Urdu in Translation
搜索

第 11 章,共 12 章

Kalim part pour Daulatabad

Kalim Goes to Daulatabad

فصل یازدہم: کلیم نوکری کی تلاش میں دولت آباد گیا اور فوج میں بھرتی ہو گیا۔ لڑائی میں زخمی ہوا اور مردوں کی طرح، چار کہاروں پر لد کر، دہلی آیا

Deputy Nazir Ahmad

文字
字号

یہ ایک چھوٹی سی ہندوستانی ریاست ہے۔ البتہ کوئی پانچ چھ لاکھ روپیہ کا محاصل اس میں ہو سکتا تھا۔ لیکن ایک نوجوان، ناتجربہ کار مسند نشین ہوا۔ خوشامدی صلاح کار، لچے مصاحب موقع پا کر آ جمع ہوئے اور دولت آباد کو چھوٹا لکھنؤ بنا دیا۔ جہاں جہاں اس مذاق کے لوگ تھے، سب کو فری میسن کی طرح ریاست دولت آباد کے حالات معلوم تھے۔

کلیم بھی سن سن کر دولت آباد کا ایسا مشتاق تھا جیسے زاہدِ مرتاض جنت کا۔ غرض کلیم دو منزلہ طے کرتا ہوا دولت آباد پہنچا، اور قبل اس کے کہ کسی سے تعارف پیدا کرے، اس نے اپنا سامانِ ظاہر درست کر پھر ایک مرتبہ سرائے میں امیری ٹھاٹھ لگا دیے۔ مدحِ رئیس میں قصیدہ تو اس نے سفر ہی میں کہنا شروع کر دیا تھا۔ صرف عرضِ حال اور قطعۂ دعائیہ باقی تھا۔ جلدی جلدی تمام کر اسی قصیدے کو ذریعۂ تقریب قرار دے درِ دولت پر جا کر حاضر ہوا۔ مگر شامتِ اعمال اور باپ کی ناخوشی کا وبال اس کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہونے دیتا تھا۔ اس کے دولت آباد پہنچنے سے چند روز پیشتر یہاں بساط الٹ چکی تھی۔ بدنظمیِ ریاست کی خبریں صاحب ریذیڈنٹ کو پہنچیں اور انھوں نے بذاتِ خاص دولت آباد پہنچ کر رئیس سے کل اختیارات منتزع کر، امورِ ریاست کا انتظام ایک کمیٹی کو تفویض کیا، جس میں ریاست کے چند قدیم نمک خوار تھے کہ وہ رئیس کی بے اعتدالیاں دیکھ کر ترکِ خدمت کر کے گھر بیٹھ رہے تھے۔ اور اس کمیٹی کے میرِ مجلس انتظام الدولہ مدبر الملک نواب بیدار دل خان بہادر والیِ عافیت گڑھ قرار دیے گئے کہ وہ رشتے میں رئیسِ دولت آباد کے ماموں بھی تھے اور ان کا حسنِ انتظام ان اطراف میں ضرب المثل تھا، اور خود صاحب ریذیڈنٹ بہادر بھی بلا ناغہ ماہ بماہ اپنی شرکت سے کمیٹی کی آبرو افزائی کیا کرتے تھے۔ رئیس کو مصارفِ ضروری کے لیے کمیٹی سے کچھ روپیہ ملتا تھا۔ نابکار مصاحب ایک ایک کر کے نکالے جا چکے تھے۔ غرض جس چاٹ پر کلیم دوڑا آیا تھا، وہ بات اب باقی نہ تھی۔ ناواقفیت کی وجہ سے کلیم نے اطلاع کرائی تو فوراً قاصد کی طرح طلبی آئی۔ یہ تو اس توقع سے خوشی خوشی اندر گیا کہ بانکے ٹیڑھے، رنگیلے چھبیلے، وضعدار لوگ دیکھنے میں آئیں گے۔ مگر جا کر دیکھتا ہے کہ بڑے بڑے ریش ائیل مولوی پگڑ اور عمامے باندھے بیٹھے ہیں۔ کوئی درس دے رہا ہے۔ کوئی کتاب دیکھ رہا ہے۔ کوئی اور کام میں مصروف ہے۔ اندر قدم رکھتے ہی کلیم نے یہ برجستہ مطلع پڑھا:
جاتے تھے جستجوئے بت خانہ و صنم میں
بہکے تو جا کے نکلے ہم بھی کہاں حرم میں

