
Chapter 13 of 20
Back in Lucknow: the Lawsuit and Akbar Ali's House
حصہ سوم ۱: لکھنؤ واپسی، مقدمہ اور اکبر علی کا گھر
نہ پوچھو ہم سے کیونکر زندگی کے دن گزرتے ہیں
لکھنؤ میں آ کر خانم کے مکان پر اتری۔ وہی چوک، وہی کمرا، وہی ہم ہیں۔ اگلے آنے والوں میں سے کچھ لوگ کلکتے چلے گئے تھے، کچھ اور شہروں میں نکل گئے تھے۔ شہر میں نیا انتظام، نئے قانون جاری تھے۔ آصف الدولہ کے امام باڑے میں قلعہ تھا۔ چاروں طرف دمدمے بنے ہوئے تھے۔ گول دروازے سے لے کر دریا تک دور دور مکان کھدے ہوئے پڑے تھے۔ جا بجا چوڑی چوڑی سڑکیں نکل رہی تھیں۔ گلیوں میں گھر نجے بنائے جاتے تھے۔ نالے نالیاں صاف کی جاتی تھیں۔ غرضیکہ لکھنؤ اب اور ہی کچھ ہو گیا تھا۔
دو چار مہینے خانم کے مکان پر ہی رہی۔ اس کے بعد بہ لطائف الحیل ایک علیحدہ کمرا لے کر رہنا شروع کیا۔ زمانے کے انقلاب کے ساتھ خانم کی طبیعت بھی کچھ بدل گئی تھی۔ مزاج میں ایک قسم کی بے پروائی سی ہو گئی تھی۔ جو رنڈیاں نکل کے علیحدہ ہو گئی تھیں، ان کا تو ذکر کیا، جو ساتھ رہتی تھیں ان کے روپے پیسے سے کوئی واسطہ غرض نہ تھی۔ میرا علیحدہ ہو جانا بھی کچھ ان کے مزاج کے خلاف نہ گزرا۔ دوسرے تیسرے دن میں جاتی تھی۔ سلام کر کے چلی آتی تھی۔ اس زمانے میں نواب محمود علی خاں صاحب سے مجھ سے تپاک بڑھا۔ پہلے کچھ دنوں تشریف لایا کیے۔ پھر نوکر رکھا، اس کے بعد مجھے پابند کرنا چاہا۔ بھلا مجھ سے کب ہو سکتا تھا کہ لکھنؤ میں رہوں اور اپنے قدیم ملنے والوں سے ملاقات ترک کر دوں۔ جب میں نے نواب صاحب کی طبیعت کا یہ رنگ دیکھا، ترکِ تعلق کرنا چاہا۔ نواب صاحب نے عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ مجھ سے نکاح ہے۔ عجب آفت میں جان پھنسی۔ مقدمے کی پیروی میں ہزاروں صرف ہوئے۔ عدالتِ ابتدائی میں فیصلہ نواب صاحب کے موافق ہوا۔ اب مجھے روپوش ہونا پڑا۔ مدتوں چھپی چھپی پھری۔ وکیل کی معرفت اپیل کی۔ اپیل میں نواب صاحب ہارے۔ نواب صاحب نے عدالتِ عالیہ میں اپیل کی، یہاں بھی ہارے۔ اب ناجائز دھمکیاں دینا شروع کیں۔ "مار ڈالوں گا، ناک کاٹ لوں گا۔" اس زمانے میں مجھ کو جان کی حفاظت کے لیے دس بارہ آدمی لٹھ بند نوکر رکھنا پڑے۔ جہاں جاتی ہوں، یہ آدمی فینس کے ساتھ ساتھ ہیں۔ ناک میں دم ہو گیا۔ آخر میں نے فوجداری میں مچلکے کا دعویٰ کیا۔ گواہوں سے ثابت کرا دیا کہ بے شک نواب صاحب درپے آزار ہیں۔ حاکم نے نواب صاحب سے مچلکہ لے لیا۔ اب جا کے جان چھوٹی۔ چھ برس تک ان مقدموں میں پھنسی رہی، خدا خدا کر کے نجات ہوئی۔
جس زمانے میں نواب صاحب سے مقدمہ لڑ رہا تھا، ایک صاحب اکبر علی خاں نامی مختار پیشہ، چلتے پرزے، آفت کے پرکالے، ناجائز کارروائیوں میں مشاق، جعل سازی میں استاد، جھوٹے مقدمات بنانے میں وحیدِ عصر، عدالت کو دھوکہ دینے میں یکتائے زماں، میری طرف سے پیروکار تھے۔ ان کی وجہ سے عدالتی کاموں میں بہت مدد ملی۔ حق تو یہ ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو میں نواب صاحب سے سر بر نہ ہوتی۔ اگرچہ سچا واقعہ یہ ہے کہ نواب صاحب سے اور مجھ سے نکاح نہ تھا، مگر عدالتوں میں اکثر سچی بات کے لیے بھی جھوٹے گواہ پیش کرنا ہوتے ہیں۔ فریقِ ثانی کی طرف سے بالکل جھوٹا دعویٰ تھا، لیکن مقدمہ اس سلیقے سے بنایا گیا تھا کہ کوئی صورتِ مفر کی نہ تھی۔ نکاح کے ثبوت میں دو مولوی پیش کیے گئے تھے جن کے ماتھوں پر گٹے پڑے ہوئے، بڑے بڑے عمامے سر پر، عبائیں زیبِ دوش، ہاتھوں میں کنٹھے، پاؤں میں کفشیں، بات بات میں قال اللہ قال الرسول۔ ان کی صورت دیکھ کے حاکمِ عدالت کیا، کسی نیک آدمی کو کذب و دروغ کا شبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک بزرگ ناکح کے وکیل بنے تھے اور ایک منکوحہ کے، مگر پھر حق حق ہے اور ناحق ناحق، جرح میں بگڑ گئے۔ نواب کے اور گواہ ان سے زیادہ بگڑے، اور انہی گواہوں کی گواہی سے نواب اپیل ہار گئے۔ فوجداری میں میری طرف سے جو گواہ پیش کیے گئے تھے، وہ سب اکبر علی کے بنائے ہوئے تھے، بالکل نہ بگڑے۔
اکبر علی خاں کی آمد و رفت میرے مکان پر بہت زمانے تک رہی۔ انہوں نے میرے ساتھ پورا حقِ دوستی کا ادا کیا۔ ایک حبہ نہیں لیا، بلکہ اپنے پاس سے بہت کچھ صرف کیا۔ واقعی ان کو میرے ساتھ ایک قسم کی محبت تھی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ برے آدمی بالکل برے نہیں ہوتے، کسی نہ کسی سے بھلے ضرور ہو جاتے ہیں۔ اگلے زمانے کے چوروں کی نسبت آپ نے سنا ہوگا کہ جب کسی سے دوستی کر لیتے تھے تو اس سے پورا نباہ کرتے تھے۔ بغیر کسی قدر بھلائی کے زندگی بسر نہیں ہو سکتی۔ جو شخص سب سے برا ہو وہ کسی کا ہو کے رہے گا۔ جب تک نواب سے مقدمہ رہا، میں کسی اجنبی شخص کو اپنے پاس نہ آنے دیتی تھی، مبادا اس کا بھیجا ہوا ہو، خفیہ خبر لینے آیا ہو اور کسی طرح نقصان پہنچائے۔ اکبر علی خان ایک مرتبہ صبح کو کچہری جاتے وقت اور پھر شام کو کچہری سے پلٹ کے میرے مکان پر آتے تھے۔ شام کو یہیں نماز پڑھتے تھے۔ گھر سے کھانا آتا تھا۔ ہر چند میں نے اصرار کیا کہ مکان سے کھانا منگوانے کی کیا ضرورت، مگر انہوں نے نہ مانا۔ آخر مجبور ہو کے چپ ہو رہی۔ میرے گھر کے کھانے سے انکار بھی نہ تھا۔ میں بھی انہی کے ساتھ کھانا کھاتی تھی۔ اس زمانے میں میں بھی نماز کی پابند ہو گئی تھی۔ اکبر علی خاں کو تعزیہ داری سے عشق تھا۔ رمضان اور محرم میں وہ اس قدر نیک کام کرتے تھے جس سے ان کے سال بھر کے گناہوں کی تلافی ہو جاتی تھی۔ یہ صحیح ہو یا غلط ان کا اعتقاد یہی تھا۔
رسوا: یہ معاملہ ایمان کا ہے، اس لیے اتنا مجھے کہہ لینے دیجیے کہ یہ اعتقاد صحیح نہیں ہے۔
امراؤ: میرے نزدیک بھی ایسا ہی ہے۔
رسوا: عقل مندوں نے گناہ کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک وہ جن کا اثر اپنی ہی ذات تک رہتا ہے، اور دوسرا وہ جن کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے۔ میری رائے ناقص میں پہلی قسم کے گناہ صغیرہ اور دوسری قسم کے گناہ کبیرہ ہیں (اگرچہ اور لوگوں کی رائے اس کے خلاف ہو) جن گناہوں کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے ان کی بخشش وہی لوگ کر سکتے ہیں جن پر ان کا برا اثر پڑا ہو۔ تم نے خواجہ حافظ کا وہ شعر سنا ہوگا۔
مے خور، مصحف بسوز، آتش اندر کعبہ زن
ساکنِ بت خانہ باش و مردم آزاری مکن
امراؤ جان! یاد رکھو مردم آزاری بہت ہی بری چیز ہے۔ اس کی بخشش کہیں نہیں ہے۔ اور اگر اس کی بخشش ہو تو معاذ اللہ خدا کی خدائی بے کار ہے۔
امراؤ: میاں، میرا تو بال بال گناہ گار ہے، مگر اس سے میں بھی کانپتی ہوں۔
رسوا: مگر تم نے دل آزاری بہت کی ہوگی؟
امراؤ: پھر یہ تو میرا پیشہ ہے۔ اسی دل آزاری کی بدولت لاکھوں روپے ہم نے کمائے، ہزاروں اڑائے۔
رسوا: پھر اس کی کیا سزا ہوگی؟
امراؤ: اس کی سزا نہ ہونی چاہیے۔ ہم نے جس قسم کی دل آزاری کی اس میں ایک طرح کی لذت ہے جو اس دل آزاری کا معاوضہ ہو جاتا ہے۔
رسوا: کیا خوب!
