Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 12 sur 12

عودة نعيمة إلى بيتها، وموت كليم

Naima Comes Home; the Death of Kalim

فصل دوازدہم: نعیمہ خالہ کے یہاں رہ کر خود بخود درست ہو گئی۔ اس نے ماں باپ سے اپنی خطا معاف کرائی اور خدا نے اس کا مدتوں کا اجڑا ہوا گھر پھر آباد کیا۔ کلیم نے بہن کے گھر وفات پائی۔ قصے کا خاتمہ

المولوي نذير أحمد

Écriture
Taille

نعیمہ اور کلیم، اس اعتبار سے دونوں کی کچھ ایک ہی سی کیفیت تھی کہ زیادہ عمر ہو جانے کی وجہ سے عادتیں دونوں کی راسخ ہو چکی تھیں۔ بیاہے ہوئے اور صاحبِ اولاد دونوں تھے۔ کلیم کو بی بی سے کچھ انس نہ تھا تو نعیمہ کا شوہر سے بگاڑ تھا۔ نعیمہ اگرچہ کلیم کی طرح سب سے بڑی نہ تھی مگر بڑی بیٹی تھی۔ لیکن پھر بھی کلیم فولاد تھا تو نعیمہ اس کے مقابلے میں سیسا بلکہ رانگا سمجھنا چاہیے۔ کلیم مرد تھا، قسی القلب۔ نعیمہ عورت، نرم دل۔ کلیم باہر کا چلنے پھرنے والا، سینکڑوں آدمیوں سے تعارف، ہزاروں سے جان پہچان۔ نعیمہ بے چاری پردے کی رہنے والی۔ میل ملاپ سمجھو اور پیار اخلاص سمجھو تو ماں، بہن، خالہ، نانی، کنبے کی عورتوں سے، وہ بھی گنتی کی۔ کلیم اور نعیمہ، دل دونوں کے بیمار تھے، لیکن کلیم کے دل کو ذاتی روگ کے علاوہ صدہا بیماریاں اس قسم کی تھیں جو متعدی کہلاتی ہیں، یعنی ایک سے اڑ کر دوسرے کو لگ جاتی ہیں۔ پس کلیم کے مزاج میں چند در چند خرابیاں تھیں جو اس نے بری صحبتوں میں بیٹھ کر اپنے پیچھے لگائی تھیں۔ نعیمہ میں جو کچھ برائی تھی وہ ماں باپ کے لاڈ پیار، علم کی ناداری اور عقل کی کوتاہی کی وجہ سے تھی۔ کلیم دلیر، بے باک اور عیار و چالاک تھا۔ نعیمہ بے وقوف، بھولی، ڈرپوک، دل کی بودی۔

کلیم کے سر پر ایک سخت بلا مسلط تھی، یعنی اس کے جلیس و ہم نشین، اور نعیمہ اس سے بالکل محفوظ تھی۔ کلیم میں اس قسم کے بیہودہ عیوب تھے جن میں آج کل کے کم بخت نوجوان شریف زادے کثرت سے مبتلا پائے جاتے ہیں، یعنی عورتوں کی طرح درپئے تزئین رہنا اور بناؤ سنگھار رکھنا۔ پہر دن چڑھے سو کر اٹھے۔ ضرورتوں سے فارغ ہو کر آئینے کی تلاوت شروع کی تو دوپہر کر دی۔ اگرچہ رات کو مانگ اور پٹیوں کے لحاظ سے رومال باندھ کر اور سر کو الگ تھلگ رکھ کر سوتے، مگر آئینے میں دیکھا تو زلف کی پریشانی پر اس قدر تاسف کیا کہ سر اسحاق نیوٹن صاحب نے اپنے اوراق کی ابتری پر اتنا افسوس نہ کیا ہوگا۔ بارے اگر اصلاح کا دن نہ ہوتا تو گھنٹوں کی محنت میں، وہ بھی اپنے اکیلے کی نہیں، بال ٹھکانے لگے اور مانگ درست ہوئی، اور اگر کہیں اصلاح کا دن منحوس ہوا تو سارا دن گزر گیا۔ ایک وضعِ خاص پر سر جھکائے جھکائے گردن شل ہو گئی۔ داڑھی اور مونچھوں کے ترشوانے میں منہ کو لقوہ مار گیا۔ حجام کی آنکھوں کے تلے اندھیرا آنے لگا۔ مگر پھر بھی ان کا خط خاطر خواہ نہ بنا۔ کپڑے بدلنے کی نوبت پہنچی۔ ٹوپی قالب سے اتر کر آئی تو سر پیٹ لیا، مگر ایسی احتیاط سے کہ بال نہ بگڑیں۔ اس کے بعد انگرکھے کی چنٹ پر چیں بہ جبیں ہوئے۔ پھر تو ادھر انگرکھے کی آستینوں میں اور ادھر پائجامے کی تنگ مہریوں کے ساتھ ہاتھا پائی شروع ہوئی۔ مشکل یہ آ کر پڑی کہ کپڑا کشاکش کا متحمل نہیں۔ ذرا زور پڑا اور مسکا۔ اور ہاتھ پاؤں کہتے ہیں کہ ہم ان چیونٹی کے بلوں میں گھسنے کے نہیں۔ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ۔ بارے کاغذ کے سہارے سے ہولے ہولے پھسلاتے پھسلاتے کہیں پہروں میں جا کر مشکل آسان ہوئی۔

