Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 29 sur 29

L'Histoire d'Adam

The Story of Adam

آدم کی سرگزشت

Sir Syed Ahmad Khan

Écriture
Taille

''تم کون ہو؟ اور تمہارا نام کیا ہے؟''

''یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں مگر میرا نام آدم ہے۔''

''تم پر کیا گزری؟''

''میں نے اپنے تئیں اسی دنیا میں پایا، مگر نہ جانا کہ کس طرح بنا اور کس نے بنایا؟ میں نے اور بھی بہت سے چرند و پرند، کیڑے مکوڑے دنیا میں دیکھے، میں سمجھا کہ جس طرح یہ بنے ہوں گے اسی طرح میں بھی بنا ہوں گا، مگر میں دیکھتا تھا کہ وہ تو سب ایک سا کام کرتے جاتے ہیں اور کسی اور بات کا ارادہ بھی نہیں کرتے، مگر میرے دل میں بہت سے خیال آتے تھے۔ کبھی دل چاہتا تھا کہ یہ کروں، کبھی دل چاہتا تھا کہ وہ کروں۔ کبھی کہتا تھا کہ یہ کیا ہے؟ کبھی کہتا تھا وہ کیا ہے؟ دل گھبراتا تھا اور ان چرند و پرند کے پاس بیٹھتا تھا۔ کسی کو اپنا سا نہ پاتا تھا اور دل نہ لگتا تھا۔ تنہائی میرے دل کو گھبراتی تھی اور اس بیقراری سے یہ بات دل میں آتی تھی کہ میرے لیے میری ہی سی کچھ چیز اور چاہیے۔''

''ایک دن میں نے اپنے بائیں پہلو کے پاس ایک اپنی ہی سی صورت کی چیز بیٹھی ہوئی دیکھی۔ دل بہت خوش ہوا۔ بے قصد باچھیں کھلنے لگیں۔ دل بھی دھکڑ پکڑ کرنے لگا اور اسی کی طرف کھنچنے لگا۔ وہ بھی میرے پاس بیٹھنے سے نہایت خوش معلوم ہوتی تھی اور پیاری پیاری نگاہوں سے مجھے دیکھتی تھی اور مسکراتی تھی۔ آخر میں بے قرار ہو گیا اور مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ ''بوا! تم کون ہو؟ اور تمہارا کیا نام ہے؟'' وہ بولی کہ بھائی یہ تو میں نہیں جانتی کہ میں کون ہوں۔ جو تم ہو وہی میں ہوں، مگر میرا نام حوا ہے۔ میں بہت خوش ہوا اور تالیاں بجا کر خوب اچھلا اور خوب کودا اور اوپر کو دیکھ دیکھ کر ایک بڑی ہستی اور بڑے قادرِ مطلق کا خیال کر کر خوب گیت گائے اور نہایت ذوق و شوق سے یوں چلایا۔

او اور او ارے آوا رے آوا رے وہ جو ہے، ارے وہ جو ہے، ارے وہ جو رہے گا، ارے وہ جو رہے گا، ارے وہ جو تو ہی ہے، ارے وہ جو تو ہی ہے، میری شکر لے۔ اس انجان جانب کار نے میرا شکر لیا۔ اب تم اسی برکت کے پھل پھول ہو۔''

''اجی دادا جان، یہ تو تم نے حال کی کہی۔ ہم تو اس سے بھی پچھلی پوچھتے ہیں۔''

میرے پیارے وہ تو ہمارے ہوش اور تمیز سے پہلے کی بات ہے، مگر اس کی کچھ نشانیاں ہم پاتے ہیں اور خدا نے اپنی قدرت سے جو کچھ ہم میں بنایا ہے اسی سے وہ پچھلا حال سمجھ سکتے ہیں۔ اگر تم کو اس کے جاننے کا شوق ہے تو سنو۔

تمام زمین پر بسنے والی چیزیں زمین سے پیدا ہوئی ہیں، گو اس کی آئندہ نسل چلنے کا کوئی قاعدہ بنایا ہو، مگر سب سے پہلی فرد صرف اس کی قدرت سے بنی۔ اس نے کہا کہ ہو، وہ ہو گئی، پس اسی طرح میں بھی زمین سے پیدا ہو گیا، پلا اور بسا اور بڑا ہوا، مگر جب زمین سے نکلا تھا تو ایسا نہ تھا، جیسا کہ اب ہوں۔ رفتہ رفتہ ہم کو یہ صورت ملی ہے۔ اگر تم میری وہ ہیئت دیکھو جو زمین سے نکلی تھی تو نہایت تعجب کرو۔ بال سے بھی باریک اور رائی کے دانے سے بھی چھوٹا بھنگا تھا اور اسی میں حسن و جمال، عقل و کمال سب چھپا ہوا تھا، جیسے بیج میں درخت کے تمام پھل پھول ٹہنی پتے چھپے ہوتے ہیں۔ یہ اس صانع کی قدرت ہے جو ایسی ضعیف و ناچیز چیز کو ایسا کیا جس کے حسن و جمال پر لوگ فریفتہ ہوتے ہیں۔ فرہاد سر پھوڑتا ہے، زلیخا ہاتھ کاٹتی ہے، مجنوں سر بصحرا نکل جاتا ہے، اپنے تقدس و کمال سے فرشتوں پر فوق لے جاتا ہے اور اپنے آپ سے اپنے صانع کو پہچانتا ہے اور پھر اس کی مرضی اور خوشی کے بیان کرنے کو اوروں کے لیے واعظ بنتا ہے۔

