Urdu in Translation
بحث
علامة مرجعية

الفصل 3 من 10

Act One, Scenes Two and Three

پہلا ایکٹ، دوسرا اور تیسرا سین

Agha Hashr Kashmiri

الخط
الحجم

پہلا ایکٹ – دوسرا سین

(شاہ سمنگان کی سال گرہ کا جلسہ)

(امرائے سلطنت حاضر ہیں۔ حبشی و تاتاری غلام کندھوں پر شراب کی زرنگار صراحیاں اور ہاتھوں میں طلائی جام لیے کھڑے ہوئے ہیں)

شاہ سمنگان: سمنگان کے ستارو! تاج کے وفادارو!! یہ دنیا ازل سے ابد کی طرف جانے والا ایک راستہ ہے۔ اس راستے پر خدا کے سوا، خدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز سفر کر رہی ہے۔ آج میری عمر کے مسافر نے بھی زندگی کے سفر میں اس راستے کی پچاس منزلیں طے کر لی ہیں۔ ؎
کل بڑھاپا بھی نہ ہوگا، نوجوانی کی طرح
ساتھ دنیا کے بہے جاتے ہیں پانی کی طرح
کس طرف کو جا رہے ہیں ہم، پتہ کوئی نہیں
اس سفر کی ابتدا ہے، انتہا کوئی نہیں

وزیر: ؎
حیات جاودانی دے خدا اس دارِ فانی میں
ہماری عمر بھی مل جائے تیری زندگانی میں

پیلسم: ؎
خوشی کا دن مسرت کا زمانہ بار بار آئے
ہزاروں بار یوں ہی اس گلستاں میں بہار آئے

(کنیزوں کا رقص۔ رقص کے بعد وزیر ادب سے بادشاہ کے روبرو اور ساقی امرائے دربار کے روبرو جام شراب پیش کرتے ہیں)

وزیر: (ساغر پیش کرکے) ؎
غلام سلطنت ہوں اور یہ نذر عاجزانہ ہے
مے رنگیں نہیں، یہ ساز ساغر کا ترانہ ہے

امیر ۱: (پیالہ ہاتھ میں لے کر) ؎
شراب ناب کے جلووں سے ساغر میں اُجالا ہے
ہزاروں چودھویں کے چاند ہیں اور ایک ہالا ہے

پیلسم: (جام بلند کرکے) ؎
یہ وہ شے ہے، گرے تو خاک سے اکسیر پیدا ہو
ہر اک قطرہ سے ایک اک حسن کی تصویر پیدا ہو

(پیالہ ہونٹوں تک لے جاتے ہیں۔ رستم غصے اور جوش میں داخل ہوتا ہے)

رستم: بس۔ دنیا میں تمھاری خوشی کے دن ختم ہوچکے۔ پیالے پھینک دو۔ صراحیاں توڑ دو۔ اپنی ہنسی کو آنسوؤں میں بہا دو۔ (بادشاہ سے) تم ہی سمنگان کے بادشاہ ہو؟ (درباریوں سے) تم ہی اس تخت و تاج کے قوی بازو محافظ ہو (دوبارہ بادشاہ سے) یہی آنکھیں ہیں جو اپنے سوا تمام دنیا کو حقارت سے دیکھتی ہیں (دوبارہ درباریوں سے) یہی ہاتھ ہیں، جو شیر کی کلائی مروڑنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ؎
کمانیں بھی ہیں، ڈھالیں بھی ہیں، کندھوں پر تبر بھی ہے
کرو ثابت کہ ان سینوں میں دل بھی ہے جگر بھی ہے
بڑھو جوہر دکھاؤ آج، اگر تلوار باندھی ہے میں آیا ہوں کہ دیکھوں کون بجلی، کون آندھی ہے

پیلسم: شاہی دربار میں آج تک کسی نے اس جوش و دلیری کے ساتھ گفتگو کی جرأت نہیں کی۔ تم مظلوم ہو، فریادی ہو، دیوانے ہو؟ کون ہو؟

رستم: میں کون ہوں؟ اس تخت کے لیے زلزلہ ــــ اس سلطنت کے لیے تہلکہ۔ اس تہنیت کے ترانوں سے گونجتی ہوئی محفل نشاط میں موت کی گرج۔ ؎
عدو کو پھونک دے وہ برق شعلہ فام ہوں میں
خدا کے قہر کا اک نقشِ انتقام ہوں میں
فنا کے ہونٹ سے نکلا ہوا پیام ہوں میں
اجل کے ہاتھ کی شمشیر بے نیام ہوں میں
یہ بزم عیش چمکتی ہے جو ستاروں سے
جلے گی اب مری تلوار کے شراروں سے