اب ملبوسِ خاص زیبِ تن ہوا، مگر کس کیفیت سے کہ تنگی اور چستی کے مارے مشکیں الگ کسی ہوئی ہیں، پاؤں علیحدہ جکڑے ہوئے ہیں، اور سارا بدن گویا شکنجے میں ہے۔ کھانسنا، چھینکنا، جمائی، انگڑائی تو درکنار، گھنڈی تکمے کے لحاظ سے اور بندوں کے پاسِ خاطر سے اچھی طرح سانس بھی نہیں لے سکتے۔ غور کرنے کی بات ہے کہ لباس سے غرضِ اصلی بدن ڈھانکنا اور آسائش پہنچانا ہے۔ اس میں کبر و نخوت کو دخل دے کر کیا ناس مارا ہے کہ غرضِ اصلی گئی گزری ہوئی اور تکلیف و ایذا گلے مڑھی گئی۔ مقصود تھی پردہ پوشی۔ ان بزرگ ذات نے اس میں تراش خراش اور وضع داری کو ایسا شامل کیا کہ کپڑوں نے اندرونِ دل تک لفافہ ادھیڑ کر رکھ دیا۔ اب ان کے حالات لکھنے کی ضرورت نہیں۔ صورت ببیں، حالش مپرس۔ کلیم بھی ایک طرح کا چھیلا تھا، بدوضع، آوارہ، جس کے اطوار و عادات جابجا لکھے جا چکے ہیں۔ اس خصوص میں نعیمہ شرفا کی بہو بیٹیوں کی طرح کَالدُّرِّ الْمَكْنُوْنِ محفوظ تھی۔ اس میں اور کلیم میں بے مبالغہ فرشتہ اور شیطان کی نسبت سمجھنی چاہیے۔ غرض نعیمہ کا روبراہ ہونا دشوار ضرور تھا مگر نہ کلیم کی طرح محال۔ مشکل البتہ تھا لیکن نہ کلیم کی مانند متعذر۔