امراؤ: فرض کیجیے ایک صاحب نے ہم کو میلے تماشے میں کہیں دیکھ لیا، مرنے لگے۔ کوڑی پاس نہیں۔ ہم بے لیے مل نہیں سکتے۔ ان کا دل دکھتا ہے، پھر اس میں ہمارا کیا قصور! دوسرے صاحب ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔ روپیہ بھی دیتے ہیں۔ ہم ایک اور شخص کے پابند ہیں یا ان سے ملنا نہیں چاہتے، اپنا دل۔ ان کی جان پر بنی ہے۔ پھر ہماری بلا سے۔ بعض ہمارے پاس اس طرح کے آتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ فقط ہمیں چاہو ہم نہیں چاہتے۔ اجارہ ہے؟ اس سے ان کو صدمہ پہنچتا ہے۔ پھر ہماری پاپوش سے۔
رسوا: یہ سب گولی مار دینے کے لائق ہیں۔ مگر برائے خدا! کہیں مجھے ان میں سے کسی میں شمار نہ کر لیجیے گا۔
امراؤ: خدا نہ کرے۔ آپ خوش باشوں میں ہیں۔ نہ آپ کسی کو چاہتے ہیں، نہ کوئی آپ کو چاہتا ہے اور پھر آپ سب کو چاہتے ہیں اور سب آپ کو۔
رسوا: یہ کیا کہا؟ ایک بات ہے اور نہیں بھی ہے۔ کہیں ایسا ہو سکتا ہے؟
امراؤ: میں منطق تو زیادہ پڑھی نہیں مگر ہو سکتا ہے۔ جب ایک بات کے دو پیرائے ہوں۔ ایک چاہنا عقل مندی کے ساتھ ہے اور ایک بے وقوفی کے ساتھ۔
رسوا: اس کی مثال؟
امراؤ: پہلے کی مثال جیسے آپ مجھ کو چاہتے ہیں، میں آپ کو۔
رسوا: خیر میرے چاہنے کا حال تو میرا ہی دل جانتا ہے۔ اور آپ کے چاہنے کا حال آپ کے اقرار سے معلوم ہو گیا۔ آگے چلیے، دوسری مثال۔
امراؤ: خیر اگر نہیں چاہتے تو میرا برا چاہتے ہوں گے۔ دوسرے کی مثال سنیے۔ جیسے فریاد رسِ الٰہی۔
رسوا: نہیں اس مثال پر آپ نے غلطی کی۔ اور کوئی مثال دیجیے۔
امراؤ: اچھا جیسے قیس لیلیٰ کو چاہتا تھا۔
رسوا: آپ بھی کیا دقیانوسی مثال ڈھونڈ کے لائی ہیں۔
امراؤ: اچھا جیسے ...... نظیر
رسوا: (بات کاٹ کر) اس مثال سے معاف کیجیے، اس موقع پر مجھ کو ایک شعر یاد آیا ہے، سن لیجیے اور اپنا قصہ دہرائیے۔
کیا کہوں تجھ سے محبت وہ بلا ہے ہمدم
ہم کو عبرت نہ ہوئی غیر کے مر جانے سے
امراؤ: ہاں وہ کلکتے والا معاملہ؟
رسوا: اتنی دور کہاں پہنچ گئیں۔ کیا لکھنؤ میں ایسے نہیں رہتے؟
امراؤ: دنیا خالی نہیں ہے۔
رسوا: ہاں میں نے سنا تھا، آپ اکبر علی خاں کے گھر بیٹھ گئیں تھیں؟
امراؤ: مجھ سے سنیے، جس زمانے میں نواب عدالتِ ابتدائی سے جیت گئے ہیں اور میں روپوش ہوئی ہوں، اس زمانے میں اکبر علی خاں مجھے اپنے مکان پر لے گئے تھے۔ کئی برس رہنے کا اتفاق ہوا۔ اس زمانے میں تین آدمی اس دھوکے میں تھے کہ میں اکبر علی کے گھر بیٹھ گئی۔ ایک تو خود اکبر علی، دوسرے ان کی بیوی، تیسرے کا نام نہ بتاؤں گی۔
رسوا: میں بتا دوں؟
امراؤ: گوہر مرزا؟
رسوا: جی نہیں!
امراؤ: تو پھر اور کون؟ بتائیے۔
رسوا: آپ بتائیے۔
امراؤ: ایسے فقرے کسی اور کو دیجیے گا۔
رسوا: فقرہ کیسا! میں ایک پرچے پر لکھ کے رکھ دیتا ہوں، پھر آپ بتائیے۔
امراؤ: بہتر۔
رسوا: پرچہ لکھ کے رکھ دیا۔ اب کہیے۔
امراؤ: تیسرے میں خود۔
(پرچے میں لکھا تھا "آپ خود")
امراؤ: واہ مرزا صاحب! خوب پہچانا۔
رسوا: آپ کی عنایت ہے۔ ہاں تو کیا گزری؟
امراؤ: گزری کیا، سنیے۔
اول تو انہوں نے مجھے ایک چھوٹے سے مکان میں لے جا کے اتارا جو ان کے مکان سے ملا ہوا تھا۔ کھڑکی درمیان تھی۔ موا کچا سا مکان، ایک چھوٹی سی دلیہ، آگے چھپر۔ ایک اور چھپر سامنے پڑا ہوا۔ اس میں دو چولہے بنے ہوئے۔ یہ کیا ہے؟ باورچی خانہ اور سب خانے بھی ایسے ہی سمجھ لیجیے۔ اسی مکان میں میں بھی رہوں اور میاں کے بے تکلف دوست بھی آیا جایا کریں۔ ان میں سے ایک صاحب رئیس موضع شیخ افضل حسین چھوٹتے ہی "بھوجی" کہنے لگے۔ ان کے بے تکے پن نے ناک میں دم کر دیا۔ پانوں کی فرمائش سے تنگ ہو گئی۔ ہر سٹے "بھوجی پان نہ کھلاؤ گی؟"
ایک دن، دو دن، آخر مروت کہاں تک۔ انتہا یہ کہ پان دان میں نے ان کے آگے سرکا دیا۔ اس دن سے میں خود دست بردار ہو گئی۔ انہوں نے قبضہ کر لیا، جیسے کوئی مالِ موروثی پر قبضہ کرتا ہے۔ پان اس بدتمیزی سے کھاتے تھے کہ دیکھنے والوں کو خواہ مخواہ نفرت ہو جائے۔ کتھے چونے کی کلھیوں میں انگلیاں پڑ رہی ہیں، زبان سے چاٹ رہے ہیں۔ میں نے جب یہ قرینہ دیکھا، چکنی کے چورے اور الائچی پر بسر کرنے لگی۔ اس میں بھی وہ ساجھا لگاتے تھے۔ ایک اور صاحب واجد علی نامی اکثر کھانے کے وقت ضرور تشریف لاتے تھے۔ اب یاد نہیں۔ اکبر علی خاں کے برادر نسبتی تھے۔ ان کے مذاق میں فحش حدِ اعتدال سے زیادہ تھا۔