تمام قوتیں حیوانی اور انسانی، ملکی و شیطانی اس میں تھیں اور سب اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں حاضر تھیں۔ جس جس کام پر وہ مامور تھیں اس کو کر رہی تھیں اور اپنے کام میں ذرا سی بھی خطا نہیں کرتی تھیں، مگر ایک قوت نہایت قوی اور سرکش تھی۔ وہ میری کوئی خدمت نہیں کرتی تھی، بلکہ طرح طرح کے جذبات کو جو غصہ اور غضب اور بغض و کینہ، عداوت و دشمنی، قتل و خونریزی، چوری و زناکاری کے منشاء ہیں، تحریک دیتی رہتی تھی۔ اس کے کوتکوں سے میں نے جان لیا تھا کہ وہ میری بڑی دشمن ہے۔ اسی پر فتح پانا میرا بڑا کام ہے، مگر وہ بھی جتاتی تھی کہ میں تیری دشمنی کبھی نہیں چھوڑنے کی۔ جہاں پاؤں گی اپنا کام کروں گی اور جس طرف سے قابو پاؤں گی ماروں گی۔

وہ قوت ایک عجیب و غریب چیز تھی۔ دشمن تو ایسی سخت تھی، لیکن اگر وہ نہ ہوتی تو ایک اور چیز ہم میں نہ ہوتی جو انسان کے کمال کی بھی وہی باعث ہے اور اس کے وبال کی بھی وہی باعث ہے اور اسی سبب سے وہ قوت کبھی سخت دشمن دکھائی دیتی تھی اور کبھی دوست سمجھ میں آتی تھی، مگر میری اطاعت میں کبھی نہ تھی۔

خدا نے ایک ایسی مرکب چیز کو جو مختلف قوتوں کا مجموعہ تھی، یعنی مجھ کو ایک جگہ ڈال دیا جہاں نہ مجھ کو بھوک تھی نہ پیاس، نہ دھوپ کی گرمی لگتی تھی نہ کپڑا پہننے کی حاجت ہوتی تھی۔ میں رفتہ رفتہ بڑا ہوتا جاتا تھا اور تمام قوتیں جو مجھ میں تھیں میرے کام آتی تھیں۔ ایک قوت مجھ میں تو تھی، مگر میرے کام میں نہ تھی، نہ میں اس کو کام میں لاتا تھا۔ جب میں بڑا ہوا اور سنِ تمیز کو پہنچا تو اسی دشمن قوت نے مجھ کو بتایا کہ اس سے بھی کام لے، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جب میں اس سے کام لوں گا تب ہی مصیبت میں پھنسوں گا، مگر اس قوت سے کام لینا کمال کا بھی سبب تھا۔ اس لیے اس دشمن قوت نے بہکایا کہ اگر اس سے کام لے گا تو فرشتہ ہو جاوے گا اور کبھی فنا نہ ہووے گا۔ وہ قوت میری ہی تو تھی اور میں اس کو کام میں لانے کے قابل بھی ہو چکا تھا۔ میں اس کو کام میں لایا اور اسی وقت میرے عیب مجھ پر کھل گئے۔ میں نے جانا کہ میں تو ایک نہایت ناچیز ہستی ہوں۔ بے شک مجھ میں فرشتہ ہونے اور ہمیشہ رہنے کی قوت ہے، مگر اس کے ساتھ بڑا قوی دشمن بھی لگا ہوا ہے۔ اس سے بچنا نہایت مشکل ہے۔ میں اپنے عیبوں کے چھپانے کی فکر میں پڑا اور خدا نے للکارا کہ خبردار اب تو اپنا مالک ہوا، دوست دشمن سے واقف ہوا، اب جب تک زمین پر رہنا ہے، نیک و بد کو سمجھ اور اپنا کام کر۔ میں نہایت حیران ہوا کہ کیا کام کروں اور کس طرح پر چلوں۔ پھر میں سمجھا کہ خدا کی نشانیاں اور خدا کی ہدایتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ انہی کو سمجھو اور انہی کو مانو، انہی کی ہدایت پر چلو اور دشمنوں سے نجات پاؤ، مگر یہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ گزشتہ بدی کا کیا علاج ہو۔ بہت غور کے بعد سمجھا کہ کسی دوسرے سے اس کا علاج نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کا علاج خود مجھ میں ہے جو چیز مجھ میں ٹیڑھی ہو گئی ہے اسی کا سیدھا کرنا اس کا علاج ہے۔

تب میں نے خدا سے کہا: ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین۔ فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم۔ پھر تو خدا نے مجھ کو ایسا رتبہ بخشا کہ زمین پر اپنا نائب کر دیا اور فرشتے غل ہی مچاتے رہے۔''

''دادا جان آپ کی باتیں تو ہماری سمجھ میں نہ آئیں اور ہم نہ سمجھے کہ کن قویٰ کا مجموعہ خدا نے تم کو بنایا تھا۔ وہ کیا قویٰ تھے جو تمہارے مطیع و فرمانبردار بھی تھے۔ وہ کیا قوت تھی جو سرکش اور نافرمانبردار تھی۔ وہ کیا چیز تھی جو دشمن بھی تھی اور دوست بھی دکھائی دیتی تھی۔ اسی نے وبال میں ڈالا اور اسی نے کمال کا رستہ بتایا۔ یہ سب باتیں تو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ اور اگر کسی اور طرح پر آپ گفتگو کریں اور ہم کو سمجھا سکیں تو آپ کی نہایت شفقت و عنایت ہو گی۔''

