
Chapitre 4 sur 10
Act One, Scene Four
پہلا ایکٹ، چوتھا سین
پہلا ایکٹ – چوتھا سین
(آراستہ خواب گاہ)
(رات کا وقت ہے۔ خواب گاہ کی کھڑکیوں سے شہر سمنگان کے گھروں کی روشنیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ شاہ سمنگان اور رستم بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور چند غلام قریب ہی ہاتھ باندھے حکم کے منتظر کھڑے ہیں)
شاہ سمنگان: پیلسم کی زندگی اسے واپس دے کر آپ نے ثابت کر دیا کہ جو بہادر ہوتا ہے، وہ رحم دل بھی ہوتا ہے۔ ہاتھ میں انتقام کا حربہ اور بازوؤں میں سزا دینے کی طاقت ہو کر دشمن کو معاف کر دینا، یہ دنیا کی فتوحات میں سب سے بڑی فتح ہے۔
رستم: لیکن معافی ملنے کے بعد بھی پیلسم کا چہرہ حسد کی آگ کے دھویں سے سیاہ ہو رہا تھا۔ میرا تجربہ اس یقین کی طرف رہنمائی نہیں کرتا کہ وہ میری عطا کردہ معافی کی قدر کرے گا۔
شاہ سمنگان: اگر قدر نہ کی تو میں سمجھوں گا کہ اُسے اپنے کندھوں پر اپنا سر بوجھ معلوم ہورہا ہے۔ (شراب کا پیالہ بڑھا کر) ؎
ہاں نگاہِ لطف ہو اس ساغر لبریز پر
کیجیے ہونٹوں سے مُہر الفت کی دستاویز پر
رستم: (جواب میں پیالہ بھر کر) آپ بھی دوستی کی دستاویز کی شرط پوری کیجیے۔ ؎ موج شراب مست ہے جام شراب میں
اک نازنین جھوم رہی ہے شباب میں
گردش میں بلبلے ہیں، کہ تاروں کا رقص ہے
سرخی ہے یا کھلی ہے شفق آفتاب میں
شاہ سمنگان: اب رات کی آنکھوں میں نیند کا خمار دکھائی دے رہا ہے۔ اجازت دیجیے کہ میں آپ کو شب بخیر کہوں؟
رستم: اس میزبانی کا شکریہ۔
شاہ سمنگان: میری دعا ہے کہ آپ آرام کی نیند سوئیں اور مسرت کا خواب دیکھ کر ہنستے ہوئے بیدار ہوں۔
(شاہِ سمنگان غلاموں کے ساتھ جاتا ہے)
رستم: موت کیا ہے؟ ایک لمبی نیند ــــ اور نیند کیا ہے؟ ایک مختصر موت ــــ سونا اور مرنا، دونوں ہی موت کی دو شکلیں ہیں۔ لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ انسان، ایک کو آرزو اور التجاؤں سے بلاتا اور دوسرے کا نام سنتے ہی خوف سے کانپ اٹھتا ہے۔ (پلنگ پر بیٹھ کر) ؎
آسماں کے ہاتھ میں ہے چاند کا زریں ستار
گونج اُٹھے نغمۂ راحت سے اس کا تار تار
رات تھوڑی رہ گئی ہے، صبح ہے جانا مجھے
ہاں سناؤ۔ اے ستارو! نیند کا گانا مجھے
(رستم سوجاتا ہے۔ پیلسم اپنے ہمراہیوں کے ساتھ چوروں کی طرح داخل ہوتا ہے)
پیلسم: خاموش۔ آہستہ۔ پیروں کے نیچے کی زمین بھی تمھارے پاؤں کی آواز نہ سن سکے۔
ہمراہی ۱: ہاتھ میں چمکتے ہوئے خنجروں کی طرح، ہمارے پاؤں بھی ہمارے قبضے میں ہیں۔ بڑھو۔
پیلسم: ٹھہرو ــــ بڑھنے سے پہلے اپنی حمیت اور ہمت کا ایک بار پھر امتحان کر لو۔ رستم کے ہاتھ سے سر دربار ذلیل ہونے کے بعد، قسمت کا یک طرفہ فیصلہ سمجھ کر تم اپنی بے عزتی پر صبر کرچکے تھے۔ لیکن میں نے اپنی شجاعت آمیز تقریر سے تمھاری روح پر شرم کی ضرب لگا کر سوئے ہوئے جذبۂ غیرت کو بیدار کیا۔ تمھاری مردہ ہمتوں میں جان ڈالی۔ تمھارے خون میں جو پانی بن گیا تھا، پھر سے سرخی اور گرمی پیدا کی اور تم سب نے اپنی ذلت کا بدلہ لینے کے لیے تلواروں پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی......