مولویوں کی شکل دیکھ کر قریب تھا کہ کلیم اس طرح بھاگ کھڑا ہو جیسے لاحول سے شیطان۔ مگر اس کو خیال ہوا کہ امیروں کے کارخانے ہیں۔ عجب کیا ہے کہ یہ کوئی خانقاہ ہو۔ ع
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
چلو، ذرا حال تو دریافت کریں۔ بارے قریب جا کر اس نے ایک پیر مرد کو "مجرا عرض کرتا ہوں" کہہ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔ لفظِ مجرا سن کر ان حضرت کے کان کھڑے ہوئے اور فوراً آنکھ سے عینک اتار سیدھے ہو کر کلیم کو دیکھنے لگے۔ تب اس نے زائد از رکوع جھک کر ان کو سلام کیا، یعنی اپنا مجرا دکھایا۔

اس بزرگ نے فرمایا: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ، مِنْ أَيْنَ أَنْتَ، لِيْ أَرْفَالِكَ، أَحْسَنَ اللّٰهُ حَالَكَ۔

کلیم: حضرت قبلہ، میں فہمِ عربی سے قاصر ہوں۔

مولوی صاحب: کہاں سے اتفاقِ مجی ہوا؟

کلیم: دہلی سے۔

مولوی صاحب: تقریب؟

کلیم: امتحانِ بخت اور ہنر آزمائی نصیب۔

مولوی صاحب: علم و عمل؟

کلیم: مدحت طرازیِ اربابِ دول۔

مولوی صاحب: غرض و غایت؟

کلیم: تحصیلِ جاہ و ثروت۔

تب اس بزرگ نے مختصر طور پر کلیم کو وہاں کے حالات سے مطلع کر دیا اور کہا کہ رئیس لاشے محض ہے، وہ بھی لا بشرطِ شے نہیں، بلکہ بشرطِ لاشے۔ اور بے اجازتِ خاص حضرت مولانا صدرِ اعظم کے کسی کو اس تک پہنچنے کا امکان نہیں۔

کلیم: صدرِ اعظم کہاں تشریف رکھتے ہیں؟

مولوی صاحب: دیکھو، یہیں کہیں ہوں گے۔

کلیم: ان کی شناخت؟

مولوی صاحب: سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ۔

کلیم: میں نہیں سمجھتا۔

مولوی صاحب: ایک بڈھے مخنی سے آدمی ہیں۔ نیلی لنگی اوڑھے ہوئے، حجرۂ شمالی کے صحن میں طلباء کو درس دے رہے ہوں گے یا فیصلِ خصومات میں مصروف ہوں گے۔

کلیم: ان کو کیا خدمت سپرد ہے؟

مولوی صاحب: جیسے حرفِ ندا اَدْعُوْ کا قائم مقام ہوتا ہے، اسی طرح مولوی صاحب، دَامَ اللّٰهُ فُيُوْضَهُمْ، نائب الرئیس ہیں۔

کلیم: میں ان کی خدمت میں جا سکتا ہوں؟

مولوی صاحب: لَا بَأْسَ بِهٖ (کچھ مضائقہ نہیں)۔

غرض کلیم صدرِ اعظم کی خدمت میں گیا تو وہ اس کی نظر میں کچھ بھی نہ جچے۔ یہ سمجھتا تھا کہ وزیرِ اعظم اور نائب الرئیس ہیں تو بڑے کر و فر کے ساتھ ہوں گے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ ولایتی نما ایک بڈھے سے مولوی ہیں۔ وراثت کا ایک جھگڑا ان کے روبرو پیش ہے اور بیٹھے اپنے ہاتھ سے حسابِ مناسخہ لگا رہے ہیں۔ کلیم کو ایک اجنبی صورت دیکھ کر انھوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا کہ ان لوگوں سے فارغ ہوں تو آپ سے بات کروں۔ جب تک مقدمہ پیش رہا، کلیم غور سے دیکھتا اور سنتا رہا۔ مولوی صاحب بلا کی موشگافیاں کر رہے تھے۔ تب تو کلیم نے سمجھا کہ واقع میں یہ شخص بڑے پائے کا آدمی ہے اور منصبِ وزارت کے قابل ہے۔ بارے جب مقدمہ طے ہو چکا تو صدرِ اعظم صاحب کلیم کی طرف مخاطب ہوئے: "ہاں، حضرت، فرمائیے؟"

