Urdu in Translation
搜索
书签

第 27 章,共 29 章

效法文明民族

Following Civilised Nations

مہذب قوموں کی پیروی

赛义德·艾哈迈德·汗爵士

文字
字号

چھوٹا بچہ اپنے سے بڑے لڑکے کی باتوں کی پیروی کرتا ہے اور کم سمجھ والا اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ سمجھدار سمجھتا ہے اور ناواقف اس کی جس کو وہ اپنے سے زیادہ واقف کار جانتا ہے۔ اسی طرح نامہذب قوم کو تہذیب یافتہ قوم کی پیروی کرنی ضرور پڑتی ہے مگر بعضی دفعہ یہ پیروی ایسی اندھا دھندی سے ہوتی ہے جس سے بجائے اس کے کہ اس پیروی سے فائدہ اٹھاویں الٹا نقصان حاصل ہوتا ہے اور جس قدر ہم نامہذب ہوتے ہیں اس سے اور زیادہ ناشائستہ ہو جاتے ہیں۔

نامہذب آدمی جب تربیت یافتہ قوم کی صحبت میں جاتا ہے تو ان لوگوں کو بہت عمدہ پاتا ہے اور ہر بات میں ان کو کامل سمجھتا ہے، ہر جگہ ان کی تعریف سنتا ہے مگر ان میں جو خراب عادتیں ہیں ان کو بھی دیکھتا ہے۔ مثلاً شراب پینا، جوا کھیلنا وغیرہ۔ پس یہ شخص ان باتوں کو بھی ان کے کمالوں ہی میں تصور کر لیتا ہے۔ ان میں جو خوبیاں اور کمالات درحقیقت ہیں ان کو تو وہ حاصل نہیں کرتا اور نہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر جو بری باتیں ان میں ہیں ان کو بہت جلد سیکھ لیتا ہے۔

ایسا کرنا درحقیقت اس آدمی کی غلطی ہے کہ اس نے ان کے نقصوں کو ان کا کمال سمجھا ہے۔ وہ لوگ بسبب کسی دوسرے کمال و لیاقت اور خوبی کے جو ان میں ہے اور بسبب دوسری عمدہ خصلتوں کے جو انہوں نے حاصل کی ہیں، مہذب و شائستہ کہلاتے ہیں نہ بہ سبب ان باتوں کے جن کو اس نے سیکھا ہے۔ بلاشبہ مہذب آدمیوں کی برائیاں ان کی بہت سی خوبیوں اور کمالوں کے سبب چھپ جاتی ہیں اور لوگ ان پر بہت کم خیال کرتے ہیں، تاہم وہ برائیاں کچھ ہنر نہیں ہو جاتیں، بلکہ جو برائی ہے وہ برائی ہی رہتی ہے، گو کہ ایک مہذب قوم ہی میں کیوں نہ ہو۔

ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی قوم گو وہ کیسی ہی عمدہ اور مہذب ہو، مگر جو برائیاں اس میں ہیں وہ اس کے وصف نہیں ہیں بلکہ ان کے کمال کی کمی ہے جس کی پیروی ہم کو کرنی نہیں چاہیے۔ اگر ایک خوب صورت آدمی کے منہ پر ایک مسا ہو تو ہم کو خوب صورت بننے کے لیے ویسا ہی مسا اپنے منہ پر نہ بنانا چاہیے، کیونکہ وہ مسا اس کی خوب صورتی نہیں ہے، بلکہ اس کی خوبصورتی کا نقصان ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو یہ خیال کرنا مناسب ہے کہ اگر یہ مسا بھی اس کے منہ پر نہ ہوتا تو کتنا اور خوبصورت ہو جاتا۔

ہم بلاشبہ اپنی قوم کو اپنے ہم وطنوں کو سولیزڈ قوم کی پیروی کی ترغیب کرتے ہیں، مگر ان سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان میں جو خوبیاں ہیں اور جن کے سبب وہ معزز اور قابلِ ادب سمجھی جاتی ہیں اور سولیزڈ شمار ہوتی ہیں ان کی پیروی کریں، نہ ان کی ان باتوں کی جو ان کے کمال میں نقص کا باعث ہیں۔

اسی سبب سے جب کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری قوم نے کسی سولیزڈ قوم کی عمدہ خصلتوں اور عادتوں میں پیروی کی تو ہم کو بہت خوشی ہوتی ہے اور جب یہ سنتے ہیں کہ اس نے ان کی برائیوں کی پیروی کی اور شراب پینی شروع کی اور ہکا متوالا ہو گیا اور جوا کھیلنا سیکھا اور بے قید ہو گیا تو ہم کو نہایت افسوس ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری قوم عمدہ باتوں کو سیکھے گی اور بری باتوں کو ہمیشہ برا سمجھے گی۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。