Urdu in Translation
Search

Chapter 5 of 8

The Magic Ash, and Ketki Goes into the Forest

بھبھوت، اور رانی کیتکی کا بن کو نکلنا

Insha Allah Khan Insha

Script
Size

بھبھوت مانگنا رانی کیتکی کا اپنی ماں رانی کام لتا سے آنکھ مچول کھیلنے کے لیے، اور روٹھ رہنا، اور راجہ جگت پرکاس کا بلانا اور پیار سے کچھ کچھ کہنا، اور وہ بھبھوت دینا

ایک رات رانی کیتکی نے اپنی ماں کام لتا سے بھلاوے میں ڈال کے یہ پوچھا: "گرو جی گسائیں مہندر گر نے جو بھبھوت باپ کو دیا تھا، وہ کہاں رکھا ہوا ہے؟ اور اس سے کیا ہوتا ہے؟" اس کی ماں نے کہا: "میں تیری واری، تو کیوں پوچھتی ہے؟" رانی کیتکی کہنے لگی: "آنکھ مچول کھیلنے کے لیے چاہتی ہوں۔ جب اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلوں اور چور بنوں، تو کوئی مجھ کو پکڑ نہ سکے۔" رانی کام لتا نے کہا: "وہ کھیلنے کے لیے نہیں ہے۔ ایسے لٹکے کسی برے دن کے سنبھال لینے کو ڈال رکھتے ہیں۔ کیا جانے کوئی گھڑی کیسی ہے، کیسی نہیں۔" رانی کیتکی اپنی ماں کی اس بات سے اپنا منہ تھتھا کے اوٹھ گئی اور دن بھر بن کھائے پیے پڑی رہی۔ مہاراج نے جو بلایا، تو کہا: "مجھے رچ نہیں۔" تب رانی کام لتا بول اٹھیں: "اجی، کچھ تم نے سنا بھی؟ بیٹی تمھاری آنکھ مچول کھیلنے کے لیے وہ بھبھوت گرو جی کا دیا ہوا مانگتی تھی۔ میں نے نہ دیا، اور کہا: لڑکی، یہ لڑکپن کی باتیں اچھی نہیں، کسی برے دن کے لیے گرو جی دے گئے ہیں۔ اسی پر مجھ سے روٹھی ہے۔ بہتیرا بہلاتی پھسلاتی ہوں، مانتی نہیں۔" مہاراج نے کہا: "بھبھوت تو کیا، مجھے تو اپنا جی بھی اس سے پیارا نہیں۔ اس کی ایک گھڑی بھر کے بہل جانے پر ایک جی تو کیا، جو لاکھ جی ہوں تو دے ڈالیے۔" رانی کیتکی کو ڈبیا میں سے تھوڑا سا بھبھوت دیا۔ کئی دن تلک آنکھ مچول اپنے ماں باپ کے سامنے سہیلیوں کے ساتھ کھیلتی، سب کو ہنساتی رہتی۔ جو سو سو تھال موتیوں کے نچھاور ہوا کیے، کیا کہوں، ایک چہل تھی جو کہیے تو کروڑوں پوتھیوں میں جیوں کے تیوں نہ آ سکے۔

رانی کیتکی کا چاہت سے بیکل ہوا پھرنا، اور مدن بان کا ساتھ دینے سے نہیں کرنا

ایک رات رانی کیتکی اسی دھیان میں اپنی مدن بان سے کہہ اوٹھی: "اب میں نگوڑی لاج سے کٹ گرتی ہوں، تو میرا ساتھ دے۔" مدن بان نے کہا: "کیونکر؟" رانی کیتکی نے وہ بھبھوت کا لینا اسے جتایا، اور یہ سنایا: "سب یہ آنکھ مچول کی جھپائیں میں نے اسی دن کے لیے کر رکھیں تھیں۔"