آدم نے کہا کہ تمہاری اور تمام دنیا کی سمجھ میں آ جانے کے لائق تو اسی بات کو موسیٰ اور محمد نے بہت اچھی تمثیل سے بتایا ہے۔ انہوں نے ملکی قویٰ کا نام فرشتہ رکھا ہے اور اس دشمن دوست نما قوت کا نام شیطان اور اس قوت کا نام جو مجھ میں تھی پر میرے کام میں نہ تھی درخت، اور اس وقت یا حالت کا نام جب میں اس قوت کو کام میں لانے کے لائق ہوا اس درخت کا مزا چکھنا رکھا ہے اور اس مشکل عقدہ کو ان تمثیلوں سے حل کر کر یوں بیان کیا ہے۔

خدا نے سڑی ہوئی کیچڑ سے جو آگ میں پکے ہوئے کی مانند گرم ہو رہی تھی، آدم کو اور اس کی جوڑی حوا کو پیدا کیا، پھر ان کو اس صورت پر جو ہے بنایا، پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سب نے سجدہ کیا مگر شیطان نے سرکشی کی اور خدا کے حکم کو نہ مانا اور سجدہ نہ کیا۔ خدا نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیوں سجدہ نہ کیا؟ اس نے کہا کہ میں آدم سے افضل ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ جا دور ہو، تو فرشتوں میں ہونے کے لائق نہیں۔ اس نے کہا تو مجھ کو قیامت تک ایسا ہی رہنے دو۔ تم ہی نے مجھے بہکایا ہے، میں بھی انسان کو بہکاتا ہی رہوں گا۔ خدا نے کہا دور ہو اے مردود، جو لوگ تیری تابعداری کریں گے ان سے دوزخ بھر دوں گا۔

پھر خدا نے ہم کو سمجھایا کہ شیطان تمہارا پکا دشمن ہے، اس سے خبردار رہنا۔ پھر ہم کو بہشت میں رکھا۔ وہاں ہم کو نہ بھوک تھی نہ پیاس، نہ دھوپ لگتی تھی اور نہ کپڑے کی حاجت تھی۔ خدا نے کہا کہ اس میں سے جو کچھ چاہو کھاؤ، مگر ایک درخت کو بتلایا کہ اس کے پاس تک مت جانا، اگر جاؤ گے تو اپنے لیے خود برا کرو گے۔

مگر شیطان نے ہم کو بہکایا اور کہا کہ میں تم کو ہمیشگی کا اور ہمیشہ رہنے والی بادشاہت کا درخت بتلاؤں۔ اس نے وہی درخت بتلایا جس سے خدا نے منع کیا تھا اور کہا کہ کسی برائی کے سبب سے منع نہیں کیا، بلکہ اس لیے منع کیا کہ تم فرشتہ اور ہمیشہ رہنے والے نہ ہو جاؤ اور قسمیں کھا کر کہا کہ میں تمہارا دوست ہوں۔ ہم اس کے بہکانے میں آ گئے اور اس درخت میں سے کھا لیا۔ ایک پردہ نادانی کا جو ہم پر تھا، کھاتے ہی اٹھ گیا۔ عیب و صواب معلوم ہونے لگا۔ اپنا ننگا پن ہم کو شرمانے لگا۔ درخت کے پتوں سے اپنی شرم گاہوں کو چھپانے لگے۔ اتنے میں خدا نے للکارا کہ کیوں اس درخت کے کھانے سے میں نے تم کو منع نہ کیا تھا اور تم کو نہ کہہ دیا تھا کہ شیطان تمہارا پکا دشمن ہے۔ چلو یہاں سے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ چند مدت تک زمین پر رہو گے، اسی میں جیو گے، اسی میں مرو گے، اسی سے نکلو گے۔

پھر خدا کے بتانے سے اپنے قصور کی معافی اس طرح پر خدا سے چاہی کہ ''اے ہمارے خدا ہم نے اپنے پر آپ ظلم کیا اور اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم آفت میں رہیں گے۔'' خدا نے معاف کیا اور یہ بتایا کہ تمہارے پاس میری ہدایت آوے گی، جو کوئی اس کی تابعداری کرے گا اس کو کچھ ڈر نہ ہو گا، جو میری نشانیوں کو نہ مانے گا وہ دوزخ میں جاوے گا اور ہمیشہ اسی میں رہے گا۔

پھر خدا نے آدم کو زمین پر اپنا نائب بنایا۔ فرشتوں نے کہا کہ ایسے شخص کو زمین کی نیابت دے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہاوے اور ہم تو تیری پاکیزگی سے تجھ کو یاد کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں۔ خدا نے کہا کہ ہاں میں سب کچھ جانتا ہوں۔ جو میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔

پھر خدا نے آدم کو سب چیزوں کے نام بتائے اور فرشتوں کے سامنے کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تیری دوہائی ہے جو کچھ تو نے بتا دیا ہے ہم تو اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ پھر آدم سے کہا کہ تم ان کے نام بتاؤ۔ آدم نے سب کے نام بتا دیے۔ خدا نے کہا کہ میں نہ کہتا تھا کہ آسمان و زمین میں کی چھپی ہوئی باتیں اور جو کچھ تم علانیہ یا خفیہ کرتے ہو سب کو جانتا ہوں۔

دادا جان یہ باتیں تو صاف صاف ہماری سمجھ میں آئیں۔ ہم سمجھے کہ خدا نے ہم کو پیدا کیا اور ہم کو فرشتوں پر بھی عزت دی اور ہمارے دشمن شیطان کو بھی ہمیں بتلا دیا، مگر ہم اس کے فریب میں آ گئے اور خدا کے حکم کے برخلاف کام کیا اور خود اپنے فعل سے گنہگار ہوئے اور جب اپنے گناہ کا اقرار کیا اور معافی چاہی تو خدا نے معاف کر دیا اور ہم کو زمین پر اپنا نائب کر دیا اور ہمارے پاس ہدایت بھیجنے کا وعدہ کیا۔ پھر اگر اس کی ہدایت پر چلیں گے، اپنا بھلا کریں گے، اگر اس پر نہ چلیں گے، خود اپنے لیے کانٹے بوئیں گے، مگر اس میں بھی کئی باتیں پوچھنی ہیں۔

آپ نے یہ کیا فرمایا کہ خدا نے آدم و حوا کو پہلے پیدا کیا، پھر ان کو اس صورت پر جو اب ہے بنایا۔

بیٹا تم نے قرآن شریف پڑھا ہے، اس میں تو صاف لکھا ہے کہ ولقد خلقنٰکم ثم صورنٰکم، یعنی خدا نے تم کو پیدا کیا پھر تمہاری صورتیں بنائیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان نطفہ میں نہایت باریک بھنگے کی مانند پیدا ہوتا ہے، پھر اس کی صورت بنتی ہے۔ یہی بات خدا نے بھی کہی اور ہمیشہ یونہی ہوتا ہے۔

دادا جان یہ تو عجیب بات آپ نے بتائی، ہم نے تو کبھی سنی بھی نہ تھی۔ قرآن میں تو عجیب عجیب قدرتی باتیں لکھی ہیں جو اس زمانہ کے لوگوں کے خیال میں نہ تھیں۔ اب جس قدر حقائقِ موجودات کھلتی جاتی ہیں قرآن کی حقیقت سمجھ میں آتی جاتی ہے۔ بے شک یہ خدا کا کلام ہے۔

مگر آپ تو یہ فرمائیے کہ جن قوتوں سے خدا نے ہم کو بنایا اور جو ہم ہی میں موجود تھیں انہی میں سے کسی کو فرشتہ اور کسی کو شیطان اس طرح پر بیان کیا کہ گویا وہ ہم سے علیحدہ دوسری چیزیں تھیں جن میں سے کوئی ہماری فرمانبردار تھی اور کوئی ہماری دشمن اور اگر درحقیقت وہ ہم ہی میں تھیں تو اس طرح پر کیوں بیان ہوئیں۔

بیٹا ابھی میں نے تم سے بیان کیا کہ انسان عجیب مختلف قوتوں سے بنا ہوا ہے کہ باوصف مرکب ہونے کے ہر ایک قوت جدا جدا کام کرتی ہے، مگر تمہاری سمجھ میں کچھ نہ آیا اور جب اس زمانہ میں ہی تم اس کو نہ سمجھ سکے تو موسیٰ کے اور اس سے بھی پہلے کے زمانہ میں کون سمجھ سکتا تھا، اس لیے خدا نے اس مطلب کو ایسے لفظوں میں بیان کیا کہ سینا کے جنگل میں پھرنے والوں اور عرب کے ریگستان کے رہنے والوں سے لے کر سقراط اور بقراط کے درجوں تک کے لوگ سمجھ لیں۔

تمام دنیا کے خیال میں ہے کہ مرکب چیز جب متعدد چیزوں سے ملتی ہے تو ایک خاص مزاج پیدا کر لیتی ہے۔ اس کے ہر ہر فرد کا مزاج اپنی پہلی حالت پر باقی نہیں رہتا، بلکہ دونوں سے مل ملا کر ایک قسم کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔

اگر گرم پانی میں تم ٹھنڈا پانی ملاتے ہو تو اس کی سردی اور اس کی گرمی مل کر اس کو گنگنا کر دیتی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں ملیں اور سرد پانی کی سردی بدستور سرد اور گرم پانی کی گرمی بدستور گرم رہے۔

بہت سی گرم و سرد و خشک و تر دواؤں سے ملا کر ایک معجون بناؤ۔ ان دواؤں میں سے کسی ایک کا بھی مزاج اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں رہنے کا، بلکہ سب سے مل ملا کر اس معجون مرکب کا ایک خاص مزاج پیدا ہو جاوے گا، مگر انسان ایک عجیب معجون مرکب مختلف قویٰ سے مرکب ہے اور وہی اس کے وجود کے اور نیز باہم ایک دوسرے قویٰ کے بقا کے سبب ہیں۔ اگر اندرونی قویٰ میں سے ایک قوت انسان میں سے فوت ہو تو دوسری قوت بھی باقی نہیں رہتی اور باوجودیکہ یہ سب قویٰ ایسے آپس میں ملے ہوئے ہیں جیسے دودھ میں پانی اس پر بھی سب اپنے اپنے جدا جدا مزاج پر قائم ہیں اور اپنا اپنا جدا جدا کام کر رہے ہیں۔ پس اس ترکیبِ انسانی کو سمجھانے کے لیے تمام نبیوں نے تمثیلی زبان اختیار کی اور جس طرح کہ ان قویٰ کے جدا جدا کام تھے اسی طرح ان کو علیحدہ علیحدہ اس طرح پر بیان کیا کہ گویا وہ الگ الگ ایک دوسرے کے مقابل جدا جدا چیزیں ہیں۔

