
Chapitre 6 sur 10
Act Two, Scenes Three and Four
دوسرا ایکٹ، تیسرا اور چوتھا سین
دوسرا ایکٹ – تیسرا سین
ایرانی سرحد پر قلعہ سفید
(رات کا وقت۔ قلعے میں جلسہ مشاورت۔ تورانی لشکر کے روز افزوں فاتحانہ اقدام اور اپنی پیہم ہزیمت یابیوں سے خاطر شکستہ ہو کر ایرانی اکابرِ حکومت و عمایدینِ فوج مسئلۂ صلح پر مصروف بحث ہیں)
بہرام: سہراب۔ زوال کا نقیب، تخریب کا علم بردار، فنا کا پیامی، موت کی سانس کا شعلہ ہے۔ ہمارا قلعہ سفید ویرانہ عبرت، ہمارے نگارستانِ عیش مقتلِ آرزو، ہمارے محلات و باغات گھوڑوں کے طویلے بن جائیں۔ ہماری مالی آسودگی، معاشرتی شیرازہ، ملکی نظام، قومی وقار، جنگی ذخیرے، سر برآوردہ افراد اور بہترین سپاہیوں کی قیمتی زندگیاں برباد ہوں ـــــ ان یقینی الم ناک نتائج کے سوا اس لشکر کشی و صف آرائی کا اور کوئی حاصل نہیں ہے۔ سہراب کی تلوار کی جھنکار کو ہمیں اپنی شومیٔ قسمت کی طرف سے اعلان جنگ تصور کرنا چاہیے۔
گستہم: لیکن ہم نتیجے کے ظہور سے اول ہی کیوں یقین کرلیں کہ تقدیر ہمارے خلاف اس جنگ کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جب تک ہمارے پاس قلعہ سفید کی بلند و مستحکم دیواریں ہیں، حوصلوں میں توانائی ہے، آزادی کی محبت ہے۔ سرفروشی کا جذبہ ہے، جوش فدائیت کی فراوانی ہے۔ اس وقت تک ایک کم عمر نوخیز قوت کے سامنے تلواریں پھینک کر ایران و توران کی نظر میں اپنے دعویٰ شجاعت کو ذلیل نہ کرنا چاہیے۔
سردار۱: بے شک۔ حوصلوں کی پستی ذلت کی طرف مرد کا پہلا قدم ہے۔ مجھے ابھی تک ارادوں کی پسپائی کا کوئی معقول سبب نظر نہیں آتا۔ دنیا امید کی جلوہ گاہ ہے، مایوسی کا ظلمت کدہ نہیں ہے۔ احساس کا نام زندگی اور جوش عمل کا نام کامیابی ہے۔
سردار۲: آپ کی رائے مرض کی صحیح تشخیص ہے۔ دشمن کے حملے کا خوف، حملے سے زیادہ ہیبت ناک ہوتا ہے۔ یہ صرف ہمارا واہمہ ہے جو ہمارے سامنے شکست یافتہ مستقبل کی اشک بار تصویر پیش کر رہا ہے۔
بہرام: امید آپ کی توقعات کو فریب دے رہی ہے ـــــ ہوا میں گرہ دینے کی ناکام و بے نتیجہ کوشش نہ کیجیے۔ اپنی طاقت کا غلط اندازہ کرنا، یہ آپ کی پہلی غلطی اور سہراب کو طفل شیر خوار یا معمولی نبرد آزما سمجھنا، یہ دوسری غلطی ہے۔ میں ملک کی بہبودی کے لیے بہترین مشورہ دے کر اپنی ذمہ داری اور قومی فرض سے سبک دوش ہوچکا۔ ہر شخص اپنی رائے کا مالک ہے۔ لیکن خاموش ہونے سے پیشتر ایک بار پھر متنبہ کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے لیے امن و آشتی کا دروازہ بند کر رہے ہیں۔ وقت کی آنکھیں بدل چکی ہیں۔ سہراب کے قوائے حربی اور فتوحات جلیلہ کو ہیچ سمجھ کر اس سے برسرِ جنگ ہونا، جنگ نہیں، خودکشی ہے۔
