
Capítulo 5 de 10
Act Two, Scenes One and Two
دوسرا ایکٹ، پہلا اور دوسرا سین
دوسرا ایکٹ – پہلا سین
توران کا شاہی محل
(ہومان، بارمان اور تورانی فوج کے سردار بادشاہ کا انتظار کر رہے ہیں)
ہومان: انسان کے خون اور سروں کی بارش کے بعد جنگ کا آسمان صاف ہوگیا تھا۔ موت تھک کر سو گئی تھی۔ زندگی سلامتی کے سائے میں اطمینان کی سانس لے رہی تھی۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ صلح کے خاموش سمندر میں پھر طوفان آیا چاہتا ہے۔
بارمان: شاہی فرمان کے بموجب تورانی فوج کے بارہ ہزار منچلے سپاہی زرہ بکتر پہنے، لگامیں ہاتھوں میں لیے، گھوڑوں کی پیٹھ پر دوسرے حکم کا انتظار کر رہے ہیں ـــــ معلوم نہیں کہ یہ تباہی اور بربادی پھیلانے والی انسانی آندھی کس طرف بھیجی جائے گی۔
ہومان: مودب۔ جہاں پناہ تشریف لا رہے ہیں۔
بارمان: چہرے سے ناراضگی اور غصہ ظاہر ہو رہا ہے۔ دیکھیں کیا حکم ہوتا ہے؟ ہونٹوں سے مہربانی برستی ہے یا بجلی؟
(وزیر سلطنت کے ساتھ جوش اور غصے کے عالم میں افراسیاب کا داخلہ)
افراسیاب: توران کے دیرینہ دشمن رستم کو اپنا مہمان بنا کر زبانِ عمل سے تورانیوں کی بےحمیتی کا دنیا میں اعلان کرنا، بے عزتی کو انتہائی درجے تک پہنچانے کے لیے اس کی غیر آسودہ خواہش نفسانی کو اپنی بیٹی تہمینہ کا حسن و شباب نذر دینا، اس ذلت بخش شادی کے شرمناک نتیجے سہراب کی پیدائش کا حال پندرہ برس تک اپنے آقا و شہنشاہ سے پوشیدہ رکھنا، کیا یہ مجرمانہ جسارت نہیں ہے؟ کیا یہ تورانیوں کے احساس خودداری کی صریح توہین اور شہنشاہ توران سے علانیہ بغاوت نہیں ہے؟ سمنگان کے شاہی محل میں رہنے والے کتے، عاقبت بینی تیری سفارش کر رہی ہے۔ اس لیے میری رگ رگ میں گرجتا ہوا غصے کا طوفان، ایران کی تباہی تک خاموشی اختیار کرے گا ـــــ اس کے بعد تیرے لیے نہ معافی ہے، نہ زندگی ـــــ ہومان! ـــــ بارمان!!
بارمان: (دست بستہ) ولی نعمت۔
افراسیاب: میرا حکم تھا کہ تورانی لشکر کے بارہ ہزار جنگ آزما، سامان حرب کے ساتھ سفر کے لیے پا بہ رکاب رہیں۔ ـــــ کیا مابدولت کے حکم ثانی کے لیے وہ مستعد اور گوش برآواز ہیں؟
ہومان۔ بارمان: (ہاتھ جوڑ کر) خداوند۔
افراسیاب: سمنگان کے بادشاہ کا نواسہ سہراب، جس کی تلوار کی جھنکار فتح و اقبال کو اپنا غلام بنانے کی دھمکی دے رہی ہے۔ کیکاؤس کے پُرنخوت سر کو شاہی تاج سے محروم کرنے کے لیے ایران کی زمین کو اپنے گھوڑے کی ٹاپوں سے روندنا چاہتا ہے۔ میرا خط اور تحفہ لے کر تم آج ہی بارہ ہزار تورانی نبرد آزماؤں کے ساتھ اس کے امداد و حوصلہ افزائی کے لیے سمنگان روانہ ہو جاؤ ـــــ نوخیز سہراب کا سینہ نئی امیدوں اور بلند ترین ارادوں سے معمور ہو رہا ہے۔ اس کی امیدوں کو اپنی جرأت افزا باتوں سے زندہ و مشتعل رکھنا۔ یہی تمھاری سفارت کا فرض خصوصی ہے۔ اس سے کہنا کہ تم اپنے شیر گیر ہاتھوں سے ایران کی مغرور چھاتی پر توران کی عزت کا جھنڈا گاڑنے جا رہے ہو۔ اس لیے توران کا شہنشاہ افراسیاب تمھاری کامیابی کے لیے دعا کرتا اور حصولِ فتح سے قبل ہی تمھیں ایران کے فتح کی مبارک باد دیتا ہے۔
