا ہے، اور ہم ایسی بازاریوں کو ان کے اس فخر پر بہت ہی رشک کرنا چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال آیا کہ اس باب میں بخت و اتفاق کو بہت کچھ دخل ہے۔ میری خرابی کا سبب وہی دلاور خاں کی شرارت تھی۔ نہ وہ مجھے اٹھا لاتا اور نہ اتفاق سے خانم کے ہاتھ فروخت ہوتی، نہ میرا یہ لکھا پورا ہوتا۔ جن امور کی برائی میں اب مجھے کوئی شبہ نہیں رہا اور اسی لیے ایک مدت ہوئی کہ میں ان سے بیزار اور تائب ہوں، اس زمانے میں ان کی حقیقت مجھے کسی طرح نہیں معلوم ہو سکتی تھی۔ نہ ایسا کوئی قانون مجھے بتایا گیا تھا کہ میں ان سے اجتناب کرتی، اور اگر ایسا نہ کرتی تو مجھے سزا دی جاتی۔ میں خانم کو اپنا مالک اور حاکم تصور کرتی تھی، ان سے بہت ڈرتی تھی اور حتی الامکان ایسا کوئی کام نہ کرتی تھی جو ان کی مرضی کے خلاف ہو۔ اور اگر کرتی بھی تو بہت چھپا کے، تاکہ ان کی مار اور جھڑکیوں سے بچ سکوں۔ اگرچہ خانم نے مجھے زندگی بھر پھول کی چھڑی بھی نہیں چھوائی، مگر خوف غالب تھا۔

جن لوگوں میں میں نے پرورش پائی تھی، جو ان کا طریقہ تھا، وہی میرا بھی تھا۔ میں نے اس زمانے میں کبھی کسی مذہبی عقیدے پر غور نہیں کیا اور میرا خیال ہے کوئی ایسی حالت میں نہ کرتا۔

ارضی و سماوی حادثے جن کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، مگر جب واقع ہوتے ہیں تو دلوں میں ایک خاص قسم کی دہشت سما جاتی ہے۔ مثلاً زور سے بادل کا گرجنا، بجلی کا چمکنا، آندھیوں کا آنا، اولوں کا گرنا یا زلزلے کا آنا، سورج گہن یا چاند گہن، قحط سالی، وبا وغیرہ ایسے امور اکثر خدائی غضب کی علامتیں سمجھی جاتی تھیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ لوگوں کے بعض اعمالوں کی وجہ سے وہ رفع دفع ہو گئیں، مگر یہ بھی دیکھا کہ بہت سی آفتیں دعا، تعویذ، ٹوٹکے کسی بات سے نہ ٹلیں۔ ایسے امور کو لوگ خدا کی مرضی، تقدیرِ آسمانی کی طرف منسوب کر دیا کرتے ہیں۔ مذہبی احکام مجھ کو مفصل نہ پہنچے تھے اور نہ ثواب عذاب کا مسئلہ اچھی طرح سمجھایا گیا تھا۔ اس لیے ان باتوں کا اثر میرے دل پر نہ تھا۔ بے شک اس زمانے میں میرا کوئی مذہب نہ تھا۔ صرف جو اور لوگوں کو کرتے دیکھتی تھی وہی آپ بھی کرنے لگتی تھی۔ اس وقت میں میرا کوئی مذہب ہی نہ تھا۔ تقدیر پر میں بہت ہی شاکر تھی۔ جو کام میں کاہلی سے نہ کر سکتی تھی یا میری بے وقوفی سے بگڑ جاتا تھا، جب میرا کوئی مطلب فوت ہو جاتا تھا یا کسی اور وجہ سے مجھے ملال پہنچتا تھا تو جا و بے جا فلک کی شکایتیں کیا کرتی تھی۔
ہم بھی ہیں مختار لیکن اس قدر ہے اختیار
جب ہوئے مجبور قسمت کو برا کہنے لگے

مولوی صاحب، بوا حسینی اور بڈھے بڈھیاں جب اگلے زمانے کی باتیں کرتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس زمانے سے بہت ہی اچھا تھا۔ اس لیے ان کی طرح میں بھی اس زمانے کی غائبانہ تعریف اور زمانہ موجودہ کی بلاوجہ مذمت کیا کرتی تھی۔ میں کم بخت اس بات کو نہ سمجھی کہ بڈھے بڈھیاں، جو اگلے وقتوں کی تعریف کرتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ اپنی اپنی جوانی کے دن سب کو بھلے معلوم ہوتے ہیں، اس لیے دنیا بھلی معلوم ہوتی ہے۔ خود زندہ جہان زندہ۔ خود مردہ جہان مردہ۔ سن رسیدہ لوگوں کے دیکھا دیکھی جوانوں نے بھی انہی کا وطیرہ اختیار کر لیا ہے اور چونکہ یہ غلط فہمی ایک مدت سے چلی آتی ہے اس لیے اب عموماً سب کو اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔

جوان ہونے کے بعد میں عیش آرام میں پڑ گئی تھی۔ اس زمانے میں گا بجا کے مردوں کو رجھانا میرا خاص پیشہ تھا۔ اس میں یہ مقابلہ اور ساتھ والیوں کے جس قدر کامیابی یا ناکامی مجھ کو ہوتی تھی، وہی میری خوشی اور رنج کا اندازہ تھا۔ میری صورت بہ نسبت اوروں کے کچھ اچھی نہ تھی، مگر فن موسیقی کی مہارت اور شعر و سخن کی قابلیت کی وجہ سے میں سب سے بڑھی چڑھی رہی۔ اپنی ہم پیشہ عورتوں میں مجھے ایک خاص امتیاز حاصل تھا۔ مگر اس سے کچھ نقصان بھی ہوا۔ وہ یہ کہ جس قدر میری عزت زیادہ ہوتی گئی، اتنا ہی خودداری کا خیال دل میں پیدا ہوتا گیا۔ جہاں اور رنڈیاں بے باکی سے اپنا مطلب نکال لیتی تھیں، میں منہ دیکھتی رہ جاتی تھی۔ مثلاً ان کا یہ عام قاعدہ تھا کہ ہر کس و ناکس سے کسی نہ کسی قسم کی فرمائش ضرور کر دینی چاہیے۔ مجھے اس سے شرم آتی تھی۔ یہ خیال آتا تھا کہ ایسا نہ ہو انکار کر دے تو خفت ہوگی۔ اور نہ ہر شخص میں بہت جلد بے تکلف ہو جاتی تھی۔ میری اور ساتھ والیوں کے پاس جب کوئی آ کے بیٹھتا تو ان سب کو زیادہ فکر اس کی ہوتی کہ یہ کہاں تک دے سکتا ہے اور ہم کہاں تک اس سے لے سکتے ہیں۔ میرا بہت سا وقت اس شخص کی ذاتی لیاقت، حسن اخلاق کے اندازہ کرنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ مانگنے کی عادت کو میں معیوب سمجھنے لگی تھی۔ اس کے علاوہ اور باتیں بھی مجھ میں رنڈی پنے کی نہ تھیں۔ اس لیے میرے ساتھ والیوں میں سے کوئی مجھے ناک چوٹی گرفتار، کوئی خفقانی، کوئی بے وقوف، کوئی دیوانی سمجھتی تھی۔ مگر میں نے اپنی کی، کسی کی نہ سنی۔

پھر وہ زمانہ یاد آیا کہ میں رنڈی کے ذلیل پیشے کو عیب سمجھنے لگی اور اس سے دست بردار ہو گئی۔ ہر کس و ناکس سے ملنا چھوڑ دیا۔ صرف ناچ مجرے پر بسر اوقات رہ گئی۔ یا کسی رئیس نے نوکر رکھا تو نوکری کر لی، رفتہ رفتہ یہ بھی ترک کر دیا۔

جب ان افعال سے تائب ہوئی جن کو میں نے اپنے نزدیک برا سمجھ لیا تھا تو اکثر میرے جی میں آیا کہ کسی مرد آدمی کے گھر پڑ جاؤں۔ لیکن پھر یہ خیال آیا کہ لوگ کہیں گے "آخر رنڈی تھی نا، کفن کا چونگا کیا۔" مرزا صاحب! شاید اس محاورے کو آپ نہ سمجھیں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ جب کوئی رنڈی سن سے اتر کر کسی کے گھر بیٹھ جاتی ہے تو تجربہ کار تماش بین اس کی نسبت کہا کرتے ہیں کہ اس رنڈی نے "کفن کا چونگا کیا" یا "مرتے مرتے کفن لے مری۔" یعنی اپنے دام بچا لیے اور از راہ فریب تماش بین پر اپنی تجہیز و تکفین کا بار ڈالا۔ اس مثل سے رنڈیوں کی بے حد خود غرضی اور لالچ اور فریب کا ثبوت ملتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہم لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ میں سچ مچ تائب ہوئی اور اب انتہا کی نیک ہوں، مگر اس کو سوائے خدا کے اور کون جانتا ہے۔ کسی شخص کو میری نیکی کا یقین نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر اس حالت میں کسی کی محبت کروں اور اس محبت کی بنا سراسر خلوص اور نیک نیتی پر ہو، اس پر بھی خاص وہ شخص اور اس کے سوا جو لوگ دیکھیں یا سنیں گے، کبھی یقین نہ لائیں گے۔ پھر میرا محبت کرنا ہی بے سود ہوگا۔ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ میرے پاس دولت ہے، اس لیے لوگ اس سن میں بھی میری خواہش کرتے ہیں۔ اور طرح طرح کے فریب مجھ کو دینا چاہتے ہیں۔ کوئی صاحب میرے حسن و جمال کی تعریف کرتے ہیں اگرچہ ان کا تعلق میں ایسی رنڈیوں سے سن چکی ہوں جو بدرجہا مجھ سے بہتر ہیں۔ کوئی صاحب میرے کمال موسیقی پر غش ہیں، حالانکہ ان کے کان تال سم سے آشنا نہیں۔ کوئی میری شاعری کے مداح ہیں، جنہوں نے عمر بھر ایک مصرع موزوں کہنا تو کیسا، پڑھا بھی نہ ہوگا۔ ایک صاحب میری علمیت کے قائل ہیں۔ خود بھی پڑھے لکھے ہیں، مگر مجھ کو "مولانا بالفضل اولانا" سمجھتے ہیں۔ معمولی مسئلے روزہ نماز کے بھی مجھ ہی سے پوچھ لیا کرتے ہیں۔ گویا کہ آپ میرے مرید یا مقلد ہیں۔ ایک میرے عاشق زار میری دولت اور کمال سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے، صرف میری تندرستی کے خواہاں ہیں۔ ہر بات پر اللہ آمین، مجھے چھینک آئی اور ان کے سر میں درد ہونے لگا۔ مجھے دردِ سر ہوا اور ان کے دشمنوں کا دم نکلنے لگا۔ ایک بزرگ ناصح مشفق بنے ہیں۔ دنیا کے نشیب و فراز سمجھایا کرتے ہیں۔ مجھ کو بہت ہی بھولا سمجھتے ہیں۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جیسے کوئی دس گیارہ برس کی لڑکی سے باتیں کرتا ہو۔