کلیم: بندہ ایک غریب الوطن ہے۔ رئیس کی جود و سخا کا شہرہ سن کر مدت سے مشتاق تھا۔ یہ حال ہے، باقی میری صورت سوال ہے۔

صدرِ اعظم: آپ کی سماعت صحیح، لیکن اگرچہ جود صفتِ محمود ہے مگر اعتدال شرط ہے۔ شامتِ اسراف سے عشکی باقی نہ رہا۔ فرنگیوں نے حفظِ ریاست کی نظر سے رئیس کو ممنوع التصرفات، مسلوب الاختیارات کر رکھا ہے۔

کلیم: میں طالبِ گنجینہ نہیں، سائلِ خزینہ نہیں۔ ع
صدف کو چاہیے کیا؟ ایک قطرۂ چشمۂ یم سے
بجھا لیتا ہے اپنی پیاس کام غنچہ شبنم سے

کلیم نے اس طرح کڑک کر بے دھڑک شعر پڑھا کہ تمام حاضرین اس کی یہ حرکت خارج از سیاقِ ادب دیکھ کر متعجب ہوئے۔ صدرِ اعظم صاحب کا منصب، ان کا علم و فضل اور ان کی پیروی اور ہیبت جوان کی تہذیب کو لازم تھی، یعنی صدرِ اعظم صاحب کی حالتِ مجموعی، اور اس سے قطع نظر خود کلیم کی حالت اس کی مقتضی تھی کہ وہ پاسِ ادب ملحوظ رکھتا۔ مگر وہ ایسی ہی بے باکی کو کچھ ہنرِ لسانی اور صفتِ حاضر جوابی سمجھتا تھا۔ شعر اس کا تکیہ کلام تھا۔ بات کہتا تو مقفیٰ، کلام کرتا تو موزوں۔ گفتگوئے روزمرہ میں بھی اس کی یہی کیفیت تھی، اور جو کوئی کبھی اس کو ٹوکتا تو وہ جواب دیتا کہ ع
شاعری تو شعار ہے اپنا

کلیم کو صدرِ اعظم کے دربار میں بیباکانہ شعر پڑھتے دیکھ کر لوگوں کو حیرت ہوئی، لیکن جو امر ان کی حیرت کا موجب تھا، وہی ان کو کلیم کے روکنے اور باز رکھنے سے بھی مانع تھا، یعنی صدرِ اعظم صاحب کی ہیبت۔ لوگوں سے زیادہ صدرِ اعظم صاحب کو حیرت ہوئی ہوگی۔ مگر ان کی تہذیب اس درجے کی تھی کہ انھوں نے کلیم کو نظر بھر کر بھی تو نہیں دیکھا۔ اظہارِ خوشی و ناپسندیدگی تو بڑی بات ہے۔

صدرِ اعظم: رئیس سے تو توقع عبث ہے۔ مگر انتظامِ جدید درپیش ہے۔ اگر میں سمجھوں کہ کوئی خدمت آپ انجام دے سکیں گے تو ان شاء اللہ مجلسِ شوریٰ میں، جس کو لوگ کمیٹی منتظمِ ریاست کہتے ہیں، آپ کے استحقاق پیش کر دیے جائیں گے، اور غالب ہے کہ کوئی خدمت آپ کو مفوض ہو جائے۔ متعدد مناصب خالی ہیں، خصوصاً انتظام فوج داری حدودِ ریاست میں۔