ہومان: جہاں پناہ نے جو حکم دیا ہے، ہم دونوں غلام اس کے ایک ایک حرف کی تعمیل کریں گے۔
افراسیاب: سنو۔ قدردانی یا ہمدردی کے جذبے نے مجھے سہراب کی مدد پر آمادہ نہیں کیا۔ سانپ کا بچہ بھی سانپ ہی ہوتا اور بڑا اور توانا ہو کر سانپ ہی کی طرح ڈستا ہے۔ رستم کے خون و طاقت کا وارث سہراب زندہ رہا تو ایک دن وہ بھی توران کے عظمت و اقبال کے لیے سیلاب ادبار اور توران کے تاجدار کے لیے دوسرا رستم ثابت ہوگا۔ توران کے روشن مستقبل کی طرف مجھے ایک غیر محسوس تاریک سایہ بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ضرورت ہے کہ پہلے جوان بیٹے کے ہاتھ سے بوڑھے باپ کو قتل کرا دوں۔ اس کے بعد دعوت میں بلا کر، زہر یا خنجر سے سہراب نما خطرے کا بھی خاتمہ کر دوں۔ اس لیے کوشش کرنا کہ جب تک میدان کارزار کی فضا قسمت کے آخری فیصلے کی گونج سے کانپ نہ اٹھے، باپ بیٹے ایک دوسرے کو شناخت نہ کرسکیں۔ پہلے رستم، پھر سہراب۔ دونوں کی موت ہی میں توران کی زندگی ہے۔ سمجھ گئے؟ جاؤ۔ دیوان خانے میں انتظار کرو۔ میں بہت جلد تحفے کی کشتیاں اور اپنا خط تمھارے پاس بھیجتا ہوں ـــــ سب کچھ فراموش ہوجائے، لیکن دو باتیں حافظے سے گم نہ ہوں ـــــ میرا حکم ـــــ اور اپنا فرض۔
ہومان۔ بارمان: شاہی اقبال کی فتح۔
(دونوں سر جھکا کر جاتے ہیں)
افراسیاب: رستم اور سہراب کی جنگ اس حیرت زار دنیا کا ایک عجیب واقعہ ہوگا ـــــ شباب باختہ و فرسودہ طاقت باپ۔ نوجوان، شجاعت پروردہ بیٹے کا کبھی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ رستم گرمی کے موسم کا سوکھا ہوا دریا ہے او سہراب دونوں کناروں سے چھلکتی ہوئی برسات کی ندی ہے۔ اُس کی جوانی کی شام ہو چکی اور اِس کی جوانی کی صبح ہو رہی ہے۔ اُس کی طاقت کا آفتاب چہرے کی شکنوں اور جھریوں کی لہروں میں ڈوب رہا ہے، اور اِس کی طاقت کا آفتاب شباب کے افق رنگیں پر طلوع ہو رہا ہے۔ (وزیر سے) سنتے ہو۔ میرا حکم ہے کہ آج سے ہر وقت گھوڑوں کی پیٹھ پر زین اور تورانی سرفروشوں کے جسم پر زرہ بکتر اور ہتھیار سجے رہیں۔ رستم کی موت کی نوید ملتے ہی میں بجلی کی طرح ایران کے سر پر ٹوٹ کر اس کے ماضی کی شوکت، حال کے غرور، مستقبل کی تمناؤں کو ریزہ ریزہ کر دوں گا ـــــ اور وہی دن میری زندگی کا بہترین دن ہوگا۔
وزیر: اعلیٰ حضرت۔ یہ سلطنت کا قدیم نمک خوار حضور کی خیر سگالی اور ملک کی بہبودی کے لیے کچھ عرض.....