خالہ کے یہاں ڈولی سے اتری تو جونہی خالہ کی شکل دور سے نظر پڑی کہ بھوں بھوں رونا شروع کیا۔ دیہات کی مستورات کا تو یہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی مہمان یا مسافر بہت دنوں کے بعد آتا ہے تو اس سے مل کر رونے لگتی ہیں۔ اس واسطے کہ اس وقت ان کو مفارقت کی سختیاں اور تکلیفیں اور یادگاری اور انتظار کی زحمتیں یاد آتی ہیں۔ مگر دہلی کا یہ دستور نہیں ہے۔ یہاں کی عورتیں اس حالت میں روتی ہیں جب کہ طرفین میں سے کسی کا عزیز و قریب زمانِ جدائی میں مر گیا ہو۔ ورنہ یوں مہمان و مسافر کے آنے پر رونا دلی والیاں منحوس سمجھتی ہیں۔ گویا خالہ کو دیکھ کر نعیمہ کے دل میں جوش پیدا ہو گیا تھا، مگر اس کو ضبط کرنا چاہیے تھا۔ لیکن نہ تو نعیمہ کو اتنی عقل تھی کہ اتنی بات سمجھتی، اور شاید سمجھتی بھی ہو، تاہم دل پر اس قدر ضابطہ نہ تھی۔ خالہ نے جو اس کو روتے دیکھا، سخت تعجب کیا۔ بھانجی کی عادت سے واقف تھیں۔ سمجھ تو گئیں کہ ماں سے روٹھ آئی ہے، اسی کا یہ رونا ہے۔ لیکن جلدی سے دوڑ کر بھانجی کو گلے لگا لیا اور پیار چمکار کر بہت کچھ تسلی دی اور سمجھایا کہ اللہ رکھے بیٹے کی ماں ہوئیں۔ اب تمہاری عمر بچوں کی طرح رونے کی نہیں ہے۔ ہمسائے کی عورتیں سنیں گی تو کیا کہیں گی۔ جانے دو۔ بس کرو۔ طبیعت کو سنبھالو۔ جی کو مضبوط رکھو۔

نعیمہ: اماں جان نے مجھے مارا۔ اوں اوں۔

خالہ: مارا تو کیا ہوا۔ ماں باپ ہزار بار پیار کرتے ہیں تو نصیحت کے واسطے مار بھی بیٹھتے ہیں۔ ماں باپ کی مار، مار نہیں، سنوار ہے۔ تمہاری نانی، خدا جنت نصیب کرے، بڑی ہتھ چھٹ تھیں۔ تم اس بات کو سچ ماننا کہ اب ہم ان کی مار کو ترستے ہیں۔ ماں باپ کی مار کیا ہر ایک کو نصیب ہوتی ہے؟ جنھیں خدا کو بہتر کرنا منظور ہوتا ہے، وہ ماں باپ کی مار کھاتے ہیں۔ بھلا تم نے اس بات کا خیال کیا؟ ہوش میں آؤ تو دیکھو کہ تمہارا بیٹا بھی تمہارے رونے پر ہنستا ہے۔ (ننھے میاں کی طرف مخاطب ہو کر) کیوں جی، بڑے میاں، تم کچھ اپنی اماں جان کو نہیں سمجھاتے؟