کلیم: چندے حضور مجھ کو اپنی خدمتِ خاص میں رکھیں اور اس نالائق کی ہنرمندی اور بے ہنری حضور پر منکشف ہو جائے تو پھر جس خدمت کے لیے ارشاد ہوگا، بسر و چشم اس کو بجا لائے گا، اگرچہ خدمتِ فوج داری ہی کیوں نہ ہو۔
طالب ہوں علم کا کہ علم سے ہے ہم رقم
نیزہ سمجھ کے لیتا ہوں میں ہاتھ میں قلم

صدرِ اعظم: فرنگیوں نے جو انتظام کیا ہے وہ ایسی تنگ دستی کے ساتھ کیا ہے کہ اس میں بہت تھوڑی گنجائش ہے۔ پس قبل اس کے کہ میں آپ کو اپنے پاس کی کوئی خدمت دوں، مجھ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کس کام کی انجام دہی پر قدرت رکھتے ہیں۔

کلیم: بقولِ غالب:
آج مجھ سا نہیں زمانے میں
شاعرِ نغز گو و خوش گفتار

صدرِ اعظم: لیکن انتظامِ جدید کے مطابق ریاست میں کوئی خدمتِ شاعری باقی نہیں۔

کلیم:
گر سخن گو نہیں تو خاک نہیں
سلطنت ہے عروسِ بے زینت

صدرِ اعظم: جو کچھ آپ سمجھیں۔

کلیم: لیکن ریاست پر کیا منحصر ہے، حضور بھی تو وزیرِ اعظم اور نائب الرئیس ہیں۔ آپ کی سرکار میں کیا کمی ہے۔ ع
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

صدرِ اعظم: نَعُوْذُ بِاللّٰهِ الْمَنَّانِ مِنْ آفَاتِ اللِّسَانِ۔ میں بے چارہ نام کا نائب الرئیس اور وزیر ہوں، ورنہ فی الحقیقت ایک ذرۂ حقیر ہوں۔

کلیم: یہ حضور کا کسرِ نفس ہے۔ میں بھی اس بلادِ دور دست اور دیارِ اجنبی میں اتفاق سے آ نکلا ہوں، اور میں دیکھتا ہوں تو آپ کی سرکارِ با اقتدار میں ایک شاعر کی ضرورت بھی ہے جو آپ کے محامد اوصاف کو مشتہر کر کے خیر خواہانِ دولت کو راسخ العقیدت اور دشمنانِ روسیاہ کو مبتلائے ہیبت کرتا رہے۔

صدرِ اعظم: یہ آپ کی کریم النفسی ہے، ورنہ من آنم کہ من دانم۔ مجھ کو اگر ضرورت ہے تو ایسے شخص کی ہے جو مجھ کو میرے عیوب پر مطلع کیا کرے۔

کلیم: اگر مدح و ستائش پسند نہیں ہے تو بندہ وصل و ہجر و شوق و انتظار و ناز و نیاز و واسوخت و رباعی و تاریخ و سجع و چیستان و معاملہ بندی و تضمین و محاکمہ و رزم و بزم و تشبیہ و استعارات و تجنیس و تمثیلات و سراپا، ہر طرح کے مضامین پر قادر ہے۔ جو طرز مرغوبِ طبع ہو، اسی میں طبع آزمائی کرے گا۔

صدرِ اعظم: آپ کے ہنرمند، بے نظیر و بے مانند ہونے میں شک نہیں، لیکن افسوس ہے کہ مجھ کو اس فن کی طرف رغبت نہیں۔

کلیم: حضور جیسے عالمِ باکمال کا ایسے فنِ شریف سے رغبت نہ رکھنا عمیری قسمت کی نارسائی ہے

صدرِ اعظم: اگرچہ میں اپنے نفس میں انواع و اقسام کی خباثتیں پاتا ہوں، لیکن خداوندِ کریم کا اتنا شکر گزار ہوں کہ اب تو خیر ایسی باتوں سے محترز رہنے کی میری عمر ہی ہے، عنفوانِ شباب میں بھی خدا کے فضل سے میں ایسی باتوں کو نہایت ناپسند کرتا تھا۔