گستہم: (حاضرین سے) مجھے اپنی رائے کے درست و بے خطا ہونے پر اصرار نہیں ہے۔ قیاس کی پیشین گوئی صحیح بھی ہوتی ہے اور غلط بھی ـــــ سنیے جلسہ مشورت کے سامنے میں نے اپنا ذاتی خیال پیش کر دیا۔ اب آپ لوگ متفق ہو کر خود فیصلہ کر لیں کہ پیش نظر مشکلات میں کیا کرنا چاہیے۔ جنگ یا صلح؟
سردار۳: جب لشکر بے حوصلہ، اسباب مدافعت کمزور، حالات ناموافق، تدبیر خلاف، اُمید فتح موہوم اور قوی بازو دشمن کے حملے کامیاب ہیں ـــــ تو ایسے برگشتہ وقت میں ضرورت صلح کا احساس نہ کرنا، اپنی آرائش حیات اور ذرائع نجات سے دست بردار ہونا ہے ـــــ میری رائے صلح کے حق میں ہے۔
سردار۴: سہراب کا حملہ ایک اتفاقی آندھی ہے، جو تھوڑی دیر مطمئن فضا میں اضطراب پیدا کرکے اپنی طاقت کی نمائش کے لیے دوسری طرف روانہ ہوجائے گی۔ اس لیے ابلہانہ جوش سے مشتعل ہو کر ہنگامی آفت کو دائمی مصیبت نہ بنانا چاہیے۔ ورنہ زندگی کی غلطیوں میں یہ سب سے زیادہ ہولناک غلطی ہوگی۔
گستہم: (بہرام سے) جب کثرت رائے جنگ کی مخالف ہے، تو آپ ہماری جانب سے صلح کے قاصد بن کر جائیے۔ سہراب سے کہیے کہ دوستی کی نسیم بہار سے دشمنی کا موسم خزاں ختم ہوا۔ ہم جان و مال کی سلامتی کے وعدے پر اپنا قلعہ حوالے کرنے کو تیار ہیں۔
بہرام: وقت کی یہی پکار تھی۔ ضرورت و مصلحت کا یہی مطالبہ تھا ـــــ ملک کی بنیادیں آنے والے زلزلے کی دہشت سے کانپ رہی تھیں۔ آپ نے اس فیصلے سے بند باندھ کر خون و تباہی کے سیلاب کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ بربادی کے ہاتھ کے حربے چھین لیے۔ بدبختی کی امیدیں توڑ دیں ـــــ میں آپ کی دانائی و مآل اندیشی کو مبارک باد دیتا ہوں۔ میری زبان سے سہراب کا شکریہ آمیز جواب سننے کے لیے آمادہ رہیے۔
(غصہ اور جوش کے ساتھ گُرد آفرید کا داخلہ)
گُرد آفرید: ٹھہرو۔ کہاں جاتے ہو؟
بہرام: صلح کرنے۔
گُرد آفرید: کس سے؟
بہرام: سہراب سے۔
گُرد آفرید: سہراب سے! ایران کے بدترین بدخواہ سے!! قوم کی آزادی کے غاصب سے!!! جبر و استبداد کے نمائندے سے؟ ـــــ طاقت ور سے کمزور کا، پتھر سے شیشے کا، آندھی سے تنکے کا کبھی اتحاد نہیں ہوتا۔ صلح برابر والوں میں ہوتی ہے، اور طاقت کا ثبوت دینے کے بعد ہوتی ہے ـــــ یہ غیر مساوی صلح پست ہمتی کا اظہار بے کسی ہے۔ ذلت کی پرستش کا معاہدہ ہے۔ ملک فروشی کی دستاویز ہے۔ تمھاری عزت کی پیشانی پر دائمی غلامی کی مہر اور تمھاری مادرِ وطن کے پُر جلال چہرے پر شرم کی سیاہی کا داغ ہے۔
مردود ہے وہ کوشش، ملعون ہے وہ خامہ
آزادیٔ وطن کا لکھے جو بیع نامہ
عزت سمجھ رہے ہو غیروں کی بندگی میں
مر جاؤ ـــ گر ہے جینا ذلت کی گندگی میں