پیلسم: ادب سیکھ، ادب سیکھ۔ یہ ہمارے بادشاہ کا انتہائی رحم ہے کہ ابھی تک تجھے اس گستاخی کی سزا نہیں دی گئی۔

رستم: عورتوں کی طرح تمھاری زبان میں طاقت ہے۔ مگر مجھے سزا دینے کے لیے تمھارے بازوؤں میں طاقت نہیں ہے۔ ؎
ہستی ناچیز بپھرے گی فنا کے سامنے
شمع کی لو سر اٹھائے گی ہوا کے سامنے
گھاس کا تنکا سزا دے! اور کسے؟ طوفان کو!!
تم نے دیکھا ہی نہیں اب تک دلیر انسان کو

پیلسم: بس۔ اس سے زیادہ تحمل نہیں ہوسکتا۔ تیری گستاخی برداشت کی حد سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ؎
زباں اور سر کٹا دیتی ہیں تلخ و تیز تقریریں
نہ لہرائیں کہیں ناگن کی صورت سر پہ شمشیریں
ہماری بھی رگوں میں زندگی کا خون بہتا ہے سمجھ رکھا ہے کیا تو نے ہمیں بے جان تصویریں؟

رستم: زمین پر اگی ہوئی گھاس، جیسے پیروں سے روندتا ہوا یہاں تک آیا ہوں، میں اس سے بھی زیادہ تمھیں بے حقیقت سمجھتا ہوں۔ سنو، تم سمنگان کے شاہی دربار میں نہیں، قسمت کا فیصلہ سننے کے لیے مجرموں کی طرح میرے غصے کی عدالت میں کھڑے ہوئے ہو۔ اگر دنیا میں زندہ رہنے کی خواہش ابھی پوری نہیں ہوئی ہے، تو میرے غضب کے سامنے گھٹنے ٹیک کر، سر جھکا کر، ہاتھ جوڑ کر، پیکر ندامت و زبانِ التجا بن کر اپنے قصور کے لیے معافی اور اپنی زندگیوں کے لیے رحم مانگو۔

شاہ سمنگان: اے شخص۔ میں بڑی دیر سے تیری دیوانگی آمیز گستاخیوں کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں ــــ کسی مقدمے میں انصاف، کسی قصور کی معافی، کسی خدمت کا انعام۔ بیان کر، تو کیا چاہتا ہے؟

رستم: میں اپنا رخش نامی گھوڑا چاہتا ہوں۔ تیری سلطنت میں شریفوں کا چہرہ لگا کر پھرنے والے ڈاکو اسے تورانی سرحد سے چُرا لائے ہیں۔ اگر تو نے آج ہی، اسی وقت، اسی جگہ اُسے حاضر نہ کیا، تو اس دنیا میں تیری ہستی اور اس زمین پر سمنگان دکھائی نہ دے گا۔ ؎
قسم خورشید کی نوری زرہ جس کے بدن پر ہے
قسم مہتاب کی جو دستِ شب کا گرز پُرزر ہے
قسم ہے کہکشاں کی، جو کمان چرخ اخضر ہے
قسم ہے آسماں کی، جو شفق کے خون سے تر ہے
دکھائی دوگے یوں تم آب خنجر کی روانی میں
بہیں آتش زدہ کشتی کے تختے جیسے پانی میں

شاہ سمنگان: تو اس دعوے سے باتیں کر رہا ہے۔ گویا تباہی تیرے اشارے اور موت تیرے غصے کا نام ہے۔ انسان اتنا خوفناک نہیں ہوتا۔ میں تیرا نام جاننا چاہتا ہوں؟

رستم: میرا نام سنتے ہی اس دربار کی دیواریں کانپ اٹھیں گی۔ یہ شراب اور غرور کے نشے سے سرخ چہرے زرد ہوجائیں گے اور تو آندھی کے تھپیڑے سے ہل گئے ہوئے درخت کی طرح تھرتھراتا ہوا تخت سے نیچے گر پڑے گا۔ ؎
روح یوں لرزے گی گویا دب گئی ہے برف میں
اس قدر ہیبت ہے میرے نام کے ہر حرف میں
شور سے گونجا ہوا ہر شہر، ہر ویرانہ ہے
نام میرا شیر کا اک نعرۂ مستانہ ہے

