Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 3 sur 12

La petite Hamida

Little Hamida

فصل سوم: فہمیدہ اور ننھی حمیدہ

Deputy Nazir Ahmad

Écriture
Taille

[اس نسخے میں فصل سوم کا ابتدائی حصہ، کتاب کے صفحات ۳۱۰ اور ۳۱۱، موجود نہیں۔ ذیل کا متن صفحہ ۳۱۲ سے ہے، جہاں فہمیدہ نصوح کو اپنی چھوٹی بیٹی حمیدہ سے ہونے والی گفتگو سنا رہی ہے۔]

حمیدہ: لیکن لونڈی غلام تو اپنے مالک کی خدمت کرتے ہیں، ٹہل کرتے ہیں۔ ہم اللہ میاں کا کون سا کام کرتے ہیں؟

میں: یہی نماز، جو تم نے اپنے باپ کو پڑھتے دیکھی اور جس کو عبادت کہتے ہیں۔

حمیدہ: ہاں، نماز اللہ میاں کا کام ہے تو سب ہی کو پڑھنی چاہیے کیونکہ لونڈی غلام سب ہیں۔ اللہ میاں کی دی ہوئی روٹی سب کھاتے ہیں۔

میں: بے شک خدا کی عبادت سب پر فرض ہے۔

حمیدہ: اماں جان، تم تو نماز نہیں پڑھتیں، کیا تم اللہ میاں کی لونڈی نہیں ہو؟ اور کیا تم اس کی دی ہوئی روٹی نہیں کھاتیں؟

حمیدہ نے جو سادہ دلی اور بھولے پن سے یہ الزام دیا، مجھ کو اس قدر شرم آئی کہ زمین پھٹ گئی ہوتی تو میں سما جاتی۔

میں: میں لونڈی بے شک ہوں اور خدا ہی کی دی ہوئی روٹی کھاتی ہوں، لیکن بعض لونڈیاں نکمی، کام چور، نمک حرام اور بے غیرت نہیں ہوتیں؟ ویسی ہی اللہ میاں کی ایک لونڈی میں ہوں۔

حمیدہ: ابا جان بھی تو اب بیماری سے اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ہیں۔ کیا اس سے پہلے وہ خدا کی دی ہوئی روٹی نہیں کھاتے تھے؟

یہ سن کر نصوح کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے۔

میں: وہ بھی بُرا کرتے تھے۔

حمیدہ: اچھی اماں جان، اللہ میاں خفا ہوئے ہوں گے؟

میں: خفا ہونے کی تو بات ہی ہے۔

حمیدہ: ایسا نہ ہو کہ روٹی بند کر دیں۔ تو پھر ہم کہاں سے کھائیں گے؟ اور اگر ننھی بوا کا دودھ سوکھ گیا تو ہماری ننھی روئے گی۔

یہ کہہ کر حمیدہ رونے لگی۔ میں نے اٹھا کر گلے سے لگا لیا اور پیار کیا لیکن جس قدر میں اس کو تسلی دیتی تھی، وہ اور دگنا روتی تھی۔ مجھ سے بھی ضبط نہ ہو سکا، اور مجھ کو روتے دیکھ کر اور بھی بے تاب ہو گئی۔ آخر بڑی مشکلوں سے میں نے اسے سنبھالا اور کہا کہ حمیدہ، تم ڈرو مت۔ اللہ میاں کا یہ دستور نہیں ہے کہ جو لونڈی غلام کام نہ کریں ان کا کھانا بند کر دیں۔

حمیدہ: سچ؟

میں: ہاں، ہاں۔ تم گھبراؤ مت۔

حمیدہ: اچھی اماں جان، ننھی کو پلا کر دیکھو۔ دودھ ہے یا نہیں؟

میں: بیٹی، ننھی کو سونے دو اور دودھ سے اطمینان رکھو۔ دودھ خدا کا دیا ہوا بہت ہے۔

حمیدہ: ہمارے گھر میں تو لونڈی غلام نہیں، نوکر چاکر ہیں۔ مگر کام نہیں کرتے تو تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ ابا جان جرمانہ کر دیتے ہیں۔ گھر سے نکال دیتے ہیں۔ اللہ میاں اپنے لونڈی غلاموں پر بھی خفا نہیں ہوتے تو ایسے مالک کا کام تو اور بھی جی لگا کر کرنا چاہیے۔ کیا کام نہ کرنا اور کھانا بے غیرتی نہیں ہے؟

میں: بڑی بے غیرتی کی بات ہے۔

حمیدہ: اماں جان، میں نے تو آج تک نماز نہیں پڑھی، اور نہ مجھ کو نماز پڑھنی آتی ہے۔ اور تم تو رات دن میں دو ہی مرتبہ کھانا کھاتی ہو۔ میں نہیں معلوم کتنی دفعہ کھاتی ہوں۔ مجھ پر اللہ میاں ضرور خفا ہوں گے۔

