Urdu in Translation
بحث
علامة مرجعية

الفصل 10 من 10

Act Three, Scenes Four to Six

تیسرا ایکٹ، چوتھا تا چھٹا سین

Agha Hashr Kashmiri

الخط
الحجم

تیسرا ایکٹ – چوتھا سین

میدان جنگ

(اندر سے لڑائی کے باجے اور مارو مارو کا شور سنائی دیتا ہے۔ ایران کے کچھ سپاہی پناہ پناہ کہتے ہوئے بھاگتے نظر آتے ہیں۔ گودرز اور طوس کے ساتھ رستم داخل ہوتا ہے)

رستم: شاباش، سہراب، شاباش۔ آفریں ہے تیری بہادری کو۔ آفریں ہے تیری ماں کے دودھ کو۔ (طوس و گودرز سے) میدان جنگ میرا وطن اور تلواروں کی چھاؤں میری آرام گاہ ہے۔ میری ساری زندگی خنجروں کی چمک اور خون کی بارش میں بسر ہوئی ہے لیکن میں نے آج تک معرکہ کارزار میں اتنی بے جگری اور اتنی شاندار بے پروائی کے ساتھ کسی انسان کو موت سے کھیلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس کی حیرت ناک دلیری اور طریق جنگ دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ایک دوسرا رستم پیدا ہو گیا۔

گودرز: لیکن جس طرح آگ پر پارہ اڑ جاتا ہے۔ اسی طرح مقابلے کے وقت آپ کا نام سنتے ہی، اس کی طاقت بھی اس کے بازوؤں سے علٰحدہ ہو جائے گی۔

رستم: میں نے صرف ایران کی محبت و فرض سے مجبور ہو کر انصاف، دیانت اور اپنے اصول و شان کی خلاف ایک سولہ برس کے ناتجربہ کار لڑکے کے مقابلے میں میان سے تلوار کھینچی ہے۔ لیکن میں اس کے سامنے اپنا رتبہ اور نام ظاہر نہیں کروں گا۔ کیونکہ ایک کم سن بچے سے لڑنا رستم کی آبرو نہیں، رستم کے نام کی بے عزتی ہے۔

(اندر پھر شور ہوتا ہے)

طوس: وہ دیکھیے۔ وہ دیکھیے۔ پھر ہمارا لشکر سیلاب کی طرح آگے بڑھنے کے بدلے کنارے سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہوئی لہر کی طرح سمٹ کر پیچھے ہٹ رہا ہے۔

رستم: زندگی کی اتنی محبت!۔ موت کا اتنا خوف!!۔ کیا یہ میدان جنگ میں تلوار و شجاعت کو ذلیل کرنے آئے تھے!!! ـــ جاؤ ـــ جاؤ ـــ ان سے کہو کہ مایوس نہ ہوں۔ رستم زندہ ہے۔ اور ایران کا اقبال بھی زندہ رہے گا۔ (گودرز اور طوس جاتے ہیں۔ اندر دوبارہ شور ہوتا ہے) اِن بزدلوں کی روح میں غیرت کی روشنی بجھ گئی ہے۔ اس لیے انھیں فرض کا راستہ دکھائی نہیں دیتا ـــ یہ کون ہے؟ سہراب؟ ہاں وہی ہے۔ کتنا بہادر! کتنا خوبصورت!!۔ دیکھنے سے آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ میرا فرزند ہوتا، تو آسمان کی طرح آج زمین پر بھی، دو آفتاب و ماہتاب دکھائی دیتے ـــ آہ۔ وہ موت کی تلاش میں اسی طرف آ رہا ہے۔ واپس جا سہراب۔ اگر تیرے باپ ماں زندہ ہیں تو ان کے بڑھاپے اور ارمانوں پر رحم کر۔ اور واپس جا۔ نادان۔ تو ایران میں رستم سے نہیں، اپنی قسمت سے جنگ کرنے آیا ہے۔

(سہراب کا داخلہ)