شاہ سمنگان: چاہے تیرے نام کے ہر حرف میں ایک زلزلہ اور ہر نقطے میں ایک کوہ آتش فشاں پوشیدہ ہو۔ چاہے تیرا نام سنتے ہی ہمارے کانوں کے پاس ہزاروں بادل ایک ساتھ گرج اٹھیں، پھر بھی ہم تیرے نام سے واقف ہونا چاہتے ہیں۔

رستم: اِن بازوؤں کی طاقت نے شہرت کی سنہری روشنائی سے ایران اور توران کے ذرے ذرے پر میرا نام لکھ دیا ہے۔ میں سام و نریمان کا جگر بند، زال و رودابہ کا فرزند، زابلستان کا جرار، فارس کا مددگار۔ ؎
شاہِ کیکاؤس کے اقبال کی تنویر ہوں
فاتح مُلک شجاعت، مالک شمشیر ہوں
تیر و ترکش میرے خادم، گرز ہے ہمدم مرا
کام ہے میداں نوازی نام ہے رستم مرا

(سب چونک پڑتے ہیں۔ بادشاہ گھبرا کر تخت سے اتر آتا ہے)

شاہ سمنگان: (تخت سے اترتے ہوئے) رستم! رستم!! کیا وہی رستم جس کی عظمت مآب ہستی پر آج ایران فخر کر رہا ہے؟ جس کے کوہ شکن بازوؤں کے سامنے دنیا کی تمام طاقتیں اپنی کمزوری اور مجبوری کا اقرار کر رہی ہیں؟ جس کی تلوار فاتحین عالم کے جسموں سے روحوں کا خراج طلب کر رہی ہے؟

رستم: ہاں۔ میں وہی رستم ہوں۔ گھوڑا دو یا جنگ کرو۔ بولو۔ زندگی اور موت دونوں میں کسے پسند کرتے ہو؟

شاہ سمنگان: نامور رستم۔ ایرانی اور تورانی تلواروں کے ٹکرانے کی جگہ شاہی دربار نہیں میدان جنگ ہے۔ آیئے۔ بیٹھیے۔ آپ ہمارے مہمان ہیں ــــ میں میزبان اور دوست کی حیثیت سے آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

رستم: اس دنیا میں میرا سب سے بڑا دوست میرا وفادار گھوڑا ہے۔ جب تک وہ نہ مل جائے، میں تمھاری طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔

شاہ سمنگان: آپ دو روز کے لیے ہماری مہمانی قبول کیجیے۔ گھوڑا موجود ہے۔ سمنگان سے رخصت ہونے کے پہلے آپ کا گھوڑا، آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائے گا۔

رستم: اپنا وعدہ پورا کروگے؟

شاہ سمنگان: اگر انسان ہونے کا دعویٰ ہے۔

رستم: مہمان بنا کر دھوکا تو نہ دوگے؟

شاہ سمنگان: اگر کمینہ کہلانے کی شرم ہے۔

رستم: اپنی دوستی کا ثبوت دو۔

پیلسم: ٹھہریے، جلالت مآب ٹھہریے۔ اس تاج و تخت کی حفاظت کرنے والے جاں نثاروں کی طرف سے سمنگان کی وفادار رعیت کی طرف سے، تورانیوں کی حمیت اور غیرت کی طرف سے، یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ آپ کس کی مرضی سے توران کے سب سے بڑے دشمن کو اپنا مہمان بنا رہے ہیں؟

شاہ سمنگان: اس سوال کا مطلب؟

پیلسم: جس طرح رعایا اپنے بادشاہ کی اطاعت گزار ہوتی ہے، اُسی طرح بادشاہ بھی، ملک کی آواز اور رعیت کی مرضی کا تابع ہوتا ہے۔ جب تک بادشاہ اور رعیت کی رائے و خواہش میں اتفاق نہ ہو، حکومت کی عمارت امن و اطمینان کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتی۔

شاہ سمنگان: میں دوبارہ پوچھتا ہوں کہ ان لفظوں کا کیا مطلب ہے؟

پیلسم: آسمان کی سلطنت میں تنہا حکومت کرنے والے آفتاب کی طرح آپ خودمختار و آزاد نہیں۔ بلکہ آفتاب سے روشنی اکتساب کرنے والے چاند کی مانند، توران کے شہنشاہ افراسیاب کے زیر اثر و ماتحت ہیں۔ اس لیے توران کے دشمن کو مہمان بناکر، دنیا میں تورانیوں کو بزدل اور بے حمیت ثابت نہ کیجیے۔ اس شرم ناک جرأت کو نہ سمنگان کی رعیت معاف کرے گی اور نہ توران کا شہنشاہ افراسیاب۔

