Urdu in Translation
搜索
书签

第 16 章,共 20 章

La vieille chambre et les cinq pièces d'or

The Old Room and the Five Gold Coins

حصہ سوم ۴: پرانا کمرا اور پانچ اشرفیاں

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

文字
字号

ہر چند بہت غور کیا ہم نے شب و روزدنیا کا طلسمات سمجھ میں نہیں آتا

میں خانم سے علیحدہ ہو گئی تھی، مگر جب تک وہ جیتی رہیں انہیں اپنا سرپرست سمجھا کی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ انہیں بھی مجھ سے محبت تھی۔ ان کے پاس اس قدر دولت تھی کہ طبیعت غنی ہو گئی تھی۔ سن جو زیادہ ہو گیا تھا تو دنیا کی طرف سے ان کی طبیعت پھر گئی تھی۔ اب ان کو کسی کی کمائی سے کچھ مطلب نہ تھا، مگر محبت اسی طرح کرتی تھیں۔ وہ اپنے جیتے جی کسی نوچی کو اپنے ساتھ سے جدا نہ سمجھتی تھیں، مجھ سے تو ان کو خاص محبت تھی۔ بسم اللہ نے ان کو بہت آزار دیے، اس لیے اس سے نفرت سی ہو گئی تھی۔ لیکن پھر اولاد تھی۔ خورشید جان بھی غدر کے بعد آ گئی تھیں۔ وہ خانم کے پاس رہتی تھیں۔ امیر جان نے علیحدہ کمرا لے لیا تھا، مگر وہ بھی آتی جاتی رہتی تھیں۔

جو کمرا خانم نے مجھے دیا تھا وہ ان کی زندگی بھر مجھ سے خالی نہیں کرایا گیا۔ میرا اسباب اس میں بند رہتا تھا۔ میرا قفل لگا تھا۔ جب جی چاہتا تھا دو دو تین تین دن وہیں جا کے رہتی۔ سال بھر کہیں رہوں، مگر محرم میں تعزیہ داری وہیں کرتی تھی۔ میرے نام کا تعزیہ خانم مرتے دم تک رکھا کیں۔