بچہ: آغوں۔

خالہ: آغوں غوٹے۔ دودھ پی پی کر میاں ہوئے موٹے۔

غرض خالہ نے نعیمہ کے رونے کو باتوں باتوں میں ٹال دیا۔ چندے نعیمہ جھینپتی سی رہی، مگر پھر تو ہنسی خوشی رہنے لگی۔ اگرچہ خالہ نے بھانجی سے رونے کا سبب مطلقاً دریافت نہیں کیا، مگر موقع سے صالحہ کو ایک طرف لے جا کر ساری حقیقت پوچھی، اور جب اس کو بہن کے گھر دینداری کی چھیڑ چھاڑ کا ہونا معلوم ہوا تو اس کو اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان میں نہیں آ سکتی۔ اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جب تک نعیمہ کو پکی دیندار نہ بنا دے، گھر سے رخصت نہ کرے۔ خالہ کے گھر رہ کر نعیمہ کی عادتوں کا خود بخود درست ہو جانا عمدہ مثال ہے۔ اس کی صحبت سے بڑھ کر تعلیم کا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ ماں کے گھر چند خاص باتیں نعیمہ کی اصلاح میں خلل انداز تھیں۔ اول تو اس نے ماں اور تمام خاندان کو بے دینی کی حالت میں مدتوں زندگی بسر کرتے دیکھا تھا، پس بالضرور ان کی نصیحت کو وہ وقعت نہیں ہو سکتی تھی جو یہاں خالہ کی باتوں کو تھی۔ دوسرے، ماں کے گھر بھائی بہن، نوکر چاکر، پاس پڑوس والے کتنے لوگ تھے جو نعیمہ کو ابتدائے عمر سے ایک طرزِ خاص پر دیکھ چکے تھے۔ نعیمہ کو ان کے روبرو طرزِ جدید، اور جدید بھی کیسا کہ طرزِ سابق سے مخالف، اختیار کرتے ہوئے عار آتی تھی۔ تیسرے، ماں کے یہاں اتفاق سے اس کو ایک سختی بھی پیش آ گئی تھی، اور وہ سختی اس حالت کو کسی طرح مناسب نہ تھی۔ چوتھے، اس کو ماں پر بڑا ناز تھا، یعنی ان کی خدمت میں شدت سے گستاخ تھی اور ان کے کہنے کی مطلق پروا نہ کرتی تھی۔ خالہ کے یہاں آ کر رہی تو کسی نے بھول کر بھی اس سے تذکرہ نہ کیا کہ دینداری بھی کوئی چیز ہے یا خدا کی پرستش بھی انسان کا ایک فرض ہے۔ مگر تھا کیا کہ چھوٹے بڑے سب ایک رنگ میں رنگے تھے، صِبْغَةَ اللّٰهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً، اور ان کی تمام حرکات و سکنات شانِ دینداری لیے ہوئے تھیں۔ ان کی نشست و برخاست، رفتار و گفتار، قول و فعل، ان کی بات چیت، ان کا میل جول، ان کا لڑائی جھگڑا، ان کا کھانا پینا، ان کی خوشی، ان کا رنج، کوئی ادا ہو، وہ ایک نرالی دیندارانہ ادا تھی۔

نعیمہ کو خالہ کا گھر ایک نئی دنیا معلوم ہوتا تھا۔ اگرچہ ابتداً وہ یہاں کے اوضاع کو حقارت سے دیکھتی تھی، لیکن جوں جوں وہ ان دستورات سے مانوس ہوتی گئی، ان کی عمدگی اور بہتری اس کے ذہن میں بیٹھتی گئی، اور اس کو ثابت ہوا کہ بے دین زندگی محض ایک بے اطمینان، بے سہارا زندگی ہے۔ اگر رنج و ایذا ہے تو کوئی وجہِ تسلی، کوئی ذریعۂ تشفی نہیں۔ اور اگر آرام و خوشی ہے تو اس کو ثبات و قرار نہیں۔ فاقہ ہے تو صبر نہیں۔ کھانا ہے تو سیری نہیں۔ بدی کی سزا نہیں۔ نیکی کی جزا نہیں۔ بے دین آدمی ایسا ہے جیسے بے نکیل کا اونٹ، بے ناتھ کا بیل، بے لگام کا گھوڑا، بے ملاح کی ناؤ، بے ریگولیٹر کی گھڑی، بے شوہر کی عورت، بے باپ کا بچہ، بے تھیوے کی انگوٹھی، بے لالی کی مہندی، بے خوشبو کا عطر، بے باس کا پھول، بے طبیب کا بیمار، بے آئینے کا سنگھار۔ یعنی دین نہیں تو دنیا و مافیہا سب ہیچ اور عبث اور فضول ہے، پوچ اور لچر ہے۔