سہراب: چہرہ آگ اور دل برف۔ خوف کی آندھی میں، ریت کے ذروں کی طرح اڑتے پھر رہے ہیں۔ شاید ان بزدلوں کے عقیدے میں بھاگنے ہی کا نام بہادری ہے۔ کیکاؤس۔ تیری قسمت کے روشن دن کی شام آگئی۔ کل میرے قدم تیرے تخت پر اور تیرا تاج میرے قدموں میں ہوگا۔

(آگے بڑھتا ہے۔ رستم روکتا ہے)

رستم: ٹھہر۔ اس جنگ میں خود فتح تیرے خنجر کی دھار، اور نصیب تیرے بازوؤں کا زور بن جائے۔ تو بھی تو کیکاؤس تک زندہ نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اس کا تاج، تیری امید سے اور اس کا تخت تیری ہمت سے بہت زیادہ بلند ہے۔

سہراب: یہ چہرہ! یہ جلال!! ـــ اے ایرانی بزرگ تو کون ہے؟

رستم: ایران کا نمک خوار۔ شہنشاہ کیکاؤس کا جاں نثار۔

سہراب: (اپنے آپ سے) میری ماں نے اپنے لفظوں سے میرے دل پر جو رستم کی تصویر کھینچ دی ہے اس ذہنی تصویر سے یہ پُر عظمت چہرہ کس قدر مشابہ ہے۔

رستم: میں دنیا کی کوئی عجیب چیز نہیں ہوں۔ تو میرے چہرے کی طرف غور سے کیا دیکھ رہا ہے؟

سہراب: (اپنے آپ سے) ـــ
وہی شوکت عیاں ہے، اس کے تیور اور قرینے سے
اڑے جاتے ہیں نقشِ دشمنی دل کے نگینے سے
نہ جانے کون کہتا ہے کہ بڑھ- قدموں پہ سر رکھ دے
یہی ہے باپ تیرا۔ جا، لپٹ جا - اس کے سینے سے

رستم: وہی خاموشی ـــ وہی حیرت ـــ کیا تو کوئی خواب دیکھ رہا ہے؟ ـــ
آنکھیں کیوں پتھرا گئیں، بڑھتے قدم کیوں جم گئے
کیا ہوا جو یک بیک آندھی کے جھونکے تھم گئے
ناز مت کر۔ ہاتھ بے قیمت لہو میں رنگ کر
عورتوں سے لڑچکا۔ آ۔ مرد سے اب جنگ کر

سہراب: جنگ دشمن سے ہوتی ہے۔ عزیزوں اور بزرگوں کے ساتھ نہیں ہوتی۔ یہ جنگ خوں ریزی سے شروع ہوکر اشک باری پر ختم نہ ہو۔ اس لیے حملے سے پیشتر، اے محترم انسان میں تیرے نام اور رتبے سے واقف ہونا چاہتا ہوں۔ ـــ
جس کو دیکھا تھا کبھی آئینۂ تقریر میں
دیکھتا ہوں۔ میں وہی جلوہ تری تصویر میں

رستم: تو عجب طرح کی گفتگو کر رہا ہے۔ کیا موت کے خوف سے دیوانہ ہوگیا ہے؟ ـــ پوچھنا نام و نشاں، اس جنگ کے انجام سے
لڑنے آیا ہے یہاں مجھ سے، کہ میرے نام سے؟

سہراب: میں نام اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ یہ چہرہ دیکھ کر میرے دل میں دشمنی کی جگہ تیری عزت پیدا ہوگئی ہے۔ ـــ
جس کی تلوار سے، توران کے لب پر دم ہے
کیوں چھپایا ہے، یقیناً تو وہی رستم ہے

رستم: رستم شیروں سے، اژدھوں سے، بہادری کے طوفان سے لڑتا ہے۔ اپنی عمر، رتبے اور شہرت کی توہین کرنے کے لیے جنگ کے میدان کو ماں کی گود سمجھنے والے ناسمجھ لڑکوں کا مقابلہ نہیں کرتا۔ ـــ
سرد ہو جاتے ابھی، یہ جوش کیا، اور شور کیا
سامنے رستم کے تو کیا اور تیرا زور کیا
کانپ اٹھتا۔ دیکھتے ہی موت کی تصویر کو
جنگ میں رستم نہ آیا، دے دعا تقدیر کو