ان دونوں صاحبوں کے سوا اکبر علی خاں کے بے تکلف احباب بہت سے تھے جن میں سے اکثر کو مقدمہ بازی کا شوق تھا۔ دن رات قانون چھنا کرتا تھا۔ مگر جب مرزا صاحب تشریف لے جاتے تو اک ذرا امن ہو جاتا تھا، کیونکہ انہیں مقدموں کی باتیں سننے سے نفرت تھی۔
اس مکان سے چند روز کے بعد میری طبیعت حد سے زیادہ اکتا گئی۔ قریب تھا کہ کہیں اور رہنے کا بندوبست کروں، کہ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ اکبر علی کسی مقدمے میں فیض آباد گئے، افضل حسین اپنے گاؤں۔ اتفاق سے مکان میں کوئی نہیں ہے۔ دروازے کی کنڈی بند کر لی ہے۔ میں اکیلی بیٹھی ہوں کہ اتنے میں کھڑکی، جو زنانے مکان کی دیوار میں تھی، کھلی اور اکبر علی خاں کی بیوی اندر چلی آئیں۔ مجھے خواہی نہ خواہی سلام کرنا پڑا۔ انگنائی میں تختوں کا چوکا بچھا تھا۔ اسی کے پاس میرا پلنگ لگا تھا۔ پہلے بڑی دیر تک چپکی کھڑی رہیں۔ آخر میں نے کہا "یا اللہ بیٹھ جائیے" بارے بیٹھ گئیں۔
میں: ہم غریبوں پر کیا عنایت تھی۔ آج ادھر کہاں تشریف آئی۔
بیوی: تم کو میرا آنا ناگوار ہو تو چلی جاؤں۔
میں: جی نہیں، آپ کا گھر ہے۔ مجھے ایسا حکم تو مناسب بھی ہے۔
بیوی: لے باتیں نہ بناؤ۔ اگر میرا گھر ہے تو تمہارا بھی گھر ہے۔ اور سچ پوچھو تو میرا نہ تمہارا، گھر تو گھر والے کا ہے۔
میں: جی نہیں! خدا رکھے آپ کے گھر والے کو، ان کا بھی ہے اور آپ کا بھی۔
بیوی: یہ تم اکیلی بیٹھی رہتی ہو۔ آخر ہم بھی آدمی ہیں۔ ادھر کیوں نہیں چلی آتیں۔ ہاں میاں کا حکم ہوگا۔
میں: میاں کا حکم کی کچھ ایسی تابع نہیں ہوں۔ ہاں آپ کی اجازت کی ضرورت تھی، وہ حاصل ہو گئی۔ اب حاضر ہوں گی۔
بیوی: اچھا تو چلیے۔
میں: چلیے
مکان میں جا کر دیکھتی ہوں، خدا کا دیا سب کچھ تھا۔ تانبے کے مٹکے، دیگ، گگرے، پتیلیاں، لوٹے، نواڑی پلنگ، مسہری، تختوں کی چوکیاں، فرش فروش، مگر کسی بات کا قرینہ نہیں۔ انگنائی میں جا بجا کوڑا پڑا ہے۔ باورچی خانے میں سامنے بوا امیرن کھانا پکا رہی ہیں۔ مکھیاں بھن بھن کر رہی ہیں۔ تختوں کے چوکے پر بیک کے چھلکے پڑے ہوئے ہیں۔ بیوی کے پلنگ پر منوں کوڑا۔ اماّمن نے پان دان لا کے بیوی کے سامنے رکھ دیا۔ کتھے چونے کے دھبوں میں سارا پان دان چھپا ہوا تھا۔ دیکھ کے میرا جی مالش کرنے لگا۔
بیوی نے پان لگا کے دیا، میں نے چٹکی میں دبا لیا، باتیں کرنے لگی۔ اسی اثنا میں محلے کی ایک بڑھیا آ نکلی۔ زمین پر پھسکڑا مار کے بیٹھ گئی۔ بیوی سے (میری طرف) اشارہ کر کے پوچھا "یہ کون ہیں؟"
بیوی: اب تمہیں کیا بتاؤں؟
میں چپکی بیٹھی رہی۔ بڑھیا (اکبر علی خاں کی بیوی سے)
بڑھیا: اوئی! جیسے میں جانتی نہیں۔
میں: بڑی بی! پھر جانتی ہو تو پوچھنا کیا۔
بڑھیا: اوئی بی! تم سے بات نہیں کرتی۔ میں تو اپنی بہو صاحب سے پوچھتی ہوں۔ میرا منہ تم سے بات کرنے کے لائق نہیں۔ تم بڑی آدمی ہو۔
میں بڑھیا کا منہ دیکھ کے چپ ہو رہی۔
بیوی: اوئی بڑھیا! ذرا سی بات میں جھاڑ کا کانٹا ہو گئی۔
بڑھیا: (بیوی سے) تم تو اس طرح بات چھپاتی ہو جیسے ہم دشمن ہیں۔ اے لو، ہم تو ان کی بھلائی کے لیے بات کرتے ہیں، یہ ہمیں سے الٹے بگڑتی ہیں۔
بیوی: لے بس، اپنی خیر خواہی رہنے دو۔ بوا! تم کسی کے گھر کی اجارہ دار ہو؟
بڑھیا: ہمارا اجارہ کیوں ہونے لگا۔ اب جو نئی نئی آتی جائیں گی ان کا اجارہ ہوتا جائے گا۔
بڑھیا کی اس بات پر مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی۔ منہ پھیر کے ہنسنے لگی۔
بیوی: کیوں نہیں، اے تم بھی میری سوت ہو نا (میری طرف مخاطب ہو کے) سن لو، خان صاحب کی پہلی بیوی یہی ہیں۔ لو بیوی تم اصل میں ان کی سوت ہو۔ میں تو ان کے بعد آئی ہوں۔
بڑھیا: وہ سوت ہوں اپنے ہوتے سوتوں کی۔ مجھے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ منہ در منہ گالیاں دیتی ہو۔ موئی کسبیوں، خانگیوں کی صحبت میں اور کیا سیکھو گی۔ اتنے دن مجھے آئے ہوئے، بڑی بیگم صاحب (اکبر علی خاں کی والدہ) نے آدھی بات مجھے نہیں کہی۔ بہو صاحب گنوتی ایسی ہیں کہ محلے کی بڑھیوں کو گالیاں دیتی ہوں۔
بیوی: (غصہ ہو کر) میں نے تم سے کہہ دیا مدن کی ماں! تم آج سے میرے پاس نہ آنا۔ وہیں بڑی بیگم کے پاس جا کر بیٹھا کرو۔
مجھے بھی بہت غصہ تھا، مگر میں نے دیکھا کہ بے تکی عورت ہے۔ اس کے منہ کون لگے، ضبط کر کے چپکی ہو رہی۔
بڑھیا: ہماری بلا آتی ہے ......