جمعرات کو بیگم سے ملاقات ہوئی تھی۔ جمعے کو آدمی آیا کہ خانم صاحب کی طبیعت کچھ علیل ہے، تمہیں یاد کرتی ہیں۔ میں فوراً سوار ہو کے گئی۔ انہیں دیکھ کے گھر پر واپس آنے کا ارادہ تھا کہ جی میں آیا ایک بھاری جوڑا نکالتی چلوں۔ کمرا کھولا۔ دیکھا کمرے میں چاروں طرف جالے لگے ہوئے ہیں۔ پلنگ پر منوں گرد پڑی ہے۔ فرش فروش الٹا پڑا ہے۔ ادھر ادھر کوڑا پڑا ہے۔ یہ حال دیکھ کے مجھے اپنے اگلے دن یاد آئے۔ اللہ ایک وہ دن تھا کہ یہ کمرا ہر وقت کیسا سجا سجایا رہتا تھا۔ دن میں چار مرتبہ جھاڑو ہوتی تھی۔ بچھونے جھاڑے جاتے تھے۔ گرد کا نام تک نہ تھا۔ تنکا تک کہیں پڑا نہ رہتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ دم بھر بیٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔ وہی پلنگ جس پر میں سوتی تھی، اب اس پر قدم رکھتے ہوئے کراہت معلوم ہوتی ہے۔ آدمی ساتھ تھا۔ میں نے اس سے کہا "ذرا جالے تو لے لے۔" وہ ایک سینٹھا کہیں سے ڈھونڈ کے اٹھا لایا۔ جالے لینے لگا۔ اتنی دیر میں میں نے اپنے ہاتھ سے دری الٹی۔ آدمی نے اور میں نے مل کر دری بچھائی۔ چاندنی کو ٹھیک کیا۔ جب فرش درست ہو گیا تو میں نے پلنگ کے بچھونے اٹھوا کے جھڑوائے۔ کوٹھری میں سے سنگار دان، پان دان، اگال دان اٹھا لائی۔ سب چیزیں اپنے اپنے قرینے سے لگا دیں، جس طرح کسی زمانے میں لگی رہتی تھیں۔ خود پلنگ سے تکیہ لگا کے بیٹھی۔ آدمی کے پاس خاص دان تھا۔ پان لے کے کھایا۔ آئینہ سامنے لگا کے منہ دیکھنے لگی۔ اگلا زمانہ یاد آ گیا۔ شباب کی تصویر آنکھوں میں پھر گئی۔ اس زمانے کے قدر دانوں کا تصور بندھ گیا۔ گوہر مرزا کی شرارت، راشد کی حماقت، فیضو کی محبت، سلطان صاحب کی صورت، غرضیکہ جو جو صاحب اس کمرے میں آتے تھے، مع اپنے اپنے خصوصیات کے میرے پیش نظر تھے۔ وہ کمرا اس وقت فانوس خیال بن گیا تھا۔ ایک تصویر آنکھ کے سامنے آتی تھی اور غائب ہو جاتی تھی۔ پھر دوسری سامنے آتی تھی۔ جب کل صورتیں نظر سے گزر گئیں تو یہ دور از سر نو پھر شروع ہوا۔ پھر وہی صورتیں ایک دوسرے کے بعد پیش آئیں۔ پہلے تو ایسے دور جلد جلد ہوئے، اب ذرا توقف ہونے لگا۔ اب مجھ کو ہر تصویر پر زیادہ تردد و فکر کرنے کا موقع ملا۔ جو واقعات جس شخص کے متعلق تھے ان پر تفصیلی نظر پڑنے لگی۔ پہلے دماغ کو چکر ہوا تھا، تو صرف چند ہی تصویریں نظر آتی تھیں۔ اب ہر تصویر سے بہت سی نکلیں اور فانوس خیال کی وسعت بڑھنے لگی۔ تمام زندگی میں جو کچھ دیکھا سب نگاہ کے سامنے تھا۔ اسی اثنا میں ایک مرتبہ سلطان صاحب کا پھر خیال آیا تو اس کے ساتھ ہی پہلے مجرے کا تمام جلسہ، جس میں سلطان صاحب کو دیکھا اور دوسرے دن ان کے خدمت گار کا آنا، پھر ان کا خود تشریف لانا، مزے مزے کی باتیں، شعر و سخن کا چرچا، خان صاحب کا مخلِ صحبت ہونا، بد زبانی کرنا، سلطان کا تمنچہ مارنا، خان صاحب کا گر پڑنا، شمشیر خاں کی جاں نثاری، کوتوال کا آنا، خان صاحب کو گھر پر بھجوا دینا، مگر پھر سلطان صاحب کا نہ آنا، محفل میں ان کو دیکھنا، لڑکے کے ہاتھ رقعہ بھیجنا، پھر از سر نو رسم ہونا، نواز گنج کے جلسے، یہ سب واقعات اس طرح سے معلوم ہوتے تھے جیسے کل ہوئے ہیں۔ یہ دورے برابر چل رہے تھے۔ مگر جب پہلے مجرے کے بعد سلطان صاحب کے آدمی کا پیام لے کے آنا یاد آتا تھا تو طبیعت کچھ رک سی جاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس موقع پر کچھ چھوٹ جاتا ہے۔ اتنے میں آدمی نے زور سے ایک چیخ ماری۔

آدمی: بیوی! دیکھیے، وہ کنکھجورا آپ کے دوپٹے پر چڑھا جاتا ہے۔

میں اوئی کہہ کے اٹھی۔ جلدی سے دوپٹا اتار کے پھینک دیا۔ الگ جا کھڑی ہوئی۔ آدمی نے دوپٹا اتار کے جھاڑا۔ کنکھجورا پٹ سے گرا اور رینگ کے پلنگ کے سرہانے پائے کے نیچے گھس گیا۔ آدمی نے پلنگ کا پایہ اٹھایا۔ اب جو دیکھتے ہیں تو پائے کے نیچے پانچ اشرفیاں برابر بچھی ہوئی ہیں۔

آدمی: (بہت ہی متعجب ہو کے) ہائیں! اے لیجیے، یہ کیا ہے!

میں: (دل میں) اہاہ! اشرفیاں ہیں! (آدمی سے) اشرفیاں ہیں!

آدمی: واہ! اشرفیاں یہاں کہاں سے آئیں؟

میں: (ہنس کے) وہ کنکھجورا اشرفیاں بن گیا۔ اچھا اٹھا لو۔

آدمی پہلے تو جھجکا، پھر پانچوں اشرفیاں مجھے حوالے کیں۔

رسوا: تو کیا خانم کا مکان غدر میں نہیں لٹا؟

امراؤ: لٹا کیوں نہیں۔ مگر فرض کر لیجیے کہ میرے پلنگ کا پایہ کسی نے اٹھا کے نہیں دیکھا۔

رسوا: ممکن ہے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。