Urdu in Translation
Search

Chapter 7 of 12

Kalim refuse de venir

Kalim Refuses to Come

فصل ہفتم: نصوح نے بڑے بیٹے کلیم کو بلایا اور ہر چند فہمیدہ اور علیم دونوں نے سمجھایا مگر وہ نہ آیا پر نہ آیا

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

غرض علیم رخصت ہو کر مردانے میں گیا تو میاں کلیم کو پیامِ طلب جا سنایا۔

کلیم: کیا ہے؟ خیریت تو ہے؟ آج کل ہم لوگوں پر بڑی عنایت ہے؟

علیم: بھلا کبھی عنایت نہیں بھی تھی؟

کلیم: اس کو کوئی سلیم سے پوچھے۔

اتنے میں سلیم دروازے سے نمودار ہوا۔ مگر اس سے پہلے وہ اپنا سر منڈا چکا تھا اور اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو بڑے بھائی جان دیکھ لیں، چاہتا تھا کہ چپکے چپکے دبے پاؤں گھر میں گھس جائے۔ لیکن جونہی بے چارے نے گھر کے اندر قدم رکھا کہ کلیم نے آواز دی۔ سلیم تو بھائی کی آواز سن کر کانپ اٹھا اور سمجھا کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ مگر منجھلے بھائی کو بیٹھا ہوا دیکھ کر کسی قدر دم میں دم آیا اور پاس آ کر بے پوچھے کہنے لگا کہ ابا جان کے حکم سے میں نے آج بال منڈوا دیے۔

بڑا بھائی: (منجھلے بھائی کی طرف مخاطب ہو کر) دیکھیے، صورت ببیں حالش مپرس۔ ایک شفقتِ پدری تو یہ ہے کہ بے چارے کی اچھی خاصی صورت کو لے کر بگاڑ دیا اور برسوں کی کمائی خاک میں ملوا دی۔
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے
کیوں سلیم؟ تمہارا دل تو بالوں کے واسطے بہت کڑھا ہوگا؟

چھوٹا بھائی: میں تو بذاتِ خود ایک مدت سے بالوں کے منڈانے کی فکر میں تھا، بلکہ شاید آپ کو یاد ہوگا، ایک مرتبہ سر کھول کر حجام کے روبرو بیٹھ گیا تھا۔ آپ خفا ہونے لگے تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔

بڑا بھائی: اب مجھ کو یاد آیا کہ تمہارے ان چار یاروں نے، جن کو میں مکر و فریب کے عناصرِ اربعہ سمجھتا ہوں، تم کو بہکا دیا تھا۔ بلکہ ایسے کوڑھ مغزوں کو کالج میں پڑھنے سے فائدہ؟
صحبتِ عیسیٰ بنائے خر کو انساں کس طرح
تربیت سے واقعی نااہل دانا کب بنیں؟

چھوٹا بھائی: آپ ناحق ان بے چاروں کو بُرا کہتے ہیں۔ وہی بات تو ابا جان نے بھی کہی۔

بڑا بھائی: ابا جان نے ابھی بیماری سے اٹھ کر کہی یا کبھی پہلے بھی کہی تھی؟

چھوٹا بھائی: نہیں، پہلے تو کبھی کچھ نہیں کہا۔

بڑا بھائی: پھر سمجھ لو کہ ابا جان کو خللِ دماغ ہے۔ میں نے تو شروع ہی میں کہہ دیا تھا کہ ڈاکٹر نے جو اسہال بند کرنے کی دوا دی ہے، انجرے دماغ کو چڑھ گئے ہیں۔

منجھلا بھائی: یہ کیسی بات آپ کہتے ہیں؟ ابھی میں ابا جان کے پاس سے چلا آتا ہوں۔ دو گھنٹے تک متواتر مجھ سے گفتگو کرتے رہے۔ میرے نزدیک تو ان کے خیالات پہلے سے کہیں عمدہ اور معقول ہو گئے ہیں۔

بڑا بھائی: سنتا ہوں کہ ان دنوں نماز بہت پڑھا کرتے ہیں۔

منجھلا بھائی: تو کیا اس کو آپ نے خللِ دماغ قرار دیا ہے؟

بڑا بھائی: کیا خللِ دماغ کے سر میں سینگ لگے ہوتے ہیں؟ بیمار ہو کر اٹھے تھے، کوئی بڑا بھاری جلسہ کرتے کہ شہر میں نام ہوتا۔ اٹھے بھی تو اونگھتے ہوئے۔ دو چار مرتبہ میں نے ان کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ یہ نوری جولاہا تو امام بنتا ہے اور محلے کے سقے، حجام، کنجڑے، مسجد کے مسافر اس قسم کے لوگ اس کے مقتدی ہوتے ہیں، اور انھی میں یہ حضرت بھی جا کر شریکِ نماز ہوتے ہیں۔ بھائی، میں تو تم سے سچ کہوں کہ یہ دیکھ کر مجھ کو اس قدر شرم آتی ہے کہ میں نے ادھر کا راستہ چھوڑ دیا۔ یہ ملّا نے جو خدا کی قدرت ہمارے ابا جان کے ہم نشین بنے ہیں، اس قدر تو ذلیل اوقات ہیں کہ دعوت کے لقموں اور مسجد کی روٹیوں پر تو ان کی گزر ہے، مگر مغرور پرلے سرے کے ہوتے ہیں۔ کبھی راہ میں مڈبھیڑ ہو جاتی ہے تو خیر یہ تو مجال نہیں کہ سلام نہ کریں، لیکن اتنے بڑے تڑنگے کہ بندگی نہ آداب نہ تسلیم، دور ہی سے السلام علیکم کا پتھر کھینچ مارتے ہیں۔ ہاتھ یہ نہیں اٹھاتے، سر یہ نہیں جھکاتے، اور اس پر طرہ یہ کہ سو قدم سے مصافحے کو ہاتھ پھیلا کر لپکتے ہیں۔ سلیم، تم کو صرف سر ہی منڈانے کا حکم ملا یا نماز کی بھی ہدایت ہوئی تھی؟

چھوٹا بھائی: جناب، نماز کے لیے تو سخت تاکید کی ہے کہ خبردار، کسی وقت کی قضا نہ ہونے پائے۔ اور اس کے علاوہ کنکوا اڑانا، شطرنج کھیلنا، جانوروں کی لڑائی میں شریک ہونا، جھوٹ بولنا، قسم کھانا، بے ہودہ بات بکنا، بُرے لڑکوں میں بیٹھنا، ان سب باتوں سے منع کیا ہے۔

بڑا بھائی: کیوں نہیں۔ تم سے ایک ہی بات کہہ دی کہ مر رہو۔

منجھلا بھائی: (یہ جملہ سن کر بے اختیار ہنس پڑا اور کہنے لگا) آپ کے نزدیک ان شرطوں کی تکمیل کرنا اور مرنا دونوں برابر ہیں؟

بڑا بھائی: جب تمام کھیلوں کی ممانعت اور لوگوں سے ملنے اور بات کرنے کی پابندی ہوئی تو تم ہی انصاف کرو کہ ایسے جینے اور مرنے میں کیا امتیاز ہو سکتا ہے؟
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

منجھلا بھائی: میں تو سمجھتا ہوں کہ ہماری بالفعل کی زندگی کی نسبت اس طرح کی زندگی میں جو ابا جان تعلیم کرتے ہیں، روحی مسرت زیادہ ہے۔ اگرچہ میں کھیل کود کی چیزوں میں خصوصاً ان دنوں کم مصروف ہوتا ہوں، اس واسطے کہ مدرسے کے کام سے فرصت نہیں ملتی، مگر جتنا مصروف ہوتا ہوں، اس سے سوائے کوفت اور کبیدگی کے میں تو کوئی نتیجہ نہیں دیکھتا۔ رہا یار دوستوں کا مشغلہ، سو میں ان میں سے کسی کو کسی کا دوست نہیں سمجھتا۔ بھلا کوئی سے دوست ایسے بتائیے جن میں ہر روز تو تو میں میں کی نوبت نہ پہنچتی ہو۔

بڑا بھائی: پھر بھی یہ لوگ ان حجاموں، کنجڑوں اور مسجد کے مسافروں سے بہتر ہیں جو نمازیں پڑھ پڑھ کر شریف بننا چاہتے ہیں۔

منجھلا بھائی: اگر شریف ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہم اور ہمارے یار دوست ہیں تو میرے نزدیک ایسی شرافت پر کوئی معقول پسند آدمی ناز نہیں کر سکتا۔ کون سی بے ہودگی ہے جو ہم لوگ نہیں کرتے، خصوصاً جب اکٹھے ہوں؟ کون سی بدتمیزی ہے جس کے مرتکب ہم نہیں ہوتے، خاص کر اس وقت جب ایک دوسرے سے ملیں؟ دھول دھپا، لام کاف، چھیڑ چھاڑ، مار کٹائی، دھینگا مشتی، ہاتھا پائی، کس کس چیز کا نام لوں۔ ایک جلسہ اور دنیا بھر کی تفضیح۔ ایک مجمع اور زمانے بھر کی رسوائی۔ نام کے شریف اور پاجیوں کی سی عادت۔ کہنے کو بھلے مانس اور بازاریوں جیسی طبیعت۔

بڑا بھائی: چلو خیر۔ معلوم ہوتا ہے تم تو بیعت کرنے کو تیار بیٹھے ہو۔

منجھلا بھائی: تیار کیسا؟ ابھی تو بیعت کیے چلا آتا ہوں۔

بڑا بھائی: سلیم، تم اپنی کہو۔

چھوٹا بھائی: جناب، میں ان سے پہلے منڈ چکا ہوں۔

بڑا بھائی: تمہارا منڈنا سند نہیں۔ تمہارا معاملہ ع ورنہ ستائی بہ ستم می رسد کا معاملہ ہے۔ مگر ان (منجھلے بھائی کی طرف اشارہ کر کے) کو توڑا تو انھوں نے اپنے نزدیک بڑا کفر توڑا۔ رہ گیا اکیلا میں۔