دادا جان، یہ بات تو ہماری سمجھ میں بالکل آ گئی اور اس بیان سے ایک اور عقدہ حل ہو گیا کہ بعضی روایتوں میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ رحم میں فرشتہ انسان کی صورت بناتا ہے اس سے بھی وہی قوتِ مصورہ مراد ہے جو خدا نے اس میں رکھی ہے۔

مگر یہ بات بھی بتا دیجیے کہ ان ملکی قویٰ کے سجدہ کرنے اور اس ایک قوت کی سرکشی کرنے سے کیا مطلب ہے۔

بیٹا! یہ تو بہت صاف بات ہے، تم خود اپنے آپ کو دیکھو۔ تمام قوتیں جس جس مطلب کے لیے تمہارے میں پیدا ہوئی ہیں سب تمہاری تابع ہیں۔ جس وقت تم کسی ایسی قوت کو تحریک دینا چاہتے ہو جو نیکی کی مخرج ہے، فی الفور تحریک میں آتی ہے اور تم سے نیکی اور نیک دلی، رحم و محبت، ہمدردی، وفا شعاری، خدا کے سامنے تذلل ظہور میں آتا ہے اور صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام قویٰ جو ان چیزوں کے منشاء ہیں تم کو سجدہ کر رہے ہیں، یعنی تمہارے مطیع و فرمانبردار ہیں، برخلاف اس کے اس قوت کو دیکھو جو بدی اور گناہ کا مخرج ہے۔ تم ان افعال کو جو اس قوت سے پیدا ہوتے ہیں برا جانتے ہو اور ان کے نہ کرنے کا ارادہ بھی کرتے ہو اور پھر کرتے ہی جاتے ہو۔ جھوٹ کو برا سمجھتے ہو اور چاہتے ہو کہ نہ بولیں مگر بولتے جاتے ہو۔ غصہ کو برا جانتے ہو اور ہرچند چاہتے ہو کہ روکیں پر کرتے جاتے ہو۔ زنا جو سب سے بڑھ کر بدی ہے، اس کو کر کر نادم ہوتے ہو، خود اپنے پر لعنت کرتے ہو، سر پیٹتے ہو، منہ پر طمانچے مارتے ہو اور پکا ارادہ کرتے ہو کہ پھر نہ کریں گے اور پھر کرتے ہو۔ غرض کہ اس قوت پر جو تمام بدیوں کی جڑ ہے، خیال کرو اور دیکھ لو کہ وہ کیسی سرکش اور تمہاری نافرمانبردار ہے۔ آہ بیٹا! تم انسان اسی وقت ہو گے جب اس سخت دشمن پر فتح پاؤ گے۔

دادا جان، یہ باتیں تو تم نے ایسی بتائیں کہ ہمارا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بالکل سچ ہے، انسان پر یہی گزرتا ہے۔ جب ہم اپنی بدیوں پر نظر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ مخالف قوت شیطان کیسی ہم پر غالب ہے تو ہم کو اپنی زندگی پر افسوس آتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ کاش ہم پیدا نہ ہوئے ہوتے۔

مگر ہم نہایت ادب اور عاجزی سے ایک بات اور پوچھنی چاہتے ہیں کہ شیطان نے خدا سے یہ کیا بات کہی کہ ''تم ہی نے مجھے بہکایا ہے، میں بھی انسان کو بہکاتا ہی رہوں گا۔'' یہ تو غلط معلوم ہوتی ہے۔ بھلا خدا نے شیطان کو کاہے کو بہکایا ہو گا۔ کیا خدا شیطان کا شیطان تھا اور اگر خود خدا نے ایسا کیا تو پھر اس کو سجدہ کا کیوں حکم دیا۔

نعوذ باللہ، نعوذ باللہ، بیٹا توبہ کرو توبہ کرو۔ گالوں پر طمانچے مارو۔ یہ کیسی کفر کی باتیں تم نے کہیں۔ یہ غلط نہیں ہے بالکل سچ ہے۔ قرآن میں بھی لکھا ہوا ہے: ''قال فبما اغویتنی لاقعدن لھم صراطک المستقیم'' یعنی شیطان نے خدا سے کہا کہ اس سبب سے کہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا میں بھی ان کی باٹ مارنے کے لیے تیری سیدھی راہ میں بیٹھوں گا۔