افراسیاب: خاموش۔ تو ہمیشہ عرض اور گزارش کی آڑ میں مابدولت کے جوش کو سرد کرنے کے لیے ناخوش گوار نصیحتوں سے لبریز وعظ شروع کر دیتا ہے ـــــ بول۔ عرض کر۔ لیکن یہ خیال رکھ کہ ''ایران پر حملہ کرو۔'' اور ''کیکاؤس کو تباہ کر دو۔'' ان دو کیف پرور اور حوصلہ انگیز جملوں کے سوا اور کچھ سننا نہیں چاہتا۔
وزیر: غلام کی یہ التجا ہے کہ بندگان عالی اپنے ملک و رعیت کے مالک ہیں، لیکن آسمان کی گردش، انقلاباتِ عالم کی رو اور خالقِ کائنات کی رائے اور مصلحت کے مالک نہیں ہیں۔ یہی باعث ہے کہ اپنی مجموعی عسکری قوت، اپنے خزانے کا گراں بہا اندوختہ، اپنے رعیت کے لاکھوں نوجوان کی شباب نارسیدہ زندگیاں برباد کرکے بھی، آپ آج تک ایران کے نوشتۂ تقدیر کا ایک حرف بھی تبدیل نہ کرسکے۔ جب خدا کی مرضی آپ کی خواہش سے متفق نہیں ہے، تو ایران پر حملہ کرنا، خدا کی مرضی سے جنگ کرنا ہے۔
افراسیاب: میں سہراب کو اپنے غضب کا حربہ بنا کر ایران سے اپنی پچھلی شکستوں کا بدلہ ضرور لوں گا۔ میرا دماغ گذشتہ ذلتوں کی یاد سے دوزخ بنا ہوا ہے۔ میرا دل اندوہ ناکامی کی ضربوں سے مجروح ہو رہا ہے۔ میری روح انتقام کی پیاس سے تڑپ رہی ہے۔ میں اس جلن کے لیے ٹھنڈک، اس زخم کے لیے مرہم، اس تشنگی کے لیے تسکین چاہتا ہوں۔
وزیر: خادم التجائے معافی کے ساتھ دوبارہ اسی خیال کا اعادہ کرنا چاہتا ہے کہ جلالت مآب کے ارادے کی آفرینش ناممکنات کی دنیا میں ہوئی ہے۔
افراسیاب: (برافروختہ ہو کر) یعنی؟
وزیر: دنیا کی تمام نعمتوں اور برکتوں کی تخلیق کسی ایک انسان کے لیے نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے جو کچھ ہے اس کی حفاظت کیجیے۔ اور جو نہیں ہے اور نہیں مل سکتا، اسے جبراً حاصل کرنے کا خیال ترک کر دیجیے، یہی سلطنت کے لیے پیغام بہبودی اور ملک کی زخمی سماعت کے لیے نغمۂ امن ہے۔
افراسیاب: میں خدا کی مرضی کو مجبور کروں گا کہ ایران کی قسمت کی تحریر افراسیاب کے قلم سے دوبارہ لکھی جائے۔ افراسیاب کی غلامی، یہی ایران کی آخری قسمت ہے۔
وزیر: عالم پناہ ـــــ بادشاہ رعایا کا باپ ہوتا ہے۔ کتنی بدنصیب ہے وہ رعایا جس کا شفیق باپ اولاد کے خون پسینے کی کمائی کا روپیہ اولاد کی فوز و فلاح میں خرچ کرنے کے بدلے قہر و غضب کی نمائش، سامانِ ہلاکت کی آرائش اور وبائے جنگ کی افزائش میں ضائع کر رہا ہے ـــــ میں دو زانو ہو کر اور رحم و انصاف کا واسطہ دے کر عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس مسلسل جنگ کے ہولناک تماشے کو جو ہمیشہ ناکامی و پشیمانی کے امید سوز نظارے پر ختم ہوتا ہے، آئندہ کے لیے بند کرکے تباہ حال رعایا کو شکر گزار کیجیے ـــــ رعیت کا دل جیتنا شاہانہ فتوحات میں سب سے بڑی فتح ہے۔