یہ کہہ کر پھر حمیدہ روئی اور ڈر کے مارے دوڑ کر مجھ سے لپٹ گئی اور پھر میں نے سمجھایا کہ حمیدہ، ڈرو مت۔ اللہ میاں تم سے ناخوش نہیں ہیں۔ ابھی تم بچی ہو۔ تم کو نماز معاف ہے۔

حمیدہ: کھانا تو مجھ کو بھی سب کے برابر بلکہ سب سے اچھا اور زیادہ ملتا ہے۔

میں: ہاں، ملتا ہے۔ اور یہ بھی خدا کی مہربانی ہے کہ تم کو کام معاف کر رکھا ہے۔

حمیدہ: پھر اللہ میاں مجھ کو کیوں کھانا دیتے ہیں؟

میں: اس واسطے کہ جب بڑی ہو جاؤ تو اس کے بدلے کا بہت سا کام کرو۔

حمیدہ: لیکن کیا اب میں کام نہیں کر سکتی؟ دیکھو، میں تم کو پان دیتی ہوں۔ ابا جان کو پانی پلا دیتی ہوں۔ ننھی کو بہلا لیتی ہوں۔ کیوں اماں جان، کرتی ہوں؟

میں: ہاں، بوا، ہاں۔ تم تو میرے بہت کام کرتی ہو۔ پنکھا جھل دیتی ہو۔ دلیا ٹ دیتی ہو۔ سوئی میں دھاگا پرو دیتی ہو۔ جو چیز مجھ کو درکار ہوتی ہے، لے آتی ہو۔

حمیدہ: تو کیا میں اللہ میاں کا کوئی چھوٹا سا کام بھی نہیں کر سکتی؟ کیا نماز پڑھنا مشکل کام ہے؟ میں ابا جان کو دیکھتی ہوں، ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ کیا اتنا مجھ سے نہیں ہو سکتا؟

میں: اس کے سوا کچھ پڑھنا بھی ہوتا ہے جس کو تم کہتی تھیں کہ چپکے چپکے باتیں کرتے جاتے ہیں۔

حمیدہ: وہ کیا باتیں ہیں؟

میں: خدا کی تعریف اور اس کے احسانوں کا شکریہ، اپنے گناہوں کا اقرار اور ان کی معافی کی درخواست، اس کے رحم کی تمنا، اس کے فضل کی آرزو۔ بس یہی نماز ہے۔

حمیدہ: یہ سب باتیں اس طرح نہ کرتے ہوں گے جیسے ہم لوگ آپس میں گفتگو کرتے ہیں؟

میں: اور کیا۔

حمیدہ: مگر ابا جان تو کچھ اور ہی بولی بولنے لگتے ہیں۔

میں: وہ عربی زبان ہے۔

حمیدہ: وہ تو میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اماں جان، تم جانتی ہو؟

میں: نہیں، میں نہیں جانتی۔

حمیدہ: تو کیا خدا سے عربی زبان میں باتیں کرنی ہوتی ہیں؟

میں: نہیں۔ وہ سب کی بولی سمجھتا ہے۔ بلکہ وہ دلوں کے ارادوں اور طبیعتوں کے منصوبوں سے واقف ہے۔

حمیدہ: یہ کیونکر؟

میں: اس واسطے کہ وہ ہر وقت، ہر جگہ موجود ہے۔ کوئی جگہ، کوئی بات اس سے مخفی نہیں۔ سب کو دیکھتا ہے، سب کی سنتا ہے۔ اگلے پچھلے کل حالات اس کو معلوم ہیں۔

حمیدہ: (گھبرا کر) کیا اللہ میاں یہاں ہمارے گھر میں بھی بیٹھے ہیں؟

میں: گھر میں کیا، ہمارے پاس بیٹھے ہیں۔ مگر ہم ان کو دیکھ نہیں سکتے۔

یہ سن کر حمیدہ نے جلدی سے اوڑھنی اوڑھ لی اور سنبھل کر مؤدب ہو بیٹھی اور مجھ سے آہستہ سے کہا، "اماں جان، سر ڈھک لو۔" اس کے بعد حمیدہ پر کچھ ایسی ہیبت غالب آئی کہ میری گود میں تھوڑی دیر تک چپ پڑی رہی۔ آخر آنکھ لگی، سو گئی۔ میری ٹانگیں سن ہونے لگیں تو میں نے آہستہ سے چارپائی پر لٹا کر بیدارا کو پاس بٹھا دیا کہ دیکھ، ہاتھ رکھے رہیو۔ ایسا نہ ہو کہ لڑکی سوتے سوتے ڈر کر چونک پڑے۔ اور میں یہاں چلی آئی۔ مجھ کو حمیدہ کی باتوں سے ایسا ڈر لگا تھا کہ اندر سے کلیجا تھر تھر کانپا جاتا تھا۔

