
Глава 4 из 12
Nasuh et son plus jeune fils Salim
Nasuh and His Youngest Son Salim
فصل چہارم: نصوح اور چھوٹے بیٹے سلیم کی گفتگو
آج تو میاں بیوی میں یہ قول و قرار ہوا۔ اگلے دن چھوٹا بیٹا سلیم ابھی سو کر بھی نہیں اٹھا تھا کہ بیدارا نے آ کر جگایا کہ صاحبزادے، اٹھیے، بالا خانے پر میاں بلاتے ہیں۔ سلیم کی عمر اس وقت کچھ کم دس برس کی تھی۔ سلیم نے جو طلب کی خبر سنی، گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا اور جلدی سے منہ ہاتھ دھو ماں سے آ کر پوچھنے لگا، "اماں جان، تم کو معلوم ہے ابا جان نے کیوں بلایا ہے؟"
ماں: بھائی، مجھ کو تو کچھ خبر نہیں ہے۔ ہاں، ابھی تو کوٹھے پر سے بھی نہیں اترے۔
سلیم: بیدارا، تجھ کو کچھ معلوم ہے؟
بیدارا: میاں، میں اوپر لوٹا لینے گئی تھی۔ میاں اکیلے بیٹھے ہوئے کتاب پڑھ رہے تھے۔ میں آنے لگی تو میاں نے آپ کا نام لیا اور کہا کہ ان کو بھیج دیجیو۔
سلیم: صورت سے کچھ غصہ تو نہیں معلوم ہوتا تھا؟
بیدارا: نہیں تو۔
سلیم: تو اماں جان، ذرا تم بھی میرے ساتھ چلو۔
ماں: میری گود میں لڑکی سوتی ہے۔ تم اتنے ڈرتے کیوں ہو؟
سلیم: کچھ پوچھیں گے؟
ماں: جو کچھ پوچھیں گے، تم اس کا معقول طور پر جواب دینا۔ غرض سلیم ڈرتا ڈرتا اوپر گیا اور سلام کر کے الگ جا کھڑا ہوا۔ باپ نے پیار سے بلا کر پاس بٹھا لیا اور پوچھا، "کیوں صاحب، ابھی مدرسے نہیں گئے؟"
بیٹا: جی، بس جاتا ہوں۔ ابھی کوئی گھنٹے بھر کی دیر اور ہے۔
باپ: تم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے جاتے ہو یا الگ؟
بیٹا: کبھی کبھار بھائی کے ساتھ چلا جاتا ہوں، ورنہ اکثر اکیلا جاتا ہوں۔
باپ: کیوں؟
بیٹا: اگلے مہینے امتحان ہونے والا ہے۔ چھوٹے بھائی جان اسی کے واسطے تیاری کر رہے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر کسی ہم جماعت کے ہاں چلے جاتے ہیں۔ وہاں ان کو دیر ہو جاتی ہے تو پھر گھر بھی نہیں آتے۔ میں جاتا ہوں تو ان کو مدرسے میں پاتا ہوں۔
باپ: کیا اپنے گھر میں جگہ نہیں ہے کہ دوسروں کے یہاں جاتے ہیں؟
بیٹا: جگہ تو ہے مگر وہ کہتے تھے کہ یہاں بڑے بھائی کے پاس ہر وقت گنجفہ اور شطرنج ہوا کرتا ہے۔ اطمینان کے ساتھ پڑھنا نہیں ہو سکتا۔
باپ: تم بھی شطرنج کھیلنا جانتے ہو؟
بیٹا: مہرے پہچانتا ہوں، چالیں جانتا ہوں، مگر کبھی خود کھیلنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
باپ: مگر زیادہ دنوں تک دیکھتے دیکھتے یقین ہے کہ تم بھی کھیلنے لگو گے۔
بیٹا: شاید مجھ کو عمر بھر شطرنج کھیلنی نہ آئے۔
باپ: کیوں؟ کیا ایسی مشکل ہے؟
بیٹا: مشکل ہو یا نہ ہو، میرا جی ہی نہیں لگتا۔
باپ: سبب؟
بیٹا: میں پسند نہیں کرتا۔