سہراب: بہادر بوڑھے، میرا دل نہیں چاہتا، کہ تجھ پر حملہ کروں ـــ میں منت کرتا ہوں کہ مجھے غفلت کے اندھیرے میں نہ رکھ ـــ اگر واقعی تو رستم ہے، تو میں تلوار پھینک کر، ہاتھ جوڑ کر، دو زانو بیٹھ کر تیرے قدموں کو بوسہ دوں گا، اور عزت و ادب کے ساتھ سر جھکا کر تیری بزرگی کو سلام کروں گا۔ ـــ
اور کہوں گا کہ خوش اقبال بنا دے مجھ کو
ہاتھ رکھ سر پہ مرے اور دعا دے مجھ کو

رستم: دنیا پر یہ ثابت کرنے کے لیے سہراب نے رستم جیسے یکتائے زمانہ دلیر سے جنگ کی تھی، تو دھوکا دے کر مجھ سے رستم ہونے کا اقرار کرانا چاہتا ہے۔ ـــ
کیوں نہیں کہتا کہ مجھ میں جنگ کا اب دم نہیں ہوش میں آ، کان کھول اور سن کہ میں رستم نہیں

سہراب: اگر تو رستم نہیں ہے۔ تو آنکھیں بند ہونے سے پہلے، دنیا کو آخری مرتبہ حسرت کی نظروں سے دیکھ لے۔

(دونوں پہلے گرز سے، پھر گرز پھینک کر تلواروں سے اور تلواریں ٹوٹ جانے کے بعد ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر آپس میں جنگ کرتے ہیں۔ آخر میں سہراب رستم کو زمین پر گرا دیتا ہے اور چھاتی پر چڑھ کر قتل کے ارادے سے خنجر نکالتا ہے۔ رستم سہراب کی کلائی پکڑ لیتا ہے)

رستم: ٹھہر ـــ ایران کے بہادروں کا دستور ہے کہ دشمن کو دو مرتبہ شکست دینے کے بعد قتل کرتے ہیں۔ اگر تجھے اپنے بازوؤں کی طاقت پر بھروسا اور تیرے دل میں بہادروں کے دستور کی عزت ہے تو مجھے کل نصیب آزمائی کا ایک اور موقع دے۔ کل کا فیصلہ قسمت کا آخری فیصلہ ہوگا۔

سہراب: کیا اتنی مختصر مدت میں فتح و شکست کا اصول، ہرن اور شیر کی فطرت کا قانون بدل جائے گا؟ اگر تجھے یقین ہے کہ رات بھر کی خوشامد سے صبح کو قسمت تیری مدد کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔ تو اچھا۔ حفاظتِ زندگی کی اس آخری کوشش کے لیے تجھے کل تک کی مہلت دیتا ہوں۔ (سینے سے اٹھ کر) مرد کا زیور بہادری اور بہادری کا زیور رحم ہے۔

(خنجر پھینک دیتا ہے)

تیسرا ایکٹ – پانچواں سین

ہومان، بارمان کا خیمہ

ہومان: جس طرح فاتح ظلمت، آفتاب کی نو طلوع کرنیں شب کی حدود حکومت میں داخل ہوکر تاریکی کو منتشر و مغلوب کرکے رفتہ رفتہ فضا کی سلطنت پر قبضہ کرلیتی ہیں۔ اسی طرح ہزیمت خوردہ ایران بھی سہراب کی عسکری طاقت کا اقتدار اور اس کے تہوّر و بسالت کی جہانگیری تسلیم کرچکا تھا۔ لیکن اس کی طفلانہ حرکت نے حال کی فتوحات اور مستقبل کے توقعات، حاصل شدہ اور غیر حاصل شدہ ہر شے اور ہر اُمید کو رائگاں کر دیا۔

بارمان: وہ اس حقیقت سے لاعلم ہے کہ ناپختہ عقل کی خامی سے انسان زندگی کی جس غلطی کو سطحی اور ناقابلِ التفات سمجھتا ہے۔ وہی حقیر غلطی ایک روز ہیبت ناک تباہیوں کا سنگ بنیاد اور عظیم الشان غم انگیز نتائج کی آفرید گار ثابت ہوتی ہے۔

