
Chapter 17 of 20
拉姆黛
Ramdei
حصہ سوم ۵: رام دئی
کسی طرح سے ہو تسکینِ شوق کیسا رشکملیں گے آج ہم ان سے رقیب سے مل کے
اتوار کے دن ۸ بجے صبح کو بیگم صاحب کی مہری فینس اور کہار لے کے سر پر نازل ہو گئی۔ میں ابھی سو کے اٹھی تھی۔ اچھی طرح حقہ پینے بھی نہ پائی تھی کہ اس نے جلدی مچانا شروع کر دی۔ میں سمجھتی تھی کھانا وانا کھا کے جانا ہوگا۔ مہری نے کہا۔ "بیگم صاحب نے اپنے سر کی قسم دی ہے کہ کھانا یہیں آ کے کھانا۔" میں نے پوچھا "نواب صاحب گھر پر ہیں؟" اس نے کہا۔ "نہیں۔ صبح اٹھ کے گاؤں کو سدھارے ہیں۔" میں نے پوچھا۔ "کب آئیں گے؟" مہری نے کہا۔ "اب آئیں تو کہیں شام کو آئیں۔" مجھے بیگم سے تخلیے میں بہت سی باتیں کرنا تھیں۔ اس لیے فوراً اٹھ بیٹھی۔ ہاتھ منہ دھو، کنگھی چوٹی کر، کپڑے پہن، ایک ماما کو ساتھ لے کے روانہ ہو گئی۔
جا کے جو دیکھا، بیگم صاحب منتظر بیٹھی ہیں۔ میرے جانے کے ساتھ دسترخوان بچھا۔ میں نے اور بیگم صاحب نے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھایا۔ بہت تکلف کا کھانا کھایا۔ پراٹھے، قورمہ، کئی طرح کا سالن، بالائی، مہین چاولوں کا خشکہ، نورتن چٹنی، سیب کا مربہ، حلوہ سوہن۔ کھانا کھا کے چپکے سے میرے کان میں۔
بیگم: کیوں وہ کریم کے گھر کی ارہر کی دال اور جوار کی روٹیاں بھی یاد ہیں؟
میں: چپ بھی رہو۔ کہیں کوئی سن نہ لے۔
بیگم: سن لے گا تو کیا ہوگا۔ کیا کوئی جانتا نہیں۔ نواب کی ماں (خدا جنت نصیب کرے) نے مجھے نواب کے لیے مول لیا تھا۔
میں: برائے خدا چپ رہو۔ کہیں علیحدہ چلو تو باتیں ہوں گی۔
کھانا کھا کے منہ ہاتھ دھویا، مہری نے حقہ لا کے لگایا۔ بیگم نے سب کو بہانے سے ٹال دیا۔
میں: بارے تم نے مجھے پہچان لیا۔
بیگم: جب تمہیں پہلے پہل کان پور میں دیکھا تھا، اسی دن پہچان لیا تھا۔ پہلے تو بڑی دیر تک الجھن سی رہی تھی۔ دل میں کہتی تھی میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے۔ مگر کہاں دیکھا ہے؟ کیوں کر دیکھا ہے؟ یہ کچھ یاد نہیں آتا تھا۔ چاروں طرف خیال دوڑائی تھی، کچھ سمجھ ہی میں نہیں آتا تھا۔ اتنے میں کریمن مہری پر نظر پڑی۔ کریمن کے نام پر موئے کریم کا نام یاد آ گیا۔ دل نے کہا۔ اوہو انہیں کریم کے مکان پر دیکھا تھا۔
میں: میرا بھی یہی حال تھا۔ بڑی دیر تک غور کیا کی۔ میری ساتھ والیوں میں خورشید ہے۔ اس کی صورت تم سے بہت ملتی ہے۔ جب میں خورشید کو دیکھتی تھی، تم یاد آ جاتی تھیں۔
بیگم: اب میرا حال سنو۔