بہرام: گُرد آفرید۔ حریف کی طاقت اور ملک کی کمزوری کا صحیح اندازہ کرنے کے بعد رائے ظاہر کرو۔ غلط جوش عقل کی گمراہی ہے ـــــ جس سہراب نے اس قلعۂ سفید کے محافظ ہجیر جیسے طاقت کے پہاڑ کو گھوڑے سمیت اٹھا کر مٹی کے ڈھیلے کی طرح زمین پر پھینک دیا۔ اس محبوبِ تقدیر و خداوند شمشیر کو ہم پاشکستہ تدبیروں اور مجنونانہ تقریروں سے فتح نہیں کر سکتے۔
گُرد آفرید: فتح جرأت و عزیمت سے ملا کرتی ہے۔ سوچنے رونے اور بیوہ عورت کی طرح ہائے ہائے کرنے سے نہیں ملتی۔ فتح بے عزتی کے غلاموں کی مالکہ اور ہمت کے آقاؤں کی کنیز ہے۔ بزدل قسمت سے فتح کی بھیک مانگتے اور جری قسمت کے منھ پر تھپڑ مار کر فتح کو اپنی مِلک اور حق سمجھ کر زبردستی حاصل کرتے ہیں۔
جرأت ہے جس کے پاس وہی فتح مند ہے
جھک جائے گا جہان جو ہمت بلند ہے
اٹھو، بڑھو، دکھاؤ کہ طاقت ہے پاؤں میں
ملتی ہے فتح مرد کو، خنجر کی چھاؤں میں
بہرام: لیکن جب صلح کرلینے سے ہمارا قلعہ، وجاہت، ثروت، زندگی، ہر شے شامت و ہلاکت سے محفوظ رہتی ہے تو فولاد پیکر سہراب سے پنجہ کشی کرکے ہمیں دنیا میں اپنی حماقت کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
گُرد آفرید: شرم کر! شرم کر!! خود غرضی کے بازار میں دولت و راحت کے مصنوعی سکوں پر قوم کا اقتدار و حرمت فروخت کر دینے کو تو شرافت کا سودا جانتا ہے؟ پالو کتے کی طرح گلے میں سہراب کی اطاعت کا پٹہ ڈال کر اس کے پاؤں چاٹنے کو عزت کی زندگی سمجھتا ہے؟
تری زباں ہے فسانہ نمک حرامی کا
سبق پڑھاتا ہے اوروں کو بھی غلامی کا
بہرام: خبردار۔ گُرد آفرید۔ تو کسی معمولی شخص سے ہم کلام نہیں ہے۔ میری شخصیت و حیثیت کا ادب کر۔ جا۔ گھر میں جا ـــــ سلطنت کے انتظام میں عورت کو دخل دینے کا حق نہیں ہے۔
گُرد آفرید: شرافت باختہ، بے حیا، تو مجھے عورت کہتا ہے۔ آ، عمل کے آئینے میں ہم دونوں اپنے چہرے دیکھیں اس وقت تیری حقیقت تیرے سامنے بے نقاب ہوجائے گی۔ تیری نگاہیں شرم کے بوجھ سے دب کر زمین میں دفن ہوجائیں گی۔ اور تجھے معلوم ہو جائے گا کہ گُرد آفرید عورت نہیں، بہرام عورت ہے۔ کیونکہ میں عورت ہو کر بھی دنیا کے شریف ترین مرد کی طرح ملک و قوم کے دشمن کا سر اپنے پیروں سے روندنا چاہتی ہوں ـــــ اور تو مرد ہو کر ایک آبرو فروش عورت کی طرح اپنی پلکوں سے سہراب کے پاؤں کی گرد صاف کرنا اور اس کی پاپوش کو اپنے سر کا تاج بنانا چاہتا ہے۔
بہرام: ذلیل ـــــ زباں دراز ـــــ
(گُرد آفرید پر تلوار سے حملہ کرتا ہے اور وہ کلائی مروڑ کر تلوار چھین لیتی ہے)
گُرد آفرید: کتا شیرنی پر حملہ نہیں کر سکتا۔ وطن کے دشمن (لات مار کر) جا۔ سہراب کے کفش برداروں کی فہرست میں نام لکھا کر اپنی عزت افزائی پر فخر کر ـــــ تیری قسمت میں نہ شریفوں کی زندگی ہے۔ نہ بہادروں کی موت ہے۔
