
Chapter 6 of 8
The Prince Restored, and the Preparations
کنور کا اصل روپ میں آنا، اور بیاہ کے ٹھاٹھ
مہاراج اور مہارانی کے پاس مدن بان کا پھر آنا اور چت چاہی بات کا سنانا
مدن بان رانی کیتکی کو چھوڑ کر راجہ جگت پرکاس اور رانی کام لتا جس پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے، وہاں جھٹ سے آدیس کر کے آ کھڑی ہوتی ہے، اور کہتی ہے: "لیجیے، آپ کا گھر نئے سر سے بسا، اور اچھے دن آئے۔ رانی کیتکی کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوا۔ انھیں کے ہاتھ کی یہ چٹھی لائی ہوں، آپ پڑھ لیجیے، آگے سو چاہیے سو کیجیے۔"
مہاراج نے اسی بگھمبر میں سے ایک رونگٹا توڑ کر آگ پر دھر دیا۔ بات کی بات میں گسائیں مہندر گر آ پہنچے، اور جو کچھ یہ نیا سانگ جوگی اور جوگن کا آیا تھا، آنکھوں دیکھا۔ سب کو چھاتی سے لگایا اور کہا: "بگھمبر اسی لیے میں سونپ گیا تھا، جو تم پر کچھ ہووے، تو اس کا ایک رونگٹا پھونک دیجو۔ تمھارے گھر کی یہ گت ہو گئی، اب تک تم کیا کر رہے تھے، اور کن نیندوں سو رہے تھے؟ پر تم کیا کرو، وہ کھلاڑی جو روپ چاہے سو دکھاوے، جو جو ناچ چاہے سو نچاوے۔ بھبھوت لڑکی کو کیا دینا تھا؟ ہرن ہرنی اودے بھان اور سورج بھان اس کے باپ کو، اور لچھمی باس کو، میں نے کیا تھا۔ میرے آگے ان تینوں کو جیسے کا تیسا کرنا کچھ بڑی بات نہ تھی۔ اچھا، ہوئی سو ہوئی۔ اب چلو اٹھو، اپنے راج پر براجو، اور بیاہ کا ٹھاٹھ کرو۔ اب تم اپنی بیٹی کو سمیٹو۔ کنور اودے بھان کو میں نے اپنا بیٹا کیا، اور اس کو لیکے میں بیاہنے چڑھوں گا۔"
مہاراج یہ سنتے ہی اپنے راج کی گدی پر آ بیٹھے، اور اسی گھڑی کہہ دیا: "سارے چھتوں کو اور کوٹھوں کو گوٹے سے منڈھ لو، اور سونے روپے کے روپہلے سنہرے سب جھاڑ اور پہاڑوں پر باندھ دو، اور پیڑوں میں موتی کی لڑیاں گوندھو۔ اور کہہ دو: چالیس دن چالیس رات تک جس گھر ناچ آٹھ پہر نہ رہے گا، اس گھر والے سے میں روٹھ رہوں گا، اور جانوں گا یہ میرے دکھ سکھ کا ساتھی نہیں۔" چھ مہینے جد کوئی چلنے والا کہیں نہ ٹھہرے اور رات دن چلا جائے، اس ہیر پھیر میں وہ راج سب کہیں تھا۔ یہی ڈول ہو گیا۔
جانا مہاراج اور مہارانی اور گسائیں مہندر گر کا رانی کیتکی کے لینے کے لیے
پھر گرو جی اور مہاراج اور مہارانی مدن بان کے ساتھ وہاں آ پہونچے جہاں رانی کیتکی چپ چاپ سن کھینچی بیٹھی تھی۔ گرو جی نے رانی کیتکی کو اپنے گود میں لیکے کنور اودے بھان کا چڑھاوا چڑھا دیا، اور کہا: "تم اپنے ماں باپ کے ساتھ اپنے گھر سدھارو۔ اب میں اپنے بیٹے کنور اودے بھان کو لیے آتا ہوں۔"