ہمراہی ۲: دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنی ذلت بھی یاد ہے۔ اور قسم بھی۔
ہمراہی ۳: دنیا کا خیال ہے کہ سیاہ چیز پر کوئی رنگ نہیں چڑھتا۔ آج ہم اس خیال کو غلط ثابت کرنے کے لیے، رستم کے خون سے رات کی سیاہ چادر کو سرخ بنانے آئے ہیں۔
پیلسم: تب جاؤ۔ پہلے اُس کے گُرز اور ترکش پر قبضہ کر لو (ساتھی رستم کے گرز و ترکش کو اٹھا لیتے ہیں) دیکھتے ہو، کس اطمینان اور آرام کے ساتھ سو رہا ہے۔ دشمنوں کے ملک میں، دشمنوں کی چھت کے نیچے تم نے کسی انسان کو اس طرح نڈر ہوکر سوتے ہوئے نہ دیکھا ہوگا۔ گویا یہ فیصلہ کرنے کے بعد سویا ہے کہ دنیا میں اور سب کچھ ہے، لیکن فکر خوف اور موت نہیں ہے۔
(پیلسم رستم کو چھری مارنے جاتا ہے۔ تہمینہ کی آہٹ سنائی دیتی ہے)
ہمراہی ۱: ہوشیار کوئی آرہا ہے۔
پیلسم: یہ کون؟ تہمینہ! ــــ رستم کی خواب گاہ میں سمنگان کی شہزادی۔ جس طرح اس کے باپ نے دشمن کو مہمان بناکر سارے توران کو بے عزت کیا، کیا اسی طرح یہ بھی جوانی کے نشے سے اندھی ہوکر رستم کی آغوش میں اپنے حسن و عصمت کو ذلیل کرنے آئی ہے!!!۔
ہمراہی ۲: ہم نے تو سنا تھا کہ صورت کی طرح اس کی سیرت بھی حسین ہے۔
ہمراہی ۳: چھپ جاؤ اور سنو۔ اس کی باتوں سے اس کا ارادہ ظاہر ہوجائے گا۔
پیلسم: اگر یہ ناپاک ارادہ اور پُر گناہ خیال لے کر یہاں آئی ہے تو قسم ہے سمنگان کی عزت کی۔ ؎
نہ رہنے دوں گا کوئی نقش اس شاہی نگینے میں
یہ خنجر بھونک دوں گا سب سے پہلے اس کے سینے میں
ہزاروں کھیل دیکھے، دیکھنا تم یہ تماشا بھی
تڑپتا ہوگا رستم کے بغل میں اس کا لاشہ بھی
(سب چھپ جاتے ہیں۔ تہمینہ خوفزدہ نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھتی ہوئی داخل ہوتی ہے)
تہمینہ: شرم اور دل کی جنگ کسی طرح ختم نہیں ہوتی۔ شرم کہتی ہے، لوٹ چل اور دل کہتا ہے آگے بڑھ (سوچتی ہے) اگر وہ جاگ کر پوچھ بیٹھا کہ تم کون ہو؟ کیوں آئی ہو؟ تو دیوانوں کی طرح حیرت سے اس کا منہ تکنے یا شرم سے سر جھکا لینے کے سوا اور کیا جواب دے سکوں گی ــــ نیند، میٹھی نیند۔ تیری پلائی ہوئی شراب سے رستم کی آنکھیں مدہوش ہو رہی ہیں۔ میں التجا کرتی ہوں کہ میرے واپس جانے تک تو اس نشے کو قائم رکھ۔ ہمت مجھے سہارا دے۔ (آہستہ آہستہ قریب جاکر رستم کو دیکھتی اور حیرت زدہ رہ جاتی ہے) میں سمجھتی تھی کہ ایسا چہرہ دیکھوں گی جس کے نقش و نگار میں شیر کی ہیبت، موت کی سختی، دوپہر کی دھوپ کا جلال اور آسمان کا غرور دکھائی دے گا۔ لیکن کیا دیکھا؟ نیند کی انگوٹھی میں ایک بیش قیمت ہیرا، جو بہادری، نیکی، شرافت کی روشنی سے چمک رہا ہے۔ ایک زمین کا چاند، جس کے سامنے آسمان کا چاند بھی کرنوں کا دامن پھیلا کر مردانہ حسن کی بھیک مانگ رہا ہے۔ ؎ تجلی صبح کی اور دبدبہ ہے بادشاہوں کا
یہ چہرہ دیکھنے سے نور بڑھتا ہے نگاہوں کا
(تہمینہ جھک کر غور سے رستم کو دیکھتی ہے۔ رستم جاگ اٹھتا ہے)
رستم: (پلنگ سے دھیرے دھیرے اُٹھ کر) آنکھوں! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں!