بہرام: گُرد آفرید۔ میں اس توہین کا خوفناک بدلہ لوں گا ـــــ تجھ سے بھی ـــــ اور جو یہ نظارہ دیکھ کر اپنی مجرمانہ خاموشی سے تیری تائید کر رہے ہیں۔ ان سے بھی۔
(غصے میں سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا چلا جاتا ہے)
گُردآفرید: ایران کے دلیرو۔ یہ دوست نما منافق، جس کے پاس مردانہ روح، شرم، ایمان، کچھ نہیں ہے۔ ذاتی مفاد کی نگہہ داشت جس کا اصول، مطلب پرستی جس کی زندگی کا معیار و معراج، اور دغا جس کا ضمیر ہے، اپنی گویائی کی حرارت سے تمھارے دل میں ہمت کے لہراتے ہوئے چشموں کو خشک کر کے تمھیں بھی اپنی طرح مردودِ خلائق بنانا چاہتا تھا۔ خدا نے تمھیں اس نگوں ساری و خواری سے بچا لیا ہے۔ بہادرو! سہراب اس دنیا میں دنیا سے کوئی علٰحدہ چیز نہیں ہے۔ وہ بھی تمھاری ہی طرح مٹی، پانی سے بنا ہوا انسان ہے۔ وہ بھی تمھاری ہی طرح اپنی زندگی کی مدت اور موت کے وقت سے بے خبر ہے۔ اس لیے تنکے کو پہاڑ اور پہاڑ کو آسمان سمجھ کر اپنی طاقتوں کو حقیر نہ سمجھو ـــــ اٹھو ـــــ اٹھو ـــــ مست ہاتھی کی طرح جھوم کر، آندھی کی طرح جھلا کر، بادل کی طرح گرج کر، بجلی کی طرح تلواریں کھینچ کر حفاظت وطن کے لیے اُٹھ کھڑے ہو۔ جہاں بزدلی ہے۔ وہیں شکست ہے۔ اور جہاں جرأت ہے وہیں فتح ہے۔
گستہم: خوف خیال کا خواب ہے۔ تم نے اس خواب سے ہمیں بیدار کر دیا۔
سب: زندہ باد گرد آفرید۔
گُردآفرید: زندہ باد۔ ایران۔
(سب جوش میں تلواریں کھینچ لیتے ہیں)
دوسرا ایکٹ – چوتھا سین
(میدان جنگ کا ایک حصہ)
(ہومان، بارمان اور قلعہ سفید کے محافظ ہجیر کے ساتھ سہراب کا داخلہ، ہجیر کے دونوں ہاتھ بندھے ہیں)
سہراب: تم قلعہ سفید کے محافظ ہو؟
ہجیر: ہاں۔
سہراب: تمھارا نام؟
ہجیر: ہجیر۔
سہراب: قلعے کے حاکم کا نام؟
ہجیر: گژدہم۔
سہراب: اگر قید کی زندگی کو، جس کے سر پر موت کی تلوار لٹک رہی ہے، آزاد زندگی سے بدلنا چاہتا ہو، تو تنبیہ آمیز خط لکھ کر انجام سے غافل گژدہم کو آگاہ کرو کہ خوفناک مستقبل، تباہی و بربادی کے جلوس میں قلعے کے پھاٹک کے سامنے پہنچ گیا ـــــ اس لیے رحم و معافی حاصل کرنے کے لیے میرے حضور میں آکر نذرانۂ اطاعت پیش کرے۔
ہجیر: قویٰ کے ساتھ میری قوت حافظہ بھی ضعیف ہو گئی ہے۔ اس لیے عمر کے آخر دنوں میں غداری کا سبق یاد نہیں کر سکتا۔
سہراب: یعنی؟
ہجیر: تم نے میدان جنگ میں شکست دے کر میرے جسم کو قید کر لیا ہے۔ میری روح تمھارے قید و بند میں نہیں ہے۔ میرا ضمیر اور میرا جذبۂ وطن پرستی آزاد ہے اور ہمیشہ آزاد رہے گا۔ خلش و خطرہ سمجھ کر انتہائی عقوبتوں کے ساتھ قتل کر دو۔ یا فتح کی یادگار سمجھ کر زندہ رکھو۔ لیکن میں لالچ سے مغلوب اور تکلیفوں سے دہشت زدہ ہو کر اپنے ملک کی غلامی کے کاغذ پر کبھی دستخط نہ کروں گا۔