منجھلا بھائی: آپ اسی وقت تک اکیلے ہیں کہ ابا جان تک نہیں پہنچے۔ گئے اور داخلِ حلقہ ہوئے۔

بڑا بھائی: بس جی۔ اس کو دل سے دور رکھیں۔ ع یاں وہ نشے نہیں جنھیں ترشی اتار دے۔

منجھلا بھائی: ابا جان سے ملنا شرط ہے۔

بڑا بھائی: آخر کیا کریں گے؟

منجھلا بھائی: سمجھائیں گے۔

بڑا بھائی: ع میں نہ سمجھوں تو بھلا کیا کوئی سمجھائے مجھے؟

منجھلا بھائی: وہ باتیں ہی اس طرح کی کہتے ہیں کہ لوہے کو پگھلائیں، پتھر کو موم بنائیں۔

بڑا بھائی: تو بس میں جا چکا۔

منجھلا بھائی: اگر ابا جان نے دوبارہ بلوا بھیجا؟

بڑا بھائی: میں جانوں گا کہ ضرور ان کو خللِ دماغ ہے۔

منجھلا بھائی: والد جیسے میرے، ویسے آپ کے۔ آپ کو اختیار ہے ان کی شان میں جو چاہیں سو کہیں۔ لیکن اتنا میں آپ سے کہہ دیتا ہوں کہ اصرار کا انجام اچھا نہیں۔

بڑا بھائی: اتنا میں سمجھتا ہوں۔ لیکن میں اس انجام کی کچھ پروا نہیں کرتا۔

منجھلا بھائی: لیکن اس بگاڑ میں آپ فائدہ کیا سمجھتے ہیں؟

بڑا بھائی: اور میرا نقصان ہی کیا؟

منجھلا بھائی: اگر اور کچھ نقصان نہ بھی ہو تو ابا جان کی ناخوشی کیا تھوڑا نقصان ہے؟

بڑا بھائی: ع رنج و آزردگیِ غیر سبب راچہ علاج

منجھلا بھائی: اوّل تو ابھی آزردگی کی نوبت نہیں آئی، لیکن اگر خدانخواستہ آئے گی تو لوگ اس کو بے سبب نہیں کہیں گے۔ اور سبب کی ابتدا آپ کی طرف سے ہوئی ہے کہ انھوں نے بلایا ہے اور آپ نہیں جاتے۔ بھلا دنیا میں کوئی باپ ایسا ہوگا کہ فرزند اس کی نافرمانی کرے اور وہ ناخوش نہ ہو۔

بڑا بھائی: ان کو میرے افعال سے بحث کیا؟ اور میرے اعمال سے تعرض کیوں؟

منجھلا بھائی: اوّل تو میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ آپ سے کیا کہیں گے۔ لیکن مانا کہ وہی کہیں جو مجھ سے اور سلیم سے کہا، تو کیا ان کو نصیحت کا اختیار اور ہدایت کا منصب نہیں ہے؟

بڑا بھائی: لیکن حمیدہ پر، سلیم پر اور تم پر، کیونکہ تم لوگ بطوعِ خاطر ان کی نصیحت سننی چاہتے ہو۔

منجھلا بھائی: کیوں؟ جیسے ہم ان کے فرزند، ویسے آپ۔

بڑا بھائی: میں فرزند کبھی تھا۔ اب سینگ کٹا کر بچھڑوں میں ملنا میرے لیے عار ہے۔ اور میں اپنے تئیں ان کی حکومت سے مستغنی اور ان کے اختیارات سے آزاد سمجھتا ہوں۔

منجھلا بھائی: لیکن شریفوں میں یہ دستور نہیں ہے کہ اولاد بڑی ہو جائے تو ماں باپ کا ادب و لحاظ اٹھا دے۔ میں دیکھتا تھا کہ ابا جان اس قدر جدِ مرحوم کا پاس کرتے تھے کہ ان کے سامنے حقہ پینا کیسا، پان کھانے میں بھی ان کو تامل ہوتا تھا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا؟

بڑا بھائی: لیکن میں نے بھی اس وقت تک ابا جان کو الٹ کر جواب نہیں دیا۔

منجھلا بھائی: درست ہے۔ لیکن یا ہاں شورا شوری یا ایں بے نمکی۔

بڑا بھائی: تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ اب بھی اگر ابا جان میرے حال سے تعرض نہ کریں تو میں کسی طرح کی نافرمانی یا گستاخی کرنی نہیں چاہتا۔

منجھلا بھائی: تو اس صورت میں کچھ آپ کی اطاعت بھی محمود نہیں ہے۔

بڑا بھائی: میں مدح سے باز آیا۔ مجھ کو میرے حال پر رہنے دیں اور میرے نیک و بد سے معترض نہ ہوں۔
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

منجھلا بھائی: اس کا یہ مطلب کہ آپ ان سے قطع تعلق کر چکے؟

بڑا بھائی: کیا ضرور ہے کہ جب میں پھر لڑکوں کی طرح مکتب میں پڑھوں، تب ہی بیٹا کہلاؤں، ورنہ فرزندی سے عاق کیا جاؤں۔

منجھلا بھائی: کوئی آپ سے مکتب میں پڑھنے کے لیے نہیں کہتا اور یہ بھی امید نہیں ہے کہ ابا جان آپ کی بڑائی کا پاس نہ کریں۔

بڑا بھائی: جب کہ مجھ کو اپنا نیک و بد سمجھنے اور نفع و نقصان میں امتیاز کرنے کی عقل ہے تو مجھ سے یہ کہنا کہ یہ کرو اور یہ مت کرو، گویا مجھ کو بدتمیز لڑکا بنانا ہے۔

منجھلا بھائی: کیا انسان کی رائے غلطی نہیں کرتی؟

بڑا بھائی: ایسا احتمال ان کی رائے پر ہو سکتا ہے۔

منجھلا بھائی: تو کیوں نہیں آپ انھی سے جا کر گفتگو کرتے کہ بحث ہوتا ہوا کر ایک بات قرار پائے۔

بڑا بھائی: مجھ کو گفتگو کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ ع ہر کسے مصلحتِ خویش نکو می داند۔

منجھلا بھائی: انھی کو ضرورت سہی۔ اور جب کہ آپ کو اپنی رائے پر وثوق ہے، پھر آپ بالمشافہ گفتگو کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟

بڑا بھائی: دنیا میں کوئی مباحثہ طے ہوا ہے جو یہ ہوگا؟

منجھلا بھائی: ہٹ دھرمی اور تعصب اور سخن پروری نہ ہو تو پھر ہر بحث کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

بڑا بھائی: ہمارے ابا جان کو بھی ایک بات کی زٹ لگ جاتی ہے۔ اب نماز روزے کا خیال آ گیا ہے تو بس اسی کی دھن ہے۔ چند روز بعد دیکھ لینا، وہی ابا جان ہیں، وہی ہم ہیں، وہی کھیل تماشے ہیں۔

منجھلا بھائی: آپ چونکہ مجھ سے بڑے ہیں، بے شک زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن میں بھی ابا جان کے مزاج سے ناآشنا نہیں ہوں۔ اصلاحِ خاندان کا ان کو تہِ دل سے خیال ہے اور اس خصوص میں ان کو ایک خاص اہتمام ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کا ارادہ متزلزل اور عزم ناپائیدار ہو۔ آپ کے سوائے میں نے تو گھر بھر میں کسی کو نہیں دیکھا کہ گھر میں رہے اور اپنا پرانا ڈھرا نہ چھوڑے۔

بڑا بھائی: ذرا اماں جان سے اور مجھ سے دو دو باتیں ہو جائیں تو تم کو ارادے کا استحکام اور عزم کا استقلال خود بخود معلوم ہو جائے گا۔

چھوٹا بھائی: اماں جان تو آج بڑی خفا بیٹھی ہیں۔

بڑا بھائی: کیوں؟

چھوٹا بھائی: آپ کو نہیں معلوم؟ آپا جان سے اور ان سے آج بڑی لڑائی ہوئی۔

بڑا بھائی: کس بات پر؟

چھوٹا بھائی: آپا جان لڑکا حمیدہ کو دے کر ہاتھ منہ دھونے چلی گئیں۔ حمیدہ لڑکے کو بٹھا نماز پڑھنے لگی۔ آپا جان نے نماز پڑھتی کو دھکیل دیا۔ اس کی ناک میں تخت کی کیل لگ گئی۔ ڈھیر سا خون نکلا۔ اسی پر تکرار ہونے لگی۔ آپا جان نے کئی مرتبہ، توبہ توبہ، نماز کو بُرا کہا۔ اماں جان نے بار بار منع کیا۔ نہ مانا۔ آخر اماں جان نے تھپڑ کھینچ مارا۔

بڑا بھائی: سچ کہو۔

چھوٹا بھائی: آپ چل کر دیکھ لیجیے۔ آپا جان کوٹھری میں پڑی رو رہی ہیں۔ صبح سے کھانا نہیں کھایا۔

منجھلا بھائی: واقعی کچھ لڑائی ضرور ہوئی ہے۔ میں جو ابا جان کے پاس گیا تو آتے جاتے سب کو چپ دیکھا اور سمجھا کہ بے سبب نہیں ہے۔

بڑا بھائی: کہیں گھر بھر نے متوالی کو دوں تو نہیں کھالی؟ ابھی سے جہاد شروع ہو گیا۔ حمیدہ کا نماز پڑھنا دیکھو اور ذرا سی بات پر بے چاری نعیمہ کے مار کھانے پر غور کرو۔

منجھلا بھائی: میرے نزدیک تو ان میں سے کوئی بات بھی تعجب کی نہیں۔ حمیدہ نے نماز پڑھی تو کیا کمال کیا۔ باتیں تو بڑی بوڑھیوں کی سی کرتی ہے۔

بڑا بھائی: تو کیا ضرور ہے کہ باتیں بڑی بوڑھیوں کی سی کرے تو نماز بھی بوڑھیوں کی سی پڑھے؟ اس کی عمر گڑیاں کھیلنے اور ہنڈکلیاں پکانے کی ہے، نہ زہد و مراقبہ کی۔