باپ: چونکہ مشکل ہے، اکثر مبتدی گھبرایا کرتے ہیں۔ مجھ کو یقین ہے کہ گنجفے میں تمہاری طبیعت خوب لگتی ہوگی۔ وہ بہ نسبت شطرنج کے بہت آسان ہے۔
بیٹا: میں شطرنج کی نسبت گنجفے کو زیادہ تر ناپسند کرتا ہوں۔
باپ: ہاں، شطرنج میں طبیعت پر زور پڑتا ہے اور گنجفے میں حافظے پر۔
بیٹا: میری ناپسندیدگی کا کچھ خاص کر یہی سبب نہیں ہے، بلکہ مجھ کو سارے کھیل بُرے معلوم ہوتے ہیں۔
باپ: تمہاری اس بات سے مجھ کو تعجب ہوتا ہے اور میں تم سے تمہاری ناپسندیدگی کا اصلی سبب سننا چاہتا ہوں۔ کیونکہ شاید اب سے پانچ یا چھ مہینے پہلے جن دنوں میں باہر کے مکان میں بیٹھا کرتا تھا، میں نے خود تم کو ہر طرح کے کھیلوں میں نہایت شوق کے ساتھ شریک ہوتے دیکھا تھا۔
بیٹا: آپ درست فرماتے ہیں۔ میں ہمیشہ کھیل کے پیچھے دیوانہ بنا رہتا تھا۔ مگر اب تو مجھ کو ایک دلی نفرت ہو گئی ہے۔
باپ: آخر کوئی اس کا خاص سبب ہوگا؟
بیٹا: آپ نے اکثر چار لڑکوں کو کتابیں بغل میں دابے اندر گلی میں آتے جاتے دیکھا ہوگا۔
باپ: وہی گورے گورے چار لڑکے جو ایک ساتھ رہتے ہیں؟ بھدی جوتیاں پہنے ہوئے، منڈے ہوئے سر، اونچے پاجامے، نیچی چولیاں۔
بیٹا: ہاں جناب، وہی چار لڑکے۔
باپ: پھر؟
بیٹا: بھلا آپ نے کبھی ان کو کسی قسم کی شرارت کرتے بھی دیکھا ہے؟
باپ: کبھی نہیں۔
بیٹا: جناب، کچھ عجیب عادت ان لڑکوں کی ہے۔ راہ چلتے ہیں تو گردن نیچی کیے ہوئے۔ اپنے سے بڑا مل جائے، جان پہچان ہو یا نہ ہو، ان کو سلام کر لینا ضرور۔ کئی برس سے اس محلے میں رہتے ہیں، مگر کانوں کان خبر نہیں۔ محلے میں کوڑیوں لڑکے بھرے پڑے ہیں لیکن ان کو کسی سے کچھ واسطہ نہیں۔ آپس میں اوپر تلے کے چاروں بھائی ہیں۔ نہ کبھی لڑتے ہیں، نہ جھگڑتے، نہ گالی بکتے، نہ قسم کھاتے، نہ جھوٹ بولتے، نہ کسی کو چھیڑتے، نہ کسی پر آوازہ کستے۔ ہمارے ہی مدرسے میں پڑھتے ہیں، وہاں بھی ان کا یہی حال ہے۔ پھر کسی نے ان کی جھوٹی شکایت بھی تو نہیں کی۔ ڈیڑھ بجے ایک گھنٹے کی چھٹی ہوا کرتی ہے۔ لڑکے کھیل کود میں لگ جاتے ہیں۔ یہ چاروں بھائی ایک پاس کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے جاتے ہیں۔
باپ: بھلا پھر؟
بیٹا: منجھلا لڑکا میرا ہم جماعت ہے۔ ایک دن میرا آموختہ یاد نہ تھا۔ مولوی صاحب نہایت ناخوش ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے فرمایا کہ کم بخت، گھر سے گھر ملا ہے، اسی کے پاس جا کر یاد کر لیا کر۔ میں نے جو پوچھا، کیوں صاحب، یاد کروا دیا کرو گے؟ تو کہا، بسر و چشم۔ غرض میں اگلے دن ان کے گھر گیا۔ آواز دی۔ انھوں نے مجھ کو اندر بلا لیا۔ دیکھا کہ ایک بہت بوڑھی سی عورت تخت پر جائے نماز بچھائے قبلہ رو بیٹھی کچھ پڑھ رہی ہیں۔ وہ ان لڑکوں کی نانی ہیں۔ لوگ ان کو حضرت بی کہتے ہیں۔ میں سیدھا سامنے دالان میں اپنے ہم جماعت کے پاس جا بیٹھا۔ جب حضرت بی اپنے پڑھنے سے فارغ ہوئیں تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا، تم نے مجھ کو سلام نہیں کیا، لیکن ضرور ہے کہ میں تم کو دعا دوں۔ جیتے رہو، عمر دراز ہو، خدا نیک ہدایت دے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ میں غیرت کے مارے زمین میں گڑ گیا۔ فوراً اٹھ کر میں نے نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا۔ تب حضرت بی نے فرمایا کہ بیٹا، بُرا مت ماننا۔ یہ بھلے مانسوں کا دستور ہے کہ اپنے سے جو بڑا ہوتا ہے اس کو سلام کر لیا کرتے ہیں۔ میں تم کو نہ ٹوکتی، لیکن چونکہ تم میرے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو، اس سبب سے مجھ کو جتا دینا ضرور تھا۔ اس کے بعد حضرت بی نے مجھ کو مٹھائی دی اور بڑا اصرار کر کے کھلائی۔ مدتوں میں ان کے گھر جاتا رہا۔ حضرت بی بھی مجھ کو اپنے نواسوں کی طرح چاہنے اور پیار کرنے لگیں۔ مجھ کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتی تھیں۔ تبھی سے میرا دل تمام کھیل کی باتوں سے کھٹا ہو گیا۔
باپ: یہ تم نے اچھا اختصار کیا۔ اجی، سب باتیں مجھ کو سناؤ۔ کیا کیا تم سے حضرت بی نے کہا؟
بیٹا: ہر روز آنے جانے سے میں ان لوگوں کے ساتھ خوب بے تکلف ہو گیا۔ مگر حضرت بی نے بس پہلے دن سلام کرنے پر ٹوکا تھا۔ پھر کوئی گرفت نہ کی۔ باوجودیکہ میں شوخی بھی کرتا تھا، لیکن وہ خفا نہ ہوتی تھیں۔ ایک دن میری ایک ہمسائے کے لڑکے سے باہر گلی میں کھیلتے کھیلتے عین انھی کے دروازے پر لڑائی ہو پڑی۔ سخت کلامی کے بعد گالی گلوچ تک نوبت پہنچی۔ پھر مار کٹائی ہونے لگی۔ لڑکا مجھ سے کمزور تھا۔ ذرا اڑنگے پر چڑھا، جو ایک پٹخنی دیتا ہوں، چاروں شانے چت۔ پھر تو میں اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا اور بچہ کو ایسے گھونسے دیے کہ یاد ہی کیے ہوں گے۔ اگر لوگ چھڑا نہ دیتے تو میں اس کو ادھ موا ہی کر دیتا۔ بارے دو چار آدمیوں نے مجھ کو اس پر سے اتارا اور ایک دو نے میری پیٹھ بھی ٹھونکی کہ شاباش! پٹھے، شاباش! لیکن وہ لڑکا ایسا چیندر باز تھا کہ پھر خم ٹھونک کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ میں چاہتا تھا کہ پھر گتھ جاؤں کہ اتنے میں اندر سے اسی میرے ہم جماعت نے آواز دی اور ادھر لوگوں نے کہا، "میاں، جانے دو۔ یہ تمہارے جوڑ کا نہیں۔" غرض میں اندر چلا گیا۔ میرے ہم جماعت نے پوچھا کہ کیوں جی، کس سے لڑ رہے تھے؟ میں نے کہا، میاں، یہی کنجڑے والا رمضانی، کمزور مار کھانے کی نشانی۔ لیکن خدا کی قسم، میں نے بھی آج اس کو ایسا رگڑا ہے کہ یاد ہی تو کرے گا۔ اس وقت تک غصہ اور طیش تو فرو ہوا ہی نہ تھا۔ نہیں معلوم کیا کیا میں نے بکا۔ سب گھر والوں نے سن کر آنکھیں نیچی کر لیں اور بڑی دیر تک سرنگوں بیٹھے رہے۔ آخر حضرت بی بولیں کہ سلیم، بڑے افسوس کی بات ہے کہ تو ایسا پیارا لڑکا اور گن تیرے ایسے خراب۔ اس منہ سے ایسی باتیں۔ آج کئی دن سے تجھ کو سمجھانے والی تھی، مگر اس وقت جو میں نے تیری گفتگو سنی، مجھ کو یقین ہو گیا کہ تجھ کو سمجھانا بے سود ہے۔ بڑا رنج تو مجھ کو اس بات کا ہے کہ تو ہاتھ سے گیا گزرا ہوا۔ دوسرا کھٹکا یہ ہے کہ تو میرے لڑکوں کے پاس آتا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ تیری خو بو کا ایک شمہ انھوں نے اختیار کیا تو میری طرف سے جیتے جی مر لیے۔ ملنا جلنا تو بڑی بات ہے، اب یہ محلہ مجھ کو چھوڑنا پڑا۔ اتنی بے حیائی، ایسی بدزبانی! اوّل تو لڑنا اور پھر گلی کوچے میں، اور اس پر ایسی موئی موئی گالیاں!
میں: جناب، خدا کی قسم، ہرگز میں نے پہل نہیں کی۔ وہ سر پر چڑھ کر مجھ سے لڑا۔
حضرت بی: بس اپنی قسموں کو بند کرو۔ میں قسم اور گالی دونوں برابر سمجھتی ہوں۔ جس کو بے موقع، بے محل خدا کا نام لینے میں باک نہیں، اس کو کسی بات کے بک دینے میں تأمل نہیں۔
میں: گالی بھی پہلے اس نے مجھ کو دی۔
حضرت بی: تم نے کیوں گالی کھانے کی بات کی؟
میں: یہی تو عرض کرتا ہوں کہ میرا مطلق قصور نہ تھا۔
حضرت بی: کیا ایسے بے ہودہ لڑکوں سے ملاقات رکھنا تمہارا قصور نہیں ہے؟
میں: جناب، آپ کو معلوم نہیں، وہ لڑکا راہ چلتوں کے سر ہوتا ہے۔
حضرت بی: یک نہ شد دو شد۔ دروغ گویم بر روئے تو۔ میرے لڑکوں کے تو کوئی بھی سر نہیں ہوتا۔
میں: ان سے تو سرے سے جان پہچان ہی نہیں۔
حضرت بی: اور تم سے ہے؟
میں: کیونکر کہوں کہ نہیں ہے؟
حضرت بی: ہے تو وہی تمہارا قصور ہے اور اسی کی یہ سزا ہے تم نے بازار میں گالیاں کھائیں۔
میں: لیکن میں نے خوب ہی بدلہ لیا۔
حضرت بی: بس یہی تو تمہاری خرابی کے لچھن ہیں کہ اس کو تم بدلہ سمجھتے ہو۔ اگر ایک شخص تمہارے ساتھ برائی کرے تو اس کو لوگ بُرا کہیں گے؟
میں: ضرور کہیں گے۔
حضرت بی: اور جب تم اس کے ساتھ زیادہ برائی کرو تو کیا زیادہ بُرے نہ کہلاؤ گے؟ گالی بکنا ایک زبوں بات ہے۔ اس نے بکیں تو جھک مارا اور تم نے زیادہ بکیں تو زیادہ جھک مارا۔ سلیم، تم اپنے میں اور اس کنجڑے کے چھوکرے میں کچھ فرق سمجھتے ہو؟
یہ سن کر مجھ کو ندامت شروع ہوئی اور میں نے کہا کہ واقع میں اس وقت تو مجھ میں اور اس میں کچھ فرق نہ تھا۔