سہراب: عقل کی شرکت میں اپنی غلط کار رائے پر نظر ثانی کر۔ موت کے جبڑے میں ملک کو نہ جھونک۔ میری اطاعت ہی میں تیرے اہلِ وطن کی زندگی ہے۔
ہجیر: زمین پر رینگتے ہوئے حقیر کیڑوں کی طرح صرف حرکت کرنے اور سانس لینے کا نام زندگی نہیں ہے۔ آزادی اور اختیار سے محروم ہو کر پامال گھاس کی مانند جینا، انسانیت کی موت ہے۔ میری تمنا ہے اور دعا ہے کہ میرے اہلِ وطن جئیں۔ لیکن غلام بن کر نہیں، آقا بن کر۔ کتے کی طرح نہیں، شیر کی طرح۔
سہراب: گژدہم کو خط لکھ کر تسلیم شکست کا مشورہ دینا تیری طرف سے اس ملک کی سب سے بڑی خدمت تھی۔ تیرے انکار نے ثابت کر دیا کہ تو سخت بے وقوف ہے۔
ہجیر: ملک کے نمک حراموں کو ملک کے دشمن بھی احترام کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ میں بے وقوف کہلانا پسند کرتا ہوں لیکن اپنے بے داغ و معزز نام کے ساتھ دغاباز اور قوم فروش کے خطاب کا اضافہ نہیں چاہتا۔
سہراب: اچھا تو اب میرے غضب کی ہولناکیوں کو رحم الزام نہیں دے سکتا۔ (ہومان اور بارمان سے) خوں ریزی و تبہ کاری کے مقید درندوں کی زنجیریں کھول کر قلعۂ سفید پر حملہ آور ہونے کے لیے آزاد کر دو۔ اور غم کی سیاہ راتِ میں برباد شدہ وطن کے تودہ خاک پر الّو کی طرح ماتم کرنے کے لیے اس بدبخت کو قید میں رکھو ـــــ لے جاؤ ـــــ یہی ناشکر گزاری کی کم سے کم سزا ہے۔ (ہومان۔ بارمان ہجیر کو لے جاتے ہیں) یہ یقین کے فریب خوردہ، یہ نیم مجنون ایرانی، امید کی زمین میں ہنسی بو رہے ہیں۔ لیکن انھیں بہت جلد آنسوؤں کی فصل کاٹنی ہوگی۔ مرے قدموں کو بوسہ دے گی جھک جھک کر جبیں تیری
بساطِ عجز بن جائیگی سجدوں سے زمیں تیری
اٹھا سکتا نہیں سر، تیغ جوہردار کے آگے
سُن۔ او ایران۔ جھک جا، اب مری تلوار کے آگے
(مردانہ لباس میں انتہائی جوش و غضب کے ساتھ گُرد آفرید کا داخلہ)
گُردآفرید: ایران کی تاریخ، شرفِ انسانیت و فتوحاتِ شرافت کا صحیفۂ زریں ہے، فروتنی و پامالی کا افسانۂ ذلت نہیں ہے۔ ایران اپنی علمی، اخلاقی، تمدنی اور جنگی قوتوں کے سامنے دنیا کا سر جھکانے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ جھکنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔
ایران کے قدموں میں ہے جیحون سے تا گنگ
اس خاک سے پیدا ہوئے طہمورث و ہوشنگ
ہر ذرہ ہے، خورشید کا ہم پایہ و ہم رنگ
ہر قطرہ ہے، طوفانِ قضا پوش، دم جنگ
ہر فرد یہاں کوہ فگن زور شکن ہے
یہ شیروں کا گہوارہ، شجاعت کا وطن ہے
سہراب: تیرے پاس پرشکوہ استعاروں اور فصیح و بلیغ لفظوں کا وافر سرمایہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن تو اپنی گویائی کے اسراف سے ایرانیوں کے حوصلوں کی بے مائیگی اور عزم و ہمت کے افلاس پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ قسمت کے افق پر صبح زوال کی پہلی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ پھر بھی احمق ایران ابھی تک زندگی کو شب راحت سمجھ کر دیرینہ عظمت کا خواب دیکھ رہا ہے۔