منجھلا بھائی: کیا یہ ایسی مشکل بات ہے کہ حمیدہ اس کو نہیں سمجھ سکتی؟

بڑا بھائی: مار مار کر سمجھایا جائے تو شاید صدرہ و شمسِ بازغہ بھی کہہ دے گی کہ ہاں میں سمجھ گئی۔

منجھلا بھائی: لیکن اس کو مار تو نہیں پڑی۔

بڑا بھائی: ایک کو پڑی تو گویا سبھی کو پڑی۔ جب نعیمہ ہی کو اماں جان نے کھینچ مارا تو اب کس کی عزت رہ گئی۔ بڑی بیٹی، بیاہی ہوئی، صاحبِ اولاد کو مارنا۔ یہ شرافت ہے؟
نے کعبہ نے دیر کے قابل
مذہب ہے ان کا سیر کے قابل
سلام ہے ایسے دین کو جو اپنے آپے سے باہر ہو جائے اور دنیا کے نیک و بد پر کچھ نظر نہ کرے۔ آخر یہ خبر ممکن نہیں کہ اس کی سسرال نہ پہنچے۔ سمدھیانے والے کیا کہیں گے؟ غیرت ہو تو گھر بھر چلو بھر پانی میں ڈوب مرے۔ حیا ہو تو کنبے میں منہ نہ دکھائیں۔ اسی پر تم مجھ کو ابا جان کے پاس جانے کی رائے دیتے ہو؟ اگر کہیں مجھ پر بھی ایسا ہی دستِ شفقت پھیر دیا تو پھر ع
ایں منم کاندر میانِ خاک و خوں بینی سرے
اور مجھ کو نعیمہ کے جانبر ہونے کی بھی امید نہیں۔ ع سن لیجیے کہ آج اگر ہے تو کل نہیں۔

منجھلا بھائی: اس بات کا مجھ کو بھی تعجب ہے۔ لیکن جب تک اماں جان تک منہ سے تمام کیفیت نہ سن لوں، میں نہیں کہہ سکتا کہ انھوں نے بے جا کیا یا بجا کیا۔

بڑا بھائی: تمہارے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہوتا اور پھر تم بے جا اور بجا میں تردد رکھتے تو میں تم کو خلف الرشید اور فرزندِ سعادت مند جانتا۔
جس پہ بیتی ہو یہ وہی جانے
جو کہ بے درد ہو وہ کیا جانے

منجھلا بھائی: شاید وقت پر طبیعت کا حال دگرگوں ہو جائے تو خبر نہیں، ورنہ میں تو ماں باپ کی تادیب کو موجبِ بے حرمتی نہیں سمجھتا۔

بڑا بھائی: شاید ایسی ہی باتوں نے ان کو دلیر کر دیا ہے۔

منجھلا بھائی: جس کو خدا ماں باپ بناتا ہے تو اس کو اتنی بات کے سمجھنے کی بھی عقل دیتا ہے کہ اولاد پر اس کو کیسے کیسے اختیار حاصل ہیں۔

بڑا بھائی: غرض تمہارے نزدیک ماں باپ کو اختیار ہے کہ اولاد کو بڑی بھی ہو جائے، مگر ان کو بے تمیز بچوں کی طرح ماریں پیٹیں تو کچھ الزام نہیں۔

منجھلا بھائی: مجھ سے فتویٰ طلب نہیں کیا ہے کہ عام رائے دوں۔ البتہ اپنے گھر کے اس خاص معاملے میں کہہ سکتا ہوں کہ اماں جان نے جب بہت ضرورت سمجھی ہوگی تو آپا جان پر ہاتھ اٹھایا ہوگا۔ اور فرض کیا کہ اماں جان ہی کی زیادتی سہی، تو ایک طمانچے کے مارنے سے ان کی عمر بھر کی شفقتیں اکارت اور سالہا سال کی نیکی برباد گئی؟ اب بھی آپا جان کی محبت جو اماں جان کو ہوگی، مجھ کو اور آپ کو اس کا ایک شمہ تو ہو لے۔

بڑا بھائی: غرض جو کچھ ہو۔
میرے وحشت خانے میں جوشِ جنوں کی دھوم ہے
عافیت مفقود اور آسودگی معدوم ہے

بھائی بھائی یہی باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں رسولن نامی لونڈی دوڑی آئی اور علیم سے کہا کہ میاں پوچھتے ہیں، میری بات کا جواب تم نے ہست نیست کچھ نہیں دیا۔ رسولن کو تو علیم نے یہ کہہ کر رخصت کیا کہ تو چل کر کہہ، ابھی آتے ہیں، اور بڑے بھائی سے کہا کہ ابا جان آپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ جائیے، کھڑے کھڑے ہو آئیے۔

بڑا بھائی: اگر مجھ کو یہ یقین ہوتا کہ میرا جانا اور چلا آنا ایک سرسری بات ہے تو میں اب تک جا کر کبھی کا چلا آیا ہوتا۔

منجھلا بھائی: آپ نے یہ کیونکر تجویز کر لیا کہ سرسری نہیں ہے؟

بڑا بھائی: خدا کو دیکھا نہیں تو عقل سے پہچانا۔

منجھلا بھائی: بس شاید ابا جان کو اتنی سی بات آپ کے منہ سے سننی منظور ہے۔

بڑا بھائی: ع ہر سخن موقع و ہر نکتہ مکانے دارد۔

منجھلا بھائی: مجھ کو حیرت ہے کہ آپ کو تردد کس بات کا ہے!

بڑا بھائی: میں ان کے مزاج سے خائف اور اپنی عادت سے مجبور ہوں۔

منجھلا بھائی: لیکن جانے میں جس بات کا احتمال ہے، نہ جانے میں اس کا تیقن ہے۔

بڑا بھائی: احتمال تم کو ہے، نہ مجھ کو۔ میں سمجھے بیٹھا ہوں کہ بالا خانے پر چڑھا اور آفت نازل ہوئی۔

منجھلا بھائی: میں زیادہ اصرار کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔ آپ کو اختیار ہے، جو چاہے کیجیے۔ لیکن اتنا پھر کہے دیتا ہوں کہ اس کا انجام بخیر نہیں معلوم ہوتا۔

بڑا بھائی: ع ہر چہ بادا باد ما کشتی در آب انداختیم

منجھلا بھائی: تو پھر میں ابا جان سے کہلائے بھیجتا ہوں۔

بڑا بھائی: یہ تم کو اختیار ہے۔ میں جب ان کے بلانے سے جانا لابد نہیں سمجھتا تو ان کے پوچھنے سے جواب دینے کو کب ضروری سمجھتا ہوں۔

منجھلا بھائی مایوس ہو کر اٹھا اور تھوڑی دور جا کر لوٹ آیا اور کہنے لگا کہ میرا پاؤں آگے نہیں پڑتا اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کہوں تو کیا کہوں! یہ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ کا نہ جانا بڑی خرابی برپا کرے گا۔ نہیں معلوم اس وقت آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ آپ جاتے اور ان کی بات نہ مانتے تو چنداں قباحت نہ تھی۔ لیکن نہ جانے میں بگاڑ کی ابتدا، فساد کا آغاز، نافرمانی کا شروع آپ کی طرف سے ہوتا ہے۔ تمام دنیا آپ کو اس کا الزام دے گی اور جہان آپ پر قصور عائد کرے گا۔ اور چونکہ میں اس کا نتیجہ سرتاسر آپ کے حق میں زبوں سمجھتا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میری اس میں شرکت ہو۔ آپ کو جانا منظور نہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ کسی دوسرے کے ہاتھ کہلا بھیجیے۔

بڑا بھائی: لیکن مجھ سے انھوں نے پوچھا نہیں تو میں کیوں کہلا بھیجوں؟

منجھلا بھائی ایسا روکھا جواب سن کر چلا۔ بے چارہ عجب مخمصے میں تھا کہ ادھر باپ نے بتاکید پوچھ بھیجا ہے تو جواب میں کچھ ہاں یا نہیں کہنا چاہیے، اور چونکہ سمجھتا تھا کہ نہ جانا بھائی کی ہمیشہ کی تباہی کا موجب ہوگا، اندر سے جی نہیں مانتا تھا کہ اس کی بربادی کی بات منہ سے نکالے۔ اسی گھبراہٹ میں دوڑتا ہوا ماں کے پاس گیا اور کہا کہ اماں جان، غضب ہوا چاہتا ہے۔ ماں بے چاری نعیمہ کے سوچ میں بیٹھی ہوئی تھی۔ کیونکہ کوٹھری میں فرش پر ایک حالت سے پڑے پڑے نعیمہ کو سارا دن گزرا۔ نہ تو اس نے سر اٹھایا، نہ کوئی چیز اس کے منہ میں گئی۔ ماں نے گلوریاں خاصدان میں بھروا کر رکھوا دی تھیں، وہ بھی سب اسی طرح رکھی رکھی سوکھا کیں۔ پانی اور کھانے کا کیا مذکور۔ لڑکا گھڑی دو گھڑی تو چپکا رہا، پھر اس نے الگ رونا شروع کیا۔ سارا گھر اس کو سنبھالتا تھا، مگر اس نے تالو سے زبان نہ لگائی۔ بہتیرا نانی بہلا پھسلا کر دودھ دیتی، مگر گود سے نکل نکل پڑتا تھا۔ نہ اٹھے سکھ، نہ بیٹھے چین۔ سب کو حیران کر مارا۔ دن تو خیر بُری بھلی طرح گزر بھی گیا، اب ع
رات آئی تو یہ جانا کہ قیامت آئی

صالحہ کو بلوایا تھا تو ایک یونہی پیام کہلوا بھیجا تھا۔ وہاں سے جواب آیا کہ آج شام کو گھر میں مولوی صاحب کا وعظ ہے۔ ان شاءاللہ کل بڑے تڑکے صبح کی نماز پڑھ کر میں پہنچوں گی۔ اسی اضطراب میں میاں علیم نے جو ایک دم سے جا کر کہا کہ غضب ہوا چاہتا ہے، تو ماں کا کلیجا دھک سے ہو گیا اور سمجھی کہ نعیمہ کی خیر نہیں۔ گھبرا کر پوچھا، "کیا؟"