حضرت بی: لیکن وہ ایک بازاری آدمی کا بیٹا ہے اور تم ایک بڑے عزت دار کے لڑکے ہو۔ تمہارے دادا کا شہر میں وہ شہرہ ہے کہ ان کے نام کی لوگ تعظیم کرتے ہیں۔ انھی کے پوتے تم ہو۔ جھوٹ بولنے پر دلیر، قسم کھانے میں بے باک، فحش بکنے میں بے دھڑک۔ کوئی شخص دین اور دنیا دونوں میں اس وجہ سے عزت نہیں پا سکتا کہ باپ دادا عزت دار تھے۔ آدمی کی عزت اس کی عادت اور مزاج سے ہے۔ کیا تم کہہ سکتے ہو کہ یہ عادتیں جو تم نے سیکھی ہیں، عزت حاصل کرنے کی ہیں؟ ہرگز نہیں۔
یہ سن کر مجھ کو اس قدر شرمندگی ہوئی کہ میں رونے لگا۔ حضرت بی آبدیدہ ہوئیں۔ مجھ کو پاس بٹھا کر پیار کیا اور کہا کہ بیٹا، میں تمہارے ہی فائدے کے لیے کہتی ہوں۔ اب بھی کچھ نہیں گیا، لیکن چند روز بعد تم کو ان عادتوں کا چھوڑنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ میں نے اسی وقت توبہ کی اور کہا کہ اگر اب سے آپ مجھ کو قسم کھاتے یا فحش بکتے یا جھوٹ بولتے یا بازاری لڑکوں میں کھیلتے سنیں تو مجھ کو اپنے گھر میں نہ آنے دیجیے گا۔
باپ: کیا بس اسی دن سے تم کو کھیلنے سے نفرت ہو گئی؟
بیٹا: جناب، نہیں۔ مہینوں میں حضرت بی کے یہاں جاتا رہا اور ہر روز نصیحت کی دو چار باتیں وہ مجھ کو بتایا کرتی تھیں۔ ایک روز انھوں نے مجھ سے میرے وقت کا حساب پوچھا۔ میں نے سونا اور کھیلنا اور تھوڑی دیر لکھنا پڑھنا بہتیرے کام گنوائے۔ مگر انھوں نے سن کر ایک آہ کھینچی کہ آج تک اس کی چوٹ دل میں پاتا ہوں، اور کہا کہ سلیم، آٹھ پہر میں خدا کا ایک کام بھی نہیں؟ خدا نے تم کو آدمی بنایا۔ کیا ممکن نہیں تھا کہ وہ تم کو بلی یا کتا بنا دیتا؟ پھر آدمی بھی بنایا تو ایسے خاندان کا جو عزت دار اور خوشحال ہے۔ ہو سکتا تھا کہ تم مزدور لکڑہارے کے گھر پیدا ہوتے اور ایسی ہی چھوٹی سی عمر میں تم کو پیٹ پورا کرنے کے واسطے محنت کرنا پڑتی، اور پھر بھی سوائے چنے کے اور کچھ نہ پاتے، اور وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں۔ لنگوٹی تم باندھے پھرتے۔ نہ پاؤں میں جوتی، نہ سر پر ٹوپی، نہ گلے میں انگرکھا۔ جہاں جاتے، در در جس کے پاس کھڑے ہوتے، پھٹ پھٹ۔ پھر صورت تم کو ایسی پاکیزہ دی کہ جو دیکھے، پیار کرے۔ کیا تم کو کالا بھٹ، کانا، لنگڑا، کوڑھی بنا دینا اس کو مشکل تھا؟ جس خدا کے تم پر اتنے سلوک اور اتنے احسان ہیں، ستم ہے کہ دن رات میں ایک دفعہ بھی اس کے آگے سر نہ جھکاؤ۔ غضب ہے کہ ایک لمحہ بھی اس کو یاد نہ کرو۔ تب حضرت بی نے مجھ کو نماز سکھائی، اس کے معنی سمجھائے اور اسی طرح انھوں نے مجھ کو ہزارہا نصیحتیں کیں کہ برزبان یاد نہیں رہیں۔ مگر افسوس ہے کہ کئی مہینے سے ان کے گھر میرا جانا چھوٹ گیا۔ (یہ کہہ کر سلیم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔)
باپ: کیوں؟ تم نے کس لیے ان کے یہاں جانا ترک کیا؟ کیا ان کے نواسوں سے لڑائی ہو گئی؟