مگر غور کرو اور سمجھو کہ اس کا مطلب کیا ہے اور کس بات کا اشارہ ہے۔ سمجھو کہ وہ سرکش قوت خود خدا نے بنائی ہے اور اس سرکشی کی قوت خود خدا نے اس میں رکھی ہے۔ پس ان لفظوں سے کہ تو نے ہی مجھ کو بہکایا ہے، اسی بات کا اشارہ ہے کہ اس قوت کا خالق اور اس قوت کو یہ قوت دینے والا بھی وہی ایک خدا ہے اور یہی اس کا بہکانا ہے، مگر خدا نے انسان میں ایسے بھی قویٰ رکھے ہیں جو اس کو زیر اور مطیع کر سکتے ہیں اور یہی حکم دینا ہے کہ آدم کو سجدہ کر۔ پس ان دونوں صفتوں کو عام فہم کرنے کو خدا نے تمثیلی زبان سے یوں بتایا کہ خدا نے شیطان کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کر، یعنی ایسے بھی اسباب بنا دیے ہیں کہ وہ انسان کا مطیع ہو سکتا ہے۔ دیکھو ایوب پیغمبر نے ایسا اس کو مطیع کیا۔ پھر یوں کہا کہ اس نے سرکشی کی اور خدا کا حکم نہ مانا، یعنی وہ قوت ایسی سرکش ہے کہ مطیع ہو ہی نہیں سکتی۔ ایک موقع پر ہم گناہ سے بچتے ہیں اور دوسرے موقع پر گناہ میں پڑتے ہیں۔ اگر نہیں پڑتے تو ہم کو اس دشمن کو ہر وقت و ہر دم دبائے رہنا اور باندھے رکھنا تو ضرور پڑتا ہے اور وہ ہر دم چھوٹنا اور ہم پر حملہ کرنا تو ضرور چاہتا ہے۔ پس اس حقیقت کو نبیوں کی زبان نے کیسی عمدہ طرح پر حکم اور نافرمانی کی اصطلاح میں بیان کیا ہے۔ صلوات اللہ علیہم اجمعین۔

دادا جان! جو کچھ تم نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ خدا ہی نے تم کو بتایا ہے، کیونکہ آج تک کسی انسان نے تو ایسے حقائق و معارف بیان نہیں کیے جس سے دل کو تسکین ہو۔ آپ ہی پر خدا نے اپنا فضل کیا ہے جو آپ کے دل سے ایسے حقائق و معارف نکلتے ہیں۔ اب تو ہمیں پوچھتے بھی شرم آتی ہے مگر دو چار باتیں تو اور بتا دیجیے۔

بیٹا! تم کچھ شرم مت کرو، پوچھتے جاؤ۔ خدا کی بات میں کچھ غلطی ہو ہی نہیں سکتی، ہاں ممکن ہے کہ میری بات یا میری سمجھ میں غلطی ہو جاوے۔ میں بھی انسان ہوں۔ جس طرح تم غلطی میں پڑ سکتے ہو میں بھی پڑ سکتا ہوں۔ میرے اسی قدر کلام میں غلطی نہیں ہوتی جس قدر کہ مجھ کو وحی آئی ہے۔ یہ سب باتیں میں نے وحی سے نہیں کہیں، بلکہ خود اپنے میں اور تم میں دیکھ دیکھ کر کہی ہیں اور ہر شخص ان باتوں کو اگر اس کو خدا دیکھنے کے لائق آنکھ دے خود دیکھ سکتا ہے۔

دادا جان! خدا نے یہ کیا کہا کہ میں نے شیطان کو آگ سے پیدا کیا اور پہلے فرشتوں میں تھا پھر مردود کر دیا۔ وہ تو ایک قوت خود ہم میں ہے۔

بیٹا! تمام قوائے انسانی پر جس میں وہ سرکش قوت بھی داخل تھی فرشتوں کا اطلاق کیا گیا اور جب اس ایک قوت کا سرکش ہونا بتایا گیا تو اس کو ان میں سے علیحدہ کر کر شیطان بتایا۔ پس یہی اس کا مردود ہونا اور فرشتوں میں سے نکالا جانا ہے۔

اب تم خود اپنے میں غور کرو کہ تمہارے قویٰ کی ترکیب میں ایک قسم کی حرارت ہے جس کو کوئی حرارتِ غریزی اور کوئی مادہ الکٹرسٹی کہتا ہے۔ اس تمام حرارت کا سرجوش وہ قوت ہے جس کو قوتِ سرکش یا شیطان بتایا ہے۔ بس وہ قوت سب سے اوپر ہے اور باقی قوتیں اس سے نیچے۔ پس شیطان کا یہ کہنا کہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین بالکل ٹھیک اور مطابقِ واقع کے ہے۔ مولوی صاحب جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی روٹی پکانے کے چولھے کی آگ سے شیطان بنایا ہے، یہ ان کی نادانی ہے۔

بھلا دادا جان! جس درخت کے کھانے سے خدا نے منع کیا تھا وہ کیا قوت تھی اور اس کا کھانا یا استعمال میں لانا کیا حالت تھی؟

بیٹا! وہ قوت عقل و علم ہے، کیونکہ علم کے لیے عقل کا ہونا بھی لازم ہے اور جب انسان اس حد کو پہنچتا ہے کہ اس قوت کو استعمال میں لانے کے قابل ہو جاوے، اس حالت کا نام انبیاء کی زبان میں شجرِ ممنوعہ کا کھانا چکھنا ہے اور زبانِ شرع میں اس کا مکلف ہونا اور زبانِ حکماء میں اس کا بالغ ہونا ہے۔