ہومان: جس کا جوش جوان اور تجربہ بچہ ہے ـــ جس کا بازو طاقت ور اور عقل کمزور ہے۔ وہ دنیا کو فتح کرسکتا ہے، دنیا پر حکومت نہیں کرسکتا۔

بارمان: قبضے میں آئے ہوئے شیر کو دوبارہ حملہ کرنے کے لیے آزاد کر دینا، یہ سہراب کی ایسی خوفناک غلطی ہے، کہ اس غلطی پر عقل باختہ دیوانے بھی افسوس کرتے ہوں گے۔

ہومان: اور اس احمقانہ غلطی کو وہ بہادرانہ رحم کہتا ہے۔

بارمان: جنگ کیا ہے؟ قتل، خون، موت کی نمائش ـــ اس لیے جنگ خود ایک بے رحمی ہے ـــ بے رحمی کی سلطنت میں رحم کے قانون پر عمل نہیں ہوتا۔

ہومان: یہ اُس کی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ جو فتح، طاقت اور تلوار سے حاصل نہ ہوسکی وہ رستم نے عقل کے زور اور فریب کے حربے سے حاصل کرلی۔

بارمان: تو اب کیا کرنا چاہیے؟ ہمارے بادشاہ افراسیاب کی آرزو اور ہماری کوشش برباد ہوا چاہتی ہے۔

ہومان: چلو سہراب کو اس غلطی پر شرمندہ کریں۔ اس کی روح میں ایک نئی روح پھونکیں۔ اس کے دل کی نیکی کو عداوت سے اور رحم کے جذبے سے بدل دیں۔ اگر ہمارے جھنجھوڑنے سے سہراب کی سوئی ہوئی سمجھ جاگ اٹھی تو کل کا دن رستم کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔

(دونوں جاتے ہیں)

تیسرا ایکٹ – چھٹا سین

میدان جنگ

(رستم اداس چہرے اور غمگین دل کے ساتھ مایوس نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے)

رستم: پروردگار۔ میں نے کبھی تیرے قہر و غضب کو حقیر نہیں سمجھا۔ کبھی تیری طاقت کے سامنے اپنی فانی طاقت کا غرور نہیں کیا۔ پھر اس ذلت کی شکل میں تو نے مجھے میرے کس گناہ کی سزا دی ہے؟ ـــ اے درد مندوں کی دوا، اے کمزوروں کی قوت، اے نااُمیدوں کی اُمید۔ میں نے کل ساری رات تیرے حضور میں سجدہ ہائے نیاز کے ساتھ آنسو بہا کر مدد کے لیے التجا کی ہے۔ اپنے عاجز بندے کی التجا قبول کر۔ اس بڑھاپے میں دنیا کے سامنے میری شرم رکھ اور ایک بار میری جوانی کا زور و جوش مجھے دوبارہ واپس دے دے۔ ـــ
عطا کردے وہی طاقت جو اک دن تھی مرے بس میں
جوانی کا لہو پھر جوش مارے میری نس نس میں
تری قدرت پلٹ سکتی ہے سارے کارخانے کو
پھر اک دن کے لیے تو بھیج دے پچھلے زمانے کو

(سہراب کا داخلہ)

سہراب: صبح ہوگئی۔ ممکن ہے کہ آج کی صبح اس کی زندگی کی شام ثابت ہو۔ نہ جانے کیا سبب ہے کہ اس کی موت کا خیال آتے ہی میری روح کانپ اٹھتی ہے۔ (رستم کو دیکھ کر) تو آگیا۔ کیا جنگ کے نقارے کی پہلی ہی چوٹ سے تیری نیند ٹوٹ گئی؟

رستم: بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا۔ میں آدھی رات سے صبح ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔

سہراب: آج لڑائی کا دوسرا دن ہے۔ جانتا ہے اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوگا؟

رستم: ہم دونوں میں سے ایک کی موت۔

سہراب: شیر دل بوڑھے۔ میرا دل تیری موت دیکھنے کے لیے راضی نہیں ہوتا۔ ایک غیبی آواز بار بار مجھے اس جنگ سے روک رہی ہے۔ اگر ایران کی گود بہادر فرزندوں سے خالی نہیں ہے۔ تو جا۔ واپس جا۔ اور اپنے عوض میں کسی اور ایرانی دلیر کو بھیج دے۔ میں تجھے زندگی اور سلامتی کے ساتھ لوٹ جانے کی اجازت دیتا ہوں۔