بیٹا: جناب، ان کے نواسے مجھ کو بھائیوں سے کہیں زیادہ عزیز ہیں۔ اگر میں ان سے لڑتا تو دنیا میں مجھ سے زیادہ نالائق کوئی نہ تھا۔
باپ: پھر کیا حضرت بی تم سے ناخوش ہو گئیں؟
بیٹا: استغفراللہ! وہ تو خود اس درجے کی نیک ہیں کہ غصہ ان کو چھو ہی نہیں گیا۔
باپ: تو کیا تم آپ سے بیٹھ رہے؟
بیٹا: میں تو ہر روز وہاں جانے کے لیے تڑپتا ہوں۔
باپ: تو کیا یہاں تم کو کسی نے منع کر دیا؟
بیٹا: نہیں، کسی نے منع بھی نہیں کیا۔
باپ: پھر کیا سبب ہوا؟
بیٹا: اگر آپ مجھ کو اس کا سبب بیان کرنے سے معاف رکھتے تو بہتر تھا۔
باپ: نہیں، ضرور ہے کہ تمہارے نہ جانے کا سبب معلوم کروں۔
بیٹا: اس میں ایک شخص کی شکایت ہوگی اور حضرت بی نے مجھ کو غیبت اور چغلی سے ممانعت کی ہے۔
باپ: لیکن کیا وہاں نہ جانے سے تمہارا نقصان نہیں ہے؟
بیٹا: اے جناب، نقصان سا نقصان ہے، مگر میرے اختیار کی بات نہیں۔
باپ: تو میں تم کو اپنے منصبِ پدری کی رو سے حکم دیتا ہوں کہ تو سارا حال پوست کندہ بیان کر۔
بیٹا: حضرت بی نے ایک دفعہ مجھ کو بتاکید کہا تھا کہ تم اپنے سر کے بال منڈوا ڈالو۔ اگرچہ مجھ کو بال بہت عزیز تھے اور میں ان کی خدمت بھی بہت بہت کرتا تھا، لیکن چونکہ مجھ کو یقین تھا کہ حضرت بی جو بات کہتی ہیں، ضرور میری منفعت کے واسطے کہتی ہیں، میں نے کہا، بہت خوب۔ حضرت بی نے اور تو کچھ سبب بیان نہیں کیا مگر اتنا کہا کہ بالوں کی بزرگداشت میں تمہارا بہت سا وقت صرف ہوتا ہے۔ اور وقت ایسی چیز نہیں ہے کہ اس کو ایسی فضول باتوں میں صرف کیا جائے۔ اور تم کو بڑے بال رکھنے کی کچھ ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگلے دن جو حجام بڑے بھائی جان کا خط بنانے آیا، میں نے اس سے کہا کہ خلیفہ، میرے بال بھی مونڈ دینا۔ بالوں کا مونڈنا سن کر بڑے بھائی جان اس قدر خفا ہوئے کہ میں عرض نہیں کر سکتا۔ مجھ کو جو چاہتے، کہہ لیتے، حضرت بی اور ان کے نواسوں کو بھی بہت بُرا بھلا کہا۔
یہ کہہ کر سلیم کی آنکھوں میں پھر آنسو بھر آئے۔
باپ: تمہارے بڑے بھائی کا حضرت بی سے کیا واسطہ؟ اور ان کو تمہارے افعال میں میرے ہوتے کیا دخل؟
بیٹا: جناب، نہیں معلوم ان کو کس طرح معلوم ہو گیا تھا کہ میں ان کے گھر آتا جاتا ہوں۔ دو ایک مرتبہ مجھ سے پہلے بھی کہا تھا کہ تو ان مردہ شو قلاوزیوں کے ساتھ اکثر رہتا ہے۔ کیا تو بھی ملانا اور مسجد کا ٹکر گدا بنے گا؟ اس دن بالوں پر کہنے لگے کہ دیکھا، آخر ان نابکاروں کی صحبت کا اثر یہ ہوا کہ آپ اچھے خاصے سر کو چھلا ہوا کسیرو بنانے چلے ہیں کہ دیکھتے ہی ہتھیلی کھجلائے، چانٹا مارنے کو جی چاہے۔ ایسے اکیلے سر منڈانے سے کیا ہوتا ہے۔ گھٹنوں تک کا کرتا پہن، ٹخنوں تک پائجامہ بنا، پنجایت کے واسطے دو چار سورتیں یاد کر اور جو چاہے کر۔ فقط انگلی کو خون لگا کر شہیدوں میں داخل اور نرا سر منڈا کر بریانی کی دعوتوں میں شامل ہونا چاہو تو بچہ، ہاتھ دھو رکھو۔