میں تم سے جدا ہو کے نواب صاحب کی ماں نواب عمدۃ النساء بیگم صاحب کے ہاتھ بکی ہوں۔ تمہیں یاد ہوگا میرا سن کوئی بارہ برس کا ہوگا۔ نواب کو سولہواں برس تھا۔ نواب کے ابا جان کان پور میں رہتے تھے۔ بیگم صاحب سے ان سے نااتفاقی رہتی تھی، نواب صاحب کے ابا جان نے نواب کی شادی اپنی بہن کی لڑکی کے ساتھ ٹھہرائی تھی۔ ان کا مکان دہلی میں تھا۔ بیگم صاحب کو وہاں شادی کرنا منظور نہ تھا۔ وہ یہ چاہتی تھیں کہ نواب کی شادی ان کے بھائی کی لڑکی کے ساتھ ہو۔ میاں بیوی میں پہلے ہی سے نااتفاقی تھی، اس بات سے اور ضدیں بڑھیں۔ ابھی یہ جھگڑا طے نہ ہوا تھا کہ نواب کے دشمنوں کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی۔ حکیموں نے تجویز کیا کہ بہت جلد شادی کر دینا چاہیے، ورنہ جنون ہو جائے گا۔ شادی ہو جانا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ اتنے میں میں پہنچ گئی۔ بیگم صاحب نے مجھے خرید لیا۔
نواب صاحب مجھ پر مائل ہو گئے اور ایسے مائل ہوئے کہ دونوں جگہ کی شادی سے کھلم کھلا انکار کر دیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ بیگم صاحب نے انتقال کیا اور اس کے بعد چند ہی سال بعد بڑے نواب بھی مر گئے۔ ماں باپ دونوں صاحب جائیداد تھے۔ یہی ایک اکلوتے لڑکے تھے۔ کل دولت انہی کو ملی۔
نواب صاحب کو خدا سلامت رکھے جن کی بدولت میں بیگم صاحب بنی ہوئی ہوں اور چین کرتی ہوں۔ نواب مجھے اسی طرح چاہتے ہیں جیسے کوئی اپنے سہرے جلوے کی بیوی کو چاہتا ہے۔ میری ظاہر میں تو کبھی کسی طرف نظر اٹھا کے بھی نہیں دیکھا۔ یوں باہر اپنے دوستوں آشناؤں میں جو کچھ چاہتے ہوں کرتے ہوں۔ آخر مرد ذات ہیں۔ کچھ ان کے پیچھے پیچھے تو پھرتی نہیں۔
خدا نے سب آرزوئیں میری پوری کیں۔ اولاد کی ہوس تھی، خدا کے صدقے سے اولاد بھی ہے۔ اب اگر آرزو ہے تو یہ کہ خدا نھن کو پروان چڑھائے۔ بہو بیاہ لاؤں اور ایک پوتا کھلاؤں۔ پھر چاہے مر جاؤں۔ نواب کے ہاتھوں مٹی عزیز ہو جائے۔ اب تم اپنا حال کہو۔
جب رام دئی یہ باتیں کر رہی تھی، مجھے اپنی قسمت پر افسوس آ رہا تھا اور دل ہی دل میں کہتی تھی، تقدیر ہو تو ایسی ہو۔ ایک میری پھوٹی تقدیر، بکی بھی تو کہاں، رنڈی کے گھر میں۔ اس کے بعد میں نے اپنا مختصر حال کہہ سنایا جس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ میں دن بھر وہیں رہی۔ جب تخلیے کی باتیں ہو چکیں، نوکروں کو آواز دی۔ طبلے کی جوڑی، ستار، طنبورہ یہ سب سامان منگایا۔ گانے بجانے کا جلسہ ہوا۔
جب ہم دونوں اکیلی تھیں تو وہ رام دئی تھی اور میں امیرن، سب لوگوں کے سامنے وہ پھر بیگم صاحب ہو گئیں اور میں امراؤ جان۔ تین چار گھنٹے تک گانا بجانا ہوتا رہا۔ بیگم بھی کسی قدر ستار بجا لیتی تھیں۔ جب میں گا چکتی تھی تو ستار کی وہ کوئی گت چھیڑ دیتی تھیں۔ ایک مغلانی کا گلا بہت اچھا تھا، اس کو گوایا۔ سرِ شام تک بڑے لطف کی صحبت رہی۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.