نعیمہ نے رفتہ رفتہ خود بخود خالہ کی تقلید شروع کی۔ وہ ہمیشہ پہر سوا پہر دن چڑھے سو کر اٹھتی تھی، اور یہاں گھر بھر چھوٹے بڑے منہ اندھیرے اٹھ، ضرورتوں سے فارغ ہو، عبادتِ الٰہی میں مصروف ہوتے تھے۔ گھر بھر کا اٹھنا، اور وہ بھی نرا اٹھنا اور چارپائیوں پر لدے بیٹھے رہنا نہیں، بلکہ چلنا پھرنا، کام کاج کرنا۔ ہر چند نعیمہ کی وجہ سے احتیاط کی جاتی تھی، مگر کہاں تک، کچھ نہ کچھ آہٹ آواز ہوتی ہی تھی۔ بعد چندے نعیمہ کی آنکھ بھی سب کے ساتھ کھلنے لگی، اور جاگی تو ممکن نہ تھا کہ اس کو اپنی حالت پر تنبیہ نہ ہو۔ اس واسطے کہ وہ اپنے تئیں دیکھتی تھی کہ بچے کی نجاست میں لتھڑی ہوئی پڑی انگڑائیاں لے رہی ہے۔ سست، اداس، مضمحل، نیند کے خمار سے کسلمند۔ اور دوسرے ہیں کہ چاق و چوبند، چست اور چالاک، تازہ دم، پاک صاف، خدا کی درگاہ میں شکر کر کے سجدے کر رہے ہیں کہ رات امن چین سے کٹی، اور دعائیں مانگ رہے ہیں کہ بارالٰہا! ہم کو روزی دے، اتنی کہ فراغت سے کھائیں، اور رزق دے ایسا کہ دوسرے کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں، حاجت نہ لے جائیں۔ بار خدایا! بیماروں کو شفا، گمراہوں کو ہدایت، قیدیوں کو رہائی، مسافروں کو امن، بھوکوں کو روزی، قحط زدوں کو ارزانی، تشنہ کاموں کو پانی، مایوسوں کو امید، ناکاموں کو کامیابی کی نوید، مفلسوں کو قناعت، تونگروں کو سخاوت، بے اولادوں کو اولاد، نامرادوں کو مراد، جاہلوں کو علم، عالموں کو عمل، زاہدوں کو اخلاص، حاکمِ وقت کو توفیقِ عدل و داد، رعیت شاد، ملک آباد، کیا اپنے کیا غیر، کل جہان کی خیر۔

متنبہ ہوئے پیچھے نعیمہ کی اصلاح ہوئی ہوائی تھی۔ تھوڑے ہی دنوں میں وہ دین دار خدا پرست بن گئی۔ نماز روزے کی پابند، وعظ و نصیحت کی دلدادہ، منکسر، متواضع، ملنسار، صلح جو، نیک خو، شائستہ۔ باوجودیکہ نعیمہ ایک آسودہ حال گھر کی بیٹی تھی اور اس نے ناز و نعمت میں پرورش پائی تھی اور ماں باپ کو اس کی دلجوئی اور خاطر داری ہمیشہ ملحوظ رہتی تھی، بایں ہمہ وہ اپنے مزاج، اپنی عادات، اپنے خیالات کے پیچھے سدا ناخوش رہا کرتی تھی، اور چونکہ طبیعت میں برداشت مطلق نہ تھی، ذرا سی تکلیف کو مصیبت کا پہاڑ بنا لیتی۔ اگر کسی نوکر نے مرضی کے مطابق کوئی چھوٹا سا کام نہ کیا، یا مثلاً کھانے میں نمک پھیکا یا تیز ہو گیا، یا روٹی کو چتی لگ گئی، یا کپڑے کی سلائی اس کی خاطر خواہ نہ ہوئی، یا بچہ کسی وقت رونے لگا، ان میں سے ایک ایک بات کا سارے سارے دن اس کو جھگڑا لگ جاتا تھا۔ اور جو کہیں خدا ناخواستہ یونہی اس کی طبیعت علیل سی ہو گئی، یا اس کو اپنی خانہ ویرانی کا کبھی خیال آ گیا، تو ہفتوں گھر بھر کا عیش منغص ہوا۔ اب خیالاتِ دینداری کے ساتھ اس کو عافیت اور اطمینان کا مزہ ملا۔ دنیوی کوئی تکلیف نہ تھی جو اس کو ایذا دیتی ہو۔ مگر ہاں، ماں باپ کی نارضامندی اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی اور ایک ایک لمحہ اس پر شاق تھا۔