بہار روح ہے، یا نور، صبح زندگانی کا
تبسم چاند کا، یا نشہ ہے جام جوانی کا
عجب چہرہ ہے، جس کو حسن کی کرنوں نے گھیرا ہے
یہ جلوہ ہے کہ جادو، چاندنی ہے یا سویرا ہے
(تہمینہ جانا چاہتی ہے۔ رستم اسے روکتا ہے)
رستم: ٹھہرو ـــــ اندھیری رات میں حسن کا چراغ لے کر آنے والی حسینہ ٹھہرو ـــــ تم ـــــ تم ـــــ کون ہو؟ ـــــ
تہمینہ: اس سے زیادہ آپ کو جاننے کی ضرورت نہیں کہ میں سمنگان کی ایک شریف لڑکی ہوں۔
رستم: تمھارا نام؟
تہمینہ: تہمینہ۔
رستم: اور جس کی زندگی کے باغ میں یہ حسین پھول کھلا ہے۔ اس باغبان کا نام؟
تہمینہ: شاہ سمنگان۔ (رستم چونکتا ہے) دوست اور دشمن ہر ایک کی زبان اقرار کرتی ہے کہ آپ انسانوں میں عظیم ترین انسان اور دنیا کی پرسطوت ہستیوں میں عجیب و غریب ہستی ہیں۔ آپ کے حوصلے اور جرأت کے قصے سن سن کر میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ دنیا کے سب سے زیادہ اقبال مند اور تلوار و طاقت کے تنہا مالک کی ایک بار زیارت کروں ـــــ آج وہ تمنا کامیاب ہوئی۔ اجازت چاہتی ہوں۔
(دھیرے دھیرے دروازے کی طرف لوٹتی ہے)
رستم: جس کی زبان آج تک شکست کے لفظ سے آشنا نہیں ہوئی، کیا میں وہی رستم ہوں۔ اوہ ـــــ کتنا عجیب انقلاب!! دنیا کے فاتح کو آج ایک عورت کے حسن نے فتح کرلیا ہے۔
یہی ہے جس سے ہر شے ہے حسین و زرنگار اتنی
کہاں سے لائی دنیا، ورنہ حسن اتنا، بہار اتنی
سنو۔ ٹھہرو۔ چلیں منھ پھیر کر کیوں خستہ جانوں سے
سمنگاں کا یہی دستور ہے کیا میہمانوں سے
تہمینہ: سمنگان اچھی طرح اپنے مہمانوں کی عزت کرنا جانتا ہے۔ کیا یہ مہمانی آپ کے لیے زحمت و تکلیف کا باعث ہوئی۔
رستم:
ہوگیا بے گانہ کیوں، آرام و ضبط و ہوش سے
پوچھیے یہ حال میری حیرت خاموش سے
جب سے میں جاگا ہوں، لب ہیں اور آہِ سرد ہے
جس جگہ پہلو میں دل تھا اب وہاں پر درد ہے
تہمینہ: مرض سے بے پروائی مرض کا علاج نہیں ہے۔ اجازت دیجیے کہ میں شاہی حکیم کو طلب کروں۔
رستم: روح کی بیماری کا علاج پیغمبر کرتے ہیں۔ جسم کی بیماری کا علاج حکیم کرتے ہیں۔ اور دل کی بیماری کا علاج محبت کی نظر کرتی ہے۔
بس اب اس زندگی میں زندگی کا مدعا تم ہو
مرے غم کی شفا تم ہو، مرے دل کی دوا تم ہو
(تہمینہ کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے)
تہمینہ: (غصے سے جھٹکا دے کر) میرا ہاتھ چھوڑ دو۔ تمھاری شرافت پر اعتماد کرنا میری غلطی تھی۔ مجھے اب معلوم ہوا کہ تمھارا ظاہر آفتاب کی طرح روشن اور باطن رات کی طرح تاریک ہے۔ یاد رکھو عورت کا جسم کمزور ہے لیکن غیرت سے لبریز عورت کی روح کمزور نہیں ہے۔ اپنی عصمت و آبرو کی حفاظت کے وقت سمنگان کی ہر شریف لڑکی رستم سے زیادہ طاقت ور ہے۔