میں ایک گھاگ عورت ہوں، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے۔ جو جس طرح بناتا ہے بن جاتی ہوں اور درحقیقت ان کو بناتی ہوں۔ خلوص کے ساتھ بھی ملنے والے دو ایک صاحب ہیں۔ بے غرض ملتے ہیں۔ ان کا مقصود صرف ایک مذاق خاص ہے۔ مثلاً شعر و سخن یا گانا بجانا یا صرف لطف گفتگو۔ نہ ان کو کوئی غرض مجھ سے ہے، نہ مجھے کوئی غرض ان سے ہے۔ ایسے لوگوں کو دل سے چاہتی ہوں اور یہ بے غرضی رفتہ رفتہ ایک غرض ہو گئی ہے کہ نہ مجھے بغیر ان کے چین آتا ہے اور نہ انہیں بغیر میرے۔ مگر ان لوگوں میں سے کوئی میرے گھر میں بٹھانے کا امیدوار نہیں ہے۔ کاش کہ ایسا ہوتا۔ مگر یہ تمنا ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے کاش کہ جوانی پھر آتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کی زندگی جوانی تک ہے۔ اگر جوانی کے ساتھ ہی زندگی ختم ہو جایا کرتی تو کیا خوب ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ یوں تو بڑھاپا ہر ایک کے لیے برا ہے، خصوصاً عورت کے لیے، مگر رنڈی کے لیے بڑھاپا دوزخ کا نمونہ ہے۔ بڑھیا فقیرنیاں جو لکھنؤ کے گلی کوچوں میں پڑی پھرتی ہیں، اگر غور کیجیے گا تو ان میں اکثر رنڈیاں نکلیں گی، اور رنڈیاں بھی کون سی، جو کبھی زمین پر پیر نہ رکھتی تھیں۔ قیامت برپا کر رکھی تھی۔ ہزاروں بھرے پرے گھر تباہ کر دیے، سینکڑوں جوانوں کو بے گناہ قتل کیا۔ جہاں جاتی تھیں لوگ آنکھیں بچھاتے تھے۔ اب کوئی ان کو آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا۔ پہلے جہاں بیٹھ جاتی تھیں لوگ باغ باغ ہو جاتے تھے۔ اب کوئی کھڑے ہونے کا روادار بھی نہیں۔ پہلے بن مانگے موتی ملتے تھے، اب مانگے بھیک نہیں ملتی۔

ان میں اکثر اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا باعث ہوئیں۔ ایک بڑی بی میرے مکان پر کبھی کبھی آیا کرتی تھیں۔ کسی زمانے میں بڑی مشہور رنڈیوں میں تھیں۔ جوانی میں ہزاروں روپے کمائے۔ ذرا مزے دار جیوڑا تھا۔ جب سن سے اتریں، وہی کمائی یاروں کو کھلانا شروع کی۔ بڑھاپے میں ایک نوجوان کے گھر بیٹھیں۔ اس کی جورو خوبصورت، کم سن، بھلا وہ ان پر کیوں ریجھتا۔ پہلے تو بیوی ذرا بگڑیں، مگر جب میاں نے اصل مطلب سمجھا دیا، خاموش ہو رہیں۔ ان کی خاطریں ہونے لگیں۔ جب تک مال رہا خوب میاں بیوی دونوں نے پھسلا پھسلا کے کھایا۔ آخر ککھ ہو گئیں۔ اب کون پوچھتا تھا۔ نکال باہر کیا۔ گلیوں کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہیں۔

بعض بے وقوف رنڈیوں نے کسی لڑکی کو لے کے پالا۔ اس سے دل لگایا۔ اس حماقت میں میں بھی گرفتار ہو چکی ہوں۔ مگر جب وہ جوان ہوئی، لے دے کے کسی کے ساتھ نکل گئی۔ یا اگر رہی تو کل مال رفتہ رفتہ اپنے قبضے میں کیا۔ ان کو گھر کا انتظام یا ماما گیری کرنے کو رکھ لیا۔