اسی اثنا میں خدا نے اپنے فضل سے نعیمہ کی خانہ آبادی کی صورت بھی نکال دی۔ نعیمہ کا شوہر بڑا دین دار تھا۔ اس کو بی بی ملی نعیمہ، جو دین سے مطلق بے بہرہ اور خدا پرستی سے کلیتہً بے نصیب تھی۔ ہر چند وہ نعیمہ کے حسن و صورت پر فریفتہ تھا، مگر اختلافِ عادات، اختلافِ عقائد ایک ایسا پردہ تھا کہ وہ دونوں میں اتحاد کے پیدا ہونے کا مانع تھا۔ ساس نندیں میاں بیوی میں اتنی ناموافقت کا سہارا پا کر ایسی بے رخ ہوئیں کہ نعیمہ کا رہنا دشوار کر دیا۔ اب نعیمہ کی تبدیلِ حالت کے تھوڑے ہی دن بعد صالحہ کے چچا کے گھر شادی کی تقریب پیش آئی۔ نعیمہ کو دہرا بلاوا آیا، ایک تو صالحہ کے رشتے سے، دوسرا سسرال کی طرف سے، اور صالحہ کی چچا زاد بہن اور نعیمہ دیورانی جٹھانی بھی تھیں۔ شادی کے مجمع میں اور عورتوں نے تو اپنی رات گیت گانے اور لایعنی باتیں بنانے میں ضائع کی، اور نعیمہ نے نمازِ عشاء سے فارغ ہو کر صلوٰۃ التسبیح کی نیت باندھی تو آدھی رات ہو گئی۔ پھر تھوڑی دیر سو کر تہجد پڑھنے کھڑی ہوئی تو صبح کر دی۔ نعیمہ کی شب بیداری اور تہجد گزاری کی خبر جب اس کے شوہر نے سنی تو غایت درجے محظوظ ہوا۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی سسرال آتا جاتا تھا اور اپنی ذات سے بی بی کا بڑا خیال رکھتا تھا، لیکن بی بی کے بے دین ہونے کی وجہ سے اس کو اپنی ماں بہنوں کے مقابلے میں اس کی طرفداری کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ اب جو اس نے بی بی کا دیندار ہونا سنا تو ڈولی لے کر دوڑا ہوا سسرال آیا۔

نعیمہ ماں کے رضامند کرنے کے لیے بیتاب تو تھی ہی، شادی میں جو دونوں ایک جگہ جمع ہوئیں، نعیمہ دور سے ماں کو دیکھ کر دوڑ کر قدموں پر گر پڑی۔ ادھر فہمیدہ باقتضائے مہرِ مادری من جانے کے لیے بہانہ ڈھونڈتی تھی۔ بیٹی کو جھکتے دیکھ جلدی سے اٹھا گلے لگا لیا، اور جب بہن اور بھانجی سے نعیمہ کا حال سنا اور رات کے وقت اس کو خشوع و خضوع سے عبادتِ الٰہی کرتے دیکھا تو اس نے نہ صرف بیٹی کی خطا سے درگزر کی بلکہ پہلے سے زیادہ ریجھ ریجھ کر اس کو پیار کیا، اور جب شادی کے مہمان رخصت ہوئے تو بہن بھانجی کا بہت بہت شکریہ ادا کر کے بیٹی کو اپنے ساتھ گھر لوا لائی اور محلے کی بیبیوں کو جمع کر کے ایک ایک سے اس کو ملوایا۔ ادھر نعیمہ ساری بیبیوں میں کشادہ پیشانی سے اپنے قصور کا اظہار کر کے کبھی تو ماں کے پاؤں پر سر رکھ دیتی تھی اور کبھی حمیدہ کو گود میں لے کر پیار کرتی تھی اور اس کی پیشانی پر جہاں کیل کا داغ تھا، بوسے دیتی تھی۔ کبھی بیدارا کو بلا کر پاس بٹھاتی اور دولتی کے بدلے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑتی تھی۔ آج شام کو نعیمہ ماں کے گھر آئی۔ اگلے دن سویرے اس کا میاں ڈولی لے آ موجود ہوا۔ نعیمہ چندے سسرال آ کر رہی تو نہ صرف میاں بلکہ ساس نندیں، سارا کنبہ اس کی نیکی کا مرید و معتقد تھا۔

