
Chapter 5 of 29
Farewell to the Journal
پرچے کی رخصت
[اس مضمون کا ابتدائی حصہ (کتاب کے صفحات ۳۲ تا ۳۳) ماخذ کے نسخے میں موجود نہیں ہے۔ یہاں سے متن صفحہ ۳۴ سے شروع ہوتا ہے۔]
... ہے کہ ان کی کسی بات نے ہمارا دل نہیں دکھایا اور ہمیشہ ہمارے دل میں یہی رہا کہ اے خدا ان پر رحم کر کیونکہ وہ نہیں جانتے۔
انہی قومی بھلائی کے ولولوں میں سے ''تہذیب الاخلاق'' کا نکالنا بھی ایک ولولہ تھا جس کا اصلی مقصود قوم کو اس کی دینی اور دنیاوی ابتر حالت کا جتلانا اور سوتوں کو جگانا بلکہ مردوں کو اٹھانا اور بند سڑے ہوئے پانی میں تحریک کا پیدا کرنا تھا۔ یقین تھا کہ سڑے ہوئے پانی کو ہلانے سے بدبو زیادہ پھیلے گی۔ مگر حرکت آ جانے سے پھر خوشگوار ہو جانے کی توقع ہوتی تھی۔ پس کیا ہم نے جو کچھ کرنا تھا اور پایا ہم نے جو کچھ کہ پانا تھا۔ مگر خدا سے آرزو ہے کہ اگر ہم نے وہ نہیں کیا جو ہم کو کرنا تھا تو وہ وہی کرے جو اس کو کرنا ہے۔
از بندہ خضوع و التجا می زیبد بخشایشِ بندہ از خدا می زیبدگر من کنم آں کہ آں مرا ناز زیباست تو کن ہمہ آں کہ آں ترا می زیبد
سات برس تک ہم نے بذریعہ اپنے اس پرچہ کے اپنی قوم کی خدمت کی۔ مذہبی بے جا جوش سے جس تاریک گڑھے میں وہ چلی جاتی تھی اس سے خبردار کیا۔ دنیاوی باتوں میں جن تاریک خیالات کے اندھیرے میں وہ مبتلا تھی اس میں ان کو روشنی دکھلائی۔ مذہبِ اسلام پر نادانی کی جس قدر گھٹائیں چھا رہی تھیں ان کو ہٹایا اور اس کے اصلی نور کو جہاں تک ہم سے ہو سکا چمکایا۔ اردو زبان کا علمِ ادب جو بد خیالات اور موٹے و بھدے الفاظ کا مجمع ہو رہا ہے اس میں بھی جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے اصلاح چاہی۔ یہ ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس میں کچھ کیا۔ مگر ہاں یہ کہہ سکتے کہ ہم نے اپنی دانست میں ان باتوں میں بقدر اپنی طاقت کے کوشش کی۔ قومی ہمدردی، قومی عزت، سلف آنر یعنی اپنے آپ عزت کا خیال اگر ہم نے اپنی قوم میں پیدا نہیں کیا تو ان لفظوں کو تو ضرور اردو زبان کے علمِ ادب میں داخل کیا۔ ہم نے جو کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر ہر طرف سے تہذیب و شائستگی کا غلغلہ سنا۔ قومی ہمدردی کی صداؤں کا ہمارے کانوں میں آنا، اردو زبان کے علمِ ادب کا ترقی پانا، یہی ہماری مرادیں تھیں جن کو ہم نے بھر پایا۔ اب بہت لوگ ہیں جو ان باتوں کو پکارتے ہیں۔ گو اس وقت ٹیڑھی میڑھی لہریں کھاتے ہیں مگر پانی میں حرکت ہی کا آ جانا کافی ہے پھر وہ خود اپنی پنسال میں آپ چورس ہو رہے گا۔ اس لیے مناسب ہے کہ اب ہم بس کریں اور پانی کو آپ ہی آپ چورس ہونے دیں۔
ہمارے دوست ہماری اس خاموشی کا کوئی سبب دور از کار نہ خیال کریں گے اور نہ اس پر التفات کریں گے جو ہمارے ناصح نور الآفاق نے اپنے اخیر پرچہ میں لکھا تھا بلکہ یہ خیال کریں گے کہ ہم کسی دوسری قومی بھلائی کے کام میں مصروف ہوں گے جو اس سے بھی زیادہ قوم کو مفید ہو گا۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ''ما ننسخ من آیۃ او ننسہا نات بخیر منہا او مثلہا۔'' اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بہت سے ایسے دوست ہیں جو اس پرچہ کے بند ہونے سے نہایت ہی شکستہ خاطر ہوں گے مگر ہم ان سے معذرت کرتے ہیں اور اب اس پرچہ کو ان سے رخصت کرتے ہیں۔ اب وہ دن بھی آنے والا ہے کہ ہم خود ہی ان سے رخصت ہوں گے۔
ہم نے اپنے اس ارادہ سے اپنے بعض دوستوں کو مطلع کیا تھا اور جب ان کو معلوم ہو گیا کہ ہم نے یہ ارادہ مصمم کر لیا ہے تو انہوں نے ہمارے ان سات برس کے پرچوں کے ریویو لکھے ہیں جن کو ہم نہایت احسان مندی و شکر گزاری سے اس اپنے اخیر پرچہ میں درج کرتے ہیں۔ والسلام۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.