رستم: کل کی اتفاقی فتح پر غرور نہ کرو۔ ہر نیا دن انسان کے لیے نئے انقلاب لے کر آتا ہے۔ تقدیر کا پہیہ ہمیشہ ایک ہی سمت میں نہیں گھومتا ہے۔ ـــ
گھڑی بھر میں بدلنا ہوگا تجھ کو پیرہن اپنا
منگا کر پاس رکھ لے جنگ سے پہلے کفن اپنا

(جنگ شروع ہوتی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد سہراب ہاتھ روک لیتا ہے)

سہراب: ٹھہر۔ آج میں تجھ میں نیا جوش اور نئی قوت دیکھ رہا ہوں۔ جواں ہمت بوڑھے، مجھے پھر شک ہوتا ہے کہ تو رستم ہے۔ میں تیری عزت کا واسطہ اور تیری بہادری کی دہائی دے کر ایک بار پھر تیرا نام پوچھتا ہوں زور سے نہیں، منت سے۔ غرور سے نہیں، عاجزی سے۔

رستم: تو میرا نام ہی جاننا چاہتا ہے۔ تو سُن۔ میرا نام ہے......

سہراب: (خوشی کی گھبراہٹ سے) رستم؟

رستم: نہیں سہراب کی موت۔

سہراب: افسوس! تو نے میرے رحم کی قدر نہ کی۔

(پھر جنگ ہوتی ہے۔ رستم سہراب کو گرا کر سینے پر چڑھ بیٹھتا ہے)

رستم:
بس اسی ہمت اسی طاقت پہ تھا اتنا غرور
تو کوئی شیشہ نہ تھا، کیوں ہو گیا پھر چور چور
کیا ہوا زور جوانی، اُٹھ، اجل ہے گھات میں
دیکھ لے اب کس قدر قوت ہے بوڑھے ہاتھ میں

(سہراب کے سینے میں خنجر بھونک دیتا ہے)

سہراب: آہ اے آنکھو، تمھارے نصیب میں باپ کا دیدار نہ تھا ـــ کہاں ہو، پیارے باپ کہاں ہو؟ آؤ۔ آؤ کہ مرنے سے پہلے تمھارا سہراب تمھیں ایک بار دیکھ لے۔ ـــ
کیا خبر تھی کہ بگڑ جائے گی قسمت اپنی
آخری وقت دکھا دو مجھے صورت اپنی

رستم: کیا اپنی جوانی کی موت پر ماتم کرنے کے لیے اپنے باپ کو یاد کررہا ہے؟ ـــ اب تیرے باپ کی محبت، اس کی دعا، اس کے آنسو، اس کی فریاد، کوئی تجھے دنیا میں زندہ نہیں رکھ سکتی۔ ـــ
مرہم کہاں جو رکھ دے دلِ پاش پاش پر
آیا بھی وہ تو روئے گا بیٹے کی لاش پر

سہراب: بھاگ جا۔ بھاگ جا۔ اس دنیا سے کسی دوسری دنیا میں بھاگ جا۔ تو نے سام و نریمان کے خاندان کا چراغ بجھا دیا ہے ـــ تاریک جنگلوں میں، پہاڑوں کے غاروں میں سمندر کی تہہ میں، تو کہیں بھی جا کر چھپے۔ لیکن میرے باپ رستم کے انتقام سے نہ بچ سکے گا۔