دادا جان! یہاں تو بڑی مشکل پیش آئی، اس لیے کہ انسان کا چھٹپنے سے بڑا ہونا اور عقل و تمیز کی حالت تک پہنچنا ایک ضروری اور لازمی بات ہے۔ اگر انسان زندہ ہے تو خواہ نخواہ اس حالت تک پہنچتا ہے، پھر خدا کا اس درخت کے کھانے سے منع کرنے کا اور انسان کا اس کو کھا لینے کا اور خدا کی نافرمانی کر کر گنہگار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

بیٹا تم نے نہایت عمدہ بات کہی۔ تمہاری عقلمندی سے میں بہت خوش ہوا۔ جو کچھ تم نے کہا یہ سب سچ ہے مگر اس مقام پر ایک نہایت عمدہ اور مشکل مسئلہ جبر و قدر کا نہایت خوبی اور سہل تمثیل سے حل کیا گیا ہے۔

بعضے لوگ خیال کرتے ہیں کہ انسان بالکل مجبور ہے۔ خواہ نخواہ اس کو وہی باتیں کرنی پڑتی ہیں جو اس کے لیے مقرر ہو چکی ہیں اور بعضے خیال کرتے ہیں کہ وہ خود مختار اور اپنے تمام افعال پر قادر ہے جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ بعضے خیال کرتے ہیں کہ نہ مجبور ہے نہ قادر ہے، بین الجبر والاختیار ہے، جیسے ایک مچھلی والے نے ایک بادشاہ کو مچھلی نذر کرتے وقت اس خیال سے کہ بادشاہ اس کا جوڑا نہ مانگے، کہا تھا کہ یہ مچھلی مخنث ہے۔ اس مقام پر خدا تعالیٰ کو یہ بات بتلانی تھی کہ جو قویٰ کہ انسان کو خدا نے دیے ہیں وہ خود ان کا مالک و مختار ہے اور ان سب کو خود کام میں لا سکتا ہے۔ پس خدا کے منع کرنے اور انسان کا اس کے کھا لینے سے انسان کا ان قویٰ پر جو اس کو دیے گئے ہیں قادر ہونا اور ان کے استعمال کی خود قدرت رکھنا بتایا گیا ہے اور جو کہ اس حالت تک پہنچنا اور عقل و تمیز حاصل کرنا انسان پر گناہ ہونے کا سبب ہے اس لیے خدا نے فرما دیا کہ اس حالت پر پہنچنے کے بعد آدم گنہگار ہوا۔

من ملک بودم و فردوس بریں جایم بودآدم آورد دریں دیرِ خراب آبادم

السعید من سعد فی بطن امہ والشقی من شقی فی بطن امہ نہایت صحیح اور سچا قول ہے۔ جو کچھ اس وقت تم انسان کی حالت دیکھتے ہو، اچھی یا بری یہاں تک کہ نبیوں کی نبوت اور عابدوں کی عبادت، زاہدوں کا زہد، معشوقوں کا حسن، عاشقوں کا عشق، شاعروں کی شاعری، فاسقوں کا فسق، کافروں کا کفر، یہ سب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں سے لے کر نکلے ہیں۔ پس نبی کو نبوت اور عابد کو عبادت اور زاہدوں کو زہد، معشوقوں کو حسن، عاشقوں کو عشق، شاعروں کو شاعری، فاسقوں کو فسق، کافروں کو کفر لازمی اور ضروری ہے کہ بے ہوئے رہ ہی نہیں سکتا۔ جو شخص جو کچھ اپنی ماں کے پیٹ سے لایا ہے وہ اسی کو گاتا ہے۔

انبیاء یوں فرماتے ہیں کہ انا نبی و آدم بین الماء والطین۔ سعداء یوں کہتے ہیں کہ انا سعید و آدم بین الماء والطین۔ اشقیاء کا یہ قول ہے کہ انا شقی و آدم بین الماء والطین۔ اور ہمارا یہ قول ہے کہ انا احمد و آدم بین الماء والطین۔

مگر نہ عابد کی نجات عبادت پر ہے اور نہ فاسق کی درکات اس کے فسق پر، بلکہ انسان کی نجات صرف اس پر ہے کہ جو قویٰ خدا تعالیٰ نے اس میں رکھے ہیں اور جس قدر رکھے ہیں، ان سب کو بقدر اپنی طاقت کے کام میں لاتا رہے۔ اگر قوائے بہیمیہ اس پر غالب ہیں اور قوائے ملکیہ کمزور تو ان کمزور قویٰ کو بیکار نہ چھوڑے، ان کو بھی کام میں لاتا رہے کہ یہی ان گناہوں کا علاج ہے جس کو انبیاء کی زبان میں توبہ اور کفارہ کہتے ہیں اور جس کو شارع نے ان عمدہ لفظوں میں کہ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ بیان فرمایا ہے۔ پس یہ مشکل اور باریک مسئلہ تھا جو اس آسان اور عام فہم تمثیل میں خدا نے فرمایا۔

دادا جان! خدا کا شکر ہے کہ ہم بھی ان حقائق و معارف کو جو آپ کی زبانِ مبارک سے سنا اپنی ماں کے پیٹ سے لے کر نکلے تھے، مگر یہ تو فرمائیے کہ آدم کا زمین پر نائب کرنا اور فرشتوں کا تکرار کرنا اور خدا کا آدم کو سب چیز کے نام سکھانا کیا معنی ہیں۔