نصوح: کیوں؟ ڈر کی اس میں کیا بات تھی؟

فہمیدہ: میں کہتی تھی کہ ایسی چھوٹی سی لڑکی اور ایسی باتیں! کچھ اس کو ہو تو نہیں گیا؟

نصوح: مذہب میں بڑی عمدگی اور خوبی تو یہی ہے کہ وہ ایسی باتوں کی تعلیم کرتا ہے جن کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ مسائلِ دینی آدمیوں کے بنائے ہوئے معمے اور لوگوں کی گھڑی ہوئی پہیلیاں نہیں ہیں کہ ان کے حل کرنے اور بوجھنے کو بڑا غور و خوض درکار ہو۔ بلکہ اس حکیمِ برحق کے باندھے ہوئے اصول اور ٹھہرائے ہوئے ضابطے ہیں۔ اور اصول بھی کیسے سلیس آسان، ضابطے سہل اور بدیہی۔ نہیں معلوم انسان کی عقل پر کیا پتھر پڑے ہیں کہ اتنی موٹی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے، انواع و اقسام کے حیوانات، رنگ برنگ کے نباتات، ساری دنیا، تمام زمانہ، اتنا بڑا کارخانہ جس میں ایک پتا اٹھا کر دیکھو تو ہزارہا صنعتوں سے بھرا ہوا ہے، آخر خود بخود تو نہیں ہو گیا۔ ضرور کوئی اس کا بنانے والا ہے۔ اور پھر اس نے جو انسان کو ایک خاص صفت عقل عطا کی ہے، تو اس تخصیص کا کیا مطلب ہے۔ مگر انسان اس تصور کو اپنے ذہن میں آنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ساری خدائی خدا کی گواہی دے رہی ہے۔
برگِ درختانِ سبز در نظرِ ہوشیار
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار
حمیدہ نے کوئی بات اچنبھے کی نہیں کہی۔ اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ ہم میں نادان بچوں کے برابر بھی عقل نہیں۔ ڈوب مرنے کی جگہ ہے۔ زمین میں گڑ جانے کا مقام ہے۔ بلکہ حمیدہ کی باتوں کو تو میں ایک نیک فال اپنی کامیابی کی سمجھتا ہوں۔ افسوس ہے تم اس کو میرے پاس نہ لائیں۔ اس کی ہر ہر بات لوحِ دل پر کندہ کرنے کے قابل ہے۔ اور یہ باتیں اس نے کیا کہیں، خدا نے اس کے منہ سے کہلوائیں۔ بیٹی کیا ہے، سچ پوچھو تو ہمارے لیے ہدایت کا فرشتہ ہے۔ اور بچے جو معصوم کہلاتے ہیں، اسی سبب سے کہ ان کے دل لوثِ دنیا سے پاک اور تیرگیِ گناہ سے صاف ہوتے ہیں۔ الحمدللہ! کہ ایک سے تو اطمینان ہوا۔ اب یہ بتاؤ کہ اوروں کے واسطے کیا انتظام کرنا ہوگا؟

فہمیدہ: تم ہی کوئی تجویز سوچو۔

نصوح: میں نے تو یہ سوچا کہ لڑکیوں کو تم سنبھالو اور لڑکوں کو میں سمجھ لوں گا۔

فہمیدہ: بھلا میں بھی تو سنوں کیونکر سمجھ لو گے کہ وہی تدبیر میں بھی کروں؟

نصوح: میں پہلے چھوٹوں سے شروع کروں گا۔ امید ہے کہ جلد راہ پر آ جائیں گے۔ بڑوں کا مجھ کو کھٹکا ہے۔ یہ تو میں خوب جانتا ہوں کہ یہ نیا ڈھنگ دیکھ کر ان کے کان کھڑے ہوں گے۔ مگر نہیں معلوم کس سے کیا معاملہ پیش آئے۔ تم اتنا کرو کہ ایک تو میرا تمہارا دونوں کا کام ایک ساتھ شروع ہو۔ جب اندر باہر دونوں جگہ ایک ہی بات کا چرچا ہوگا تو کوئی یہ نہ کہہ سکے گا کہ دیکھو، خاص کر ہمارے پیچھے پڑے ہیں۔ اولاد اولاد سب برابر۔ ان سے کچھ تعرض نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ تمہاری ہر ادا سے یہ بات پیدا ہو کہ اس معاملے میں ہم دونوں کو ایک اہتمامِ خاص ہے کیونکہ ذرا سا ضعف بھی ظاہر ہوگا تو تمام تر انتظام درہم برہم ہو جائے گا۔

فہمیدہ: ان شاءاللہ اس کے خلاف نہ ہوگا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.