بیٹا: بھائی جان کو ابا جان چار گھڑی دن رہے سے بلا رہے ہیں۔ یہ وقت ہونے آیا، نہیں جاتے۔ مردانے میں پردہ کرا دوں؟ آپ ذرا چل کر سمجھا دیجیے، شاید مان جائیں۔ میں تو کہہ کر تھک گیا۔

فہمیدہ کا یہ حال تھا کہ نعیمہ سے بدتر اس کی کیفیت تھی۔ لوگوں کے دکھانے کو دسترخوان پر بیٹھ تو گئی تھی مگر ایک نوالہ حلق سے نہیں اترا۔ جیسی بیٹھی تھی، ویسی ہی منہ جھٹلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بار بار کسی نہ کسی بہانے سے کوٹھری کے پاس جاتی۔ کواڑوں کے پاس کھڑی ہو ہو کر درزوں میں سے جھانکتی اور نعیمہ کے رونے کی آہٹ لیتی۔ گھر والوں میں سے جو سامنے آ نکلتا، اس کو بھیجتی کہ جاؤ، ہو سکے تو مناؤ۔ لیکن کسی کو اتنا جہنا نہ تھا کہ کوٹھری کے اندر قدم رکھتا۔ بیدارا جس نے نعیمہ کو پالا تھا اور ہر طرح کا دعویٰ رکھتی تھی، لڑکے کو لے کر دودھ پلوانے کے بہانے سے پاس جا کر بیٹھی۔ ابھی منہ سے بات بھی کہنے نہ پائی تھی کہ نعیمہ نے ایک ایسی دولتی چلائی کہ بیدارا کئی لڑھکنیاں کھا کر گیند کی طرح لڑھکتی لڑھکاتی باہر آ کر گری۔ خدا نے بڑی خیر کی کہ لڑکا نہالچے سمیت گود سے نکل پڑا، ورنہ اتنی دیر میں معلوم نہیں کیا سے کیا ہو جاتا۔ بیدارا کی مدارات دیکھ کر پھر تو جس سے فہمیدہ کوٹھری میں جانے کا نام لیتی، وہ کانوں پر ہاتھ دھرتی کہ نہ بیوی، میری ہڈیوں میں تو خدا کی لاٹھی کا سہارنے کا بوتا نہیں ہے۔ چاہتے سب تھے کہ نعیمہ کو سمجھائیں، مگر کوٹھری میں جانے سے ایسا ڈرتے تھے کہ گویا اندر کالی ناگن بیٹھی ہے۔ پاؤں رکھا اور اس نے ڈس لیا۔

باہر اس ذرا سے فتنے، یعنی نعیمہ کے بچے نے آفت توڑ رکھی تھی۔ اگالدان، پاندان، سینیاں بجاتے، کنڈیاں کھڑکاتے، مگر اس عزیز کے کان پر جوں نہ چلتی تھی۔ گود میں لٹاؤ، جھولے میں سلاؤ، لیے لیے پھرو، کسی طرح اس کو قرار نہ تھا۔ بے زبان منہ سے بولتا نہیں، چالتا نہیں، برابر روئے جاتا ہے۔ کوئی کیا جانے کہ اس کو کس بات کی تکلیف ہے۔ پہلے تو خیال ہوا کہ کہیں افیم تو نہیں تھوک دی۔ مسور برابر چھوڑ خاصی مٹر جتنی گولی دی، مطلق اثر نہیں۔ جانا کہ ہنسلی جاتی رہی، وہ بھی ملوائی۔ سمجھے کہ پیٹ میں درد ہے، دودھ میں سہاگہ گھس کر دیا، پھر بھی نہ چپ ہوا۔ آخر جب خوب ہلکان ہو گیا تو ہار کر کوئی دو گھڑی دن رہے نانی کے کندھے سے لگ کر سو گیا۔ یہ بے چاری بھی دن بھر کی تھکی ماندی، نہار منہ، اس پر دل اداس، طبیعت مغموم، بت کی طرح ایک دیوار سے لگی بیٹھی اونگھ رہی تھی کہ پہلے صالحہ کا جواب آیا اور اوپر سے میاں علیم بھائی کا مژدہ لے کر پہنچے۔ سن کر رہی سہی عقل بھی کھوئی گئی۔ تھوڑی دیر تو چپ سناٹے میں بیٹھی رہی۔ اس کے بعد اپنے آپے میں آئی اور علیم سے کہا، "پھر بیٹا، تم نے بڑے بھائی کو کچھ نہ سمجھایا؟"

بیٹا: میں نے کتنا کتنا سمجھایا۔

ماں: نعیمہ کا حال تم نے کچھ سنا؟

بیٹا: جی ہاں، سنا۔

ماں: بس خدا نے دونوں کو ایک سانچے میں ڈھالا ہے۔ مجھ کو تو امید نہیں کہ کلیم رو براہ ہو۔ جب اس کو خدا ہی کا خوف اور باپ ہی کا ڈر نہ ہو تو بھلا میں کیا بلا ہوں۔ یوں تم کہتے ہو تو چلو، میں اپنی طرف سے کہہ سن بہتیرا کچھ دوں گی۔ کیوں، بھلا تمہارے نزدیک میری زیادتی تھی یا نعیمہ کی؟

بیٹا: میں نے مفصل حال تو سنا نہیں، لیکن جس قدر سنا، اس سے سرتاپا آپا کا قصور معلوم ہوتا ہے اور مجھ کو زیادہ تحقیقات کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ میں نے سننے کے ساتھ ہی کہہ دیا تھا کہ اماں جان نے جب ایسی ہی سخت ضرورت سمجھی ہوگی تو آپا پر ہاتھ اٹھایا ہوگا۔

ماں: علیم، کیا تم سے کہوں۔ خدا کی شان میں ایک ایک بے ادبی کہ معاذ اللہ! میں تو تھرا اٹھی کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں چھت گر پڑے۔

بیٹا: بے شک آپ نے مارا تو بہت واجب کیا۔ خیر، آپا کا چنداں اندیشہ نہیں، آپ ہی غصہ اترا اترا جائے گا۔ بڑے بھائی کا کھٹکا ہے۔ یہاں کل تک وارا نیارا ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

ماں: دونوں ایک دوسرے کے قدم بہ قدم ہیں۔ اس نعیمہ نے کیا وارا نیارا کرنے میں کچھ اٹھا رکھا ہے۔ سارا دن گزر گیا، نہ پانی پیا نہ کھانا کھایا، نہ بچے کو دودھ پلایا۔

بیٹا: بچے کو دودھ نہیں پلایا؟ بھلا اس بے چارے کا کیا قصور؟

ماں: بیدارا ایک دفعہ لے کر گئی تھی۔ بے چاری کے ایسی لات ماری کہ صحنچی میں ہلدی تھوپے پڑی کراہ رہی ہے۔

بیٹا: میں چلوں اور سمجھاؤں؟

ماں: نہ بیٹا! اپنی عزت اپنے ہاتھ۔ تم گئے اور چھوٹے تو ہو ہی، کچھ جا بیجا کہہ بیٹھی تو ناحق تم کو بُرا لگے۔ کیا فائدہ۔

بیٹا: جب وہ میری بڑی بہن ہیں تو مجھ کو ان کا کہنا بُرا کیوں لگنے لگا۔

ماں: تو بھی تمہارے جانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ میں نے صالحہ کو بلوا بھیجا ہے۔ وہ آئے گی تو اس کو اپنے طور پر ٹھیک ٹھاک کرے گی۔

بیٹا: واقعی یہ آپ نے خوب تجویز کی۔ مگر اب رات ہو گئی۔ کب آئیں گی؟

ماں: ان کے یہاں اس وقت وعظ ہے۔ اس نے کہلا بھیجا ہے کہ کل بڑے سویرے پہنچوں گی۔ خیر، جوں توں رات کٹ ہی جائے گی۔

بیٹا: میں صالحہ کو جا کر لے نہ آؤں؟ اتنے میں آپ بھائی جان سے باتیں کیجیے۔

ماں: ہاں، یہ بہتر ہوگا۔ میں نے اس کو یہ حال کہلا نہیں بھیجا، ورنہ وہ تو سنتے کے ساتھ ہی دوڑی آتی۔

غرض علیم تو صالحہ کو لینے گیا اور فہمیدہ پردہ کرا کر مردانے میں پہنچی۔ اتنی ہی دیر میں یہاں تاش کھیلنے شروع ہو گئے تھے۔ فہمیدہ جو گئی تو چاندنی پر تاش کے ورق بکھرے ہوئے پڑے تھے۔ فہمیدہ نے دیکھ کر کہا کہ آگ لگے اس کھیل کو، کھیل نہ ہوا، بلائے جان ہوا کہ رات کو بھی بند نہیں ہوتا۔

بیٹا: نکما بیٹھا ہوا آدمی کچھ کرے یا نہ کرے؟ ع بیکار مباش کچھ کیا کر۔

ماں: بیٹا، خدا نہ کرے کہ تم نکمے ہو۔ کرنے والا ہو تو کام بہتیرے۔ باپ نے تم کو کئی دفعہ بلایا۔ نکمے تو تھے، تم سے اتنا نہ ہو سکا کہ جاؤں، سن تو آؤں کہ کیا کہتے ہیں۔