رستم: افراسیاب! کون افراسیاب؟ ــــ وہی جو صدہا مرتبہ اپنی نامردی سے میدان جنگ کو ذلیل کرچکا ہے۔ جو کتنی ہی بار، رستم کی تلوار سے زندگی کی بھیک مانگ چکا ہے۔ جو زندوں کی دنیا میں صرف اپنی ذلت اور شکست پر آنسو بہانے کے لیے جی رہا ہے۔ ؎
سرکشی میں جو فلک ہے، روندے جانے میں زمیں
جس میں ہمت ہے نہ غیرت، جس کی دنیا ہے نہ دیں
جا۔ ڈرا اس کو، جو تجھ سا بزدل و نامرد ہے
وہ ترا افراسیاب، ان ٹھوکروں کی گرد ہے

پیلسم: (درباریوں سے) جس کے پہلے ہی لفظ پر تلوار کو میان سے تڑپ کر باہر نکل آنا چاہیے تھا۔ اس کی یاوہ گوئی کا جواب دینے کے لیے ابھی تک تمھاری زبانوں اور ہاتھوں کو حرکت نہیں ہوتی!! کیا تم بے حس ہو۔ مردہ ہو۔ انسان نہیں، زندگی کے خیالی سائے ہو؟ ؎
شرم ہے تم پر -- اگر دنیا میں یہ زندہ رہے
ہاں بڑھو -- توران کا اقبال تابندہ رہے

(پیلسم اور اس کے ساتھی رستم پر حملہ کرتے ہیں۔ رستم حملہ آوروں کو شکست دینے کے بعد پیلسم کو زمین پر گرا کر خنجر نکالتا ہے۔ شاہ سمنگان رستم کا ہاتھ تھام کر التجا آمیز نگاہوں سے پیلسم کے لیے رحم طلب کرتا ہے)

پہلا ایکٹ – تیسرا سین

(سمنگان کا شاہی محل)

(شہزادی تہمینہ اور کنیزیں آتی ہیں)

تہمینہ: نیلا آسمان، ہنستا ہوا چاند، جگمگاتے ہوئے تارے۔ کتنی حسین رات ہے۔ دن کے سوتے ہی دنیا کی خوبصورتی جاگ اٹھتی ہے ــــ یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ درخشاں نظارہ قدرت کی شاعری ہے اور رات چاندنی کی چادر اوڑھے ہوئے اس حسین شاعری کا مطالعہ کر رہی ہے۔

کنیز ۱: اور مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سمنگان کی شہزادی کے حُسن کا مقابلہ کرنے کے لیے، نیلم کے تخت پر بیٹھی ہوئی رات کی ملکہ۔ چاند کا آئینہ سامنے رکھ کر اپنے سیاہ بالوں میں تاروں کے موتی پرو رہی ہے۔

تہمینہ: تم نے میرے حُسن کی تعریفیں کرنا کس سے سیکھا؟

کنیز ۱: حُسن کے مصاحب سے۔

تہمینہ: کون مصاحب؟

کنیز ۱: آپ کا آئینہ۔ وہی آئینہ جس کے اندر آپ کا چہرہ اس طرح نظر آتا ہے، گویا چاندی کے چشمے میں سونے کا پھول تیر رہا ہو۔

تہمینہ: آئینہ تو خوشامدی ہوتا ہے۔

کنیز ۱: معاف کیجیے۔ وہ بدصورت چہرے کی کبھی خوشامد نہیں کرتا۔

تہمینہ: اری بیوقوفو! عورت کا حسن وہم کا خواب، خیال کی حماقت، یقین کی دیوانگی ہے۔ وہ خوبصورتی جو عمر بڑھنے کے ساتھ کم ہو جاتی، ڈوبتے ہوئے دن کی روشنی کی طرح پھیکی پڑجاتی اور بجلی کی طرح چمک کر، پھول کی خوشبو کی طرح اڑجاتی ہے۔ میں اُس آنی اور فانی خوبصورتی کو عورت کے ساتھ جوانی کا مذاق سمجھتی ہوں۔ ؎
بہار دل ربائی، ایک دھوکا، ایک سایہ ہے
یہ کچا رنگ مٹی کے کھلونوں پر چڑھایا ہے
کہاں کا حُسن؟ پاگل ہے جو اترائے جوانی پر
ہوا سے بن گئی ہیں کچھ لکیریں، بہتے پانی پر

(ایک اور کنیز آتی ہے)

کنیز ۲: حضور۔ سنتے ہی چونک اٹھیے گا۔ میں آپ کے لیے اس پرانی دنیا کی ایک نئی خبر لائی ہوں۔

تہمینہ: نئی خبر!