بیوی: موئی کی شامتیں آئی ہیں۔ یہ بلا بوغمہ کیا بک رہی ہے۔
بڑھیا: تو کیا تمہارے دبیل ہیں؟ کچھ کسی کے لینے میں نہیں۔ گھڑی بھر نکل آتے تھے۔ تم ہم سے ہم تم سے بات کرتے تھے۔ نہ آئیں گے۔
بیوی: ہرگز نہ آنا۔
بڑھیا: اس ضد پر تو ضرور آئیں گے۔ دیکھیں تو تم ہمارا کیا بنا لیتی ہو۔
بیوی: آؤ گی تو اتنی جوتیاں لگائیں گے کہ سر میں ایک بال نہ رہے گا۔
بڑھیا: کیا تاکت، کیا مجال۔ منہ بنواؤ، جوتیاں ماریں گی، بڑی بے چاری۔
بیوی: لے اٹھو، یہاں سے ٹہلو۔ نہیں تو لیتی ہوں ہاتھ میں جوتی۔
بڑھیا: (ایک ٹھٹھا لگا کے) آج تو ہم جوتیاں کھا کے ہی جائیں گے۔ مارو بڑے باپ کی بیٹی ہو تو۔
باپ کے نام پر بیوی کو غصہ آ گیا۔ چہرہ سرخ ہو گیا۔ تھر تھر کانپنے لگیں۔
بیوی: دور ہو یہاں سے، کہتی ہوں۔
بڑھیا: اب تو ہم جوتیاں کھا کے ہی جائیں گے۔
بیوی: (مجھ سے مخاطب ہو کے) دیکھو یہ مجھے ضد دلا رہی ہے۔ بے مارے موئی کو نہ چھوڑوں گی۔
میں: بیگم جانے دیجیے۔ موئی بے تکی ہے۔
بڑھیا: (مجھ سے) تو کچھ نہ بولنا۔ مال زادی، تجھے کچا ہی کھا جاؤں گی۔
بیوی: (جوتی پیر سے لے کر) ایک دو تین۔ اب راضی ہو؟
میں: بیگم جانے دیجیے۔ (ہاتھ سے جوتی چھین لی)
بیوی: نہیں تم نہ بولو۔ موئی کا کچومر نکال ڈالوں گی۔
بڑھیا: اور مارو۔
بیوی نے دوسرے پیر سے جوتی اتار کر چار پانچ اور لگائیں۔ اب تو بڑھیا نے زمین پر پاؤں پھیلا دیے اور دوہتڑ مارنا شروع کیا۔ "ہے ہے! ہے ہے! مجھے جوتیاں ماریں۔ اب تو دل ٹھنڈا ہوا۔ سوت کی جلن مجھ پر اتاری۔ ہائے مارا! ہائے مارا۔" چلا چلا کے دہائی دینا شروع کی۔ باورچی خانے سے بوا امیرن اٹھ کے دوڑیں۔ بیگم صاحب اپنے دالان میں چلی آئیں۔ ایک آفت برپا ہو گئی۔ بڑی بیگم صاحب کو آتے دیکھ کر اور بھی دوہتڑ مارنا شروع کیے۔ "اس بڑھاپے میں مجھے جوتیاں کھلوائیں۔"
بیگم صاحب: لے مجھے کیا معلوم تھا کہ تم پر جوتیاں پڑ رہی ہیں۔ نہیں تو آ کے بچا لیتی۔ آخر بات کیا ہوئی؟
بڑھیا: (میری طرف اشارہ کر کے) اس مال زادی نے مار کھلوائی۔ ارے اس نے مار کھلوائی۔
میں ٹھگ ماری سی ہو گئی۔ بیگم صاحب سے مجھ سے اس وقت سامنا ہوا، کچھ کہتے نہیں بن پڑتا۔
بیوی: پھر ان کا نام لیے جاتی ہے۔
بڑھیا: ہم تو نام لیں گے۔ دیکھیں تم کیا کرتی ہو۔
بیگم صاحب: آخر ہوا کیا تھا؟
بڑھیا: مجھ نگوڑی نے اتنا پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لے بھلا کیا گناہ کیا؟
بیوی: تم تو کہتی تھیں میں جانتی ہوں، پر پوچھنے سے کیا مطلب تھا؟
بڑھیا: کیا مطلب تھا؟ اچھا مطلب بتا دوں گی۔ تو سہی جو اپنا عوض نہ لے لوں۔ تم نے مارا تو ہے۔
بیگم: چل شتل، تو کیا بدلہ لے گی؟ ذرا کسی بھلاوے پر نہ پھولنا۔
بڑھیا: میں تم سے کچھ نہیں کہتی۔ تم جو چاہو کہو لو۔ تمہارا بک ہے۔
بیگم: تیری بک والی کی ایسی کی تیسی۔ نکل یہاں سے۔
بڑھیا: لو یہ بھی نکالتی ہوئی آئیں۔ اچھا جاتے ہیں۔
(یہ کہہ کے بڑھیا اٹھ کھڑی ہوئی۔ لہنگا جھاڑ جھوڑ بڑبڑاتی ہوئی) بڑی نکالنے والی۔ جاتے ہیں۔ دیکھیں تو کیوں کر نہیں آنے دیتیں۔
بیگم: (بہو سے) آخر تم اس موئی چڑیل کے منہ کیوں لگیں؟
بیوی: اماں جان! آپ کے سر کی قسم! میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا۔ وہ تو آپ ہی جیسے کوئی کھری کھاٹ پر سے سو کے آئی تھی۔ سینکڑوں باتیں تو ان بے چاری کو سنا کے رکھ دیں۔