بیٹا: بس میں نے یہیں سے بیٹھے بیٹھے سن لیا۔

ماں: کچھ نہ سنا نہ سنایا۔ جاؤ، ہو آؤ۔ یہ اچھی بات نہیں۔

بیٹا: اچھی بات کیا نہیں۔ میں جانتا ہوں جو وہ کہیں گے۔

ماں: تم جانتے سہی، مگر جا کر سن لینے میں بیٹا کچھ قباحت ہے؟

بیٹا: قباحت سی قباحت ہے۔ خرابی سی خرابی ہے۔

ماں: میں بھی سنوں۔

بیٹا: اب بھی مجھی سے کہلواتی ہو۔ تم آپ سمجھ جاؤ۔

ماں: میں تو تمہاری پہیلی نہیں سمجھتی۔

بیٹا: ایسی پہیلیاں نعیمہ خوب بوجھتی ہے۔

ماں: خدا کسی کو ایسی الٹی سمجھ نہ دے جیسی نعیمہ کی ہے۔ تم اس کی زبان سنتے ہو۔ خدا تک کا لحاظ اس نے اٹھا دیا۔ نماز کو اٹھک بیٹھک، خدا کی شان میں، توبہ توبہ، یہ کلمہ کہ کیسا خدا۔ بے دین سے بے دین بھی ایسی بات منہ سے نہیں نکالتا۔ ابھی ایک آفت گھر پر آ چکی ہے کہ ایک چھوڑ تین مُردے اسی گھر سے اٹھے، مگر خوف مطلق نہیں۔ ذرا سا ڈر نہیں۔

بیٹا: وبا بھی ایک مرگِ انبوہ تھا۔ اچھے بُرے سبھی قسم کے لوگ مرے۔

ماں: تو کیا اچھوں کو مرتا دیکھ کر آدمی بُرا بن جائے؟

بیٹا: نہیں۔ میں تو یہ نہیں کہتا کہ بُرا ہونا اچھا ہے۔

ماں: اس سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی کہ آدمی خدا کو خدا نہ سمجھے۔

بیٹا: اچھی کہی۔ خدا کو خدا کون نہیں سمجھتا؟ نعیمہ کے منہ سے نہیں معلوم کیونکر ایک بات نکل گئی ہوگی۔

ماں: پھر تم کو باپ کے پاس جانے میں کیا تامل ہے؟

بیٹا: میں نے سنا ہے کہ نماز پڑھنے کا قول کراتے ہیں، کھیل کود کو منع کرتے ہیں۔

ماں: ابھی تو تم نے کہا کہ میں خدا کو خدا سمجھتا ہوں۔ تو کیا نماز اس کا حکم نہیں ہے؟

بیٹا: اب میں یہ بھی نہیں کہتا کہ نماز اس کا حکم نہیں ہے۔ لیکن مجھ سے ایسے حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی۔

ماں: تو تم نے یہ ناحق کہا کہ میں خدا کو خدا سمجھتا ہوں۔ اگر تم خدا کو خدا سمجھتے ہوتے تو ضرور اس کا حکم مانتے۔ چلو بیٹا، دین اور دنیا دونوں سے آزاد ہوئے۔ ادھر باپ بلائے اور نہ جاؤ تو گویا باپ کو باپ نہ جانا، ادھر خدا فرمائے اور نماز نہ پڑھو، یعنی خدا کو خدا نہ سمجھا۔

بیٹا: مجھ کو حیرت ہے کہ گھر میں کیوں یہ نئے نئے دستور اور قاعدے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہی خدا ہے اور وہی ہم سب ہیں۔ تو جس طرح پہلے سے رہتے چلے آئے ہیں، اب بھی رہنے دیں۔ دوسرے کے افعال سے کیا بحث اور کسی کے اعمال سے کیا سروکار۔ اگر کوئی بے دین ہے تو اپنے لیے، اور کوئی زاہد اور پرہیزگار ہے تو اپنے واسطے۔

ماں: سروکار کیوں نہیں؟ اولاد کی تعلیم ماں باپ پر فرض ہے۔

بیٹا: پہلے سے فرض تھی یا اب علالت میں کوئی خاصی وحی نازل ہوئی ہے؟

ماں: اگر تم ایسی حقارت سے ماں باپ کا ذکر کرتے ہو تو یہ تمہاری سعادت مندی کی دلیل ہے۔ تم تو کتابیں پڑھتے ہو۔ ماں باپ کا کیسا کچھ ادب لکھا ہے۔ لوگوں میں بھی اس کی ایک کہاوت مشہور ہے، "با ادب بانصیب"۔ بیٹے! تمہارے باپ بے چارے نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ مجھ کو الہام ہوتا ہے یا مجھ پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔

بیٹا: اگر وحی نہیں ہے تو اسی علالت کا اثر ہے۔

ماں: تم باپ تک گئے ہوتے تو کبھی ایسے احتمالات نہ کرتے۔ یہ تمہاری نئی تجویز نہیں ہے۔ تم تو ابتدائے علالت سے باپ کو جنون اور سرسام بتاتے ہو۔ لیکن کیا مجنون کا یہی کام ہے کہ عاقبت تک کی مآل اندیشی کرے؟ دیوانے ایسے ہی ہوتے ہیں کہ آخر تک کا انجام سوچیں؟ ایک مرتبہ ذرا کی ذرا چل کر ان کی باتیں سنو اور پھر ان کو مجنون سمجھو تو البتہ میں قائل ہو جاؤں گی۔

بیٹا: کیا میں بھی سلیم ہوں کہ ان کی باتوں میں آ جاؤں گا؟

ماں: ہماری نظروں میں تو تم سلیم سے بھی چھوٹے ہو۔

بیٹا: بس یہ مہربانی نعیمہ کے ساتھ رہے۔

ماں: اگر مہربانی ہی مہربانی ہوتی تو شاید تم کو اس کے کہنے کی نوبت بھی نہ آتی۔ کیونکہ مہربانی اس کے ساتھ کی جاتی ہے جو اس کی قدر کرے اور مہربانی کرنے والے کا احسان مانے۔ مجبوری تو یہی ہے کہ نری مہربانی نہیں ہے بلکہ اپنی گردن کا بوجھ اور اپنے سر کا فرض اتارنا ہے۔

بیٹا: یہ نیا مسئلہ ہے کہ بڈھے طوطوں کو مار مار کر پڑھایا جائے۔

ماں: تم اپنے تئیں بڈھا سمجھتے ہو؟

بیٹا: میں دودھ پیتا ہوا بے تمیز بچہ سہی، لیکن میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے افعال سے تعرض کرے۔ میں اپنا بُرا بھلا آپ سمجھ سکتا ہوں۔

ماں: ماں باپ بھی اولاد کے بدخواہ نہیں ہوتے۔ ہم لوگ بھی تمہاری ہی بہتری کے لیے کہتے ہیں۔

بیٹا: مجھ کو اپنی بہتری منظور نہیں ہے۔

ماں: میں جانتی ہوں کہ یہ بات تم اس وقت ضد سے کہہ رہے ہو۔ بھلا دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جو اپنی بہتری نہیں چاہتا؟

بیٹا: جب میں تمہاری مداخلت اپنے افعال میں جائز نہیں رکھتا تو بیٹھے بٹھائے مجھ کو چھیڑنے والی کون؟

ماں: میں تمہاری ماں، وہ تمہارے باپ۔

بیٹا: یہ بھی اچھی زبردستی ہے۔ مان نہ مان، میں تیرا مہمان۔ مجھ کو تمہارے ماں باپ ہونے سے انکار نہیں۔ گفتگو اسی باب میں ہے کہ تم کو میرے افعال میں زبردستی دخل دینے کا اختیار ہے یا نہیں۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ نہیں ہے۔ تم کہتی ہو کہ ہم بہ مجبوری دخل دیتے ہیں، اس واسطے کہ ماں باپ پر اولاد کو تعلیم کرنا فرض ہے۔ سو اوّل تو میں اس کو داخلِ تعلیم ہی نہیں سمجھتا، اور مانا کہ داخلِ تعلیم ہو تو میرے نزدیک صرف دس بارہ برس کی عمر تک اولاد محتاجِ تعلیم ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کو ان کی رائے میں کچھ دخل نہیں۔ وہ اپنا نفع و نقصان خود سمجھ سکتے ہیں۔ اگر یہی منظور تھا کہ میں بڑا ہو کر مسجد کا ملّانا یا قبرستان کا قرآن خوان یا لنگر خانہ خیراتی کا ٹکر گدا بنوں تو شروع سے مجھ کو ایسی ہی تعلیم کی ہوتی کہ اب تک بھلا کچھ نہیں تو دو چار حج بھی کر آیا ہوتا۔ پنچایت میں میری قرأت کی دھوم ہوتی۔ تراویح میں میرے بلحن قرآن خوانی کی شہرت اڑتی۔ کہیں مُردہ مرتا، جائے نماز مجھ کو ملتی۔ کہیں قربانی ہوتی، کھال میرے پاس آتی۔ صدقے کا میں آڑھتیا ہوتا۔ زکوٰۃ کا ٹھیکیدار۔ دعوتوں کا مستحق۔ خیرات کا حق دار۔ نہ یہ کہ پڑھاؤ کچھ، پوچھو کچھ۔ سکھاؤ اور چیز، امتحان لو اور چیز کا۔ دنیا میں جیسے اور شریف معزز خاندانوں کے بیٹے ہیں، اگر میں سب میں اچھا نہیں تو کسی سے بُرا بھی نہیں۔ مشاعرے میں میری غزل ساتھ کے مشق کرنے والوں میں سب سے بڑی چڑھی ہوتی ہے۔ شطرنج میں مرزا شاہ رخ تو خیر پرانے کھیلنے والوں میں ہیں، اور یہ ہے کہ اچھی شطرنج کھیلتے ہیں، دوسرا کوئی مجھ کو مات دے تو البتہ میں اس کی ٹانگ تلے سے نکل جاؤں۔ ہمارے محلے میں میاں وزیر، بادشاہی پیادوں کے جمعدار، بڑے شاعروں میں مشہور ہیں۔ میں فرزیں اٹھا کر ان کے ساتھ کھیلتا ہوں۔ گنجفہ اگرچہ میں کم کھیلتا ہوں، لیکن بیٹھ جاؤں تو ایسا بھی نہیں کہ کوئی صفو پر نادری چڑھائے۔ اور قریب قریب یہی حال تاش اور چوسر کا ہے۔ کبوتر، جیسے آج ہماری چھتری کے دمدار ہیں، شہر میں دو چار جگہ اور ہوں گے۔ پتنگ میں ایسا اڑاتا ہوں کہ ایک دھیلے سے دو ٹھنڈے کی تکل ایک نہیں تو سینکڑوں کاٹی ہوں گی۔ لکھنے سے عاری میں نہیں۔ پڑھنے سے عاجز میں نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ امیروں اور امیر زادوں کا وہ کون سا ہنر ہے جو مجھ کو نہیں آتا۔
قسمت سے تو ناچار ہوں اے ذوق، وگرنہ
سب فن میں ہوں میں طاق، مجھے کیا نہیں آتا
کل کی بات ہے کہ میری مدح ہوتی تھی اور مجھ کو ہر بات پر شاباش ملتی تھی۔ اب دفعتاً میں ایسا بے ہنر ہو گیا کہ مجھ کو سیکھنے اور تعلیم پانے کی ضرورت ہے۔ ع
ہائے ہم کیا کہیں، کیا ہو گئے کیا کیا ہو کر
میرا کون سا فعل ہے جو تم کو اور ابا جان کو معلوم نہیں؟ کیا ابا جان نے میری غزلیں نہیں سنیں؟ میں ان کے ہاتھ سے صادر کیے ہوئے شعر دکھا سکتا ہوں۔ ابھی پورا ایک مہینہ بھی نہیں گزرا کہ شطرنج کا ایک بڑا مشکل نقشہ ابا جان نے کسی اخبار میں دیکھا تھا، اس کو میں نے حل کیا۔ کبوتر اڑاتے تم نے نہیں دیکھے یا پتنگوں کی لڑائی انھوں نے نہیں سنی؟ کبھی تم نے روکا یا انھوں نے ٹوکا؟ اب یہ نئی بات البتہ سننے میں آئی ہے کہ نماز پڑھو۔ مسجد میں معتکف بن کر بیٹھو۔ کھیلو مت۔ کسی یار آشنا سے ملو مت۔ بازار مت جاؤ۔ میلے تماشے میں شرکت مت کرو۔ بھلا کوئی مجھ سے یہ باتیں ہونے والی ہیں؟
جو دل قمار خانے میں بت سے لگا چکے
وہ کعبتین چھوڑ کے کعبے کو جا چکے