کلیم: سبب کیا؟ وجہ کیا؟ موجبِ جہت کیا؟

صدرِ اعظم: جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ایسے مضامین و اشتغال و انہماک رکھنے سے ذہول و غفلت، استخفافِ معصیت، استحسانِ لہو و لعب، اختیارِ مالا یعنی کے سوائے کچھ اور بھی حاصل ہے؟

کلیم: اب اس خصوص میں کچھ عرض کرنا سوئے ادب ہے۔ وہی خدمتِ فوج داری مجھ کو تفویض فرمائی جائے۔

صدرِ اعظم: مجھ کو کچھ عذر نہیں۔ مگر آپ مجھ سے استشارہ کریں تو بحکمِ اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ میں صلاح نہیں دے سکتا۔ اس واسطے کہ رئیس کے ضعفِ حکومت نے ان ٹھاکروں کو جو مستقر الریاست سے دور رہتے ہیں، ایسا عسیر الانقیاد کر دیا ہے کہ کوئی قسط بے جنگ و جدال وصول نہیں ہوتی، اور ملازمانِ فوج داری کو ہمیشہ ان کے ساتھ معرکہ آرائی کرنی پڑتی ہے۔ آپ کے ذمے ریاست کے حقوقِ سوابقِ نعمت ثابت نہیں۔ کیا ضرور ہے کہ ابتداً ایسی خطرناک خدمت اختیار کی جائے۔

کلیم: حالتِ اضطرار میں کیا کیا جائے؟

صدرِ اعظم: اگر حالتِ اضطرار ہے تو بیس روپیہ ماہانہ کا جمع خرچ نویس، داخل ایک منصبِ جدید ہونے والا ہے۔ چندے آپ اس پر قناعت کریں۔ میرے نزدیک کنجِ عافیت کے یہ بیس، فوج داری کے پچاس پر ترجیح رکھتے ہیں۔

کلیم: یہ حضور کی مسافر نوازی ہے، لیکن بندہ اس خدمت سے معاف رکھا جائے۔ ع
ہر کسے را بہر کارے ساختند
یہ کچھ لالہ بھائیوں ہی کو زیبا ہے۔

صدرِ اعظم: میں اتماماً لِلحجہ پھر آپ سے کہتا ہوں کہ جس خدمت کے آپ خواستگار ہیں، فی نفسہٖ، خصوصاً اس وقت میں، محلِ خطر ہے۔

کلیم: ع از خطر خیزد ہر کہ ہمتش عالی است

صدرِ اعظم: اچھا، تو آپ مائل کار کی نسبت تامل صحیح کر لیجیے۔ پھر دیکھا جائے گا۔

غرض کلیم صدرِ اعظم سے رخصت ہو کر اپنی جگہ واپس آیا، مگر حصولِ مطلب سے مایوس، صدرِ اعظم سے بدعقیدت۔ یہاں سرائے میں بعض لوگوں نے اس سے صدرِ اعظم کی ملاقات کی کیفیت پوچھی تو اس نے نہایت حقارت سے کہا: جی، بس شعر فہمیِ عالم بالا معلوم شد۔ آوازِ دہل از دور۔ چوں دم برداشتم مادہ خر برآمد۔ کوڑھ مغز، جسدِ بے روح، جمادِ بے حس، افسردہ، دل مردہ۔ زمانۂ ناہنجار کے انقلاب دیکھیے، ایوانِ ریاست کیا ہے، فتح پوری کی مسجد ہے۔

