Urdu in Translation
Search

Chapter 14 of 29

Los derechos de la mujer

The Rights of Women

عورتوں کے حقوق

Sir Syed Ahmad Khan

Script
Size

تربیت یافتہ ملک اس بات پر بہت غل مچاتے ہیں کہ عورت مرد دونوں باعتبار آفرینش کے مساوی ہیں اور دونوں برابر حق رکھتے ہیں، کوئی وجہ نہیں ہے کہ عورتوں کو مردوں سے کم اور حقیر سمجھا جاوے۔ اگر تمثیلاً کہا جاوے کہ عورت انسان کے لیے بمنزلہ بائیں ہاتھ کے ہے اور مرد بمنزلہ دائیں ہاتھ کے، یا قدر و قیمت میں عورت بمنزلہ سولہ آنے کے ہے اور مرد بمنزلہ روپے کے، تو بھی اس پر راضی نہیں ہوتے۔ باایں ہمہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر قدر و منزلت عورتوں کی مذہبِ اسلام میں کی گئی ہے اور ان کے حقوق اور ان کے اختیارات کو مردوں کے برابر کیا گیا ہے اس قدر آج تک کسی تربیت یافتہ ملک میں نہیں ہے۔ انگلنڈ جو عورتوں کی آزادی کی بڑی حامی کار ہے جب اس کے قانون پر جو عورتوں کے باب میں ہے نظر کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے عورتوں کو نہایت حقیر اور لایعقل اور لاشے سمجھا ہے۔

انگلنڈ کے قانون کے بموجب عورت شادی کرنے کے بعد معدوم الوجود متصور ہوتی ہے اور ذاتِ شوہر سے مبدل ہو جاتی ہے۔

وہ کسی قسم کے معاہدے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس لیے وہ کسی دستاویز کی جو اس نے خود اپنی مرضی سے بلا شوہر کی مرضی کے لکھی ہو، ذمہ دار نہیں ہو سکتی۔

جو ذاتی اسباب اور مال و نقد و جائداد قبل شادی عورت کی ملک ہو، وہ سب بعد شادی بقبضۂ شوہر آ جاتی ہے۔

جو جائداد کہ عورت کو وراثتاً قبل شادی کے یا بعد شادی کے ملی ہو اس سب پر اس کا شوہر تاحینِ حیات قابض ہو جاتا ہے اور وہی اس کا محاصل لیتا ہے۔

وہ مثل لایعقل شخص کے نہ کسی پر دعویٰ کر سکتی ہے اور نہ اس پر کوئی دعویٰ رجوع کر سکتا ہے۔

وہ بلا اجازت شوہر کے کوئی اسباب نہیں خرید سکتی اور کوئی چیز بیع نہیں کر سکتی۔

وہ بجز روٹی کھانے اور کپڑا پہننے اور ایک مکان میں رہنے کے خرچ کے جو ضروریاتِ زندگی کے لیے درکار ہے اور کوئی خرچ بغیر مرضی شوہر کے نہیں کر سکتی۔

۱۸۷۰ء میں پارلیمنٹ میں منکوحہ عورتوں کی جائداد کا ایک بل پیش ہوا تھا اس میں صرف یہ بات چاہی گئی تھی کہ وہ قانون جس کے ذریعے سے بعد شادی کے عورت اپنی جائداد سے محروم ہو جاتی ہے منسوخ کیا جاوے۔

آنریبل مسٹر رسل گرنی ممبر پارلیمنٹ نے یہ مسودہ قانون کا پیش کیا تھا، اس وقت انہوں نے نہایت لطیف بات یہ کہی تھی کہ حال کے قانون کے بموجب جو کچھ جائداد عورت کے پاس قبل شادی ہوتی ہے اور بعد شادی ملتی ہے اور جو کچھ کہ وہ اپنی محنت و لیاقت سے کماتی ہے بعد شادی کے وہ اس کا نہیں رہتا۔ سب پر شوہر مالک ہو جاتا ہے۔ پس شادی کا اثر اس عورت پر ایسا ہوتا ہے جیسا کہ کسی جرمِ قابلِ ضبطیِ جائداد کا اثر ہوتا ہے۔

اس گفتگو پر تمام ہاؤس آف کامنز ہنس پڑا اور اکثر ممبروں نے آنریبل مسٹر رسل گرنی کی تائید کی۔ پس انگلستان کے قانون کا عورتوں کی نسبت یہ حال ہے اور غالباً کوئی قانون اس سے زیادہ خراب اور مضرت رساں اور ناانصاف نہ ہو گا۔

ذکر مسلمانی قانون کا نسبت عورتوں کے

اب خیال کرو کہ مسلمانی قانون میں عورتوں کو کس طرح عزت دی گئی ہے اور مردوں کے برابر ان کے حقوق اور اختیار تسلیم کیے گئے ہیں۔

حالتِ نابالغی میں جس طرح مرد اسی طرح عورت بے اختیار اور ناقابلِ معاہدہ متصور ہے، الا بعد بلوغ وہ بالکل مثل مرد کے مختار اور ہر ایک معاہدے کے لائق ہے۔

جس طرح مرد اسی طرح عورت اپنی شادی کرنے میں مختار ہیں۔ جس طرح کہ مرد کی بے رضامندی نکاح نہیں ہو سکتا اسی طرح عورت کی بلا رضامندی نکاح نہیں ہو سکتا۔

وہ اپنی تمام ذاتی جائداد کی خود مالک اور مختار ہے اور ہر طرح اس میں تصرف کرنے کا اس کو اختیارِ کامل حاصل ہے۔

وہ مثل مرد کے ہر قسم کے معاہدے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی ذات اور اس کی جائداد ان معاہدوں اور دستاویزوں کی بابت جوابدہ ہے جو اس نے تحریر کی ہوں۔