ماں: میں سچ کہتی ہوں کہ جتنی باتیں تم نے کہیں، تمہارے باپ، جن کو تم مجنون اور مختل الحواس تجویز کرتے ہو، سب سے پہلے سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں۔ اور ان کو معلوم ہے کہ تم سے ان عادتوں کا ترک ہونا دشوار ہے۔ اور ابتدا میں تم کو تعلیم نہ کرنے کا تذکرہ کر کے اس حسرت کے ساتھ روتے ہیں کہ دیکھنے والا تاب نہیں لا سکتا۔ غضب تو یہی ہے کہ تم ان تک چلتے نہیں، ورنہ تم کو معلوم ہو جاتا کہ باپ کے دل کی کیا کیفیت ہے۔ وہ خود قائل ہیں کہ اولاد کا کچھ قصور نہیں۔ ان کے بگاڑ کا وبال، ان کی خرابی کا الزام سب میری گردن پر ہے۔ اپنے تئیں کوستے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ان کا باپ تھا یا عدو تھا کہ میں نے جان بوجھ کر ان کا ستیاناس کیا۔ دیدہ و دانستہ ان کو غارت کیا۔ اب کس منہ سے ان کو سمجھاؤں اور کیونکر ان سے آنکھیں ملاؤں۔ مگر پھر آپ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر میں نے اپنے فرض کے ادا کرنے میں اب تک کوتاہی کی تو کیا تلافیِ مافات سے غافل رہنا ترکِ فرض سے کچھ کم ہے؟ ناچار اپنے مقدور بھر کوشش کروں گا۔ مجبوراً حتی الوسع زحمت اٹھاؤں گا۔

بیٹا: خیر، ایسا ہی فرض کا خیال ہے تو دوسرے بچوں کو رائے کے مطابق تعلیم کریں۔ مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دیں۔

ماں: کیا خدانخواستہ تم اولاد نہیں ہو؟

بیٹا: ہوں، لیکن مجھ سے بھی آخر کہہ نہ چکے؟ بس ان کے ذمے سے فرض ساقط ہو گیا۔

ماں: یہی حجت دوسرے بھی پیش کر سکتے ہیں۔

بیٹا: جھک مارنے کی بات ہے۔ چھوٹوں کو جانا چاہیے۔

ماں: کیا چھوٹے سدا چھوٹے ہی رہیں گے؟

بیٹا: بڑے ہوئے پیچھے بے شک ان کو بھی آزادی ہونی چاہیے۔

ماں: اگر کوئی انتظام کرنا منظور ہو تو جب تک چھوٹے بڑے سب اس کی تعمیل نہ کریں، وہ چل نہیں سکتا۔

بیٹا: چلے یا نہ چلے۔ بی، میں تم سے صاف کہوں، مجھ سے تو یہ نماز روزے کا کھڑاگ سنبھلنے والا نہیں۔ سر حاضر ہے۔ نعیمہ کی طرح چاہے مجھ کو بھی دو چار جوتیاں مار لو۔

ماں: الٰہی! نماز کچھ ایسی مشکل ہے کہ جوتیاں کھانی قبول، پر نماز پڑھنی منظور نہیں۔

بیٹا: مجھ کو تو ایسی ہی مشکل معلوم ہوتی ہے۔

ماں: خیر، تم میری اور باپ کی خاطر پڑھ لیا کرنا۔

بیٹا: مجھ سے ہو ہی نہیں سکتی۔

ماں: تو یوں کہو کہ تم کو باپ کے کہنے کی ضد ہے۔

بیٹا: جو کچھ سمجھو۔

ماں: بھلا پھر اس کا انجام کیا ہوگا؟

بیٹا: ہوگا کیا؟ بہت کریں گے، خفا ہوں گے۔ دو چار دن میں سامنے نہ جاؤں گا۔ آخر تم کہہ سن کر بات کو رفت و گزشت کرا ہی دو گی۔ کیوں بی اماں، کرا دو گی نا؟

ماں: اگر یہی انجام ہوتا تو تم سے اتنا اصرار نہ کرتی۔

بیٹا: پھر کیا مجھے پھانسی دلوا دیں گے؟ مار ڈالیں گے؟ کیا کریں گے؟

ماں: بیٹا، کوئی کسی کو مار سکتا ہے؟ ایک ذرا ہاتھ لگانے پر تو نعیمہ نے یہ آفت توڑ رکھی ہے کہ اللہ پناہ دے۔ جان سے مارنا تو خدا کا گناہ اور حاکم کا جرم۔

بیٹا: شاید یہ کریں کہ گھر سے نکال دیں۔

ماں: شاید۔ تم تو بیٹے ہو۔ ان کو اس بلا کا اہتمام ہے کہ اگر میں بھی ان کی رائے کے خلاف کروں تو تیس برس کا گھر خاک میں ملانے کو تیار ہیں۔

بیٹا: اسی ڈر کے مارے تم سب کے سب انھی کی سی کہنے لگے۔

ماں: اس وقت تک تو کسی کے ساتھ کسی طرح کی سختی کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ باتیں ہی وہ اس غضب کی کرتے ہیں کہ گنجائشِ انکار باقی نہیں رہتی۔ لیکن ہاں، تمہاری طرح کوئی کٹھ حجتی کرتا تو ضرور بگڑتے۔

بیٹا: میں ان کی خفگی سے تو خیر کسی قدر ڈرتا بھی تھا، لیکن گھر سے نکلنے کی بندۂ درگاہ ذرا بھی پروا نہیں کرتے۔ اور گھر کی طمع سے جو نماز پڑھتے ہیں، ان کو ہی کچھ کہتا ہوں۔ اپنے کھانے کپڑے پر گھمنڈ کرتے ہوں گے۔ میں ان جیسے دس کو کھانا اور کپڑا دے سکتا ہوں۔

ماں: باپ بے چارے نے تو یہ بات بھی منہ سے نہیں نکالی۔ تم اپنے دل سے جو چاہو سو کہو۔

بیٹا: نہیں، ان کے اصرار سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کپڑے کا ڈراوا دکھا کر وہ چاہتے ہیں کہ دین کا ٹوکرا زبردستی ہم لوگوں کے سر پر لاد دیں۔ سو یہ دل سے دور رکھیں۔ میں خود گھر سے دل برداشتہ ہو رہا ہوں۔ نہیں معلوم کیا سبب تھا کہ میں اب تک رہ گیا۔ اگر پہلے سے ذرا سا بھی مجھ کو معلوم ہوا ہوتا تو خدا کی قسم کبھی کا گھر سے ایسا گیا ہوتا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اور اب دیکھ لینا، "دیوانہ را ہوئے بس است"۔

ماں: بیٹا، تم کیسی باتیں کرتے ہو؟ باپ تک گئے نہیں۔ نہ اپنی کہی نہ ان کی سنی۔ آپ ہی آپ تم نے ایک بات فرض کر لی اور اس پر غصہ کرنے لگے۔

بیٹا: درست۔ چھیڑ چھاڑ میری طرف سے شروع ہوئی یا ان کی طرف سے؟

ماں: اپنی بہتری کی بات کو تم نے چھیڑ چھاڑ سمجھا؟ اور مانا کہ انھی کی طرف سے چھیڑ چھاڑ شروع سہی، تو تم کو گھر سے ناراض ہونے کا کیا سبب؟ گھر میں تو میں بھی ہوں۔ اللہ رکھے تمہارے بھائی ہیں، بہنیں ہیں۔ ہم سب نے تمہارا کیا قصور کیا؟

بیٹا: تم سب تو انھی سے ملے ہوئے ہو۔ اچھا، اگر تم کو میرا پاس ہے تو میرا ساتھ دو۔

ماں: اگر تمہارے باپ کی زیادتی ہوتی تو بے شک میں تمہاری طرفداری کرتی۔ انسان وہ کام کرے کہ دس بھلے آدمیوں میں بات آ پڑے تو لوگ اس کو الزام نہ دیں۔ فرض کیا کہ تم اتنی ہی بات پر گھر سے خفا ہو کر چلے گئے تو لوگ تم ہی کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔

بیٹا: لوگ میرے قاضی نہیں، مفتی نہیں، میں کسی کی رعیت نہیں۔ جب میں اپنے سگے باپ کے کہنے کی پروا نہیں کرتا تو لوگ پڑے بھونکا کریں۔

ماں: بیٹا، دنیا میں رہ کر تو ایسی آزادی نبھ نہیں سکتی۔

بیٹا: جی، ایسی نبھے کہ جسے کہتے ہیں۔ کیسا اس کو نبھاتا ہوں، ان شاءاللہ دیکھیے گا۔

ماں: کیا تم گھر سے چلے جاؤ گے؟

بیٹا: مجھ کو کوئی روک بھی نہیں سکتا۔

ماں: کیوں؟ روکنے والی میں بیٹھی ہوں۔ کیا میرا تم پر اتنا بھی حق نہیں؟ (یہ کہہ کر فہمیدہ کا دل بھر آیا اور اس پر رقت طاری ہو گئی) میں نے تم کو نو مہینے اسی دن کے واسطے پیٹ میں رکھا تھا اور اسی لیے تمہارے پالنے کی مصیبتیں اٹھائی تھیں کہ جب بہار دیکھنے کے دن آئیں تو مجھ سے الگ ہو جاؤ؟ کلیم، سچ کہتی ہوں، ذرا جا کر دیکھ، قیامت تک دودھ بخشنے کی نہیں۔

بیٹا: خیر، اب تو یہی دل پر ٹھنی ہے۔ ع سر جائے پر دردِ سر نہ جائے۔ اور کچھ خاص کر یہی سبب نہیں۔ مدتوں سے گھر میں بیٹھے بیٹھے میرا دل اکتا گیا تھا اور ہمیشہ خیال آیا کرتا تھا کہ چلو ذرا باہر کی بھی ہوا کھاؤں۔

ماں: گھر سے ناراض ہو کر جاؤ گے تو اچھا باپ دادا کا نام شہر میں اچھلے گا۔

بیٹا: جب باپ نے میرا پاس آبرو نہ کیا تو خاندان کی عزت رہے تو بلا سے اور جائے تو بلا سے۔

ماں: باپ دادا کی عزت تو رہے یا جائے، تم نے گھر سے باہر قدم رکھا اور تمہاری بات دو کوڑی کی ہوئی۔ یہی تمہارے دوست آشنا جو رات دن تمہاری للو پتو میں لگے رہتے ہیں، سلام تک کے روادار تو ہونے ہی کے نہیں۔ ہمدردی اور غم گساری تو کیا مذکور ہے۔

بیٹا: گھر سے نکل کر کیا میں نے دلّی میں رہنے کی قسم کھائی ہے؟ ملکِ خدا تنگ نیست، پائے مرا لنگ نیست۔ جدھر کو منہ اٹھ گیا، چل کھڑے ہوئے۔

ماں: بھلا میں بھی تو سنوں کہ تم نے کون سا ٹھکانا سوچا ہے؟

بیٹا:
جب میکدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
مسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

ماں: بھلا اس میں خوبی کیا نکلی کہ تم نے عیش چھوڑا، عزیز و اقارب چھوڑے، اور ان سب کے بدلے ملا تو کیا ملا؟ بدنامی کا خلعت، رسوائی کا خطاب، مفلسی اور محتاجی کا انعام، تکلیف و مصیبت کا پروانہ، تردد و پریشانی کا فرمان۔ موٹی سے موٹی سمجھ اور چھوٹی سے چھوٹی عقل بھی اس کو جائز نہیں کہے گی۔

بیٹا: عقل چہ کتی است کہ پیشِ مرداں بیاید۔

ماں: تم تو باپ کو باؤلا اور مجنون بناتے تھے، مگر باؤلوں کی سی باتیں، دیوانوں کی سی حرکتیں تم خود کرتے ہو۔ دیکھو، کہے دیتی ہوں، بہت پچھتاؤ گے، بہت افسوس کرو گے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ تم میری بات مانو، لیکن جس کو تم اپنے نزدیک معقول پسند اور دانش مند آدمی سمجھتے ہو، اس سے پوچھو۔ صلاح و مشورہ کرو۔ دیکھو تو کیا کہتا ہے۔

بیٹا: رائے اپنی، صلاح ہے اپنی۔

ماں: بھلا اتنا تو تم سمجھو کہ میں جو تم سے اتنا اصرار کر رہی ہوں اور اتنی دیر سے تمہارے پیچھے سر کھپا رہی ہوں، اس میں میرا کچھ نفع ہے یا تمہارے باپ کا فائدہ ہے؟ اگر تم نیک بنو گے تو تم ہم کو کچھ بخش دو گے یا بدراہ چلو گے تو کچھ ہم سے چھین لو گے؟ مگر خدا نے یہ اولاد کی مامتا کم بخت ایسی ہمارے پیچھے لگا دی ہے کہ جی نہیں مانتا اور دل صبر نہیں کرتا کہ تم کو بگڑتے دیکھیں اور نہ روکیں۔ تم خرابی کے لچھن اختیار کرو اور ہم منع نہ کریں۔

ماں اور بیٹے میں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ بیدارا اندر سے ایک خط لیے ہوئے نکلی اور وہ خط اس نے لا کر کلیم کے ہاتھ میں دے دیا۔ فہمیدہ سمجھ گئی کہ ضرور کلیم کے باپ کا خط ہے۔ جب تک کلیم پڑھتا رہا، فہمیدہ چپ بیٹھی دیکھا کی۔ خط پڑھ چکنے کے بعد کلیم چاہتا تھا کہ پھر وہی بات شروع کرے کہ اتنے میں فہمیدہ نے پوچھا، "باپ نے کیا لکھا ہے؟"

بیٹا: ان کو تو جانتی ہو۔ جس بات کے پیچھے پڑتے ہیں تو پہروں کی خبر لاتے ہیں۔ پھر بلایا ہے۔

ماں: صرف بلاوے کا اتنا بھاری خط! ذرا میں بھی تو دیکھوں۔ فہمیدہ نے خط لے کر پڑھا۔ اس میں لکھا تھا:

خط

اے جانِ پدر! ارشدک اللہ تعالیٰ۔ میں نے پہلے تم کو علیم اور پھر رسولن کے ہاتھ بلوایا اور تم نہ آئے، اور نہ معذوری معذرت کہلا بھیجی، جس سے ظاہر ہے کہ تم نے مجھ کو ہیچ اور میرے حکم کو بے وقعت محض سمجھا۔ اگرچہ میرے نزدیک دنیا کا ضروری سے ضروری کام بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ باپ بلائے اور بیٹا اس کام کے حیلے سے باپ کے پاس حاضر ہونے میں کمی کرے، لیکن اگر کوئی ضرورت ایسی درپیش تھی کہ تم اس کو میری طلب پر مقدم رکھنا چاہتے تھے تو اس کو مجھ پر ظاہر اور اپنی مجبوری سے مجھ کو مطمئن کرنا بھی تم پر لازم تھا۔ نہ صرف اس نظر سے کہ میں تمہارا باپ ہوں اور تم میرے بیٹے ہو، بلکہ آدابِ تمدن اور اخلاقِ معاشرت اسی طرح کے برتاؤ کے مقتضی ہیں۔

دنیا کا انتظام جس قاعدے اور دستور سے چلتا ہے، تم اپنے تئیں اس سے بے خبر اور ناواقف نہیں کہہ سکتے۔ ہر گھر میں ایک مالک، ہر محلے میں ایک رئیس، ہر بازار میں ایک چودھری، ہر شہر میں ایک حاکم، ہر ملک میں ایک بادشاہ، ہر فوج میں ایک سپہ سالار، ہر کام کا ایک افسر، ہر فرقے کا ایک سرکردہ ہوتا ہے۔ الغرض ہر گھر ایک چھوٹی سی سلطنت ہے اور جو شخص اس گھر میں بڑا بوڑھا ہے، وہ اس میں بمنزلہ بادشاہ کے ہے اور گھر کے دوسرے لوگ بطور رعایا اس کے محکوم ہیں۔ اگر ملک میں بدنظمی حاکمِ وقت کی غفلت اور بے عنوانی سے ہوتی ہے تو ضرور اس گھر میں جو خرابی ہے، اس کا الزام مجھ پر ہے اور میں نہایت ندامت اور حسرت کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں کہ اب تک بہت ہی غافل بادشاہ اور بے خبر حاکم رہا ہوں۔

میری غفلت نے میرے ملک کو غارت اور میری سلطنت کو تباہ کر دیا۔ میری بے خبری نے نہ صرف مجھ کو ضعیف الاختیار بنایا بلکہ رعیت کو بھی ایسا سقیم الحال کر دیا کہ اب ان کے پنپنے کی امید نہیں۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے نواب اور رجواڑے سلطانِ وقت کے حضور میں اپنے ملکوں کی بدنظمی کے واسطے جواب دہی کیا کرتے ہیں اور ان کی غفلت اور بے عنوانی کی سزا ملتی ہے، واجد علی شاہ سے سلطنت منتزع ہوئی، والیِ ٹونک مسندِ حکومت سے اتار دیے گئے، میں بھی بادشاہِ دو جہاں کے حضور اپنے گھر کی خرابی کا جواب دہ ہوں اور دوسروں کو سزایاب ہوتے دیکھ کر اب مجھ کو بڑی اور پوری تنبیہ ہوئی ہے اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ آئندہ سے میری خانہ داری کے ملک میں جتنے رخنے ہیں، بند اور جتنے خلل ہیں، مسدود، جتنے نقص ہیں، پورے، جتنے سقم ہیں، دفع کیے جائیں۔ بڑی خطرناک قباحت جو اپنے ملکِ خانہ داری میں پاتا ہوں، یہ ہے کہ میں اور میری رعایا، یعنی تم لوگ، شہنشاہِ دو جہاں سے سرکشی و بغاوت پر آمادہ و کمربستہ ہو اور خراجِ عبادت جو ہم کو وقتِ مقررہ پر ادا کرنا چاہیے، بالکل باقی پڑا ہے۔ خراج جو ہم پر عائد کیا گیا ہے، میں دیکھتا ہوں تو نہایت ہی ہلکا اور نرم اور رعایتی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو کوئی قسط بھی باقی نہ رہتی اور جو مطالبہ شاہی تھا، بے زحمت اپنے وقت پر خزانۂ عامرۂ سرکاری میں داخل ہو جایا کرتا۔ بااین ہمہ جو کوتاہی ہماری طرف سے ہوئی، ظاہر ہے اور اس نادہندی کی کوئی تاویل بھی ہم نہیں کر سکتے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو پچھلا خراج تمام و کمال بے باق کریں اور اپنا قصور معاف کرائیں یا آئندہ کو عہد کریں کہ کبھی باقی نہ رکھیں گے۔ یا بادشاہ کے ساتھ لڑیں اور مقابلہ کریں اور ہو سکے تو اپنے تئیں اس کے حلقۂ اطاعت سے آزاد کر لیں۔ شاہی قوت اور ہمارا ضعف تو ظاہر ہے۔ بھلا ہماری تو کیا ہستی ہے۔ فرعون اور نمرود اور شداد اور ہامان اور قارون کیسے کیسے جابر اور مقتدر ہو گزرے ہیں۔ باغی ہوئے تو کسی کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ پس سوائے اطاعت و انقیاد دوسرا چارہ نہیں۔ رعایائے ملک میں تم کو سربرآوردہ اور ممتاز سمجھ کر صلاح مشورے کے لیے بلایا تھا۔ تمہارے نہ آنے سے معلوم ہوا کہ تم کو سرکار کا ذرا بھی خوف نہیں۔