اگرچہ کلیم کو ایسی دل برداشتگی بہم پہنچی تھی کہ وہ کسی طرح ایسی ریاست کی نوکری پسند نہیں کرتا تھا، مگر مجبوری یہ تھی کہ اس کے پاس اتنا خرچ نہیں تھا کہ کسی دوسری جگہ کا قصد کرے۔ حاجت اس کو صدرِ اعظم کے پاس جانے پر مجبور کرتی تھی، مگر مخالفتِ رائے اس کو مانع ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اسی حیص بیص میں پورے دس دن گزر گئے اور کمیٹی منتظمِ ریاست کے انعقاد کا وقت آ پہنچا۔ لیکن اس بندۂ خدا نے صدرِ اعظم کی طرف رخ نہ کیا۔ بارے یکایک نہیں معلوم کیا خیال اس کے دل میں آیا، سپاہیانہ لباس پہن، ہتھیار لگا، مونچھوں پر تاؤ دے، خدمتِ فوج داری میں امیدوار بن کر کمیٹی کے روبرو جا کھڑا ہوا۔ آدمی تھا ماشاء اللہ وجیہ اور اس پر لسان، ایک دم سے فوج میں کپتان مقرر ہو گیا۔ شاعروں کو ایک پھنکار یہ ہوتی ہے کہ اکثر خود پسند ہوتے ہیں، کیونکہ ہمیشہ تحسین و آفرین اور داد و تحسین کے امیدوار رہتے ہیں۔ کلیم بھی اس مرض میں مبتلا تھا۔ اب جو اس کو دفعتاً منصبِ کپتانی مل گیا تو اس کی نخوت کو مزید تائید پہنچی۔ بقولِ میر ع
سمندِ ناز پہ اک اور تازیانہ ہوا

جب دیکھو اردلی میں دس پندرہ سوار، شہر میں گھوڑے کداتے پھرتے ہیں۔ چار پانچ مہینے کلیم نے بڑے چین سے گزارے، اور چونکہ باپ کو چھیڑنا منظور تھا، دہلی میں دوست آشناؤں کے پاس کپتان صاحب کے خط پر خط چلے آتے تھے۔ یہاں تک کہ زور آور سنگھ ایک ٹھاکر نے اپنے علاقے کی قسط وقت پر ادا نہ کی۔ اس کی سرکوبی کے واسطے دولت آباد سے فوج روانہ ہوئی۔ اس میں کلیم بھی تھا۔ جوانی کی عمر، نئی نئی نوکری، مزاج میں بے باکی و تہور۔ پہلے حملے میں زخمی ہوئے تو کیسے سخت کہ دشمن بخیر، گھٹنے کی چپنی پر گولی بیٹھی تو اندر ہی اندر بن ران تک تیر گئی۔ نہیں معلوم نسوں میں کس طرح کا تعلق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کہ ایک پاؤں کے مجروح ہونے سے سارے کا سارا دھڑ بے کار ہو گیا۔

قاعدۂ فوج کے مطابق میدانِ جنگ سے لوتھ کو اٹھا کر دار الشفا میں پہنچایا۔ جراحوں نے زخم کو دیکھا تو ایسا کاری پایا کہ فوراً پاؤں کا کاٹنا لازم آیا۔ اگرچہ اس وقت تک جراحوں نے پاؤں کو جان کا فدیہ قرار دیا، لیکن کلیم بے چارہ ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، اس صدمے کا متحمل نہ ہو سکا، اور روز بروز اس کی حالت ردی ہوتی گئی۔ تپ آنے لگی، زخم بگڑا، ناسور پڑے۔ اتنا بڑا ڈھو جوان ایک ہی مہینے میں گھل گھل کر پلنگ سے لگ گیا۔ جب پاؤں کی طرح اس کی زیست کی امید منقطع ہو گئی تو ناچار لوگوں نے اس کو دہلی پہنچانے کی صلاح کی، اور یہ بھی خیال ہوا کہ گھر جانے کی مسرت اور تبدیلِ آب و ہوا کی فرحت سے عجب نہیں کہ اس کے دل کو تقویت پہنچے۔ صدرِ اعظم صاحب حسبۃً للہ متکفلِ مصارف ہوئے، اور دولت آباد سے دہلی تک برابر کہاروں کی ڈاک بیٹھ گئی۔