گُردآفرید: آفتاب کے عظمت و جلالت کا انکار اپنے بے بصر ہونے کا اقرار ہے۔ غرور کے مرض سے تیری بینائی مفلوج ہو گئی ہے۔ اس لیے تیری نظر پلکوں کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
سہراب: جنگ کا میدان شاعروں کی بزم خیالی، منطقیوں کی مجلس، فلسفہ کا مدرسہ نہیں ہے۔ یہاں کی شعریت کا نام زخم، منطق کا نام تلوار اور فلسفے کا نام طاقت ہے ـــــ اچھا ظاہر کر تو کون ہے؟ تیری موت کے بعد قلعہ سفید میں کس نام سے تیرا ماتم کیا جائے گا؟
گُردآفرید:
دشمن نخوت، حریف شعلہ سامانی ہوں میں
بس مرا نام و نشاں یہ ہے کہ ایرانی ہوں میں
سیلِ خون میں موج آہن کی روانی دیکھ لے
آج تو بھی بُرّشِ تیغ کیانی دیکھ لے
(حملہ - خوفناک طویل جنگ - گُرد آفرید کی شکست۔ گھوڑے سے زمین پر گرتے وقت خود علٰحدہ ہو جانے سے گُرد آفرید کے بال کھل کر بکھر جاتے ہیں۔ اور مرد کے لباس میں ایک حسین دوشیزہ کو دیکھ کر سہراب حیرت زدہ ہو جاتا ہے)
سہراب: رعنائی نسائیت کی جمیل ترین تصویر مردانہ مرقعے میں! حسن کی دنیا کا ماہ کامل زرہ بکتر کے بادل میں!! موسم بہار کے تبسم کی رنگینی جنگی نقاب میں!!!
چمک رہا ہے نگار قدرت کا تاجِ زر خاک کی جبیں پر
کہ شاخ انجم سے گر گیا ہے کوئی گل روشنی زمیں پر
طلوع نور سحر کا عالم ہے جلوۂ جسم نازنیں پر
نثار ہے حسن شام جنت، بہار گیسوے عنبریں پر
حسین آنکھوں میں سحر ناطق، نظر میں انداز دلبری کے
بلوری گردن پہ روئے روشن، چراغ ہے ہاتھ میں پری کے
گُردآفرید: اقبال مند سہراب۔ وہ ایران کی بہادر لڑکی جس کے بازوؤں میں طاقت کا طوفان، جس کی تلوار میں بجلیوں کا سیلاب، جس کے حملے میں کوہ آتش فشاں کا ہنگامہ پوشیدہ تھا۔ جو حریف کو کتاب زندگی کا مہمل لفظ اور فتح کو اپنے گرز کی ضرب کی صدائے بازگشت سمجھتی تھی، آج اُس کے اعتقاد کی دنیا، ناکامی کے زلزلے سے تباہ ہو گئی۔ اس کے یقین کا فلک بوس قلعہ بنیادوں سے اکھڑ کر عاجزی کی زمین پر سرنگوں ہو گیا ـــــ مجھے امان دو ـــــ میں اظہار درماندگی کے ساتھ اپنی شکست کا اقرار کرتی ہوں۔
سہراب: بہادر نازنین۔ زندگی کی سلطنت میں عورت حاکموں کی حاکم اور فاتحوں کی فاتح ہے۔ جو خون کا ایک قطرہ گرائے بغیر اپنی رنگیں مسکراہٹ سے ایک لمحہ میں آدھی دنیا کو قتل کر سکتی ہے۔ جو شرم آلود نگاہوں کے اشارے سے چشم زدن میں بادشاہوں کا تاج اور دلیروں کی تلوار چھین سکتی ہے، اسے تیر و شمشیر لے کر میدان جنگ میں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ حُسن کے مقابلے میں ہمیشہ مرد کے غرور کو شکست ہوئی ہے۔ اٹھو ـــــ یہ میری فتح نہیں، تمھاری فتح ہے۔