افراسیاب: تیری پچھلی وفاداریوں اور خدمتوں کا خیال کر کے، تیری بے مغز گفتگو میں اب تک از راہِ رحم سنتا رہا ـــــ بکنا بند کر ـــــ کیا تو میرے رحم کو غضب سے بدلنا چاہتا ہے؟
وزیر: خداوندِ نعمت۔ حصول خطاب و ترقی درجات کے لیے حق گوئی کا فریب دے کر اپنے آقا کے غلط ارادوں، غلط امیدوں کی، غلط راستے کی طرف رہنمائی کرنا اور اس کے حوصلوں کی خوشامد کی زبان سے شہ دے کر یقینی تباہی سے ٹکرا دینا خدمت نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کی لالچوں کو ٹھکرا کر، صداقت کا آئینہ بن کے، اس کی بشریت کی کمزوریوں کو اُس کے سامنے ظاہر کر دینا، یہی حقیقی جاں نثاری اور سچی آقا پرستی ہے۔ میں جاں نثار ہوں، خوشامدی نہیں ہوں۔
افراسیاب: معلوم ہوا۔ ضرور تو رشوت لے کر کیکاؤس سے مل گیا ہے۔ لے جاؤ۔ اس دوست کے لباس میں چھپے ہوئے دشمن کو۔ قتل کر دو۔ یہ زندہ رہا تو اپنی نامردانہ باتوں سے تمام توران کو بزدل بنا دے گا۔
(افراسیاب غصے میں چلا جاتا ہے)
وزیر: رعایا کی خواہشات کو پاگل کا خواب۔ زمین کو اپنے غلاموں کی بستی۔ اپنی رائے کو دنیا کا ناقابلِ تنسیخ قانون۔ وقت کے چکر کو اپنے اشارے کا محکوم سمجھنے والے، برخود غلط حکمرانوں سے تمام زندگی کی خیر خواہی اور بے داغ وفاداری کا آخر میں یہی انعام ملتا ہے ـــــ جلاوطنی، قید، قتل۔ یہی بہترین خدمات کے بہترین صلے ہیں۔ یہ پیکر ظلم، یہ مجسمۂ غرور، یہ خودداری و غلط کاری کے بولتے ہوئے پتلے، حق گوئی، کو دنیا کا سب سے بڑا جرم سمجھتے ہیں ـــــ یہ چوری، ڈاکہ، دھوکا، قتل بغاوت، ہر گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ لیکن، سچائی، کا جرم کبھی معاف نہیں کرتے۔ (سپاہی سے) چلو۔ سچ بولنے کی سزا دینے کے لیے مجھے موت کی عدالت کی طرف لے چلو۔
ریت کی دیوار پر بنیاد ہے ہر بات کی
بادشاہوں کی عنایت دھوپ ہے برسات کی
(سپاہیوں کے حصار میں وزیر کا جانا)
دوسرا ایکٹ – دوسرا سین
سمنگان کا شاہی محل
(شاہِ سمنگان، تہمینہ کنیزیں اور افراسیاب کے سفیر ہومان اور بارمان موجود ہیں)
شاہِ سمنگان: بادلوں کی کمان سے نکل کر زمین کی طرف آتا ہوا بجلی کا تیر اور سہراب کے ارادے میں پیدا شدہ طوفان کا بہاؤ ہماری منتوں سے اپنا رُخ اور راستہ نہیں بدل سکتا۔ اس کے حوصلے آندھی کی طرح پُر شور، اس کی آرزوئے جنگ، شکار پر جست کرتے ہوئے شیر کی مانند یقین فتح کے نشے سے مخمور اور اس کا جوش، خشک جنگل میں لگی ہوئی آگ کی طرح رو بہ ترقی ہے۔ وہ ابھی سے محسوس کر رہا ہے کہ اقبال اس کی پیشانی کو، فتح اُس کی تلوار کے قبضے کو، ایران کے قلعوں کی کنجیاں اس کی انگلیوں کو، تاج کیانی کے جواہر اس کے قدموں کو بوسہ دے رہے ہیں۔ اس کے گرز کی ضرب سے ایرانیوں کی روحیں اور اس کے گھوڑے کی ٹاپوں کی دھمک سے کیکاؤس کے محل کی دیواریں کانپ رہی ہیں ـــــ اس لیے بیٹی اپنی مامتا کو اس کی سرکش مرضی کے ساتھ صلح کرنے کے لیے مجبور کرو۔ کیوں کہ وہ اس سفر کو خیر مقدم کے نعروں کی طرف سے پیغام دعوت اور اپنے بیداری کے خواب کی امید افروز تعبیر سمجھ رہا ہے۔