رستم: (حیرت سے) یہ کیا! ـــــ رائے قائم کرنے میں عورت کی عقل اتنی جلد باز ہوتی ہے! تعجب ہے کہ تم نے پاک محبت کے اظہار کو جرم کی نمائش اور سیہ کار دل کی آواز سمجھا۔ میں کمینہ نہیں۔ شریف ہوں۔ شریف اپنے ہی خون سے اپنے جسم کو رنگ دے گا لیکن ذلت کے دھبوں سے اپنے نام و عزت کو داغ دار نہ کرے گا۔
تہمینہ: معاف کرنا۔ میں یہ سمجھی.....
رستم: تم جو بھی سمجھیں۔ غلط سمجھیں۔ رواج، مذہب اور شادی کے مقدس قانون کے مطابق جو لڑکی میری قسمت میں برابر کی شریک ہو کر زندگی سے موت تک میرے رنج و راحت کی حصے دار ہوگی، اس کے سوا رستم ہر جوان لڑکی کو اپنی بہن اور ہر بوڑھی عورت کو اپنی ماں کے برابر قابلِ احترام سمجھتا ہے۔
کبھی ہوگا نہ داغ جرم سے چہرہ خجل میرا
نہ گندی ہے نظر میری، نہ ہے ناپاک دل میرا
تہمینہ: دنیا کی ہر دوشیزہ لڑکی، آپ جیسے شریف اور بہادر کی کنیز بننا اپنی خوش نصیبی سمجھے گی۔ لیکن اس بات کو فراموش نہ کیجیے کہ میں تورانی ہوں اور آپ ایرانی۔
رستم: تو کیا محبت کو ایران اور توران کے لفظوں میں قید سمجھتی ہو؟ محبت ملک و قوم کے خیالات کی پیروی، جماعت کی رائے کی پابندی، رواج کی غلامی، رسموں کی اطاعت نہیں کرتی۔ محبت کا کوئی مذہب، کوئی قانون، کوئی قوم، کوئی وطن نہیں ہے۔ محبت خدا کے رحم کی طرح ذات اور قوم کو نہیں، صرف دل کی خوبیوں کو پوچھتی ہے۔ محبت مذہبی تعصب، ملکی نفرت، قومی دشمنی، ذاتی غرور، ہر تاریکی کو آفتاب کی روشنی بن کر دور کر دیتی ہے۔ محبت پورب اور پچھم کی طرف بہتے ہوئے دو دریاؤں کو ایک بنا کر، ایک ہی راستے پر چلنے کے لیے مجبور کر دیتی ہے۔
محبت کی نگاہوں میں اندھیرا بھی سویرا ہے
نہ تورانی، نہ ایرانی، نہ میرا ہے نہ تیرا ہے
نئی تحریر لکھیں آؤ! قسمت کے نوشتے میں
زباں سے ہاں کہو، بندھ جائیں دو دل ایک رشتے میں
تہمینہ: اس بات کا جواب دینے کا مجھے اختیار نہیں ہے۔ ایشیا کی لڑکی، شادی کے بعد شوہر کی اور شادی کے پیشتر والدین کے حکم کی اطاعت کرتی ہے۔
رستم: رستم اور تہمینہ کی شادی ممکن ہے کہ ایران کے بادشاہ کیکاؤس اور توران کے شاہ افراسیاب کی دیرینہ دشمنی کو پائدار محبت سے بدل کر ایران و توران کو ہمیشہ کے لیے گلے ملا دے۔ اس لیے مجھے کامل یقین ہے کہ تمھارے دور اندیش و صلح پسند والد اس رشتے کو جس سے دونوں ملک امن و محبت کی برکتوں سے فردوس ارضی بن جائیں گے، ضرور منظور کریں گے۔ یہ شادی جنگ کی دنیا میں دائمی صلح کا اعلان، خیالات کی تبدیلی کا نوروز، عداوت کے تاریک افق پر محبت کی صبح کا طلوع ہے۔