مدن بان کہنے لگی: "میرا کلیجا تھرتھرانے لگا۔ اے، یہ مانا تم اپنی آنکھوں میں اس بھبھوت کا انجن کر لو گی، اور میرے بھی لگا دو گی، تو ہمیں تمھیں کوئی نہ دیکھے گا، اور ہم تم سب کو دیکھیں گے۔ پر ایسے ہم کہاں سے جی چلے ہیں جو بن لیے ساتھ جوبن ساتھ بن بن بھٹکا کریں، اور ہرنوں کے سینگوں میں دونوں ہاتھ ڈال کے لٹکا کریں؟ اور جس کے لیے یہ سب کچھ ہے، سو وہ کہاں؟ اور ہووے تو کیا جانے جو یہ رانی کیتکی جی ہیں، اور یہ مدن بان نگوڑی نچی کھسوٹی ان کی سہیلی ہے؟ چولھے اور بھاڑ میں جائے یہ چاہت، جس کے لیے ماں باپ، راج پاٹ، سکھ نیند، لاج کو چھوڑ کر ندی کے کچھاڑوں میں پھرنا پڑے۔ سو بھی بے ڈول، جو وہ اپنی روپ میں ہوتے تو بھلا تھوڑا بہت کچھ آسرا تھا۔ نہ جی، یہ ہم سے نہ ہو سکے گا۔ مہاراج جگت پرکاس اور مہارانی کام لتا کا ہم جان بوجھ کر گھر اجاڑیں، اور بہکا کے ان کی بیٹی، جو اکلوتی لاڈلی ہے، اس کو لے جاویں، اور جہاں تہاں اسے بھٹکا بناس پتی کھلاویں، اور اپنے چونڈے کو ہلاویں! اے جی، اس دن تمھیں یہ بوجھ نہ آئی تھی، جب تمھارے اور اس کے ماں باپ میں لڑائی ہو رہی تھی؟ اس نے اس مالن کے ہاتھ تمھیں لکھ بھیجا تھا: بھاگ چلیں۔ تب تو اپنی منہ کی پیک سے اس کی چٹھی کی پیٹھ پر جو لکھا تھا، سو کیا بھول گئی؟ تب تو وہ تاؤ بھاؤ دکھایا تھا! اب جو وہ کنور اودے بھان اور ان کے ماں باپ تینوں جنے بن بن کے ہرن ہرنی بنے ہوئے، کیا جانیے کدھر ہوں گے، کہ ان کی دھیان پر وہ کر بیٹھی جو کسی نے تمھارے گھرانے بھر میں نہیں کی۔ اس بات پر مٹی ڈال دو، نہیں تو پچھتاؤ گی اور اپنا کیا پاؤ گی۔ مجھ سے تو کچھ نہ ہو سکے گا۔ تمھاری کچھ اچھی بات ہوتی ہو، تو جیتے جی میرے منہ سے نہ نکلتی، پر یہ بات میرے پیٹ میں نہیں پچ سکتی۔ تم ابھی الھڑ ہو، تم نے کچھ دیکھا نہیں۔ جو اسی بات پر تمھیں سچ مچ ڈھلتا دیکھوں گی، تو تمھارے ماں باپ سے کہہ کر وہ بھبھوت جو موا نگوڑا بھوت مچھندر کا پوت اوبدھوت دے گیا ہے، ہاتھ مروڑوا کے چھنوا لوں گی۔"

رانی کیتکی نے یہ رکھائیاں مدن بان کی سن کر ہنس کے ٹال دیا اور کہا: "جس کا جی ہاتھ میں نہ ہو، وہ ایسی ایسی لاکھوں سوچتی ہے، پر کہنے اور کرنے میں بہت سا پھیر ہے۔ یہ بھلا کوئی اندھیر ہے، جو ماں باپ کو چھوڑ ہرنوں کے لیے پڑی دوڑتی پھروں؟ پر اری تو بڑی باولی چڑیا ہے، جو تو نے یہ بات ٹھیک ٹھاک کر جان لی اور مجھ سے لڑنے لگی۔"

رانی کیتکی کا بھبھوت آنکھوں میں لگا کر گھر سے باہر نکل جانا، اور سب چھوٹے بڑوں کا تلملانا

دس پندرہ دن پیچھے ایک رات رانی کیتکی بن کہے مدن بان کے وہ بھبھوت آنکھوں میں لگا کر گھر سے باہر نکل گئی۔ اور کچھ کہنے میں نہیں آتا جو ماں باپ پر ہوئی۔ یہ بات ٹھہرا دی: "گرو جی نے کچھ سمجھ کر رانی کیتکی کو اپنے پاس بلا لیا ہو گا۔" مہاراجہ جگت پرکاس اور مہارانی کام لتا راج پاٹ سب کچھ اس بروگ میں چھوڑ چھاڑ ایک پہاڑ کی چوٹی پر جا بیٹھے، اور کسی کو اپنے لوگوں میں سے راج تھامنے کے لیے چھوڑ آئے۔