آبادی نے بھی مجھے جل دیا ہوتا، مگر وہ تو کہو اس کے کرتوت پہلے ہی کھل گئے، نہیں تو مجھے لوٹ ہی لے جاتی۔ مرد کیا اور عورت کیا، رنڈی کی قوم میں بدکاروں کی زندگی کا اصول ہی ایسا بگڑا بنا ہوا ہے کہ ایک دوسرے سے محبت نہیں ہو سکتی۔ نہ کوئی سمجھدار مرد ہی ان کو دل دے سکتا ہے، کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ رنڈی کسی کی نہیں ہوتی اور نہ ہی عورت ایسی محبت کر سکتی ہے۔ نوچیاں اپنے دل میں یہ سمجھتی ہیں کہ کماتے ہم ہیں، پھر ان کو کیوں دیں۔

اگلے قدردان مرد زوالِ حسن کے بعد کنارا کرتے ہیں۔ یہ اس کی عادی ہوتی ہیں کہ لوگ جھوٹی خوشامد کریں۔ بھلا اب کوئی خوشامد کیوں کرنے لگا۔ غرض کہ مرد ان سے کنارہ کش اور یہ مردوں کی شاکی رہتی ہیں۔

پہلے پہلے میں بھی اور رنڈیوں کی زبانی مردوں کی بے وفائی کا دکھڑا سن کے وقت ضائع کرتی تھی اور بے سمجھے ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتی تھی، مگر باوجود اس کے کہ گوہر مرزا نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ سب آپ کو معلوم ہے، اور نواب صاحب جنہوں نے مجھ پر نکاح کا الزام لگایا تھا، اس کو بھی آپ سن چکے، پھر بھی میں مردوں کو بے وفا نہیں کہہ سکتی۔ اس معاملے میں عورتیں، خصوصاً بازار والیاں، ان سے کسی طرح کم نہیں۔ محبت کے باب میں مرد (معاف کیجیے) اکثر بے وقوف اور عورتیں بہت ہی چالاک ہوتی ہیں۔ اکثر مرد سچے دل سے اظہار عشق کرتے ہیں اور اکثر عورتیں جھوٹی محبت جتاتی ہیں۔ اس لیے کہ مرد جس حالت میں اظہار عشق کرتے ہیں وہ حالت ان کی اضطراری ہوتی ہے، اور عورتیں بہت جلد متاثر نہیں ہوتیں، کیوں کہ مرد بہت ہی جلد عورتوں کے حسن ظاہری پر فریفتہ ہو کر ان پر شیدا ہو جاتا ہے اور عورتیں اس باب میں زیادہ احتیاط کرتی ہیں۔ اسی لیے مردوں کی محبت کسی قدر سریع الزوال اور عورتوں کی محبت عسیر الزوال ہوتی ہے۔ مگر جانبین کے حسن معاشرت سے ان امور میں ایک خاص قسم کا اعتدال پیدا ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں، یا کم از کم ایک، کو سمجھ ہو۔ واقعی مرد اس باب میں سریع الاعتقاد ہوتے ہیں اور عورتیں انتہا کی شکی۔ مرد پر عورت کا جادو بہت جلد چل جاتا ہے مگر عورت پر حب کا عمل مشکل سے کارگر ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہ نقص فطرت کی طرف سے ہے، اس لیے کہ عورتیں ضعیف القویٰ ہیں اس لیے ان کو بعض وصف ایسے دیے گئے ہیں جن سے یہ کمی پوری ہو جائے۔ من جملہ ان اوصاف کے ایک وصف یہ بھی ہے، بلکہ میں کہہ سکتی ہوں شاید یہی ایک وصف ہے اس کی مثال جانوروں میں بھی مل سکتی ہے۔ اکثر ضعیف جانوروں میں بھی حیلہ گری کا مادہ ہے۔

اکثر مرد یہ کہیں گے کہ عورتیں حسین ہوتی ہیں۔ میں اس کی قائل نہیں۔ درحقیقت نہ مرد ہی بجائے خود حسین ہے نہ عورت، بلکہ ہر ایک کو ایسا حسن عنایت ہوا ہے، جو دوسرے کو اچھا معلوم ہو۔ یوں تو مرد عورت جس کا ناک نقشہ اچھا ہوتا ہے، سب اسے پسند کرتے ہیں، مگر اصل قدردان مرد کے حسن کی عورت اور عورت کے حسن کا مرد ہے۔ ایک خوبصورت عورت دوسری عورت کے سامنے اس خوش رنگ پھول سے زیادہ نہیں ہے، جس میں خوشبو نہ ہو، ایک بدصورت مرد بھی، خوبصورت سے خوبصورت عورت کی رائے میں خوشبودار پھول کی طرح دل پسند ہے، اگرچہ اس کی شکل اور رنگت میں کوئی ندرت نہ ہو۔ محبت کے باب میں غلطی صرف ایک ہی طرف سے نہیں ہوتی، بلکہ دونوں اس باریکی کو نہیں سمجھتے۔ ان دونوں محبتوں کی اصلیت میں فرق ہے۔ جس نگاہ سے مرد عورتوں کو دیکھتے ہیں، اس نگاہ سے عورت مرد کو دیکھتی ہی نہیں۔ عورتوں کی محبت کرنے کا اندازہ اس مرد میں ایک حد تک پایا جاتا ہے، جو کسی مالدار عورت کے دامن دولت سے وابستہ ہے، یا جس کا سن بہت کم ہے۔ مگر کوئی سن رسیدہ عورت ان کو کیوں چاہنے لگی؟