باپ: تم نے کچھ جواب نہیں دیا؟
بیٹا: جناب، اوّل تو بڑے بھائی کو جواب دینا خلافِ شیوۂ ادب تھا، اور اگر دیتا تو مجھ کو جیتا بھی نہ چھوڑتے۔ جب تک میں سامنے سے ٹل نہیں گیا، انھوں نے زبان بند نہیں کی اور ناحق حضرت بی اور ان کے نواسوں کی شان میں بُری بُری باتیں کہیں۔ غرض ڈر کے مارے پھر میں نے بال منڈانے کا نام نہیں لیا۔ تبھی سے مجھ کو ایک حجاب سا پیدا ہوا کہ کئی بار مجھ سے کہہ چکی ہیں۔ اپنے دل میں کیا کہتی ہوں گی کہ کیسا خود سر لڑکا ہے۔ لیکن پھر انھوں نے کچھ تذکرہ نہیں کیا۔ معلوم نہیں بھول گئیں یا کہنے سے کچھ فائدہ نہ دیکھ کر چپ ہو رہیں۔ ابھی تک میں نے جانا نہیں چھوڑا اگرچہ میرا جانا داخلِ بے غیرتی تھا۔ جب انھوں نے مجھ کو نماز سکھائی اور نماز کی تاکید کی تو میں نے ایک دن گھر میں نماز پڑھنی چاہی۔ بڑے بھائی جان اور ان کے یار دوست برابر ہنسائے جاتے تھے اور میں نہیں ہنستا تھا تو جائے نماز الٹ الٹ دیتے۔ سجدے میں جاتا، اوپر بیٹھ بیٹھ جاتے تھے۔ ایسی حالت میں ممکن نہ تھا کہ میں نماز پڑھ سکوں، اور حضرت بی سچ بولنے کا مجھ سے عہد لے ہی چکی تھیں۔ میں نے سوچا کہ جاؤں گا تو نماز کو پوچھیں گی تو کیا کہوں گا۔ بالوں کی شرمندگی اور نماز کی ندامت، غرض اعمال کی شامت کہ میں نے جانا چھوڑ دیا۔ اب وہاں گئے مجھ کو تین ساڑھے تین مہینے ہو گئے۔ میری نااہلی کو دیکھیے کہ تب ہی سے وہ میرے ہم جماعت بیمار پڑے ہیں۔ میں ان کی عیادت کو بھی نہیں جا سکا۔
باپ: لیکن تم نے اپنی مجبوری کا حال مجھ پر کیوں ظاہر نہیں کیا؟
بیٹا: اس خوف سے کہ غیبت ہوگی۔
باپ: تم نے اپنے بڑے بھائی کے روبرو کہا ہوتا۔
بیٹا: اتنی مجال نہ مجھ میں کبھی تھی نہ اب ہے۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں ہر وقت آپ کے پاس جانے سے رہا۔ جب اکیلا پائیں گے، مجھ کو ٹھیک بنائیں گے۔
باپ: تم کو خوف ہی خوف تھا یا تم کو بڑے بھائی نے کبھی مارا بھی تھا؟
بیٹا: اس کی گنتی نہ میں بتا سکتا ہوں نہ بڑے بھائی جان بتا سکتے ہیں۔
باپ: کس بات پر؟
بیٹا: میں تو ہمیشہ ان کے مارنے کو ناحق، بے سبب، بے قصور، بے خطا ہی سمجھا۔
باپ: تم نے اپنی اماں سے بھی کبھی تذکرہ نہ کیا؟
بیٹا: جو وجہ آپ کی خدمت میں عرض کرنے کی مانع تھی، وہی والدہ سے بھی کہنے کو روکتی تھی۔ دوسرے، میں دیکھتا تھا کہ گھر میں نماز روزے کا مطلق چرچا نہیں۔ یہ بھی خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہوں، اور جس طرح بڑے بھائی جان ناخوش ہوتے ہیں اور لوگ بھی ناراضامند ہوں۔