بیگم صاحب میرے ذکر پر کچھ ناک بھوں چڑھا کے چپکی ہو گئیں۔ مجھ کو اس بڑھیا کی بات تو ناگوار نہیں ہوئی، کیونکہ میں اسے دیوانی سمجھے ہوئے تھی، مگر ہاں بیگم صاحب کی بے اعتنائی سے سخت صدمہ ہوا۔ وہ ابھی وہیں کھڑی تھیں کہ میں اٹھ کے کھڑکی کے پاس چلی آئی اور اپنے مکان میں آن بیٹھی۔
بیگم صاحب: (میرے چلے آنے کے بعد بہو سے) اوئی بیٹا! تم نے تو اس بڑھیا نگوڑی کو خواہ مخواہ پیٹ ڈالا، پھر موئی ایک شتل بازاری کے لیے۔ آخر تمہیں اس کی پرچک لینا کیا ضروری تھی۔
امیرن: اچھا اس کو جانے دیجیے۔ جیسی اس نے بدزبانی کی تھی، اپنی سزا کو پہنچی۔ یہ پوچھیے کہ کسبی خانگیوں سے میل جول کیسا؟ اور کسبی بھی وہ جس سے میاں سے آشنائی ہو۔ ابھی وہ لا کے سر پر بٹھا دیتے تو کیسی کیسی ماتامت ڈالتی۔ اور خود فرض کر کے جا کے بلا لائیں؟
بیگم: (امیرن سے) اس کی مجال تھی گھر میں لے آتا۔ ہم نہیں بیٹھے ہیں۔ باہر جس کا جی چاہے آئے، گھر میں کسی کا کیا کام ہے۔ اے لو ان سے (اکبر علی خاں کے باپ) برسوں حسین باندی سے ملاقات رہی۔ اس نے کیسی منتیں کیں۔ میں نے نہیں ہامی بھری۔ بوا امیرن! میں یہ سوچی کہ آج کو مہمان طریق کھڑی تڑی چلی آئے گی، کل کو میاں گھر میں بٹھا لیں گے۔ تو یہ چھاتی پر مونگ کون دلوائے گا۔ اپنی پت اپنے ہاتھ ہے۔ یہ آج کل کی لڑکیوں کو اپنے آگم اندیشے کا خیال نہیں۔
امیرن: سچ ہے بیگم صاحب! اول تو مونڈھے پر بیٹھنے والیوں کا گھر گرہستیوں میں کام ہی کیا ہے۔ اگلے لوگ کہتے تھے۔ ایک درجہ مرد کو گھر میں بلا لے، بد عورتوں کو نہ بلائے۔
بیگم: بوا! بات یہ ہے کہ مرد اگر چلا بھی آئے گا تو کیا وہ عورتوں میں گھس کے بیٹھے گا۔ کل کی بات ہے، بھاگڑ کے دنوں میں برسوں حسین خاں ہمارے گھر میں چھپے رہے۔ پھر بوا! ایک گھر کا سہنا رہنا، مگر مجال ہے کہ انہوں نے میرا آنچل تک دیکھا ہو یا بات سنی ہو۔ دن دن بھر صحنچی میں گھٹی بیٹھی رہتی تھی۔ ماما اصیلوں سے اشاروں میں باتیں کرتی تھی۔
امیرن: ایک تو یہ کہ تم صحنک کی کھانے والی بیوی صاحب زادی۔ جب ایسوں کے پاس بیٹھو گی، کہاں تک بچاؤ ہوگا۔ کہیں اس نے کتھے چونے کی کلھیوں میں ہاتھ ڈال دیا، تمہاری آنکھ بچا کے کٹوری میں پانی پی لیا! دوسرے موئی نکاہیاں ان کا اعتبار کیا؟ سینکڑوں عارضوں میں گھری ہوتی ہیں۔ ان کی تو پرچھائیوں سے بچنا چاہیے۔
بیگم صاحب: ایک بات؟ سبھی باتوں کا براؤ ہونا چاہیے۔ پرچھانواں، نانگھن، ٹونے ٹوٹکے۔ بوا، کون کہے۔ ان کو تو سمجھ نہیں۔ اور جو کچھ کھلا ہی دے۔ مرزا محمود علی کی بہو کو سوت نے جونک کھلا دی۔ دین و دنیا سے جاتی رہی۔ نہ آل کی نہ اولاد کی۔
امیرن: جی ہاں! اے لو کیا میں جانتی نہیں۔
بیگم: یہ سوتاپے کا ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ اس میں جہاں تک الگ تھلگ رہے اچھا۔ یوں تو الگ تھلگ رہنے پر بھی جان نہیں بچتی۔ مجھی کو دیکھو۔ اس موئی نکے کی کہاری نے کیا کوئی بات اٹھا رکھی؟ دعا، تعویذ، گنڈے، کیسے کیسے نقش میرے سرہانے سے نکلتے تھے۔
امیرن: پھر اس ...... کو اپنے گھر میں کیوں آنے دیا۔
بیگم: اے بوا! نوکر تھی۔ میں کیا جانتی تھی کہ اس سے میاں سے لگا سگا ہے۔ جس دن معلوم ہو گیا، میں نے کھڑے کھڑے نکال دیا۔
امیرن: مگر بیگم! ایک بات کہوں گی خدا لگتی۔ آپ کی خدمت بہت کی۔
بیگم: یہ خوب کہی۔ دیاں کو چھپنا تھا۔ اب کیا اس سے بھی گئی گزری۔ اس بڑھیا کو کیا سمجھتی ہو؟ اس سے بھی کسی زمانے میں میاں سے تھی۔
امیرن: (قہقہہ لگا کے) نہیں بیگم صاحب!