اس میں شک نہیں کہ عورتیں جوان مرد سے بہ نسبت بڈھوں کے زیادہ محبت رکھتی ہیں، مگر اس کی وجہ بھی محض حسن و جمال نہیں ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ عورت ضعیف القویٰ ہے، اس لیے وہ ہر حالت میں اپنے حمایتی کو بہت دوست رکھتی ہے تاکہ وقتِ ضرورت اس کو خطرے سے بچا سکے۔ پس جوان سے بہ نسبت بڈھے کے اس کی زیادہ توقع ہو سکتی ہے، اور حسن و جمال اس خوبی کے ساتھ مل کر اس کے وصف کو رونق دے دیتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ مرد کی محبت میں صرف لذت حاصل کرنا مقصود ہے اور عورت کی محبت میں الم سے محفوظ رہنا اور لذت حاصل کرنا دونوں غرضیں شامل ہیں۔

چونکہ یہ مشہور ہے کہ محبت بے غرض ہونا چاہیے اور عورت کی محبت میں اس کا زیادہ لگاؤ ہے، لہٰذا وہ اس کے چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ شاید کوئی یہ کہے کہ جو امور میں نے اس موقع پر بیان کیے ہیں اس میں اکثر باتوں کا امتیاز نہ مردوں کو ہوتا ہے، نہ عورتوں کو، تو میں اسے تسلیم کر لوں گی اور یہ کہوں گی کہ یہ باتیں اصل فطرت سے مرد عورت کے خمیر میں داخل ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ انہیں اس کا شعور بھی ہو۔ میں نے عمر بھر کے تجربے کے بعد یہ امور دریافت کیے ہیں اور میرے ساتھ جو شخص اس پر غور کرے گا، وہ اسے سمجھ سکتا ہے۔

میں دیکھتی ہوں کہ اکثر عورتیں اور ناخواندہ مرد بھی ایسی باتوں پر غور نہیں کرتے، اس لیے ان کو اپنے زمانۂ زندگی میں بہت سی بک بک جھک جھک کرنا پڑتی ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت دونوں اپنے اپنے رتبے اور اغراض کو سمجھ لیں تو ان میں ہرگز ملال نہ ہو۔ بہت سی آفتیں ٹل جائیں اور بہت سی دقتیں دور ہو جائیں۔ مگر ایک مشکل ہے کہ جب کسی کی فہمائش کی جائے تو اکثر یہی جواب ملتا ہے۔ "اوہ جی! جو تقدیر میں ہوگا، ہو کے رہے گا۔" اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم جو چاہیں کریں ہمیں نہ روکو۔ ہمارے لیے کچھ نہیں ہوتا، یعنی ہماری بدکاریوں کا کوئی نتیجہ نہیں ہے۔ جو کچھ ہوگا تقدیر سے ہوگا۔ یعنی جو نتیجہ نکلے گا، وہ معاذ اللہ خدا کی طرف سے ہوگا۔ یہ لغو گفتگو اگلے زمانے میں کسی قدر بامعنی بھی تھی، کیوں کہ اس زمانے میں اتفاق سے گھڑی بھر میں کچھ کا کچھ ہو جایا کرتا تھا۔ اس پر مجھے شاہی زمانے کی ایک نقل یاد آئی ہے۔

زمانۂ شاہی میں انقلاب کا ثبوت اکثر ملتا رہتا تھا۔ لوگوں کی حالتوں میں دفعتاً تغیر ہو جایا کرتا تھا۔ ایک دن کا ذکر ہے۔ ایک سپاہی نہایت ہی شکستہ حال موتی محل کے پھاٹک کے پاس چبوترے پر پڑا سو رہا تھا۔ قضائے کار نماز صبح کے بعد بادشاہ ٹہلتے ہوئے ادھر آ نکلے۔ اتفاقاً اس وقت کوئی ساتھ نہ تھا۔ معلوم نہیں کیا جی میں آیا، آپ نے اسے جگا دیا۔ وہ سپاہی یوں ہی نیند سے آنکھیں ملتا ہوا اٹھا۔ جہاں پناہ پر نگاہ پڑی۔ پہلے تو گھبرا گیا، پھر ایک ہی مرتبہ سنبھل کے اپنی حالت کو دیکھا۔ فوراً تلوار نذر کی۔ بادشاہ نے نذر قبول کی۔ زنگ آلودہ تلوار تھی۔ میان سے بہ دقت نکلی۔ پھر دیکھ بھال کر اس تلوار کی تعریف کی اور میان میں کر کے اپنی کمر میں لگائی۔ خود جو ولایتی باندھے ہوئے تھے، جس کا طلائی قبضہ تھا، مع کمربند مرصع اس کے حوالے کی۔ اس موقع پر حضور عالم (خطاب علی نقی خاں وزیر اودھ) آ گئے۔ جہاں پناہ نے اس جوان اور اس کی تلوار کی تعریف کی۔

بادشاہ: دیکھنا بھئی کیا سجیلا جوان ہے اور تلوار بھی اس کے پاس کیا ہی عمدہ تھی۔ (کمر سے نکال کر) یہ دیکھو۔

وزیر: قبلۂ عالم! سبحان اللہ! مگر حضور سا جوہر شناس اور قدردان بھی تو ہو، جب ایسے لوگ اور ایسی چیزیں دستیاب ہوتی ہیں۔

بادشاہ: مگر دیکھنا بھئی، میری تلوار کچھ ایسی بدزیب نہیں ہے۔

وزیر: ظلِ سبحانی کی تلوار اور بدزیب!