گرو جی گسائیں، جن کو ڈنڈوت ہے، سو تو یوں سدھارتے ہیں۔ آگے جو ہو گی سو کہنے میں آوے گی۔ یہاں کی یہ دھوم دھام اور پھیلاوا دھیان کیجے: مہاراجہ جگت پرکاس نے اپنے سارے دیس میں کہا، یہ پکار دیں: "جو یہ نہ کرے گا، اس کی بری گت ہو گی: گانو میں آمنے سامنے ترپولیے بنا بنا کے سوہے کپڑے ان پر لگا دو، اور گوٹ دھنک کی اور گوکھرو روپہلی سنہری اور کرنیں اور ڈانک ٹانک ٹانک رکھو۔ اور جتنے بڑ پیپل کے پرانے پرانے پیڑ جہاں جہاں ہوں، ان پر گوٹوں کے پھولوں کے سہرے ہرے بھرے ایسے، جس میں سر سے لگا جڑ تک ان کی ٹھلک اور جھلک پہونچے، باندھ دو۔"
پودوں نے رنگا رنگ کے سوہے جوڑے پہنے، سو پانو ڈالیوں نے توڑے پہنے۔ بوٹی بوٹی نے پھول پھل کے گہنے، جو بہت نہ تھے تو تھوڑے تھوڑے پہنے۔ جتنے ڈہڈہے اور ہریاول میں لہلہے پات تھے، اپنے اپنے ہاتھ میں پچھی مہندی کی چاوٹ سجاوٹ کے ساتھ جتنی سماوٹ میں سما سکی کر لی۔ اور جہاں تک نول بیاہی دولہن ننھی ننھی پھلیوں کے اور سہاگنیں نئی نئی کلیوں کے جوڑے پنکھڑیوں کے پہنے ہوئی تھیں، سب نے اپنی اپنی گود سہاگ پیار کے پھول اور پھلوں سے بھر لی۔ اور تین برس کا پیسا جو لوگ دیا کرتے تھے، اس راجہ کے راج بھر میں، جس جس ڈھب سے ہوا، کھیتی باڑی کر کے، ہل جوت کے، اور کپڑا لتا بیچ کھونچ کے، سو سب ان کو چھوڑ دیا: "اپنے گھروں میں بناؤ کے ٹھاٹھ کریں۔" اور جتنے راج بھر میں کوئیں تھے، کھنڈ سالوں کی کھنڈ سالیں لے جا ان میں انڈیلیں گئیں۔ اور سارے بنوں میں اور پہاڑ تلیوں میں لالٹینوں کی بہار جھم جھماہٹ راتوں کو دکھائی دینے لگی۔ اور جتنی جھیلیں تھیں، ان سب میں کسم اور ٹیسو اور ہار سنگار تیر گیا، اور کیسری بھی تھوڑی تھوڑی گھولنے میں آ گئی۔ اور پھننگ سے لگا جڑ تک جتنے جھاڑ جھنکاڑوں میں پتے اور پتوں کے بندھے چھوٹے تھے، ان میں روپہلے سنہرے ڈانک گوند لگا لگا کے چپکا دیے۔ اور کہہ دیا گیا: "جو سوہی پگڑی اور سوہے باگے بن کوئی کسی ڈول کسی روپ سے نہ پھرے چلے۔" اور جتنے گویے، بجویے، بھانڈ، بھگتیے، ڈھاڑی، راس دھاری اور سنگیت ناچتے ہوئے ہوں، سب کو کہہ دیا: جن جن گانوں میں جہاں جہاں ہوں، اپنے اپنے ٹھکانوں سے نکل کر، اچھے اچھے بچھونے بچھا کر، گاتے بجاتے، دھومیں مچاتے، ناچتے کودتے رہا کریں۔
ڈھونڈھنا گسائیں مہندر گر کا کنور اودے بھان اور اس کے ماں باپ کو، اور نہ پانا، اور بہت سا تلملانا، اور راجہ اندر کا اس کی چٹھی پڑھ کے آنا
یہاں کی بات اور چہلیں جو کچھ ہیں، سو یہیں رہنے دو۔ اب آگے یہ سنو: جوگی مہندر گر اور اس کے نوے لاکھ اتیتوں نے سارے بن کے بن چھان مارے، کہیں کنور اودے بھان اور اس کے ماں باپ کا ٹھکانا نہ لگا۔ تب ان نے راجہ اندر کو چٹھی لکھ بھیجی۔ اس چٹھی میں یہ لکھا ہوا تھا: "تینوں جنوں کو میں نے ہرن اور ہرنی کر ڈالا تھا۔ اب ان کو ڈھونڈھتا پھرتا ہوں، کہیں نہیں ملتے۔ اور میری جتنی سکت تھی، اپنے سے کر چکا ہوں۔ اور اب میرے منہ سے نکلا: کنور اودے بھان میرا بیٹا، اور میں اس کا باپ، سسرال میں سب بیاہ کے ٹھاٹھ ہو رہے ہیں۔ اب مجھ پر بپت گاڑھ ہے، جو تم سے ہو سکے سو کرو۔"