رستم: (چونک کر کھڑا ہوجاتا ہے) کیا! کیا!! ـــ تو رستم کا بیٹا ہے؟

سہراب: ہاں۔

رستم: تیری ماں کا نام؟

سہراب: تہمینہ۔

رستم: تیرے اس دعوے کا ثبوت؟

سہراب: اس بازو پر بندھی ہوئی میرے باپ رستم کی نشانی۔

رستم: جھوٹ ہے۔ غلط ہے۔ تو دھوکا دے رہا ہے۔ مجھے پاگل بنا کر اپنے قتل کا انتقام لینا چاہتا ہے۔ (گھبراہٹ کے ساتھ سہراب کے بازو کا کپڑا پھاڑ کر اپنا دیا ہوا مہرہ دیکھتا ہے) وہی مہرہ۔ وہی نشانی (سر پیٹ کر) کیا کیا!۔ کیا کیا!! اندھے، پاگل، جلاد، یہ کیا کیا!!! ـــ شیر جیسا خوں خوار، بھیڑیے جیسا ظالم، ریچھ جیسا موذی حیوان بھی اپنی اولاد کی جان نہیں لیتا۔ لیکن تو انسان ہو کر حیوان سے بھی زیادہ خونی اور جہنم سے بھی زیادہ بے رحم بن گیا۔ ـــ
خون میں ڈوبا ہے وہ جس سے مزہ جینے میں تھا
دل کے بدلے، کیا کوئی پتھر ترے سینے میں تھا
توڑ ڈالا اپنے ہی ہاتھوں سے، او ظالم اُسے
تیرا نقشہ، تیرا ہی چہرہ جس آئینے میں تھا

سہراب: فتح مند بوڑھے، تو رستم نہیں ہے۔ پھر میری موت پر خوش ہونے کے بدلے اس طرح کیوں رنج کر رہا ہے؟

رستم: (رو کر) اس دنیا میں رنج اور آنسو، رونے اور چھاتی پیٹنے کے سوا اب اور کیا، باقی رہ گیا!! میں نے تیری زندگی تباہ کرکے اپنی زندگی کا ہر ایک عیش اور اپنی دنیا کی ہر ایک خوشی تباہ کر دی۔ مجھ سے نفرت کر، میرے منھ پر تھوک، مجھ پر ہزاروں زبانوں سے لعنت بھیج۔ ـــ
فغاں ہوں، حسرت و ماتم ہوں، سر سے پاؤں تک غم ہوں
میں ہی بیٹے کا قاتل ہوں، میں ہی بدبخت رستم ہوں

(سہراب کے پاس ہی زمین پر گرتا ہے۔ سہراب اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر چھاتی سے لپٹ جاتا ہے)

سہراب: باپ۔ پیارے باپ۔

رستم: ہائے تونے الفت سے، نرمی سے، منت سے، کتنی مرتبہ میرا نام پوچھا ـــ اس محبت و عاجزی کے ساتھ پوچھنے پر لوہے کے ٹکڑے میں بھی زبان پیدا ہو جاتی پتھر بھی جواب دینے کے لیے مجبور ہوجاتا۔ لیکن اس دو روزہ دنیا کی جھوٹی شہرت اور اس فانی زندگی کے آنی غرور نے میرے ہونٹوں کو ہلنے کی اجازت نہ دی ـــ میرے بچے، میری تہمینہ کی نشانی۔ ـــ
کس جگہ بے رحم اجل سے میں نہاں رکھوں تجھے
آنکھ میں، دل میں، کلیجے میں، کہاں رکھوں تجھے
بس نہیں انسان کا چلتا، فنا و فوت سے
کیا کروں۔ کس طرح تجھ کو چھین لوں میں موت سے

سہراب: ہومان۔ بارمان۔ ہجیر، سب نے مجھے دھوکا دیا ـــ باپ نہ رو۔ میری موت کو خدا کی مرضی سمجھ کر صبر کرو۔ ـــ
مل گئی مجھ کو جو قسمت میں سزا لکھی تھی
باپ کے ہاتھ سے بیٹے کی قضا لکھی تھی

رستم: جب تیری ناشاد ماں، بال نوچتی، آنسو بہاتی، چھاتی پیٹتی، ماتم اور فریاد کی تصویر بنی ہوئی سامنے آکر کھڑی ہوگی۔ اور پوچھے گی کہ میرا لاڈلا سہراب، میرا بہادر بچہ، میری کوکھ سے پیدا ہونے والا شیر کہاں ہے؟ تو اپنا ذلیل منھ، دونوں ہاتھوں سے چھپا لینے کے سوا، اسے کیا جواب دوں گا۔ کن لفظوں سے اس کے ٹوٹے ہوئے دل اور زخمی کلیجے کو تسلی دوں گا۔ ـــ
سنوں گا ہائے کیسے؟ مامتا کی اس دہائی کو
کہاں سے لاؤں گا، مانگے گی جب اپنی کمائی کو نگاہیں کس طرح اٹھیں گی مجھ قسمت کے ہیٹے کی
دکھاؤں گا میں کن ہاتھوں سے ماں کو لاش بیٹے کی