باپ: تو یہ چند مہینے تمہارے نہایت ہی بُری طرح گزرے۔
بیٹا: کچھ عرض نہیں کر سکتا۔ ایک حضرت بی کی خدمت سے محروم رہنے کا صدمہ، دوسرے اپنی مجبوری کا رنج۔ میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ سگ باش، برادرِ خرد مباش۔ سو مجھ کو ہر روز اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر تو اس بات کا قلق تھا کہ میں اپنے گھر میں سب چھوٹے بڑوں کی عادتوں کو ناپسند کرتا ہوں۔ اور اپنے جی میں سوچا کرتا ہوں کہ جس گھر میں رہتا ہوں اس سے مجھ کو وحشت ہوتی ہے، تو میں کہاں جاؤں گا اور کیا کروں گا؟
باپ: لیکن اب تم کو حضرت بی کے گھر جانا ہے؟
بیٹا: سبحان اللہ! اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کی بات نہیں۔ لیکن جب تک کہ میں سر کے بال نہ منڈا لوں اور نماز نہ پڑھوں، میں ان کو منہ نہیں دکھا سکتا۔
باپ: اور اگر یہ بھی ہو؟
بیٹا: تو پھر یہ بھی ہو کہ ہمارے گھر بھر کی عادتیں وہی کی وہی ہو جائیں۔
باپ: بھلا اگر یہ دونوں ہوں؟
بیٹا: تو پھر مجھ کو اور کچھ درکار نہیں۔
باپ: اس میں کچھ شک نہیں کہ ہمارے گھر پر ایک بربادی اور تباہی چھا رہی ہے اور سارا خاندان گناہ اور بے دینی آفت میں مبتلا ہے۔ آوے کا آوا خراب۔ کنبے کا کنبہ گمراہ۔ تعجب ہے کہ اب تک کوئی عذابِ الٰہی ہم پر نازل نہیں ہوا۔ حیرت ہے کہ قہرِ خدا ہم پر کیوں نہیں ٹوٹ پڑا۔ اور خدا کا الزام اور تم سب کا الاہنا تمام تر مجھ پر ہے۔ میں تم لوگوں کے جسموں کی پرداخت و پرورش کرتا رہا۔ لیکن تمہاری روحوں کو میں نے ہلاک اور تمہاری جانوں کو میں نے تلف کیا۔ کتنے خون میری گردن پر ہیں اور کتنے وبال میرے سر پر۔
بحیرتم کہ سرانجامِ من چہ خواہد بود
سلیم، آج تم بہت خوش ہو جاؤ کہ تمہاری آرزو بر آئی اور تمہارا مطلب خدا نے پورا کیا۔ شوق سے اپنا سر منڈاؤ اور نماز پڑھو، اور حضرت بی کی خدمت میں جاؤ۔ آج سے حضرت بی میری دینی ماں اور ان کے نواسے میرے دینی فرزند ہیں۔ میں خود تمہارے ساتھ چلوں گا اور حضرت بی کا شکریہ ادا کروں گا کہ انھوں نے حسبۃً للہ تمہارے اور میرے دونوں کے ساتھ سلوک کیا۔ تمہارے ساتھ یہ کہ تم کو نیک صلاح دی، اور میرے ساتھ یہ کہ جو کام میرے کرنے کا تھا، وہ انھوں نے کیا۔ آج کے بعد سے ان شاءاللہ تم اس گھر کو حضرت بی کے گھر کی طرح دیکھو گے۔ کوئی تفرقہ تم میں اور ان کے نواسوں میں باقی نہ رہے گا۔ سلیم، تمہاری آج کی گفتگو سن کر میرا جی بہت ہی خوش ہوا اور تم مجھ کو ساری اولاد میں سب سے زیادہ عزیز رہو گے۔ تم کو میں دوسروں کے لیے نمونہ اور مثال بناؤں گا، اور ان کو جو تم سے بڑے ہیں، تمہاری تقلید پر مجبور کروں گا۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.