جو جائداد قبل شادی اور بعد شادی اس کی ملکیت میں آئی ہو وہ خود اس کی مالک ہے اور خود اس کے محاصل کی لینے والی ہے۔

وہ مثل مرد کے دعویٰ بھی کر سکتی ہے اور اس پر بھی دعویٰ ہو سکتا ہے۔

وہ اپنے مال سے ہر ایک چیز خرید سکتی ہے اور جو چاہے اس کو بیع کرتی ہے۔ وہ مثل مرد کے ہر قسم کی جائداد کو ہبہ اور وصیت اور وقف کر سکتی ہے۔

وہ رشتہ داروں اور شوہر کی جائداد میں سے بہ ترتیبِ وراثت ورثہ پا سکتی ہے۔

وہ تمام مذہبی نیکیوں کو جو مرد حاصل کر سکتا ہے حاصل کر سکتی ہے۔

وہ تمام گناہوں کے عوض میں دنیا اور آخرت میں وہی سزائیں پا سکتی ہے جو مرد پا سکتا ہے۔

کوئی قیدِ خاص عورت پر بجز اس کے جو خود اس نے بسبب معاہدۂ نکاح کے اپنے پر قبول کی ہیں یا اس تفاوت سے جو عورت میں جو نیچر، یعنی قدرت نے دونوں میں مختلف طور سے بنایا ہے ایسی نہیں ہے جو مرد پر نہ ہو۔ پس حقیقت میں مذہبِ اسلام میں جس طرح کہ عورت و مرد کو برابر سمجھا ہے ویسا ہی نہ کسی مذہب میں ہے اور نہ کسی قوم کے قانون میں ہے۔

مگر تعجب اور کمال تعجب اس بات میں ہے کہ تمام تربیت یافتہ ملک مسلمانوں کی عورتوں کی جو حالت ہے اس پر بہت کچھ نام رکھتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ تربیت یافتہ ملک کی عورتوں کی حالت مسلمانوں اور مسلمان ملک کی عورتوں کی حالت سے بدرجہا بہتر ہے، حالانکہ معاملہ بالعکس ہونا چاہیے تھا۔

عورتوں کی حالت کی بہتری جو تربیت یافتہ ملکوں میں ہم نے تسلیم کی ہے اس میں کچھ یہی خیال ہم نے بے پردگی کی آزادی کا نہیں کیا ہے، کیونکہ ہماری رائے میں ہندوستان میں اس باب میں جس قدر کہ تفریط ہے اسی قدر تربیت یافتہ ملکوں میں افراط ہے اور جو حد کہ شرع نے مقرر کی ہے اور جہاں تک کہ انسان اس پر غور کر سکتا ہے اور اپنی عقل کو کام میں لا سکتا ہے، بلاشبہ وہی حد نہایت درست اور ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔ اس مقام پر جو ہم کو بحث ہے وہ صرف مردوں کے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حسنِ معاشرت اور تواضع اور خاطر داری اور محبت اور پاسِ خاطر اور ان کی آسائش اور آرام اور خوشی اور فرحت کی طرف متوجہ ہونا اور ان کو ہر طرح پر خوش رکھنا اور بعوض اس کے کہ عورتوں کو اپنا خدمت گزار تصور کریں ان کو اپنا انیس اور جلیس اور رنج و راحت کا شریک اور اپنے کو ان کی اور ان کو اپنی باعثِ مسرت اور تقویت کے سمجھنے پر بحث ہے۔ بلاشبہ جہاں تک کہ ہم کو معلوم ہے تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کے ساتھ یہ تمام مراتب بخوبی برتے جاتے ہیں اور مسلمان ملکوں میں ویسے نہیں برتے جاتے اور ہندوستان میں تو ایسی نالائقی اور خاک اڑتی ہے کہ نعوذ باللہ منہا۔

جو لوگ کہ ان خرابیوں کو مذہبِ اسلام کی طرف نسبت کرتے ہیں یقینی ان کی غلطی ہے، بلکہ ہندوستان میں جس قدر کہ عورتوں کی حالت میں تنزل ہے صرف اس کا باعث احکامِ مذہبِ اسلام کی بخوبی پابندی نہ کرنا ہے۔ اگر ان کی پابندی کی جاوے تو بلاشبہ یہ تمام خرابیاں دور ہو جاویں۔ معہذا بڑا باعث اس کا ان سولیزڈ، یعنی نامہذب ہونا مسلمانوں کا ہے۔ مہذب قوموں نے باوجودیکہ ان کے ہاں کا قانون نسبت عورتوں کے نہایت ہی ناقص اور خراب تھا، اپنی عورتوں کی حالت کو نہایت اعلیٰ درجے کی ترقی پر پہنچایا ہے اور مسلمانوں نے باوجودیکہ ان کا مذہبی قانون نسبت عورتوں کے اور ان کی حالت کی بہتری کے تمام دنیا کے قانون سے بہتر اور عمدہ تھا، مگر انہوں نے اپنے نامہذب ہونے سے ایسا خراب برتاؤ عورتوں کے ساتھ اختیار کیا ہے جس کے سبب تمام قومیں ان کی حالت پر ہنستی ہیں اور ہماری ذاتی برائیوں کے سبب اس وجہ سے کہ قوم کی قوم ایک حالت پر ہے، الا ماشاءاللہ، اس قوم کے مذہب پر عیب لگاتی ہیں۔ پس اب یہ زمانہ نہیں ہے کہ ہم ان باتوں کی غیرت نہ کریں اور اپنے چال چلن کو درست نہ کریں اور جیسا کہ مذہبِ اسلام روشن ہے خود اپنے چال چلن سے اس کی روشنی کا ثبوت لوگوں کو نہ دکھاویں۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.