راجہ اندر گرو مہندر گر کے دیکھنے کو سب اندراسن سمیت آپ آن پہنچا ہے، اور کہتا ہے: "جیسا آپ کا بیٹا، تیسا میرا بیٹا۔ آپ کے ساتھ میں سارے اندر لوک کو سمیٹ کے کنور اودے بھان کو بیاہنے چڑھوں گا۔" گسائیں مہندر گر نے راجہ اندر سے کہا: "ہماری آپ کی ایک ہی بات ہے، پر کچھ ایسی سو جھائیے جس میں وہ اودے بھان ہاتھ آویں۔ یہاں جتنے گویے اور گائنیں ہیں، ان سب کو ساتھ لیکے ہم اور آپ سارے بنوں میں پھریں، کہیں نہ کہیں ٹھکانا لگ جائے گا۔"
ہرن اور ہرنیوں کے کھیل کا بگڑنا، اور نئے سر سے کنور اودے بھان کا روپ پکڑنا
ایک رات راجہ اندر اور گسائیں مہندر گر نکھری ہوئی چاندنی میں بیٹھے راگ سن رہے تھے۔ کروڑوں ہرن آس پاس ان کے راگ کے دھیان میں چوکڑی بھولے سر جھکائے کھڑے تھے۔ اس میں راجہ اندر نے کہا: "کہ سب ہرنوں پر پڑھ کے میری سنگت گرو کے بھگت، پھرو منتر ایسری باچا، ایک ایک چھینٹا پانی کا دو۔" کیا جانے وہ پانی کیا تھا، پانی کے چھینٹے کے ساتھ ہی کنور اودے بھان اور ان کے ماں باپ تینوں جنے ہرنوں کا روپ چھوڑ کر جیسے تھے ویسے ہو جاتے ہیں۔ مہندر گر اور راجہ اندر ان تینوں کو گلے لگاتے ہیں، اور پاس اپنے بڑی آو بھگت سے بٹھاتے ہیں۔ اور وہی پانی کا گھڑا اپنے لوگوں کو دیکر وہاں پہنچوا دیتے ہیں جہاں سر منڈواتے ہی اولے پڑے تھے۔ راجہ اندر کے لوگ جو پانی کے چھینٹے وہی ایسری باچ پڑھ کے دیتے ہیں، جو جو مر مٹے تھے سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اور جو جو ادھموے ہو کے بھاگ بچے تھے، سب سمٹ آتے ہیں۔ راجہ اندر اور مہندر گر کنور اودے بھان اور راجہ سورج بھان اور رانی لچھمی باس کو لیکر ایک اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر بڑی دھوم دھام سی ان کے اپنے راج پر بیٹھا کر بیاہ کے ٹھاٹھ کرتے ہیں۔ پنسیریوں ہیرے موتی ان سب پر نچھاور ہوتے ہیں۔ راجہ سورج بھان اور اودے بھان اور ان کی ماں رانی لچھمی باس چت چاہی آس پا کر پھولے اپنے آپ میں نہیں سماتے، اور سارے اپنے راج کو یہی کہتے جاتے ہیں: "جونرے بھونرے کے منہ کھول دو، اور جس جس کو جو جو اکٹ سوجھے، بول دو۔ آج کے دن سے اور کون سا دن ہو گا ہماری آنکھوں کی پتلیوں کا، جس سے چین ہے؟ اس لاڈلے اکلوتے کا بیاہ، اور ہم تینوں کا ہرنوں کے روپ سے نکل کر پھر راج پر بیٹھنا! پہلے تو یہ چاہیے: جن جن کی بیٹیاں بن بیاہیاں کنواریاں بالیاں ہوں، ان سب کو اتنا کر دو کہ جو اپنی جس جس چاؤ چوچ سے چاہیں اپنی اپنی گڑیاں سنوار کے اٹھا دیں۔ اور جب تلک جیتی رہیں، ہماری یہاں سی کھایا پیا پکایا رندھا کریں۔ اور سب راج بھر کی بیٹیاں سدا سہاگنیں بنی رہیں، اور سوہے رائے چھٹ کبھی کوئی کچھ نہ پہنا کریں۔ اور سونے روپے کے کواڑ گنگا جمنی سب گھروں میں لگ جائیں۔ سب کوٹھوں کے ماتھوں پر کیسر اور چندن کے ٹیکے لگے ہوں۔ اور جتنے پہاڑ ہمارے دیس میں ہوں، اتنے اتنے ہی روپے سونے کے پہاڑ آمنے سامنے کھڑے ہو جائیں، اور سب ڈانگوں کی چوٹیاں موتیوں کی مانگ سے بن مانگے بھر جائیں، اور پھولوں کے گہنے اور بندن واروں سے سب جھاڑ پہاڑ لدے پھندے رہیں۔ اور اس راج سے لگا اس راج تک ادھر میں چھت سی باندھ دو، چپا چپا کہیں نہ رہے جہاں بھیڑ بھڑکا، دھوم دھڑکا نہ ہونا چاہیے۔ پھول اتنے بہت سارے کھنڈ جائیں جو ندیاں جیسی سچ مچ پھول کی بہتیاں ہیں یہ سمجھا جائے۔ اور یہ ڈول کر دو: جدھر سے دولہا کو بیاہنے چڑھیں، سب لاڑی اور ہیرے اور پکھراج کی ادھر ادھر کنول کی ٹٹیاں بن جائیں، اور کیاریاں سی ہو جائیں، جن کے بیچوں بیچ سے ہو نکلیں۔ اور کوئی ڈانگ اور پہاڑ تلی کا اتار چڑھاؤ ایسا دکھائی نہ دے جس کی گود پنکھڑیوں اور پھول پھلوں سے بھری بھتولی نہ ہو۔"
راجہ اندر کا ٹھاٹھ کرنا اودے بھان کے بیاہنے کے لیے
راجہ اندر نے کہہ دیا: "وہ رنڈیاں چلبلیاں جو اپنے مد میں اڑ چلیاں ہیں، ان سے کہہ دو: سولہ سنگار، بال بال گج موتی پرو، اپنے اپنے اچرج اور اچنبھے کے اڑن کھٹولوں کے، اس راج سے اس راج تک ادھر میں چھت سی باندھ دو، پر کچھ ایسے روپ سے اوڑ چلو جو اڑن کھٹولوں کی کیاریاں اور پھلواریاں سی سیکڑوں کوس تک ہو جائیں، اور اوپر ہی اوپر مردنگ، بین، جلترنگ، منہ چنگ، گھونگھرو، طبلے، کٹ تال، اور سیکڑوں اس ڈھب کے انوکھے باجے بجتے آئیں۔ اور ان کیاریوں کے بیچ میں ہیرے، پکھراج، ان بندھے موتیوں کے جھاڑ، اور لال ٹینوں کی بھیڑ بھاڑ کی جھم جھماہٹ دکھائی دے، اور انھیں لال ٹینوں میں سے ہتھ پھول، پھلجھڑیاں، جاہی، جوہیاں، کدم، گیندا، چنبیلی اس ڈھب سے چھوٹے کہ دیکھتوں کی چھاتیوں کے کواڑ کھل جائیں۔ اور پٹاخے جو اچھل اچھل کے پھوٹیں، ان میں سے ہنستی سپاری اور بولتے پکھروٹے ڈھل ڈھل پڑیں۔ اور جب تم سب کو ہنسی آوے، تو چاہیے اس ہنسی کے ساتھ موتی کی لڑیاں جھڑیں، جو سب کے سب ان کو چن چن کے راج راجے ہو جاویں۔ ڈومنیوں کے روپ میں سارنگیاں چھیڑ چھیڑ سوہیلے گاؤ، دونوں ہاتھ ہلاؤ، انگلیاں نچاؤ۔ جو کسی نے نہ سنے ہوں، وہ تاؤ بھاؤ، آؤ جاؤ، راؤ چاؤ دکھاؤ۔ ٹھڈیاں کپکپاؤ اور ناک بھویں تان تان بھاؤ بتاؤ۔ کوئی پھوٹ کر رہ نہ جاؤ۔ ایسا بھاؤ، جو لاکھوں برس میں ہوتا ہے۔"
جو جو راجہ اندر نے اپنے منہ سے نکالا تھا، آنکھ کے جھپک کے ساتھ وہی ہونے لگا۔ اور جو کچھ ان دونوں مہاراجوں نے ادھر اودھر کہہ دیا تھا، سب کچھ اسی روپ سے ٹھیک ٹھاک ہو گیا۔ جس بیاہنے کی یہ کچھ پھیلاوٹ اور جماوٹ اور رچاوٹ اوپر تلے اس جھمگھٹے کے ساتھ ہو، کہ اس کا اور کچھ پھیلاوا کیا کچھ ہو گا، یہ دھیان کر لو۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.