بیٹا! زمین موجود ہے، انسان موجود ہے، دیکھ لو کہ زمین کی تمام مخلوقات میں زمین کی بادشاہت اور خدا کی نیابت کس کو ہے۔ کیسے فرشتے، کیسی تکرار، یہ تو خطابیات کی قسم سے بیان ہے۔ قویٰ جس قدر کہ ہیں ہمیشہ وہی کام کرتے ہیں جس کے لیے وہ مخلوق ہیں: لا یعصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یؤمرون، مگر انسان ہی ایسی مخلوق ہے کہ وہ نیکی بھی کر سکتا ہے اور بدی بھی۔ پس خدا نے اس مقام پر انسان کی حقیقت بیان کر دی کہ وہ کیسے کیسے سخت گناہوں کے کرنے پر قادر ہے مگر اسی کو نائب کرنے کی وجہ کو بھی بتایا کہ وہ قابلِ تعلیم ہے اور اس کی غلطیاں اصلاح کے قابل ہیں اور وہ ایسے اعلیٰ درجہ تک ترقی کر سکتا ہے جہاں فرشتوں کا بھی مقدور نہیں، کیونکہ ان میں جو بات ہے اس سے زیادہ ترقی کی قوت ان میں نہیں ہے۔ قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا۔ خدا نے آدم کو تمام چیزوں کے نام اس طرح پر نہیں سکھائے تھے جس طرح کہ انا بچے کو سکھاتی ہے، بلکہ تمام چیزوں کا سکھانا وہ ملکۂ علم انسان میں ودیعت کرنا ہے جس سے آج ہم بقدر اپنی طاقت کے خدا کی خدائی کے کارخانوں پر فکر کرتے ہیں اور جہاں تک ہو سکتا ہے اس کو جانتے ہیں۔

تم خود اپنے حال پر خیال کرو کہ تم میاں جی سے یا مولانا صاحب سے پڑھتے ہو اور فضیلت کی دستارِ مبارک سر پر باندھ لیتے ہو۔ کیا میاں جی صاحب یا جناب مولانا صاحب تم کو سب کچھ پڑھا دیتے ہیں؟ نہیں، بلکہ ایک ملکہ تم میں حاصل ہوتا ہے جس سے تم عالم کہلاتے ہو، پس خدا جو اس ملکہ کا تم میں پیدا کرنے والا ہے اگر یوں کہے کہ و علم آدم الاسماء کلھا تو کون سی اس میں مشکل بات ہے۔

بھلا دادا جان، یہ تو ہوا مگر یہ تو فرمائیے کہ آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے، یہ نام سکھانے سے کیا مطلب تھا؟

ارے بیٹا! یہی تو خدائی کا بھید ہے، خدا بڑا استاد ہے۔ پچھلا داؤں ہمیشہ اٹھا رکھتا ہے۔ اس لفظ میں یہ بھید ہے کہ خدا نے انسانوں کو حقیقتِ اشیاء کچھ نہیں بتلائی۔ انسان سب کچھ بتلا سکتا ہے، مگر حقیقتِ اشیاء نہیں بتلا سکتا۔ پس جب حقیقت نہیں بتا سکتا تو جو کچھ وہ بتلاتا ہے صرف اسماء ہیں نہ حقائق، اسی لیے خدا نے فرمایا: و علم آدم الاسماء کلھا۔

دادا جان! آپ نے تو یہ ایسی بات کہی کہ دل میں کھب گئی۔ اب تو بالکل دل کو تسلی ہو گئی مگر ایک شبہ پھر دل میں اٹھا کہ خدا نے ایک ایسا قصہ بیان کیا جو حقیقت میں واقع نہ ہوا تھا۔ اگر ادب سے ہم کچھ نہ کہیں تو نہ کہیں مگر دل میں تو ہم ضرور کہیں گے کہ جھوٹ یا فرضی قصہ ہے۔

استغفر اللہ۔ کیا حماقت کی بات تم نے اس وقت کہی۔ جو کوئی اس بیان کو قصہ یا حکایت سمجھے وہ خود نادان ہے۔ نہ یہ قصہ ہے نہ حکایت ہے، بلکہ خدا نے اصلی حالاتِ فطرتِ انسانی کو جسے اس زمانہ کے حکماء نیچر کہتے ہیں، خود انسان کی فطرت کی زبانِ حال سے بیان کیا ہے جو ایک نہایت عمدہ اور فصیح اور مؤثر طریقۂ بیان کا ہے۔ جو لوگ اس سے ہدایت پانے کا دل رکھتے ہیں ہدایت پاتے ہیں، جو نہیں رکھتے وہ گمراہ ہوتے ہیں۔ کما قال اللہ تبارک و تعالیٰ: یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔

پس تمام عبادت اور تمام شکر اور تمام انسانیت یہی ہے کہ انسان اپنے تمام قویٰ کو جو خدا نے اس کو دیے ہیں کام میں لاتا رہے اور اسی طرح پر کام میں لاوے جس طرح کہ ان کا کام میں لانا ان کے صانع کی مرضی ہو اور اسی مرضی کے انسان پر ظاہر ہونے کا خدا تعالیٰ نے ان لفظوں سے وعدہ کیا ہے: اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون والذین کفروا و کذبوا بآیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.