گُردآفرید: (اپنے آپ سے) کس قدر شریف! جتنا چہرہ خوبصورت اتنا ہی دل خوبصورت (چونک کر) ارے میں کدھر بہی جا رہی ہوں؟
سہراب: فتح یاب حسینہ! پنکھڑیوں کا دروازہ کھول کر باہر نکل آنے والی خوشبو کی طرح تم اپنی اصل شکل میں عیاں ہو گئیں، تو اب تمھیں اپنا نام و نشان بھی ظاہر کر دینا چاہیے۔ یہ میرا حکم نہیں، بارگاہِ حُسن میں مودبانہ درخواست ہے۔
گُردآفرید: میرے نام میں کوئی ایسی شیرینی اور موسیقی نہیں ہے، جس سے سماعت لذت اندوز ہو سکے۔ میں قلعہ سفید کے حاکم گژدہم کی بیٹی گُرد آفرید ہوں۔
سہراب: اور ـــــ اور ـــــ جانتی ہو۔ میں کون ہوں؟
گُردآفرید: جس گُرد آفرید کی ہیبت سے بہادروں کی رگوں کا سرخ خون زرد ہو جاتا تھا۔ تم اسے شکست دینے والے سہراب ہو۔
سہراب: تمھاری نظر تمھیں مغالطہ دے رہی ہے۔ آفتاب کی تجلی میں شمع کی روشنی کی طرح میری قدیم ہستی تمھارے حُسن کے جلال میں گم ہو گئی۔ اس چہرے کی پرستش کے لیے اب میں نے نیا نام، نیا جسم، نئی زندگی اختیار کی ہے۔ مجروح شوق، جور کشِ روزگار ہوں
زخمی جگر کا شور، وفا کی پکار ہوں
دل کو نشہ ہے عشق کا آنکھوں کو دید کا
سہراب اب غلام ہے گُردآفرید کا
گُردآفرید: (اپنے آپ سے) اس کی باتیں فردوسی نغمہ کیوں معلوم ہوتی ہیں؟ کیا میری روح میں کوئی تبدیلی ہو رہی ہے؟
سہراب: پیاری آفرید! عرض تمنا کے جواب میں تمھاری ایک مختصر 'ہاں' عشق کی عقیدت مندی کا بہترین انعام ہے۔ میرے دل کو تحفہ محبت سمجھ کر قبول کرو۔
گُردآفرید: (اپنے آپ سے) ایک نامعلوم جذبہ انتقام کے شعلوں کو سرد کیے دے رہا ہے ـــــ مگر نہیں ـــــ عظمت وطن کے قاتل کا جرم میں کبھی معاف نہیں کر سکتی۔ (سہراب سے) سہراب۔ تمھاری تلوار نے گُرد آفرید کو فتح کیا تھا، لیکن تمھارے شریفانہ سلوک نے، غیر مقلوب نفرت کو شکست دے کر، گُرد آفرید کی روح کے ہر گوشے اور دل کے ہر ذرے کو فتح کر لیا۔ تم اب تک دشمن تھے، لیکن اب میری جان کے مالک اور میرے ملک کے مہمان ہو۔ میں تمام ملک کی طرف سے تمھیں اور تمھاری بہادر فوج کو قلعہ سفید میں تشریف آوری کی دعوت دیتی ہوں۔ اجازت دو کہ قلعے میں جا کر تمھارے شاہانہ خیر مقدم کی تیاریوں سے جذبات کی فضا میں محبت کا بہشت تعمیر کروں۔
سہراب: اب میں تمھاری مرضی کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ تمھارا حکم میری زندگی کا واجب الاطاعت قانون ہے۔ کیونکہ تم حُسن کی سلطنت کی ملکہ ہو اور میں اس سلطنت کی وفادار رعیت ہوں۔
گُردآفرید: تم ـــــ تم ـــــ میرے دل کی دنیا کے ـــــ بادشاہ ہو۔
(دونوں جاتے ہیں)
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.