بیگم: کیا میں جھوٹ کہوں گی؟ جب ہی تو وہ دہراتی تھی کہ اپنا عوض لے لوں گی۔
امیرن: بہو صاحب! تو پھر آپ کو نہیں چاہیے تھا۔ سسرے کے حرم کو اتنی جوتیاں ......
بیگم: بوا! ان لوگوں کو یہ لحاظ کہاں۔ سچ کہوں مجھے بھی یہ بات ناگوار ہوئی، ان کے منہ پر کہتی ہوں۔ آج کو موئی نکاہائی کے چلتے سسرے کی حرم کے جوتیاں ماریں، کل ساس کو ماریں گی۔
امیرن: نہیں خدا نہ کرے۔ مگر ہاں بات کہنے ہی میں آتی ہے۔
ان دونوں بڑھیوں نے بہو صاحب بے چاری کو ایسے کونچے دیے کہ آخر چیخیں مار مار کے رونے لگی۔ میرا یہ حال تھا کہ انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ دونوں بڑھیوں کے منہ نوچ لوں۔
رسوا: ہائیں ہائیں یہ غصہ!
روکیے گا ذرا طبیعت کو
کہیں ایسا نہ ہو کہ خفت ہو
امراؤ: مرزا صاحب! غصے کی بات ہی تھی۔ ایک انسان کو اتنا ذلیل سمجھنا انسانیت سے بعید ہے۔
رسوا: میرے نزدیک تو کوئی ایسی بات نہ تھی جس پر آپ کو اتنا غصہ آیا۔ وہ دونوں بڑھیاں سچ کہتی تھیں۔ اور مدن کی ماں بے چاری ناحق پٹی۔ حق تو یوں ہے، اب آپ چاہے برا مانیں چاہے بھلا۔
امراؤ: واہ مرزا صاحب! آپ خوب انصاف کرتے ہیں۔
رسوا: جی ہاں میرے نزدیک انصاف یہی ہے۔ اس معاملے میں آپ بھی ایک حد تک بے قصور تھیں۔ سارا قصور اکبر علی کی بیوی کا تھا۔
امراؤ: ان بے چاری کا کیا قصور تھا؟
رسوا: ایسا قصور تھا کہ اگر میری بیوی ایسا کرتی تو فوراً ڈولی بلوا کے میکے بھجوا دیتا اور چھ مہینے تک صورت نہ دیکھتا۔ اچھا ایک بات پوچھتے ہیں۔ اکبر علی خاں نے جب یہ واردات سنی تو کیا کہا؟
امراؤ: مدن کی ماں پر خوب چیخے، خوب چلائے، کہہ دیا خبردار! یہ ڈائن ہمارے گھر نہ آنے پائے۔ کئی مہینے تک اس کا آنا جانا موقوف رہا۔ جب بڑے خان صاحب آئے تو پھر آنے لگی۔ یہ قصہ ان کے آگے چھیڑا گیا تھا۔ وہ الٹے اکبر علی خاں کی بیوی پر خفا ہوئے۔
رسوا: بڈھے کی عقل صحیح تھی۔
امراؤ: صحیح تھی یا سٹھیا گئے تھے! ذرا مدن کی ماں پاؤں دبایا کرتی تھی، اسی سے اس کی پرچک لیتے تھے۔ کیوں نہ پرچک لیتے، مدن کی ماں ان کی پرانی آشنا تھی۔
رسوا: پھر آپ ہی قائل ہو جائیے۔ یہ عین وضع داری تھی۔ اچھا اب ایک بات اور بتا دیجیے۔ مدن کی ماں جوانی میں کوئی رنڈی تھی یا گھر گرہست۔ اور بوا امیرن کون تھیں؟
امراؤ: مدن کی ماں موئی دھنینی تھی۔ جوانی میں خراب ہو گئی تھی۔ بوا امیرن ایک دیہاتی عورت تھیں۔ ان کا مکان سندیلے کے ضلع میں تھا۔ ایک جوان بیٹا تھا۔ وہ بھی بڑے خان صاحب کے پاس نوکر تھا۔ ایک لڑکی تھی۔ وہ کہیں باہر بیاہی ہوئی تھی۔
رسوا: بوا امیرن سے اور بڑے خان صاحب سے تو کوئی تعلق نہ تھا۔
امراؤ: نہ۔ خدا کو جواب دینا ہے۔ امیرن بڑی نیک عورت تھی۔ سارا محلہ کہتا تھا کہ وہ جوانی میں رانڈ ہو کر یہاں نوکری کو آئی تھی۔ اس دن سے کسی نے اس کو بدراہ نہیں دیکھا۔
رسوا: پورے واقعات آپ کے بیان سے مجھ کو معلوم ہو گئے۔ اب پوچھیے کیا پوچھتی ہیں۔
امراؤ: تو کیا کوئی مقدمہ آپ فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں۔
رسوا: بہت بڑا مقدمہ ہے۔ بات یہ ہے کہ عورتیں تین قسم کی ہوئی ہیں۔ ایک نیک بختیں، دوسری خرابیں، تیسری بازاریاں اور دوسرے قسم کی عورتیں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک تو وہ جو چوری چھپے عیب کرتی ہیں۔ دوسری وہ جو کھلم کھلا بدکاری پر اتارو ہو جاتی ہیں۔ نیک بختوں کے ساتھ وہی عورتیں مل سکتی ہیں جو بدنام نہ ہو گئی ہوں۔ کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں ہے کہ وہ بے چاریاں جو تمام عمر چار دیواریوں میں قید رہتی ہیں۔ ہزار ہا قسم کی مصیبتیں اٹھاتی ہیں، اچھے وقت کے تو سب ساتھی ہوتے ہیں، مگر برے وقت میں یہی بے چاریاں ساتھ دیتی ہیں۔