نعیمہ کو اپنے گھر آئے دوسرا مہینا تھا کہ کلیم اس حالت سے کہ اوپر بیان کی گئی، بہن کے یہاں پہنچا۔ بھائی کی ایسی ردی حالت دیکھ کر بہن پر، اور بہن بھی کیسی خدا ترس، جو صدمہ ہوا قابلِ بیان نہیں۔ کلیم اس کیفیت سے بہن کے گھر رہا کہ ایک چھوڑ دو دو ڈاکٹر، شہر کے نامی جراح مل کر اس کا علاج کرتے تھے، مگر اس کے زخموں کا بگاڑ کم نہ ہوتا تھا۔ صبح و شام تھوڑی دیر کے لیے کبھی کبھی اس کو ہوش آ جاتا تھا، اور ضرور اس نے سمجھا ہوگا کہ کہاں ہے اور کون لوگ تیمارداری کر رہے ہیں، لیکن اس کی ناتوانی اور نقاہت دیکھ کر کوئی اس سے کسی قسم کا تذکرہ نہیں کرتا تھا۔ باتیں کرتے بھی تھے تو تسلی و تشفی کی۔ یہاں تک کہ زخموں کا فساد انتہا کو پہنچ گیا اور اس کی مدتِ حیات پوری ہو چکی۔ مرنے سے پہلے یکایک ایسی اس کی حالت بہتر ہو گئی کہ وہ اچھی خاصی طرح آپ سے آپ اٹھ کر بیٹھ گیا، اور خلافِ عادت اس نے فرمائش کر کے دو گوشہ پلاؤ پکوایا، اور تندرستوں کی طرح گھر والوں کے ساتھ بہت دیر تک باتیں پکار پکار کر کرتا رہا۔ اس نے اپنے تمام حالات، جب سے کہ وہ گھر سے نکلا اور جب تک کہ وہ مجروح ہو کر پھر دہلی آیا، ذرا ذرا بیان کیے، اور بھائی بہن ایک ایک کر کے سب کا حال پوچھا۔ اس وقت وہ اپنے افعال پر تاسف کر کے اتنا رویا کہ اس کو غشی آ گئی۔ بڑی دیر کے بعد ہوش میں آیا تو اس نے ماں سے کہا کہ آج کی غیر معمولی توانائی جو تم مجھ میں دیکھتی ہو، میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ میری آخری توانائی ہے۔ خون جو مدارِ حیات ہے، مطلق میرے بدن میں باقی نہیں رہا، بلکہ جانتا ہوں کہ شاید میری ہڈیوں کے اندر کا گودا بھی پگھل پگھل کر فنا ہو چکا ہے۔ گو تم لوگ میری تقویت کی نظر سے تسلی و تشفی کی باتیں کرتے ہو، مگر میں سمجھ چکا ہوں کہ اس مرض سے جاں بر ہونے والا نہیں۔ میں اپنے مرنے کو ترجیح دیتا ہوں اس نالائق زندگی پر جو میں نے بسر کی۔ اگرچہ میں نے اپنی زندگی خرابی اور رسوائی اور فضیحت اور والدین کی نارضامندی اور خدا کی نافرمانی میں کاٹی، اور ایسی ایسی ہزاروں لاکھوں زندگیاں ہوں تو بھی اس نقصان کی تلافی کی امید نہیں جو اس چند روزہ زندگی میں مجھ کو اپنی بدکرداری سے پہنچا، مگر مجھ کو تین طرح کی تسلی ہے: اول یہ کہ میں مرتا ہوں تائب، نادم، پشیمان، متاسف، خجل۔ دوسرے یہ کہ سفرِ آخرت شروع کرتے وقت ایسے لوگوں میں ہوں جو اس راہ کے منزل شناس اور میرے دل سوز اور ہمدرد اور شفیق اور مہربانِ حال ہیں۔ تیسرے یہ کہ غالباً میری زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عبرت ہوگی، کہ اس صورت میں گو اپنی زندگی سے میں خود مستفید نہیں ہوا، لیکن اگر دوسروں کو کچھ نفع پہنچے تو میں ایسی زندگی کو رائگاں اور عبث نہیں کہہ سکتا۔ ع
من نہ کردم، شما حذر بکنید
اب دنیا میں مجھ کو سوائے اس کے اور کوئی آرزو باقی نہیں کہ میں ابا جان سے اپنا قصور معاف کرا لوں۔