سہراب: پیارے باپ۔ میری بدنصیب ماں سے کہنا کہ انسان سب سے لڑسکتا ہے۔ قسمت سے جنگ نہیں کرسکتا ـــ آہ ـــ

(رستم کی گود سے زمین پر گر کر آنکھیں بند کرلیتا ہے)

رستم: یہ کیا! ـــ یہ کیا!! ـــ میرے بچے، آنکھیں کیوں بند کر لیں؟ کیا خفا ہوگئے۔ کیا ظالم باپ کی صورت دیکھنا نہیں چاہتے ـــ یہ موت کا گہوارہ، یہ خون میں ڈوبی ہوئی زمین، پھولوں کا بستر، ماں کی گود، باپ کی چھاتی نہیں ہے۔ پھر تمھیں کس طرح نیند آگئی؟ ـــ
میرے بچے یوں نہ جا، مجھ کو تڑپتا چھوڑ کے
میرا دل، میرا جگر، میری کمر کو توڑ کے
ہائے کیا کیا آرزو تھی، زندگانی میں تجھے
موت آئی پھولتی پھلتی جوانی میں تجھے

سہراب: ماں ـــ خدا ـــ تمھیں ـــ تسلی دے۔

رستم: اور ـــ اور ـــ بیٹا بولو، بولو ـــ چُپ کیوں ہوگئے؟ آہ، آہ ـــ اس کا خون سرد ہورہا ہے۔ اس کی سانسیں ختم ہو رہی ہیں ـــ اے خدا۔ اے کریم و رحیم خدا۔ اولاد باپ کی زندگی کا سرمایہ اور ماں کی روح کی دولت ہے۔ یہ دولت محتاجوں سے نہ چھین۔ اپنی دنیا کا قانون بدل ڈال۔ اس کی موت مجھے اور میری باقی زندگی اسے بخش دے۔ موت۔ موت ـــ تو زال و رودابہ کے گھر کا اجالا، میرے بڑھاپے کی امید، میری تہمینہ کا بولتا کھیلتا ہوا کھلونا کہاں لیے جا رہی ہے؟ ـــ دیکھ میری طرف دیکھ۔ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو تاج و تخت کی بھیک دی ہے، آج ایک فقیر کی طرح تجھ سے اپنے بیٹے کی زندگی بھیک مانگتا ہوں۔ ـــ پھینک دے جھولی میں تو۔ میرے گل شاداب کو
ہاتھ پھیلائے ہوں میں دے دے مرے سہراب کو

سہراب: (آنکھیں بند کیے ہوئے) دنیا ـــ رخصت ـــ خدا ـــ

(سہراب مرجاتا ہے)

رستم: آہ۔ جوانی کا چراغ آخری ہچکی لے کر بجھ گیا ـــ بے رحم موت نے میری امید کی روشنی لوٹ لی ـــ اب لاکھوں چاند، ہزاروں سورج مل کر بھی میرے غم کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے۔ آسمان ماتم کر، زمین چھاتی پیٹ۔ درختو، پہاڑو، ستارو ٹکرا کر چور چور ہو جاؤ ـــ آج ہی زندگی کی قیامت ہے۔ آج ہی دنیا کا آخری دن ہے۔ زندگی! دنیا!!۔ کہاں ہے زندگی؟ ـــ کہاں ہے دنیا؟ ـــ زندگی سہراب کے خون میں اور دنیا رستم کے آنسوؤں میں ڈوب گئی۔ (دیوانوں کی طرح پکارتا ہے) سہراب ـــ سہراب ـــ سہراب ـــ

(غش کھا کر گر پڑتا ہے سین بدل کر بہشت ہو جاتا ہے فرشتے آسمان سے سہراب کی لاش پر پھول برساتے ہیں)

(پردہ)

ـــ ختم ـــ

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.