تب مدن بان نے وہ سب باتیں کھولیاں۔ رانی کیتکی کے ماں باپ نے یہ کہا: "اری مدن بان، جو تو بھی اس کے ساتھ ہوتی، تو کچھ ہمارا جی ٹھہرتا۔ اب جو وہ تجھے لے جائیں تو کچھ ہچر مچر نہ کیجیو، ان کے ساتھ ہو لیجیو۔ جتنا بھبھوت ہے، تو اپنے پاس رکھ، ہم کیا اس راکھ کو چولھے میں ڈالیں گے؟ گرو جی نے تو دونوں راجوں کا کھوج کھو دیا: کنور اودے بھان اور اس کے ماں باپ دونوں بے ٹھور رہے، اور جگت پرکاس اور کام لتا کو یوں تلپٹ کیا۔ بھبھوت نہ ہوتا تو یہ باتیں کاہے کو سامنے آتیں؟"

ندان مدن بان بھی ان کے ڈھونڈھنے کو نکلی، انجن لگائے ہوئے، "کیتکی، رانی کیتکی!" کہتی ہوئی چلی جاتی تھی۔ بہت دنوں پیچھے کہیں رانی کیتکی بھی ہرنوں کی ڈاروں میں "اودے بھان، اودے بھان!" چنگھاڑتی ہوئی آ نکلی۔ جو ایک نے ایک کو تاڑ کر یوں پکارا: "اپنی اپنی آنکھیں دھو ڈالو۔" ایک ڈبرے پر بیٹھ کر دونوں کی مٹھ بھیڑ ہوئی۔ گلے مل کے ایسی روئیاں جو پہاڑوں میں کوک سی پڑ گئی۔

دوہا اپنی بولی کا

چھا گئی ٹھنڈی سانس جھاڑوں میںپڑ گئی کوک سی پہاڑوں میں

دونوں جنیاں ایک ٹیلے پر اچھی سی چھاں تاڑ کے آ بیٹھیاں، اپنی اپنی باتیں دہرانے لگیں۔

بات چیت رانی کیتکی کی مدن بان سے

رانی کیتکی نے اپنی بیتی سب کہی، اور مدن بان وہی اگلا جھینکنا جھینکا کی، اور ان کے ماں باپ نے ان کے لیے جو جوگ سادھا، اور جو بروگ لیا تھا، سب کہا۔ جب مدن بان یہ سب کہہ چکی تو پھر ہنسنے لگی۔ رانی کیتکی یہ دوہا لگی پڑھنے:

ہم نہیں ہنسنے کو رکتے جس کا جی چاہے ہنسےہے وہی اپنی کہاوت آ پھنسے جی آ پھنسے

اب تو اپنے پیچھے سارا جھگڑا جھانٹا لگ گیاپاؤں کا کیا ڈھونڈھتی ہے جی میں کانٹا لگ گیا

مدن بان کچھ رانی کیتکی کے آنسو پونچھتے سے چلی۔ ان نے یہ بات ٹھہرائی: "جو تم کہیں ٹھہرو، تو میں تمھارے اجڑے ہوئے ماں باپ کو چپ چاپ یہیں لے آؤں، اور انھیں سے یہ بات ٹھہراؤں۔ گسائیں مہندر گر، جس کے یہ سب کرتوت ہیں، وہ بھی انھیں دونوں اجڑے ہووں کی مٹھی میں ہے۔ اب بھی جو میرا کہا تمھارے دھیان چڑھے، تو گئے ہوئے دن پھر سکتے ہیں۔ پر تمھاری کچھ بھاویں نہیں، ہم کیا پڑے بکتے ہیں؟ میں اس پر بیڑا اٹھاتی ہوں۔"

بہت دنوں میں رانی کیتکی نے اس پر اچھا کہا، اور مدن بان کو اپنے ماں باپ کے پاس بھیجا، اور چٹھی اپنے ہاتھ سے لکھ بھیجی: "جو آپ سے کچھ ہو سکے، تو اس جوگی سے یہ ٹھہرا کے آویں۔"

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.