کلیم دہلی پہنچا تو راہ میں انیس بیس کا فرق اس کی حالت میں ہو گیا تھا۔ مگر ناتوانی اس درجے کی تھی کہ دن رات میں سات پہر بے ہوشی میں گزرتے تھے۔ جب کہاروں نے اس کی ڈولی نصوح کے دروازے پر جا اتاری تو اس پر غشی طاری تھی۔ نصوح بالا خانے پر مصروفِ عبادت تھا۔ پہلے زنان خانے میں خبر ہوئی۔ فہمیدہ بیتاب ہو کر بے حجاب باہر نکل آئی۔ جو پالکی کے پٹ کھول کر دیکھا تو بیٹے پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ اس طرح بلک کر روئی کہ سننے والوں کے کلیجے ہل گئے۔ فہمیدہ نے جو اس بے قراری میں بین کیے، ان کے لکھنے سے پہلے قلم کا سینہ شق ہے اور چشمِ دوات سے اشک جاری ہیں۔ خلاصہ یہ کہ فہمیدہ کے قلق و اضطراب نے محلے میں حشر برپا کر دیا تھا۔ اگرچہ نصوح گریہ و بکا کی آواز سن کر کھٹکا تھا، مگر وہ اس طرح کا مستقل مزاج آدمی تھا کہ اسی ترتیل کے ساتھ معمولِ تلاوت کو پورا کیا اور اس کے بعد نیچے اتر کر پالکی کے پاس آیا۔ فہمیدہ کا رونا سن کر اور بیٹے کی ردی حالت دیکھ کر بے اختیار اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو چلے آتے تھے اور بار بار ٹھنڈی سانسیں بھرتا تھا، مگر نہ کچھ بولتا تھا نہ چالتا تھا۔ آدھ گھنٹے کامل اس کی یہی کیفیت رہی۔ اس کے بعد اس نے اپنے آنسو پونچھے اور کہا: إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔ إِنَّمَا أَشْكُوْ بَثِّيْ وَحُزْنِيْ إِلَى اللّٰهِ۔ اَللّٰهُمَّ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا۔ اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْهِ سَكَرَاتِهٖ وَكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهٖ۔

اس کے بعد بی بی کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم کو رنج کرنے سے منع نہیں کرتا۔ تمہارا رنج ایک اقتضائے طبیعت ہے کہ انسان اس میں مجبور ہے۔ لیکن مجھ کو تمہارا اضطرار دیکھ کر اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ مبادا تمہارے خیالات منجر بکفران ہو جائیں۔ اگر مصیبت کے وقت انسان کے دل میں نعوذ باللہ بوئے نارضامندی بھی خداوندِ بے نیاز کی طرف سے پیدا ہو تو پھر کہیں اس کا ٹھکانا نہیں۔ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ۔ کیا ہم نئے آدمی اور یہ انوکھی مصیبت ہے؟ بزرگانِ دین پر اس سے کہیں زیادہ مصیبتیں نازل ہوئیں۔ زندہ دہکتی ہوئی آگ میں جھونک دیے گئے۔ سر پر آرے چلے۔ سولی چڑھے۔ قتل ہوئے۔ قید رہے۔ ماریں پڑیں۔ کوڑے سہے۔ گالیاں کھائیں۔ بیگاریں بھگتیں۔ ذلتیں اٹھائیں۔ رسوائیاں جھیلیں۔ مگر خدا ان کو جزائے خیر دے، کیسے سچے بندے تھے کہ رضا و تسلیم کے حبلِ متین کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ یہ کچھ مصیبت اور دل بہ رضا جوئیِ حضرتِ ربوبیت۔ یہ کچھ ایذا اور زبان سپاس گزارِ منت۔ شکر کا مقام ہے کہ خداوندِ کریم نے ہمارے ضعف پر رحم فرما کر امتحانِ سخت میں مبتلا نہیں کیا۔ اگر بندہ صرف یسر و رفاہ کی حالت میں خدا سے راضی ہے اور تکلیف و اذیت میں شاکی، تو وہ بندہ بندۂ خدا نہیں، بلکہ بندۂ غرض اور مطلب پرست ہے۔ اے بی بی، رنج کرو لیکن صبر کے ساتھ، اور مصیبت پر روؤ مگر شانِ عبودیت لیے ہوئے۔ دنیا میں جتنی ایذا اور مصیبت ہے، پاداشِ گناہ و وبالِ معصیت ہے۔ اسی واسطے توبہ و استغفار کو لکھا ہے کہ اس سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں۔ سب سے بہتر ہمدردی جو ہم اس شخص کی اس تباہ حالت میں کر سکتے ہیں، یہ ہے کہ ہم اس کے گناہوں کی معافی کے لیے خداوندِ کریم کے حضور میں بمنت و سماجت دعا کریں۔ یہ شخص، تم بھی اس بات کو تسلیم کرو گی، اپنے ہاتھوں اس نوبت کو پہنچا کہ جو اس کو دیکھے گا، بہ اقتضائے انسانیت تاسف کرے گا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں، تمام دنیا کا رحم خدا کی رحمتِ کاملہ کے آگے ہزارواں لاکھواں حصہ بھی نہیں ہے۔ اگرچہ ہم لوگوں کے دیکھنے میں اس کی حالت بہت ہی زبوں ہے، لیکن کوئی شخص اس سے بڑھ کر خوش قسمت نہیں، اگر اس کی یہ تکلیفیں عند اللہ اس کے گناہوں کا کفارہ سمجھی جائیں۔