ناامیدوں کو نوید راحت و آرام دیں
ایک ہو کر آؤ دنیا کو نیا پیغام دیں
(تہمینہ شرما کر سر جھکا لیتی ہے۔ پیلسم اپنے رفیقوں کے ساتھ پوشیدہ مقام سے باہر نکلتا ہے)
پیلسم: غافل ہے۔ باندھ لو۔
(پیلسم کے ساتھی عقب سے رستم کو موٹی زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں)
تہمینہ: تم کون؟
رستم: یہ کیا؟
پیلسم: غرور کا جواب۔ توران کی ذلت کا بدلہ۔
تری نخوت، تری تقدیر نے دھوکا دیا تجھ کو
سمنگاں کی زمیں پر لائی تھی تیری قضا تجھ کو
نہ کوئی دوست ہوگا اب نہ کوئی ہم وطن ہوگا
زمین تیرا جنازہ، آسماں تیرا کفن ہوگا
رستم: احسان فراموش، دغاباز، جس طرح کتے کے سامنے روٹی کا ٹکڑا پھینک دیتے ہیں اسی طرح میں نے دربار میں تیری چھینی ہوئی تلوار اور تیری حقیر زندگی رحم کر کے تجھے دے دی تھی۔ اگر تیری ماں کے دودھ میں غیرت کا ایک قطرہ بھی ہوتا، تو ذلت کو بے حیائی کی فتح سمجھ کر دوبارہ میرے روبرو آنے کی کبھی جرأت نہ کرتا۔
گیدڑ نے پھر سے روپ بھرا ہے دلیر کا
چہرہ لگا کے آیا ہے گردن پہ شیر کا
آنکھیں ہیں لال، خوف سے، پر رنگ زرد ہے
بے شرم! تو شریف و جری ہے، نہ مرد ہے
پیلسم: اب یہ بکواس اس زنجیر کے لوہے میں نرمی اور اس دل میں تیرے لیے رحم نہیں پیدا کرسکتیں۔
مری شرافت پہ کرلے حملے، دہن میں جب تک ترے زباں ہے
یہ لن ترانی، یہ بد زبانی، بجھی ہوئی آگ کا دھواں ہے
رستم: شرافت؟ ان قدموں میں بیٹھ کر جن ہونٹوں سے اپنے بزدل اور ذلیل ہونے کا اقرار کر چکا ہے، ان ہونٹوں سے شرافت کے لفظ کو بے عزت مت کر۔ کمینے تو اس دنیا ہی میں پیدا نہیں ہوا جس میں شرافت اور شریف رہتے ہیں۔ بے غیرتی کی آگ سے دوزخ ہے دل کا گرم
بازو میں تیرے زور، نہ آنکھوں میں تیری شرم
اس کا بدن کثیف، ترا دل کثیف ہے
کتا گلی کا تجھ سے زیادہ شریف ہے
پیلسم: ہاتھی کو پکڑنے کے لیے جنگل میں گڑھا کھودنا، سامنے سے آتے ہوئے شیر پر دور سے تیر چلانا، بھیڑیے کے پنجے میں پنجہ ڈال کر لڑنے کے بدلے دس قدم پیچھے ہٹ کر اسے برچھا مارنا، اگر یہ نامردی اور کمینہ پن نہیں ہے تو دشمن کو شمشیر کے بدلے، تدبیر سے شکست دینا بھی شرافت کے خلاف نہیں ہے۔
فتح پانے کے لیے یہ آخری اوزار ہے
گرز و خنجر کی طرح دھوکا بھی اک ہتھیار ہے