جس زمانے میں ان کے شوہر جوان ہوتے ہیں، دولت پاس ہوتی ہے، تو اکثر باہر والیاں مزے اڑاتی ہیں، مگر مفلسی اور بڑھاپے کے زمانے میں کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ ان وقتوں میں وہی طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہیں اور بروں کی جان کو صبر کرتی ہیں۔ پھر کیا انہیں اس کا کوئی فخر نہ ہوگا۔ یہی فخر اس کا باعث ہوتا ہے کہ وہ خراب عورتوں کو بہت ہی بری نگاہ سے دیکھتی ہیں، انتہا کا ذلیل سمجھتی ہیں۔ توبہ استغفار سے خدا گناہ معاف کر دیتا ہے مگر یہ عورتیں کبھی معاف نہیں کرتیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھر کی عورت کیسی ہی خوبصورت، خوب سیرت اور خوش سلیقہ کیوں نہ ہو، بے وقوف مرد بازاریوں پر، جو ان سے صورت اور دوسری صفتوں میں بدرجہا بدتر ہیں، فریفتہ ہو کر انہیں عارضی طور سے یا مدت العمر کے لیے ترک کر دیتے ہیں۔ اس لیے ان کو گمان کیا بلکہ یقین ہے کہ یہ کسی نہ کسی قسم کا جادو ٹونا ایسا کر دیتی ہیں جس سے مرد کی عقل میں فتور آ جاتا ہے۔ یہ بھی ان کی ایک قسم کی نیکی ہے، اس لیے کہ وہ اس حال میں بھی اپنے مردوں کو الزام نہیں دیتیں، بلکہ بدکار عورتوں ہی کو مجرم ٹھہراتی ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی محبت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔
امراؤ: یہ تو سب صحیح ہے، مگر مرد کیوں ایسے بے وقوف بن جاتے ہیں۔
رسوا: اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے مزاج میں جدت پسندی ہے۔ ایک حالت میں زندگی بسر کرنے سے، خواہ وہ کیسی ہی عمدہ کیوں نہ ہو، طبیعت اکتا جاتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کا تغیر اس کی حالتِ زندگی میں پیدا ہو۔ شاہدانِ بازاری کے ساتھ معاشرت کرنے میں اسے ایک قسم کی نئی لذت ملتی ہے جو کبھی اس کے خیال میں نہ تھی۔ یہاں بھی ایک ہی کے تعارف پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ جدت کی تلاش میں روز نئے کمروں میں پہنچتا ہے۔ اور نئے گھر دیکھتا پھرتا ہے۔
امراؤ: مگر سب مرد ایسے نہیں ہیں۔
رسوا: ہاں یہ سچ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حسنِ معاشرت کے قانون نے اس امر کو معیوب قرار دیا ہے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے اس کے عزیز و اقارب، دوست احباب ملامت کرتے ہیں۔ اس خوف سے اکثر کی جرأت نہیں ہوتی۔ مگر جب اخوان الشیاطین کی صحبت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ہے، وہ طرح طرح کی لذتوں کا ذکر کر کے ایک عجیب قسم کا شوق ان کی طبیعت میں پیدا کر دیتے ہیں، اس لیے وہ خوف ان کے دل سے نکل جاتا ہے۔ آپ کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوا ہوگا کہ جو لوگ پہلے پہل رنڈی کے مکان پر جاتے ہیں ان کو اخفائے راز کا کس قدر خیال ہوتا ہے۔ کوئی دیکھتا نہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ دو آدمیوں کے سامنے تو بولنے کا کیا ذکر، تخلیہ میں بھی منہ سے بات نہیں نکلتی۔ مگر رفتہ رفتہ یہ حالت بالکل زائل ہو جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ چند ہی روز میں پورے بے غیرت ہو جایا کرتے ہیں۔ پھر کیا ہے، دن دہاڑے سرِ چوک رنڈیوں کے کمروں پر کھٹ کھٹ کر کے چڑھ جانا، گاڑی میں کھڑکیاں کھول کے ساتھ بیٹھ کے سیر کرنا، ہاتھ میں ہاتھ لے کے میلے تماشوں میں لیے پھرنا، ان سب باتوں کو فخر سمجھنے لگتے ہیں۔
امراؤ: یہ تو صحیح ہے، مگر شہروں میں ان باتوں کو چنداں معیوب نہیں سمجھتے۔
رسوا: خصوصاً دہلی اور لکھنؤ میں۔ اور یہی ان شہروں کی تباہی اور بربادی کا باعث ہوا۔ دیہات اور قصبات میں ایسے شریر لوگوں کی صحبت کم ملتی ہے جو نوجوانوں کو ان بدکاریوں پر آمادہ کریں۔ دوسرے وہاں کی رنڈیوں کو اس قدر اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس لیے وہ روسا اور زمینداروں کی مطیع فرمان ہوتی ہیں اور بہت ڈرتی ہیں، کیونکہ ان کا آذوقہ بلکہ زندگی ان کے دستِ قدرت میں ہے۔ اس لیے ان کی اولاد سے بہت ہی چھپے چوری ملتی ہیں۔ اور شہروں میں تو آزادی ہے۔ کون کس کا دباؤ مانتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے۔
امراؤ: مگر دیہاتی جب بگڑتے ہیں تو حد سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں، مثلاً میاں ارشاد علی کا واقعہ آپ سن چکے ہیں۔
رسوا: اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ان لذتوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ جب ان کو ان کا چسکا پڑتا ہے تو وہ اس کی حد سے زیادہ قدر کرتے ہیں۔ اور اہلِ شہر کچھ نہ کچھ آگاہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کو زیادہ شغف اور انہماک نہیں ہوتا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.