نصوح کے وعظ کا سحرِ حلال ایسا نہ تھا کہ کوئی اس کو سنے اور متاثر نہ ہو۔ فہمیدہ فوراً منہ پونچھ سیدھی ہو بیٹھی، اور اب میاں بی بی لگے آپس میں صلاح کرنے کہ کیا کیا جائے۔

نصوح: اس کو محلے کے شفا خانے پہنچا دینا چاہیے۔ ہر وقت ڈاکٹر کے پیشِ نظر رہے گا۔ مکان بہت پُر فضا ہے۔ اس کی طبیعت کو بھی تفریح ہوگی۔

فہمیدہ: ہے ہے! اور میرا دل کیونکر صبر کرے گا؟

نصوح: تمہارا یہ کہنا بھی واجب، مگر بیمار کی حالت ایسی ردی ہے کہ کسی وقت اس سے طبیب کا مفارقت کرنا مناسب نہیں۔

فہمیدہ: حکیم جی شوق سے آئیں جائیں۔ میں سہ دری میں پردہ کیے بیٹھی رہوں گی۔

نصوح: زخموں کا علاج کچھ ڈاکٹروں ہی سے خوب بن پڑتا ہے۔ یونانی طبیب تو اس کوچے سے محض نابلد ہیں۔ رہے جراح، ان کو دو چار مرہم ضرور معلوم ہیں، مگر تشریح سے جیسے یونانی طبیب بے خبر، ویسے ہی جراح ناواقف۔ بہتر ہوگا کہ اس کو نعیمہ کے گھر لے چلیں۔ سرکاری شفاخانہ بھی قریب ہے، اور میاں عیسیٰ، کہ اس وقت ہندوستانی جراحوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، دیوار بیچ ان کا گھر ہے۔

فہمیدہ نے بھی اس صلاح کو پسند کیا، اور کیسا سامان اور کس کی تیاری، گھر کا گھر کلیم کی پالکی کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ یہاں سے کوئی چھ سات پیسے ڈولی نعیمہ کی سسرال تھی۔ کہاروں نے پالکی اٹھائی تو کہیں کاندھا تک نہیں بدلا۔ ادھر نعیمہ کے گھر جا اتری۔

یاد ہوگا کہ نعیمہ ماں سے لڑ کر بے ملے صالحہ کے ساتھ خالہ کے یہاں چلی گئی تھی۔ پھر چار مہینے وہاں رہی۔ نیک لوگوں کے ساتھ رہنے کی برکت، خدا نے اس کو ہدایت دی اور وہ بھی نیک بن گئی۔
سگِ اصحابِ کہف روزے چند
پئے نیکاں گرفت و مردم شد

نیک بنے پیچھے ممکن نہ تھا کہ وہ ماں باپ کی نارضامندی گوارا کرتی۔ اس نے ماں باپ کو شاد اور خدا نے اس کو اپنے گھر میں آباد کیا۔ اس کو سسرال گئے دوسرا مہینا تھا کہ کلیم کو چار کہاروں کے کندھوں لاد کر اس کے گھر لے گئے۔ چونکہ نعیمہ کے گھر آباد ہونے کا تذکرہ آ گیا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نعیمہ کا حال لکھا جائے۔ کلیم کو، جو دنیا میں اب مہمانِ چند روزہ ہے، پیچھے دیکھ لیا جائے گا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。