یہ کہہ کر اس پر بڑے زور کی رقت طاری ہوئی۔ بے چارے کی طاقت تو مدتوں سے سلب ہو چکی تھی، رونا تھا کہ بے ہوش ہو گیا، اور اس بیہوشی میں اس کا سانس اکھڑ گیا اور لگا ہاتھ پاؤں توڑنے۔ نبضیں چھوٹ گئیں، ہچکیاں لینے لگا، ناک کا بانسا پھر گیا۔ عورتیں تو یہ حالت دیکھ کر رونے پیٹنے لگیں۔ باہر مردانے سے نصوح دوڑا آیا اور عورتوں کو علیحدہ کر کے جزع و فزعِ نامشروع سے منع کیا اور صبرِ جمیل کی تلقین کی، اور بیٹے کے سرہانے بیٹھ کر یٰسین پڑھنی شروع کی۔ منہ میں شربت ٹپکایا اور اس کو قبلہ رو لٹایا۔ کلمہ پڑھ کر سنایا۔ شربت کا حلق سے اترنا تھا کہ کلیم نے آنکھیں کھول دیں، اور باپ کو نگاہِ حسرت آلود سے دیکھ کر اس نے ہاتھ جوڑے، اور اسی حالت میں اس نے جاں بحق تسلیم کی۔ ع
حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا

اس میں شک نہیں کہ اگر کلیم بچ جاتا تو وہ نیکی اور دین داری میں اپنے سب بھائی بہنوں پر سبقت لے جاتا۔ اس نے مصیبتیں اٹھا کر اپنی رائے کو بدلا تھا اور آفتیں جھیل کر تنبہ حاصل کیا تھا۔ پس وہ مجتہد تھا اور دوسرے مقلد۔ وہ محقق تھا اور دوسرے ناقل۔ اس کا سا انجام خدا سب کو نصیب کرے۔ کلیم کا جوان مرنا ایک ایسی بھاری موت تھی کہ ماں باپ تو دونوں گویا اس کے ساتھ درگور ہو گئے، بھائیوں کا بازو ٹوٹ گیا، بہنوں کے سر سے ایک بڑا سرپرست اٹھ گیا، لیکن بمقتضائے دینداری سب نے صبرِ جمیل کیا اور ہر شخص نے بجائے خود عبرت پکڑی۔ کلیم کے ساتھ نصوح کی وہ تمام کوششیں بھی تمام ہوئیں جو اس کو اصلاحِ خاندان کے لیے کرنی پڑی تھیں، کیونکہ کلیم مرحوم کے سوائے سب چھوٹے بڑے اس کی رائے میں آ چکے تھے۔ یا تو ابتداً علیم کے انٹرنس پاس کرنے کے لالے پڑے تھے، یا اب اس نے بی۔ اے۔ پاس کیا۔ ایک سے ایک عمدہ نوکری گھر بیٹھے اس کے لیے چلی آتی تھی، مگر اس نے اپنی نیک نہادی کی وجہ سے سررشتۂ تعلیم کو یہ سمجھ کر پسند کیا کہ ہم وطنوں کو نفع پہنچانے کا قابو ملے۔ سلیم بڑا ہو کر طبیب ہوا تو کیسا کہ آج جو دلی کے بڑے نامی طبیب ہیں، وہ اس کی بیاض کے نسخوں سے مطب کرتے ہیں۔ رہی ولیۂ مادر زاد حمیدہ، قرآن اس نے حفظ کیا، حدیث اس نے پڑھی، اور اگر سچ پوچھیے تو شہر کی مستورات میں جو کہیں لکھنے پڑھنے کا چرچا ہے، یا عورتیں خدا رسول کے نام سے واقف ہیں، یہ سب بی حمیدہ کی بدولت۔

جَزَاهَا اللّٰهُ عَنَّا خَيْرَ الْجَزَاءِ۔

تمت بالخیر

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.