بادشاہ: مگر لباس اس کے مناسب نہیں۔

اس اثنا میں اور مصاحب، ملازم، شاہی چوبدار، خاص بردار آ گئے۔ اچھا خاصہ مجمع ہو گیا۔

وزیر: درست ارشاد ہوا۔

بادشاہ: اچھا ہمارے کپڑے تو اسے پہنا کر دیکھے جائیں۔

اس اشارے کے پاتے ہی لوگ دوڑے۔ لباس کی کشتیاں ہاتھوں ہاتھ آ گئیں۔ بادشاہ نے ملبوس خاص، جو اس وقت پہنے ہوئے تھے، مع مالائے مروارید اور جوڑی نورتن مرصع کار اسے عنایت کی۔ آپ اور کپڑے زیب تن کیے۔ جب وہ کپڑے پہن چکا۔

بادشاہ: ہاں اب دیکھو۔

وزیر: واقعی صورت ہی اور ہو گئی۔

مصاحبین اور حضار بھی تعریفیں کرنے لگے۔ بادشاہ تھوڑی دیر یہاں ٹھہرے۔ اب سواری آ گئی تھی۔ سوار ہو کے ہوا کھانے چلے گئے۔ سپاہی خوش خوش گھر آیا۔ جوہری، مہاجن، دلال گویا ساتھ ہی لگے ہوئے تھے۔ اسباب آنکا گیا۔ سب پچاس ساٹھ ہزار روپے کی مالیت تھی۔ سپاہی کا حال سنیے۔ کہیں نجیبوں کی پلٹن میں تین روپے کا اسم تھا۔ رات کو گھر میں کھانے پر بیوی سے تکرار ہوئی۔ آپ خفا ہو کے گھر سے نکل گئے۔ رات بھر خدا جانے کہاں کہاں مارے مارے پھرے۔ صبح ہوتے موتی محل کے پاس تھک کے بیٹھ گئے۔ نیند آ گئی۔ صبح کو طالع بیدار نے جگایا تو یہ کرشمہ نظر آیا، دم بھر میں محتاج سے غنی کر دیا۔

اس طرح کے واقعے شاہی میں اکثر ہوا کرتے تھے۔ اور ایسے ہی زمانے میں ان کا ہونا ممکن ہے، جب کہ عنان حکومت ایک شخص کے ہاتھ میں ہو اور وہ کسی قاعدے اور قانون کا پابند نہ ہو۔ ملک کو اپنی ملک اور خزانے کو اپنے خزانے کا اپنا مال سمجھے۔

انگریزی عمل داری میں ان فضول خرچیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کی بے انصافی سمجھی جاتی ہے کہ کسی شخص کو بلاوجہ بلا استحقاق ایک رقم کثیر دے دی جائے۔ ایسی سلطنت جس میں بادشاہ سے لے کر فقیر تک ایک قانون کے پابند ہیں اگر استحقاق کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ہرگز کام نہ چلے۔ اس زمانے میں تقدیر کا زور نہیں چلتا۔ جو کچھ ہوتا ہے تدبیر سے ہوتا ہے۔

نواب چھٹن صاحب کا حال سنیے۔ (اثنائے سوانح عمری میں ان کا بقیہ ذکر فروگزاشت ہو گیا تھا) درحقیقت آپ دریا میں ڈوبنے گئے تھے۔ اس ارادے سے غوطہ لگایا کہ اب نہ ابھریں گے۔ مگر جان بہت پیاری چیز ہوتی ہے۔ جب دیر تک پانی کے نیچے رہے دم گھبرانے لگا۔ جی میں آیا اب کی ابھر کر پھر سانس لے لیں۔ ابھرے۔ پانی کی سطح پر آ کر بلا مقصد ہاتھ پاؤں چلنے لگے۔ پھر مرنے کو جی چاہا، پھر غوطہ مارا۔ پھر وہی حال ہوا۔ اسی طرح کئی غوطے لگائے مگر ڈوبتے نہ بن پڑا۔ آخر اسی کوشش میں بہتے بہاتے چھتر منزل تک پہنچ گئے۔ اتفاقاً اس وقت مرزا ولی عہد بہادر (مرحوم) مع اپنے چند مصاحبوں کے بجرے پر سوار ہو کر سیر کو نکلے تھے۔ ان کی نظر جو پڑی سمجھے کوئی شخص ڈوب رہا ہے۔ ملاحوں کو حکم دیا، جلدی نکالو۔ انہوں نے اپنے چھڑانے کی بہت کوشش کی۔ وہ لوگ سمجھتے تھے گھبرا گئے ہیں۔ آخر زبردستی کنارے پر لائے۔ مرزا ولی عہد نے اپنے سامنے طلب کیا۔ احوال پرسی کے بعد معلوم ہوا رئیس زادے ہیں۔ کپڑے مرحمت کیے۔ ہمراہ کوٹھی میں لیے چلے گئے۔