تہمینہ: اولاد کی محبت، ماں کی روح کا تبسم ہے۔ آج یہ تبسم فریاد بن کر آنسوؤں کی زبان سے سہراب کی ضد کی منتیں کر رہا ہے۔ لیکن اس کی ضد کسی منت، کسی دلیل، کسی التجا سے رحم پر مائل نہیں ہوتی۔ ابا جان۔ اس کے ارادے کو مادرانہ اطاعت سے بغاوت پر آمادہ دیکھ کر میری زبان نے مجبوری سے ایران جانے کی اجازت دے دی ہے لیکن مامتا کی آگ سے جلتا ہوا دل ابھی تک اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہومان: محترم بانو۔ توران کے شہنشاہ افراسیاب نے اپنی شفقت و نوازش کے ثبوت میں محبت کے تحفوں اور شاہی گرامی نامے کے ساتھ، تورانی فوج کے جو بارہ ہزار منتخب و جنگ آزمودہ بہادر بھیجے ہیں۔ ان میں کا ہر جری بارہ ہزار دلیروں کی طاقت و تجربہ کا مالک ہے۔ ان بارہ ہزار تورانی شیروں کے ساتھ آپ کا نامور فرزند جس زمین پر قدم رکھے گا، اُس زمین کے آستانِ عظمت پر آسمان بھی سجدۂ نیاز ادا کرنے کے لیے مجبور ہوجائے گا۔
بارمان:
سر جھکا دے گا زمانہ جُبّہ سائی کے لیے
آئے گی خود فتح بڑھ کر پیشوائی کے لیے
غم نہ کیجیے آپ اس کے نیک و بد کے واسطے
قسمت و اقبال حاضر ہیں مدد کے واسطے
(جوش کے عالم میں سہراب کا داخلہ)
سہراب: رستم کا فرزند۔ اپنے بازو اور تلوار کے سوا کسی سے مدد کا طلب گار نہیں ہے (ہومان اور بارمان سے) میں نے صرف ناشکر گزاری و غرور کے الزام سے بچنے کے لیے تاجدار توران کی فوجی امداد قبول کر لی ہے۔ لیکن بہادر آئینہ کی طرح صاف گو ہوتا ہے۔ اس لیے میری صاف بیانی سے رنجیدہ نہ ہونا۔ میں نے اس اعانت کی پذیرائی کرکے اپنے عزم و شجاعت کی سخت دل شکنی کی ہے۔ سہراب تورانی لشکر کے اعتماد پر نہیں، اپنی جرأت و طاقت کے بھروسے پر ایران کی نخوت کو للکارنے جا رہا ہے۔ خدا میرا محافظ، ہمت میری سپر، تلوار میری رہنما، میدان جنگ میرا راستہ، یقینِ کامیابی میرا توشہ، حوصلے میرے رفیقِ سفر اور کیکاؤس کا تخت میرے سفر کی آخری منزل ہے۔ اس سفر کے آغاز کا نام ہے استقلال اور اس سفر کے خاتمے کا نام ہے فتح۔
ہومان: ہمیں کامل یقین ہے کہ آپ اپنے زور بازو سے دنیا کی تاریخ میں شاندار اضافہ کریں گے۔
سہراب: ماں۔ جس رستم کی آفرینش پر آسمان زمین کو مبارک باد دیتا ہے، جس رستم کا نام سن کر شجاعت غرور کے نشے میں جھوم اٹھتی ہے، جس رستم کے نام پر طاقت فخر اور تلوار ناز کرتی ہے۔ اس رستم، اس شریف ترین انسان، اس فاتح اعظم کا فرزند ہونا میرے لیے موجب ندامت نہیں، باعث افتخار تھا۔ پھر معاف کرنا، نسائیت کی کمزوری، شباب کے گناہ، زندگی کے شرمناک جرم کی طرح میری حقیقت کو پردے میں رکھنے کی کیا وجہ تھی؟
