
第 15 章,共 20 章
La Begum au sanctuaire
The Begum at the Shrine
حصہ سوم ۳: درگاہ میں بیگم سے ملاقات
ہاتھ آئی مراد منہ مانگیدل نے پائی مراد منہ مانگی
رجب کی نوچندی تھی۔ کچھ بیٹھے بیٹھے میرے دل میں آئی، چلو درگاہ چلیں، زیارت ہی کریں۔ سرِ شام سوار ہو کے پہنچے۔ بڑا مجمع تھا۔ پہلے تو مردانی درگاہ کے صحن میں ادھر ادھر ٹہلا کی۔ پھر جا کے شمعیں جلائیں، حاضری چڑھائی۔ ایک صاحب مرثیہ پڑھ رہے تھے، انہیں سنا۔ پھر ایک مولوی صاحب آئے۔ انہوں نے حدیث پڑھی۔ اس کے بعد ماتم ہوا۔ اب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلنے لگے۔ میں نے بھی زیارت رخصتی پڑھ کے واپسی کا ارادہ کیا۔ دروازے تک پہنچ کے جی میں آیا زنانی درگاہ میں بھی ہوتی چلوں۔ نوحہ خوانی کی شہرت اور نواب ملکہ کشور کی سرکار سے توسل کی وجہ سے اکثر عورتیں مجھ کو جانتی تھیں۔ میں نے خیال کیا کہ دو چار مل ہی جائیں گی۔ اسی بہانے سے ملاقاتیں ہو جائیں گی۔ سوار ہو کے چوپہلے پر پردہ ڈال کے زنانی درگاہ کے دروازے پر پہنچی۔ محل دار نے آ کر سواری اتروائی۔ اندر گئی۔ میرا خیال غلط نہ تھا۔ اکثر عورتوں سے سامنا ہوا۔ شکوے شکایتیں، غدر کے حالات، ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں۔ بڑی دیر ہو گئی۔ میں واپس آنے ہی کو تھی کہ اتنے میں دیکھتی کیا ہوں، دہنی طرف کی صحنچی سے کان پور والی بیگم صاحب نکلی چلی آتی ہیں۔ بڑے ٹھاٹھ ہیں، تولواں جوڑا پہنے ہوئے، چار پانچ مہریاں ساتھ ہیں۔ ایک پائینچے سنبھالے ہوئے ہے، ایک کے ہاتھ میں پنکھیا ہے، ایک لوٹیا خاص دان لیے ہے، ایک کے پاس سینی میں تبرکات ہیں۔ مجھے دور سے دیکھتے ہی دوڑیں۔ کندھے پر ہاتھ رکھ دیے۔
بیگم: اللہ امراؤ! تم تو بڑی بے مروت ہو۔ کان پور سے جو غائب ہوئیں تو آج ملی ہو، وہ بھی اتفاق سے۔
میں: کیا کہوں۔ جس دن آپ کے باغ میں رات کو رہی تھی، اسی دن صبح کو لکھنؤ سے لوگ آ کے مجھے پکڑ کے لکھنؤ لے گئے۔ پھر بھاگڑ ہوئی۔ خدا جانے کہاں کہاں ماری ماری پھری۔ نہ مجھے آپ کا پتا تھا نہ آپ کو میرا حال معلوم تھا۔
بیگم: خیر اب تو ہم تم دونوں لکھنؤ میں ہیں۔
میں: لکھنؤ کیسا، اس وقت تو ایک ہی مقام پر ہیں۔
بیگم: اس کی سند نہیں۔ تمہیں میرے مکان پر آنا ہوگا۔
میں: سر آنکھوں سے۔ مگر آپ رہتی کہاں ہیں؟
بیگم: چوپٹیوں پر۔ نواب صاحب کو کون نہیں جانتا۔ پوچھنے ہی کو تھی کہ کون نواب صاحب، اتنے میں ایک مہری بول اٹھی "نواب محمد تقی خاں کا مکان کون نہیں جانتا۔"
میں: آنے کو تو آؤں مگر نواب صاحب کے خلاف نہ ہو۔
بیگم: نہیں۔ وہ اس طبیعت کے آدمی نہیں ہیں۔ اور پھر تمہارے واسطے؟ میں نے اس رات کا حال رتی رتی ان سے کہا تھا۔ انہوں نے خود تمہیں کان پور میں کئی دفعہ ڈھنڈوایا۔ اکثر پوچھتے رہتے ہیں۔
میں: اچھا تو ضرور آؤں گی۔
بیگم: کب آؤ گی؟ وعدہ کرو۔
میں: اب کی جمعرات کو حاضر ہوں گی۔
بیگم: اوئی۔ یہ جمعرات کی ارواح تم کب سے ہو گئیں۔ ابھی تو پورے آٹھ دن ہیں۔ ادھر ہی کیوں نہیں آتیں؟
میں: اچھا تو اگلی پیر کو آؤں گی۔
بیگم: اتوار کو آؤ۔ نواب بھی گھر میں ہوں گے۔ پیر کے دن شاید کسی انگریز سے ملنے چلے جائیں۔
میں: مناسب ہے، اتوار ہی کو سہی۔
بیگم: کس وقت آؤ گی؟
میں: جس وقت کہیے۔ مجھے گھر پر کوئی کام نہیں، ہر وقت برابر ہے۔
بیگم: تم کہاں رہتی ہو؟
میں: چوک میں سید حسن خاں کے پھاٹک کے پاس۔
بیگم: اچھا تو میں مہری کو بھیج دوں گی۔ اسی کے ساتھ چلی آنا۔
میں: یہ بہت اچھا ہے۔
بیگم: اچھا تو خدا حافظ!
میں: خدا حافظ! ہاں تو کہیے، صاحب زادہ کیسا ہے؟
بیگم: نھن؟ ماشاء اللہ اچھا ہے۔ لو اب تم نے یاد کیا۔
میں: کیا کہوں، باتوں میں کیسی بھولی۔ اور بھولی کیا، جب چاہتی تھی پوچھوں ایک نہ ایک بات نکل آتی تھی۔
بیگم: اب تو سلامتی سے ذرا ہوش سنبھالا ہے۔ اچھا اس دن اسے بھی دیکھ لینا۔
میں: رات کی نیند حرام۔ لے اب کچھ نہ کہیے۔ خدا حافظ!
بیگم: خدا حافظ۔ دیکھو ضرور آنا۔
میں: ایسی بات ہے؟
اتنے میں مہری نے دیکھا کہ باتوں کا سلسلہ پھر چلا، کہنے لگی "بیگم صاحب! چلیے، دیر سے سواری لگی ہے۔ کہار موئے چلا رہے ہیں۔"
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。