چھٹن صاحب ایک تو خوش رو جوان، دوسرے ادب قاعدے سے واقف، علم مجلس سے آگاہ، کسی قدر خواندہ بھی تھے، طبیعت میں مذاق بھی تھا۔ غرضے کہ ہر طرح شہزادے کی صحبت کے لائق تھے۔ فوراً مصاحبوں میں اسم ہو گیا۔ بیش قرار مشاہرہ مقرر ہوا۔ اخراجات ضروری کے لیے کچھ مد پیشگی میں مل گیا۔ نوکر چاکر، سواری سب سرکار سے مرحمت ہوا۔ لیجیے پھر کیا تھا، پہلے سے زیادہ ٹھاٹھ ہو گئے۔ اب جو چوک میں نکلے تو جلوس ہی اور تھا۔ ہاتھی پر سوار ہیں۔ پچاس خاص بردار آگے دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ بسم اللہ نے اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پہلے تو یقین نہ آیا۔ کہیں میاں مخدوم بخش بھی پیچھے پیچھے چلے آتے تھے۔ ان کو اشارے سے بلایا۔ مفصل حال معلوم ہوا۔ اس کے بعد چچا نے بھی میل کر لیا۔ شادی بھی ہو گئی۔ شادی میں ہم لوگ بھی بلائے گئے تھے۔ خانم کو بہت عمدہ دوشالہ، رومال دیا۔ مگر اس دن سے نہ کبھی ہمارے مکان پر آئے، نہ بسم اللہ سے رسم رکھا۔ خانم اور چال چلی تھیں، بن نہ پڑی، الٹی ہو گئی۔

خلاصہ یہ کہ شاہی میں اس قسم کے کرشمے نظر آ جاتے تھے۔ بھلا انگریزی حکومت میں یہ کہاں۔ وہ دن گئے۔ خلیل خاں فاختہ اڑا چکے۔ سنتے چلے آئے ہیں کہ دولت اندھی ہے، مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی حکمت سے اس کی آنکھیں کھول دی گئی ہیں۔ اب اسے لائق اور نالائق کا خیال ہو گیا ہے۔ شاہی عمل داری میں جاہل ناخواندہ، جو الف کے نام لٹھ نہیں جانتے تھے، بڑے بڑے عہدوں پر گورنر تھے۔ میں کہتی ہوں ان سے کام کیوں کر چلتا ہوگا۔ اور تو اور موئے خواجہ سراؤں کے پاس پلٹنیں اور رسالے تھے۔ بھلا انصاف کیجیے ہنسنے کی بات ہے یا نہیں۔

غرضیکہ تقدیر کی سلطنت کا دور دورہ گیا اور تدبیر کا عہد حکومت آیا۔ اب جوہر ذاتی پوچھا جاتا ہے اور جوہر ذات کی دلالہ شہرت ہے۔ آپ لکھے پڑھے لائق فائق ہوں، مگر جب آپ کو کوئی جانتا ہی نہیں تو قدر کس کی ہو۔ تقدیر اور تدبیر کے مسئلے میں میں بہت دن چکر میں رہی۔ آخر معلوم ہوا کہ جن معنوں میں لوگ اس لفظ کو استعمال کر رہے ہیں وہ بالکل دھوکا ہے۔ اگر اس سے یہ مراد ہے کہ خدا کو ہماری سب باتوں کا علم ازل سے ہے، تو اس میں کچھ شک نہیں۔ وہ کافر ہے جس کو اس کا اعتقاد نہ ہو۔ مگر لوگ تو معاذ اللہ اپنے تمام افعال ناشائستہ کے برے نتائج کو تقدیر کی طرف نسبت دیا کرتے ہیں۔ اس سے خدا کی قدرت پر الزام آتا ہے، یہ بالکل کفر ہے۔