دل میں رکھا راز، دنیا کو خبر ہونے نہ دی
شام گمنامی کی تم نے، کیوں سحر ہونے نہ دی
تہمینہ: اس سوال کا جواب ماں سے نہیں، ماں کی مامتا سے پوچھ۔ اگر ایک غریب چوری ہو جانے کے خوف سے اپنی زندگی کی پونجی دنیا کی نظر سے پوشیدہ رکھتا ہے، تو یہ غلطی یا جرم نہیں، مجبوری ہے۔ یہ اندیشہ میری روح میں پیوست تھا کہ تیری پیدائش کا راز ظاہر ہو جانے سے تیرا باپ تجھے میری گود سے اپنے بازوؤں میں کھینچ کر میری دولتِ تسکین و متاع حیات مجھ سے چھین لے گا۔ اور مجھ بدنصیب کی آنکھیں شوہر کے چہرے کی طرح بیٹے کی صورت دیکھنے کے لیے بھی بے رحم قسمت کے سامنے ہمیشہ فریاد کرتی رہیں گی۔
سہراب: ماں، رستم جیسا باپ۔ اور سہراب جیسا بیٹا۔ ان دو آفتاب و ماہتاب کی موجودگی میں دنیا کو حقیر ستاروں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خدا اور مخلوق کے سامنے کیکاؤس کو تخت سے اتار کر اپنے عالی مرتبہ باپ کو ایران کا بادشاہ اور تمھیں ایران کی شہنشاہ بیگم بنانے کا عہد کرچکا ہوں۔ اس عہد کو پورا کرنے کے لیے اب تم سے آخری مرتبہ اجازت مانگنے آیا ہوں ـــــ یہ کیا ماں! روتی ہو؟ رو نہیں۔ مائیں لائق کے لیے نہیں، نالائق اولاد کے لیے روتی ہیں۔ تمھارا بیٹا عزت کی دنیا فتح کرنے جا رہا ہے۔ اس لیے یہ رونے کا نہیں، خوش ہونے کا وقت ہے۔ ہنستے ہوئے ہونٹوں سے اجازت دے کر مجھے میدان جنگ کی طرف رخصت کرو۔ سمنگان کے قلعے کے دروازے پر فوج اور ایران کی زمین پر شہرت تمھارے سہراب کا انتظار کر رہی ہے۔
تہمینہ: سہراب۔ مجھے خوف ہے کہ یہاں سے جانے کے بعد اپنے باپ کی طرح کہیں تو بھی غریب تہمینہ کو فراموش نہ کر دے۔ کیونکہ ایران کی زمین جادو کی زمین ہے۔ اس طلسم خاموشی میں پہنچتے ہی انسان سحرزدہ ہو کر اپنے پیاروں کی یاد کو محبت کے ہاتھ کی بدخط طفلانہ تحریر سمجھ کر حافظے سے مٹا دیتا ہے۔
سہراب: ماں، ماں۔ یہ کیا کہہ رہی ہو؟ تم میرے جسم و جان کا شیرازہ، میری نجات کا وسیلہ، میری زندگی کی برکت ہو۔ میری ہستی تمھاری ہستی کا عکس اور میری روح تمھاری روح کا سایہ ہے۔
تہمینہ: (یکایک رستم کی یاد سے بے قرار ہو کر) طلوع مسرت و بازگشت ماضی کی امید و اشتیاق میں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی زندگی کے سولہ برس گذر گئے۔ لیکن میری شب انتظار کی صبح نہ ہوئی ـــــ یا خدا عورت کا دل اتنا کمزور و مجبورِ محبت۔ اور مرد کا دل اتنا بے رحم و وفا ناآشنا ہوتا ہے!! آہ۔ عورت محبت کا نشہ پی کر تمام عمر ہوش میں نہیں آتی۔ اور مرد..... پیالہ ہونٹوں سے جدا ہوتے ہی اس شراب کی لذت و سرور کو فراموش کر دیتا ہے۔