رستم: دھوکا شیر دل شریفوں کا نہیں، لومڑی کا دل اور بچھو کی روح رکھنے والے کمینوں کا حربہ ہے۔ ایک شریف دغا اور فریب سے دشمن پر فتح حاصل کرنے کو فتح نہیں، اپنی شرافت کی شکست اور اپنی تلوار کی بے عزتی سمجھتا ہے۔
جری کو آبرو اور جان پیاری ہے کمینے کو
بہادر جانتا ہے موت بے شرمی کے جینے کو
پیلسم: اب تیرا جینا اور مرنا دونوں ہمارے قبضے میں ہے۔ اپنی روح سے کہہ کہ جسم سے نکل کر موت کی پیشوائی کرے۔
(رستم کے سینے میں تلوار بھونکنے کے لیے بڑھتا ہے)
تہمینہ: خبردار ـــــ (پیلسم کی کلائی میں زور سے گھونسہ مارتی ہے۔ اُس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گرتی ہے اور تہمینہ تلوار پر پاؤں رکھ کر کھڑی ہوجاتی ہے) انسانیت کی پیشانی پر شرم کے دھبے! تو شیر کو دھوکے سے زنجیر میں جکڑ کر اس کے خون سے اپنی ذلیل تلوار کے منھ پر بہادری کا غازہ ملنا چاہتا ہے۔ زوف ہے تجھ پر ـــــ مجھے آج معلوم ہوا کہ سمنگان کی مائیں تیرے جیسے کمینے لڑکے بھی پیدا کرتی ہیں۔
چاہتا ہے تو کہ سر جھک جائے سارے ملک کا
نام رسوا کر رہا ہے تو ہمارے ملک کا
یہ فریب، اتنا حسد، انسان کو انسان سے
یوں دغا کرتے نہیں حیوان بھی مہمان سے
پیلسم: بدکار! بدچلن!! ملک کے دشمن کو اپنی عزت نذر کر دینے کے بعد ہمیں ملک کی عزت کرنا سکھا رہی ہے۔
تہمینہ: بدکار۔ بدچلن؟ کیا کہا؟ موذی، نمک حرام۔
(غصے میں دوڑ کر پیلسم کا گلا پکڑ لیتی ہے)
پیلسم: (گلا چھڑا کر) باندھ لو۔
(پیلسم کے دو ساتھی دو طرف سے تہمینہ کی کلائیاں پکڑ لیتے ہیں)
تہمینہ: (ہاتھ پکڑنے والوں سے) چھوڑ دو۔ کمینو مجھے چھوڑ دو۔ اس پاجی کو اپنے گندے منھ کے ہر لفظ کا ثبوت دینا ہوگا۔ میں اس سے اپنی عزت کا جواب مانگتی ہوں۔
رستم: بدبخت و بیوقوف رحم و درگذر کو بھی مجبوری سمجھتے ہیں ـــــ ادھر دیکھ ـــــ پیلسم! میری برداشت پر غلط بھروسا نہ کر۔ میں اور سب کچھ دیکھ سکتا ہوں۔ لیکن بچے کی تکلیف، بوڑھے پر ظلم اور عورت کی بے عزتی کبھی نہیں دیکھ سکتا۔
پیلسم:
دیکھنا ہی ہوگا، جو کچھ ہے تری تقدیر میں
دیکھنے ہی کے لیے باندھا ہے اس زنجیر میں
رستم:
باندھ رکھنے کے لے کافی یہ تدبیریں نہیں
گھاس کے تنکے ہیں یہ لوہے کی زنجیریں نہیں
(زنجیر توڑ کر گرز اٹھانے کے لیے دوڑتا ہے)
رستم:
گرز و ترکش کیا ہوے؟ اچھا میری ہمت تو ہے
ہاتھ میں حربہ نہیں، پر ہاتھ میں طاقت تو ہے
(گرز نہ پا کر چھت کا ستون کھینچ لیتا ہے اور اسی سے پیلسم اور اُس کے ساتھیوں پر حملہ کرتا ہے)
(پردہ)
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.