کنیز ۲: جی ہاں۔ نئی، اچھوتی، کنواری خبر۔ اس دنیا کے سارے جھگڑوں کی جڑ تین چیزیں ہیں۔ زر، زمین، زن۔ سلطنت کے لیے، دولت کے لیے، عورت کے لیے تو لڑائیاں ہوا کرتی ہیں۔ لیکن ایک گھوڑے کے لیے خون خرابہ ہوتے آج ہی دیکھا۔

تہمینہ: لڑائی ہوئی! ــــ کہاں؟

کنیز ۲: دربار میں۔

تہمینہ: کس سے؟

کنیز ۲: ہمارے وزیر جنگ پیلسم اور ایران کے سپہ سالار رستم سے۔

تہمینہ: ایران کے دربار کی زینت رستم، سمنگان کے دربار میں کیسے آگیا؟

کنیز ۲: اپنے کھوئے ہوئے گھوڑے کی تلاش میں۔

تہمینہ: تو لڑائی کی وجہ؟

کنیز ۲: انسانیت و شرافت کا فرض سمجھ کر ہمارے بادشاہ نے گھر آئے ہوئے قومی دشمن کو مہمان بننے کے لیے دعوت دی۔ اس دعوت کو پیلسم اور اس کے ہم خیال سرداروں نے توران کی بے عزتی سمجھا۔ اسی بنیاد پر بات بڑھ گئی اور ایک خوفناک جنگ شروع ہو گئی۔

تہمینہ: کہاں رستم اور کہاں سمنگان! تو ضرور کوئی خواب دیکھ کر آئی ہے۔

کنیز ۲: تلواروں کی گھٹا میں رستم کو بجلی کی طرح چمکتے ہوئے دیکھ کر مجھے بھی اس نظارے پر خواب ہی کا دھوکا ہوا تھا۔ لیکن اپنے حریف کو شکست دینے کے بعد، جب رستم کو جہاں پناہ کے ساتھ آرام کے لیے محل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔ تب یقین ہوا کہ میں خواب نہیں دیکھ رہی، جاگ رہی ہوں۔

تہمینہ: وہ سمنگان میں کب تک رہے گا؟

کنیز ۲: پرسوں شام تک۔ کیونکہ گھوڑے کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے بادشاہ نے دو روز کا وعدہ کیا ہے۔

تہمینہ: میں برسوں سے رستم کا پُرجلال نام اور اُس کی جرأت و دلیری کے عجیب و غریب کارنامے سن رہی ہوں۔ جب دشمن بھی بے اختیار ہوکر اس کی بے مثال بہادری کی تعریف کرتے ہیں تو میں سوچ میں پڑجاتی ہوں، کہ وہ کتنا اقبال مند اور کیسا شاندار آدمی ہوگا۔ جس کی شہرت نے تمام دنیا کو فتح کر لیا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ایک بار اسے چھپ کر دیکھوں اور معلوم کروں کہ دنیا اس کی اتنی تعریف اور اتنی عزت کیوں کر رہی ہے؟

کنیز ۲: آپ رستم کو دیکھنا چاہتی ہیں؟

تہمینہ: اگر ممکن ہو ــــ لیکن چھپ کر ــــ اور وہ بھی صرف ایک بار۔

کنیز ۲: لیکن یہ خیال رہے کہ رستم نے دنیا کو فتح کرنے کی قسم کھائی ہے۔ آپ بھی دنیا کی حسین ترین شے ہیں۔ کہیں وہ محبت کی طاقت سے آپ کو بھی فتح نہ کرلے۔

تہمینہ: تو مجھ سے مذاق کرتی ہے۔

کنیز ۲: یہ مذاق نہیں، پیشین گوئی ہے۔ کیونکہ میں حسن و عشق کی قسمت کا حال بتانے والی نجومی ہوں۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.