سہراب: ماں۔ تم بے آواز لفظوں میں اپنے دل سے کیا مشورہ کر رہی ہو؟
تہمینہ: (ٹھنڈی سانس لے کر) خدا کی مرضی پوری ہو (مہرہ نکال کر) یہ تیرے باپ کی دی ہوئی نشانی ہے۔ اس نے سمنگان سے رخصت ہوتے وقت تاکید کی تھی کہ اگر تمھاری گود کی زینت لڑکی ہو تو یہ مہرہ اس کے سر کے بالوں میں ـــــ اور لڑکا ہو تو اُس کے بازو پر باندھ دینا ـــــ ہاتھ بڑھا ـــــ سولہ برس سے آج ہی کے دن کے لیے اس محبت کی یادگار کی حفاظت کر رہی تھی ـــــ اس مہرے اور نظر میں شناسائی ہوتے ہی، باپ بیٹے کو، خون خون کو شناخت کرے گا۔ (سہراب کے بازو پر مہرہ باندھ دیتی ہے) سہراب۔ ہر بچہ ملک و ملت کی امانت ہوتا ہے۔ اس لیے جسمانی پرورش کے ساتھ بچے کی روحانی تربیت اور دماغی و اخلاقی نشو و نما کی بھی ماں ذمہ دار ہے۔ میں نے تیرے جسم کی حوصلہ زا اور قوت آفریں ورزشوں سے، دماغ کی ضیائے علم سے، دل کی شریف ترین جذبات سے اور روح کی خصائلِ انسانیت سے تعمیر کی ہے۔ خدا کی سپاس گزار ہوں کہ میری سولہ برس کی محنت برباد نہیں ہوئی۔ آج میں سعید، فیاض، دلیر، بلند فطرت نوجوان کی شکل میں اپنی شانزدہ سالہ تمناؤں اور مادرانہ دعاؤں کو دیکھ رہی ہوں ـــــ بیٹا۔ مجھے تیرے دل کی رفعت اور خیالات و احساسات کی عظمت مآبی پر اعتماد ہے۔ اس لیے تجھے حقیقی فاتح اور سچے سپاہی کا فرض سکھانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن صرف اس خیال سے کہ زندگی کی غفلت آور مصروفیتوں میں میری آواز تیرے دل کی خوبیوں کو بیدار کرتی رہے، رخصت کرنے سے پیشتر تجھے نصیحت کرتی ہوں کہ خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو اعتدال، رحم اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا۔ تلوار کو بے کسوں اور کمزوروں کا محافظ و پشت پناہ سمجھنا۔ اور ظلم خواہ کتنی ہی حلیم اور کیسی ہی شریفانہ صورت میں سامنے آئے ہمیشہ اُسے ذلیل جاننا۔
دیکھنا خنجر و طاقت پہ نہ الزام آئے
لب پہ شاباش ہو، سہراب کا جب نام آئے
سہراب: پیاری ماں۔ میں لوہے کے ہتھیاروں سے سج کر میدان جنگ کی طرف ناموری کی تلاش میں جا رہا ہوں ـــــ یہ آہنی حربے دشمن کی ہمتوں کو، جسموں کو، فوجوں کو، قلعوں کو فتح کرسکتے ہیں۔ لیکن عزت اور شہرت پر فتح پانے کے لیے مجھے ایک اور حربے کی ضرورت ہے۔
تہمینہ: میرے بچے۔ وہ کون سا حربہ؟
سہراب: (تہمینہ کے قدموں میں بیٹھ کر) ماں کی دعا۔
تہمینہ: (سہراب کے سر پر ہاتھ رکھ کر)
دعا دیتی ہوں تجھ کو وقت خادم، بخت یاور ہو
زمانہ پاؤں کے نیچے، خدا کا ہاتھ سر پر ہو
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.