افسوس جن باتوں کو میں اب سمجھی، اگر پہلے ہی سے سمجھ گئی ہوتی تو بہت اچھا ہوتا۔ مگر نہ کوئی سمجھانے والا تھا، نہ خود اتنا تجربہ تھا کہ آپ ہی آپ سمجھ لیتی۔ مولوی صاحب نے جو دو حرف پڑھا دیے تھے وہ میرے بہت کام آئے (خدا ان کے درجات عالی کرے)۔ اس زمانے میں مجھے اس کی قدر نہ تھی۔ تن آسانی اور آرام طلبی کے سوا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ اس کے قدردان اس قدر تھے کہ کسی وقت فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔ جب وہ دن آئے کہ قدردان ایک ایک کر کے کھسکنے لگے، تو ذرا مجھے مہلت ملی۔ اس زمانے میں کتب بینی کا شوق بڑھا، کیونکہ سوائے اس کے اب کوئی اور شغل نہ رہا تھا۔ میں سچ کہتی ہوں کہ اگر یہ شوق نہ ہوتا تو اب تک میں زندہ نہ رہتی۔ جوانی کے ماتم اور اگلے قدردانوں کے غم میں کب کا خاتمہ ہو گیا ہوتا۔ کچھ دنوں تو میں قصے کہانی کی کتابوں سے دل بہلاتی رہی۔ ایک دن پرانی کتابیں دھوپ دینے کے لیے نکالیں۔ ان میں وہ "گلستان" بھی نکلی جو مولوی صاحب سے پڑھی تھی۔ ادھر ادھر ورق الٹ پلٹ کے پڑھنے لگی۔ پہلے مجھے اس کتاب سے نفرت سی ہو گئی تھی۔ ایک تو اس لیے کہ تعلیم کا ابتدائی زمانہ تھا۔ عبارت مشکل معلوم ہوتی تھی۔ دوسرے تجربہ نہ تھا۔ اس لیے کچھ سمجھ میں نہ آتی تھی۔ اب جو پڑھا تو وہ دقتیں دور ہو چکی تھیں۔ خوب ہی دل لگا کے میں نے سرے سے آخر تک کئی مرتبہ پڑھا۔ فقرہ فقرہ دل میں اترا جاتا تھا۔ اس کے بعد ایک صاحب سے "اخلاق ناصری" کی تعریف سن کے اس کے پڑھنے کا شوق ہوا۔ انہی سے ایک نسخہ منگا کے پڑھا۔ واقعی اس کتاب کے مطالب بھی مشکل ہیں اور عربی لفظیں کثرت سے ہیں۔ اس لیے اس کے سمجھنے میں بہت دقت ہوئی۔ مگر تھوڑا تھوڑا پڑھ کے بہت دنوں میں کتاب کو ختم کیا۔

پھر "دانش نامۂ غیاث منصور" نول کشور کے مطبع میں چھپا، اسے پڑھا۔ پھر ایک مرتبہ صغریٰ و کبریٰ کو بجائے خود مطالعہ کیا اور جو جو سمجھ میں نہیں آیا اسے پوچھ لیا۔ ان کتابوں کے پڑھنے سے مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے دنیا کے بھید مجھ پر کھلتے جاتے ہیں۔ ہر بات کی سمجھ آ گئی۔ اس کے بعد میں نے بہت سی کتابیں اس قسم کی اردو فارسی کی بجائے خود پڑھیں۔ اس سے طبیعت کو جلا ہوتی گئی۔ قصائد انوری و خاقانی جستہ جستہ پڑھے۔ مگر جھوٹی خوشامد کی باتوں میں اب میرا دل نہ لگتا تھا۔ اس لیے ان کو بند کر کے الماری میں رکھ دیا۔ فی الحال کئی اخبار بھی میرے پاس آتے ہیں۔ انہیں دیکھا کرتی ہوں۔ ان سے دنیا بھر کا حال معلوم ہوتا رہتا ہے۔ کفایت شعاری کی وجہ سے میرے پاس اب بھی اس قدر اندوختہ ہے کہ اپنی زندگی بسر کر لے جاؤں گی۔ وہاں کا مالک اللہ ہے۔ میں بہت دن ہوئے سچے دل سے توبہ کر چکی ہوں اور حتی الوسع نماز روزے کی پابند ہوں۔ رہتی رنڈی کی طرح ہوں۔ خدا چاہے مارے چاہے جلائے، مجھ سے پردے میں گھٹ گھٹ کے تو نہ بیٹھا جائے گا۔ مگر پردہ والیوں کے لیے دل سے دعا گو ہوں۔ خدا ان کا راج سہاگ قائم رکھے اور رہتی دنیا تک ان کا پردہ رہے۔

اس موقع پر میں اپنی ہم پیشہ عورتوں کی طرف مخاطب ہو کے ایک نصیحت کرتی ہوں۔ وہ اپنے دل پر نقش کر لیں۔

اے بے وقوف رنڈی! کبھی اس بھلاوے میں نہ آنا کہ کوئی تجھ کو سچے دل سے چاہے گا۔ تیرا آشنا جو ہر وقت تجھ پر جان دیتا ہے، چار دن کے بعد چلتا پھرتا نظر آئے گا۔ وہ تجھ سے ہرگز نباہ نہیں کر سکتا اور نہ تو اس لائق ہے۔ سچی چاہت کا مزا اسی نیک بخت کا حق ہے جو ایک کا منہ دیکھ کے دوسرے کا منہ کبھی نہیں دیکھتی۔ تجھ جیسی بازاری شفتل کو یہ نعمت خدا نہیں دے سکتا۔

خیر میری تو جیسی گزرنا تھی، گزر گئی۔ اب میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہی ہوں۔ جتنے دن دنیا کی ہوا کھانا ہے کھاتی ہوں۔ میں نے اپنے دل کو بہر طور سمجھا لیا ہے اور میری کل آرزوئیں پوری ہو چکیں۔ اب کسی بات کی تمنا نہیں رہی، اگرچہ یہ آرزو کم بخت وہ بلا ہے کہ مرتے دم تک دل سے نہیں نکلتی۔

مجھے امید ہے کہ میری سوانح عمری سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا۔ اب میں اپنی تقریر کو اس شعر پر ختم کرتی ہوں اور سب سے امیدوارِ دعا ہوں۔
مرنے کے دن قریب ہیں شاید کہ اے حیات
تجھ سے طبیعت اپنی بہت سیر ہو گئی

تمت بالخیر

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.