اب تک میں نے تشبیہ و تمثیل سے تم سے گفتگو کی اور اس سے تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس مجبوری سے تمہارے معاملات میں دخل دیتا اور تمہارے افعال سے تعرض کرتا ہوں۔ میرا دخل و تعرض بے شک تم کو دخلِ بے جا اور تعرضِ ناروا معلوم ہوتا ہوگا، لیکن ذرا اپنی اور میری ذمہ داری کا انصاف کے ساتھ موازنہ کرو گے تو سمجھ لو گے کہ اس کو بے جا اور ناروا سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ جن شرطوں کا میں تم کو پابند کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے تئیں اور کسی کے تئیں اس سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ پھر شکایت کیا اور گلہ کیوں؟

تم جیسے نوجوان آدمیوں کو مذہب کے بارے میں کبھی کبھی خدشات بھی واقع ہوا کرتے ہیں، اور یہ کچھ عیب کی بات نہیں۔ خدشے کا واقع ہونا دلیلِ جستجو اور جستجو کا انجام حصول۔ جوئندہ یابندہ۔ اگر تم میں سے کوئی ایسا خدشہ پیش کرنا چاہے تو میں اس کا جواب دینے کے لیے موجود ہوں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، مذہب کے اصول ایسے سچے اور یقینی اور بدیہی اصول ہیں کہ ان میں تردد اور انکار کا دخل ہو ہی نہیں سکتا۔ چونکہ ابتدائے شعور سے اب تک ہم لوگ غفلت اور سستی، بے پروائی اور خداوند جل شانہ کی مخالفت اور عدول حکمی اور نافرمانی میں زندگی بسر کرتے رہے، گناہ اور خطاکاری کی عادتیں ہمارے دلوں میں راسخ ہو گئی ہیں۔ البتہ میں جانتا اور مانتا ہوں کہ ایک مدت میں زنگِ معصیت ہمارے سینوں سے دور ہوگا، یہ آئینے ایمان کی جلا سے منور ہوں گے۔ لیکن بالفعل میرا مطلب اسی قدر تھا کہ ہر شخص مناسبِ حال اپنا اپنا فکر کر چلے۔

جب میں اپنی اور تم سب کی پچھلی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو اپنی بوٹیاں توڑ توڑ کھاتا ہوں، کیونکہ اس خرابی کا بانی اور اس تمام تر بدی کا موجب میں ہوں۔ اے کاش! میرا اتنا ہی قصور ہوتا کہ میں اپنی ذات سے گنہگار قرار دیا جاتا۔ نہیں، تم سب کے گناہوں میں میرا ساجھا اور تم سب کی خطاؤں میں میری شرکت ہے۔ میں خدا کا گنہگار الگ ہوں اور تمہارا قصوروار الگ۔ لیکن افسوس ہے کہ اس گناہ کا کفارہ اور اس قصور کی تلافی میرے اختیار سے خارج ہے۔ ہاں مگر یہ کہ تم مجھ پر رحم کر کے اپنی اصلاح کرو۔ کیا تمہاری سعادت مندی اس بات کو جائز رکھتی ہے کہ تمہارے سبب قیامت میں میری رسوائی ہو؟ کیا تمہاری حمیت اس بات کو پسند کرتی ہے کہ تمہاری وجہ سے حشر کے دن میں خدا کے غضب میں پکڑا جاؤں؟ چونکہ تم میرے بیٹے ہو، مجھ کو سب سے زیادہ تمہارا بھروسا تھا کہ تم مشکل میں میرا ساتھ دو گے، میری مدد کرو گے، نہ کہ تم نے ملنے سے بھی کنارہ کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میری آس ٹوٹ گئی اور میرے ذہنی منصوبے تمام بگڑ گئے۔ اتنی بڑی مہم اور میں اکیلا۔ اتنا مشکل کام اور میں تنہا! تم جانتے ہو کہ تمہارا انحراف میرے انتظام میں کتنا خلل ڈالے گا۔ چھوٹے بڑے سب تم کو سند گردانیں گے اور بات بات میں تمہارا حوالہ دیں گے۔ اگر تم اسی مصلحت سے میری شرائط قبول کر لیتے تو تمہارا کیا بگڑ جاتا؟ تم نے ابتدا ہی سے وہ سختی اختیار کی جس کی مجھ کو انجام میں بھی تم سے توقع نہ تھی۔ جتنی مشکلیں مجھ کو پیش آنے والی ہیں، میں ان سے بے خبر نہیں ہوں۔ اور اگر اس ارادے کا ترک کر دینا میرے اختیار میں ہوتا تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں اس بات کو منہ ہی سے نہ نکالتا۔ لیکن میں خوب جانتا ہوں کہ میں کوئی انوکھا آدمی نہیں ہوں۔ آخر مجھ کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ ابھی جب میں نے ہیضہ کیا تو کیا مرنے میں کچھ باقی رہ گیا تھا؟ خدا کی قدرت تھی کہ اس نے مجھ کو از سرِ نو پھر جلا دیا۔ لیکن بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔
رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
پھر آخر کو مرنا ہے حضرت سلامت
اور جس طرح مرنا یقینی ہے، یہ بھی یقینی ہے کہ مجھ کو اپنے اعمال و افعال کے واسطے خدا کے حضور میں جواب دہی کرنی پڑے گی، اور نہ صرف اپنے اعمال و افعال کے واسطے بلکہ تم سب کے اعمال و افعال کے واسطے بھی۔ پس سوائے اس کے کہ میں اپنا اور تم سب کا طرزِ زندگی بدل دوں، اور کچھ چارہ نہیں۔ اگر تم میرے پاس آئے ہوتے اور مجھ سے اور تم سے بات چیت ہوئی ہوتی تو میں تمہاری رائے دریافت کر کے ایک خاص طور پر تم سے گفتگو کرتا۔ اب مجھ کو معلوم نہیں کہ جتنی باتیں میں نے کہیں، ان میں سے کون سی تم کو تسلیم ہے اور کس کس سے تم کو انکار ہے۔

اب زیادہ لکھنا فضول و عبث سمجھتا ہوں، لیکن جو میرے ذہن میں تھا، لکھ چکا۔ میں تم سے اس کے جواب کا متقاضی نہیں، اور اس کے دو سبب ہیں۔ اوّل یہ کہ میں اپنے تقاضے کا لاحاصل اور بے اثر ہونا دیکھ نہیں سکتا۔ دوسرے صرف ایک ہی جواب ہے کہ اس کو میں بطیبِ خاطر سن سکتا ہوں۔ وہ یہ کہ تم میری شرطوں کو منظور کرو۔ ورنہ میں اپنے تئیں مواخذۂ عاقبت سے بچانے کے لیے البتہ ان چند روزہ رشتوں کا پاس اور ان عارضی قرابتوں کی پروا نہیں کر سکتا، اور یہ میری ہارے درجے کی تدبیر ہے۔ اور میں خدا سے گڑگڑا کر دعا مانگتا ہوں کہ مجھ کو اس کے اختیار کرنے کی ضرورت واقع نہ ہو۔ والدعا۔

خط پڑھ کر فہمیدہ بیٹے سے کہنے لگی، "دیکھا؟"

بیٹا: ع جو کچھ خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا۔

ماں: کیا اب بھی تم کو باپ کی نسبت جنون کا احتمال ہے؟

بیٹا: احتمال کیسا؟ اب تو یقینِ کامل ہے۔ بقول شخصے ع دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں۔ اپنے تئیں بادشاہ سمجھنا جنون نہیں تو کیا ہے؟

ماں: انا للہ وانا الیہ راجعون۔

بیٹا: کیوں؟ آپ نے انا للہ کس بات پر کہا؟

ماں: تمہاری الٹی سمجھ اور تمہاری بدقسمتی پر۔

بیٹا: ع بہتر ہے وہی جو کچھ کہ بدی ہے۔

ماں: تو کیا سچ مچ تم باپ کے پاس نہیں جاؤ گے؟

بیٹا: اب تو میرا نہ جانا ان پر بھی ظاہر ہو گیا۔ پھر کیا ضرورت ہے؟ کل جیسی ہوگی، دیکھی جائے گی۔

ماں: دیکھو، پھر میں تم سے کہے دیتی ہوں کہ رات اطمینان سے تم اس خط کے مطلب پر غور کرو۔ تمہارے باپ نے کوئی بے جا بات نہیں لکھی۔ جو شخص اس خط کو دیکھے گا، تم کو قائل و معقول کرے گا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.